Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20
یہ کیسی محبت ہے جہاں مان کی آڑ میں اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ بنا اس کی مرضی پوچھے کیا جائے گا۔۔اس کی خوشیوں کی قربانی مانگی جائے گی۔۔ہر انسان کا حق ہے اس کی زندگی کے سب سے بڑے فیصلے کو کرنے سے پہلے اس کی رائے لی جائے اس کی رضامندی پوچھی جائے یہاں تو اس کی زندگی کی ساری خواہشوں کو پوری کرکے آخر میں اس کی زندگی کے اہم فیصلے کو بنا اس کی رضامندی جانے حق سے اس پر تھوپا جا رہا تھا۔اپنے وعدوں کی آڑ میں اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کیا جا رہا تھا اسے لاعلم رکھ کر یہ غلط نہیں تو اور کیا تھا۔۔
کیا بیٹیوں کو مان کی۔۔وعدوں کی اور بزرگوں کی پگڑیوں کی ان کی عزتوں کی ان کے فیصلوں کو بلند رکھنے کے بدلے اتنی بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔ان سے ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی چھین لی جاتی ہے۔۔اور انہیں آخر میں اف تک کرنے کی اجازت نہیں۔۔وہ بس چپ رہیں اور سب کو یہ لگے کہ وہ سچی بیٹیاں ہیں جنہوں نے اپنے ماں باپ کا مان ان کی عزت ان کے فیصلوں کو بلند رکھا۔۔جبکہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ بیٹیوں کی قبریں اس تلے دب کے خاموش ہو چکی ہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔۔۔
عظمیٰ کی آنکھ سے رات کے اس پہر خاموش موتی آنکھ سے ٹوٹ ٹوٹ کر تکیے میں جذب ہو رہے تھے۔۔
جو بھی تھا غلط تھا وہ بھی ایک بیٹی تھی ماں باپ کے فیصلے سے بیاہی گئی تھی مگر مرضی انکی بھی پوچھی گئی تھی۔۔۔ مگر یہاں بات ان کی پڑھی لکھی بیٹی کی زندگی کا تھا جس کے ساتھ جانے ان جانے جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا تھا۔۔مان بھروسہ یقین وعدوں فیصلوں عزتوں کی آڑ میں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور آج میں تمہیں ہرگز جانے نہیں دوں گی۔۔ بیلا دروازہ کھولتی اس کے روم میں آتی ہوئی بولی۔۔
حور اس وقت اپنی کرسی پر بیٹھی کسی پیشنٹ کی فائل دیکھ رہی تھی۔۔بیلا کو اچانک آندھی طوفان کی طرح دروازہ کھول کے شروع ہوتے دیکھ کر حور نے گردن اٹھا کے بیلا کو دیکھا۔۔کیا میں جان سکتی ہوں کس بات کے لئے آج آپ مجھے جانے نہیں دیں گی؟! وہ دوبارہ فائل پر جھکتی ہوئی بولی۔۔
بیلا نے خود کو اتنا ہلکا لیے جانے پر تب کے کہا۔۔ جس کے ساتھ کل سیر سپاٹے کے لئے گئی تھیں ایک بار پھر مجھے چھوڑ کر۔۔
اب کے حور نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔۔بیلا میں تمہیں ابھی کچھ نہیں بتا سکتی دیکھو میں ابھی آن ڈیوٹی ہوں اوکے۔۔وہ اسے دیکھتی پھر فائل پر جھک گئی۔۔
حور بند کرو اسے میری بات سنو۔۔۔بیلا اس کے قریب آتی اس کی کھلی فائل بند کرتی ہوئی بولی۔۔
دھاڑ سے دروازہ پھر کھلا۔۔ڈاکٹر حورین ایمرجنسی ہے۔نرس اندر منہ کیے حورین کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔
حور نےفائل وہی میز پر رکھی اور باہر کی طرف دوڑ لگائی۔۔
بیلا غصے میں فائل پر ہاتھ مار کر رہ گئی۔۔ حور تم پھر بچ گئی مجھ سے۔۔ ابھی وہ اٹھ کر جانے لگی تھی کہ حور کا میز پر رکھا خوبصورت موبائل تھرتھرانے لگا۔۔بیلا نے آگے بڑھ کر تھرتھراتے موبائل کی اسکرین کو دیکھا جس پر مائی لو کی کال آ رہی تھی۔۔موبائل بج بج کے بند ہوگیا۔۔بیلا کو تجسس ہوا آخر یہ مائی لو ہے کون؟؟ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ ایک بار پھر موبائل بجا۔۔اب کے بیلانے بجتے فون کو دیکھ کر گہرائی سے کچھ دیر سوچا۔۔
اور پھر بجتے فون کو ہاتھ میں لے لیا۔۔مانا کے یہ بہت غلط بات ہے کہ کسی کا فون اس کی غیر موجودگی میں اٹھایا جائے تو کیا ہوا حور کوئی غیر تھوڑی ہے اس کی دوست ہے وہ اٹھا سکتی ہے اس کا فون۔۔پہلے تو ضمیر نے اسے شرمندہ کیا پھر بے غیرت ضمیر نے فورا سے دلیل دیں اور بیلا نے بغیرت ضمیر کی بات مانتے ہوئے موبائل اٹینڈ کر کے کان سے لگایا۔۔
بیلا کچھ نہ بولی وہ خاموش رہ کر جاننا چاہا رہی تھی کہ سامنے والا پہلے پہل کیا کرتا ہے۔۔
ہیلو حور۔۔۔ بھاری گھمبیر آواز میں سامنے والے نے فون کے مالک کا نام پکارا۔۔
بیلا نے اتنی بھاری آواز پر ایک دم فون کان سے دور کرکے فون کو دیکھا کہ اتنے میں دوبارہ آواز سنائی دی۔۔۔
حور سامنے والے نے مخاطب کرکے جاننا چاہا کہ لائن پر وہ ہے بھی یا نہیں؟؟جس کو فون کیا ہے۔۔۔
جی۔۔۔ جی۔۔۔ بولیں۔۔۔آخرکار ہمت کرکے لائن پر موجود انسان پے ترس کھا کر گھبراہٹ کو قابو کر کے با مشکل حلق سے جلدی سے آواز نکالی۔۔
اور اتنا ہی بیلا کا بولنا تھا کہ آزہاد کے کان فورا کھڑے ہوگئے کہ یہ کون تھا جو حور کے موبائل کو کان سے لگائے جواب دے رہا تھا۔۔ آزہاد کی چھٹی حس اسے پہلے ہی خبردار تو کر رہی تھی کہ وہ جو حور کی سانسوں کو میلوں دور بیٹھ کر پہچان سکتا تھا اس فون میں سے۔۔ تو آواز تو بہت دور کی چیز تھی۔۔یہ نہ تو اس کی حور کی سانسوں کی سرسراہٹ تھی نہ اس کی آواز ؟؟پھر کون تھا جس کی اتنی ہمت کے حور کا موبائل استعمال کرے۔۔آزہاد کا یہ سوچ کر ایک دم دماغ گھوم گیا۔۔
کون ہو تم اور حور کہاں ہے؟؟وہ بے حد سخت لہجے میں اس سے بولا۔۔
میں ہی ہوں حور۔۔۔ بیلا کے اب ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے وہ کہاں جانتی تھی آزہاد کو بیچاری نے اپنی عقل سے جو بھی کیا اب اس میں وہ بری طرح پھنس گئی تھی۔۔آزہاد کی روب دار آواز اور سخت لہجے میں پوچھے گئے سوالات سے بیلا کی حالت پتلی ہونے لگی تھی کہ جب ہی اس نے جھوٹ کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہوئے بات ابھی شروع ہی کی تھی کہ اذہاد اب اپنے شکار پر پنجے جھاڑ کر تیار تھا اس پر جھپٹے کیلئے۔۔وہ کیسے اتنی آرام سے خود کو اس کے سامنے اس کی حور کہہ رہی تھی۔۔بکواس بند کرو لڑکی ورنہ میں وہی آکر تمہارے گردن توڑ دوں گا۔۔تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی۔۔۔اذہاد کی دھاڑتی ہوئی آواز سن کر بیلا کو ایسا لگا جیسے اس نے کسی انسان کا نہیں جلاد کا فون اٹھا لیا ہو اس نے جھٹ سے فون کاٹا اور واپس اس کی اسی جگہ پر رکھ دیا جہاں وہ رکھا اچھا لگ رہا تھا۔۔بیلا کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا وہ کہاں جانتی تھی کہ فون اٹھائے جانے پر اتنی گرما گرمی ہو جائے گی۔۔۔
ٹیبل پر رکھا فون پھر چنگھاڑنے لگا اور بیلا اس فون کو دیکھ کر ایسے ڈر کر وہاں سے بھاگی جیسے وہ جلاد اس میں سے نکل کر واقعی اس کی گردن توڑ دے گا۔۔۔۔
بیل جاتی رہی اب وہاں سے کسی نے بھی کال دوبارہ نہ اٹھائی۔۔ اذہار غصے میں یہاں سے وہاں چکر پر چکر کاٹ رہا تھا ایک تو فون اٹھانے کی غلطی اوپر سے آزہاد کے منہ پر ہی جھوٹ بول کر اس کی کال کاٹ کر دوسری غلطی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ابھی اسی وقت حور کے ہوسپیٹل پہنچ جائے اور اس لڑکی کی گردن مروڑ دے۔۔۔
حور نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو سامنے رکھا اس کا موبائل بج رہا تھا حور آگے بڑھتی فون کا بٹن دباتی کان سے لگایا۔۔۔ہیلو۔۔۔ حور نے کہا۔۔۔
آزہاد کو جیسے اس کی آواز سن کر تھوڑا سکون ملا مگر غصہ ابھی بھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔
کہاں تھیں حور تم؟؟ میں کب سے فون کر رہا ہوں تمہیں اٹھا کیوں نہیں رہی تھیں۔۔اور تمہارا فون تھوڑی دیر پہلے کس کے ہاتھ میں تھا کون تھی وہ لڑکی؟؟
ایک ساتھ اتنے سوالوں کی بھونچاڑ خود پر ہوتی دیکھ حور تو چکرا ہی گئی اس کی ایک بھی پلے نہیں پڑی تھی جو بھی آزہاد نے اس سے کہا۔۔
ہادی ایک منٹ آپ کیا بول رہے ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی؟؟حور نے پریشان ہو کر اسے آگے بولنے سے روکا۔۔۔۔
آزہاد نے ایک گہرا سانس لیا۔۔۔حور جہاں تم فون رکھ کر گئیں تھیں وہاں تھوڑی دیر پہلے تمہارے ساتھ کون تھا؟؟آزہاد نے ڈائریکٹ مین سوال کیا جس سے چور کا بچنا ناممکن تھا۔۔
میرے روم میں؟؟حور کو ایک پل ہی لگا سوچنے میں کہ جب ہی چھم سے اس کے ذہن میں بیلا کی تصویر آئی۔۔۔بیلا ؟؟؟ہادی کیا تمہاری بیلا سے بات ہوئی؟؟
اور حور کے منہ سے نکلا وہ بیلا نام اذہاد کے ذہن میں چھپ گیا۔۔وہ اس بیلا نام کی لڑکی کو چھوڑے گا۔۔
ہادی کیا میرا فون بیلا نے اٹھایا تھا؟؟؟اذہار خاموش رہا۔۔
ہادی بولو کیا ہوا ہے؟؟ پلیز جواب تو دیں۔۔حور بےحد فکر سے بولی۔۔
حوراس بیلا کو میں چھوڑوں گا نہیں سمجھا دینا اسے۔۔ یہ کہہ کر آزہاد نے فون رکھ دیا۔۔۔
اور حور بےحد پریشان ہوکر اس کے بگڑتے موڈ کو دیکھ کر سر پکڑ کر رہے گی۔۔اس کا غصّہ وہ اچھے سے جانتی تھی۔۔جو اتنی جلدی ٹھنڈا ہونے والا نہیں تھا۔۔۔بیلا یہ کس مصیبت میں ڈال دیا تم نے مجھے۔۔
اسے بیلا سے ابھی بات کرنی تھی وہ فورا اٹھتی باہر کی طرف بڑھی۔۔۔۔
________________
بیلا اس سے چھپتی پھررہی تھی اب تک تو بھانڈا پھوٹ چکا ہوگا اس کی حرکت کا۔۔لعنت ہے بیلا ایسی گری ہوئی حرکت کرنے پر اب حور کیا سوچے گی تمہارے بارے میں۔۔وہ خود کو ملامت کئے جا رہی تھی جب پانی سر سے اوپر ہوچکا تھا۔۔اسے سامنے سے آتی حور نظر آئی بیلا فورا موڑی اور دوسری طرف تیز تیز چلنے لگی۔۔۔
حور نے اس کے انداز کو حیران ہو کر دیکھا۔۔بیلا۔۔بیلا۔۔وہ بھی تیز تیز چلتی اسے پیچھے سے آوازیں دینے لگی۔۔
آخرکار بیلا کو رکنا ہی پڑا وہ کب تک بھاگ سکتی تھی۔۔
بیلا آخر ہوا کیا ہے مجھے کچھ بتاؤ گی۔۔حور اسکے قریب آتی سخت لہجے میں اس سے پوچھنے لگی۔۔
بیلا نے معصوم سی شکل بنا کر گردن جھکائی ہوئی تھی۔۔۔
بیلہ ہوا کیا ہے پلیز مجھے بتاؤ۔۔ حور نے جھنجھلا کے اب پوچھا۔۔
حور میں نے تمہاری کال اٹینڈ کی تھی۔۔بیلا نے آہستہ آواز میں کہا۔۔
حور نے منہ کھول کر اس کا کارنامہ سنا۔۔۔کس کی کال تھی وہ؟؟حور کا پھر سوال آیا۔
مائی لو کی۔۔بیلا نے نیچے گردن کیے پھسی پھسی سی آواز میں جواب دیا۔۔اور اس کا جواب سن کر حور نے زور کا ایک ہاتھ اپنے سر پر مارا۔۔
بیلا تمہیں کس نے کہا تھا میری کال اٹینڈ کرنے کو حور نے بے بسی سے اب اسے دیکھ کر کہا۔۔
تو میں کیا کرتی حور تم مجھے کچھ بتا ہی نہیں رہی تھیں تو میں نے بھی کال اٹھالی۔خود پتا کرنے کے لئے۔۔بیلا نے جوش دکھاتے ہوئے حور سے کہا۔۔مگر مجھے کیا پتا تھا کہ تم ایک جلاد سے محبت کرتی ہو آخری جملے پر اس کی پھر سے حالت پتلی ہوتی دکھائی دی۔۔
خبردار میرے ہادی کو جلاد کہا تو۔۔ حور نے آنکھیں دکھاتے ہوئے بیلا کو وارن کیا۔۔بہت اچھا ہوا تمہارے ساتھ اور مجھے تو اور خوشی ہوگی جب ہادی یہاں آکر تمہاری گردن توڑ دیں گے۔۔حور نے اچھے سے اس کی کلاس لی۔۔
مجھے معاف کر دو پلیز مجھے بچالو۔۔ بیلا منمناتی حور اس سے بولی۔۔
حور نے بازو سینے پر باندھے اور اس کی طرف سے گردن موڑ لی۔۔
حور پلیز ایسی غلطی اب کبھی نہیں کروں گی۔۔ وہ تھوڑی دیر حور کو مناتی رہی آخرکار حور نے مان ہی لیا۔۔
ٹھیک ہے آئندہ ایسی غلطی دوبارہ مت کرنا میں ہادی سے بات کرتی ہوں۔۔ حور جانے لگی جب بیلا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا۔۔ پلیز اب تو بتا دو حور کون ہے وہ؟؟ وہ بے تابی سے حور سے بولی۔۔۔ بیلہ کے دماغ میں گھسا کیڑا اب بھی اس کے دماغ میں پھودک رہا تھا۔۔۔حور نے ایک پل بس اسے روک کر دیکھا۔۔اذہاد عریض حور یہ بول کر چلی گئی اور بیلا منہ کھولے سکتے میں اسے جاتا دور تک دیکھتی رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہاد خاموش بیٹھا خود پر ضبط کرتا میٹنگ اٹینڈ کر رہا تھا کہ جب ہی حور کی کال آنے لگی اس نے کچھ دیر تو بالکل اگنور کیا اس کی کال کو پھر آخر میں دل سے ہار مان ہی لی وہ اس سے خواب میں بھی ناراض نہیں ہو سکتا تھا۔۔
ایکسکیوزمی۔۔۔ یہ بولتا وہ وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا۔۔
ہادی۔۔۔ حور کی آواز کانوں کے پردے سے ٹکرائی۔۔اذہاد خاموش ہی رہا۔۔۔۔پلیز ہادی مان جائیں نہ میں اپنی غلطی مان تو رہی ہوں۔۔حورنے بےحد آہستہ اور نرم آواز میں اسے کہا۔۔۔
یہ آخری بار ہے حور آئندہ تم کہیں بھی جاؤ اپنے ساتھ موبائل ضرور لے کر جاؤ جب بہت مصروف ہو تو موبائل سائیلنٹ کر دو۔۔ وہ ناراض ناراض سا اس سے بولا۔۔
اوکے ہادی۔۔۔
ہاں مگر میں اس بیلا کو معاف نہیں کروں گا۔۔وہ پھر جلال میں آتا ہوا بولا۔۔
ہادی پلیز اس نے سوری کی ہے وہ بہت شرمندہ ہے اپنی غلطی پر۔۔
نہیں حور بالکل نہیں۔۔۔
پلیز ہادی ایک بار آخری بار پلیز غلطی بھی تو میری ہی تھی نہ۔آپ اس کی سزا مجھے دے دیں۔۔وہ اذہاد کو قائل کرنے لگی اور اذہاد نے ہتھیار اس کے آگے ڈال دیئے۔۔سمجھا لینا اپنی اس دوست کو یہ پہلی اور آخری بار تھا جب آزہاد نے کسی کو بنا سزا دئیے معاف کیا ہے۔وہ بھی صرف اپنی حور کے کہنے پر اس کی وجہ سے۔۔۔حور اس کی دھمکی سن کر مسکرا دی
اچھا غصہ ٹھنڈا کرلیں ہادی جی۔۔وہ اسے چھیڑتی ہوئی بولی۔۔
آزہاد بھی مسکرا دیا۔۔۔
گرینڈ پا کیسے ہیں گھر آ گئے وہ؟!
جی ہاں وہ بالکل ٹھیک ہیں وہ گھر بھی آگئے ہیں اور مس اس وقت میں بہت امپورٹنٹ میٹنگ میں ہوں جسے بیچ میں چھوڑ کر میں آپ سے گپے لڑا رہا ہوں۔۔
حور کو اپنی طویل گفتگو کا احساس ہوا۔۔اوہ سوری ہادی آپ جائیں۔۔۔حورنے شرمندہ ہوتے جھٹ اسے جانے کی اجازت دی۔۔
اذہاد بھی ہنسا۔۔اوکے میں فری ہو کر کال کرتا ہوں بائے اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہاد باپ کی موت کے بعد آج اسکول کیلئے اکیلے گھر سے قدم باہر نکال رہا تھا۔دنیا سے اس کی جنگ آج سے تھی جو اسے اب اکیلے لڑنا تھی۔۔۔
وہ سیدھا سیدھا اپنی کلاس کی طرف جا رہا تھا کہ جب ہی کسی نے زوردار لات اس کے پیچھے گوٹھنے کی طرف ماری جس سے اس کی ٹانگ مڑی اور وہ منہ کے بل زمین پر گرا خود کو بچانے کے لئے اس کے ہاتھ وغیرہ چھل گئے تھے اس نے پلٹ کر دیکھا۔
وہ اپنے چاروں دوستوں کے ساتھ کھڑا ہنستے ہوئے اسے زمین پے گرا دیکھ رہا تھا۔۔کیا ہوا اذہاد ڈرگئے۔۔
اس نے تمسخرانہ انداز میں اس سے کہا۔۔
اذہاد کے چہرے پر اس وقت کوئی احساس نہیں تھا وہ بس ٹھہری نگاہوں سے ایک ایک کی شکل دیکھ رہا تھا۔ اور خاص کر اس کی جو سامنے ہی کھڑا تھا۔۔
میں تو سمجھ رہا تھا تم اپنے باپ کے مرنے کے بعد چوہے کی طرح بل میں گھس کے بند ہوگئے ہو گے مگر نہیں تم تو باہر نکل آئے کھانے کی خوشبو سونگھ کے۔
اذہار خاموش ہی رہا۔۔۔
کیا ہوا گونگے ہو گئے ہو ازہاد اپنے باپ کے مرنے کے بعد۔۔ہاہاہا۔۔۔تمہاری ماں۔۔۔
اب اذہاد کی برداشت سے باہر ہوگیا۔۔۔اپنی زبان کو لگام دو پیٹر پٹرسن ورنہ میں تمہارا منہ توڑ دوں گا۔۔آزہاد نے مٹھیاں بھینچ کر اسے خبردار کیا۔۔
اور پیٹر اپنے تین دوستوں کے بل پر اکڑتا غصے سے اس کی طرف بڑھا آزہاد بھی تیار تھا۔۔ وہ چار اس کے مقابلے پے اور وہ ایک اکیلا۔۔مارا اس نے بھی مگر وہ چار تھے آزہاد اکیلا تھا آخر کب تک وہ اکیلا ان چاروں سے لڑتا۔۔وہ چار اس ایک پر حاوی ہو گئے تھے اور انہوں نے اسے بہت مارا۔۔۔۔
اذہاد اور پیٹر آپ دونوں کو شرم آنی چاہیے اس طرح لڑتے ہوئے اسکول کو اکھاڑا سمجھا ہوا ہے۔۔ یہ لاسٹ وارننگ ہے آپ دونوں کو اگر پھر اس طرح لڑتے نظر آئے تو اس اسکول میں آپ جیسے بچوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔۔۔ پرنسپل نے غصے سے دونوں کو دیکھتے ہوئے آخری وارننگ دی۔۔
اذہاد نے خاموش نظریں اٹھا کے پرنسپل کو دیکھا اور پرنسپل نے اسے دیکھتے ہوئے اپنی نظریں چرا کے باہر چلی گئی۔۔آزہاد کو دیکھ کے صاف کوئی بھی بتا سکتا تھا کہ اس لڑائی میں زیادہ نقصان کس کا ہوا ہے؟؟
پیٹر ہنستا ہوا اسے چڑاتا باہر چلا گیا اور آزہاد ٹانگ پر لگی چوٹ کے درد کی وجہ سے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا گھر کی طرف چل دیا۔۔
پیٹر پٹرسن شروع سے اذہاد سے نفرت محسوس کرتا تھا وہ اس کے گھر کے قریب ہی رہتا تھا اس کے مسلمان ہونے اور ہر چیز میں آزہاد کے آگے ہونے کی وجہ سے پیٹر پٹرسن اس سے نفرت محسوس کرتا تھا۔۔۔مگر زیاد کی موجودگی میں وہ اپنی نفرت کا اظہار کرنے سے ڈرتا تھا اور اب جب وہ تنہا رہ گیا تھا تو پیٹر کے پاس اس سے اچھا موقع کب تھا جب اس سے اپنی نفرت کا اظہار مارپیٹ کر نکالتا۔۔۔پیٹر نے اپنے چاروں لوفر دوستوں کے ساتھ مل کر اذہاد کو بہت مارا تھا۔۔۔اذہاد کو اس حالت میں دیکھ کر جنت کی جان حلق میں آگئی۔۔۔وہ بھاگتی ہوئی اس کی طرف آئی ازہاد کیا ہوا ہے میرے بچے کس سے جھگڑا کیا ہے تم نے؟؟ وہ پریشان اس کا چہرہ ہاتھوں میں لئے بولی۔۔۔
اذہار خاموش ہی رہا وہ نہ تب بولا تھا نہ اب۔۔
جنت اس کے معصوم وجود کو سینے میں بھینچے رودی۔۔ تم فکر نہیں کرنا میں کل جاؤں گی تمہارے اسکول ٹھیک ہے۔۔
کوئی ضرورت نہیں آپ کو وہاں جانے کی مما اب ویسے بھی ہمیں یہ سب تو برداشت کرنا ہی ہے کیونکہ میرے بابا اب رہے نہیں۔۔۔۔اذہاد نے آنکھوں میں آئے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔
نہیں اذہاد خاموش رہ کر سہنا بھی غلط ہے میں کل چلو گی آپ کے ساتھ ہم بات کرلیں گے۔۔۔
جنت کا دل اس کی حالت دیکھ کر پھٹا جا رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے بیٹے کو آپ جانتی ہیں از ہاد ایسا بچہ بالکل نہیں ہے وہ بہت سنجیدہ حساس اور خاموش طبیعت کا مالک ہے آج تک کبھی کسی سے زبان درازی نہیں کی لڑنا تو بہت دور کی بات ہے۔۔۔جنت نے بے حد شائستگی سے پرنسپل سے بات کی۔۔
دیکھے میں کچھ نہیں جانتی آپ کے بیٹے نے مارپیٹ کی ہے اور اس کی مارپیٹ کے گواہ پیٹر کے دوست بھی ہیں جو وہاں کھڑے تھے۔دیکھیں یہ آخری موقع ہے ازہاد کے لئے اس کے بعد بھی اگر اس نے مار پیٹ کی تو سوری ہم اسے مزید اس اسکول میں چانس نہیں دے سکتے۔۔پرنسپل نے بے حد اکھڑے اکھڑے لہجے میں جنت سے دو ٹوک کہا۔۔
مگر میرا بیٹا تو بہت ذہین تھا آپ کے اسکول کے ٹاپ پوزیشن ہولڈر بچوں میں سے ایک تھا آپ کیسے ان بچوں کی بات پر یقین کر کے میرے اذہاد کو اسکول سے نکال سکتی ہیں؟؟جنت نے بےحد گہرے صدمے سے حیران ہوکر پرنسپل سے کہا۔۔۔
آئی ایم سوری۔۔۔ پرنسپل نے آخری الفاظ بول کر جیسے بات ختم کی اور جنت کو صاف ہری جھنڈی دکھائی اور جانے کے لیے دروازے کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔۔
جنت شکستہ قدموں سے اٹھی اور اذہاد کے بارے میں سوچتی اس کے لئے پریشان ہوتی باہر آئی۔۔۔
اوہ۔۔ تم جنت ہونا بے۔۔ چاری کہاں جا رہی ہو؟؟ وہ خاموش چادر میں منہ چھپائے چل رہی تھی کہ اسے کسی عورت کے تمسخرانہ بولنے کی پیچھے سے آواز آئی اس نے پلٹ کر دیکھا تو وہاں پیٹر کی ماں کھڑی تھی اور ساتھ ہی اس کا فسادی بیٹا بھی کھڑا تھا جو اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا۔۔۔
تمہارے بیٹے کو شرم نہیں آئی میرے معصوم بیٹے کو اس بے دردی سے مارا ہے ارے ایسے ہوتے ہیں پڑوسی کیسا زہر بھرا ہے تم لوگوں کے دلوں میں ہمارے خلاف چلی کیوں نہیں جاتی اپنے مرے ہوئے شوہر کے پاس اپنے بیٹے کو لے کر ہماری زندگیوں میں تھوڑا سا کون تو آئے گا۔۔ وہ بے انتہا نفرت سے زبان سے نکالے گئے زہر بھرے تیر جنت کی طرف پھینکتی تنفن کرتی بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھے گی۔۔۔
جنت کے آنسو آنکھوں کے کنارے سے ٹوٹ ٹوٹ کر اس کی چادر میں جزب ہونے لگے اس نے گردن اٹھا کے آسمان کی طرف دیکھا۔۔اے میرے اللہ مجھے صبر دے میرے بچے کو صبر دے۔۔۔یہ دعا اس کے دل کے تہہ خانوں سے نکلیں اور آہستہ قدم اٹھاتی وہ آگے نکل گئی
________________
حور میرے بچے یہ دو سال مجھ پر بہت بھاری پڑ رہے ہیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے اب اور انتظار نہیں ہوتا بچہ تمہاری یاد بہت آتی ہے بس جلدی سے آ جاؤ اب تم میرے پاس۔۔داؤد اسکرین پر نظر آتے اس کے معصوم چہرے کو دیکھتے ہوئے بے حد محبت سے کہہ رہے تھے۔۔
حور ہنسی۔ دادو توبہ ہے آپ کے پاس تو سب ہیں میں یہاں اکیلی سوچیں ذرا آپ ایسی باتیں کریں گے تو میں اپنی پڑھائی پر توجہ کیسے دے پاؤں گی اور اب کچھ ہی مہینوں کی تو بات ہے پیپرز ہوتے ہی میں آپ کے پاس ہونگی ٹھیک ہے۔۔وہ بھی انہیں محبت سے دیکھتی بولی۔۔۔اپنوں سے ان کی بے پناہ محبتوں سے دور رہنا انجان ملک جہاں کوئی اپنا نہ ہو بہت بڑی بات ہے۔۔۔لیکن اب تو یہ انجان ملک اجنبی لگتا ہی نہیں تھا ایک انسان کی وجہ سے یہ سارا ملک اس کا اپنا ہوگیا تھا اور اپنا ملک پرایا پرایا سا لگنے لگا تھا۔ اور ویسے بھی اب اسے آزہاد کے ساتھ یہی تو اس کی دنیا کو اپنی دنیا بنانا تھا۔۔۔وہ داؤد سے باتیں کرتے کرتے جیسے کہیں کھو سی گئی۔۔ پھر مسکراتے ہوئے بولی آپ آرام کریں دادو اور اب آپ میری فکر بالکل مت کریں میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔
ٹھیک ہے میرے بچے اپنا بہت سارا خیال رکھنا اللہ حافظ۔۔
اللہ حافظ۔۔ وہ مسکراتے ہوئے لیپ ٹاپ بند کرکے کتابیں کھول کے بیٹھ گئی۔۔۔
داؤد بھی لیپ ٹاپ بند کرکے خاموش کچھ سوچنے لگے۔۔
ارے آپ نے اسے بتایا کیوں نہیں۔؟؟ سعدیہ بیگم پیچھے سے آتی ہوئی بولی۔۔
داؤد شریک حیات کی آواز سن کر اپنے خیالوں سے باہر آئے۔۔نہیں سعدیہ ابھی میں اسے یہ سب بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا بلاوجہ وہ اپنی تعلیم پر سہی توجہ نہیں دے پائے گی یہ رشتوں وغیرہ کا سب سوچ کر جب ہم باقاعدہ بات چیت پکی کر لیں گے پھر اسے بتائیں گے فی الحال ابھی خاموشی اختیار کرنا بہتر ہے۔۔سعدیہ بیگم نے داؤد کی بات سن کر سر ہلادیا۔۔۔ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔
جاری ہ
