Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33

شاہزیب اور ارتضی داؤد کو چیختے اور روتے دیکھ کر گھبرا گئے۔۔شاہزیب نے فورا ان کے ہاتھ سے موبائل لے کر کان سے لگایا۔۔ داؤد صوفے پر ڈھ سے گئے تھے۔۔وہ بار بار اپنا سینا مسلتے ہور ہور کیے جارہے تھے ان کی حالت اور حور کا نام لیے جانے پر کوئی بھی پہچان سکتا تھا کہ بات کیا ہے۔۔شاہزیب سامنے والے کی ساری بات سننے کے بعد فورا باہر کی طرف بھاگا۔۔
شاہزیب کے اس طرح سے بھاگنے پر ارتضی چیخے۔۔۔۔شاہ زیب مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟؟کوئی کچھ تو بولے۔۔
عظمی بھی آنکھیں پھاڑے بس انہیں اس طرح سے روتا ہوا دیکھ کر ساری کہانی سمجھ گئی تھی کہ ان کی حور کو کچھ ہوگیا ہے۔۔وہ دھاڑ سے زمین پر گری اور بے ہوش ہوگئی۔۔ ارتضی جو باپ کے سینے کو مسلتے انہیں پریشان دیکھ رہے تھے۔۔عظمی کو زمین پر گرتے دیکھ کر بھاگتے ہوئے ان کے پاس آئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزہاد نے حور کو بازوؤں میں اٹھایا اور بھاگتا ہوا ہوسپٹل کے اندر آیا۔۔۔ ڈاکٹر ڈاکٹر۔۔ وہ چیخ رہا تھا۔۔
حور کے سر کے پچھلی طرف سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔۔اس کی گردن اذہاد کے گلے کے قریب کاندھے پر ٹکی ہوئی تھی۔۔
آزاد کے چیخنے پر ڈاکٹر بھاگتا ہوا اس کی طرف آیا۔۔ کیا ہوا ہے انہیں۔۔
ڈاکٹر پلیز ایمرجنسی ان کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔۔۔وہ رو رہا تھا اور حور کو اسٹریچر پر لٹا کر اس کا چہرہ دیکھتا ڈاکٹر سے بول رہا تھا۔۔۔
یہ تو پولیس کیس ہے ہم ان کا ٹریٹمنٹ نہیں کرسکتے ابھی۔۔۔
اور یہ سننا اذہار کے غصے اور برداشت کو ساتویں آسمان پر پہنچانا تھا۔۔ اس نے جاتے ہوئے ڈاکٹر کو گریبان سے پکڑا اور دیوار کے ساتھ لگاتا اپنے قد سے بھی اونچا کرتا اسے دیکھ کر غراتے ہوئے بولا۔۔۔اگر میری بیوی کو کچھ بھی ہوا تو میں یہاں کے ڈاکٹروں سمیت ہسپتال کو آگ لگا دوں گا۔۔۔اس کے الفاظوں کی تپش اور ظالم انداز کو دیکھ کر ڈاکٹر کانپ گیا۔۔
اس ساڑھے چھ فٹیے اور چوڑی جسامت والے سے کوئی امید بھی نہیں تھی کہ وہ جو بول رہا ہے سچ مچھ کر بھی گزرتا۔۔۔
مجھے معاف کر دو ٹھیک ہے میں ابھی ان کا ٹریٹمنٹ شروع کرتا ہوں۔۔ڈاکٹر گھبراتے ہوئے بولا۔۔۔
اور ہاں ایک اور بات اگر کوئی بہتر لیڈی ڈاکٹر ہو تو اسے بلواؤ وہ ٹریٹمنٹ کرے گی۔۔آزہاد یہ بولتا اوپر سے ہی اس کے گریبان سے ہاتھ ہٹاتا پیچھے ہٹا جس سے ڈاکٹر دھڑام سے زمین پر گرا۔۔آزہاد کی دھمکی اثر کر گئی تھی جس کا اثر یہ ہوا کہ بہتر لیڈی ڈاکٹر کو فورن بلوایا گیا اور حور کی ٹریٹمنٹ شروع کر دی گئی۔۔۔
شاہ زیب معلومات کرتا بھاگتا ہوا ہوسپیٹل آیا تھا حور کا موبائل اس آدمی سے لے کر اس نے موبائل اپنے پاس چھپا لیا تھا۔۔۔شاہزیب نے جب سامنے آزہاد کو بیٹھا دیکھا تو بھاگ کر اس کے پاس آیا۔۔
حور کو کچھ نہیں ہوگا۔۔اذہاد کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ بس یہی ایک بات بولے جا رہا تھا۔۔
آزہاد حور کہاں ہے؟ کیا ہوا ہے؟ شاہزیب آزہاد کو کاندھوں سے تھامتا جھنجھوڑتا ہوا بولا۔۔۔
اس کی حالت قابل رحم لگ رہی تھی اس کی شرٹ حور کے خون سے بھری ہوئی تھی۔۔
شاہ زیب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اس کی یہ حالت دیکھ کر۔۔ ڈیلن نے شاہ زیب کے کندھے پر پیچھے سے آکر ہاتھ رکھا۔۔اور اسے تسلی دی۔۔
شاہزیب نے پلٹ کر اسے دیکھا۔۔ڈیلن کی آنکھوں میں بھی نمی تھی۔۔۔ڈیلن نے شروع سے ساری بات شاہزیب کو بتائی۔۔
تھوڑی ہی دیر ہوئی کے شاہزیب کے موبائل پر گھر سے فون پے فون آنے لگے۔۔۔شاہزیب نے اپنا سر پکڑ لیا وہ بہت پریشان تھا اب وہ کیسے انہیں بتاے کے حور اس وقت کس حالت میں ہے۔۔۔اس نے فون اٹھاتے کان سے لگایا۔۔
شاہزیب مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے؟؟ حور کیسی ہے کیا ہے اسے ؟؟؟داؤد کی آواز سنائی دی تھی جو ارتضیٰ کے نمبر سے اس سے بات کر رہے تھے۔۔۔
شاہزیب داؤد کی آواز سن کر ہمّت ہار گیا۔۔دادو حور اس وقت زندگی اور موت کے بیچ لڑ رہی ہے۔۔وہ بہت زخمی ہے۔۔وہ روتے ہوے بولا۔۔۔
اور یہ سنتے ہی داؤد کے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا۔۔
بابا کیا ہوا ہے؟؟ ارتضیٰ نے ڈرتے ہوے کانپتے جسم سے ان کی خطرناک حالت کو دیکھ کر پوچھا دل تو ان کا زور زور سے دھڑکتا انہیں خبردار کر رہا تھا۔۔۔
ایک طرف باپ کی خراب حالت تھی تو دوسری طرف ہوش سے بیگانی ان کی شریک حیات۔۔۔
ارتضیٰ نے باپ کو زور زور سے ہلایا جو سکتے کے عالَم میں بیٹھنے تھے اور آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے۔۔
ارتضیٰ۔۔۔۔میری بچی۔۔۔وہ زور سے چیخے۔۔۔میری حور ارتضیٰ۔۔۔وہ تکلیف میں ہے اسے بچالو۔۔۔وہ زندگی اور موت سے لڑ رہی ہے مجھے اس کے پاس لے چلو۔۔۔وہ بے تحاشا روتے ہوے ارتضیٰ سے بولے۔۔۔
ارتضیٰ کے پیروں سے تو جیسے کسی نے زمین ہی کھینچ لی۔۔ان کی لاڈو ۔۔ان کی چڑیا اس وقت موت کی دہلیز پر کھڑی تھی اور وہ کیسے باپ تھے جو اس وقت اس سے دور تھے۔۔۔
ڈاکٹروں نے ابھی حور کی کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔۔
کچھ ہی دیر گزری تھی جب سارے خاندان میں یہ خبر جیسے آگ کی طرح پھیل گئی تھی اور سب بھاگتے ہوے ہسپتال آے تھے۔۔
ارتضیٰ عظمیٰ اور داؤد کی حالت تو سب سے الگ تھی ارتضیٰ تو جیسے پل میں صدیوں کی مسافقت تے کرتے نڈھال سے نظر آرہے تھے۔۔داؤد کا رو رو کے برا حال تھا۔۔اور عظمیٰ وہ تو نیم بیہوش تھی جنہے ان کی بڑی بہن سنبھال رہی تھی وہ بیہوشی میں بھی حور حور پکار رہی تھی۔۔۔
شاہزیب نے اذہاد کو وہاں سے ہٹا دیا تھا۔۔وہ پہلے ہی اپنے ہواسوں میں نہیں تھا۔۔اسے صرف حور چاہیے تھی۔۔ورنہ وہ پاگل ہو سکتا تھا۔۔
آدھا دن گزرنے اور بہت کوشیشوں کے بعد جا کر ڈاکٹر باہر آیا۔۔۔
دیکھیں ہم نے مریض کو بچا تو لیا ہے مگر کچھ کہہ نہیں سکتے ان کی حالت بہت نازک ہے ابھی بھی آپ سب دعا کریں۔۔ڈاکٹر یہ بول کر آگے بڑھ گیا۔۔۔
یہ سن کر سب کی آنکھوں میں آنسو آگئۓ۔۔داؤد عظمیٰ ارتضیٰ تو رو رو کے نڈھال تھے۔۔
یا اللہ‎ میری بچی کو بچا لے۔۔ ارتضیٰ روتے ہوے دل میں اپنے مالک سے فریاد کر رہے تھے۔۔
حور کو دیکھنے کی اس کے پاس جانے کی ابھی کسی کو اجازت نہیں تھی۔۔۔۔
سارا دن اور ساری رات آگ کے انگاروں پر جلنے کے بعد ڈاکٹر نے حور سے ملنے کی اجازت دی۔۔
داؤد پہلے آگے بڑھے۔۔۔
انہوں نے دروازے کے اندر قدم رکھا تو دیکھا وہ پیارا نازک وجود جس میں انکی جان بستی تھی وہ بیڈ پر پٹییوں میں جکڑی ہوئی زخموں سے چور وجود لیے بے بس لیٹی تھی۔۔۔اس کا یہ حال دیکھ کر داؤد کا دل ٹکرے ٹکرے ہو گیا۔۔۔وہ وہی دروازہ پکڑے رو دیے۔۔شاہزیب جو ان کے ساتھ پیچھے آیا تھا آگے بڑھ کر انہیں سمبھالتا آگے بڑھا۔۔
داؤد جیسے اس کے قریب آے تو اس کا چہرا دیکھ کر وہ صدمے سے گرنے لگے تو شاہزیب نے انہیں تھاما۔۔شاہزیب خود اس کا حال دیکھ کر چکرا سا گیا تھا۔۔
حسین آنکھوں کے نیچے گہری چوٹوں کے نشان تھے سر پورا پٹییوں سے بندھا ہوا تھا۔۔منہ سوجا ہوا تھا۔۔
داؤد کو اس طرح سے روتا دیکھ کر حور نے آہستہ سے آنکھیں کھولی اور انہیں دیکھا۔۔داؤد کو روتا دیکھ کر حور کی آنکھوں سے آنسو بہتے تکیے میں جذب ہونے لگے۔۔۔وہ منہ کھول کے کچھ کہنے کی کوشش کرنا چاہ رہی تھی مگر الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔۔ اس کی یہ بےبسی داؤد سے دیکھی نہیں گئی اور وہ وہی سے روتے ہوے پلٹ گئے۔۔
ارتضیٰ نے خاموشی سے دروازہ کھول کر کمرے میں قدم رکھا۔۔اندر کا منظر دیکھ کر ارتضیٰ کا کمزور دل بیحد آہستہ سے دھڑک رہا تھا جیسے کوئی اسے مٹھی میں جکڑ کر اس کی رفتار کو روکنا چاہ رہا ہو۔۔کیا یہ انکی حور تھی؟؟وہ اپنے بھاری قدموں کو گھسیٹتے اس کی طرف آگے بڑھے۔۔۔انکے پیچھے ہی عظمیٰ بھی آئیں تھیں جنہیں انکی بہن نے سمبھالا ہوا تھا۔۔
ارتضیٰ خاموش اور اداس آنسو بھری نظروں سے اپنی جان سے عزیز اس بیٹی کو دیکھ رہے تھے جسے انہوں نے خود کہا تھا کہ وہ مر گئی ہے انکے لیے۔۔کاش انسان کو علم ہوتا کہ اس کے الفاظ جب سچ ہوتے ہیں تو کیسی قیامت گزرتی ہے۔۔۔آہستہ سے ہاتھ اٹھا کر اس کے سر پر پھیرا۔۔۔حور کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔
۔۔با۔۔۔با۔۔۔بےبسی دکھ کتنی تکلیف تھی اس کی آواز میں اس کی آنکھوں میں اپنے باپ سے معافی کی التجا صاف نظر آ رہی تھی۔۔۔
عظمیٰ حور کو دیکھ کر زور زور سے رو رہی تھی۔۔
ہا۔۔۔د۔۔ی۔۔۔۔معا۔۔۔۔۔ف۔۔۔۔وہ بہت مشکل سے الفاظوں کو توڑ توڑ کر ان سے کچھ کہنا چاہ رہی تھی۔۔۔
ارتضیٰ اس کی تکلیف اس کی تڑپ دیکھ کر ہار گئے۔۔اور پھوٹ پھوٹ کر رو دئیے۔۔۔
انہیں اس طرح سے روتا دیکھ کر ڈاکٹر نے انہیں وہاں سے جانے کو کہا۔۔۔
عظمیٰ تو بار بار غش پے غش کھا رہی تھی مائیں ایسی ہی ہوتی ہیں اولاد کی تکلیف برداشت نہیں کر پاتی۔۔۔
سب ملنے آئے سب کو اس نے دیکھا مگر جس کا آنکھوں کو بے صبری سے انتظار تھا وہ نجانے کہاں تھا۔۔۔۔
چلو اذہاد حور سے نہیں ملو گے؟؟ شاہزیب اس کے سامنے کھڑا تھا آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے دل درد سے پھٹ رہا تھا۔۔۔
دو محبت کرنے والوں کی حالت اس سے دیکھی نہیں جا رہی تھی۔۔۔
وہ انسان جس نے اپنی پوری زندگی صرف دکھ دیکھ کر گزر دی تھی۔۔آج وہ اس غم کو برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔۔وہ کیسے اپنی محبت کو زخموں سے چور ہارا ہوا دیکھ سکتا تھا۔۔۔اس نے لال سرخ آنکھوں کو اٹھا کر شاہزیب کو دیکھا۔۔۔
چلو اذہاد اسے تمہارا انتظار ہے۔۔۔اسے تمہارے ساتھ کی ضرورت ہے اس وقت تمہارا مضبوط ہونا ضروری ہے ورنہ اسے اس مشکل وقت سے لڑنے کی ہمت کون دیلائے گا۔۔۔شاہزیب نے روتے ہوے اس سے کہا۔۔۔
وہ خاموشی سے اٹھا اور آگے بڑھا۔۔۔
آہستہ سے دروازہ کھولا۔۔۔
ایک خشبو تھی جو ہر طرف بکھرتی پیگام دے رہی تھی کے اس کا پیارا آیا ہے۔۔حور کی دھڑکنیں زور سے دھڑکتی اسے بیچینی سے دیکھنے کی منتظر تھیں۔۔
کئی ٹوٹے خوابوں کی کرچیوں پر چل کر زخمی پاؤں لہو لہان وجود لیے وہ اس کی نظروں کے سامنے آیا۔۔
حور کا دل اس کی ایسی بکھری ٹوٹی پھوٹی حالت دیکھ کر جیسے روک سا گیا۔۔
آنکھ سے ایک آنسو کا قطرہ گرنے ہی لگا تھا جسے اذہاد نے بیحد محبت سے آگے بڑھ کر آنکھوں کے کنارے سے ہی اپنے لبوں سے چوم لیا۔۔
اذہاد بیحد قریب ہوتا اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جہاں بینا کہے اذہاد کی آنکھیں حور کی آنکھوں سے التجا کر رہی تھی کے خدارا چھوڑ کے مت جانا۔میں ہر مصیبت بڑی سے بڑی پریشانی پوری دنیا سے لڑ سکتا ہوں۔۔مگر تم سے جدائی میں برداشت نہیں کر سکتا۔۔حور میرا ساتھ مت چھوڑا مجھے تمہاری ضرورت ہے میں بہت اکیلا ہوں۔۔۔وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا فریاد کر رہا تھا۔۔
حور اس کی آنکھوں میں رقم ہر فریاد ہرف با ہرف پڑھ رہی تھی۔۔اذہاد کا دکھ اس کی ہر تکلیف سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔۔وہ دونوں ابھی ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ ہی رہے تھے کہ اچانک سے حور نے اذہاد کو دیکھتے ہی دیکھتے لمبی لمبی سانسیں لینا شروع کر دیا۔۔
اذہاد وہ تو بس مجسمہ بنے بنا پلکوں کو جھپکائے صرف حور کو دیکھ رہا تھا۔۔ آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔۔
اندر آتے ڈاکٹر نے حور کی ایسی کنڈیشن کو دیکھتے ہوئے اذہاد کو پیچھے ہٹنے کو کہا۔۔مگر وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا۔۔وہ بس ایک ٹک ہور کو دیکھ رہا تھا۔۔کے اگر وہ کہیں اس سے دور ہوا یا اس نے پلکیں جھپکیں تو وہ اسے چھوڑ کر چلی جائے گی۔۔
شاہزیب نے ڈاکٹر کو آزہاد کی حقیقت چھپانے کو کہا تھا۔اس نے مختصر سا ڈاکٹر کو بتایا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس مشکل گھڑی میں ابھی آزہاد کی حقیقت کھلے۔۔
اذہاد چٹان بنا حور کے پاس کھڑا تھا۔۔ڈاکٹر نے اسٹاف کی مدد سے اذہاد کو کھینچ کر حور سے دور کیا۔۔
حور اب اذہاد کو دیکھ کر زور زور سے جھٹکے کھانے لگی تھی۔۔اذہاد وہی کھڑا بس حور کو دیکھ رہا تھا۔
حور۔۔مت جانا۔۔ورنہ میں جی نہیں پاؤنگا۔۔۔
ڈاکٹر اس کا جلدی جلدی ٹریٹمنٹ کر رہے تھے۔۔
وہ خود حیران تھے کہ اچانک سے اسے کیا ہوا۔۔
حور کی لمبی سانسیں اور جھٹکے کھاتا وجود اذہاد کی آنکھوں سے جڑی آنکھیں اسے دیکھتے ایک دم پرسکوں ہوگی۔۔
اذہاد میں بہت تھک گئی ہوں۔۔مجھے سونا ہے یہ آنکھیں بہت رو چکی اب انہیں خشک ہونا ہے۔۔
میں تھک گئی آپنو کی بےرخی سہتے ہوے۔
اب تمھیں سب سمبھالنا ہے۔۔ان بکھرے رشتوں کو سمیٹنا ہے۔۔
اور اذہاد اس کی آنکھوں کی تحریر کو لفظ با لفظ پڑھتا تار تار ہوگیا۔۔وہ لمبا چوڑا انسان دھڑام سے زمین پر پوری طاقت سے گرا۔۔جس سے اس کی آنکھ کے اوپر زمین پر زور سے گرنے کی وجہ سے چوٹ لگی اور ایک خون کا فوارہ نکلتا زمین کو خون سے رنگین کرتا چلا گیا۔۔۔
وہاں کھڑے سارے ڈاکٹر حیران نظروں سے اس لمبے چوڑے وجود کو دیکھ رہے تھے جس کا خون بہت تیزی سے بہہ رہا رہاتھا
سوری مسٹر ارتضیٰ۔۔ہم مجبور ہیں ہم نے اپنی پوری کوشیش کی انہیں ٹھیک کرنے کی زندگی کی طرف لانے کی مگر جو اللہ‎ کو منظور ہو۔۔مریض کوما میں جا چکا ہے۔۔۔ڈاکٹر گردن جھکاے اپنا فرض ادا کرتا ساری بات بتاتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
ارتضیٰ یہ سن کر گرنے لگے کے ان کے بڑے بھائی مدثر نے آگے بڑھ کر انھے گرنے سے بچایا۔۔یہ ایک مشکل وقت تھا جو سب پر پڑا تھا۔۔
داؤد تو یہ سن کر جیسے صدمے میں چلے گئے تھے آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے مگر نا وہ کچھ بول رہے تھے نا کسی کو دیکھ رہے بس رو رہے تھے۔۔جیسے سامنے ان کا ہرا بھرا گلستان پل میں آگ کی لپیٹ میں آتا بھر بھر جل رہا ہو اور ان کے ہاتھ کسی نے باندھ دیے ہوں اور وہ بے بسی سے جلتے اپنے گلستان کو دیکھنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔۔
عظمیٰ تو دھاڑے مار مار کر رونے لگی۔۔۔
ارتضیٰ۔۔۔یہ کیا کیا آپ نے میری بچی کو آپ کی بددعا کھا گئی۔۔۔مار دیا آپ نے اسے۔۔۔وہ رو رو کے انہیں آئینہ دیکھا رہی تھیں۔۔الفاظ کڑوے ضرور تھے مگر سچ تھے۔۔وہ اس وقت نا ایک بہو تھی نا بیوی نا بیٹی۔۔وہ اس وقت صرف ایک ماں تھیں۔۔جو اپنی اولاد کی جدائی پر تڑپ رہی تھی بلبلا رہی تھی۔۔
ان کے سینے میں لگی آگ اس وقت کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا مگر وہ آگ بہت بھیانک تھی جو انہیں اندر سے جلاتی اذیت پوھنچا رہی تھی۔۔۔بیوی بن کر تو وہ برداشت کرتی رہیں مگر پانی جب سر سے اوپر ہوا تو وہ برداشت نا کر سکیں بیوی کی حد ختم ہو گئی کیونکہ اس کے بعد ماں کی حد شروع ہوتی تھی جو کوئی رشتہ اپنی اولاد کے سامنے نہیں مانتی۔۔
ایک کوہرام سا مچا تھا۔۔۔سب کی آنکھیں آشکبار تھی۔۔
وہ خود کو چھڑاتی آگے بڑھی اور ارتضیٰ کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔۔جنہیں بہت دکھ تھا اپنی عزت اپنے مان کے ٹوٹ جانے کا۔۔اولاد سے بڑھ کر انکی عزت اہم تھی جس کے لیے انہوں نے اپنی اولاد کو بد دعا تک دے ڈالی تھی۔۔۔
ارے آپ رو کیوں رہے ہیں آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کے آپ کی دی گئی بد دعا لگ گئی اسے۔۔وہ ہار گئی آپ جیت گئے جشن مناے۔۔ارتضیٰ ابراھیم۔۔رونا تو مجھے ہے میں ایک ماں ہوں آگ تو میرے سینے میں لگی ہے ماں باپ کے لیے اولاد کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا مگر آپ۔۔۔۔ ارے وہ تو آپ کی لاڈلی تھی۔۔بہت مان تھا اسے اپنے باپ پے مگر مان ہوتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں۔۔۔وہ بے تحاشہ روتے ہوے انہیں احساس دلا رہی تھی۔۔۔ارتضیٰ خاموش آنسوں بہاتے ان کے لفظوں کے تیر اپنے وجود میں گڑھتا محسوس کر رہے تھے۔۔
رشتے نبھانا کوئی آسان کام نہیں۔کئی بار اپنا دل دکھانا پڑتا ہے دوسروں کی خوشی کے لیے اپنے ظرف کا پیمانہ بلند کرنا پڑتا ہے خطائیں معاف کرنی پڑتی ہیں دل صاف کرنے پڑتے ہے ذرا سا تکبر نظروں سے ہی نہیں گراتا بلکے انسان پورے وجود کے ساتھ منہ کے بل زمین پے گرتا ہے جیسے آپ گرے۔۔وہ انگلی اٹھاتی غصے سے کپکپاتی بولی۔۔۔یہ بات صرف اعلی ظرف کے لوگ سمجھ سکتے ہیں۔۔آپ جیسے خود غرض بے حس لوگ نہیں۔۔۔میں قصور آپ کو ٹھہراؤں گی ارتضیٰ کیونکہ آپ نے ہر بات اس کی مانی ہر خواہش اس کی پوری کی اور اسی بھروسے پے اسی مان پے اس نے محبت جیسا گناہ کیا۔۔۔وہ ایک پڑھی لکھی با شعور بچی تھی کوئی نادان کمسن لڑکی نہیں تھی جسے اچھے برے کا فرق نا پتا ہو۔۔کم سے کم اس کی بات تو سنتے اسکی پسند تو دیکھتے۔۔مگر نہیں آپ تو خدائی کا دعوا کرتے اپنے فیصلے سنانے لگے۔۔اس نے کوئی بھاگ کے شادی نہیں کی تھی اپنے دادا کی دعاؤں کے سائے میں ان کی موجودگی انکی مرضی سے شادی کی تھی ۔۔وہ چیختی ہوئی بولی۔۔یاسمین نے آگے بڑھ کر عظمیٰ کو سمبھالا جو اس وقت جلال میں تھی۔۔۔انکا دل اولاد کی جدائی کے غم سے پھٹ رہا تھا۔۔وہ بہت رو رہی تھی۔۔حوررر۔۔۔میری بچی۔۔دہائی دیتی بولی ۔۔۔۔وہاں کھڑے ہر نفوس کی آنکھیں ان کے غم پے اشک بار تھیں۔۔
یہ کیا ہوگیا۔۔۔ان کا آشیانہ تو پل میں بکھر گیا تھا۔۔ان کا دل پچھتاوں سے بھر گیا۔۔کیا کوئی کبھی اپنی اولاد کو دل سے بد دعا دیتا ہے؟؟یا اللہ تو نے کیا کیا؟؟میرے زباں سے نکلے الفاظوں کو اتنی جلدی قبول کرلیا۔۔۔مجھے معاف کردے میرے اللہ۔۔میری بچی کو نئی زندگی دے دے۔۔بھلے میری سانسیں چھین لے۔۔مگر میری بچی کو بچا لے۔۔۔ارتضیٰ ابراہیم سسکتے وجودکے ساتھ اپنے رب سے التجا کر رہے تھے ۔۔پچھتاوا۔۔ ندامت۔۔کیا کچھ نہیں تھا۔ان کے دل پر بوجھ بڑھ سا گیا تھا۔۔وہ ٹوٹ کر رو دیے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اپنی مندلی مندلی آنکھوں کو کھول کر دیکھنا چاہا مگر چبھتی ہوئی تیز روشنی اسے آنکھیں کھول کر ٹھیک سے دیکھنے میں مدد نہیں کر رہی تھی۔۔وہ کوشش کرتا اٹھ کر بیٹھا۔۔مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔وہ ایک بے حد خوبصورت جگہ تھی ہر طرف ہری ہری گھاس اور ڈھیر سارے پھول لگے تھے جن کی خوشبو کسی بھی انسان کے حواسوں پر سوار ہوکر اسے مدہوش کر سکتی تھی۔۔
اس نے اپنی آنکھوں کو مل کر دھندلے منظر کو صاف دیکھنے کی کوشش کی۔۔منظر صاف ہونے پر وہ حیران پریشان سا اپنے اردگرد دیکھتا کھڑا ہوا۔۔یہ وہ جگہ تو نہیں تھی جہاں وہ رو رہا تھا۔۔جہاں اس کی حور اس کے سامنے تڑپ رہی تھی۔۔یہ منظر یہ ساماں اس اذیت بھرے لمحات سے بالکل مختلف تھے۔۔۔وہ ابھی حیران پریشان سا ذہن پر زور دیتا مزید آگے سوچتا کہ جب ہی اس کے کانوں نے کسی کے کھل کھلا نے کی آوازیں سنی۔۔وہ جھٹکے سے پلٹا۔۔
اور اس سمت تیز تیز چلنے لگا جہاں سے وہ کھل کھلانے کی آوازیں آرہی تھیں۔۔۔وہ جیسے جیسے قدم آگے بڑھاتا آوازیں مزید صاف اور نزدیک ہوتی جاتی۔۔
چلتے چلتے اچانک سے اس کے پیر زمین سے چپک گئے
وہ اپنے قدموں کو اس جگہ سے ہلا نہیں پا رہا تھا۔۔اس نے بہت کوشش کی اپنے پاؤں کو اٹھانے کی مگر قدم جیسے زمین میں دھنستے ہی جا رہے تھے۔۔
اچانک سے منظر پھر بدلہ اور اس نے گردن اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں ایک بہت بڑا گھنا درخت جس پر ایک جھولا لگا تھا۔۔۔اس جھولے پر ایک بے حد حسین لڑکی بیٹھی تیز تیز جھولا کھا رہی تھی اور کھل کھلا رہی تھی۔۔اچانک اس درخت کے پیچھے سے ایک اور حسین لڑکی سفید لباس میں اس جھولے پر بیٹھی لڑکی کی طرف آئی اور اس کے پشت پر ہاتھ رکھ کر اسے اور تیز جھولا دینے لگی۔۔آزہاد ان دونوں لڑکیوں کی شکل نہیں دیکھ پا رہا تھا۔۔دونوں لڑکیوں کی پشت اس کے چہرے کی طرف تھی۔۔مگر وہ جھولے پر بیٹھی کھل کھلاتی لڑکی کو سیکڑوں لوگوں میں بھی پہچان سکتا تھا۔۔وہ اس کی حور تھی۔۔اذہاد حیران ہوتا زور زور سے اسے آوازیں دینے لگا۔۔مگر وہ سن نہیں رہی تھی۔۔شاید آزہاد کی آواز اس کے کانوں تک نہیں پہنچ پا رہی تھی۔۔
حور۔۔۔۔حور۔۔۔وہ بےحد زور زور سے چلاتے اسے پکار رہا تھا۔۔مگر افسوس۔۔۔
وہ جھنجھلاتے ہوئے اپنے قدموں کو اٹھانے کی کوشش کرتا۔۔۔مگر پھر افسوس۔۔۔
اس کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔۔اسے پکارتے پکارتے وہ تھک گیامگر ہارا اب بھی نہیں تھا۔۔
اچانک سے جھولا دیتی لڑکی نے اپنا چہرہ گھما کر ہلکا سا اذہاد کی طرف دیکھا اور مسکرائی۔۔آزہاد کی آنکھیں حیرت سے اس لڑکی کو دیکھ کر پھٹنے کے قریب ہوگی اور سانسیں مدھم چلنے لگی۔۔۔
وہ لڑکی کوئی اور نہیں اس کی ماں جنت تھی۔۔جو اپنے بیٹے کی تڑپ اور بے چینی دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔
آزہاد نے اپنی ماں کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ دیکھ کر ایک بار پھر کوشش کی اپنے قدموں کو اٹھانے کی۔۔مگر ہر بار ناکامی۔۔
آزہاد۔۔۔۔۔۔جنت نے آہستہ سے پکارا۔۔۔
اور اذہاد نے جھٹکے سے گردن اٹھا کر ماں کو خوف سے دیکھا۔۔۔
اذہاد کیا میں حور کو اپنے ساتھ لے جاؤں؟؟معصومیت سے اجازت مانگی گئی۔۔۔
اذہاد کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوگئے۔۔وہ زور زور سے گردن نفی میں ہلاتا خوف سے انہیں دیکھا۔۔
بہت محبت کرتے ہو حور سے؟؟
مما نہیں پلیز۔۔۔وہ روتا ہوا ان سے التجا کر رہا تھا۔۔۔
محبت کرنا آسان تو نہیں۔۔۔بہت سی تکلیفیں سہنی پڑتی ہے۔۔مگر زبان سے اف تک نا کرو آگ میں جل کر یوں ہی تو نہیں سونا بگھل کر خوبصورت شکل اختیار کرتا۔۔بہت کچھ سہنا پڑتا ہے۔۔۔۔محبت تو ایک شطرنج ہے۔۔کب کس موڑ پر کیا ہو جائے کب جیت ہار میں بدل جائے کوئی نہیں جانتا۔۔
وہ آہستہ آواز میں اسے بول رہی تھی۔۔مگر آزہاد کے آنسو بہہ رہے تھے اور گردن مسلسل نفی میں ہلتی اس کی ہر بات سے انکاری تھی۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *