Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18

حور کی آنکھ چنگاڑتی فون کی آواز پر کھلی وہ بوجھل آنکھیں کھولتی اٹھی اور موبائل دیکھے بنا یس کا بٹن پریس کرتی کان سے لگایا۔۔۔
گڈ مارننگ جان۔۔۔آزہاد کی فریش اور زندگی سے بھرپور آواز فون سے ابھرتی حور کے کانوں تک پہنچی۔۔۔اور حور نے ایک ہاتھ زور سے اپنے سر پر مارا۔۔۔ہادی آپ اتنی جلدی اٹھ گئے ؟؟؟اففففف۔۔۔ابھی میرے اٹھنے کا ٹائم نہیں ہوا ہے بائے۔۔ وہ واپس لیتے ہوئے بولی۔۔
حور اگر فون کاٹا تو گھر پہنچ جاؤں گا سمجھیں۔۔آزہاد نے دمدار دھمکی دی جو اثر بھی کر گئی۔۔۔
حور فورا اٹھتی ہوئی بولی۔۔ آپ کو کوئی کام وغیرہ نہیں ہے مجھے تنگ کرنے کے علاوہ ابھی تھوڑی دیر میں مجھے ہوسپیٹل جانا ہے اور سارا دن وہاں سر کھپاؤ تھوڑا تو آپ رحم کریں مجھ پر مجھے۔۔۔وہ بے چارگی سے بولی۔۔
آزہاد اس کے دکھڑے سن کے ہنسا۔۔۔یہ میرا مسئلہ نہیں ہے آپ کو میرے لئے بھی وقت نکالنا ہوگا حور۔۔ اب کوئی فائدہ نہیں تھا سونے کا اٹھنا ہی بہتر تھا اذہار سے تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد وہ تیار ہوکر ہوسپٹل کے لیے نکل گئی۔۔۔
بیلا ریسپشن پر ہی کھڑی تھی جب حور پیچھے سے آتی اس سے لپٹ گئی۔۔بیلا ایکدم ڈرگئی اور مڑ کے حور کو دیکھا۔
آپ کون میںم میں آپ کو نہیں جانتی؟؟ بیلا کے اجنبیت والے انداز پر حور اسے گھور کر رہ گئی۔۔
بیلہ یہ کیا بول رہی ہو میں حور؟؟
اوہ۔۔۔وہ حور جو کل اجڑی ہوئی بیمار سی لگ رہی تھی جو کل مجھے چھوڑ کر بھاگ گئی تھی۔۔بیلانے بھی لگے ہاتھ اس کی دھلائی کی۔۔
آئی ایم سوری بیلا۔۔۔ ہور نے سر جھکاتے معصومیت سے اسے کہا۔۔
اور بلا نے ہنستے ہوئے اسکے کاندھے پر مارا۔۔۔
اٹس اوکے پتا ہے میں تمہیں وہاں نہ دیکھ کر کتنا ڈر گئی تھی کم سے کم ایک فون کرکے بتا دیتی۔۔۔
میرا فون پتا نہیں کہاں گر گیا تھا وہ بیلا سے بہانہ بناتی بولی۔۔۔
اچھا کوئی بات نہیں اب تم ٹھیک ہو؟؟ وہ اس کی کل والی حالت دیکھتے ہوئے بولی۔۔
حور نے مسکراتے ہوئے گردن ہلائی۔۔۔
ہاں بھئی ویسے بھی آج کل آپ کافی مشکوکوں والی حرکتیں کر رہی ہیں۔۔۔بیلا نے گول گول آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔۔۔
حور نے پلٹ کے اسے دیکھا کیا مطلب۔۔۔
بیلا ایک دم ہنستی ہوئی آگے چلتی ہوئی بولی۔۔ کچھ نہیں چلو۔۔۔
______________
ویل مسٹر آزہاد عریض آپ کے گرینڈ پا بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں ہم ایک دو ٹیسٹ کرکے انہیں کل چھٹی دے دیں گے۔۔ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے آزہاد سے کہا۔۔
تھینک یو ڈاکٹر۔۔۔ اور ڈاکٹر سر ہلاتا ہوا آگے چلا گیا اذہاد آج ہی چھٹی لے لینی تھی یہ ڈاکٹر تو ایسے ہی اپنے پیسے بڑھانے کیلئے مریض کو چھٹی نہیں دیتے دیکھو میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں۔۔ وہ بیزارگی سے بولے۔۔۔
جی نہیں گرینڈ پا وہ جب کل چھٹی دے دیں گے تو مسئلہ کیا ہے آپ آرام سے یہاں انجوائے کریں۔۔وہ بھی مغرور انداز میں ان سے مخاطب ہوتا بولا۔۔۔
ہاں تم میری جگہ یہاں سارا دن لیٹے رہو پھر پتہ چلے گا تمہیں۔۔وہ ناراضگی سے اسے دیکھتے ہوئے بولے۔۔۔
اب اذہاد ہنسا۔۔۔
مجھے اس سے کب ملا رہے ہو؟؟ گرینڈ پا کے اچانک سوال پہ آزہاد نے پلٹ کے گرینڈ پا کو دیکھا۔۔جو باہر کے نظاروں سے لطف اندوز ہورہا تھا۔۔
کون حور ؟؟اور آزاد نے بھی بنا کوئی گھماؤ پھراوکے شان بے نیازی سے ڈائریکٹ گرینڈپاسے کہا۔۔
گرینڈ پا نے اب آنکھیں حیرت سے کھول کے آزہاد کو دیکھا واہ کیا اندازہ ہے صاحبزادے کا۔۔۔گرینڈ پا نے گردن ہلائی۔۔۔
وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتا قدم اٹھاتا ان کے قریب آیا۔۔۔
آپ جلدی ٹھیک ہو کر گھر آ جائیں پھر۔۔
کیوں یہاں کیوں نہیں؟؟ انہوں نے بھی سوال کیا۔۔
میں نہیں چاہتا آپ بیماری کی حالت میں اس سے ملیں اور میری حور ویسے بھی خود ایک اچھی اور قابل ڈاکٹر ہے تو آپ دونوں میرے توسے سے کم اور ایک مریض اور ڈاکٹر کے حساب سے زیادہ ملیں گے۔اور میں ایسا بالکل نہیں چاہتا۔۔۔ وہ مغرور انداز میں ان کے سامنے بیٹھتا ہوا بولا۔۔۔
اور گرینڈ پا نے اپنے کانوں کو زور سے ہلایا۔۔ یہ میں کیا سن رہا ہوں کہیں میرے کان تو نہیں بج رہے۔۔اذہاد عریض دی گریڈ بزنس مین۔۔ مغرور۔۔سڑو۔۔انسان جس کے آگے اپنی ذات کے علاوہ اور کوئی ذات قابل نہیں وہ ایک لڑکی کی تعریف کر رہا ہے اس کی قابلیت کی۔
میں اس وقت حیرتوں کے پہاڑ کے نیچے دب رہا ہوں آزہاد۔۔وہ اسے صحیح والا چڑاتے ہوئے بولے لیکن آزہاد پر ان کے چڑانے کا کوئی اثر نہیں ہوا وہ ڈھیٹ بنا سنتا رہا اور پھر بولا۔۔
ہاں تو میں بدلہ ہوں تو صرف اپنی حورین کے لئے ساری دنیا کے لئے میں اب بھی وہی ہوں اذہاد عریض اور پلیز مجھ پر اپنا ٹائم ویسٹ نہ کریں بہتر ہے آپ یہ سوچیں کے حور سے آپ کی ملاقات کیسے کروائی جائے۔۔۔
ہاں یہ تو کافی زیرغور مسئلہ ہے؟؟وہ اسے دیکھتے ہوئے ڈرامائی انداز میں بولے۔۔
اور اذہاد ہنستا ہوا ان کے پاس سے اٹھ کر باہر چلا گیا کیونکہ اس کے خیال میں آج کی تاریخ میں انہیں سیریس بلکل نہیں ہونا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیاد جب سے گیا تھا جنت نہ تو کوئی بات کرتی تھی نہ کسی بات کا کوئی جواب دیتی تھی بس گمسم جہاں دیکھتی وہاں گھنٹوں دیکھتی رہتی۔۔
باپ کی موت کے بعد سے آزہاد ماں کی اس حالت کی وجہ سے ہمیشہ اس کے ساتھ ہی رہتا تھا وہ اسکول بھی نہیں جا رہا تھا۔۔۔
جنت ایسا کب تک چلے گا تمہیں اس صدمے سے باہر توآنا ہو گا۔۔ آزہاد کے لیے۔۔زیاد بھائی کی موت مقرر تھی انہیں ایسے ہی جانا تھا ہم سب کو جانا ہے تم ایسے ہار تو نہیں سکتی کم سے کم اذہاد کے لئے سوچو وہ ابھی بہت چھوٹا ہے اسے تمہاری ضرورت ہے جنت میں نے جب زیاد بھائی کی موت کا سنا میں نے عمران سے ضد کی کے مجھے جنت کے پاس جانا ہے اور انہوں نے میری بات کی اہمیت رکھی اور فورا مجھے یہاں لے آئے جنت مجھے پتا ہے بابا کے میرے اور اب زیاد بھائی کے چلے جانے کے بعد تم بالکل اکیلی ہو گئی ہو یہاں مگر زندگی یہیں ختم نہیں ہوتی آزہاد کا سوچو۔۔۔ختیجہ جنت کے پاس آئی تھی اور اس کی یہ حالت دیکھ کر بے حد دکھی ہوئی تھی۔وہ اسے سمجھا رہی تھی۔۔
جنت گم سم ختیجہ کو دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی لڑیوں کی طرح ٹوٹ کر گر رہے تھے ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی وہ آٹھ سال کے بچے کی ماں ہو کر بھی نہیں لگتی تھی کیا یہ ظالم دنیا اسے جینے دے گی ؟؟
یوسف نے ختیجہ کی شادی دوسرے ملک میں کرکے خود تین سال پہلے ہی پاکستان چلے گئے تھے جنت اب یہاں بالکل اکیلی تھی جاتی بھی تو کس کے پاس جاتی باپ کے پاس جا نہیں سکتی تھی کیونکہ اس نے کہا تھا کہ وہ زندگی میں اپنے باپ کے در پر کبھی نہیں آئے گی اور ایڈم جانتے بھی نہیں تھے کہ جنت کہاں رہتی ہے۔۔
خدیجہ اس کے پاس ایک دو دن روک کر واپس چلی گئی تھی اور اس نے جاتے ہوئے آزہاد کو بھی محبت سے بہت کچھ سمجھایا تھا۔۔کہ اب اسے ہی اپنی ماں کو سنبھالنا ہے اور ایک قابل انسان بن کر دکھانا ہے اب اس کے علاوہ پوری دنیا میں اس کی ماں کا اور کوئی نہیں۔۔۔
یوسف نے بھی جنت سے فون پر زیاد کی موت کی تعزیت کی تھی انہوں نے اس سے کہا تھا کہ وہ ان کے پاس پاکستان آجائے مگر اس نے صاف منع کر دیا تھا وہ اس گھر کو یہاں بسی زیاد کی یادوں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانا چاہتی تھی اس لئے یوسف نے یہ فیصلہ کیا کہ ہر مہینہ ایک بھاری رقم بھیجوایا کریں گے تاکہ آزہاد کی تعلیم اور ان کا گزر بسر آرام سے ہو سکے اسے نوکریاں یا کسی کی غلامی نہ کرنا پڑے وہ اس برے وقت میں ایک باپ کا پورا پورا فرض ادا کر رہے تھے دور میلوں رہ کر بھی۔۔کبھی کبھی اپنوں سے بھی بڑھ کر غیر ہو جاتے ہیں۔۔
جنت اب آزہاد کے لیے خود کو سنبھال رہی تھی مگر جب آزہاد کی یاد حد سے بڑھ کر آتی تو وہ پاگلوں کی طرح چیختی اور اسے پکارتی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور کیا تم میرے ساتھ چلو گی مجھے کچھ شاپنگ کرنی ہے اپنے لئے۔۔۔بیلا لنچ ٹائم میں اس کے پاس آتے ہوئے بولی۔۔
حور نے کچھ دیر سوچا اور پھر ہاں کہہ دیا۔۔واہ کیا بات ہے شہزادی آج بڑے موڈ میں ہے بیلا نے اس کے جلدی مان جانے پر اسے چھڑا۔۔
حور نے ایک دھپ اس کی کمر پر لگائی اور دونوں ہنستے ہوئے لنچ کرنے چلی گئی۔۔۔
وہ دونوں ہوسپیٹل سے جلدی فری ہو کر لندن کے ایک بڑے مال میں آئی تھی شاپنگ کرنے۔۔۔بیلا اپنی چیزوں کو ڈھونڈنے میں گم ہوگئی اور حور کے لیے اس سے اچھا موقع اور کیا تھا وہ اس کی آنکھوں سے بچ کے جینٹس ایریا میں آگئی وہاں جینٹس کی تقریبا ہر چیز موجود تھی وہ آزہاد کے لئے کچھ خریدنے کے ارادے سے بیلہ کے ساتھ آئی تھی کپڑے تو بہت اچھے اچھے تھے مگر اسے آزہاد کے سائز کا آئیڈیا نہیں تھا اس نے زندگی میں کبھی جینٹس کی شاپنگ نہیں کی تھی۔۔آج اس کے دل نے آزہاد کے لیے کچھ اپنی پسند سے لینے کی خواہش کی تھی۔۔
میم کین آی ہیلپ یو؟؟ حور نے پلٹ کے دیکھا تو ایک انگریز خوبصورت سی لڑکی کھڑی تھی۔۔
جی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی پلیز اپ ہیلپ کردیں۔۔حور جو کب سے کپڑوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھی جارہی تھی تو وہاں کھڑی ہیلپر نے اسے پریشان دیکھ کے اس کی طرف مدد کے لئے آگے بڑھتی اس سے پوچھنے لگی۔۔۔
اوکے میںم آپ کو اس میں سے کونسا پسند آ رہا ہے؟؟ اس نے بہت ساری لٹکی ہوئی جیکٹس کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
حور نے ایک بلیک کلر کا گرم جیکٹ نکال کے اسے دیا۔ مجھے یہ پسند ہے۔۔۔
اوکے میںم آپ مجھے سائز بتائیں گی؟؟لڑکی نے مسکراتے ہوئے حور سے کہا۔۔۔
اور حور کی مسکراہٹ غائب ہوگئی۔۔ وہ کیا ہے کہ مجھے ان کا سائز نہیں پتا میں پہلی بار شاپنگ کر رہی ہو ان کے لئے۔۔۔یہ کہتے ہوئے حور بلیش کرنے لگی
وہ لڑکی حور کو دیکھ کے مسکرائی۔۔۔
بٹ میں آپ کو ان کی ہائٹ بتا دیتی ہوں۔۔ مجھ سے بہت لمبے ہیں ساڑھے چھ فٹ جتنی ان کی ہائٹ ہے اور رومن رینچ کی جیسی جسامت ہے یہ چوڑے سے اس نے ہاتھوں کو کھول کے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔
اور لڑکی اس کے سمجھانے کے اسٹائل کو دیکھ کے زور سے ہنسی۔۔ اوکے میںم میں بالکل سمجھ گئی۔۔۔
اور وہ لڑکی آگے بڑھتی اس کے بتائے گئے سائز کے حساب سے وہ جیکٹ نکال کے حور کو دکھائی۔اور حور نے چمکتی آنکھوں سے لڑکی کو دیکھا اور بولی پرفیکٹ۔۔اور اس لڑکی کی مدد سے حور نے اذہاد کے لئے اور بھی بہت کچھ لیا۔۔۔
بیلا حور کو ڈھونڈ رہی تھی کہ جب ہی حور سامنے سے کافی بیگ ہاتھ میں لیے آتی نظر آئی۔۔۔
ارے واہ حور تم نے تو بڑی زبردست شاپنگ کرلی مجھے بھی دکھاؤ کیا لیا؟؟؟بیلا آگے بڑھتی اس کے بیگوں میں جھانکنے لگی۔۔۔
کچھ بھی نہیں ہے صبر رکھو بتا دونگی ورنہ تم نے میری جان کھا جانی ہے۔۔حور نے سارے بیگ پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔
ہممم۔۔۔۔ویسے صاف پتہ لگ رہا ہے حور کہ شاپنگ میل کے لئے کی گئی ہے اب شرافت سے بتا دو کون ہے جس کے ساتھ آج کل آپ کے ڈرامے عروج پر ہے??بیلا کمر پر ہاتھ رکھتی بیچ مال میں شروع تھی ۔۔
بتا دوں گی اب چلو بھی حور اور اس کا ہاتھ کھینچتی آگے بڑھے گئی۔ ۔۔
مجھے بتا دو لڑکی ورنہ میں اس غم میں مر جاؤں گی کہ میری دوست میری پیاری دوست نے مجھے اپنی زندگی کے سب سے بڑے راز سے دور رکھا۔۔۔وہ ہوا کے ساتھ چلتے ڈرامے کرنے میں مگن تھی اور جب ہی حور کی نظر اس خوبصورت رنگ پر پڑی۔۔ حور کے قدم ایک دم اس رنگ کو دیکھ کے رک گئے۔۔وہ منہ کھولے اس خوبصورت جینٹس رنگ کو دیکھ رہی تھی۔۔ اور پھر دروازہ کھولتی بیلا کو کھینچتی شاپ کے اندر آ گئی۔۔۔۔
مجھے وہ رنگ دکھائیں۔۔حور نے شاپ پہ کھڑے لڑکے سے کہا۔۔بیلا چپ کھڑی ہور کو دیکھ رہی تھی۔۔
اس لڑکے نے وہ رنگ لا کے حور کو دی حور اس خوبصورت رنگ کو ہاتھ میں لئے دیکھنے لگی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی وائٹ کلر کی جس میں چھوٹے چھوٹے باریک ڈائمنڈ لگے تھے وہ رنگ ایک بادشاہ کے تاج (کراؤن) کی شکل کی تھی جو آزہاد کے ہاتھ میں بہت خوبصورت لگتی۔۔
حور نے خوشی سے لڑکے کی طرف دیکھا کیا مجھے اس کی قیمت بتا سکتے ہیں ؟؟؟
یس میم یہ 25 لاکھ کی ہے۔۔۔لڑکے نے حور کو جواب دیا۔۔
لڑکے کے منہ سے رنگ کی پرائز سن کر بیلا کو زور زور سے کھانسی ہونے لگی۔۔۔اور حور نے آہستہ سے نظریں چراتے ہوئے وہ رنگ لڑکے کو واپس کردی۔۔اور منہ لٹکا کے شاپ سے باہر آگئی..حور آہستہ قدموں سے چلنے لگی۔۔حور تم کوئی اور پسند کر لو یار وہاں اور بھی ہیں۔۔بیلا نے اس کے اداس چہرے کو دیکھتے ہوئے مشورہ دیا۔۔
حور مسکراتی ہوئی بیلا کی طرف پلٹی اورالٹے قدموں پیچھے جاتے ہوئے بولی جو مجھے پسند آگئی چیز اپنی پسند کے لیے تو میں وہ لے کر ہوگی۔۔۔
بیلا اس کی بات سن کر کندھے اچکا کے رہے گی بے چاری حور کا دماغ اس انگوٹھی کی وجہ سے خراب ہو گیا ہے اس لئے ایسی باتیں کر رہی ہے۔۔۔
پھر دونوں باتیں کرتی ہوئی مال میں بنے ایک ریسٹورنٹ میں آگئی۔۔
بولو حور کیا کھاؤ گی؟؟بیلہ نے پوچھا۔۔۔
میں کچھ بھی نہیں کھاؤں گی تم اپنے لیے لے آؤ ہاں اگر ایک کپ چائے مل جاتی ہے تو وہ میرے لئے لے آؤ۔۔
سوری میڈم یہاں چائے نہیں کافی ملے گی۔۔بیلا نے چائے کی رسیا سے کہا۔۔
حور نے منہ بنا کے بیلا کو دیکھا۔۔یار اس معاملے میں میرا پاکستان بہت اچھا ہے جہاں جاؤ جدھر جاؤ آپ کو چائے ضرور ملے گی ٹھیک ہے پھر میرے لئے کافی ہی لے آؤ۔۔۔
اور بیلا اپنے لئے برگر اور اس کے لیے کافی لینے کاؤنٹر پر چلی گئ
__________________________
وہ دونوں بیٹھی ابھی باتیں کر رہی تھی کہ حور کا فون رنگ کرنے لگا۔۔حور نے فون نکال کے دیکھا تو مائی لو کی کال آرہی تھی وہ جب بھی یہ نام دیکھتی اسے بہت ہنسی آتی۔۔
ہر کسی کے نام پر نہیں گونجتی۔۔
دھڑکنیں بڑی بااصول ہوتی ہیں۔۔
وہ فون اٹینڈ کرتی فون کان سے لگاتی بولی السلام علیکم۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔ حورکہاں ہو؟؟ اس کی آواز تھوڑی سی سخت تھی حور کو کم سے کم ایسا محسوس ہوا۔۔حور کی ہنسی ایک پل میں غائب ہوئی۔۔
وہ وہاں سے اٹھتی بیلہ سے دور ہو کر بات کرنے لگی ہادی میں بیلا کے ساتھ شاپنگ۔۔۔
حور تم نے مجھے بتایا؟؟آزہاد کی آواز اس کی بات کاٹتی بیچ میں ابھری۔۔
حور کا دل زور سے دھڑکا۔۔ہادی اس نے آہستہ آواز میں اس کا نام پکارا۔۔
ازہاد نے اپنی آنکھیں زور سے بند کی۔۔ حور مجھے فکر ہوتی ہے تمہاری میں تمہیں لینے یہاں ہوسپیٹل آیا تو پتہ چلا کہ حور کو نکلے کافی ٹائم ہوگیا ہے حور تمہیں پتا ہے میں کتنا پریشان ہو گیا تھا تمہارے لیے تم ہوسپیٹل اور گھر کے علاوہ کہیں آتی جاتی نہیں ہو تو اچانک تمہارے ہوسپٹل سے جلدی جانے پر مجھے فکر تو ہوگی نہ۔۔۔اب آزہاد نے نرمی سے اسے سمجھایا تو حور کو اپنی غلطی سمجھ میں آگئی۔۔
آئی ایم سوری۔۔ حور نے آہستہ سے کہا
نو سوری حور صرف ایک فون۔۔تم مجھے صرف ایک فون کرکے انفارم کر دو بس۔۔۔
اوکے۔۔حور نے کہا۔۔
اچھا آپ فورا باہر آؤ میں تمہیں لینے آیا ہوں باہر کھڑا ہوا تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔۔ یہ بات کہہ کے آزہاد نے لائن کاٹ دی اور حور بیلا کی طرف بڑھی۔۔
کس کا فون تھا!؟بیلا نے مشکوک نظروں سے ہور کو دیکھتے ہوئے پوچھا حور ہنسی۔۔ تمہارے جیجاجی کا۔۔ حور نے سارا سامان سمیٹتے ہوئے بیلا سے کہا۔۔ بیلا منہ کھولے اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے اس نے کوئی انوکھی بات کر دی ہو۔۔۔
ہور کون ہے وہ؟؟ بیلہ نے جھٹ پوچھا۔۔
نام نہیں بتاؤں گی ملاؤں گی اوکے ابھی میں جا رہی ہوں تم میری گاڑی گھر پہنچا دینا بائے۔۔
اوئے کافی تو پیتی جاؤ۔۔ بیلہ نے پیچھے سے آواز لگائی۔۔
ہور پلٹی۔۔ تم پی لو۔۔یہ کہتی وہ آگے چلی گئی۔۔
حور نے جیسے ہی دروازے سے باہر قدم نکالا سامنے ہی آزہاد کھڑا تھا اپنی پوری تیاری کے ساتھ ہمیشہ کی طرح ہینڈسم ڈیشنگ اسٹائلش ہزاروں کے دل دھڑکاتا ہوا۔۔حور کی نظر جب اس پر پڑی تو حور نے دل میں اس کی چپکے سے نظر اتاری اور ماشااللہ کہا وہ گاڑی سے ٹیک لگائے ٹانگ پر ٹانگ جمائے جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا اور حور کو آتا دیکھتا وہ ایک دم سیدھا ہوا اور مسکرایا وہ قریب آتی حور کو دیکھنے لگا۔۔
معصوم چہرہ بنا میک آپ کے لائٹ اور ڈارک شیڈ کے لمبے بال جن کو آگے سے بل دے کر پیچھے کھولے چھوڑے ہوئے تھے۔لمبی کم گھیر کی سیدھی فراک جس کا کلر اس کی کانچ جیسی نیلی آنکھوں سے ملتا جلتا تھا وہ اس وقت ازہاد کو حوروں سے بھی زیادہ حسین لگی تھی۔۔
جو میری آنکھوں کو نور بخشے۔۔
وہ سب سے دلکش خواب تم ہو۔۔
میری محبت سوال ہے گر۔۔
تو پھر مکمل جواب ہو تم۔۔
تم ہی کو سوچوں۔تم ہی کو لکھوں۔۔
تم ہی کو لفظوں میں قید کر لوں۔۔
میں ایک شاعر۔تمہارا ساحر۔۔
میرا مکمل نصاب ہو تم۔۔
آزہاد اسے نظروں سے دیکھتا دل میں بسا تا اس کے لیےگاڑی کا دروازہ کھولنے لگا۔۔
حور آہستہ سے چلتی ہوئی آئی اور گاڑی میں بیٹھ گی اور سامان پیچھے والی سیٹ پر رکھنے لگی حور جب واپس پلٹی تو دیکھا ازہاد اس کی طرف کا دروازہ پکڑے دونوں ہاتھ اوپر جمائے ان پر ٹھوڑی رکھے حور کو دیکھے جا رہا تھا۔۔۔
حور نے دونوں ہاتھوں کے اشارے سے ازہار سے پوچھا کیا ہوا؟؟
آزہاد اسے دیکھتا مسکراتا ہی رہا۔۔۔
حور نے اپنا سر پیٹ لیا اور آگے بڑھ کر دروازہ خود کھینچ کے بند کیا۔۔ ازہار بھی ہنستا ہوا اپنی سیٹ کی طرف آیا۔۔۔
سنو!!
مجھ سے نہیں ہوتا۔۔
دلیلیں دوں۔۔
مثالیں دوں۔۔۔
میری آنکھوں میں لکھا ہے۔۔
مجھے تم سے محبت ہوں۔
میری زندگی سویٹ ہارٹ مائی لو کیسی ہیں آپ؟؟؟ازہاد اندر گاڑی میں بیٹھتا حور کو دیکھتا شرارت سے بولا۔۔۔
حور نے حیرت سے آنکھیں کھول کے ازہار کو دیکھا اور ایک زبردست چونٹی اس کے بازو پر کاٹی۔۔۔
ازہاد زور سے چیخا حور۔۔۔وہ ڈرائیو کرتے ہوئے حور کو گھورنے لگا۔۔
یہ سزا ہے آپ کی۔۔ حور لمبے بالوں کو سمیٹتی ہوئی ان کا جوڑا بناتے ہوئے اذہار سے بولی۔۔
آزہاد نے ایک بار اسے پلٹ کے دیکھا اور مسکراتے ہوئے زور سے اس کا گال ایک ہاتھ سے کھینچا۔۔
اب حور زور سے چلائی ہادی ی ی ۔۔۔۔۔اور اس کے چیخنے سے آزہاد کے زوردار قہقے پوری گاڑی میں گونجنے لگے۔۔۔
حور اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اس کے بازو اور کندھے پر مارنے لگی اور جب مار کے تھک گئی تو رونی صورت بنا کے زور زور سے اپنا گال سہلاتی اذہاد کو دیکھنے لگی۔۔آزہاد اسے دیکھتا ہنسے ہی جا رہا تھا۔۔۔اب حور لال ہوتے گال پر ہاتھ رکھے باہر کی طرف دیکھتی اذہار سے ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی۔۔
حور میں نے زیادہ زور سے بھی نہیں کھینچا تھا۔۔آزہاد نے ناراضگی دور کرنے کے لئے معصومیت سے اپنی صفائی پیش کی۔۔۔
وہ اس کی طرف سے منہ موڑے ہوئے تھی۔۔۔
آزہاد نے اس کے خوبصورت لپٹے لمبے بالوں کے جوڑے کو دیکھا۔۔۔اچھا حور یہ تمہارے اصلی بال ہیں؟؟اور یہ کہتے کے ساتھ آزہاد نے اس کے بالوں کا جوڑا کھول دیا۔ سلکی لمبے بال فورا کمر پر بکھر گئے
حور پلٹی اور اس کے ہاتھ پر زور سے مارا۔۔۔
بتاؤ نہ حور یہ تمہارے اصلی بال ہیں؟؟ اذہار ہنستے ہوئے اسے چھیڑ رہا تھا۔اب اس نے حور کے بالوں کی ایک اچھی موٹی سی لٹ کو اپنی انگلی میں لپیٹ کے ہلکا سا کھینچا۔۔۔اور حور نے غصے بھری آنکھوں سے آزہاد کو دیکھا۔۔مجھے یہی اتار دیں مجھے کہیں نہیں جانا آپ کے ساتھ۔۔وہ غصے سے اذہاد سے بولی۔۔
سوری یار میں تو دیکھ رہا تھا کھینچ کے کہیں مجھے امپریس کرنے کے لیے تم نے مصنوعی بال تو نہیں لگائے۔۔۔وہ اب بھی باز نہیں آرہا تھا اپنی شرارتوں سے۔۔
اب حور نے غصے سے اس کی شرٹ گاندھے سے پکڑ کے زور سے اسے ہلایا اور بولی۔۔ہاں آپ کہیں کے حور پرے ہیں شہزادے ہیں کسی ریاست کے ہیں کیا ہیں کیا آپ جو میں آپ کو امپریس کرنے کے لئے اتنی مشقتیں اٹھاؤں۔۔۔۔اس نے تنتناتے ہوئے آزہاد سے کہا۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *