Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14

مجھے دیر ہو رہی ہے گھر جانا ہے۔۔وہ نظریں جھکاۓ ہوۓ بولی ۔۔
آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے آپ سے زیادہ آپ کی فکر ہے میں آپ کو گھر صحیح سلامت پہنچا دوں گا وہ اپنی خاموشی توڑتا بھاری آواز میں بولا۔۔۔
مگر مجھے بھوک نہیں لگی ہے۔۔وہ بے بسی سے اب اسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔
جی وہ آپ کی شکل اور آنکھیں صاف بتا رہی ہیں۔۔آزہاد نے بھی دوبدو جواب دیا۔۔
حور آئی برو ملاتی ماتھے پہ بل ڈالتی منہ بنا کے اسے دیکھنے لگی۔۔اور آزہاد اس کی یہ دل روبا ادا دیکھ کر زور سے ہنسا۔۔حور کی آنکھیں اسے ہنستا دیکھ کر ٹھہر سی گئی تھی وہ ہنستا مسکراتا ہوا اس کی دنیا لوٹ لیتا تھا۔۔ ویٹر نے کھانا سرو کرنا شروع کیا تو حور ہوش میں آئی۔ مگر یہ دیکھ کے تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔وہ زور زور سے گردن نہ میں ہلاتی آزہاد کو دیکھ رہی تھی۔آزہاد انہیں روکے یہ بہت زیادہ ہے۔۔
آزہاد سائیڈ لپس کی اسمائل پاس کرتا اسے دیکھتا کھڑا ہوا۔۔یہ سب تو آپ کو کھانا پڑے گا وہ بھی اکیلے سوری میں ابھی آپ کے اس قابل نہیں ہوا کہ آپ کے ساتھ بیٹھ کے کھانا کھا سکوں وہ طنز مارتا بولا اور ہاں جب تک یہ سارا کھانا آپ کھا نہیں لیتی آپ یہاں سے جا نہیں سکتی۔۔مینجر آپ یہیں رکیں گی ان پر نظر رکھنے کے لئے۔۔وہ یہ کہتا کوٹ کے بٹن بند کرتا مغرور چال چلتا وہاں سے چلا گیا تاکہ وہ سکون سے کھانا کھا سکے۔۔اور حور سامنے لگائے ٹیبل پر سات آٹھ بندوں کا کھانا دیکھ کے چکر آ گئی۔۔ آپ پلیز یہ سب لے جائیں میں یہ کھا لوں گی۔۔ وہ پا ستے کی پلیٹ آگے کرتی سر پر کھڑی مینجر کی منّت کرتی بولی۔ ۔۔۔۔
سوری میم سر کا آرڈر نہیں ہے۔۔
حور نے غصے سے اس کو دیکھا سر کی چمچی وہ یہ اردو میں بولی اور پریشان نظروں سے ٹیبل کو دیکھنے لگی۔۔
آزہاد آدھے گھنٹے بعد واپس آیا تو اس نے دیکھا کے سارا کھانا ویسی کا ویسی پڑا ہے۔۔حور نے صرف کچھ ڈشیز کو چکھا تھا۔ اس نے حیران ہو کے کھانے کو اور پھر ایک آئی برو اٹھا کے حور کو دیکھا۔۔۔
حور نے بےچارگی والی شکل سے اسے دیکھا اور آنکھوں سے بولی میں اس سے زیادہ نہیں کھا سکتی۔۔
اس کی آنکھوں کی زبان سمجھتا اذہاد بے اختیار مسکرا دیا وہ اسے اور مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتا اگے بڑھا اور ٹیبل پر رکھی اس کی کتابیں اٹھانے لگا۔حور اس کے چلنے کا اشارہ سمجھتی جلدی سے اٹھی کہ کہیں پھر یہ مغرور انسان کا دماغ نا گھوم جائے۔۔۔
اذہاد اس سے آگے چلتا لمبے ڈاگ بھرتا ریسیپشن تک گیا۔حور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی اس کے پیچھے آکے کھڑی ہوگی۔وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ اس کی نظروں سے ہوتا دل تک پہنچ رہا تھا۔ آزہاد اس کی طرف پلٹا مسکراتے ہوئے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھامتا آگے بڑھنے لگا حور اس کے ساتھ چلتے ہلکا سا ڈگمگائی مگر اس نے کوئی توجہ نہیں دی۔۔
آزہاد دو قدم آگے بڑھا ہی تھا کہ جب اس کی نظر اس کے شوز پر پڑی جس کی ایک ڈوری کھلی ہوئی تھی۔۔
وہ فورا اس کی طرف موڑا ایک گوٹھنا موڑے زمین پر بیٹھتا وہ اس کے جوتوں کے ڈوریاں باندھ رہا تھا۔۔
وقت جیسے تھم سا گیا حور کی دھڑکن رک سی گئی تھی وہ اس لمحہ اپنے باغی دل سے ہار گئی تھی۔۔
ڈھیر ساری نمی ایک دم سے اس کی آنکھوں میں جمع ہوئی جسے حور نے بہت آسانی سے چھپا لیا۔۔
وہاں کام کرتا سارا اسٹاف۔۔باہر سے اندر اور اندر سے باہر جاتے لوگ سب حیران ہوتے یہ منظر دیکھ رہے تھے وہ بے حد قیمتی کپڑوں میں حسین شہزادوں جیسی شان والا انسان ایک چھوٹی سی لڑکی کے سامنے جھکا زمین پر بیٹھا اس کے جوتوں کی ڈوریاں باندھ رہا تھا۔۔وہ اکثر بزنس میٹنگ کے لیے اس ہوٹل میں آتا جاتا رہتا تھا جس کے آگے پیچھے چلتے بہت سے لوگ اس سے بات کرنے کے لئے ترستے تھے مگر وہ بےحد مغرور انسان جو ان کی طرف ایک نظر دیکھنا تک گوارا نہیں کرتا تھا جس کی قابلیت کے دماغ کے دولت اور عزت کے پوری دنیا میں چر چے تھے۔جسے بزنس کا جادوگر مانا جاتا تھا۔آج وہ ایک انسان لڑکی کے جوتوں کی ڈوریاں باندھ رہا تھا۔۔اس ہوٹل میں کام کرتا ہر بندہ آزہاد کی شخصیت سے بہت متاثر تھا وہ اسے حیران ہوتے اپنی جگہ جمعے کھڑے دیکھ رہے تھے۔۔۔
مگر اذہار کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ کون اسے دیکھ رہا ہے کیا سوچ رہا ہے؟؟وہ مسکراتا ہوا حور کو دیکھتا کھڑا ہوا اور اس کا نرم ہاتھ پھر سے اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیتا شان سے چلنے لگا۔۔
حور کی آنکھ سے ایک خاموش آنسو کا قطرہ گرا وہ اس کی اتنی فکر کرنے پر اتنی محبت پر ٹوٹ گئی تھی۔۔
_____________
اذہاد نے اپنی شاندار گاڑی کا دروازہ اس کے لیے کھولا
اور حور آہستہ سے گردن جھکائے گاڑی میں بیٹھ گئی اس کا دماغ سن ہو چکا تھا۔اس نے آہستہ سے پیچھے سیٹ پر اپنا سر رکھ دیا اور آنکھیں بند کر لی۔۔
آزہاد دروازہ بند کرتا گھوم کے اپنی سیٹ کی طرف آیا اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے اس نے حور کو دیکھا۔
حور۔۔۔ محبت سے پکارے جانے کا انداز حور کو خوب سمجھ آ گیا تھا۔۔۔
ہممم۔۔۔حورنے لال آنکھیں کھولتے اسے ایک نظر دیکھا۔۔۔
زیادہ تھک گئی ہو؟؟ سوال میں فکر تھی اس کی۔۔
ہاں اذہاد میں بہت تھک گئی ہوں۔۔اس نے آنکھیں پھر بند کرلی۔۔۔
اور آزہاد جس نے اس کے ایک پل کے لیے آنکھیں کھولنے پر سارے جواب پڑھ لئے تھے خاموشی سے گاڑی سٹارٹ کردی۔۔
(بغیر اس کو بتائے نبھانا پڑتا ہے۔۔۔
یہ عشق راز ہے اس کو چھپانا پڑتا ہے۔۔۔
میں اپنے ذہن کی زد سے بہت پریشان ہوں۔۔۔
تیرے خیال کی چوکھٹ پے آنا پڑتا ہے۔۔۔)
حور اور آزہاد کے بیچ سارے راستے پھر کوئی بات نہیں ہوئی۔اذہاد حور کے دروازے کے آگے گاڑی روکتا باہر نکلا اور خور کی طرف آتے اس کے لئے دروازہ کھولا وہ اس کے چہرے سے جان گیا تھا کہ وہ کتنا ضبط کیے بیٹھی ہے مگر حور نے ابھی کوئی اسے ایسا اختیار ہی نہیں دیا تھا کہ وہ اسے سمیٹ لیتا۔۔
اسے بکھرنے نہیں دیتا۔۔وہ بھی اس سے نظریں چراتا اس کی کتابیں اسے پکڑائی۔۔
ہور خاموش گردن جھکائے اس کے ہاتھ سے کتابیں لئے گھر کی طرف چل دی۔۔
آزہاد مٹھیوں کو بند کیے بےچین نظروں سے اس کی پشت کو دیکھ رہا تھا۔
دونوں کے دل جب ساتھ دھڑکتے تھے ایک دوسرے کے لئے پھر یہ کیسی دیواریں تھی جو اسے اس کی طرف بڑھنے سے روک رہی تھی۔وہ کیوں نہیں اپنے اندر کی آواز سن رہی تھی۔۔۔۔
حور نے گھر کا دروازہ کھولا اور آگے بڑھتے اسنے صرف ایک نظر پلٹ کے اظہار کو دیکھا اور دروازہ بند کر دیا۔۔۔
اس پل اذہار نے زور سے اپنی آنکھیں بند کیں اور گردن آسمان کی طرف اٹھائی۔۔
اور میری کتنی برداشت کا امتحان باقی ہے ؟؟اس نے اوپر آسمان کو دیکھتے سوال کیا۔۔جہاں رات کی بڑھتی سیاہی صاف بتا رہی تھی کے ابھی تو محبت کی شروعات ہے۔۔محبت کے بڑے سخت امتحان ہیں آزہاد خود کو اور مضبوط کر لو۔۔۔
حور تھکے قدموں سے آگے بڑھتی صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔اس نے آنکھیں بند کر کے سر صوفے کی پشت سے ٹکایا۔۔۔
محبت کو ایک بے اختیار جذبہ کہا جاتا ہے۔۔یہ کب کیسے کہاں اور کس سے ہو جائے اس بارے میں کوئی پیشن گوئی نہیں کی جاسکتی اس حقیقت کو جو لوگ سمجھتے ہیں وہ سکھی رہتے ہیں اور جو نہیں سمجھتے وہ اپنے ساتھ دوسروں کی بھی زندگی درہم برہم کر لیتے ہیں۔۔محبت یہ نہیں دیکھتی کہ کون کیسا ہے کیا ہے نہ امیری نہیں غریبی دیکھتی ہے محبت مٹی کے بنے رنگ برنگی چہرے دیکھ کر بھی نہیں ہوتی بلکہ روح سے ہوتی ہے کبھی کبھی خوبصورت چہروں سے بھی نہیں ہوتی اور ہوجائے تو کسی عام سے چہرے سے بھی ہوجاتی ہے بنا دیکھے بھی ہوجاتی ہے۔۔۔ایک چھوٹے سے دل چھو لینے والے عمل سے بھی ہو جاتی ہے محبت ایک احساس کا رشتہ ہے خوشبو کی طرح ۔۔۔۔کسی جادو کی طرح ۔۔۔۔
محبت کو زمین کے فاصلوں یا فیصلوں سے مطلب نہیں ہوتا اسے رہنے کے لیے چھوٹا سا پر خلوص دل مطلوب ہوتا ہے اور جہاں سے اپنی مطلب کی چیز ملے وہ جلد بسیرا ڈال لیتی ہے۔۔۔۔۔
حور کی آنکھوں سے گرم گرم سیال بہہ رہے تھے۔۔۔
ایک ریگستان تھا دور دور تک نہ چھاؤں تھی نہ پانی نہ کوئی زح روح وہ بھاگ رہی تھی وہ اس ڈر سے رک نہیں رہی تھی کہیں جکڑی نہ جائے اسکے پاؤں تھک چکے تھے ہونٹ سوکھ چکے تھے پاؤں میں مسلسل چلنے کی وجہ سے آبلے سے پڑ گئے تھے۔۔
وہ اب اور نہیں بھاگ سکتی تھی وہ نڈھال ہوتی جیسے ہی گرنے لگی تو دو مضبوط ہاتھوں نے اسے تھام لیا گرنے نہیں دیا۔۔وہ حیران ہوتی سر اٹھا کے جیسے ہی اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتی۔۔۔
حور کی پٹ سے آنکھ کھلی وہ لمبا سانس کھینچتی اٹھی وہ پسینہ پسینہ ہوتی تیز تیز سانس لے رہی تھی محبت کا انکشاف آسان نہیں۔۔۔۔
وہ اس وقت اپنے ہوش میں نہیں لگ رہی تھی وہ اٹھی اور بھاگتی ہوئی واش بیسن کی طرف آئی نل کھول کے زور زور سے منہ پر پانی مارنے لگی مگر یہ پانی بھی اس کے گرتے آنسوؤں کو روک نہیں پا رہی تھی اس نے شیشے میں خود کو دیکھا وہ خود کو دیکھتی ڈر کے پیچھے ہوئی لال ہوتی آنکھیں بکھرے بال چہرے کی تھکن یہ تو محبت والوں کا حال ہوتا ہے۔۔۔کیا مجھے اذہاد سے محبت ہو گئی ہے۔۔۔۔؟؟؟
وہ شیشے میں خود کو دیکھتی اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتی سوال کر رہی تھی۔۔اور جب ہی دل نے زور زور سے دھڑکتے ہوئے اسے محبت ہو جانے کی مبارک باد پیش کی۔۔وہ نڈھال قدموں سے چلتی اپنی ہار کا اعتراف کرتی بیڈ پر گئی اور آنکھیں بند کر دی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزہاد تین سال کا ہو چکا تھا جنت نے چھوٹی سی عمر میں ہی اسے اسلام کے متعلق چھوٹی چھوٹی باتیں سکھانی شروع کی تھی وہ جب بھی نماز پڑھتی تو اسے دیکھ کے ویسے ہی کرنے کی کوشش کرتا تھا زیاد اور جنت اسے دیکھ دیکھ کے جیتے تھے وہ اپنی معصوم سی شرارتوں اور باتوں سے دونوں کی زندگیوں کی رونق تھا۔۔۔
اور پھر ایک دن اچانک ایڈم کی جنت سے ملاقات ہوگی ایڈم جنت کو دیکھ کے رو دیا وہ بھی اس کے گلے لگی رودی کچھ بھی ہو جنت اس کی اولاد تھی اور ایڈم اس کا باپ تھا۔۔۔۔۔
یہ تمہارا بیٹا ہے لیزا؟؟؟ وہ خوشی سے زیاد کے کاندھے پر سوے اذہاد کو پیار کرتا بولا۔۔
جنت نے آنسو صاف کرتے گردن ہاں میں ہلائی۔۔
ایڈم اب بھی جنت کو اس کے پرانے نام سے پکار رہا تھا۔۔۔
بہت پیارا ہے وہ اسے چومتے ہوئے بولا تم دونوں پر گیا ہے۔۔۔
ماما کیسی ہیں ڈیڈ ؟؟ ایڈم کے مسکراتے لب بجھ گئے۔۔ماریہ اب اس دنیا میں نہیں رہی لیزا۔۔۔۔
اور جنت ماں کی مرنے کی خبر سن کے رو دی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہور چلو اٹھو لنچ کرتے ہیں بیلا ہنستے ہوئے اس کے پاس آتی بولی جو صبح سے خاموش بنا کوئی بات کیے اپنے کام میں لگی ہوئی تھی۔۔
مجھے بھوک نہیں ہے ۔۔حور نے آہستہ سے جواب دیا۔۔
بیلا نے حیران ہوتے ہوئے اسے دیکھا یہ ہور کہہ رہی ہے کہ اسے بھوک نہیں۔۔۔ حور کیا ہوگیا ہے ؟؟؟آج تم کیسے کہہ رہی ہوں کہ بھوک نہیں جب کہ تم چیختی آتی تھی میرے پاس کے بیلا چلو بھوک لگی ہے لنچ ٹائم ہوگیا ہے۔۔وہ ہنستے ہوئے اسے بول رہی تھی۔۔۔
چلو نخرے نہیں کرو وہ اس کا ہاتھ پکڑتے کھینچنے لگی۔۔
بیلا میں نے کہا ہے کہ مجھے بھوک نہیں پلیز جاؤ۔۔حور نے سخت اور تیز آواز میں اسے کہا۔۔
بیلا آنکھیں پھاڑے پہلے اس کے بات کرنے کے انداز کو دیکھتی رہی۔حور ایسی تو نہیں تھی وہ بہت نرم طبیعت کی مالک تھی۔۔بیلا خاموشی سے چلی گئی۔۔
حور نے اس کے جانے کے بعد سر پکڑ لیا۔۔دل اور دماغ کی جنگ میں اس کی طبیعت کافی چڑچڑی ہو گئی تھی۔۔ یہ میں نے کیا کر دیا۔۔۔ اف۔۔۔۔وہ اس کے جانے کے بعد پچھتائی۔۔وہ اٹھتی ہوئی اس کے پاس گئی سے منانے۔۔
آئی ایم سوری بیلا۔۔۔ وہ پیچھے سے آتی حور کی آواز پر پلٹی۔۔
مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے میں نے تمہارے ساتھ غلط کیا ایم سوری وہ شرمندگی سے گردن جھکائے اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔
کوئی بات نہیں میری جان بیلا ہور کو گلے لگاتی بولی۔کیا کوئی پریشانی ہے حور تم مجھے بتا سکتی ہو۔۔
نہیں بس گھر والوں کی یاد آ رہی تھی وہ افسردگی سے بولی۔۔
میں سمجھ سکتی ہوں گھروالوں سے دور اکیلے رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔۔بیلا اسے حوصلہ دیتی بولی اور حور اسے دیکھتی مسکرادی جس میں اس کی آنکھیں اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور آج مجھے جلدی جانا ہے کچھ کام ہے پلیز تم اپنا خیال رکھنا ٹھیک ہے بیلا اس سے یہ کہتی چلی گئی اور ہور اسے جاتا دیکھ کے ایک گہرا سانس کھینچتی مڑ گئی۔۔۔۔
ہور آج تھوڑی لیٹ ہوگئی تھی ایک تو ویسے ہی مشکلوں نے زندگی میں تماشے لگائے ہوئے تھے اوپر سے سر درد۔۔اسے وقت کا احساس ہی نہیں ہوا جب گھڑی دیکھی تو حیران رہ گئی رات کے آٹھ بجے رہے تھے۔وہ اتنی لیٹ ہوگئی تھی سر پر ہاتھ مارتی جلدی سے سامان اٹھاتی گاڑی کی طرف بھاگی سر دباتی آنکھوں کو مسلتی وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی۔۔تھوڑی دور جا کے اسے یاد آیا کیوں نہ کھانے پینے کی کچھ چیزیں خریدلے اب لیٹ ہو ہی گئی ہے تو یہ کام بھی کرلے وہ گھر سے دور دوسرے جانے والے راستے پر بنے ایک اسٹور کی طرف آگئی وہ جب کچھ چیزیں خرید رہی تھی تو اسے ایسا لگا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہے عجیب چپکتی ہوئی نظریں خود پر محسوس کرتی وہ پلٹ کر ادھر ادھر دیکھنے لگی مگر اسے کوئی نظر نہیں آیا شاید یہ میرے دماغ کا فتور ہے آج کل کچھ بھی اچھا نہیں ہورہا میرے ساتھ وہ بڑبڑاتی ہوئی چیزیں لیتی آگے بڑھ گئی۔۔
اچھا خاصہ چلتی گاڑی ایک دم جھٹکے کھانے لگی اور رک گئی حور کا دل ایک دم بیٹھ گیا جتنا وہ جلدی گھر جانے کی کوشش کر رہی تھی اتنی مصیبت نازل ہورہی تھی۔۔اس نے غصے سے زور سے اسٹیرنگ پر ہاتھ مارا۔۔۔
راستہ سنسان تھا کسی قسم کی ٹیکسی ملنے کا بھی امکان نہیں تھا بالوں کو ایک ہاتھ سے پیچھے کرتی غصے سے سر باہر نکالتی روڈ پر دیکھنے لگی۔۔گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی مگر بے کار۔۔۔
وہ ابھی یہ سوچ رہی تھی کہ کیا کرو کسی سے لفٹ لے لو ؟؟کے پیچھے سے ایک کار جس میں لڑکے بھرے ہوئے تھے شور مچاتے ہوئے جارہے تھے حور ایک دم گاڑی میں نیچے جھک گئی اور آیتیں پڑھنے لگی۔۔وہ لڑکوں سے بھری گاڑی زن سے اس کے آگے سے گزر گئی
وہ اوپر ہوتی شکر کرنے لگی اب ایک ہی حل تھا جس سے اس کی عزت بھی محفوظ رہتی اور وہ گھر بھی صحیح سلامت پہنچ جاتی۔۔
دماغ کی بات پر دو حرف بھیجتی دل کی پکار پر لبیک کہتی اس نے فون نکالا اور اذہاد کو ملایا۔۔
اذہار جو اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا جیب میں بجتا موبائل دیکھ کے رکھا اور فون نکالا تو دیکھا ہرٹ بیٹ کے نام کی کال آ رہی تھی اس نے جلدی سے فون کان سے لگایا۔۔۔
حور۔۔۔۔
اذہاد میری گاڑی خراب ہوگئی ہے میں اکیلی ہوں پلیز ہیلپ۔۔۔۔وہ اس کی آواز سنتے ہی فوراً بولی۔۔۔
ایسا کیسے ہوسکتا تھا اذہاد کی حور اس سے ہیلپ مانگے اور وہ دوڑتا ہوا نا جائے۔۔۔
حور گاڑی کو اچھے سے لوک کرکے بیٹھے میں ابھی پہنچ رہا ہوں آپ کے پاس۔۔۔
حور نے گردن ہاں میں ہلاتے گاڑی کو اچھے سے لوگ کیا۔۔
وہ اب بھی لائن پر ہی موجود تھا۔۔۔
حور پریشان نہیں ہونا میں ہوں نا ابھی میں پہنچ رہا ہوں۔۔ وہ اپنی مرسیڈیز بھگا رہا تھا۔۔
ہور سے زیادہ وہ اس کے لئے پریشان تھا۔۔اس نے ایک منٹ کے لئے بھی فون کان سے نہیں ہٹایا تھا۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں آزہاد اس کے پاس تھا وہ اس کی گاڑی کا شیشہ بجاتا جھکا۔۔
حور جو سیٹ کے نیچے چھپی تھی اذہاد کو دیکھتے اسے ایسا لگا جیسے انجان دنیا کی بھیڑ میں کوئی اپنا مل گیا ہو وہ فورا اسے دیکھتی سیدھی ہوئی گاڑی کا دروازہ کھولتی بھاگ کے اس کی طرف آئی۔۔
آزہاد بھی تیزی سے اس کی طرف آیا
__________________
آزہاد کے ماتھے پر بل تھے۔۔۔
اتنی رات کو باہر کیا کر رہی تھیں آپ؟؟ وہ اسے دیکھتے پوچھ رہا تھا آنکھوں میں غصے کی ہلکی سی جھلک تھی۔۔
حور نے رونی صورت بنا کر گردن جھکالی۔۔۔
میں کچھ پوچھ رہا ہوں حور۔۔وہ اب ذرا نرمی سے بولا۔۔۔
میں لیٹ ہوگئی تھی وقت کا پتا نہیں چلا پھر کچھ چیزیں لینی تھی اس لیے لیٹ ہو گئی۔۔۔ وہ گردن جھکائے اسے وجہ بتا رہی تھی۔۔
آزہاد کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو اسے بالکل حق نہیں تھا حور سے بازپرس کرنے کا اور حور جو کسی کو وجہ بتاتی ناممکن۔۔۔۔
مگر وہ اذہاد تھا حور کا اذہاد جسے حور نے حق دیا تھا کہ وہ اس پر غصہ بازپرس کرسکے۔۔
اور آزاد جسے دنیا چاہے ساری اکھٹی ہو کے مشرق سے مغرب میں چلی جائے اس کی بلا سے اسے کوئی فرق نہیں پڑنا تھا مگر وہ اذہاد کی حور تھی۔وہ اس وقت رات کو گھر سے باہر تھی تو کیوں؟؟ اس سے آزہاد کو فرق پڑتا تھا۔
میرا سوچنا تیری ذات تک۔۔
میری گفتگو تیری بات تک۔۔
ناتم ملو جو کبھی مجھے۔۔
میرا ڈھونڈنا تجھے پار تک۔۔
میں نے اپنا سب کچھ گنوا دیا۔۔
تیری نفرتوں سے پیار تک۔۔
کبھی فرصتیں جو ملے تو آ۔۔
میری زندگی کے حصار تک۔۔
میں نے جانا کے میں کچھ نہیں۔۔
تیرے پہلے سے تیرے بعد تک۔۔۔
اذہاد خاموش نظروں سے اسے دیکھتا اگے بڑھا اسکی گاڑی کھولی اس میں سے سارا سامان نکالتا اپنی گاڑی میں رکھا اور حور کے لئے اگے کا دروازہ کھولتا اسے دیکھنے لگا۔۔
حور جو معصوم سی شکل بنائے اذہاد کو دیکھ رہی تھی جلدی سے اگے بڑھتی سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔
اذہاد نے ایک گہرا سانس لے کر دروازہ بند کیا۔۔اور گھوم کر اپنی سیٹ کی طرف آیا۔۔
حور آپ کو پتا ہے نا رات گئے باہر رہنا ٹھیک نہیں۔۔وہ سامنے دیکھتا اس سے بات کر رہا تھا۔۔اور حور اسے بس ایک ٹک دیکھے جا رہی تھی۔دل اسے دیکھ کے زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔ساری جو ٹینشن۔۔ سر کا درد۔۔چڑچڑاپن تھا وہ اذہاد کو دیکھ کے اسکے وجود کے احساس سے غائب ہی ہو گیا تھا۔۔وہ ہلکا سا مسکراتی اسے دیکھ رہی تھی اسے بولتا سن رہی تھی۔۔ اذہاد کی فکر کرنا اسے اچھا لگ رہا تھا۔۔اس کا غصّہ کرنا اسے اچھا لگ رہا تھا۔۔آج اسکی ہر بات پر حور کو اس پے پیار آرہا تھا۔۔
اذہاد اس کی خاموشی نوٹ کرتا اس کی طرف دیکھا تو وہ جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ایک دم نظریں پھیر کے باہر دیکھنے لگی۔۔اذہاد حیران ہوتا اس کے بدلتے انداز کو نوٹ کر رہا تھا اسے ایک نظر دیکھ کے پھر سامنے نظریں کر لی۔۔حور نے آہستہ سے پھر گردن گھما کے اذہاد کو دیکھا جو خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا۔۔حور کو ہونٹوں پے پھر تبسم بکھرا اسے دیکھ کے۔۔۔
اذہاد کیا آپ میرے ساتھ ایک کپ کوفی پیینگے؟؟حور نے ڈرتے سوال کیا۔۔
اذہاد نے اس کے سوال پر زور دار بریک ماری اور گردن گھما کے حیران آنکھوں سے حور کو دیکھا اگر سیٹ بیلٹ نا لگا ہوتا تو دونوں کا سر زور سے سامنے لگنا تھا۔۔
حور نے دھڑکتے دل سے اذہاد کو دیکھا جو اسے ہی بار بار پلکیں جھپکتا دیکھ رہا تھا۔۔
گلا کھنکارتا خاموشی سے دوبارہ گاڑی اسٹارٹ کرتا سامنے دیکھنے لگا۔۔اب اذہار کو آہستہ آہستہ سمجھ آرہا تھا۔۔
(لہجہ بتا رہا ہے۔۔
مجھے چاہنے لگی ہو تم )۔۔
ایک خوشگوار مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی۔۔
پھر گردن اس کی طرف کرتا ایک آئی برو اٹھاتا اسے دیکھا۔۔ہممم۔۔۔۔یہ چاند آج کہاں سے نکلا ہے ؟؟
حور نے اسے نا سمجھی سے دیکھا!!!اور اذہاد اس کی معصومیت پر فدا ہوگیا۔۔۔
جادو چل گیا تھا تیر نشانے پر لگا تھا۔بس اب ایک دیوار تھی انکے بیچ وہ تھا اظہار جو اب حور کو کرنا تھا۔۔اذہاد اپنی محبت کا اظہار کر چکا تھا اب اسے حور کی محبت کے اقرار کا انتظار تھا۔۔۔
یہاں ایک بہت اچھی کافی شاپ ہے میں ویسے کافی پسند نہیں کرتی کیونکہ مجھے چاے پسند ہے۔۔
اذہاد اسے اس طرح بولتا دیکھ کر بہت خوش تھا۔۔یہ اس کے لئے بہت خوشگوار احساس تھا کے حور اس سے اپنے دل کی باتیں کر رہی ہے ان کے بیچ اب آہستہ آہستہ سب کچھ ٹھیک ہونے جا رہا ہے۔۔۔
وہ کافی شاپ پر گاڑی روکتا باہر آیا اور اسکی طرف کا دروازہ کھولا۔۔حور اسکے چہرے کی مسکراہٹ دیکھتی باہر آئی۔ اس کی مسکراہٹ حور کو بہت پسند تھی جو اسے اپنی طرف کھینچتی تھی قاتل مسکراہٹ۔اسکی ایک سائیڈ کی سمائل جس سے اس کے گال پر خوبصورت گڑھا پڑتا تھا۔۔۔
(تم جو ہنستے ہو تو پھولوں کی ادا لگتے ہو۔۔
اور جو چلتے ہو تو بادصباء لگتے ہو۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *