Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03
حور ہنسی ۔۔کیوں میں تمھیں کہاں سے خوبصورت لگ گی؟؟ مجھ سے زیادہ تو تم حسین هو عنایا ۔۔
ہوں گی مگر تم جتنی نہیں ارے آپ کے چرچے تو سارے جہاں میں ہیں عنایا بولی۔۔
فریحہ جو کب سے بیٹھی صرف حور کو دیکھتی جا رہی تھی آہستہ سے اٹھی اور حور کے ہاتھوں پے اپنا ہاتھ پھیرا۔
حور نے اسے دیکھا ۔۔وہ اس کی خوبصورتی سے بہت متاثر ہوئی تھی اس لیے بے اختیار اس نے اسے ہاتھ لگا کے دیکھنا چآہا تھا اس کے ہاتھ اس کی طرح خوبصورت ہی نہیں بلکے بے حد نرم اور ملائم بھی تھے وہ اب یہ کر کے جیسے شرمندہ سی ہوگئی حور اگے بڑھی اور اس کے گلے میں باھہیں ڈال کے بیٹھ گی ۔۔وہ سٹپٹا گی۔۔
مجھ سے بات بھی کرنا چاہتی هو اور ڈر بھی رہی هو میں کیا اتنی بری لگتی ہوں ؟؟
نہیں نہیں آپ بری تو نہیں ہیں۔ فریحہ فورن سے بولی
تو پھر ؟ حور نے پوچھا
وہ بس میں سمجھی کے آپ ؟؟ خوبصورت لوگوں میں بیٹھ کے خود کو ان سے کم تر سمجھنا فریحہ ان بچیوں میں سے تھی۔۔اور حور سمجھ گی تھی کے فریحہ اس سے خائف سی کیوں ہے ۔۔ کیوں کے ان کی پہلی بار ملاقات هو رہی تھی بچپن میں وہ بہت چھوٹی سی تھی اسے تو حور یاد بھی نہیں ہوگی۔۔۔
میں کب سے یہی دیکھ رہی ہوں کے مجھے اتنی پیاری لڑکی سے دوستی کرنی ہے مگر یہ تو بات ہی نہیں کر رہی مجھ سے ۔۔وہ بچوں کی سی معصومیت سے فریحہ سے بولی۔
کیا سچ آپ مجھ سے دوستی کریں گی ؟ فریحہ ایک دم خوشی سے بولی۔۔
کریں گی کیا ہم تو دوست بن گی فری ۔۔حور نے اتنے پیارے طریقے سے اس سے بات کی کے فریحہ اس کے گلے لگ گی ۔
پکی والی دوست ۔۔فریحہ خوش ہوتی بولی ۔۔۔حور بھی مسکرا دی۔۔
ارے پکی سے بھی پکی والی دوست ۔۔حور بھی بولی ۔۔
ارے بھئی واہ حور تم نے تو کمال ہی کر دیا فریحہ میڈم جو بہار تو کیا گھر میں ہمیں بھی منہ نا لگاے وہ ایک دن میں تم سے بات تو کیا دوست بھی بن گئی واہ بھئی ۔۔۔ عنایا فریحہ کو چھیڑتے ہوے بولی ۔۔۔
آپی میرا مذاق اڑانے کی ضرورت نہیں میں ممی سے جا کے بول دوں گی ۔۔ فریحہ نے ناراض ہوتے انداز سے کہا
ارے نہیں وہ آپ کی آپی ہے نا میں بھی آپی ہوں اور دوست بھی تو عنایا سے پلیز ناراض نا هو وہ تو مذاق کر رہی تھی۔۔ حور نے نے اسے ناراض ہوتا دیکھ کے فورن منایا ۔۔۔ اور عنایا کو آنکھیں دکھائی کے باز آجاؤ ۔۔ عنایا نے بھی منہ بنایا ۔۔
حور تھی ہی ایسی بچو کے ساتھ بچی اور بڑوں میں بیٹھ کے سمجھدار اور سب سے خوش اخلاق سے بات کرتی چاہے وہ امیر هو یا غریب اس سے اسے کوئی فرک نہیں پڑ تا تھا اس کی نظر میں سب انسان تھے۔۔اکثر لوگ اس کی خوبصورتی سے متاثر هو کے اس کے قریب آنے کی کوشش کرتے تھے اس سے بات کرنا چاھتے وہ اس بات کو اچھے سے سمجھتی تھی مگر وہ اس طرح سمجھداری سے کنارہ کرتی کے سامنے والا اگر اچھا انسان هو تو پھر اس سے مخاطب ہونے کی یا قریب آنے کی کوشش نہیں کرتا ۔۔۔اور جہاں اچھے لوگ ہوتے ہیں وہاں برے لوگ بھی ہوتے ہیں ایسے لوگوں سے سوفٹ دور رہتی آگر وہ پھر بھی باز نا آتے تو پھر وہ ان سے سختی سے پیش آتی۔۔۔کوئی خاص دوست نہیں بنائے تھے سب سے ایک حد میں رہ کے بات چیت کر لی بہت تھا زیادہ تر اپنی جاب اور پڑھائی پے فوکس کرتی تھی ۔۔۔
________________________
سب نے مل کے اچھے ماحول میں کھانا کھایا اور پھر حور اور عنایا نے سب کے لیے چائے بنائی۔سب نے ایک ساتھ مل کے اچھا وقت گزارنے کے بعد اپنی اپنی رہ لی عنان اپنی فیملی کے ساتھ گھر آگئے…اور انکے جانے کے بعد سب سونے کے لئے اپنے اپنے کمروں میں آگئے۔۔
ارتضیٰ۔ عظمیٰ اور حور کچھ دن حویلی میں ہی روکنے والے تھے
_________________________
فریحہ حویلی سے جب سے آئی تھی اس کی زبان پے صرف حور کا ہی ذکر تھا۔۔عنان عنایا اور افنان فریحہ کی باتیں سن سن کے مسکرائے جا رہے تھے۔۔۔
بابا حور آپی اتنی اچھی ہیں۔کہ انہوں نے مجھ سےیوں منٹو میں دوستی کر لی اور آپ کو پتاانہوں نے مجھ سے کہا کے کسی بھی شخص سے متاثر ہونا عام بات ہے لیکن اسی شخص کے سامنے کبھی خود کو کمتر مت سمجھنا کیونکہ کوئی بھی انسان بالکل پرفیکٹ نہیں اس دنیا میں ۔۔کیا پتا جو آپ میں ہو وہ اس شخص میں نہیں۔ سر اٹھا کےحوصلے کے ساتھ بات کرو۔ اپنی صلاحیتوں کو آزماؤ گرنے کا ڈر چلنا مت چھوڑو اس ڈر کو دل سے نکال دو پھر دیکھنا یہ دنیا تم سے کیسے متاثر ہوگی تمہارے پیچھے اے گی اور تمہاری قدر کرے گی ۔۔
بابا دیکھنا میں بھی ایک دن حور آپی کی طرح بن کے دکھاؤں گی۔۔وہ انکھوں میں خواب سجاے ایک عزم سے بولی۔۔
عنان نے اپنی بیٹی کو فخر سے دیکھا ۔۔انشاءاللہ اور میں اپنی بیٹی کا پورا ساتھ دوں گا۔۔ آئے ایم پراڈ آف یو ۔۔۔وہ خوشی سے عنان کےگلے لگ گئی ۔۔
افنان بھی خوش تھا رات سے وہ مسکرائے جا رہا تھا ۔حور کے سمجھانے کا انداز اس کے دل کو بھایا ۔۔۔ اللہ نے حسن کے ساتھ ذہانت بھی دی تھی دل نے چپکے سے اس کی چاہ کی تھی ۔۔
حور کی مثال ایسی تھی جیسے ستاروں کی جھرمٹ میں کالی سیاہ رات میں چمکتا پورا چاند جو ہر طرف اس رات میں اپنی روشنی بکھیر رہی تھی چاند کو پانا تو ہر بچے کا خواب ہوتا ہے بس دیکھنا یہ تھا کے اس چاند کا آسمان کون بنتا ہے جس پے یہ چاند اپنی روشنی بکھرتے پورے غرور سے چمکے۔۔ اور اس آسمان کی ساری سیاہی اپنے اندر چھپا لے۔۔ اور چاند کو فخر هو کے یہ آسمان صرف اس کا ہے جس پے صرف وہ ایک چاند ہے جو روشنی بکھیرتا ہے اور کوئی اس میں شریک نہیں ۔۔اور آسمان کو یہ غرور هو کے یہ چاند صرف اس کا ہے جسے سب دیکھ کے حسرت اور پانے کی چاہ تو کر سکتے ہیں مگر وہ ان کی پوھنچ سے بہت دور ہے اورجسکی روشنی اور چمک پے صرف اس تن تنہا کھلے آسمان کا حق ہے جو ساتھ ہوں تو قدرت کا حسین منظر ۔۔اور جو چاند نا ہوتو ایک سیاہ تنہا آسمان۔۔دونوں ایک دوسرے کے بنا ادھورے کوئی اہمیت نہیں رکھتےتھے ۔
بابا کیا ایسا نہیں ہوسکتا کے حور آپی بھی ہمارے گھر آئے ہمارے ساتھ رہیں ۔۔۔فریحہ نے عنان سے پوچھا ۔۔
کیوں نہیں بیٹا وہ آئیں گی ابھی تو وہ اپنی تعلیم کمپلیٹ کرکے آئی ہیں وہ اپنے ماما بابا اور دادو کے ساتھ کچھ دن رہیں گی پھر وہ ہم سے ملنے ہمارے گھر بھی آئیں گی۔۔عنان اور فریحہ کی باتیں سن کے افنان اور عنایا بھی مسکرا رہے تھے ۔۔کہاں خاموش رہنے والی فریحہ آج پٹر پٹر بول رہی تھی ۔جس کے پیچھے حور کا ہاتھ تھا ۔
وہ کیوں آنے لگی ہمارے گھر ہمارا کیا رشتہ ان سے ارے ہم تو صرف نام کے رشتیدار ہیں جب حویلی سے فون آیا بلوا لیا۔ساری رشتہ داری ہمارے ہی کھاتے میں آتی ہی نبھانے کے لیے۔بھائی کی بچیوں کو بہو بنانے سے رشتوں کا حق ادا نہیں ہوتا۔۔یتیم بچوں اور ان کے بچوں کا بھی خیال کرنا پڑتا ہے۔۔عقیلہ جو صبح سے حور حور کی گردان سنی جا رہی تھی پھٹ پڑی۔۔
عنان نے بچو کی طرف دیکھا اور گہرا سانس لیا کے لو شروع ہوگئی آپ کی امی اب تقریر سننے کے لیے تیار ہو جاؤ۔عنایا اور افنان ہنس دیے ۔۔
جبکہ فریحہ کو برا لگا کہ انہوں نےاسکی حور آپی کے لیے کیوں ایسا بولا؟؟ انہوں نے کیا کیا ہے؟؟
لو جی آ گئی ایک اور وکیل ان کی وکالت کرنے کے لیے۔۔عقیلہ نے آنکھیں دکھاتے ہوئے فریحہ کو بولا ۔
کیا ہوگیا ہے عقیلہ بچوں کے ساتھ تواس طرح کی باتیں نہ کرو۔۔عنان بولے
کیوں نہ بولو عنان انہیں بھی تو پتہ چلے کہ ہم سے رشتہ داری صرف خاص موقع پر ہی نبھائی جاتی ہے۔کیا آج تک کوئی ہمارے گھر آیا؟ ہاں فون کرکے ضرور بلا لیا جاتا ہے اور جب بولو تو کہتے ہیں مصروفیت بہت ہیں ۔۔کیوں عنان رشتہ داری نبھانی ہمارے کھاتے میں ہی کیوں ۔۔کیا کبھی حور نے ایک بار بھی فون کرکے ہمیں پوچھا ؟؟ اور آج ایک ملاقات میں یہ فریحہ کیسے طرفدار ہوگی ان کی ۔۔
عقیلہ ضروری نہیں ہے کہ کوئی ہمارے گھر آئیں یا ہم کسی کے گھر جایئں تو ہی رشتے جوڑیں۔۔ رشتے جتائے نہیں جاتے نبھائے جاتے ہیں پھر چاہے وہ دور ہو یا پاس یہ رشتے احساس اور محبت کے ہوتے ہیں۔اور میرا ان سے خون کا رشتہ ہے جو کی سی کے پوچھنے یا نا پوچھنے سے ختم نہیں ہوگا ۔
میرا دل جلتا ہے عنان کیا میرے بچوں کی کوئی حیثیت نہیں کیا ان رشتے داروں کے علاوہ کوئی اور رشتےدار ہیں ؟؟ میری بھی بچیاں ہیں جوان بیٹا ہے۔ میں اچھے سے جانتی ہوں عنان کے تایا ابّو نے اپنی لاڈلی پوتی کا رشتہ اپنے قابل پوتے کے لیے مانگ بھی لیا ہوگا انھیں میری بچیاں کہاں نظر آنے والی انھیں صرف حور اور شاہزیب نظر آتے ہیں جو ان کی آنکھوں کے سامنے رہیں بس میرے بچوں کا کیا؟؟ان کی قابل اور زہین پوتی کے میرا افنان کہاں قابل ہے ؟نا تو اس حویلی سے ہم کی سی کو مانگ سکتے اور نا وہ حویلی سے کوئی ہماری بچی کو مانگے گا ان کی آنکھوں سے آنسوں گر رہے تھے ۔۔۔۔ وہ ماں تھی بچوں کے اچھےمستقبل کے بارے میں سوچ سوچ کہ کڑھتی رہتی اور وہ حق پےبھی تھیں ۔۔ہر ماں کی طرح ان کی بھی خواہش تھی کہ ان کی بیٹی خاندان ہی میں بیاہی جائے ان کے دل میں شدید خواہش تھی کے تایا ابو عنایا کا رشتہ مانگیں شاہزیب کے لیے ۔۔عنایہ کے حوالے سے وہ شاہزیب کو بچپن سے پسند کرتی تھیں۔ ۔
اور آج جب انہوں نے حور کو دیکھا تو ان کے دل میں اسے اپنی بہو بنانے کی خواہش ہوئی ۔۔لیکن ان کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔۔ان کی قسمت کا فیصلہ تو داؤد ابراہیم کے ہاتھ میں دیا گیا تھا وہ کیوں جوڑنے لگے اپنے قابل بچوں کا رشتہ عقیلہ کے بچوں کے ساتھ ۔
ماں کو اس طرح سے روتا دیکھ کر افنان اور عنایا دونوں اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے ۔
وہ یہ کیوں بھول گیا کہ شاہزیب بھی تو ہے جو اسکے مقابل ہے مگر یہاں شاہ زیب افنان سے بہت اگے ہے کیوں کہ اس کے سپورٹ میں اس کے دادا ہے جو کبھی نہیں چاہیں گے کہ ان کی لاڈلی پوتی کی قسمت ان کے ہونہار پوتے کی بجائے ان کے مرحوم بھائی کے پوتے سے جڑے ۔۔
افنان کسی طرح سے بھی شاہزیب سے کم نہیں تھا وہ بھی پڑھا لکھا خوبصورت اور ذہین تھا دولت کی کوئی کمی نہیں تھی۔حور کے لیے وہ ہر طرح سے قابل تھا۔
افنان مسکرایا چاند کی خواہش کرنے سے چاند مل تھوڑی نا جاتا ہے دل تو ہے ہی پاگل اس چاند کی قسمت کا فیصلہ اس کے دادا کے ہاتھ میں ہے جن کا انتخاب میں کبھی نہیں ہوں
____________________
عقیلہ یہ قسمت کے فیصلے ہیں جو صرف اللہ جوڑتا ہےیہ انسان کے ہاتھ میں نہیں ہمیں نہیں پتا ہماری بچیوں کے حق میں کیا بہتر ہے اور ان کی قسمت میں کیالکھا ہے ہمیں صرف اپنی بچیوں کی اچھے نصیب کے لیے دعا کرنی چاہیے اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔۔عنان نے عقیلہ کو سمجھایا ۔
ماں کو اس طرح سے روتا دیکھ کر فریحہ خاموشی سے اٹھی اور ماں کے برابر آ کے ان کے کاندھے پہ سر رکھ کے بیٹھ گئی۔
____________________
اس کی آنکھ ساڑھے دس بجے کے قریب کھولی ۔
جلدی سے بیڈ سے اٹھی منہ ہاتھ دھو کے نیچے آئی۔۔۔سوری دادو میں تھوڑا لیٹ اٹھی ۔۔ضرور آپ نے ناشتہ بھی نہیں کیا ہوگا۔
داؤد صوفہ پے بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے کے جب وہ نیچے آئی اور ان کے برابر بیٹھ کے ان کے کندھے پر سر رکھا ۔۔انہوں نے اس کے سر پر بوسہ دیا۔۔کوئی بات نہیں میری بچی ویسے بھی اتنا پڑھ پڑھ کے تمہیں آرام کا کہاں ٹائم ملتا ہوگا تم بہت سارا آرام کرو اور اپنا خیال رکھو ۔۔۔اس نے گردن اٹھا کے مسکرا کے دادا کو دیکھا ۔
اچھا اب جلدی سے بتاو ناشتے میں کیا کھاؤ گی ۔۔۔۔داؤد نے مسکرا کے دیکھ کے پوچھا ۔۔
اس نے چمکتی ہوئی آنکھوں سے کہا ۔۔مما کے ہاتھ کآ پراٹھا دیسی گھی کا ۔۔فرائی انڈا اور اچھی سی چائے ۔
داؤد اپنی پوتی کی فرمائش پر زور سے ہنسے ۔۔آپ واقعی ڈاکٹر ہیں؟ ؟؟کیونکہ اگر آپ کو یہ سب کوئی کھاتا دیکھ لے تو ڈاکٹر ماننے سے ہی انکار کردے ۔
وہ ہنسی۔۔ دادو کیا ہے نا کبھی کبھار کھا لینے سے کچھ نہیں ہوتا کون سا میں روز روز کھاتی ہوں۔
دیکھا دیکھا میں بھی یہی کہتا ہوں آپ کی مما سے مگر وہ مانتی ھی نہیں مجھے آپ کی دھمکی دیتی رہتی ہیں ۔۔ارتضیٰ آبھی آبھی بہار سے آےتھے ۔۔۔جب بیٹی کے خیال سن کے پھیل گئے۔۔ اور عظمیٰ جو حور کے کے پاس آکے بیٹھی تھیں ارتضیٰ انھیں دیکھتے بولے سن لیا اب
ہاں جی بلکل کبھی کبھی کا سمجھ آتا ہے مہینے میں تین بار کا نہیں انہوں نے بھی حصہ برابر کیا
بابا یہ میں کیا سن رہی ہوں ؟؟ وو سیدھی ہوتی بولی ۔
کچھ نہیں آپ کی مما آج کل مجھ سے ناراض رہتی ہیں اس لیے بدلہ لے رہی ہیں اور کچھ نہیں انہوں نے بھی منہ بناتے ہوے کہا۔
عظمیٰ شوہر کو دیکھ کے ہنسی ۔
مما مجھے بھوک لگی ہے مجھے اچھا سا ناشتہ کرنا ہے۔ ۔۔وہ لاڈ سے بولی
عظمیٰ اٹھی آبھی لائی اسے پیار کرتے بولی ۔۔
تایا ابو آپ کیا لیں گے؟؟؟ میں بھی پراٹھا۔۔ وہ اگے بولنے والے تھے کے جھٹ سے حور بولی۔۔۔
جی نہیں آپ ایک بؤائل ایگ اور سادھا پھلکا اور ایک کپ چاے لینگے ۔
عظمیٰ ہنستی کچن میں چلی گئی۔۔
کیوں بھئ ہم بھی تو کبھی کبھی کھا رہے ہیں انہوں نے حیران ہوکے کہا ۔۔
جی نہیں یہ کبھی کبھی کا لفظ صرف میری ڈیکشنری میں ہے آپ کی ڈکشنری میں نہیں نہیں ہے اچھا وہ اب ایک ڈاکٹر لگ رہی تھی ۔۔ منہ بناتی بولی
اچھا جی ۔۔۔ وہ ٹھنڈی سانس لیتے ہار مانتے بولے
اور ارتضیٰ ہنس دیئے۔۔
_____________________
دادو آج مزہ آیا نا ہم نے کتنا انجواےکیا وہ ہنستے ہوے ان کے کندھے پے سر رکھتے بولی ۔۔
داؤد بھی ہنس رہے تھے۔۔ ہاں آگر کوئی مجھے گاؤں میں اس طرح کی حرکت کرتا دیکھ لے تو پورے گاؤں والے ہنسے گے
ایسے کیسے ہنسے گے میں منہ نا توڑ دوں ان کا۔۔
ارے ارے میری نازک سی پھول سی بچی کو منہ بھی توڑنا آتا ہے ۔۔۔واہ ۔۔وہ اسے چھیڑتے بولے ۔
جی یہ ہاتھ نہیں فولاد ہیں وہ ایکٹنگ کرتی بولی ۔۔اور داؤد زور سے ہنسے ۔۔
رات کے دس بجے سب اپنے اپنے کمروں میں بیٹھنے تھے اور دادا پوتی چھت پے بنے بڑے سے جھولے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔۔
دادو چاے پینگے وہ اٹھتی بولی۔۔
میری بیٹی کے ہاتھ کی چاے هو اور میں نا پیوں؟؟۔۔۔وہ مسکراتے بولے
آبھی لائی ۔۔۔وہ بھاگتی ہوئی نیچے آئی کچن میں ۔۔
شاہزیب اپنے کمرے میں لیپ ٹاپ پہ بیٹھے کچھ کام کر رہا تھا جب اسے چائے کی طلب ہوئی ۔۔اس نے سوچا کہ سب اس وقت تو سو چکے ہونگے چلو خود ہی اٹھ کے چائے بنا لے۔وہ نیچے اتر کے کچن میں آیا تو دیکھا حور چولہے کے پاس کھڑی کچھ کر رہی تھی۔
ڈھیلی گلابی شرٹ جو گھٹنوں سے نیچے آ رہی تھی ڈھیلا ٹراوزر پہنے لمبے گولڈن بالوں کی ڈھیلی چوٹیاجو کمر سے نیچے آ رہی تھی وہ چھوٹی سی کوئی بچی لگی ۔۔وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔
حور کو احساس ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے اس نے پلٹ کے پیچھے دیکھا وہاں شاہزیب کھڑا تھا ۔۔
وہ مسکرائی شاہ زیب بھائی وہاں کیوں کھڑے ہیں اندر آئی آپ کو کچھ چاہیے تھا؟؟وہ اعتماد سے بولی
شاہ زیب نے دماغ میں آتی ساری سوچوں کو جھٹک کے اگے بڑھا اور حور کے ساتھ برابر میں تھوڑا فاصلے سے جاکے کھڑا هو گیا ۔وہ چاے نکال رہی تھی وہ اس کے خوبصورت گلابی ہاتھوں کو دیکھتا گیا۔
وو اسے خاموش کھڑا دیکھتا پوچھی۔۔ چاے چاہیے؟؟
ہاں ہاں کیا ؟؟؟ حور اس کی سوچوں سے نکل ھی نہیں رہی تھی ۔۔
میںنے پوچھا آپ چاے پینگے؟؟ حور نے اب اس کی شکل کو دیکھ کے آنکھیں نکل کے کہا۔
ہاں آگر تم پلاؤ گئ تو۔۔۔ شاہزیب نے مسکرا کے کہا
حور آنکھیں گھماتی ادا سے مسکرائی اور سر کو جھٹکا۔۔
وہ اس کے لیے بھی ایک کپ نکل لائی اور چاے ڈالنے لگی ۔۔ایک بات پوچھوں ؟؟؟اس نے شاہزیب کی طرف ترچھی نظریں کرتے سوال کیا اور ساتھ چاے بھی نکالی۔۔
ہاں پوچھو حور ۔۔۔شاہزیب فورن بولا ۔
آپ لندن سے پڑھ کے آ ئیں ہیں نا ۔۔۔لندن کیسا ہے ؟؟ وو کپ اس کی طرف بڑھاتی آنکھوں میں ایک انوکھی چمک لیے بولی۔۔
ویل ۔۔۔لندن کافی خوبصورت ہے ۔۔۔مگر تم سے کم حور آخر کی بات اس نے دل میں کہی تھی ۔۔وہ اس کے گلابی مکھڑ ے پے گولڈن رنگ کی لٹوں کو دیکھے گیا وہ اسے کوئی اپسرا کوئی حور لگی۔۔
حور اس کی بات سن کے مسکرائی اور دو کپ اٹھا کے جانے کے لیے مڑی۔
تمھیں لندن پسند ہے؟؟؟ میں تمھیں لے کے چلونگا ۔
وہ دروازے تک پوھنچی ہی تھی جب اس کے یہ آخری جملے سن کے اس کے قدم رکے۔۔اس نے گردن کو ہلکا سا ترچھہ موڑا۔۔۔مجھے لندن جانے کے لیے آپ کی ضرورت نہیں۔۔ ایک ایک لفظ کو ٹھہر ٹھہر کے غرور سے بولتی وہ سیدھی نکل گئی ۔
ایک عجیب سا کھینچاو تھا اس کے چہرے پے ایک پل کے لیے تو شازیب کو ایسا لگا کہ یہ تھوڑی دیر پہلی والی مسکراتی ہوئی حور ہے ھی نہیں ۔۔
اس نے سر جھٹکا اور کپ منہ سے لگایا ۔۔۔ واہ چاے تو بہت اچھی بنائی ہے ۔۔۔ وہ بھی ہستے ہوے کچن سے بہار آگیا ۔
حور اپنے دادا کے ساتھ اچھا وقت گزار کے اور ان سے ان کے پاس پھر سے واپس آنے کا وعدہ لے کے وہ شہر آگئی ارتضیٰ اور عظمیٰ کے ساتھ ۔اور شہر آتے ہی وہ شام میں اکیلی ڈرائیو کرکے اپنے ماموں سے ملنے ان کے گھر آئی تھی جو ان کے گھر سے تھوڑا دور تھا۔۔
حورررر۔ ۔۔۔ عنایا حور کو اپنے گھر دیکھ کے چیخیی ۔۔۔عنایہ کی آواز سن کے فریحہ عنان اور عقیلہ بھی اپنے کمروں سے باہر آگئے۔
وہ آگے بڑھ کے سب سے پہلے اپنے ماموں سے ملی۔عقیلہ اس کو اپنے گھر دیکھ کے حیران تھیں۔۔ان کے دل میں کسی کے لیے کوئی بغض یا برائی نہیں تھی۔ بس وہ اپنے بچوں کے بارے میں سوچ کے کبھی کبھی بہت غلط بول جایا کرتی تھی ۔
سب حور کو اپنے گھر میں دیکھ کے بہت خوش ہوئے وہ سب سے باری باری ملی۔
چلو اندر چل کے بیٹھتے ہیں ۔۔۔عنایا حور کو لے کے آگے بڑھی ۔۔
اور پیچھے سے فریحہ نے ماں کو جتاتی نظروں سے دیکھا ۔۔۔دیکھ لیا آپ تو بول رہی تھی کہ حور آپی نہیں آئیگی۔۔دیکھ لیا آگئی ۔
___________________
عقیلہ کچن میں کھانا بنا رہی تھیں۔جب حور اندر آئی۔۔مامی خوشبو تو بہت مزے کی آرہی ہے کیا پکا رہی ہیں ؟؟؟وہ اپنی چہکتی آواز میں بولی۔۔
عقیلہ مسکرائیں۔۔ تمہیں بریانی پسند ہے نا تو وہی بنا رہی ہوں ۔
وہ خوشی سے پیچھے سے مامی کو گلے لگاتے بولی۔۔ تھینک یو ۔۔
مامی آپ خاموش خاموش سی کیوں ہیں کیا میرے آنے سے آپ کو خوشی نہیں ہوئی ۔
وہ پلٹی اور حور کو دیکھ کے بولی۔۔مجھے خوشی ہوئی ہے عظمیٰ اور بھائی بھی اگر تمہارے ساتھ آتے تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔۔اور یہ کہکے کچن سے باہر نکل گئی ۔۔
حور کے چہرے کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی ۔۔عنایا جلدی سے حور کے پاس آئی ۔
حور امی کی باتوں کو دل پر مت لینا امی کا کوئی غلط مطلب نہیں تھا ۔۔عنایا شرمندہ سی بولی
حور نے عنایا کا ہاتھ پکڑا اور بولی۔انہوں نے جو کہا غلط بھی نہیں کہا۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا وقت کے ساتھ ۔۔حور مسکراتی ہوئی بولی-
حور ماموں کے گھر ایک اچھا وقت گذار کے واپس اپنے گھر آ گئی۔۔۔اس دوران افنان سے اس کی ملاقات نہیں ہوئی۔
______________________
مجھے اب ارتضیٰ سے بات کرنی چاہیے حور کی تعلیم مکمل ہوگئی ہے اور اب ارتضیٰ کو اپنآ کیا وعدہ نبھانا ہے مگر کیا حور مانے گی ؟؟؟ وہ ضرور اپنے کیرئیر کو لے کے آواز اٹھاے گی ۔۔کے میں ایک ڈاکٹر هو کے شہر سے گاؤں آوں گی اور گھر میں بیٹھ کے زندگی نہیں گزار سکتی ۔۔۔کیا کروں کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔
کیا ہوا آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں ؟؟کیا سوچ رہے ہیں ۔۔۔سعدیہ ان کے پاس بیٹھتے ہوے بولی ۔
نہیں کچھ نہیں بس ایسے ھی ۔۔۔داود نے انھیں ٹالا۔۔
آپ کا نہیں پتا مگر میںنے کچھ سوچا ہے وہ خوشی سے آگے ہوتے بولی۔۔
داؤد ہنسے اچھا کیا سوچا ہے اپنے ؟؟
کیوں نا ہم حور کا رشتہ مانگ لین شاہزیب کے لیے ؟؟ارتضیٰ سے بات کریں آپ ؟
اماں بلکل سہی سوچا آپنے۔۔۔میں بابا سے اسی سلسلے میں بات کرنے آیا ہوں مجھے بھی حور بہت پسند ہے اور پھر گھر کی ھی بیٹی ہے ہر لحاظ سے وہ دونوں ایک دوسرے کے قابل ہیں۔۔۔۔مدثر کمرے میں آتے بولے-
تم دونوں کو کیا لگتا ہے میںنے یہ بال دھوپ میں سفید کیے ہیں؟؟تم دونوں سے زیادہ میں اپنے بچو کو چاہتا ہوں۔۔اور ان کے بچپن ھی میں میںنے ان دونوں کو ایک کرنے کا سوچا ہوا ہے اور یہی نہیں ارتضیٰ سے میںنے حور کا ہاتھ کئی سالوں پہلے ھی مانگ لیا ہے شاہزیب کے لیے۔۔
وہ دونوں خوشی سے داؤد کو دیکھنے لگے تو بابا انتظار کس بات کا ہے حور ڈاکٹر بن چکی ہے شاہزیب بھی ماشاءالله شادی کے قابل هو چکا ہے تو آپ بات کریں ارتضیٰ سے۔۔مدثر بولے ۔۔
ہممممم۔ ۔۔ داؤد نے ٹھنڈی سانس لی بات کرنی پڑے گی اب ۔۔ارتضیٰ آ تا ہے تو کرتا ہوں بات۔۔۔انہوں نے سوچ کے بولا۔۔
اور داؤد کے کمرے کے بہار سے گزرتا شاہزیب خوشی سے واپس گھوم گیا۔۔اس کی تو یہ دل کی خاموش خواہش تھی دل اسے چھپکے سے چا ہںنے لگا تھا ۔۔۔حور جیسے ہمسفر کے سنگ زندگی گزارنا اس کی خوش قسمتی تھی ۔۔بن مانگے وہ اسے ملنے جا رہی تھی وہ بیحد خوش تھا۔۔
جاری ہے
