Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44
مسلسل بجتی فون کی گھنٹی سے حور کی آنکھ کھلی ورنہ انکی صبح تو 11 بجے بھی نہیں ہوئی تھی۔۔ہیلو۔۔فون کا گلا گھونٹتے ہوے حور نے بامشکل اپنی آواز نکالی۔۔۔
واہ محترمہ لگتا ہے کل کے سیر سپاٹوں کی تھکن آبھی تک اتری نہیں۔۔۔عنایا کا طنزیہ لہجہ حور کے ہوش اڑا گیا۔۔
آخر مصیبت کس بات پر ہے۔۔۔میرے دیر تک سونے پے یا میرے سیر سپاٹوں پہ؟؟وہ بھی جل کر بولی تھی۔۔
تمہارے ابھی تک میرے گھر نہ پہنچنے پہ۔۔شاید اپنا کل کا کیا ہوا وعدہ تم بھول گئی ہو۔۔عنایا کا جتاتا ہوا انداز سن کر حور فورن بلینکیٹ ہٹا کر بستر سے باہر نکلی۔۔
سوری سوری سوری میری بہن میں بھول گئی تھی اسکوٹی دینے کے بدلے میں نے آج تم سے تمہارے گھر آنے کا وعدہ کیا تھا میں بس ابھی پہنچتی ہوں۔۔اوکے اللہ حافظ۔۔
فون رکھتے کے ساتھ وہ جلدی جلدی تیار ہونے لگی۔۔ڈیڑھ گھنٹے میں تیار ہو کر وہ نیچے آئی تھی۔۔۔جہاں اذہاد داؤد اور ارتضیٰ کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کر رہا تھا۔۔
لو ہماری چڑیا کی نیند پوری ہوگئی۔۔ارتضیٰ مسکراتے ہوئے حور کو دیکھتے بولے۔۔۔ مگر یہ کیا غور کرنے پر پتہ چلا وہ چڑیا اڑنے کے لئے پورے طریقے سے تیار ہو کر نیچے آئی ہے۔۔۔
چلو ہادی جلدی تیار ہو ہمیں فورا ماموں کے گھر جانا ہے۔۔حور ارتضیٰ کی بات کو ان سنی کرتی ازہاد کے پاس آئی تھی۔۔اس کے ہر انداز سے لگ رہا تھا کہ اسے بہت جلدی ہے۔۔
ازہاد منہ کھولے حور کو دیکھنے لگا۔۔
حور اتنی بھی کیا جلدی ہے بیٹھو ناشتہ کرو پھر جانا۔۔عظمیٰ حور کی آواز سنتی کچن سے باہر نکلتی حور کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔
اچھا مما آپ میرا ناشتہ ریڈی کریں۔۔اور ہادی آپ جلدی سے تیار ہو جائیں میں جب تک ناشتہ کر رہی ہو۔۔وہ اسے تنبیہ کرتی ہوئی کچن میں چلی گئی۔۔
آزہاد نے خاموش اور بے چارگی والی نظروں سے داؤد ارتضیٰ کی طرف دیکھا۔۔
جنہوں نے الٹا اسے دیکھ کر کاندھے اچکا دیے تھے۔۔جس کا مطلب تھا ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتے۔۔۔
اور کوئی چارہ نہیں تھا اس کے علاوہ کے اذہاد ایک اچھی شوہر کی طرح خاموشی سے حور کے حکم کی تعمیل کرتا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور کل تک تو کوئی پلان نہیں تھا ماموں کے گھر جانے کا پھر یہ اچانک؟؟ آزہادِ نے گاڑی چلاتے ذرا کی ذرا نظر حور پر ڈالتے سوال کیا۔۔
ہاں مینے اسکوٹی کے بدلے عنایا سے گھر آنے کا وعدہ کیا تھا۔۔حورنے عام سے انداز میں جواب دیا۔۔
مجھے آبھی بتا دو تم نے کون کون سے وعدے کئے ہیں اور کیا کیا پلان ہے تمہارے آگے کے؟؟ ازہاد نے ایک آئی برو اٹھاکر حور کی طرف دیکھتے ہوے کہا۔۔
ازہاد کی بات سن کا حور نے ناراض نظروں سے آزہاد کی طرف دیکھا۔۔
جس پر وہ بے اختیار مسکرایا تھا۔۔۔
میں زیادہ دیر وہاں نہیں بیٹھوں گا۔۔تم مجھے ہمیشہ اکیلا چھوڑ کر غائب ہو جاتی ہو۔۔
ہاں تو وہاں بیٹھ کر باتیں کرنا۔۔اب عنایا اور میں اپنی آپس کی باتیں سب کے سامنے بیٹھ کر تو نہیں کر سکتے نا۔۔۔
میں وہاں ان کے ساتھ اکیلا بیٹھ کر کیا باتیں کروں؟؟حور کی بات سن کر ازہار نے چڑ کر سوال کیا۔۔
مجھے کیا پتا آپ کچھ بھی کر لینا۔۔وہ لاپروائی سے بولتی اب باہر کے نظاروں کی طرف منہ موڑ چکی تھی۔۔جس پر اذہاد اب اسے مسلسل گھور رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم مامی۔۔۔۔اندر آتی حور نے سامنے کھڑی مامی کو گلے لگاتے ہوئے سلام کیا۔۔
وعلیکم السلام میرا بچہ۔۔کیسی ہو ؟؟ انہوں نے بھی اسے پیار کیا۔۔
سلام دعا کے بعد حور اور عنایا تو غائب ہوگئیں۔۔اور بچارہ آزہاد اکیلا رہ گیا جسے مامی کمپنی دینے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔۔
وہ کیا ہے نہ بیٹا اس ٹائم پر آپ کے ماموں اور افنان جاب پر ہوتے ہیں۔۔فریحہ بھی یونیورسٹی گئی ہوتی ہے میں اور عنایا پورے گھر میں اکیلے ہوتے ہیں۔۔وہ تھوڑی شرمندہ سی زبردستی مسکراتی ہوئیں اسے بتا رہی تھیں۔۔اتنا شاندار داماد پہلی بار گھر آیا تھا اور اتفاق سے اس کو کمپنی دینے کے لئے کوئی بھی مرد گھر میں موجود نہیں تھا۔۔
اذہاد بھی ہلکا سا مسکراتا ہوا موبائل نکال کر اس سے چھیڑ چھاڑ میں لگ گیا۔۔وہ اب بھلا مامی سے کیا بولتا۔۔
عقیلہ خاموش نظروں سے اذہاد کا جائزہ لینے لگیں۔۔
انہوں نے بھی تو اپنے رب سے اپنی بچیوں کے نصیب میں ایسے ہی ہم سفر کی دعا کی تھی۔۔اتنی ہی محبت کرنے والا قابل اور خوش شکل انسان وہ اپنی بچیوں کے لیے بھی چاہتی تھی۔۔مگر اللہ جانے ان کی بچیوں کے نصیب میں کیا لکھا تھا۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے آزہاد کی طرف دیکھتی اٹھیں۔۔میں تمہارے لئے کافی بنا کر لاتی ہوں۔۔یہ کہتی وہ کچن میں چلی گئیں۔۔
اور اذہاد جو ان کی نظروں کا فوکس خود پر صاف محسوس کر رہا تھا ان کے جانے کے بعد شکر کا سانس لیا۔۔
حور اور عنایا کمرے میں گھسی اللہ جانے کون سے جہاں کی باتیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنوں زور سے ہنسی۔۔۔۔
حور تو نے بھائی کی جان نکلنے میں کل کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔عنایا ہستی ہوئی بولی۔۔
نہیں یار یہ سب میںنے ہادی کے لئے ہی کیا۔۔اس کی خوشی کے لئے۔۔حور ہلکی سی مسکان لئے دھیمے لہجے میں بولی۔۔
اچھا تو تھوڑی دیر بیٹھ میں ابھی آئی۔۔عنایا یہ بول کر باہر چلی گئی۔۔
حور اس کے کمرے کا جائزہ لینے لگی۔۔کہ جب ہی اسے تکیہ کے نیچے کوئی چیز نظر آئی۔۔اس نے تکیا ہٹا کر دیکھا تو وہاں ایک خوبصورت گہرے نیلے کلر کی جیلد والی ڈائری نظر آئی۔۔
حور لاپرواہی سے ڈائری اٹھاتی اسے دیکھتی آہستہ سے کھولا۔۔مگر جو چیز اس کی نظروں نے دیکھا اسے دیکھ کر وہ حیرتوں کے جہاں میں کھو گئی۔۔
جلدی سے اس ڈائری کو بند کرتی وہ اسے اپنے بیگ میں چھپا گئی۔اور فورا بھاگتی ہوئی نیچے آئی۔۔
چلو ہادی ہمیں دیر ہو رہی ہے۔۔اس کے چہرے کی ہوایاں اڑتی دیکھ کر آزہاد فورا کھڑا ہوا۔۔۔
ارے ایسے کیسے جا رہے ہو تم دونوں کھانا وغیرہ سب کچھ تیار ہے۔۔مامی حور کی جلد بازی دیکھ کر بولی۔۔عنایا بھی کچن سے باہر آگئی تھی۔۔
نہیں مامی ہادی کو بہت ضروری کام ہے مجھے آبھی یاد آیا یہ تو بھول گئے تھے۔۔کھانا ہم پھر کبھی کھا لیں گے۔۔وہ ہادی کو آنکھ سے اشارہ کرتی بولی۔۔
ہاں۔۔۔ وہ۔۔حور ٹھیک کہہ رہی ہے۔اذہاد حور کے اشارے کو سمجھتا فورا گڑبڑا کر بولا۔۔
عنایا تو ہکا بکا دونوں کی شکلیں دیکھ رہی تھی۔۔
ٹھیک ہے عنایا میں پھر آوگی برا مت ماننا۔۔وہ اس کے گلے لگتے یہ کہتی جلدی سے آگے بڑھ گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتا حور تمھیں جانے کی بھی اتنی جلدی تھی اور آنے کی بھی چکر کیا ہے؟؟ وہ جو کسی گہری سوچ میں گم تھی آزہاد کی بات پر چونکتی اسے دیکھنے لگی۔۔
پہلے کسی اچھے سے ریسٹورینٹ میں چل کے مجھے کھانا کھلاؤ۔۔۔حور نے چمکتی آنکھوں سے آزہاد کو دیکھتے شرط رکھی۔۔
تبھی اذہاد نے گاڑی فور ایک اچھے سے ریسٹورینٹ کی طرف موڑ لی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
عنایا حور کی جلد بازی اور انداز پے حیران ہوتی کمرے میں آتی دھپ کر کے بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔
پھر تقیہ ہٹا کر اپنی ڈائری ڈھونڈنے لگی مگر وہ تو وہاں تھی ہی نہیں۔۔۔
ارے یہی تو رکھی تھی میں نے کہاں گئی؟؟ اب وہ پریشان ہوتی پورا کمرا چھاٹنے لگی۔۔مگروہ وہاں ہوتی تو ملتی نہ وہ تو حور کے بیگ میں تھی۔۔
عنایا کی جان پر بن آئی تھی۔۔
یا اللہ وہ ڈائری گھر میں سے کسی کے ہاتھ نہ لگی ہو۔۔رونی سی صورت اور دھڑکتے دل کے ساتھ وہ دعائیں مانگنے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو اب یہ سسپینس کریٹ کرنا بند کرو اور مجھے جلدی سے بتاؤ بات کیا ہے؟؟ آزہاد کو حور کے دماغ میں چلتی بہت بڑی فلم کا اندازہ ہلکا ہلکا ہو رہا تھا۔۔
وہ دونوں شہر کے ایک بہت بڑے ریسٹورینٹ میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔
حور صرف اذہاد کو دیکھ کر مسکراے جا رہی تھی۔۔
آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ آپ کی حور کے ہاتھ کیا لگا ہے؟؟ وہ جوشیلے انداز میں بولی۔۔
وہ حور کے ڈرامہ کریٹ کرنے پر اب بیزار ہونے لگا تھا۔۔
تبھی حور نے بیگ سے ایک ڈائری نکالی اور میز پر رکھتے آزہاد کی طرف کھسکائی۔۔۔
آزہاد نے پہلے حیران نظروں سے اس ڈائری کو دیکھا پھر حور کی شکل دیکھی۔۔۔
یہ کیا ہے؟؟دونوں آئی برو کو آپس میں ملاتے سوال کیا گیا۔۔
حور نے اذہاد کے سوال پر اپنا سر پیٹ لیا۔۔
یہ ایک ڈائری ہے ہادی اسے کھول کر دیکھو۔۔
میں بھی جانتا ہوں یہ ایک ڈائری ہے مگر ہے کس کی؟؟تم بنا پوچھے کسی کی ڈائری اس طرح سے اٹھا کر لے آئیں۔۔یہ غلط بات ہے۔۔وہ اب ناراض نظروں سے اسے دیکھتا ہوا سمجھا رہا تھا۔۔۔
یہ عنایا کی ڈائری ہے۔۔جس کو اٹھانا ایک بالکل غلط بات نہیں ہے۔۔بلکہ اللہ تعالی نے تو مجھے وسیلہ بنایا ہے۔۔کہ اس ادھورے کام کو میں مکمل کروں۔۔وہ دونوں آئی برو کو اٹھاتی مزے سے بولی۔۔۔
اب تم کیا کرنے لگی ہو؟؟ آزہاد نے فکرمند ہوکر پوچھا۔۔
اور تب ہی حور نے ساری بات آزہاد کو بتائی۔۔
وہ تو منہ کھولے اس کی تمام باتوں سن رہا تھا۔۔
حور میں اس سب میں تمہارا ساتھ بلکل نہیں دینے والا سوری۔۔وہ دونوں ہاتھ اٹھاتا ہوا صاف دور ہٹتے بولا تھا۔۔
حور نے منہ بنا کر اذہاد کو دیکھا۔۔۔کوئی بات نہیں میں اکیلی کافی ہوں۔۔وہ بھی حور تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔
داؤد کمرے میں بیٹھے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے جب حور نے اندر سر کرتے کمرے کا جائزہ لیا۔۔
دادو میں آجاؤں۔۔۔اس نے مسکراتے ہوے اجازت مانگی۔۔
ارے میرا بچہ آگیا۔۔آجاؤ تمھیں کب سے اجازت مانگنے کی ضرورت پڑ گئی۔۔وہ بھی ہنستے ہوئے بولے تھے۔۔
تبھی وہ آہستہ سے چلتی ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
دادو مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔ہاتھوں کو مسلتے ہوے بات کو آگے بڑھانے کا سرا ڈھونڈا۔۔۔
ہاں بولو میرا بچہ۔۔۔داؤد بھی اب سیدھے ہو کر بیٹھے تھے۔۔
اتنے میں سعدیہ بھی اسکے برابر آکر بیٹھ گئی۔۔
دادو عنایا میں کیا کمی ہے؟؟ دھڑکتے دل سے معصوم سا سوال کیا گیا۔۔۔
کیا مطلب میرا بچہ میں سمجھا نہیں۔۔۔جب کہ سعدیہ نے ایک دم داؤد کو دیکھا تھا۔۔۔
دادو مطلب صاف ہے۔۔وہ بھی اسی خاندان کی بچی ہے آپ کے مرحوم بھائی کی پوتی ہے۔۔تو آپ کی بھی تو پوتی ہوئی نا۔۔تو پھر عنایا کا کیوں نہیں سوچا آپ نے؟؟اس کے لفظوں کا مطلب اب صاف صاف سمجھ آنے لگا تھا داؤد تو نظریں جھکا گئے۔۔
ہم جو خاندان والے ہوتے ہیں نا صرف نام کے رشتوں میں جڑے ہوتے ہیں آپنوں سے بڑھ کر اہمیت باہر والوں کی بیٹیوں کو دیتے ہیں کیوں کیا خاندان کی بچیوں کو اپنانے پر ہم پر کوئی داغ لگ جائے گا۔۔وہ بیچاریاں اس آس میں بیٹھی ہوتی ہیں کے کھبی کسی رشتےدار کی نظر ان پر اپنے قابل بیٹے کے لئے پڑ جائے گی اور وہ باہر کے انجان لوگوں میں جانے سے بچ جائیں گی۔۔مگر ہم تو ان کو چھوڑ کر غیروں کی بیٹیوں کو دھوم دھام سے بیاہ کر لاتے ہیں جب کہ حق پہلے خاندان کی بیٹیوں کو دینا چاہیے۔۔
یہ بات بھی سہی ہے کے کچھ پروبلمس ہیں خاندانوں میں شادی کرنے کے۔۔مگر ان کا بھی اب سلیوشن آگیا ہے۔۔۔
داؤد اور سعدیہ حور کی پوری بات سننے کے بعد مسکراے۔۔اس کی بات ان کے دل پر لگی تھی۔۔
وہ آگے بڑھے اور اس کے سر کو چوما۔۔
میں کل ہی شازیب سے پہلے بات کروں گا۔۔وہ مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ تھامتے ہوئے بولے۔۔
حضور کی تمام بات سن کر سعدیہ بھی مطمئن تھی۔۔
عنایا انہیں بھی حور کی طرح پیاری تھی۔۔
اس سے اچھی اور کیا بات ہوسکتی ہے کہ گھر کی بچی گھر میں ہی آئے گی باہر نہیں جائے گی نہ جانے باہر کے لوگ کیسے ملے جو ان کی بچی کی قدر ویسی نا کر سکے۔۔۔
حور مسکراتی ہوئی کمرے سے باہر آئی تھی۔۔جب اس کی نظر سامنے کھڑے اذہاد پر پڑی تھی۔۔
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیے تھے۔۔تبھی حور آگے بڑھتی آہستہ سے اس کے سینے سے لگی تھی۔۔
کیا جادو کرتی ہو مسز جو ہر کوئی تمہاری بات مسکرا کر اتنی آرام سے مان جاتا ہے۔۔وہ اس کے وجود کے گرد اپنے بازوں کا حصار باندھے پوچھ رہا تھا۔۔۔
اور حور مطمئن ہوتی اس کے سینے سے لگائے صرف مسکرا رہی تھی۔۔
________________
شاہزیب داؤد کے بلانے پر فورن چلا آیا تھا۔۔اور انکے کمرے میں ان کے سامنے بیٹھا تھا۔۔کمرے میں دونوں نفوس کے علاوہ اور تیسرا کوئی نہیں تھا۔۔
کیا بات ہے دادو آپ نے صبح فون کر کے مجھ سے ملنے کی جیسی خواہش کی میں فورن نکل پڑا اور آپ کے پاس پوھنچ گیا۔۔وہ انکی گہری خاموشی کو محسوس کرتا بولا۔۔دل بار بار کسی خاص بات کے ہونے کا احساس دلا رہا تھا۔۔
داؤد کچھ پل خاموش اس کا چہرا دیکھتے رہے پھر ایک گہرا سانس لیتے اس سے بات کرنے کا آغاز کیا۔۔
شاہزیب میں اگر تم سے کچھ مانگو تو دو گے ؟؟ ویسے میرا منہ تو ہے نہیں تم سے کچھ مانگنے۔۔۔
دادو یہ آپ کیا بول رہے ہیں۔۔آپ کو مانگنے کا نہیں مجھے حکم کرنے کا حق حاصل ہے۔پلیز ایسا مت کہا کریں آپ حکم کرے جان بھی حاضر آپ کے لئے۔۔وہ تڑپ کر انکی بات کاٹتا ہوا بولا تھا۔۔
میں عنایا بیٹی کو تمہاری دلہن کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔۔حور میری ایک بچی اگر تمہاری قسمت میں نہیں تھی تو کیا ہوا میری دوسری بیٹی تو ہے نا۔۔وہ نم آنکھوں سے شاہزیب کو دیکھتے ہوے بول رہے تھے۔۔۔
اور شاہزیب وہ تو سانس روکے آہستہ چلتی دھڑکنوں کی رفتار سے گھبرا تے ہوے چہرہ جھکا گیا تھا۔۔یہ کیسی آزمائش ہوگی کے ٹوٹے ہوے دل سے کہا جائے گا کے اس میں کسی کو آباد کرو۔۔اس سے کوئی پوچھو تو کیا وہ اس قابل بھی ہے کہ کسی کو محبت کر سکے یا کسی کے دل میں اپنا ٹوٹا وجود لے کر جگہ بنا سکے گا؟؟
جیسی آپ کی خوشی دادو۔۔۔وہ جھکے سر سے بولا تھا۔۔آپنوں کی خوشیوں سے بڑھ کر نہیں تھا اس کا ٹوٹا دل۔۔ اگر اس کے اپنے خوش تھے اس کا بسا گھر دیکھنے میں تو وہ یہ خوشی ان سے چھیننا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
داؤد ابراہیم اس کا جواب سن کار وارے نیارے ہو گئے۔۔اور جب یہ خبر سارے جہاں کو پتہ لگی تو خوشیوں کی لہر دوڑ گئی ہو جیسے۔۔۔
تو بس یہ طے ہوا ہم لوگ ماموں کے گھر اچانک رشتہ لے جا کر انہیں سرپرائز کریں گے۔۔۔حور عنایا کی کوئی بھی بات بیچ میں لاے بغیر بڑے آرام سے سارا معملہ سیٹ کر گئی تھی۔۔
اس کی بات سن کر سب بہت خوش ہوے اور فون پر مدثر سے سارے معملات طے کرنے کے بعد اچھا سا ایک دن سیٹ کر کے ان کی پوری فیملی کے ساتھ مل کر عنایا کے گھر باقاعدہ رشتہ لے جانا طے ہوا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں کسی کا رشتہ وغیرہ کروانے کے لئے جانے والا بلکل نہیں حور معذرت کے ساتھ۔۔آپ سب لوگوں کے ساتھ جائیں۔۔مجھے بلکل اس کام کے لئے فورس مت کریں۔۔۔
کل سب عنایا کے گھر رشتہ لے جانے والے تھے مگر ایک اذہاد وہاں جانے کے لئے بلکل نہیں مان رہا تھا۔۔اور حور کب سے اسے اسی بات کے لئے منائے جا رہی تھی۔۔
آخر کیوں ہادی سب جا رہے ہیں آپ یہاں اکیلے کیا کریں گے میرا بھی دل نہیں لگے گا آپ کے بینا۔۔وہ مناتے ہوے اسے تھوڑا ایکسٹرا ہی بول گئی تھی جس پے اذہاد نے اسے حیران ہوکے گھورا تھا۔۔
ٹھیک ہے میں 11 بجے تک صبح تیار ہو کے اپکا نیچے ویٹ کروں گی اگر آپ نا آئے تو میں آپ سے ناراض۔۔۔یہ کہتی وہ تیز تیز قدموں سے اندر چلی گئی۔۔اور ازہاد ایک بار پھر حور کی محبت میں برا پھنسا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک کلر کی لمبی گھیر دار فراک جس کے نیچے اور دوپٹے کے چاروں طرف بہت پیارا چمکتا ہوا کام ہوا تھا۔۔پہنے اپنے لمبے بالوں کو کھول کر ایک سائیڈ پر ڈالے سمپل سی ہونٹوں پر ہلکا گلابی شیڈ لگاے وہ بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔
حور جو اذہاد کی گاڑی کے پاس کھڑی اس کے نیچے آنے کا انتظار کر رہی تھی سب کو اپنی اپنی گاڑی کی طرف بڑھتا دیکھ کر سچ میں پریشان ہونے لگی۔۔
حور بیٹا کیا آپ ہمارے ساتھ چلیں گی یا اذہاد کا ویٹ کریں گی۔۔گاڑی میں بیٹھتے داؤد نے حور سے کہا۔۔
نہیں نہیں آپ لوگ جائیں میں ہادی کے ساتھ ہی آوں گی۔۔ہلکی سی مسکان ہونٹوں پر لاتی بولی۔۔۔
اور پھر سب آہستہ آہستہ ایک کے پیچھے ایک کر کے نکل گئے حور سب کو جاتا ہوا دیکھنے لگی اس کے ہونٹ اداسی کی وجہ سے مرجھا گئے تھےکہ جب ہی وہ پلٹی تو اذہاد کو سامنے سے آتا دیکھا۔۔۔اداس چہرہ جیسے پھر سے گلاب کی طرح کھل گیا تھا۔۔
آنکھوں پر بلیک گوگلز لگاے بلیک ہی شاندار ڈریسنگ کیے ہاتھ میں گرے کلر کا کوٹ لئے وہ حور کی طرف لمبے قدموں سے چلتا آرہا تھا۔۔
حور کو اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کسی سلطنت کا بے تاج بادشاہ ہو جو اپنے تخت کی جانب مغرور چال چلتا آرہا ہو۔۔اس کے دل کی دھڑکنیں تیز تیز دھڑکنے لگی۔۔
اذہاد اس کے قریب آتا کھڑا ہوا۔۔
چشمے بدور۔ ۔حور اسے دیکھ کر کھلکھلائی۔ ۔
کیا کہا؟؟اذہاد کے تو سر سے گزر گئے اس کے الفاظ۔۔
کچھ نہیں چلیں سب جا چکے ہیں۔۔یہ کہتی وہ جیسی پلٹنے لگی تو اذہاد نے بے اختیار اسے کمر سے پلٹ کر سامنے کیا اور گاڑی سے لگایا۔۔حور تو ہکا بکا سی منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔۔
آبھی کہاں حور آبھی تو آپ کی تعریف کرنا باقی ہے۔۔
وہ اس کے چہرے کے تھوڑا قریب آتا اس کی حسین بڑی بڑی نیلی آنکھوں میں دیکھتا ہلکا سا مسکرا کر مخمور لہجے میں بولا۔۔
ہادی بہت ہوگی تعریف ہم لیٹ۔۔۔حور نے دونوں کلائیوں کو اس کے سینے پر سیدھی رکھتے اسے پیچھے ہٹایا کے تبھی اذہاد نے اس کی دونوں نازک کلائیوں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیتے اسے اور قریب کیا۔۔
حور کی کچھ دیر پہلے کی ساری تیزی ہوا ہوگی تھی اذہاد کے بدلے انداز کو دیکھ کے۔۔۔وہ زور سے آنکھیں میچ گئی تھی۔۔ اذہاد اس کی حسین صورت کو بیحد قریب سے کچھ پل دیکھ کر دل میں اتارتا اس کے ماتھے پر آہستہ سے لب راکھ گیا۔۔
وہ جیسے ہی دور ہوا حور نے فورن سے آنکھیں کھولی اور ایک گہری سانس لی جو اس کے قریب آنے پر اندر ہی روک گئی تھیں۔۔
حور نے پلٹ کر اذہاد کو دیکھا جو گاڑی کا دروازہ کھولے اسے شرارتی مسکراہٹ چہرے پر سجاے دیکھ رہا تھا۔۔
حور منہ بگاڑتی اسے دیکھتی گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔
اذہاد گاڑی چلاتے کبھی اسکے بالوں کو چھیڑتا کبھی اس کے چہرے پے اپنی انگلیاں کے لمس کا جادو بکھیرتا تو کبھی اس کے ہاتھوں کو زور سے تھام کر لبوں سے لگاتا۔۔
حور اس کی حرکتوں سے تنگ آتی اس کا ہاتھ بار بار پکڑ لیتی تھی مگر وہ ہاتھ چھوڑاتا پھر اسے چھیڑ نے لگتا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عقیلہ نے جب اپنے دروازے سے اندر داؤد ابراہیم کے لشکر کو آتا دیکھا تو انہیں تو اپنی آنکھوں پر یقین نا آیا وہ حیران پریشان سی ہنستے مسکراتے چمکتے دمکتے چہرروں کو دیکھ کر جہاں تھیں وہیں کھڑی رہ گئیں۔۔
یاسمین اور عظمیٰ دونوں آگے بڑھتی ان کے گلے لگیں۔۔بھابھی کیا ہو گیا آپ تو کھوہی گئیں ہمیں دیکھ کر۔۔یاسمین ہنستی ہوئی بولی۔۔
عقیلہ فورن ہوش میں آئیں اور آگے بڑھتے داؤد کو اور سعدیہ کو سلام کیا۔۔
اتنی ساری آوازوں کو سن کر عنایا بھی کچن سے باہر آگئی جو دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی۔۔
وہ سب کو پہلی بار ایک ساتھ آتا دیکھ حیران تھی۔۔
عنایا آؤ بیٹا سلام کرو۔۔حیران پریشان کھڑی ماں نے بچی کو ہوش دلایا۔۔
وہ شرمندہ سی ہوتی سب کو سلام کرنے لگی۔۔کے جب ہی داؤد نے اس کا ماتھا چومتے اسے سینے سے لگایا۔۔ان کے پیار بھرے انداز پر ماں بیٹی حیران ہی رہ گئیں۔۔۔
تبھی حور آگے بڑھی۔۔آؤ میری گڑیا رانی تمھیں تھوڑا سجادوں ماسی والے حلیے میں شگون کی باتیں کرنا ٹھیک نہیں۔۔وہ اسے چھیڑتی ہوئی گھسیٹ کر وہاں سے لے گئی۔۔
آپ لوگ سب آکر بیٹھے میں آبھی عنان کو فون کر کے بلاتی ہوں۔۔۔عقیلہ گھبرائی گھبرائی سی بولتی عنان کو فون کرنے چلی گئیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عنان اور افنان تو داؤد کی بات سن کر بہت خوش تھے۔۔شاہزیب ہیرا تھا۔۔جس کے ساتھ اس کا نصیب جڑتا بیشک وہ فخر کرتا۔۔۔دیکھا بھالا بچہ تھا نا کا تو۔ کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہونا تھا۔۔عقیلہ تو آنکھوں میں آنسوں لئے آبھی تک بے یقین تھی کے اللہ نے ان کی اتنی جلدی سن لی۔۔وہ خوشی سے رو پڑی۔۔
تبھی سعدیہ آگے بڑھتی انہیں سینے سے لگا گئیں۔۔
تایا ابو عنایا آپ کی ہی بیٹی ہے جب چاہیں اسے رخصت کر کے لے جائیں۔۔عنان نے اتنی پیاری بات کری کے سب ہی خوش ہوتے ایک دوسرے کا منہ میٹھا کرنے لگے۔۔
اذہاد دلچسپ نگاہوں سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔۔کہاں وہ آنا نہیں چاہ رہا تھا اور اب اس کے چہرے سے مسکراہٹ جا ہی نہیں رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور اسے تیار کرنے کے دوران سب بتاتی بھی جا رہی تھی۔۔کہ وہ سب اسے شاہزیب کے لئے مانگنے آئے ہیں۔۔
حور کی ساری بات سن کر عنایا کی آنکھوں میں پانی تیزی سے جمع ہونے لگا۔۔اپنی قسمت پر اسے یقین نہیں آرہا تھا۔۔جس کی محبت میں وہ پچلے 10 سالوں سے گرفتار تھی جس کا علم اس نے کبھی دل کے علاوہ کسی کو نا ہونے دیا آج وہ انسان کتنی آرام سے کسی اور کے نصیب سے ہوتا اس کے نصیب سے جڑا تھا۔۔۔۔
وہ بے اختیار حور کا ہاتھ تھام کر رو پڑی۔۔جو اس کے دل کی کر بات کی اب گواہ تھی۔۔حور نے اسے سینے سے لگا لیا۔۔
خوشیوں کے موقعے پر بھی کوئی روتا ہے کیا؟؟ وہ نم آنکھوں سے ہنستے ہوے بولی تھی۔۔
عنایا بولی کچھ بھی نہیں مگر اس کی آنکھیں حور سے خاموش زبان میں بہت کچھ کہہ رہی تھیں۔۔اس نے سچ مچ ایک دوست اور سب سے بڑھ کر ایک بہن ہونے کا حق نبھایا ہے۔۔۔
حور کیا تم نے میری ڈائری۔۔وہ ادھوری بات چھوڑتی دیکھنا چاہتی تھی حور کیا کہتی ہے۔۔
کون سی ڈائری؟؟ حور صاف انجان بنتی لاعلمی کا اظہار کرتے بولی۔۔۔
جس پر عنایا خاموش ہو گئی۔۔
چلو اب نیچے چلیں سب دلہن کا انتظار کر رہے ہونگے۔۔وہ اسے چھیڑتی ہوئی بولی۔۔
عنایا کو نیچے لانے کے بعد سب نے باقاعدہ چھوٹی سی رسم ادا کر کے اسے شاہزیب سے ہمیشہ کے لئے جوڑ دیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عنان بیٹا اب آپ لوگ ہمارے گھر آئیں یعنی ارتضیٰ کے ایسا کرو کل ہی چکر لگا لو میں چاہتا ہوں حور اور عنایا دونوں کی شادی ساتھ ساتھ ہو جائے اور بچیاں اپنے گھر کی ہو جائیں۔۔داود جانے سے پہلے عنان سے اکیلے میں بولے تھے۔۔
ضرور تایا ابو میں کل ہی آجاؤں گا اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی کے بیٹیاں جلد رخصت ہو کر اپنے گھر چلی جائیں۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے بیٹا ہمیں اجازت دو۔۔۔
اور اس طرح ایک اور جوڑا زمین پر بننا طے ہوا جس کی قسمت دور کئی آسمانوں پر پہلے سے جڑ چکی تھی۔۔۔
جاری ہے
