Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21

حور ابھی کتابیں سامنے رکھتی بیٹھی ہی تھی کہ ڈور بیل ہوئی۔۔وہ کھلی کتاب یوں ہی چھوڑتی دروازے تک آئی۔۔کون ہے؟؟مگر سامنے سے کوئی جواب نہیں آیا اس نے میجک آئی سے دیکھا سامنے بھی کوئی نہیں تھا۔۔وہ کاندھے اچکاتی واپسی کے لیے پلٹی کے دروازہ ایک بار پھر بجہ۔۔حور پھر پلٹی۔۔ ارے کون ہے بھئی کوئی ہے تو بولتا کیوں نہیں؟؟اب کے وہ غصے سے بولی چہرہ پریشان کیے جانے پر لال سرخ ہو گیا تھا۔۔مگر سامنے والے نے اب بھی کچھ نہ بولنے کی جیسے خاص قسم کھائی ہوئی تھی۔۔
وہ پھر پلٹ کے جانے لگی اور دروازہ ایک بار پھر بجا اور اب حور کو خوف محسوس ہوا اسے خطرے کی گھنٹی بجتی سنائی دی۔وہ ڈر کے بھاگتی ہوئی گئی اور آزہاد کانمبرملآنے لگی ایک ہی بیل میں آزہاد نے فون اٹھایا۔۔
جی میری جان جان تمنا میں نے آپ کو ابھی یاد کیا اور آپ کا فون آگیا ویسے یار یاد تو میں آپ کو دھڑکنوں کے ساتھ کرتا رہتا ہوں۔۔۔۔۔ہادی میری بات سنیں گے آپ؟!؟حور اس کے نان اسٹاپ شروع ہوجانے پر پریشانی سے ٹوکتی ہوئی بولی۔۔۔
حور کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟؟حور کی آواز سے آزہاد کو ایک دم محسوس ہوا کہ حور پریشان اور ڈری ڈری ہوئی سی ہے۔۔اور حور نے سارا معاملہ اذہاد کو بتایا۔
میں آ رہا ہوں دروازہ لاک ہی رکھنا تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔اصل میں آزہاد خود پریشان ہو گیا تھا وہ اس سے بات کرتا گاڑی میں بیٹھا اور بھگاتا ہوا اس کے گھر پہنچا۔۔
دروازہ اب بھی ہلکی ہلکی آواز کے ساتھ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد بج رہا تھا۔۔رات اتنی بھی نہیں ہوئی تھی چہل پہل کا وقت تھا۔۔
آزہاد نے فون پر حور کو دروازہ کھولنے کو کہا۔۔حور نے جیسے ہی دروازہ کھولا سامنے آزہاد کھڑا تھا اور اس کی گود میں ایک بہت پیاری 6سال کی چھوٹی سی بچی تھی جس نے پنک کلر کی فراک پہنی ہوئی تھی۔۔۔حور حیران نظروں سے آزہاد اور گود میں چڑی اس کی بچی کو دیکھ رہی تھی۔۔
حور آپ سامنے سے ہٹے گی ہمیں اندر آنا ہے۔۔آزہاد نے شرارت سے ایکٹنگ کرتے ہوئے منہ بنا کر حور سے کہا۔۔حور سامنے سے ہٹ گئی اور آزہاد بچی کو لیے اندر آگیا۔۔وہ اسے سامنے صوفے پر بٹھا کر خود دوسرے صوفے پر بیٹھ گیااور اشاروں سے ہاتھ ہلا ہلا کر اس سے بات کرنے لگا بچی اس کے اشارے کی زبان سمجھتی زور سے ہنسی حور دونوں کو حیران نظروں سے دیکھتی بچی سے فاصلے پر اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔آزہاد کے اشاروں میں ہاتھ ہلا ہلا کر بات کیے جانے پر حور سمجھ گئی کہ بچی بول نہیں سکتی وہ ازہاد کے کیے گئے اشاروں کی زبان سمجھتی اس کی مسخری باتوں پر زور زور سے ہنس رہی تھی۔۔۔حور اس معصوم سی بچی کو دیکھنے لگی اور اب اس بچی نے بھی حور کو دیکھا اور مسکرائی۔
میں آپ کا دروازہ بجا رہی تھی مگر میں بول نہیں سکتی تھی اور آپ نے بھی دروازہ کھول کر نہیں دیکھا ورنہ آپ ڈرتی نہیں۔۔ وہ بچی اشاروں سے حور سے بات کرتی اسے سارا معاملہ سمجھا رہی تھی۔۔
بچی کی کی گئی اشاروں کی زبان حور کے ایک بھی پلے نہیں پڑی۔۔حور نے مدد طلب نظروں سے آزہاد کی طرف دیکھا۔۔اور آزہاد نے مسکراتے ہوئے ٹرانسلیٹ کرکے وہ سب حور کو بتا جو بچی نے اسے اشاروں میں کہا تھا۔۔
حور کو بے حد دکھ ہوا اس کی آنکھ میں آنسو آگئے اس نے کان پکڑ کے اشارے سے بچی سے سوری کی۔۔
اور اس معصوم سی بچی نے حور کے ہاتھوں کو پکڑ کر نیچے کیا۔۔۔
حور کیا معلوم تھا کہ ہمیشہ برے لوگ ہی دروازہ بجا کر پریشان نہیں کرتے بلکہ کچھ خاموش ننھی پریاں بھی ہوتی ہیں۔۔
حورنے رونی صورت بنا کر اب اذہاد کو دیکھا اور اذہار نے اسے آنکھ کے اشارے سے اسے چل ہونے کو کہا ۔۔اذہاد نے حور کو بتایا کہ وہ بچی ٹرسٹ سے آئی ہے جہاں بہت سے بچے یتیم پل رہے ہوتے ہیں۔ٹرسٹ کی طرف سے بچوں کو ہفتے میں ایک دن گھومنے پھرنے کی اجازت ملتی ہے۔۔جہاں وہ اپنے دوستوں کو یا کسی بھی دوردراز جاننے والے رشتہ داروں سے جاکر مل سکیں۔اور اس بچی نے حور کو ہاسپیٹل میں ہی دیکھا تھا اور وہ حور کو دیکھ کراس کی دیوانی ہوگئی تھی اور آج وہ حور سے خاص ملنے اس کے گھر آئی تھی اپنی ٹیم کے ساتھ جو اسے حور کے دروازے پر چھوڑ کر چلی گئی تھی اور ٹھیک آدھے گھنٹے کے بعد وہ ٹیم دوبارہ اس بچی کو لینے حور کے دروازے پر آنے والی تھی۔۔مگر حور کہاں جانتی تھی یہ سب نہ وہ بچی بول سکی نہ حور سمجھ سکی غلطی دونوں کی نہیں تھی۔حور نے آگے بڑھ کر بچی کو گود میں لیا اور کے گال کو چومہ۔۔حور کے محبت بھرے انداز کو دیکھ کر بچی خوشی سے جھوم اٹھی۔۔اسے حور تو شروع سے ہی بے حد پسند تھی آزہاد کی بھی وہ آج دیوانی ہوگئی تھی۔۔
تو آپ دونوں کیا کھانا پسند کریں گے میرے غریب خانے پر۔۔حور نے دونوں کو دیکھ کر کہا اور آزہاد نے وہ بات بچی کو اشارے میں بتائی۔۔
اینجیلا نے ہنستے ہوئے آزہاد کو دیکھا اور اشارے سے کہا مجھے آئس کریم کھانی ہے۔۔
اور جب حور کو پتہ چلا اینجیلا کی فرمائش تو اس نے شرمندگی سے اذہار سے کہا کہ آئس کریم تو ختم ہوگئی ہے کچھ اور۔۔۔؟؟؟؟
یہ سننا تھا کہ آزہاد ایکدم کھڑا ہو گیا۔۔کوئی بات نہیں ہم باہر چل کر آئس کریم کھاتے ہیں اور آپ کی ٹیم سے میں کہہ دوں گا کہ ہم اینجیلا کو خود چھوڑ دیں گے اوکے۔۔۔آزہاد نے اشاروں کے ساتھ یہ بات لفظوں سے بھی کہی تاکہ دونوں کو بات سمجھ آجائے۔۔اینجیلا آزہاد کی بات سن کر بے حد خوش ہوگی۔۔۔حور اندر کمرے کی طرف بڑھی اور جب باہر آئی تو ایک بڑی سی چادر اس کے جسم پر لپٹی ہوئی تھی وہ تیار تھی۔۔چلیں۔۔وہ خوشی سے بولی۔۔
اور پھر وہ تینوں مل کر ایک بڑی سی آئس کریم پالر میں آگئے۔۔ازہاد نے تینوں کے لیے آئسکریم آرڈر کی۔۔
اینجیلا ازہاد اور حور دونوں کو دیکھنے لگی اور پھر اشارے سے ازہار سے بولی۔۔حور آپ کی کون ہے؟؟
اب تھوڑا تھوڑا اینجیلا کے اشاروں کو حور بھی سمجھنے لگی تھی۔۔۔
آزہاد کوپل میں شرارت سوجی اس نے حور کی معصوم سی شکل کو ترچھی نظروں سے دیکھا جو کبھی آزہاد کو تو کبھی انجیلا کو دیکھتی۔۔۔
آزہاد نے اینجیلا سے اشارے میں کہا۔۔ یہ میری بیوی ہے۔۔ آزہاد کے جواب سے انجیلا بہت خوش ہوئی۔ وہ ہنستے ہوئے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے تالیاں بجانے لگی۔۔۔
حور نے حیران نظروں سے آزہاد کو دیکھا۔۔ ہادی آپ نے ایسا کیا کہا ہے اسے جو یہ اس طرح خوش ہورہی ہے؟؟ حور نے مشکوک نظروں سے آزہاد کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
کچھ نہیں بس ایسے ہی۔۔اذہاد نے ہنستے ہوئے حور سے کہا۔۔
نہیں مجھے بتائیں آپ دونوں میں کیا بات ہوئی ہے؟! حور نے ضدی لہجے میں اذہار سے کہا۔۔
ارے یار وہ انجیلا نے مجھ سے آئسکریم فلیور کا پوچھا تھا کہ میں نے اس کی آئس کریم کونسے فلیور کی آرڈر کی ہے؟؟ تو میں نے کہا آپ کی فیورٹ ڈاکٹر حورین کے فلیور کی آئس کریم منگوائی ہے ایک دم دودھ کی طرح گوری چٹی اور میٹھی میٹھی سی جیسے دیکھ کر دل کرے کہ ایک دم کھالو۔۔۔آزہاد نے حور کو شرارت سے جواب دیا۔۔ یہ سن کر حور کی تو ہوائیاں اڑ گئی اس نے میز کے نیچے سے ہی اذہاد کو زور سے ٹانگ ماری۔۔۔
آزہاد نے معصوم چہرہ اور سوالیہ نظروں سے حور کو دیکھا۔۔لو اب میں نے کیا کیا؟؟
آپ کو شرم نہیں آتی ایک چھوٹی سی بچی کے سامنے اس طرح سے بات کرتے ہوئے؟؟
حور اسے ہماری باتیں سمجھ نہیں آرہی ہونگی۔۔ آزہاد نے اس کے نہ بولنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا مگر حور کے ماتھے کے بل ختم نہیں ہوئے کہ اتنے میں آئس کریم سرو ہونے لگی۔۔حور نے حیران ہوکر پہلے سامنے اور پھر اذہار کو دیکھا۔۔ویٹر دو آئسکریم کپ ٹیبل پر رکھ کر گیا تھا۔۔جو ایک چھوٹا تھا اور ایک بہت بڑا۔۔چھوٹا کپ اینجیلا نے اپنی طرف کھسکا لیا تھا اور مزے سے کھانے لگی تھی۔۔۔ہادی میری آئسکریم کہاں ہے؟؟ حور نے رونی صورت بنا کے آزہاد کو دیکھا۔۔۔میری جان یہ ہے۔۔ اذہاد نے وہ بڑا کپ اس کے اور اپنے درمیان رکھا۔۔اذہار کا اشارہ ایک کپ میں سے شیئر کرکے کھانے کا تھا۔۔۔حور اور آزہاد دونوں ایک کپ میں سے کھانے لگے۔حور ہنستی ہوئی اسے چھیڑنے لگی کبھی وہ آزہاد کے آگے سے کپ ہٹا دیتی جب وہ کھانے لگتا ہے یا کبھی آئسکریم اس کی ناک پر لگا دیتی اب اذہاد بھی بدلے میں اسے تنگ کرنے لگا
اینجیلا دونوں کی شرارتوں کو دیکھتی منہ پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی اسے اس طرح ہنستے دیکھ کر حور اور اذہاد دونوں نے اس کے منہ پر بھی آئس کریم لگائی…
اینجیلا کی یہ شام زندگی کی حسین شام بن گئی تھی یادگار اس نے سوچا بھی نہیں تھا یہاں آنے سے پہلے کہ جس سے ملنے وہ جا رہی ہے وہاں اسے اپنی پسندیدہ شخصیت کے ساتھ ایک اور اچھا دوست ملنے جا رہا ہے وہ بے حد خوش تھی دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھے لگتے تھے۔۔۔۔
اذہاد اور حور انجیلا کوچھوڑنے ٹرسٹ آئے تھے وہاں کی اونر دونوں سے مل کر بہت خوش ہوئی آزاد نے ٹرسٹ کی اونر کو ایک بھاری چیک بھی دیا۔۔سوری میں کچھ نہیں لائی لیکن میں جب انجیلا سے دوبارہ ملنے آؤں گی تو میں ضرور اپنی خوشی سے کچھ یہاں کے یتیم بچوں کو دینا چاہوں گی۔۔۔حور نے بے حد شرمندگی اور افسوس سے کہا۔۔۔
آزاد نے مسکراتے ہوئے حور کو دیکھا۔۔۔ حور تم دو یا میں دوں بات ایک ہی ہے میں اور تم الگ الگ تو نہیں۔۔آزہاد نے حور کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا حور نے پلٹ کے اینجیلا کو دیکھا اور اس کے پاس آئی اور دونوں گو ٹھنے موڑ کر اس کے سامنے بیٹھ گئی۔۔انجیلا آپ کا جب بھی دل کرے مجھ سے ملنے کا آپ مجھے بس ایک فون کر دینا میں آپ سے ملنے آپ کے پاس آ جاؤں گی۔۔۔اینجیلا حور کی بات سمجھی نہیں تھی اس لیے اس نے سوالیہ نظروں سے آزہاد کو دیکھا اور اذہار بھی حور کے برابر بیٹھتا مسکراتے ہوئے انجیلا کو اشارے سے حور کی کہی بات بتانے لگا۔۔۔۔اور انجیلا خوش ہوتی اچانک سے دونوں کے گلے ایک ساتھ لگی ایک ہاتھ اذہار کے گلے اور ایک ہاتھ حور کی گردن میں ڈالے وہ دونوں کے سینے سے لگی کھڑی تھی۔۔پھر وہ آہستہ سے ان سے دور ہوئی اور ہاتھ ہلاتی اندر کی طرف چلی گئی۔۔حور آزہاد بھی کھڑے ہوئے اور اونر سے جانے کی اجازت لی۔۔۔
اذہاد سارے راستے خاموش اداس چہرہ لیے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا حور اسے دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ وہ اداس ہے۔۔حور اور آزہاد اب ایک دوسرے کو بن کہے بھی بہت اچھے سے سمجھنے لگے تھے جاننے لگے تھے۔۔دونوں ایک دوسرے کے سینے میں دل بن کر دھڑکتے تھے وقت کے ساتھ ساتھ دونوں کی محبت گہری ہوتی جارہی تھی پھر وہ کیسے اس کے چہرے کو دیکھ کر نہیں سمجھتی کہ اس کی محبت اداس ہے۔۔مگر وجہ ؟؟؟کچھ دیر پہلے تک تو آزاد بہت خوش تھا۔۔۔اچانک یہ اداسی کی وجہ؟؟حور کچھ دیر خاموش نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔۔
ہادی۔۔۔گاڑی میں چھائی اس خاموشی کو حور کی آواز نے توڑا۔۔
آزہاد نے گردن موڑ کر صرف اسے دیکھا۔۔حور نے اس پل مسکرا کے اسے دیکھا اور گردن کے اشارے سے پوچھا۔۔۔ کیا ہوا کیا بات ہے ؟؟؟
اور آزہاد نے گردن نہ میں ہلا کے اسے جواب دیا کچھ نہیں وہ بھلے منہ سے کچھ نہ کہے مگروہ جانتی تھی وہ اداس ہے مگر اس اداسی کی وجہ سے وہ انجان تھی۔۔۔۔کوئی بات نہیں کب تک چھپائیں گے مجھ سے آخر ایک دن تو ضرور بتائیں گے۔۔۔حور نے آزہاد کو دیکھتے ہوئے گردن جھکا لی اور سوچنے لگی
گاڑی ایک جھٹکے سے روکی حور گاڑی سے باہر آئی۔ جب اذہاد اس کے قریب آتا اس سے بولا۔۔۔ہور میں کل ڈیلن کو تمہیں لینے کے لیے بھیجوں گا اوکے تم چھ بجے تک ریڈی رہنا یا تم کہو تو میں تمہیں لینے آوں؟؟
حور نے ایک آئی برو اٹھا کر آزہاد کو دیکھا۔۔کس خوشی میں آپ مجھے لینے آئیں گے اور ڈیلن کو لینے بھیجیں گے؟؟ میں خود آ جاؤنگی ہاسپیٹل سے سیدھا۔۔ حور نے اترا کر کہا اور جانے لگی۔۔
جب ہی اذہاد نے اس کی چادر کاکونہ پیچھے سے پکڑ کر ہلکا سا کھینچا۔۔
ہور پلٹی۔۔۔
تم میری ایک بار کہی بات کو مانتی کیوں نہیں حور؟؟ازہاد مصنوعی غصے سے دیکھتے حور سے بولا۔۔وہ اب آہستہ آہستہ اپنی پرانی ٹون میں واپس آ رہا تھا۔۔اور حور یہی چاہتی تھی۔۔اسے اذہار شرارتیں کرتا ہنستا مسکراتا ہی ہمیشہ اچھا لکتا تھا۔۔
آپ کی بات ماننے والی ہوگئی تو مانو گی اب آپ یہ سب نازبرداری اٹھا کر مزید مجھے اور بگاڑے نہیں؟؟ہادی اگر میں بگڑ گئی نا تو بعد میں مجھے مت بولیے گا۔۔حور نے گردن آکڑاتے ہوئے اترا کر آزہاد کو جواب دیا اور اذہاد ہنس دیا۔۔
ہاں نہیں بولوں گا جب میں خود اپنی حور کی ناز برداریاں اٹھاؤں گا میں اپنی محبت میں حور کو پورا بگاڑنا چاہتا ہوں اور خود بھی بگڑنا چاہتا ہوں۔۔وہ حور کو شرارت سے دیکھ کر اب شروع ہوچکا تھا۔۔
اور حور اسے پھر سے پٹری سے اترتا دیکھ کر تیزی سے گھر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ازہاد سے اس ٹوپک پر بحث کرنا فضول تھا۔۔۔اذہار اس کی تیزی سے اندر کی طرف بڑھنے پر ہنس دیا۔۔۔۔
___________________
اوئے۔۔ادھر آ۔۔۔ازہاد خاموش بیٹھا جو بچوں کو کھیلتے کودتے دیکھ رہا تھا پیٹر کی آواز کی آتی آواز پر اس کے کان جیسے بہرے ہو گئے تھے وہ اب مزید کوئی اور فساد نہیں چاہتا تھا اسی لیے خاموش رہا۔۔مگر پیٹر کو اس کی یہ خاموشی سے جیسے آگ لگ گئی اصل میں وہ اسے اس اسکول سے ہی باہر کرنا چاہتا تھا۔۔ پیٹر اپنے لوفر دوستوں کے ساتھ اس کے قریب آیا۔اور ہاتھ میں پکڑی باسکٹ بال زور سے اس کے منہ پر ماری جس سے اذہار کی آنکھ تو بال سے بچ گی لیکن پھر بھی اس کے آنکھ کے نیچے کی جگہ لال سرخ ہوگی۔۔ازہاد کو اپنے چہرے پر تکلیف کا شدت سے احساس ہوا۔۔پیٹر کے لیے اتنا کافی تھا ازہار کو بھڑکانے کے لئے ازہاد بھناتا ہوا اٹھا اور زور سے پیٹر کے منہ پر ایک گھونسا مارا دونوں کی یہ ہاتاپائی وہاں کھڑے سارے بچوں نے دیکھی اور زیادہ وٹ اب پیٹر کی طرف تھے۔۔
پرنسپل کی عدالت پھر لگی دونوں کو سامنے کھڑا کیا گیا پیٹر اس بار پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اترا تھا اس نے اپنے لوفر دوستوں کو بیچھ میں پڑھنے سے منع کردیا تھا اور ازہار سے خوب مار بھی کھائی تاکہ وہ پرنسپل کے سامنے اچھے سے مظلوم لگے اور فیصلے کا حق پیٹر کی کورٹ میں جا کے گرے۔ جھوٹ جیت گیا تھا اور سچ ہار گیا تھا ازہاد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسکول سے فارغ کردیا گیا تھا وہ وہاں سے اپنا بیگ اٹھاتا آنسو صاف کرتا بھاگتا ھوا گھر کی طرف آیا اور ماں کے گلے لگ کے رو دیا جنت اس کی تڑپ اس کے انداز کو محسوس کرتی صاف سمجھ گئی تھی ازہار نے اپنی کتابوں سے اپنی تعلیم سے بے حد محبت کی تھی آج اس سے جھوٹ کی بنیاد پر اس کا جنون اس کے خواب سب چھین لے گئے تھے جنت بےحد تڑپ کے رودی اسے سینے سے لگا کے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزہاد نے صبح سے ہی حور کو فون کرکے اس کا دماغ کھا لیا تھا۔۔۔وقت پر آنا۔۔ لیٹ نہیں ہونا۔۔ ڈیلن آجائے گا لینے ٹائم پر۔۔۔صبح سے اس کے ستر فون آ چکے تھے حور کو ہدایت کرنے کے لئے۔۔۔۔وہ اس کی ہدایتوں کو سنتی ہر بار ہنس دیتی۔۔۔
گرینڈ پا اپنے کمرے سے نکلے تو حیران ہو کر چاروں طرف دیکھنے لگے اور پھر ان کی نظر چاروں طرف کا جائزہ لینے کے بعد اب آخر میں آکر آزہاد پر ٹھہر گئی تھی۔۔جو سات سے آٹھ بندوں کے سر پر کھڑے ہوکر انہیں سخت ہدایت کر رہا تھا۔۔۔
ہاں یہاں رکھو۔۔۔ ایسے نہیں۔۔۔ ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔اسے مت ہلاؤ۔۔۔ وہ ہٹا کر یہ رکھو ۔۔۔اذہاد کی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی۔۔۔
ازہاد۔۔۔ انہوں نے پیچھے سے اسے آواز دی۔۔۔
ازہاد گرینڈ پا کی آواز سن کر پلٹا۔۔۔آپ اٹھ گئے بہت اچھا کیا آپ کی طبیعت اب کیسی ہے؟؟ وہ ان کی طرف آتا ہوا بولا۔۔مگر انداز بتا رہے تھے وہ بہت جلدی میں ہے۔۔۔
گرینڈ پا نے اسے دیکھا۔۔ نکھرا نکھرا اور کافی ایکسائٹڈ سا نظر آتا ان کا اکلوتا نواسہ انہیں بہت پیارا لگا۔۔
میں تو ٹھیک ہوں تم ٹھیک ہو آزہاد؟؟ انہوں نے اس کے جوشیلے جذبے کو دیکھ کر کہا جس نے پورے گھر کی سیٹنگ ہی بدل کر رکھ دی تھی۔۔
مجھے کیا ہوا ہے میں بالکل ٹھیک ہوں میری حور جو آج آنےوالی ہے۔۔ وہ پوری بتیسی کی نمائش کرتا ان سے بولا۔۔۔
گرینڈ پا اسے دیکھ کر حیران ہوئے۔۔
اچھا یہ بتائیں گھر کی سیٹنگ کیسی لگ رہی ہے ؟؟میں کچھ اور بھی چینج کرواؤں کیا؟؟ اس نے اصّل مدعے پر آتے ہوئے گرینڈ پا سے سوال کیا۔۔۔
میرے خیال میں آزہاد اتنا کافی ہے اور حورین گھر دیکھنے نہیں مجھے دیکھنے آرہی ہے اور ویسے بھی تم گھر تو ایسے سیٹ کر رہے ہو جیسے وہ رخصت ہو کر آرہی ہے؟؟انہوں نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے چھیڑا۔۔
پہلے تو اظہاد ان کی بات سن کر بدمزہ ہوا پھر جب انہوں نے حور کی رخصت کی بات کی تو ازہاد کا دل خوشی سے اچھلنے لگا وہ جلدی سے ان کے قریب آتا ان کے سر کا بوسہ لیتا بولا۔۔۔آپ کی زبان مبارک گرینڈپا بس دعا کریں جلدی سے واقعی حور رخصت ہو کر میرے پاس آجائے بس آمین۔۔۔وہ بچوں سی خوشی لئے آنکھوں کو زور سے بند کرتا دعا کرتا ہوا بولا۔۔۔۔اس کے گال کا ڈمپل اب ہر وقت اس کے گال پر نظر آتا تھا جس کا حور کے آنے سے پہلے دور دور تک کوئی آتا پتہ نہیں تھا۔۔
میں حور کورخصت کر کے یہاں بالکل نہیں لانے والا اس کے لیے میں گھر نہیں پوری جگہ اس کے آس پاس کی پوری دنیا ہی بدل دوں گا آپ دیکھنا۔۔ وہ چٹکی بجاتاہوا گرینڈ پا سے بولا۔۔۔
اور ہاں پلیز گرینڈ پا پلیز حور سے کوئی الٹے سیدھے سوال مت کرئیے گا میری حور ایک قابل ڈاکٹر ہے اگر آپ اس سے الٹے سیدھے سوال کریں گے تو وہ کیا سوچے گی اس لیے میں چاہتا ہوں تھوڑا آپ کا امپریشن جمے حور پر۔۔۔ ازہار انہیں بہت آرام سے دھیان سے سمجھ آتا ہوا بولا۔۔۔
اور گرینڈ پا شرارت سے مسکراتے ہوئے سر ہلا دیئے ٹھیک ہے آزہاد میں سب سمجھ گیا۔۔۔ویسے تم کس شاہی دربار سے حور کے لیے ڈنر آرڈر کر رہے ہو؟؟ گرینڈ پا نے پھر شرارت سے سوال کیا۔۔
ازہار جاتے جاتے پلٹا اور مسکراتے ہوئے گرینڈ پا کے سامنے سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکا۔۔ ازہاد عریض دی گریٹ شیف آج اپنے ہاتھ سے حور کے لیے خود ڈنر تیار کریں گے۔۔
واقعی تم سچ کہہ رہے ہو ازہاد۔۔ گرینڈ پا بے حد خوش ہوتے ہوئے بولے۔۔۔
وہ واقعی ایک بہترین شیف تھا اس کے ہاتھ میں بے حد ذائقہ تھا مگر آزہاد کی طبیعت پہلے ایسی نہیں تھی کہ وہ اس سے فرمائش کرتے اس کے ہاتھ کے بنے کھانے کھانے کی وہ بہت کم اگر کچھ اتفاق سے بنا بھی لیتا تو وہ بہت اچھا ہوتا تھا۔۔
جی ہاں آج کا ڈنر میں تیار کرنے والا ہوں مگر بے فکر رہیں آپ کا کھانا پرہیزی ہی بناؤں گا۔۔وہ آخر میں انہیں چڑھاتا ہوا بولا۔۔
گرینڈ پا پھر بھی خوش تھے اس کے دیکھ کر اور اس کے ہاتھ کا پرہیزی ہی کھانا کھا کر کیوں کہ وہ جو بھی بناتا تھا خوب ہی بناتا تھا بھلے سے وہ پرہیزی ہی کیوں نہ ہو۔۔۔
حور جلدی جلدی تیار ہو رہی تھی اس نے ڈنر میں پہن کر جانے کے لیے بلیک کلر کی گھیردار فراک نکالی تھی جس کے سامنے گلے پر ملٹی کلر کے دھاگوں کی شیشے والی کڑھائی ہوئی تھی۔۔وہ فراک اوپر سے فٹنگ میں آکر نیچے پیروں سے تھوڑا اوپر اٹھی ہوئی تھی۔۔اور اس پر ملٹی کلر کا دوپٹا تھا جس پر بے حد حسین دھاگوں کی کڑھائی ہوئی تھی یہ سوٹ کچھ دن پہلے ہی اس کی مما نے پاکستان سے اس کے لیے بھیجا تھا جو حور کو پہلی نظر دیکھتے ہی بہت پسند آیا تھا۔عموما اتنے بھاری سوٹ وہ روٹین میں پہنتی نہیں تھی۔اس کا انتخاب ہمیشہ سادہ ہی ہوتا تھا مگر آج وہ آزہاد کے ڈنر پر انوائٹ تھی۔جس کا انتخاب عام دنوں میں بھی شاندار ہوتا تھا وہ کیسے عام سے حلیے میں اتنے خاص دن اس سے ملنے جا سکتی تھی؟؟خاص اور شاندار جگہوں پر جانے کے لئے اور بہترین لوگوں سے ملنے کے لیے ویسے ہی بننا پڑتا ہے۔۔مگر حور جانتی تھی ازہاد کو وہ ہر روپ میں اچھی لگتی ہے۔۔ازہاد کو کبھی اس کے سادھے اور عام حلئیے سے فرق نہیں پڑتا تھا۔۔مگر آج وہ اس کی خوشی کے لئے بس تھوڑا سا اہتمام کرنا چاہتی تھی۔۔
اس نے کانوں میں پہنے پرانے ٹوپس نکال کر سوٹ سے میچ کرکے چھوٹے ٹاپس پہنے ہاتھ میں گولڈ کا نازک بریسلیٹ اور دونوں ہاتھوں کی ایک ایک انگلی میں نازک سی رنگ بھی پہنی۔۔بالوں کو آگے سے ہلکا سا سٹائل دے کر پیچھے کے پورے بال کھلے چھوڑے تھے اور میک اپ کے نام پر اس نے ہلکی پنک کلر کی لپ سٹک لگائی تھی۔۔اس کی تیاری مکمل تھی دوپٹے کو اچھے سے سینے پر ڈال کر وہ شال لپیٹ کر باہر آئی۔۔۔
ڈیلن گاڑی میں بیٹھا اس کا ہی انتظار کر رہا تھا۔۔وہ خاموشی سے گاڑی سے باہر آیا حور کے لئے دروازہ کھولنے۔۔ حور نے اسے دیکھا اس کی نظریں نیچے تھیں اور وہ جیسے مکمل طور پر حور سے بیگانگی برت رہا تھا۔۔حور نے بھی اسے دیکھ کر گردن جھکا لی اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔
جان والے واقعے کو لے کر ازہاد نے حور پر جتنا غصہ کیا تھا وہ خطرناک تھا تو ازہاد کا ڈیلن کے ساتھ کیسا رویہ ہوگا؟؟حور کو موقع ہی نہیں ملا یہ سوچنے کا اور نہ ڈیلن کی اس سے پھر بات ہوئی اور نہ حور کی ہمت ہوئی کہ آزہاد کے سوئے ہوئے شیر کو جگا کر پوچھے کہ ڈیلن کے ساتھ تو آپ ٹھیک ہے نا؟؟ان کی کوئی غلطی نہیں تھی۔۔۔
حور کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ آزہاد اس واقعے کو بھول کر حور کو معاف کرچکا ہے۔۔
ڈیلن مجھے فلاور شاپ پر جانا ہے۔۔حور نے ہمت کرکے اس سے بات کی۔۔پتا نہیں کیوں وہ اندر سے ڈیلن کے لئے بہت گلٹی فیل کر رہی تھی۔۔ حور نے اس پل سوچا تھا کہ وہ ازہار سے ڈیلن کے بارے میں ضرور بات کرے گی اس کا اچھا موڈ دیکھ کر۔۔
ڈیلن نے حور کہ حکم کی فوراً تعمیل کی اور ایک فلاور شاپ پر گاڑی روک دی۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *