Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49
گھر میں سب جلدی سو گئے تھے۔۔کل حور کی بارات جو تھی بہت کام تھا۔۔
کوئی دبے قدموں سے اوپر چھت کی طرف اندھیرے میں ہلکی روشنی کی مدد سے دیکھتا جا رہا تھا۔۔جہاں کوئی اس کا 1 گھنٹے سے انتظار کر رہا تھا۔۔
وہ جیسے ہی اوپر آئی اذہاد بے اختیار مسکرایا۔۔گالوں میں پڑتا ڈیمپل اپنی فتح کا جشن منانے لگا۔۔۔
یس میں جیت گیا حور۔۔وہ آستینوں کو کوہنیوں تک فولڈ کیے سینے پر ہاتھ باندھے خوش ہو رہا تھا۔۔
شرارے کو دونوں ہاتھوں سے اوپر اٹھاے وہ دھپ دھپ چلتی اس کے قریب آئی۔۔
ہادی ٹائم دیکھا ہے۔۔کسی کو پتہ لگا تو؟؟وہ ناراض ناراض سی گھونگھٹ کے اندر سے بولی تھی۔۔
تبھی اذہاد نے آہستہ سے آگے بڑھ کر اس کے چہرے پر گرا گھونگھٹ اٹھا دیا۔۔۔
وہ ایک ٹک اس کے حسین سادے سے حسن کو دیکھنے لگا۔۔جس کا رنگ سونے کی طرح دمک رہا تھا جیسے بادلوں کے ہٹنے سے چاند اپنی چمک لئے ہر طرف روشنی بکھیرتا ہے۔۔۔
حور بھی اسے دیکھ کر مسکرا دی۔۔۔
اذہاد کے جانے کی دھمکیوں سے ڈر کر وہ بڑی مشکل سے چھت پر آئی تھی۔۔
حور نے اذہاد کو ایک ٹک خود کو دیکھنے پر آگے بڑھ کر اس کا چہرہ ہاتھ میں لے کر ہلایا۔۔
اذہاد مسکراتا ہوا اس کے چہرے کو تھام کر آنکھوں کے قریب کرتا دیکھنے لگا۔وہ اسے آج سب سے حسین لگ رہی تھی۔۔
کتنی ہی دیر ایک دوسرے کو دیکھنے کے بعد اذہاد حور سے بولا۔۔ایک چیز دکھاؤ؟؟ حور نے سوالیہ نظروں سے اذہاد کو دیکھا۔۔اذہاد نے جھٹ سے جیب سے والٹ نکالا اور اس میں سے حور کی وہ تصویر نکالی جس میں وہ بہت چھوٹی سی تھی دو چٹیاں باندھے ہنس رہے تھی۔۔
حور منہ کھولے اذہاد کو دیکھنے لگی۔۔یہ کہاں سے لی آپ نے؟؟ وہ جیسی ہاتھ بڑھا کر وہ تصویر لینے لگی آزہاد نے تبھی جھٹ سے وہ ہاتھ پیچھے کر لیا۔۔
ہادی میں اس میں اچھی نہیں لگ رہی پلیز دے دیں۔۔وہ منہ بسورتی بولی۔۔۔
مگر مجھے اس میں تم بہت پسند ہو یہ میرے دل کے قریب ہے۔۔وہ دوبارہ اس تصویر کو اپنے والٹ میں رکھتا بولا۔۔
ویسے ایک بات تو بتاؤ بڑی حسین ہوتی جا رہی ہو کیا راز ہے؟؟ وہ اپنے دونوں ہاتھ اس کے کمر کے گرد باندھے اسے خود سے لگاے اس کے کانوں کے قریب جھکتا بولا۔۔
میں جا رہی ہوں حور اس کی نظروں کی تپش اور اس کے بے حد قریب ہونے پر گھبراتی ہوئی بولی تھی۔۔
ایسے کیسے؟؟ وہ بھی مضبوط حصار قائم کیے ہوے شرارت سے اسے دیکھ رہا تھا جس سے نکلنا حور کے لئے بہت مشکل تھا۔۔
وہ اب بری پھنسی تھی۔۔تبھی کچھ سوچ کر حور کی آنکھیں چمکی۔۔۔
ہادی مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔وہ معصوم سی شکل بناتی بولی تھی۔۔
اذہاد گندا سا منہ بنا کر اسے دیکھنے لگا۔۔بیویاں مرتی ہیں اپنے شوہر کے منہ سے خود کی تعریف سننے کے لیے اور انہیں ایسے وقت میں بھوک لگ گئی۔۔۔
حور میں اتنے خوبصورت لمحے کو ضایا نہیں کر سکتا سوری۔۔وہ منہ بناتا ناراض ہوتا بولا۔۔
ہادی پلیز۔۔۔وہ اتنے دل روبہ انداز سے اس سے بولی کہ اذہاد پھر انکار ہی نا کر سکا۔۔
اچھا کیا کھاؤ گی۔۔اذہاد ہار مانتا ہوا اس کے پھولوں والے ٹیکے کو ٹھیک کرتا پیار سے بولا۔۔۔
پیزا۔۔۔۔اب حور فل موڈ میں آچکی تھی۔۔
حور اسے بننے میں بہت ٹائم چاہیے۔۔اذہاد اس کی فرمائش سن کر پریشان ہوتا بولا۔۔
گھر میں کون بنا رہا ہے؟؟ حور اس کی پریشانی دور کرتی بولی۔۔
پھر؟؟؟ اب اذہاد اور پریشان ہوا اس کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر۔۔
ہم باہر جا کر کھائیں گے۔۔۔حورنے چٹکیوں میں اس کا مسئلہ حل کرتے جواب دیا۔۔
نہیں بلکل نہیں۔۔اب اذہاد حور سے خود دور ہٹا تھا۔۔
کیسے شوہر ہو بیوی کی اتنی سی بات نہیں مان سکتے۔۔وہ ناراض ناراض سی دونوں ہاتھ کمر پر رکھتی بولی۔۔
حور اپنا حلیہ دیکھا ہے۔۔ایسے میں تمھیں کبھی باہر نہیں لے کر جاؤ گا۔۔۔وہ اس کا سجادہجا روپ دیکھ کر گھور کر بولا۔۔۔
اس کا بھی حل ہے۔۔وہ فورن نیچے گئی اور ملازمہ کا ٹوپی والا عبایا جو سر سے پیروں تک اسے ڈھانپے رکھا ہوا تھا پہن کر آئی۔۔
چلیں؟؟ وہ آزہاد کے سامنے آتی خوشی سے بولی۔۔
پہلے تو آزہاد نے اسے اوپر سے نیچے تک حیران ہو کر دیکھا پھر جو ہنسا تو ہنستا ہی چلا گیا۔۔۔
حور کتنی دیر اس کے ہنسنی کے روکنے کا انتظار کرتی رہی پھر تنگ آکر اس کا ہاتھ تھام کر خود نیچے اترنے لگی۔۔
اذہاد اور حور جلدی سے گاڑی میں بیٹھے وہ اب بھی وقفے وقفے سے حور پر ایک نظر ڈالتا ہنس دیتا۔۔
حور نے گیٹ سے باہر گاڑی آگے بڑھانے سے پہلے بابا کو چپ رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے اذہاد کی طرف دیکھا۔۔چلیں۔۔۔ اور تبھی اذہاد نے گاڑی فل سپیڈ میں آگے بڑھا دی۔۔
دونوں اپنے اس کارنامے پر کتنی دیر ہنستے رہے۔۔۔
اذہاد نے گاڑی پیزا شاپ پر روکی جہاں حور بھی گاڑی سے نکلنے کے لئے آگے بڑھی ہی تھی جب اذہاد نے پیار سے اس کا ہاتھ تھاما۔۔۔
وہ پلٹ کر اذہاد کو دیکھنے لگی۔۔کیا ہوا؟؟
حور میری جان آپ یہی میرا انتظار کریں میں آپ کو کہیں نہیں لے کر جانے والا۔۔میں نہیں چاہتا کے آج کے دن کوئی میرے ہاتھوں قتل ہو۔۔وہ پیار سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتا اسے بچوں کی طرح پچکارتا ہوا بولا تھا۔۔
ہادی یہ تو غلط بات ہے۔۔میں نے یہ اتنا بڑا عبایا پہنا تو ہے۔۔وہ صدمے سے نڈھال ہوتی بولی تھی جو اتنی دور آنے پر اب اندر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے والی تھی ۔۔
حور نہیں۔۔۔یہی ویٹ کرو میرا میں ابھی پیزا لے کر آیا۔۔۔یہ کہتا وہ گاڑی سے باہر نکل گیا۔۔
حور منہ بناتی اس کا گاڑی کے اندر بیٹھی انتظار کرنے لگی۔۔۔
اذہاد دروازہ کھولتا کاؤنٹر پر آیا تھا۔۔پیزا شاپ ایک ایسے علاقے میں بنا ہوا تھا جہاں امیر لوگ اپنی بڑی بڑی گاڑیوں میں ہی آسکتے تھے۔۔
عموما آج شاپ پر عام دنوں جیسا رش نہیں تھا۔۔
بس کونے میں رئیس زادیوں کی ایک ٹولی بیٹھی ہوئی تھی۔۔جو رات کے اس وقت بینا کسی ڈر اور خوف کے اکیلی باہر نکلی عیاشیاں کر رہیں تھیں۔۔۔
کاؤنٹر پر کھڑا لڑکا آزہاد کو دیکھ کر فورن اس کے قریب آتا آرڈر لکھا۔۔۔سر آپ تھوڑا انتظار کریں آپ کا آرڈر ابھی تیار ہوجائے گا۔۔۔وہ آزہاد کو سامنے رکھی کرسیوں کی طرف اشارہ کرتا بولا۔۔۔
نہیں میں یہی ٹھیک ہوں آپ پلیز جلدی کر دیں۔۔۔اذہاد لڑکے کو جلدی کا کہتا وہی ہاتھ رکھ کر انتظار کرنے لگا۔۔اسے صرف حور کی فکر تھی۔۔
یاررر۔۔۔وہ دیکھ سامنے کیا کمال کا بندہ کھڑا ہے۔۔ٹولیوں میں سے ایک لڑکی کی نظر اچانک اذہاد پر گئی تھی تبھی وہ باقیوں کی بھی توجہ اذہاد کی طرف کرتی بولی۔۔
یار یہ تو کوئی شہزادہ معلوم ہوتا ہے۔۔۔تبھی دوسری لڑکی اسے دیکھتی آہیں بھرتی بولی۔۔
کتنا ہینڈسم ہے یار۔۔تیسری بھی حسرت لئے بولی۔۔
آبھی وہ تینو صرف اذہاد کی پشت دیکھ کر ہی دیوانی ہوگئیں تھی۔۔
تم سب یہاں بیٹھ کر مزے لو میں تو چلی اس سے بات کرنے۔۔ ایک نہایت خوبصورت اور مغرور لڑکی ٹائٹ جینز اور شرٹ پہنے کھڑی ہوتی تمام لڑکیوں سے بولی اور لمبی ہیل پہنے ٹک ٹک کرتی اذہاد کی طرف بڑھنے لگی۔۔
اذہاد کا آرڈر تیار ہو چکا تھا۔۔وہ جیسے ہی پلٹا کسی کے قریب کھڑے ہونے کی وجہ سے اس سے ٹکراتا ٹکراتا بچا۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے دور ہٹ کر نہیں کھڑی ہو سکتی؟؟ وہ ماتھے پر بل ڈالتا غصے سے بولا تھا۔۔
سامنے کھڑی لڑکی کے ساتھ اس کی تمام ساتھی لڑکیاں بھی اذہاد کی خوبصورتی دیکھتی کی دیکھتی رہ گئیں۔۔۔
وہ جیسے ہی اس کے برابر سے ہو کر گزارنے لگا وہ لڑکی بےشرمی کی تمام حدیں پار کرتی اس کے راستے میں آکر کھڑی ہوگئی۔۔
میں کیا اتنی بری ہوں جو تم مجھ سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں کر رہے۔۔وہ ایک ادا سے اس سے بولی تھی۔۔
کاؤنٹر پر کھڑے لڑکے صرف تماشہ دیکھ سکتے تھے ان کی اتنی اوقات نہیں تھی کے وہ ان امیر زادیوں کو روکتے۔۔
اذہاد نے سامنے کھڑی لڑکی کی شکل کو نفرت سے دیکھا اور پلٹ کر گھوم کر جانے لگا ہی تھا کہ جب ہی اس کی باقی ساتھی لڑکیاں بھی آزہاد کے راستے میں دیوار بن کر کھڑی ہوگئی۔۔۔
ارے ہم صرف آپ سے دوستی کرنا چاہتے ہیں۔اتنا گھبرائیں مت ہم سے۔۔اذہاد کو اپنی پشت پر کھڑی لڑکی کی آواز سنائی دی جسے سن کر اس نے غصے سے اپنی مٹھیوں کو زور سے میچ لیا۔۔ ابھی ان کی جگہ اگر کوئی لڑکا ہوتا تو انہیں لگ پتہ جاتا کہ وہ اذہاد عریض ہے۔۔۔وہ نصف نازک پر ہاتھ اٹھانے کا قائل نہیں تھا۔۔ تبھی برداشت کر رہا تھا۔۔ورنہ غصہ تو اسے بہت آرہا تھا۔۔۔
میرے راستے سے ہٹو مجھے جانا ہے۔۔وہ سامنے کھڑی لڑکیوں سے سخت لہجے میں بولا۔۔
تبھی پیچھے کھڑی لڑکی شرارت کا ارادہ لئے اذہاد کی طرف آہستہ سے بڑھی۔۔وہ اذہاد کو پیچھے سے اس کی کمر کی طرف سے پکڑنا چاہتی تھی تبھی اس کے ہاتھ بیچ میں ہی کسی نے مظبوطی سے پکڑ کر روک لئے تھے۔۔
اس نے گردن گھما کر غصے سے اس غلطی کرنے والے کو گھور کر دیکھنا چاہا جہاں اسے ایک حسین لڑکی دلہن کے روپ میں سجی کھڑی خود کی طرف غصے نفرت اور آگ کی تپش لئے دیکھتی نظر آئی۔۔
حور نے آؤ دیکھا نا تاؤ رکھ کر ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا جس سے وہ دو قدم دور ہٹی تھی ۔۔اذہاد جھٹکے سے پلٹا تھا اس کی چورڑیاں اس عمل سے کھنک اٹھی تھیں۔۔اذہاد حیران ہوتا حور کی طرف بڑھا ہی تھا جب حور غصے میں سب کچھ بھولتی ایک بار پھر اس لڑکی کی طرف بڑھتی پھر سے ایک زور دار تھپڑ اس کے دوسرے گال پر مارا۔۔
اذہاد نے پیزے پر دو حرف بھیجے اور حور کے دونوں ہاتھ پیچھے سے آکر پکڑتا اسے قابو کیا۔۔وہ غصے میں تیز تیز سانس لیتی اب سامنے کھڑی لڑکی کو کچا چبا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
وہ لڑکی دونوں ہاتھ گالوں پر رکھے حور کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھ غصے سے دیکھ رہی تھی۔۔
اس کی تمام ساتھی لڑکیاں بھی منہ پر ہاتھ رکھے معملہ بگڑتا ہوا دیکھ رہی تھی دلہن بنی لڑکی تو انہیں شیرنی بنی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی گھٹیا لڑکی میرے شوہر کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرنے کی۔۔وہ دھاڑی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اس کے ہاتھ توڑ دیتی۔۔اذہاد نے پوری طاقت سے اسے جکڑا ہوا تھا ورنہ وہ سچ میں ایسا کر بھی دیتی ۔۔حور چلو۔۔اتنا کافی ہے۔۔وہ اسے سمبھالتا ہوا خود سے لگاے زبردستی لے جا رہا تھا۔۔
جب وہ لڑکی بھی ہوش مین آتی بھپرتی ہوئی حور کی طرف بڑھی تھی بے عزتی کا احساس شدت سے ہوا تھا بدلہ لئے بغیر کیسے چھوڑ دیتی ۔۔حور تو پہلے تیار تھی اس کو کچا کھا جانے کے لئے مگر اب لڑکی کو حور کی طرف خطرناک ارادے سے بڑھتا دیکھ کر اذہاد بیچ میں آگیا تھا حور کو ایک ہاتھ سے پیچھے کرتا اس نے انگلی اٹھا کر اس لڑکی کو حور کے قریب آنے سے وارن کیا تھا حور کو کچھ ہوتا وہ کیسے برداشت کرتا۔۔آنکھوں میں جھلکتی سفاکی دیکھ کر وہ وہی روک گئی تھی۔۔
مجھے جانتی نہیں ہو آبھی بہتر ہوگا وہی روک جاؤ مجھے مجبور مت کرو کے میں اپنے اصّل میں آؤں۔۔اس کے چند الفاظ لڑکی کو بہت کچھ باور کروا گئے تھے تبھی بچی کچی عزت لئے وہ پیچھے ہٹ گئی۔۔ورنہ ایک لمبے تڑنگے مرد کے ہاتھوں درگت بننا کون پسند کرتا ہے۔۔۔
اذہاد حور کو لیتا باہر آگیا۔۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھی مسلسل رو رہی رہی تھی۔۔اذہاد اس کے آنسوں پونچھتا ہلکان ہوے جا رہا تھا۔۔
تمھیں کیا ضرورت تھی وہاں آنے کی۔۔وہ اس کے گرتے آنسو دیکھ کر جھنجھلا کر بولا تھا۔۔
ہادی تو کیا آپ کو وہاں ان کمینیوں کے ساتھ چھوڑ دیتی۔۔وہ پھر رونا سٹارٹ کرتی بولی تھی۔۔
میرا دل یہاں بیٹھ کے ہولنے لگا کے ہادی آبھی تک آئے کیوں نہیں۔۔اور جب دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر میں وہاں آئی تو میرے تو ہوش ہی اڑ گئے۔۔میرا معصوم شوہر ان کی منتیں کر رہا تھا۔۔۔کہاں گیا وہ اپکا غصہ وہ جلاد روپ جب میرے آپ کو بچانے پر آپ نے میری گردن دبوچی تھی۔۔۔وہ اب سوڑھ سوڑھ کرتی اس سے پرانا حساب مانگ رہی تھی۔۔۔
حور اس کی سزا میں نے خود کو دی تھی۔۔وہ ہاتھ پر ابھری چوٹ کا نشان اسے دکھاتا معصومیت سے اپنی صفائی میں بولا تھا۔۔اور اس لڑکی نے مجھے ٹچ نہیں کیا تھا۔۔۔
اچھا تو آپ انتظار میں تھے یعنی وہ آپ کو ٹچ کرتی۔۔وہ اب اس کی آنکھوں میں جھانکتی حیرت سے سوال کر رہی تھی۔۔ اذہاد گڑبڑایا۔۔۔نہیں حور میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔وہ بیچارگی سے بولا۔۔۔میں اپکا مطلب خوب سمجھتی ہوں ہادی ارے رات دھاڑے میرے شوہر کو باہوں میں بھرنے جا رہی تھی کمبخت اس کی بیوی کی آج تک ہمت نا ہوئی ایسا کرنے کی اور وہ۔۔بےشرم ڈوب ہی مر جاۓ۔۔۔مجھے پکڑا کیوں تھا۔۔میںنے اسے گنجا کر دینا تھا۔۔وہ اب جل کر اس پے برس رہی تھی۔۔
حور تمہارے زبردست تھپڑ اسے ساری زندگی یاد رہیں گے۔۔وہ پیار سے اسے سمجھاتے ہوے بولا تھا۔۔۔
ہاں مگر میرا دل آبھی ہلکا نہیں ہوا ہادی۔۔۔اور میرا پیزا بھی گیا۔۔وہ ایک بار پھر دوپٹہ آنکھوں پر رکھے ہچکیاں لے رہی تھی۔۔
حور آنکھوں کا ستیاناس کر لینا ہے تم نے رو رو کے۔۔اذہاد اب تڑپ کر اس کے ہاتھوں کو آنکھوں سے ہٹاتا اس کے چہرے کو تھام کر بولا تھا۔۔
میری جان نہیں ہو؟؟ ایسے مت رو حور۔۔پلیز۔۔ وہ محبت سے اس کے ہاتھوں کو لبوں سے لگاتا بولا تھا۔۔
تبھی حور ایک لمبی سانس لیتی خود کو ریلیکس کرتی اس کی طرف دیکھتی مسکرائی۔۔۔
اس کے چہرے کی مسکان دیکھ کر اذہاد کی جان میں بھی جان آئی اور وہ گاڑی سٹارٹ کرتا گھر کی طرف موڑ دیا۔۔۔
وہ سارے راستے ان لڑکیوں کی شان میں قصیدھے پڑھتی آئی تھی جس میں اذہاد نے اس کا پورا پورا ساتھ دے کر اپنی محبت کا ثبوت دیا تھا۔۔۔ظاہر ہے ایک دلہن کے دولہے کو چھیڑنے کا یہی انجام ہوتا ہے۔۔
اس عبایا کی مجھے نہیں آج آپ کو ضرورت تھی۔۔وہ اذہاد سے بولی تھی۔۔جس پر اذہاد کتنی ہی دیر ہنستا رہا تھا۔۔۔
گھر آگیا تھا۔۔وہ سوکھا منہ لئے واپس لوٹنے پر اداس تھی تبھی اندر بڑھتے ہوے اس کے قدم روکے۔۔پلٹ کر دیکھا تو اذہاد کے ہاتھ میں اس کے دوپٹے کا کونہ تھا۔۔کیا ہوا؟؟ اس نے اشارے سے اذہاد سے پوچھا۔۔
تبھی وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھتا اسے کمر سے تھام کر کچن کی طرف لئے بڑھ گیا۔۔۔
پاستا کھاؤ گی؟؟ وہ ہنستے ہوے اسے دیکھ کر بولا۔۔
ہادی آپ پاستا بنائیں گے؟؟ اس کی آنکھوں کی چمک یہ سن کر بڑھ گئی چہرے پر اداسی کی جگہ مسکان نے لے لی۔۔ ہاں اپنی حور کے لئے ۔۔اس کا جواب سن کر وہ ہنسی۔۔۔نیکی اور پوچھ پوچھ۔۔۔
تبھی اذہاد اس کے لئے شیف بنتا جھٹ پٹ پاستا تیار کرنے لگا۔۔اس وقت جہاں لوگ اپنے اپنے کمروں میں گھسے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے تبھی اس بات کا فائدہ اٹھاتے دولہا دلہن مزے سے کچن میں ہلا مچاے ہوے تھے۔۔۔
حور اس کی پوری پوری مدد کر رہی تھی۔۔۔۔
اذہاد کے ہاتھ کا بنا لذیز پاستا حور کی جان تھا وہ کیسے منا کر سکتی تھی صدا کی کھانوں کی شوقین حور کو اذہاد شوہر کے روپ میں ایک بہترین شیف بھی ملا تھا۔۔۔
اذہاد نے چمچ بھر کر پاستے کا اٹھایا اور پھونک مر کر اسے ٹھنڈا کرتا حور کے منہ کے قریب کیا جسے حور نے آنکھیں بند کر کے اس پاستے کا بھرپور مزہ لیا۔۔۔
ہادی ی ی ۔۔۔۔۔ بہت مزے دار۔۔۔وہ بچوں کے جیسے خوش ہوتی اذہاد سے بولی تھی۔۔
اذہاد اس کا حسین مکھڑا دیکھ کر مسکرادیا اور تبھی بے اختیار آگے بڑھتا اس کا گال چومتا کھڑا ہوا۔۔۔
میں اب چلوں گا حور۔۔وہ کپڑے ٹھیک کرتا حور سے بولا۔۔حور حیران ہوتی اسے دیکھنے لگی۔۔کہاں ہادی یہ تو کھاتے جائیں۔۔وہ پاستے کا پیالہ ہاتھ میں لئے اسے دیکھتی بولی۔۔۔
نہیں صبح ہونے والی ہے اب روکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔وہ ایک بار پھر جھکتا اس کا دوسرا گال چومتا بولا۔۔
حور اب نظر جھکا گئی تھی۔۔اس کے دونوں گال سرخ ہوگئے تھے۔۔
مگر یہ تو کھاتے جائیں۔۔وہ اب آہستہ سے بولی تھی۔۔
اور اذہاد ایک بار پھر جھکتا اس کے ماتھے پر لب رکھتا مسکرا کر بولا۔۔یہ تمہارے لئے بنایا ہے زندگی اسے تم کھاؤ۔۔۔۔اور اب تم جتنے سوال کرو گی میں اتنے جواب دینے کے ساتھ ساتھ اپنی کوکنگ کی فیس بھی لیتا جاؤ گا۔۔۔وہ شرارت سے اس کا چہرہ اوپر کرتا اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ہادی۔۔۔تبھی حور اس کا ہاتھ ہٹاتی بولی تھی۔۔۔اور وہ ہنستا ہوا اس کی چھوٹی سی ناک کو چومتا بولا۔۔ شام کو ملتے ہیں پھر ڈیر وائف۔۔یہ کہتا وہ باہر چلا گیا تھا۔۔۔
اور حور کتنی ہی دیر تک شرماتی رہی۔۔۔
حور بیٹا۔۔
تبھی اسے مما کی آواز آئی جو حیران اسے کچن میں بیٹھا دیکھ رہیں تھیں۔۔
جی مما۔۔وہ آرام سے پلٹ کر انکی طرف دیکھتی بولی۔۔
میرا بچا کیا ہوا میری جان۔۔وہ اس کے قریب آتی پیار سے اس کا چہرہ تھامتی ہوئی پوچھ رہی تھی۔۔۔
کچھ نہیں مما بھوک لگی تھی اس لئے پاستا بنا کر کھا رہی تھی۔۔
تو مجھے اٹھا لیتی میں بنا دیتی۔۔وہ دکھ سے اسے خود کام کرتا ہوا دیکھتی بولی۔۔۔
کوئی بات نہیں مما۔۔اچھا اب میں سو رہی ہوں مجھے 2 بجے سے پہلے مت اٹھانا۔۔۔وہ پورا پاستا کھاتی یہ بولتی کمرے کی طرف چلی گئی۔۔۔
اور اذہاد بھی گھر آکر بستر پر گرتا نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔۔۔
___________________
2 بجے کے قریب وہ سو کر اٹھی تھی اور نیچے آئی تھی۔۔
زہے نصیب میری جان کا چہرہ تو نظر آیا۔۔عنایا اسے دیکھ کر مسکراتی ہوئی اس کے قریب آتی بولی تھی۔۔میں صدقے جاؤ۔۔حور تمہاری مہندی کتنی رچی ہے۔۔وہ حیران نظروں سے اس کے ہاتھ کو تھامتی ہوئی محبت سے کہہ رہی تھی۔۔اس کے خوبصورت ہاتھوں اور پیروں پے مہندی خوب گہرے رنگ کی رچی تھی اور بہت حسین بھی لگ رہی تھی۔۔
حور اس کی باتوں کو سن کر مسکرائی۔۔۔
تبھی عظمیٰ پیچھے سے آتی اسے باہوں میں لے کر پیار کرنے لگی۔۔وہ بھی اداس ہوتی ان کے سینے سے لگ گئی تھی۔۔
میری جان آج بہت خوشی کا دن ہے اداس بلکل نہیں ہونا۔۔عظمیٰ اسے چومتی ہوئی بولی تھیں۔۔۔
چلو تم بیٹھو میں اچھا سا ناشتہ لاتی ہوں تمہارے لئے پھر تمھیں تیار کرنے والی بھی آجاے گی۔۔وہ اسے اداس ہوتا دیکھ کر فورن اس کے پاس سے ہٹ گئیں تھیں۔۔۔
حور اپنے بابا کو ڈھونڈ رہی تھیں جو نظر ہی نہیں آرہے تھے۔۔مما بابا کہاں ہیں۔؟؟ وہ ماں کے پاس آتی بولی۔۔
حور وہ کام میں بزی ہیں تھوڑا میری جان۔۔۔وہ اسے بہلاتی ہوئی بولی تھی۔۔۔
اصل میں ارتضیٰ خود اس کے سامنے نہیں آنا چاہتے تھے ورنہ وہ انہیں دیکھ کر روتی تو وہ خود بھی اسے سمبھال نہیں پاتے۔۔۔آج اس کے ہمیشہ کے لئے اس آشیانے سے اڑ کر چلے جانے کا دن تھا۔۔وہ خود اس غم سے نڈھال تھے۔۔۔
حور کو تیار کرنے والی بیوٹیشن آچکی تھی۔۔
اس کا شرارہ بیحد حسین تھا جو صبح ہی اذہاد نے کافی خوبصورتی سے پیک کر کے سرپرائز کے طور پر آج ہی بھیجا تھا۔۔
وہ تو پہلے ہی اتنی حسین تھی اوپر سے ہمیشہ کی سادہ رہنے والی حور کو آج جب ماہر بیوٹیشن نے خوب دل سے اس پر اپنا ہنر آزمایا تو وہ ایک الگ ہی حور نظر آنے لگی۔۔نیلی حسین آنکھیں بیحد خوبصورت لگ رہیں تھیں گلابی ہونٹوں پر ریڈ ڈیپ کلر کا شیڈ لگایا گیا تھا۔۔
گورا رنگ جس پے ریڈ کلر کا بیحد خوبصورت شرارہ جس پے بہت حسین گولڈن رنگ کا کام ہوا تھا نیچے سے پھولا ہوا تھا اس پے خوب سج رہا تھا ۔۔
بیوٹیشن خود حور کو دیکھ کر حیران تھی۔۔اتنی حسین دلہن شاید اس کی زندگی میں اب تک کی تیار کردہ تمام دلہنوں میں سے حسین تر دلہن حور تھی۔۔
ماشاءالله۔۔آپ تو بڑی حسین لگ رہیں ہیں۔۔وہ اس کی تعریف کیے بینا رہ نا سکی تھی۔۔
حور مسکرا دی۔۔
تبھی عنایا اندر آئی۔۔آآآ آ۔۔۔یہ حور ہے؟؟ وہ آنکھیں پھاڑے بیوٹیشن سے حیران ہوتی پوچھ رہی تھی۔۔
بیوٹیشن مسکرا کر بولی۔۔۔ جی۔
حور تم کتنی حسین لگ رہی ہو مجھے یقین ہی نہیں ہو رہا یہ تم ہو۔۔وہ قریب آتی اسے دیکھ کر پیار سے بولی۔۔آج تو ہادی بھائی گئے۔۔۔
اس کی آخر کی بات سن کر حور نے ایک زور کی چوٹکی اسے کاٹی۔۔
عنایا اس کہ منہ بنانے پر ہنس دی اور اسے پیار سے گلے لگاتی دعائیں دینے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قمقموں پھولوں سے سجا حسین ہوٹل۔۔
الگ ہی سماء تھا۔۔رنگ ہی رنگ تھے۔۔
دو دل جو ہمیشہ کے لئے ایک ہونے جا رہے تھے۔۔
خوشیوں بھرا ماحول تھا۔۔
کوئی انتظار کے لمحے کاٹ رہا تھا۔۔
کسی کو دیدار یار کا جنوں تھا۔۔
بارات آگئی تھی داؤد اور مدثر کی فیملی دولہے کے ساتھ تھے۔۔
ارتضیٰ اور عظمیٰ استقبال کے لئے راہوں میں پھول بچھاے کھڑے تھے۔۔
کوئی آہستہ سے گاڑی کا دروازہ کھول کر مسکراتا ہوا باہر آیا تھا۔۔
سب نے اسے دیکھ کر دل تھام لئے تھے۔۔۔
سفید سادھی شیروانی ریڈ سر پر پگھ باندھے حسین ریڈ شال گردن کے گرد رکھے وہ یونانی شہزادہ لگ رہا تھا۔۔دولہا دلہن ایک دوسرے کی ٹکر پے تھے۔۔
جاری ہے
