Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48
مجھے نہیں پتا اور میں اس چیز کے بارے میں نہیں جانتا۔۔مجھے یہ سب بہت عجیب لگتا ہے میں نے یہ نا کبھی پہنا ہے اور نہ کبھی پہنوں گا ۔۔وہ صاف صاف کہتا ہاتھ جھاڑتا ہوا بولا۔۔
اچھا پھر بڑے اچھے لگینگے تھری پیس میں گھوڑی چڑھتے ہوئے۔۔۔
اس کی بات سن کر اذہاد نے صدمے سے آنکھیں گھما کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔
حور مجھے لگتا ہے کہ لندن جاتے ہی سب سے پہلے ایک اچھے سے دماغ کے ڈاکٹر سے تمہارا علاج کروانا پڑے گا ۔۔ حور اپنے دماغ سے ان فضول باتوں کو نکال دو۔میں تمہاری یہ خواہش کبھی پوری نہیں کر سکتا۔۔اسے حور کے خیال جان کر اب ڈر لگنے لگا تھا۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے۔۔مجھے اجازت دیں میں گھوڑا چڑھ کر آؤں گی آپ کو لینے۔۔وہ اب سینے پر ہاتھ باندھتی منہ ٹیڑھا کرتی بولی۔۔
اور اذہار کو اس کی بات سن کر زور زور سے چکر آنے لگے۔۔
وہ اپنی آنکھوں کو بند کرتا زور زور سے کنپٹیوں کو انگلی کی مدد سے دبانے لگا۔۔۔
کیا ہوا آپ کے سر میں درد ہو رہا ہے؟؟ وہ معصومیت سے اس سے پوچھنے لگی۔۔
چلو حور تمہیں دیر ہو رہی ہے۔۔میں تمہیں گھر چھوڑ آو۔۔وہ اس کے سوال کو اگنور کرتا بولا۔۔
نہیں پہلے میرے سوال کا جواب دیں۔۔کیا آپ کو گھوڑوں سے ڈر لگتا ہے؟؟
حور میں ایک بہترین گھوڑ سوار ہوں۔۔وہ عجیب سی نظروں سے اسے دیکھتا جواب دیتا بولا۔۔
پھر میری بات کیوں نہیں مانتے؟؟ بلا کی معصومیت تھی اس کے چہرے پہ۔۔
آزہاد ہلکا سا مسکرا دیا۔۔
ابھی نہیں۔۔۔انکار ہوا
ابھی کیوں نہیں۔۔۔تکرار ہوا۔۔
سنجیدہ نظریں مسکراتے لب۔۔
کچھ پل یوں ہی اسے دیکھنے کے بعد وہ جھٹکے سے کھڑا ہوااور سیدھا ہاتھ اس کی طرف بڑھاتا ہوا بولا۔۔۔ چلو۔۔۔
نہیں پہلے میری بات مانیں۔۔وہ بچوں سی ضد لیے اس سے بولی۔۔
اذہار کے پاس اب ایک آخری حل بچا تھا۔۔وہ نیچے جھکتا اس کے نازک وجود کو اپنے مضبوط بازوؤں میں بھرتا اٹھاتا سیدھا ہوا۔۔
ہادی مجھے نیچے اتاریں۔۔وہ دھڑکتے دل کے شور سے گھبرا کر زور سے بولی تھی۔۔
کیوں تمھیں تو بہت شوق ہے ایڈونچر کا۔۔سوچ رہا ہوں کیوں نا ایسے تمھیں رخصت کر کے لے جاؤں۔۔
وہ اب اس کے چہرے کی اڑتی ہوائیاں دیکھ کر مزے لیتے ہوئے بولا۔۔۔
ہادی مجھے اتاریں۔۔۔وہ ایک ہی بات کو بار بار سختی سے اس کہتی جا رہی تھی۔۔
مگر اذہاد اس کی ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالتا گاڑی تک لایا تھا۔۔۔
وہ اب اس کی طرف سے منہ موڑے ناراض نظروں سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔۔
حور۔۔وہ مسکراتا ہوا اس کا ناراض روپ دیکھ کر اسے چھیڑتا ہوا پکارا۔۔
یہ تو بتاؤ اسے کیا کہتے ہیں یہ تم پے بہت جچ رہا ہے۔۔وہ ماتھے پے سجے اسکے ٹیکے کو چھیڑتا ہوا بولا۔۔
حور نے اس کا ہاتھ پیچھے کیا۔۔اور گھور کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔
بات مت کریں مجھ سے۔۔
کیوں میں تو کروں گا مجھے کوئی ہے جو روک سکتا ہے؟؟ اس کے لہجے میں جھلکتی حاکمیت اور مغروریت حور کو صاف محسوس ہوئی۔۔
چہرے پر آتی اپنی مسکراہٹ کو وہ اذہار سے چھپاتی
باہر کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔
اسی چھیڑ-چھاڑ روٹھنے اور منانے میں وہ دونوں حور کے گھر پہنچ گئے۔۔۔
حور گاڑی کا دروازہ کھولتی تیزی سے باہر نکلی تھی۔۔
کہ جب اندر جاتی حور کے دوپٹے کا کونا پکڑ کر اذہاد نے ہلکا کھینچ کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔
حور نے پلٹ کر اذہاد کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
مان جاؤ نا۔۔وہ مسکراتا ہوا اسے دیکھتا پیار سے بولا۔۔
مجھے دیر ہو رہی ہے دوپٹہ چھوڑیں۔۔حور نے گردن اکڑا کر ایک ادا سے ناک چیڑاتےاسے جواب دیا۔۔
تبھی وہ آہستہ سے اس کے بے حد قریب آیا تھا۔۔
آخری فیصلہ ہے حور۔۔وہ اب سنجیدگی سے اس کا چہرہ دیکھتا بول رہا تھا جو چاند کی چمکتی چاندنی میں کوئی اپسرا ہی محسوس ہو رہی تھی۔۔
ہاں میں آپ سے ناراض ہوں یہ میں آخری فیصلہ ہے۔۔۔وہ دل میں ہنس رہی تھی اسے اب آزہاد کو تنگ کرنے میں مزہ آ رہا تھا۔۔
ٹھیک ہے پھر ناراض تو ناراض سہی۔۔وہ کاندھے اچکا کر یہ کہتا اس کے چہرے پر جھکا اور آہستہ سے اس کے گال کا بوسہ لیتا پیچھے ہوا اور مسکراتا اسے دیکھنے لگا۔۔
حور تو آنکھیں پھاڑے سن کھڑی اسے دیکھنے لگی کہ تبھی وہ پھر کوئی شرارت کا ارادہ کرتا اسکی طرف بڑھنا چاہتا تھا کہ جب حور ہوش میں آتی زور سے اسے پیچھے کی طرف دھکیلتی جلدی سے اندر بڑھ گئی۔۔۔اذہاد زور سے ہنسا تھا۔۔وہ جتنی بھی شیرنی بن کر پنجے جھاڑتی مگر اذہاد کے ذرا سے عمل پر بھیگی بلی بن جاتی تھی۔۔۔
_________________
عنایا اور شاہزیب کا ولیمہ آج تھا جسے داؤد نے بڑے پیمانے پر شہر کے ایک بڑے ہوٹل میں ارینج کیا تھا۔۔
سب لوگ گاؤں سے ارتضیٰ کہ گھر آنے کے لئے روانہ ہو چکے تھے۔۔۔۔
حور بیٹا اٹھ جاؤ سب لوگ آتے ہی ہوں گے۔۔۔ حور جس کی آنکھ 12 بجے بھی کھولنے کا نام نہیں لے رہی تھی عظمیٰ آخر کار اس کے سر پر آتی بولیں تھیں۔۔
وہ جلدی سے اٹھتی اپنے لمبے سلکی بالوں کو سمیٹتی باتھروم بھاگی تھی۔۔
تھوڑی ہی دیر میں گاؤں سے سب لوگ پوھنچ گئے تھے۔۔حور سب سے پہلے داؤد سے ملنے کے بعد عنایا کے گلے لگی تھی۔۔عنایا کے چہرے کی چمک اور خوشی دیکھ کر حور کے اپنے اندر ڈھیروں سکون اترتا محسوس ہوا۔۔۔
وہ ایک دن میں گلاب کی طرح کھلی شاہزیب کے سنگ خوشبو بکھیر رہی تھی۔۔۔
حور نے عنایا کو دیکھ کر شرارت سے داؤد کے آگے ہاتھ پھیلآیا۔اس کا اشارہ سمجھتے داؤد نے زور سے اس کے ہاتھ پے ہاتھ مارا اور دونوں زور سے ہنس دیے۔۔
پلین کامیاب رہا تھا۔۔دونوں کو ایک کرنے کا۔۔
دادا پوتی کی ایک دوسرے سے اتنی اٹیچمنٹ سب لوگ اچھے سے جانتے تھے۔۔تبھی کسی نے کوئی خاص ان پے توجہ نا دی۔۔۔
دادو آپ کی بہو تو بڑی بے مروت نکلی چھی چھی چھی۔۔ایک دن میں یہ لچھن۔۔یہ نا ہوا ایک فون کر کے اپنی چھوٹی نند کو صبح کا سلام کر دیتی۔۔وہ پیندرا بدلتی بولی تھی عنایا کا تو منہ ہی کھلا رہ گیا۔۔
شاہزیب ہنسی دبا گیا تھا اس کے سٹارٹ ہونے پے۔۔
شاید میری چھوٹی نند کو کسی نے بتایا نہیں بڑی بھابھی کو سلام چھوٹے کرتے بڑے نہیں۔۔۔وہ بھی شوہر کے برابر بیٹھی تھی اس لئے گردن اکڑا کر بولی تھی۔۔۔
حور اس کی چلتی زبان کے جوھَر دیکھ کے حیران ہی رہ گئی۔۔
واہ دولہا بھائی کیا میری معصوم بہن کو کوا جیم کھلا کر لاے ہیں ایک رات میں اتنی گز کی زبان کیسے نکل آئی۔۔ عنایا کے جارحانہ انداز سے خود کی طرف بڑھتا وہ یہ کہتی اٹھ کار کمرے میں بھاگی تھی۔۔۔اور ان کے بچوں جیسی حرکتوں کو دیکھ کر سب ہنس دیے تھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور عنایا کو پالر سے لے کر ہال آئی تھی جہاں سارے مہمان پہلے ہی پوھنچ گئے تھے۔۔
عنایا اور شاہزیب ایک ساتھ زبردست انٹری مارتے ہوٹل کے اندر داخل ہوے تھے۔۔
حور جو بے حد حسین اوپر سے فٹ اور نیچے سے پھولی ہوئی وائٹ فراک پہنے جس پے بہت حسین گولڈن کام ہوا تھا بڑا سا دوپٹہ ایک سائیڈ پر لئے اپنے سلکی لمبے گولڈن بالوں کو کھلا چھوڑے کانوں میں بڑے بڑے آویزا ڈالے جنہیں سہارے کے ساتھ جوڑ کر سر کے پیچھے بالوں میں سیٹ کیا گیا تھا سادہ سی ہلکی لپ گلؤ لگاے کوئی اپسرا ہی لگ رہی تھی۔۔
وہ گردن جھکاے عنایا اور شاہزیب کو دیکھ رہی تھی۔۔دونوں بہت خوش تھے۔۔ایک دن میں جو دونوں ایک دوسرے سے دور نظر آنے پر اب ادھورے سے لگتے تھے۔۔
دل نے چپکے سے کسی اپنے کی سنگت کا اظہار کیا۔۔وہ بھی تو ادھوری تھی۔۔اس کے چہرے کی مسکان کہاں تھی؟؟ چاند تو تھا مگر اس کی چمک مدھم تھی۔۔۔۔گلاب کے پھول کی خوشبو کہاں کھوئی تھی؟؟
ارے ارتضیٰ صاحب مبارک ہو۔۔۔بیٹی کا نکاح کر دیا۔۔فاروق لغاری جو ارتضیٰ کے بہت اچھے بزنس پارٹنر رہے تھے ارتضیٰ کو دیکھتے ان کے قریب آتے بولے۔۔۔ارتضیٰ اور ان کے ساتھ کھڑی عظمیٰ ایک دوسرے کو دیکھتے پھر فاروق اور انکی بیگم کو دیکھ کے ہلکے سے مسکراے۔۔۔
ہاں اللہ کا کرم ہے۔۔ارتضیٰ آہستہ سے بولے۔۔
ارے یار ملواؤ اپنے داماد سے ہم بھی تو دیکھیں کہاں چھپا کر رکھا ہے ہاہاہا۔۔فاروق صاحب اپنی زوجہ کے ساتھ کھڑے قہقا مار مار کر ہنس رہے تھے۔۔
حور بھی منہ لٹکاے اداس سی کھڑی ایک کونے میں سے ارتضیٰ اور عظمیٰ کو اداس دیکھ رہی تھی۔۔۔جو بلکل خاموش کھڑے تھے۔۔۔
تبھی کوئی مضبوط قدموں سے چلتا اپنی شہزادوں جیسی آن بان لئے اندر داخل ہوا تھا۔۔جسے ہر کوئی پلٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔۔فل بلیک تھری پیس قیمتی سوٹ جس کی سامنے کی جیب پر سلور کنگ کروان کا ایک چھوٹا سا بیج بھی لگا ہوا تھا۔جو ہر دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا تھا۔۔
تبھی سامنے دیکھتے فاروق صاحب کا قہقا اور ان کی بیگم کی مسکراہٹ پل میں غائب ہوئی تھی۔۔۔
ارتضیٰ اور عظمیٰ بے اختیار پلٹے تھے۔۔۔جہاں اذہاد مسکراتا ہوا انہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔
اسے دیکھ کر جہاں دونوں کے چہرے کھل اٹھے تھے وہی فاروق اور انکی بیگم کی سانسیں تھمی تھیں۔۔
اذہاد ارتضیٰ کے سینے سے لگتا عظمیٰ کو کندھوں سے تھام کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔
السلام عليكم میں ہوں حور کا ہسبنڈ اور ارتضیٰ ابراہیم کا داماداذہاد عریض ۔۔وہ فاروق لغاری کی آنکھوں میں دیکھتا پورے اعتماد اور غرور سے بولا تھا۔۔
فاروق اور انکی بیگم کی تو آنکھیں ابل پڑی تھیں اتنا شاندار اور وجیہہ ارتضیٰ ابراھیم کے داماد کو دیکھ کر اسے دیکھ کر وہ اس کے نام پر توجہ نا دے سکے تھے ورنہ شاید وہیں گر جاتے کے وہ ہے کون۔۔۔
اس کی آنکھوں نے چاروں طرف کسی کو شدت سے ڈھونڈا تھا ان ہزاروں لوگوں میں جس کے چہرے کی مسکراہٹ بن کر اس کی چمک بن کر اس کی خوشبو بن کر وہ آیا تھا مگر مگر وہ نجانے کہاں چھپ گئی تھی۔۔۔
حور ایک کونے میں کرسی پر بیٹھی سامنے اسٹیج پر دیکھ رہی تھی جہاں دولہا اپنی دلہن سے کچھ کہہ رہا تھا اور دلہن مسکرا رہی تھی اس کی بات سن کر۔۔
تبھی کسی نے پیچھے سے آکر اس کے رخسار پر اپنی انگلیوں کا لمس بکھیرا۔۔۔
حور ڈر کر جھٹکے سے کھڑی ہوئی تھی۔۔دل جیسے کانپ سا گیا تھا۔۔وہ گہرے سانس لیتی حیران آنکھوں سے اذہاد کو دیکھنے لگی اور پھر ہنستی ہوئی بے اختیار اس کے سینے سے لگی تھی۔۔
ہادی۔۔۔کل کی ساری ناراضگی کہاں گئی ؟؟ وہ اسے سامنے دیکھ کر جیسے سب بھول گئی تھی۔۔۔
وہی تو تھا اس کے لبوں کی مسکان اس کے چہرے کی چمک اس کی خوشبو جسے دیکھ کر ہی وہ مہک جاتی تھی۔۔۔
وہ بھی تو صرف اس کی خوشی کے لئے آیا تھا۔۔
ہادی بتایا بھی نہیں۔۔وہ اب اس کے سامنے سے کوٹ کو دونوں ہاتھوں میں جکڑتی بچوں سی خوشی لئے اس کا چہرہ دیکھتی بول رہی تھی۔۔۔
اذہاد اس کے چہرے کی مسکان کو دیکھتا مسکرا رہا تھا۔۔جس کے چہرے کی ایک مسکان کی قیمت اس دنیا کی ساری دولت بھی جمع کر دی جاتی تو بھی نایاب تھی۔۔
اگر بتا دیتا تو تمہارے چہرے کی قیمتی خوشی کیسے دیکھتا۔۔وہ اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکا کر انگلیوں سے اس کا حسین رخسار سہلاتا اس کی آنکھوں میں محبت اور دیوانگی سے دیکھتا بول رہا تھا۔۔
اور پھر حور اس کا ہاتھ تھام کر پورے ہوٹل کے 4 چکر نا لگواے اس کے ساتھ مل کر اسے تسلی نا ہوئی۔۔
کوئی حسد کوئی حسرت کوئی حیرت لئے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔
جن لوگوں کی زبان پر کل تک ارتضیٰ ابراہیم کے داماد کو دیکھنے کے چرچے تھے آج اذہاد کو دیکھ کر سب کی زبان پر تالے لگ گئے تھے۔۔
جنہیں کر کوئی دیکھ کر ہنسوں کا جوڑا ہی لقب دے رہا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے یار اسے یہاں لگاؤ۔۔۔
ارے یہ سامان یہاں رکھ دو۔۔۔
ارے آپ کو جو صبح لانے کا کہا تھا وہ لے آئے۔۔
ایک افرا تفری مچی تھی۔۔۔
حور کی شادی جو شروع ہو گئی تھی گھر میں ایک ہلچل سی مچ گئی تھی۔۔
آج اسے مایوں بیٹھایا جانا تھا۔۔پورا گھر گیندے کے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔
عنایا کی شادی کے فورن بعد گاؤں سے سارا خاندان ارتضیٰ ابراھیم کے گھر رونق لگانے کے لئے پوھنچا ہوا تھا تو پھر عنان کی فیملی کیسے پیچھے رہتی سب لوگ ایک جگہ اکھٹا ہوے تھے رونقیں لگانے کے لئے۔۔۔
اذہاد اور حور کی مایوں ایک جگہ رکھی گئی تھی۔۔اذہاد تو بلکل تیار نہیں تھا اس ابٹن وغیرہ کی رسم میں آنے کے لئے مگر حور کیسے چھوڑ دیتی اسے اتنی آرام سے یہ تو اس کی من پسند رسم تھی۔۔۔۔
وہ تو اذہاد کو اوپر سے نیچے تک ابٹن میں بھرا ہوا دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔
تبھی اسنے خوب بلیک میل کر کے اسے اس رسم میں آنے کے لئے مجبور کر کے ہی دم لیا۔۔۔
عنایا نے اسے پیلے جوڑا پہنا کر نا صرف تیار کیا تھا بلکہ چہرے تک گھونگھٹ بھی ڈال دیا اس پیلے جوڑے میں اس کی رنگت سونے کی طرح چمک رہی تھی۔۔
اسے اس میں بھی سکون نہیں تھا ایک طرف سے گھونگھٹ اٹھا کر ادھے چہرے کی تصویریں کھینچتی وہ اذہاد کو بھیج رہی تھی۔۔۔
عنایا تو اس کے چلبولے پن پر اپنا سر پیٹ کر رہ گئی۔۔
ارتضیٰ اور داؤد انتظامات کو لے کر کچھ بات کر رہے تھے۔۔۔جب وہ آہستہ قدموں سے چلتی نیچے اتر کر آئی تھی۔۔
بابا دادو۔۔آہستہ آواز میں پکارا۔۔۔
دونوں نے بے اختیار آواز کی طرف پلٹ کر دیکھا۔۔۔
جو گھونگھٹ اٹھاے آنکھوں میں آنسو لئے انہیں مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔۔۔
ارتضیٰ اور داؤد کی آنکھیں اسے دیکھ کر بھر آئی وہ جو کب سے خود پر ضبط کیے ہوے تھے اس پل خود کو روک نا سکے۔۔
وہ بھاگ کر آئی اور دونوں کے سینے سے باری باری لگی زور زور سے رو رہی تھی۔۔
داؤد اور ارتضیٰ بھی رو رہے تھے اس کے دور جانے پے نازو پلی لاڈلی جان سے پیاری بیٹی ان سے دور جو جا رہی تھی۔۔۔یہ منظر دیکھ کر سب کی آنکھیں نم تھیں عظمیٰ بھی رو رہی تھی۔۔۔
پھر سب نے آگے بڑھ کر انہیں سمبھالا۔۔۔
اور کچھ دیر پہلے جہاں سب کی آنکھیں نم تھیں وہی آنکھیں خوشی سے پھر مسکرانے لگی۔۔جیسے حور نے عنایا کی شادی میں رنگ جمایا تھا ویسے ہی عنایا اور فری نے خوب رونق لگائی تھی جس میں حور نے بھی ان کا پورا ساتھ دیا تھا بینا شرماے جسے سب دیکھ کر ہنسنے لگے تھے۔۔
تھوڑی دیر بعد اذہاد بھی پوھنچ گیا۔۔۔
سفید رنگ کے لباس میں وہ لمبا چوڑا شہزادہ لگ رہا تھا۔۔عظمیٰ نے سب سے پہلے اس کی نظر اتاری۔۔۔
ارتضیٰ کا گھر پھولوں روشنیوں سے سجا خوشیاں قہقوں رنگوں سے آج بھرا ہوا تھا۔۔
حور اور اذہاد کے چہرے سے مسکراہٹ جدا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔
سب سے پہلے اذہاد کو لاکر بٹھایا گیا رسم کے لئے اس کے بعد پھولوں سے سجی حسین چادر تلے حور کو لایا گیا۔۔
سہج سہج کر چلتی وہ پیلے گوٹے سے سجے شرارے کو ہلکا سا اٹھاتی چہرے کو چھپاے وہ اذہاد کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔
دونوں کو ایک دوسرے کی دل کی دھڑکنیں دھڑکتی صاف سنائی دے رہی تھی۔۔
اسے اذہاد کے برابر لا کر بٹھایا گیا۔۔۔اذہاد جہاں پوری کوشیش کر رہا تھا کہ وہ حور کو نا دیکھے وہی حور کبھی اس کے پیر پے پیر رکھتی تو کبھی اس کے کاندھے کو ہلکا سا اپنے کاندھے سے دھکا دیتی۔۔
دل الگ بغاوت پر اتر آیا تھا اوپر سے حور کی حرکتیں ۔۔۔وہ ہمیشہ ہی پھنستا تھا۔۔۔
تبھی حور نے اچانک سے ایک ہاتھ بڑھا کر پیالے سے بھر کر ابٹن اٹھائی اور اذہاد کے دونوں گالوں لیب دی۔۔اذہاد تو ہکا بکا اسے دیکھے گیا جو اب گھونگھٹ کے پیچھے زور زور سے ہنس رہی تھی۔۔
تبھی شور اٹھا۔۔ بدلہ لو ہار مت ماننا۔۔شاہزیب عنایا فری ہوٹنگ کر رہے تھے۔۔
اور اذہاد نے بینا آگے پیچھے دیکھے خود کے ہی گالوں پر لگا ابٹن کا لیب اپنے ہاتھ سے لیتا حور کے دونوں ہاتھ زور سے پکڑتا اسے گھونگھٹ کے اندر ہی ابٹن لگا دیا۔۔
دولہا دلہن کی مستی مذاق دیکھ کر ہر کوئی ہنس رہا تھا۔۔۔
ایسے دولہا دلہن بھئی ہم نے تو پہلی بار دیکھے۔۔۔داؤد سامنے دیکھتے حیرت سے ارتضیٰ سے بولے تھے۔۔جہاں ارتضیٰ انکی بات سن کر زور سے ہنسے۔۔۔بابا آپ کا دور گیا وہ آج کے بچے ہیں۔۔۔داؤد ارتضیٰ کی بات سن کر گردن ہلا دیے۔۔۔۔خوب شوروغل میں مایوں کی تمام رسمیں ہوئی۔۔۔
اذہاد جتنا ان سب سے دور بھاگ رہا تھا اتنا ہی اسے اوپر سے نیچے تک ابٹن سے بھر دیا گیا تھا۔۔اس کے سارے کپڑے بال سب ابٹن سے بھر گئے تھے۔۔۔مگر وہ ناراض نا ہوا تھا یہ سب بھی اس نے خوب انجونے کیا تھا۔۔۔
حور کو بھی خوب ابٹن لگائی گئی تھی۔
___________________
خوب ہنگامہ ہونے کے بعد حور کو جیسی اندر لے کر گئے اذہاد فورن اٹھا فریش ہوا اور گھر بھاگ گیا۔۔حور نے اسے سختی سے منا کیا تھا آج جانے سے۔۔۔
عنو ہادی کہاں گئے؟؟ اذہاد کا خیال آنے پر حور نے عنایا سے پوچھا۔۔
بھائی تو گھر گئے۔۔۔۔وہ بولی
حور نے جھٹ سے اسے کال ملائی۔۔۔
اذہاد جو سونے کی تیاری کر رہا تھا حور کا فون آتے زبان دانتوں تلے دبائی۔۔
ہادی آپ کو کہا تھا نا نہیں جانا ہے پھر بھی آپ چلے گئے۔۔۔وہ اس پے برس رہی تھی۔۔مجھے نیند آئی ہے بائے۔۔یہ کہتا وہ بینا فون بند کیے منہ پر بلینکٹ لیتا گٹ سو گیا۔۔۔
اور حور پیچھے جلتی بھونتی رہ گئی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور اٹھو جلدی۔۔عنایا کی آواز پر حور کی آنکھ ہلکی سی کھولی۔۔کیا ہے رات میں ایک تو دیر سے سوئی ہوں اوپر سے تم باجا بجاتی میرے سر پر پوھنچ گئی۔۔
حور آج مہندی ہے۔۔ مہندی لگانے والی کب سے بیٹھی دلہن کے اٹھنے کا انتظار کر رہی ہے۔۔۔عنایا بھی تیز آواز میں اس کے کان کے پاس جا کر بولی۔۔۔
تبھی حور بیزاری سے بستر سے باہر آئی۔۔۔۔
یہ کیا اتنی خاموشی۔۔وہ جب نیچے آئی تو سب کاموں میں لگے تھے۔۔
فری ہوجا شروع ۔۔حور کے اشارے پر پھر فری نے وہ زورو شور سے ڈھول پیٹا کے پورا گھر گونج اٹھا سب کو لگ پتہ گیا کے حور اٹھ گئی۔۔۔
بھر بھر کر کوہنیوں سے اوپر ہاتھوں اور پیروں میں اس کے مہندی لگی تھیں۔جب تک وہ سوکھی نہیں تھی حور تب تک سکون سے بیٹھی تھی۔۔اس کے بعد حور نے فری کو ساتھ ملایا عنایا کو ڈھول بجانے کو کہا اور آنکھوں پے چشمہ لگا کر مایوں کی دلہن وہ ناچی۔۔۔
تو منڈا بلکل دیسی ہے میں کترینا توں سونی وے۔۔
میں فیڈپ ہوگئیاں منڈیاں سن سن کے تیرے دکھڑے وے۔۔ہو مینو کالا چشمہ ججتا ہے سوڑے مکھڑے پے۔۔
مہندی لگانے والی لڑکی منہ کھولے حیران نظروں سے پہلی بار ایسی دلہن کو دیکھ رہی تھی جو اپنی ہی شادی میں محفل جمائی ہوئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور کو مہندی کی رسم کے لئے تیار کر کے نیچے لایا گیا۔۔
ملٹی رنگ کا گھیر دار شرارہ پیلی کرتی اور گلابی دوپٹہ جس پے ملٹی ہی رنگ کا خوبصورت کام ہوا تھا پھولوں کے زیور سے سجی لمبے بالوں کو پھولوں سے لپیٹے ناک تک گونگھٹ گراے اسے اذہاد کے برابر لاکر بٹھایا گیا تھا ۔۔۔گورے ہاتھوں پے لگی حسین مہندی اذہاد کا دل دھڑکا رہی تھی وہ بھی اوف وائٹ سوٹ اور اس پر براؤن شال لئے حسین لگ رہا تھا۔۔۔
رسمیں ادا ہوئی۔۔اور پھر حور نے تیز بجتے گانے پے اذہاد کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھینچتے ہوے سامنے کھڑا کیا۔۔سب زور زور سے ہوٹنگ کرنے لگے۔۔اذہاد تو حیران سب کی شکلیں دیکھنے لگا حور نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا ہوا تھا۔۔۔وہ ہنستے ہوے گردن نفی میں ہلا کر حور کو منا کر رہا تھا۔۔مگر حور اس کی ایک نہیں سن رہی تھی سب زور زور سے تالیاں بجا رہے تھے۔۔حور نے اسے گول گول گھمایا۔۔۔
ادھے چہرے کو گھونگھٹ سے چھپاے وہ اذہاد کے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔
داؤد اور ارتضیٰ نے ان پے سے کئی نوٹ وارے۔۔کہ انہیں اب کسی کی نظر نا لگے۔۔۔
خوب ہلا گلا کرنے کے بعد کھانے کا ٹائم آیا۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے نیوالے بناتا گھونگھٹ کے اندر سے حور کو کھلا رہا تھا۔۔
ہادی آج آپ نہیں جائیں گے۔۔ورنہ میں ناراض ہو جاؤ گی۔۔وہ اس کے ہاتھ سے کھانا کھاتی لاڈھ سے بولی تھی۔۔
پھر وعدہ کرو تم آج ساری رات میرے ساتھ رہو گی۔۔اذہاد بھی اس کے روپ کا دیوانہ ہوا اپنے دل سے ہارتے اس کے آگے شرط رکھ بیٹھا۔۔۔
اذہاد اسے مسلسل مسکراتے ہوے دیکھ رہا تھا۔۔۔
پاگل ہو گئے ہیں کیا ؟؟ وہ آہستہ سے بولی ۔۔۔
ہاں تمھیں دیکھ کر۔۔وہ اس کے مہندی سے سجے ہاتھوں کو آہستہ سے تھام کر دیکھتا ہوا بولا۔۔دل اس کا انہیں لبوں سے لگانے کو چاہ رہا تھا مگر آبھی مناسب نہیں تھا۔۔۔
حور یہ ہٹاؤ نا مجھے تمھیں دیکھنا ہے۔۔وہ اس کے چہرے کو دیکھنے کے لئے بیچین ہوتا تیسری بار بولتا ہوا اس کا گھونگھٹ چھڑتا بولا حور ایک دم پیچھے ہوئی۔۔نہیں ہادی۔۔وہ ہنستی ہوئی اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔۔۔
دونوں کھانا کھانے کے ساتھ باتیں کرتے ہوے ایک دوسرے کو چھیڑ بھی رہے تھے۔۔
اذہاد کو سب جاننا تھا۔۔وہ ایک ایک چیز کو چھو کر دیکھتا اس سے تجسوس سے پوچھ رہا تھا یہ کیا وہ کیا ہے؟؟ اور حور اس کی ایک ایک بات کا جواب دے رہی تھی۔
جاری ہے
