Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50

وہ شہزارہ لگ رہا تھا تو وہ بھی اس کی شہزادی تھی۔۔۔
ہونٹوں کی مسکراہٹ گالوں میں پڑتا ڈیمپل اس کی خوشی کی ضمانت تھے۔۔اس نے جسے چاہا تھا اسے آج ہمیشہ کے لئے پا لیا تھا۔۔جیت کا تاج اس کے سر پر شان سے سجا تھا۔۔اس کا صبر اس کی آزمائش پوری ہوئی تھی۔۔۔ اس کی سوچ سے بڑھ کر اس کے رب نے اسے نوازا تھا ۔۔خوبصورت انعام کی صورت حور ہمیشہ کے لئے آج اس کی ہوئی تھی۔۔
وہ اپنی امانت آج پورے حق سے لینے آیا تھا۔۔ایک الگ ہی سرور تھا۔۔ایک خمار تھا۔۔کسی کے سنگ جڑ جانے کا۔۔کسی کو اپنا بنانے کا۔۔۔۔۔
عظمیٰ نے آگے بڑھ کر اس کی نظر اتاری۔۔اس کا سر چوما۔۔وہ لاکھوں کروڑوں میں ایک تھا۔۔ارتضیٰ اور داؤد اسے تھوڑا آگے لاکر اندر روک گئے۔۔
حور گھونگھٹ گراے بیٹھی تھی جب کسی کاہاتھ اس کی طرف بڑھا اس نے آہستہ نظروں کو اٹھا کر دیکھا جہاں اس کے بابا کھڑے مسکرا رہے تھے۔۔۔میری چڑیا چلو۔۔
تبھی وہ ان کا ہاتھ تھام کر ان کے سینے سے لگ گئی۔۔
نا میری جان روتے تھوڑی ہیں۔۔بیٹیوں کو تو جانا ہی ہوتا ہے۔۔۔وہ اس کا سر چومتے ہوئے اسے باہوں میں بھر کر لے جا رہے تھے۔۔
تبھی اذہاد نے دیکھا وہ بابا کے سینے سے لگی اسی کی طرف چلتی آرہی تھی۔۔۔
جیسے کوئی خوشبو ہو۔۔کوئی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہوجو اسے چھو گیا ہو ۔۔حسین احساس لئے وہ اسے خود کی طرف بڑھتا دیکھ رہا تھا۔۔۔
ارتضیٰ اذہاد کے قریب آتے اذہاد کا ہاتھ تھام کر اس میں حور کا ہاتھ دیتے دور ہو گئے۔۔
اذہاد نے حور کا ہاتھ اپنی مضبوط ہتھیلی میں تھام کر اسے محبت کا احساس دلایا۔۔
حور کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں۔۔
دونوں ساتھ چلتے سامنے آکر بیٹھ گئے۔۔
ایک دوسرے کا دیدار آبھی باقی تھا۔۔
گھونگھٹ اٹھاؤ۔۔ایک شور برپا ہوا۔۔
اذہاد صرف ہنستا ہی رہا۔۔
بھائی گھونگھٹ اٹھائیں۔۔عنایا نے ہوٹنگ کی۔۔
اذہاد نے عظمیٰ اور بابا کو دیکھا۔۔پتہ نہیں ایسا کرنا بھی تھا یا نہیں۔۔اسے معلوم نہیں تھا۔۔تبھی حور نے آہستہ سے ایک پاؤں شرارے کی اڑھ میں اٹھا کر اذہاد کے پاؤں پر رکھ کر زور دیا۔۔
اذہاد نے جھٹ سے اسے یکھا۔۔آہ۔۔ایک درد بھری اہ نکلی تھی اسکے لبوں سے۔۔
مگر وہ تو معصوم بنی بیٹھی ہوئی تھی۔۔
تبھی اذہاد نے آگے بڑھ کر اس کا گھونگھٹ ہٹا دیا۔۔
مگر یہ کیا وہ تو اس پر سے نظریں ہٹانا ہی بھول گیا۔۔جیسے کسی نے اسے اسٹاپ کر دیا ہو۔۔۔
حور نے ہلکی نیلی آنکھوں کو اٹھا کر گھورا۔۔اور ہلکی سے ٹانگ مار کر اسے ہوش دلایا۔۔۔
اذہاد فورن سیدھا ہوا اور بے خیالی میں سب کو دیکھنے لگا۔۔۔
بھائی چلیں نیگ نکالیں۔۔فری اور عنایا ہنستی ہوئی اس کے آگے ہاتھ کرتی بولی۔۔
نیگ مطلب پیسے۔۔۔اذہاد نے کنفرم کرنا چاہا۔۔
جی پیسے نکالیں۔۔عنایا بولی
اذہاد نے ایک چیک کی صورت عنایا کو رقم دی۔۔جسے لے کر عنایا زور سے ہوٹنگ کرنے لگی۔۔۔
اس نے آہستہ سے گردن گھما کر چور نظروں سے حور کو دیکھا۔۔۔۔جو بلا کی حسین لگ رہی تھی۔۔دل زور زور سے دھڑکے جا رہا تھا۔۔دل کیا گھونگھٹ پھر گرا دے اس کے علاوہ کوئی اسے نا دیکھے۔۔۔
کئی رسمیں ہوئی۔۔
ہر کسی کی زبان پے دولہا دلہن کی تعریف میں قصیدے پڑھے جا رہے تھے۔۔۔
حسین جوڑی تھی۔۔جیسے ایک ہنس اور اسکی ہنسنی ہو۔۔
آخر کار رخصتی کا لمحہ آیا اور حور سب کے گلے لگی رو رہی تھی۔۔ایک روایت تھی سب بیٹیوں کو رخصت ہونا ہوتا ہے چاہے بادشاہ کی بیٹی ہو یا نازو پلی سب کو چھوڑ کر جانا ہی ہوتا ہے۔۔۔
آنسوں بھری نگاہیں آخری الوداع کے لئے سامنے آپنو کی طرف اٹھی اور پھر اذہاد نے آگے بڑھ کر اسے تھاما اور پھر وہ اس کے سنگ سب کی دعاوں میں رخصت ہو گئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہاد نے گاڑی ایک بہت بڑے سے گھر کے آگے روکی تھی۔۔۔
حور جس نے سارا سفر اداسی میں کاٹا تھا اب سامنے بڑے سے گھر کو دیکھ کر حیران تھی۔۔۔
یہ کس کے گھر اٹھا لاے مجھے ہادی۔۔وہ اب گردن گھما کر حیران نظروں سے اسے دیکھتی سوال کر رہی تھی۔۔۔
حور یہ میرے بابا نے اپنی بہو کے لئے خرید کر مجھے وصیت کی تھی کے اسے رخصت کر کہ یہی لے کر آؤں۔۔وہ سنجیدگی سے بولا۔۔
حور نے گھور کر اسے دیکھا۔۔اور پھر مسکرا دی۔۔
ہممم۔۔۔شکر ہے میری حور کی مسکراہٹ مل گئی۔۔وہ اسے محبت سے دیکھتا بولا۔۔
وہ جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر آیا۔۔حور کی طرف کا دروازہ کھولتا ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھایا جسے تھام کر وہ آہستہ سے نیچے اترتی باہر آئی۔۔
حور نے دیکھا وہاں بہت بڑے بڑے گھر بنے ہوے تھے مگر ایک دوسرے سے بہت دور دور۔۔۔
تبھی اذہاد اسے بازوں میں اٹھاتا ہوا اندر لایا گھر بہت شاندار تھا اندر سے ہر چیز کافی خوبصورتی سے سجائی گئی تھی۔۔۔
فلیٹ کا کیا ہوا؟؟ حور نے سوال کیا۔۔
دے دیا۔۔اذہاد آرام سے بولا۔۔۔
کیوں ؟
کیوں کے میں تمھیں وہاں نہیں لانا چاہتا تھا ۔۔۔
کیوں؟؟ کیا برائی تھی وہاں؟؟
تمہارے معیار کی جگہ نہیں تھی حور وہ۔۔وہ ہلکا سا اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا۔۔۔خواب میںنے بہت دیکھے تھے تمہارے لئے کے تم جب آو گی تو یہ کروں گا وہ کروں گا۔۔مگر وہ سب پاکستان میں پورے نہیں ہو سکتے اس کے لئے ہمیں لندن جانا ہوگا تو تب تک ویٹ کریں گے ہم۔۔وہ رونی صورت بناتا ہوا بولا تھا۔۔
حور اس کی ادا پر بے اختیار ہنس دی۔۔۔
اچھے لگ رہے ہیں آپ آج۔۔یہ آپ پر بہت جچ رہا ہے۔۔وہ اس کی سادی شیروانی کے کالر کو ٹھیک کرتی ہوئی بولی تھی۔۔
اذہاد کے گال میں پڑتا ڈیمپل اس کی تعریف سن کر جھوم اٹھا۔۔
اذہاد نے اسے آہستہ سے ایک بند دروازے کے سامنے نیچے اتارا اور اشارے سے بولا کھولو۔۔
حور نے اسے دیکھ کر مسکراتے ہوے دروازہ کھولا۔۔۔
وہ اندر کا منظر دیکھ کر حیران ہوتی منہ پر ہاتھ رکھ گئی۔۔۔
پورے کمرے کو بیحد حسین پھولوں سے سجایا ہوا تھا۔۔
وہ دونوں ہاتھوں سے شرارہ اوپر اٹھاتی اندر آئی تھی۔۔
بہت حسین ہادی یہ سب خود کیا ہے؟؟ وہ پھولوں کو چھوتی ہوئی اس سے خوشی سے بولی۔۔۔
اذہاد نے ہلکا سا سر کھوجایا اور پھر اس کا ہاتھ تھام کر مسکرایا حور بھی اسے دیکھ کر ہنس دی۔۔
چلو میری منہ دکھائی دو۔۔وہ اس کے آگے ہاتھ پھیلاتی بولی۔۔۔
اذہاد نے زور سے سر پر ہاتھ مارا۔۔اوہ وہ تو میں لانا بھول گیا حور۔۔معصومیت سے بولا۔۔
ہور آنکھیں پھاڑے صدمے سے اسے ناراض نظروں سے گھورنے لگی۔۔۔ہادی میری منہ دکھائی بھول گئے۔۔۔
یار چلو یہ منہ دکھائی تم مجھ سے لندن جا کر لے لینا۔۔۔وہ اسے پیار سے مناتا ہوا بولا۔۔
مگر وہ تو اسے اب اداس نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
تبھی اذہاد نے اسے آگے بڑھ کر محبت اور چاہت سے گلے سے لگایا۔۔
آج میری جان تو بہت حسین لگ رہی ہے اس پے یہ اداسی اچھی نہیں لگتی اس لئے ایک چھوٹا سا گفٹ لایا ہوں میں اس کے لئے۔۔۔
حور نے جھٹ سے گردن اٹھائی۔۔سچی مجھے پتہ تھا کہاں ہے؟؟ وہ چہکتی ہے بولی۔۔
اذہاد اس کے لئے بہت حسین ایک پاؤں میں پہنی جانے والی پائیل لایا تھا۔۔۔
وہ اسے سامنے بیٹھا کر اسکے پاؤں کی طرف جھکتا اس کے حسین پیر میں وہ پائیل پہنا دی۔۔۔
حور بہت خوش تھی اسے وہ بہت پسند آئی تھی۔۔اذہاد اب اٹھ کر اس کے برابر بیٹھتا اس تکنے لگا۔۔حور اسے خود کو دلچسپی سے دیکھے جانے پر شرماتی ہوئی ہنسی۔۔۔
وہ کبھی حور کی ماتھا پٹی کو چھوتا کبھی اس کی حسین بڑی سی نتھ کو ہاتھ لگاتا محبت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کے حور اس کے سامنے بیٹھی ہے۔۔۔تبھی وہ اس کی گود میں سر رکھ کر اسے دیکھنے لگا۔۔
حور مسکراتے ہوے اس کے گھنے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔۔
اذہاد اس کا دوسرا ہاتھ تھام کر اس کی مہندی اور کلائیوں میں سجی چوڑیاں دیکھنے لگا۔۔
حور کیا تم ایسا ہی تیار میرے لئے لندن میں روز ہو سکتی ہو؟؟
اذہاد کی عجیب غریب سی فرمائش سن کر حور کو جھٹکا لگا۔۔
ہادی ایسا روز کون سجتا ہے؟ وہ حیرت سے اسے دیکھتی سوال کرنے لگی۔۔
تم سجو گی نا میرے لئے۔۔وہ اس کے قریب آتا اسے نزدیک سے دیکھتا بولا۔۔
نہیں ایسا صرف ایک بار ہی زندگی میں سجا جاتا ہے روز نہیں۔۔۔حور تحمل سے اسے سمجھآتی بولی۔۔۔جس کے انداز اور آنکھوں سے لگ رہا تھا کہ یہ اس کی ضد ہے۔۔
چلو ہفتے میں ایک دن رکھ لیتے ہیں۔۔اذہاد اپنی بات پر قائم ہی رہا۔۔
نہیں ہادی۔۔حور اب آنکھیں نکالتی بولی۔۔
اس کی قریب آتی آنکھیں آپ کچھ اور ہی داستان سنا رہی تھی۔۔حور کو سانس اٹکتی محسوس ہوئی۔۔
چلو مہینے میں ایک دن رکھ لیتے ہیں۔۔وہ قریب سے قریب ہوتا جا رہا تھا۔۔
نہیں۔۔۔بلکل بھی نہیں۔۔یہ کہتی وہ ڈر کر اب سامنے کی طرف دیکھتی زور سے آنکھیں بند کر گئی۔۔۔
اذہاد اب اس کے کاندھے پر ٹھوڑی ٹیکاتا اپنی ناک اس کے گال سے ٹکراتا آنکھیں بند کر کے اس کی خوشبو کو محسوس کرتا مسکرانے لگا۔۔۔
مجھے یہ بڑی سی گول رنگ تمہاری ناک میں بہت اچھی لگ رہی ہے یہ تو پہن لو گی نا کبھی کبھی میری فرمائش پر۔۔۔وہ ایک بار پھر اسے مناتا ہوا بولا۔۔۔
اب حور ہلکا سا مسکرائی۔۔اور اس کے چہرے کی طرف ہلکی سی گردن کر کے بولی۔۔۔اوکے۔۔۔
اذہاد بھی اس کے کاندھے سے لگے اسے نظریں اٹھا کر مسکرا کر دیکھ رہا تھا تبھی اس کی نظر اس کی ناک کی رنگ سے ہوتی اس کے لبوں پر گئی تھی۔۔۔
وہ ایک دم سیدھا ہوا اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے تھام کر ہلکا سا جھکتا اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ گیا۔۔۔
حور کی آنکھیں کھولی کی کھولی رہ گئی۔۔سانس جیسے اندر ہی روک گئی ہوں۔۔
اذہاد آہستہ سے اس دور ہوا اس کے ماتھے سے سر کو ٹیکاتا اپنی ناک اس کی ناک سے ٹکراتا آنکھیں بند کیے اس کی سانسوں کو محسوس کرنے لگا۔۔۔
حور کا صدمہ کم ہی نہیں ہو کر دے رہا تھا۔۔۔
اذہاد نے مدہوش آنکھوں کو کھول کر اس کا حسین مکھڑا دیکھا۔۔حور جس کے گال شرم سے دھک رہے تھے نظریں جھکا گئی۔۔۔
وہ اسے دیکھتا مسکرا کر آہستہ سے اسے سینے سے لگا گیا۔۔حور میں نے آج اس خوبصورت رات کے حوالے سے کئی حسین خواب دیکھے ہیں آبھی سے نہیں جب سے تم سے بے پنہا محبت کرنے لگا ہوں تب سے یہ جگہ یہ گھر میرے خوابوں کا حصہ نہیں۔۔میں اپنی حسین یادیں تمہارے سنگ اس جگہ سے جوڑنا چاہتا ہوں جہاں ہم ساری زندگی ایک دوسرے کے ساتھ ہر سکھ دکھ ہر خوشی میں گزارے گے۔۔۔وہ مسکراتے ہوے اپنے دل کا راز اس سے بیان کر رہا تھا۔۔
حور کی نظریں جھکی ہوئی اس کی ہر بات کو دل سے محسوس کر رہی تھی۔۔
وہ میٹھی میٹھی سرگوشی کرتا اس کے سر کا ٹیکا کانوں کے بھاری جھمکے گلے میں پہنے بھاری سیٹ اتار رہا تھا۔۔۔اس کے حسین لمبے بالوں کو جورڑے کی قید سے آزاد کرتا اس کی پشت پر بکھرا دیا۔۔۔اذہاد نے اس کی ناک کی نتھ نہیں اتاری تھی وہ اسے بہت پسند آئی تھی۔۔۔
وہ ساری رات اسے دلہن کے لباس میں ایک نتھ پہنے کھلے لمبے بالوں میں دیکھنا چاہتا تھا۔۔اس کا دل حور کو دیکھ کر بھر ہی نہیں رہا تھا۔۔۔
وہ اس کے کاندھے پر سر رکھے باتیں کرتے کب سوئی اسے ہوش ہی نہیں رہا۔۔۔
اذہاد اس کا چہرہ قریب سے دیکھتا مسکرا دیا۔۔۔جسے دیکھ کر اس کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا کہ اس سے نظریں ایک پل کو بھی ہٹاے۔۔۔۔
تبھی وہ بھی اس کا ہاتھ اپنے دھڑکتے دل پر رکھتا اس کے سر سے گال ٹیکاتا سو گیا۔۔۔
_____________________
وہ خوشی سے رات ٹھیک سویا بھی نہیں اور صبح سویرے سے اٹھ کر بیٹھا حور کو دلکش انداز میں سوتا مسکراتے ہوے دیکھ رہا تھا۔۔۔
جو مہندی سے سجی حسین کلائی آنکھوں پر رکھے ایک ہاتھ پیٹ پر رکھے مدہوش سوئی ہوئی تھی۔۔
ہاتھ کے نیچے سے جھلکتے اس کے سرخ ہونٹ اور گول رنگ اذہاد کے لئے ایک حسین منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔
تبھی فون کی بجتی تیز بیل پر اذہاد بد مزہ ہوا اس کا تسلسل جو ٹوٹ تھا۔۔وہ مشکل سے حور پر سے نظر ہٹاتا فون کی طرف بڑھا۔۔۔
ہیلو۔۔اس کی نظر اب بھی حور پر تھی۔۔۔
اذہاد بیٹا۔۔ارتضیٰ کی آواز ابھری۔۔
وہ فورن سیدھا ہوا۔۔السلام عليكم بابا۔۔
وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہو؟؟ حور کیسی ہے؟؟انہوں نے مسکرا کر پوچھا۔۔
ٹھیک ہیں ہم بابا آپ مما سب کیسے ہیں؟؟ نظر اب بھی اس کے ارد گرد گھوم رہی تھی۔۔۔
ہم بھی ٹھیک ہیں۔۔حور کہاں ہے؟ اس سے کہو بچیاں آرہی ہیں ایک گھنٹے میں ناشتہ لے کر۔۔۔انہوں نے کام کی بات کی۔۔
ناشتہ آپ لوگ کیوں لا رہے ہیں؟؟ میں ہوں نا اپنی حور کا شیف۔۔وہ مسکرا کر بولا۔۔
بیٹا یہ رسم ہوتی ہے ناشتہ ماں باپ کے گھر سے آتا ہے۔۔انہوں نے اسے اس رسم سے اگاہ کیا۔۔۔
اوہ۔۔اچھا۔۔وہ سمجھ کر مسکرایا۔۔
ہاں تو بات کرواؤ میری حور سے بیٹا۔۔
بابا۔۔حور۔۔تو سو رہی ہے۔۔وہ جتنا چھپا رہا تھا اتنا ہی بابا حور کا پوچھ رہے تھے۔۔
کیا۔۔۔وہ آبھی تک سوئی ہوئی ہے۔۔اذہاد بیٹا آپ کو سلام ہے اسے اٹھاؤ ولیمہ آپ کا دن کا ہے اور رات 7 بجے آپ لوگوں کی لندن کی فلائٹ ہے۔۔دن چڑھ گیا ہے وہ آبھی تک سوئی ہوئی ہے۔۔ارتضیٰ ناراض ہوے تھے۔۔
بابا کوئی بات نہیں اسے سونے دیں میرا دل نہیں کر رہا اسے جگاؤ۔۔وہ معصومیت سے بولا تھا۔۔
اس کا جواب سن کر ارتضیٰ نے سر پیٹ لیا۔۔اور فون بند کر دیا۔۔
کیا ہوا ارتضیٰ سب ٹھیک ہے؟؟ عظمیٰ ان کے بگڑتے موڈ کو دیکھ کر بولی۔۔
آپ کی لاڈلی بیٹی اور لاڈلے بیٹے نے گزار لی زندگی۔۔یہ کہتے وہ اٹھ کر چلے گئے۔۔۔اور عظمیٰ حیران ان کی بات سمجھنے کی کوشیش کرنے لگی۔۔
اذہاد کو بابا کے ناراض ہو کر فون رکھنے پر تھوڑا افسوس ہوا۔۔تبھی وہ آگے بڑھا۔۔حور کے کان کے قریب جاتا پیار سے بولا۔۔حور۔۔
حور ٹس سے مس نا ہوئی۔۔
حور۔۔آواز تھوڑی اور اونچی کی۔۔
اب سامنے والے پر کوئی اثر نا ہوا۔۔
حوررر۔۔اذہاد اب اس کے کان پر ہونٹ رکھ کر چیخا تھا۔۔
حور چھلانگ مارتی ہوئی بیڈ سے نیچے اتری تھی اور آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی جو دانتوں کی نومائش کرتا ہنس رہا تھا۔۔
کون سی قیامت آگئی ہے جو میرے کان کے پردے پھاڑ رہے ہیں ہادی۔۔وہ اب دانت پستی ہوئی اپنے نئے نویلے دولہے پر غصہ کر رہی تھی۔۔
شکر کرو کے کان کے پردے پھاڑے ہیں۔۔ارادے تو کچھ اور ہی تھے میرے۔۔وہ مزے سے اب اس کی جگہ لیٹتا اس کا تکیہ بازوں میں لیتا معنی خیزی سے بولا۔۔
تبھی وہ دوبارہ سونے پر دو حرف بھیجتی اپنا بھاری لہنگا اٹھاتی باتھروم کی طرف بڑھی۔۔
اس کے ہر انداز پر اذہاد کو اس پر ٹوٹ کر پیار آرہا تھا۔۔
وہ کبھی باتھروم جاتی تو کبھی کمرے کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بھاری لہنگا اٹھا کر چکر کاٹتی۔۔ چاہتی کیا تھی بتا نہیں رہی تھی۔۔اس کے گورے پاؤں کی حسین مہندی صاف فرش پر چلتے اذہاد کو شرارت کرنے پر مجبور کر رہے تھے۔۔
تبھی وہ تکیہ پھنکتا ہوا اس کے قریب آیا تھا۔۔جو موڑتے ہوے بے خیالی میں اس سے ٹکرائی تھی۔۔
ہادی کیا کر رہے ہیں ۔۔وہ اب چڑ کر بولی تھی۔۔
مجھے بتاؤ تو ہوا کیا ہے؟؟ وہ محبت سے اس کا ماتھا چومتا اسے سینے سے لگاتا بولا۔۔
میرے کپڑے کہاں ہے؟؟ وہ غلط وقت پر اس کے رومانس جھاڑنے پر دور ہٹتی بولی تھی۔۔۔
وہ اب لب دباتا اسے فل چھیڑنے کے موڈ میں آچکا تھا۔۔
میں بتا دیتا ہوں مگر ذرا مجھے تمہاری آنکھوں کا کلر ٹھیک سے دیکھنے دو۔۔وہ خود کو سنجیدہ ظاہر کرتا اس کا چہرہ تھام کر بولا۔۔
حور اس کا ہاتھ چہرے سے ہٹاتی جھک کر اس کے ہاتھوں کے نیچے سے نکلی۔۔
ہادی فضول مت بولیں۔۔میں پہلے ہی لیٹ اٹھی ہوں۔۔اوپر سے آپ شروع ہوگئے۔۔مجھے میرے کپڑے بتائیں کہاں رکھے ہیں آپ نے؟؟ وہ اب تنگ آتی ہوئی اس سے ایک ایک قدم پیچھے ہٹتی بول رہی تھی۔۔
جو سینے پر ہاتھ باندھے اس کی طرف قدم بڑھاتا مسکرا رہا تھا۔۔۔
تبھی اذہاد تیزی سے اسے پکڑنے جیسے ہی آگے بڑھا وہ زور کی ایک چیخ مارتی فورن سے اس کے ہاتھوں سے بچتی باتھروم کی طرف بھاگی اور خود کو اندر بند کر لیا۔۔
حور دروازہ کھولو۔۔اذہاد اب دروازے پر مکے برساتا ناراضگی سے بولا۔۔
نہیں میرے کپڑے لا کر دیں آپ ۔۔۔وہ اب زور زور سے اندر ہنس رہی تھی۔۔
بیٹھی رہو اندر۔۔وہ بھی دروازے سے کمر ٹیکاتا بولا۔۔
سوچ لیں۔۔حور کے الفاظوں نے جیسے اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔۔مذاق تک ٹھیک تھا اسے کچھ ہو وہ یہ سوچ کر کانپ جاتا تھاوہ اب خواب میں بھی اس سے جدا ہونے سے ڈرتا تھا ۔۔تبھی ہار مانتے ہوے جھٹ سے اس کے لئے ایک حسین سوٹ نکال کر لاتا دروازہ بجایا۔۔
یہ لو حور اور فورن باہر آؤ۔۔یہ الفاظ اس کے دل میں بیٹھے اس خوف کی وجہ سے ادا ہوے جو اس پر پہلے ایک قیامت کی صورت بن کر گزر چکے تھے۔۔
حور نے ہلکا دروازہ کھول کر اس کے ہاتھ سے کپڑے لئے اور جھٹ سے دروازہ دوبارہ بند کر دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب فریش ہو کر باہر آئی تو اسے کسی کے ہنسنے کی اور باتوں کی آواز آرہی تھی وہ بالوں کو اچھے سے خشک کرتی روم سے باہر آئی تو دیکھا عنایا اور فری آے ہوے تھے۔۔۔حور کو دیکھ کر وہ وہ خوش ہوتی اس کے گلے لگیں۔۔
حور نے پنگ گھیر دار فراک پہنی تھی جس پے کائی کلر کا حسین سٹون کا کام ہوا تھا۔۔سارے بال ایک طرف ڈالے وہ سادگی میں بھی دلکش لگ رہی تھی۔۔اذہاد کی گہری نظریں اس کا مسلسل جائزہ لے رہی تھیں۔۔
ہم آپ کا ناشتہ لائی ہیں آپی سب آپ کی پسند کا ہے۔۔وہ خوشی سے اس کے قریب بیٹھی بول رہی تھی۔۔حور نے پیار سے اسے گلے لگایا۔۔
آپ لوگوں کا کیا پلین ہے بھائی ولیمے میں جانے کا۔۔عنایا اب اذہاد سے بولی تھی۔۔
میں 3 تک پوھنچ جاؤ گا ہوٹل حور کے ساتھ مجھے 6 تک فری ہوکر ایئر پورٹ پوھنچنا۔۔وہ اپنی آگے کی پلینگ کا سیٹ اپ بتاتا حور کو دیکھنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
پھر ٹھیک ہے آپ لوگ فورن سے ناشتہ کریں اور اپنے ولیمے پے آنے کی تیاری کریں ہم بھی چلتے ہیں بہت کام ہے۔۔۔عنایا کھڑی ہوتی حور کو دیکھ کر بولتی اس کے گلے لگ کر چلی گئی۔۔۔
ان کے جانے کے بعد حور اور اذہاد نے جلدی جلدی ناشتہ کیا۔۔اذہاد نے اپنا سارے ضروری ڈاکومنٹ ڈیٹا ایک جگہ رکھ کر سارا ضروری سامان پیک کیا جس میں حور نے اس کی پوری مدد کی ہاں وہ الگ بات ہے اس سب کے دوران بھی اذہاد نے اسے خوب تنگ کیا تھا۔۔کبھی اس کے گال کھینچتا کبھی اس کا دوپٹہ۔۔اور حور ہر بار اس کے پیچھے بھاگتی اسے مارنے کے لئے مگر وہ آسانی سے اس سے بچ جاتا۔۔۔
اس کے تنگ کرنے پے پہلے وہ ناراض ہوتی پھر اذہاد کی حسین مسکراہٹ دیکھ کر خود بھی ہنس دیتی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور بہت حسین لگ رہی تھی اس کے آج کے فنکشن کا لباس اذہاد نے لندن کے ایک مہشور ڈیزائنر سے ڈیزائن کروایا تھا۔۔۔
وائٹ شہزادیوں جیسی لمبی گھیر دار میکسی جس پے ریڈ حسین کام ہوا تھا۔۔گلے اور کانوں میں ڈائمنڈ کا نازک سیٹ پہنے بالوں کا حسین طریقے سے باندھے ہلکے میک اپ میں وہ آسمان سے اڑتی حور لگ رہی تھی۔۔اس کے سر پر ٹکا دوپٹہ بہت لمبا اور حسین تھا۔۔۔جہاں وہ اتنی حسین لگ رہی تھی وہی اذہاد نے فل بلیک تھری پیس سوٹ پہنا تھا اس کے گلے کی ٹائی اور سائیڈ پاکٹ کا رومال ریڈ کلر کا تھا۔۔جس میں وہ انتہائی حسین مغرور اور رئیس زادہ لگ رہا تھا۔۔۔دونوں کی جوڑی اعلی سے اعلی تر حسین سے حسین لگ رہی تھی۔۔۔
ہر کوئی دونوں کو رشک اور تعریفی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔
آج اذہاد کے غرور کی وجہ اس کے ساتھ کھڑی اس کی محبت اس کی حور تھی۔۔جسے دیکھ کر ہر بار اذہاد کو اپنے اکیلے پن کے دور ہونے اپنے وجود کے مکمل ہونے کا حسین احساس ہوتا۔۔اس کی طرف ہر اٹھتی نظر میں اذہاد کو اس سے اور شدت سے محبت ہونے کا احساس ہوتا۔۔۔
ولیمے کی شاندار تقریب ختم ہونے کے بعد اذہاد اور حور ارتضیٰ کے گھر آئے تھے۔۔انہیں وہی سے ایئر پورٹ کے لئے نکلنا تھا جہاں انکی لندن کی فلائیٹ تھی۔۔۔
حور بیٹا اذہاد کو بلکل تنگ نہیں کرنا وہاں۔۔وہ اب شوہر ہے تمہارا اس کی ہر بات ماننا تمہارا فرض ہے۔۔اس کا خیال رکھنا۔۔عظمیٰ اسے سمجھا رہی تھیں۔۔جو اپنے کمرے سے خاص خاص سامان ساتھ لے جانے کے لئے ایک جگہ رکھتی دیکھ رہی تھی۔۔تبھی ان کی بات سنتی حیران نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔
واہ۔۔میری مما آپ گریٹ ہیں۔۔لوگ اپنے دامادوں سے کہتے ہیں کہ ہماری بیٹی کو خوش رکھنا۔۔ان کا خیال رکھنا۔۔یہاں آپ الٹا مجھے ہی نصیحت کر رہی ہیں۔۔وہ منہ بناتی بولی۔۔
میں اچھے سے جانتی ہوں اپنے داماد کو وہ بہت معصوم اور سیدھا سادھا ہے۔۔تمہاری کوئی بھی بات نہیں ٹالتا تم نے جتنا یہاں اسے نچایا ہے مجھے سب پتہ ہے۔۔عظمیٰ بھی اب سہی آخری وقت میں اس کی کلاس لے رہی تھیں۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *