Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31

وہ قبرستان سے داؤد کے ساتھ انہیں چھوڑنے ایئرپورٹ آیا تھا داؤد نے اسے بہت منع بھی کیا مگر وہ ضد کرکے پھر بھی انہیں چھوڑنے ایئرپورٹ تک آیا تھا۔۔۔
داؤد نے جاتے ہوئے حور کی ساری کنڈیشن اذہاد کو بتا دی تھی وہ رات سے بے ہوش ہی تھی شاید اب اسے ہوش آ گیا ہو۔۔
تم اسے کچھ کھلا پلا بھی دینا آب صرف تم اسے سنبھال سکتے ہو۔۔ وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے جہاں شاہ زیب کھڑا خاموشی سے ان کا انتظار کررہا تھا۔۔ اذہاد اور شاہ زیب کے بیچ اس وقت میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی اور ایسی حالت میں شاہزیب نے کوشش بھی نہیں کی تھی اذہاد سے بات کرنے کی اور اذہاد تو اذہاد تھا۔۔۔۔وہ خاموش اس کی موجودگی اپنی نظروں کے سامنے برداشت کر رہا تھا وہ کافی تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ میری روح کی چادر میں آکے چھپ گیا ایسے۔۔
کہ روح نکلے تو وہ نکلے وہ نکلے تو روح نکلے۔۔۔
آزہاد نے آہستہ سے اس کے اپارٹمنٹ کا دروازہ کھولا داؤد نے چابی جاتے ہوئے حور کے اپارٹمنٹ کی آزہاد کو دے دی تھی۔۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ماحول کو پرکھتا آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔اس کا دل بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔ ایک عجیب سا احساس تھا جو پہلے اسے دیکھنے اس سے ملنے پر نہیں ہوتا تھا۔۔وہ تھا ان دونوں کے بیچ ایک مضبوط رشتہ۔۔۔۔جس رشتے کی مضبوط ڈور سے ان دونوں کو باندھ دیا گیا تھا۔۔۔آخرکار آزہاد کا نصیب حور کے نصیب کے ساتھ جڑ ہی گیا۔۔وہ اب ایک خوبصورت حوالے سے جانی جائے گی۔۔۔۔ کاغذی ہی سہی مگر تھا تو نا۔۔۔
کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی اس کے در پر کبھی دربدر۔۔۔۔
غم عاشقی تیرا شکریہ میں کہاں کہاں سے گزر گیا۔۔۔
________________
وہ قدم بڑھاتا تھوڑا آگے آیا تو دیکھا وہ سامنے ہی صوفے سے پشت ٹکائے ٹانگوں کو سینے سے لگائے اپنے دونوں ہاتھ ٹانگوں کے اردگرد باندھے نیچے زمین پر بیٹھی سامنے دیکھ رہی تھی۔۔ لمبے بال بکھرے ہوئے سامنے منہ کی طرف گرے ہوئے تھے۔۔ دوپٹا آدھا کاندھے پر تھا آدھا زمین پر نیچے گرا ہوا تھا۔۔ اس کی ایسی حالت دیکھ کر آزہاد ایک پل کے لئے ڈر سا گیا تھا۔۔۔ اسے دادو نے کل صبح کی اس کی حالت بتائی تھی۔۔۔ اسے کہیں پھر کوئی اٹیک تو نہیں ہوگیا پاگل پن کا۔۔؟؟وہ یہ سوچتا تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔۔ حور کیا ہوا ہے؟؟ابھی وہ یہ بولتے اس کے بالوں کو پیچھے کرنے ہی والا تھا۔۔ جب حور نے زور سے اسے دھکا دیتے ہوئے چیخ کر کہا۔۔۔
دور رہو مجھ سے۔۔ ہاتھ بھی مت لگانا مجھے۔۔
آزہاد کی آنکھیں حور کہ اس طرح وحشت زدہ ہونے پر پھٹ سی گئیں تھیں۔۔ وہ یہ کیا بول رہی تھی؟؟ کیا یہ اس کی حور ہے؟؟
حور تیز تیز سانس لیتی کھڑی ہوئی۔۔ اس کے سارے بال دونوں طرف سے اس کے منہ پر آئے ہوئے تھے۔۔ وہ اذہاد کو اپنے ہوش و حواس سے بیگانی لگی۔۔
آزہاد بھی فورا کھڑا ہوا۔۔
اب وہ زور زور سے عجیب آوازیں نکالتی دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی۔۔۔ آزہاد پھر اس کے قریب آیا۔۔ حور میری بات۔۔۔۔ ایک بار پھر اسے سنبھالنے کی نیت سے وہ آگے بڑھا تھا۔۔۔ اس کا غم آزہاد کے غم سے کم نہیں تھا۔۔۔
رشتوں کا نہ ہونا اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا جتنا کے رشتوں کے ہوتے ہوئے احساس کا مر جانا ہوتا ہے۔۔ تمہاری وجہ سے ہوا ہے یہ اذہاد عریض۔۔ وہ پاگلوں کی طرح چیختے ہوئے اب آگے بڑھی تھی اور زور سے اس کے سینے پر دونوں ہاتھ مارتے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیتی جا رہی تھی۔۔ میرے بابا مجھ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناراض ہوگئے۔۔ تمہاری وجہ سے کیوں آئے تم کیوں؟؟ وہ اسے مار رہی تھی۔۔تم نے میرا سب کچھ چھین لیا مجھ سے۔۔میرے رشتے۔۔ میرے بابا سب کچھ۔۔۔میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔وہ بے تحاشا رو رہی تھی اور اذہاد وہ تو گم سم سا آنکھوں میں آنسو لیے اس کے ہاتھ سے زخم پہ زخم کھائے جا رہا تھا۔۔۔اس نے ایک بار بھی اس کے ہاتھوں کو نہیں روکا لہو لہو دل کے ساتھ اس کی تڑپ دیکھ کر خود بھی تڑپ رہا تھا۔۔۔۔کبھی کبھی انسان کو وہ رشتے بھی تھکا دیتے ہیں جو اس کا سکون ہوتے ہیں۔۔۔
صرف تکلیف تکلیف شدید تکلیف تھی۔۔ اس کا دل حور کی ایسی حالت دیکھ کر شدید اذیت میں مبتلا ہو رہا تھا اس کا دل پھٹ رہا تھا۔۔۔آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔ وہ تو اس کی آنکھوں کا خواب دل کی دھڑکن روح کا سکون اس کا عشق تھی۔۔۔اس کی اس حالت کا ذمہ دار وہ خود کو ٹہرا رہا تھا۔۔اس کی روح حور کا یہ حال دیکھ کر بے حد اذیت کا شکار تھی۔۔بعض دفعہ اس کرب کو لفظوں میں بتانا بہت مشکل ہو جاتا ہے جو ہم محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔
وہ بے تحاشا رو رہی تھی اسے مارتے مارتے اچانک حور نے اپنے بالوں کو مٹھی میں جکڑ لیا۔۔اس کا دل باپ کی ناراضگی برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔
آزہاد تڑپ کر چیختا ہوا آگےبڑھا۔۔۔حور چھوڑو۔۔وہ حور کے ہاتھوں کو کھولنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ وہ اپنے حواس بالکل کھو چکی تھی۔۔۔ آزہاد کے ہاتھ لگانے پر وہ پھر اس کے سینے پر مارنے لگی۔۔۔
چھوڑو مجھے آزہاد میں نفرت کرتی ہوں تم سے۔۔ تم نے میرا سب کچھ چھین لیا۔۔وہ تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی۔۔ کہ اذہاد نے اس کے دونوں ہاتھوں کی کلائیوں کو پکڑ کر اس کی کمر کے پیچھے لے جاکر اپنے مضبوط ہاتھوں میں جکڑ لیا تھا۔۔
آنسو ٹوٹ کر حور کے چہرے پر گر رہے تھے۔۔ مگر وہ تو کسی پرندے کی طرح اس کے شکنجے میں پھڑپھڑا رہی تھی۔۔ چھوڑو مجھے۔۔ اذہاد چھوڑدو۔۔۔چیخ چیخ کے اس کا گلا بیٹھ گیا تھا۔۔ازہاد اس کی تکلیف پر اندر ہی اندر سے ٹوٹ پھوٹ گیا تھا بکھر گیا تھا۔۔۔
اداس ہوں پر تجھ سے ناراض نہیں۔۔۔
تیرے دل میں ہوں پر تیرے پاس نہیں۔۔۔
جھوٹ کہوں تو سب کچھ ہے میرے پاس۔۔۔
اور سچ کہوں تو اک تیرے سوا کچھ بھی میرے پاس نہیں۔۔۔
اذہاد اسے کتنی دیر ایسے ہی خود سے لگاۓ کھڑا رہا تھا۔۔ آخر کار رو رو کر حور کی آنکھیں خشک ہو گئی وہ جب تھک کرنڈھال ہوئی تو اس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔اور اذہاد نے اس کے بکھرے درد سے چور غم سے نڈھال وجود کو اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔۔
وہ اب اس کے سینے پر سر رکھے آواز کے ساتھ زور سے رو رہی تھی۔۔ہادی۔۔۔ ہادی۔۔۔ میرے ۔۔با۔۔با۔۔وہ بس یہی الفاظ بولے جا رہی تھی۔۔
آزہاد نے اسے محبت سے خود میں زور سے بھینچ لیا۔۔پھر آہستہ آہستہ اس کے بالوں کو پیار سے سمیٹتے اس پر اپنے لب رکھ کر گال ٹیکا دیے اس کے آنسو حور کے بالوں میں جذب ہو رہے تھے۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں حور ۔۔ میں سب ٹھیک کردوں گا۔۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے نا حور ۔۔۔میں سب ٹھیک کردوں گا ۔۔تم رومت۔۔میں انہیں منا لوں گا۔۔پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔غم تو اس کا بھی بہت تھا حور کے علاوہ اس کا کون تھا اب جس کے آگے وہ اپنا غم ہلکا کرتا مگر یہاں تو حور خود غم سے نڈھال تھی اور ازہاد حور کے لیے اپنے غم کو اپنے دل میں دفن کرتا حور کو سنبھال رہا تھا۔۔۔
آزہاد نے اسے آہستہ سے صوفے پر بٹھایا۔۔ اس کے چہرے سے سارے آنسو صاف کیے۔۔ اسے پانی پلایا۔۔ ہلکی بخار کی حدت وہ محسوس کر چکا تھا۔۔
وہ اٹھا اس کے لئے ناشتہ بنا کر لایا۔۔ جس میں ایک بوائل انڈا۔ کچھ سلائس اور چائے جو۔حور کی کمزوری تھی۔۔جو اس نے ایک بار حور کو بناتے ہوئے دیکھ کر ہی اس کے لیے بنائی تھی۔۔ اس کے آگے ٹرے رکھتا اس میں سے ایک سلائس کا ٹکڑا توڑ کر اس کے منہ کی طرف لایا۔۔حور جو اس دوران بھی رو رہی تھی اس کا ہاتھ ہٹا کر نفی میں گردن ہلانے لگی۔۔
آزہاد نے پھر خاموشی سے ہاتھ اس کے منہ کی طرف بڑھایا اور پھر اس نے آنکھوں میں آنسو بھرتے روتے ہوئے وہ نیوالا کھا لیا۔۔ایک دو نوالے کھانے کے بعد اس نے منع کردیا۔۔۔ہاں چائے اسنے ضرور پی تھی جس سے اس کے ذہن نے تھوڑا بہت کام کرنا شروع کیا۔۔۔
آزہاد بھی تو بھوکا تھا اس نے بھی کچھ نہیں کھایا پیا تھا۔۔ حور کے ذہن نے فورا اسے اطلاع پہنچائی اور حور نے بھی ایک نوالہ اس کی طرف بڑھایا جیسے آزہاد نے مسکراتے ہوئے نم آنکھوں سے اس کا دل رکھنے کے لئے کھا لیا۔۔حور نے تھوڑی چائے پی کر اذہاد کی طرف اپنا کپ بڑھایا جسے آزہاد نے خاموشی سے تھام حور کی چھوڑی چائے پی لی۔۔
حور اور آزہاد کے بیچ کچھ دیر خاموشی رہی۔۔
پھر وہ اچانک اٹھی اور اپنے کمرے میں آکر فون اٹھایا اور ملانے لگی۔۔۔ بیل جارہی تھی۔۔ جا رہی تھی۔۔ پھر کسی نے اچانک فون اٹھایا۔۔
ہیلو۔۔ بابا۔۔ میں حور آپ کی حور۔۔ پلیز بابا۔۔ ایسا مت کریں۔۔ بابا ایک بار میری بات سن لیں۔۔۔
کون حور ؟؟ میری کوئی حور نہیں ہے؟؟میں کسی حور کو نہیں جانتا؟؟ ان کے سرد لہجے نے حور کے جسم میں بہتے خون کو برف کی طرح جما دیا وہ سکتے میں یہ سن کر منہ کھولے کھڑی تھی۔۔۔
میری عزت محبت بھروسہ سب خاک میں ملا دیا تم نے کتنا فخر تھا مجھے تم پراورتم نے۔۔ ذرا نہیں سوچا اپنے ماں باپ کے بارے میں۔۔مر گئے تمہارے ماں باپ آج سے۔۔۔
بابا۔۔ میری۔۔ بات۔۔۔حور نے ہچکی لیتے اور اٹکتے ہوئے کہا۔۔
اب کبھی اپنی شکل مت دکھانا مار دیا اپنے ہاتھوں سے تم نے..
وہ زور سے نیچے گرنے کے انداز میں بیٹھی گالوں سے آنسو موتیوں کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کے گر رہے تھے۔۔ حسین آنکھیں رو رو کے بے حال تھی۔۔۔۔
بابا ۔۔۔بابا وہ آہستہ روتے ہوئے انہیں پکار رہی تھی مگر پرواہ کسی تھی سات سمندر پار اُنہیں صرف اپنی عزت اور انا کی پرواتھی۔۔
زندہ قبر میں اتار دیا ہے تم نے آپنے ماں باپ کو۔۔ ارتضیٰ ابراہیم اس وقت غصے میں بھول چکے تھے کہ ان کی جان سے پیاری بیٹی اس وقت کتنی تکلیف میں ہے۔۔انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا ۔۔۔
بابا میری بات تو سن لیں۔ ۔۔ وہ ٹوٹے الفاظوں میں بولی دل پہ جیسے کیسی نے اس کے خنجر گھونپ دیا ہو ۔۔۔
نہیں اب یہاں فون مت کرنا میری بیٹی مر گئی ہے ہمارے لئے اور ہم اس کیلئے۔۔ارتضیٰ ابراہیم اس وقت بے رحم بنے ہوئے تھے بیٹی کی سسکیاں بھی ان پر کوئی اثر نہیں کر رہی تھی ۔۔۔
بابا۔۔بابا ۔۔ ۔ ۔ وہ ہچکیاں لیتے انھیں پکار رہی تھی رو رہی تھی بابا بابا کیے جارہی تھی مگر سامنے سے فون کب کا بند ہوچکا تھا۔۔
اس وقت وہ ساتھ سمندر دور اپنے اپارٹمنٹ کے کمرے میں بیٹھی چیخ رہی تھی رو رہی تھی اپنے پیارے سے بابا کے لئے تڑپ رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اڑ کے جائے اور ان کے سینے سے لگ جائے انہیں منائے اور بتائے وہ ان سے مر کے بھی الگ نہیں ہو سکتی وہ انکی حورین ہے ان کی جان سے پیاری بیٹی جو ان سے بہت پیار کرتی ہے۔۔وہ گھٹنے موڑے زمین پہ جھکی ہاتوں سے پیٹ کو پکڑے رو رہی تھی تڑپ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
آزہاد اسے اس طرح سے تڑپ کر روتا دیکھ کر فوراً بھاگتا ہوا ایک بار پھر اس کے قریب آیا اور اسے سمیٹ لیا کتنا مشکل تھا اسے سمجھانا۔۔۔اسے کون سمجھاۓ کہ دل کی شریانوں میں زندگی بن کر بہنے والوں کی وجہ سے ہی اکثر دماغ کی رگیں پھٹ جاتی ہیں زندہ رہ بھی جائے تو پاگل ہو جاتے ہیں۔۔وہ بے بسی سے اس سینے سے لگائے چپ کروا رہا تھا۔۔۔
نہ جانے اس کے دماغ میں کیا سمائی کہ وہ جھٹکے سے اس سے الگ ہوتی اٹھی الماری کی طرف بڑھتی اس میں سے ایک صاف ستھرا جوڑا نکالا اور باتھ روم کی طرف بڑھتی اندر جا کر دروازہ دھاڑ سے بند کیا۔۔۔
ازہار خاموشی سے بیٹھا اس کے عمل کو حیران نظروں سے دیکھ رہا تھا اسے اس بات کا خوف بھی تھا کہ کہیں وہ خود کے ساتھ غلط تو نہیں کرنے جارہی۔۔مگروہ اسے باتھ روم کی طرف بڑھتا دیکھ کر نارمل ہوا۔۔
وہ اب آگے کی پلاننگ ترتیب دیتا سوچ کی گہرائیوں میں ڈوبا ہوا تھا کہ جب ہی حور نہا دھو کر باتھ روم سے باہر آئی۔۔ لمبے بال بھیگے ہوئے تھے جن سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھی چہرے پر پانی کے قطروں کی بوندیں چمک رہی تھی وہ اس کے برابر آتی دھپ سے نیچے بیٹھی۔۔ وہ سامنے دیکھتی خیالوں کی دنیا میں گم تھی۔ آزاد اسے گمسم فکرمند نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔اس نے حور کے کاندھے کو ہلکا چھوا اور حور چونکی جیسے وہ ایک گہری نیند سے جاگی ہو اور حیران نظروں سے اسے تکنے لگی۔۔
تم ٹھیک ہو!؟؟؟؟آزہاد نے فکرمند نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
حور کتنی ہی دیر خاموشی سے اسے دیکھتی رہی کوئی اور پل ہوتا تو آزہاد اسے اپنی محبت کی خوشبو سے مہکا دیتا مگر یہ پل ابھی ان کی آزمائش کا تھا ان کی زندگی کے سب سے بڑے امتحان کا تھا۔ نہ جانے کیوں انسان کبھی ایسی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے کے نہ کوئی خوشی اثر کرتی ہے نہ کوئی تسلی نا وقت کی خوبصورتی نہ لمحے کا حاصل نا باہر بسنے والی دنیا۔۔بس ایک عجیب سی خاموشی چھائی رہتی ہے۔۔۔
آزہاد کا دل زور سے دھڑکا اس کی گہری خاموش نگاہوں کو دیکھ کر جو ایک درد بھرا پیغام دے رہی تھی۔۔ اس کی آنکھیں دیکھ کر ایک خوف کی لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔۔۔
تم نے وعدہ کیا تھا نا ہادی کہ تم میرا ساتھ دو گے؟؟ وہ اب بولنا شروع ہوئی اور آزہاد کی سماعتیں اسے سننے کے لیے خوفزدہ تھی اس کا بولتا انداز اسے خطرے کی بجتی گھنٹی کی طرح لگا۔۔
وہ ایک ہاتھ آگے بڑھاتی اس کا ہاتھ تھام گئی۔۔
بولو ہادی کیا تمہیں یاد ہے نا اپنا وہ وعدہ؟؟؟
وہ وعدہ پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔۔
ہادی تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا۔۔
ازہار کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں برف کی طرح ٹھنڈا ہو چکا تھا۔اور دل کی دھڑکنیں بہت مدھم چلنے لگی تھی۔۔
ہادی پلیز میرا ساتھ دو بس ایک اب تم ہی ہو جو مجھے میرے بابا سے ملوا سکتے ہو۔۔
پلیز ہادی۔۔ مجھے میرے بابا کے پاس جانے دو۔۔
اور جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا تھا۔۔ ازہار نے زور سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچتا ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا۔۔۔۔
__________________
حورر ر۔۔۔۔۔ وہ زور سے چیخا تھا پوری شدت سے۔۔ دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا۔۔۔
مجھے میرے بابا کے پاس جانا ہے ہادی۔۔۔ وہ بھی چلائی تھی۔۔ تم مجھے قید نہیں کرسکتے۔۔۔
ٹھیک ہے تمہیں بابا کے پاس جانا ہے میں تمہیں لے چلوں گا۔۔وہ اب خود کو سنبھالتے ہوئے آگے بڑھا اور اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھامتا پیار سے سمجھاتے ہوئے بولا۔۔۔
نہیں۔۔۔وہ زور سے گردن نفی میں ہلا کے بولی۔۔ لہجہ بے خوف اور انداز نڈر تھا۔۔ تم اگر ساتھ گئے تو بابا مجھے کبھی قبول نہیں کریں گے مجھے اکیلے جانا ہوگا۔۔۔
وہ یہ کیا کہہ رہی تھی وہ اسے خود سے الگ رہنے کا کہہ رہی تھی کیا اسے پتا نہیں کہ جسم سے روح کبھی الگ ہوتی ہے اور اگر ہوئی بھی ہے تو وہ پھر موت کہلاتی ہے۔۔۔ وہ کیسے اسے خود سے توڑ کر الگ کر کے اسے اکیلا تنہا چھوڑ کر جانے کا کہہ سکتی ہے۔۔ حور پلیز مجھے اتنی بڑی سزا تو مت دو۔۔۔وہ اب اس کے چہرے کو ہاتھوں میں تھامے درد سے بولا۔۔ آنکھوں سے خوف اس کی جدائی کا۔۔ خود کی تنہائی کا۔۔اکیلے رہ جانے کا۔۔ صاف جھلک رہا تھا۔۔۔مرنے والوں کا دکھ سہا جا سکتا ہے مگر ان کا دکھ کیسے سہیں جو ہمیں پل پل مار رہے ہوں جن کو اس بات کا اندازہ ہی نہ ہو کہ کوئی ان کی وجہ سے کتنی تکلیف میں ہے۔۔۔۔
نہیں ہادی پلیز مجھے اس وقت بس اپنے بابا کو منانا ہے میں پاکستان جا کر انہیں منا لوں گی اور وہ مان بھی جائیں گے پھر میں تمہیں پاکستان بلوا لونگی ٹھیک ہے۔۔۔۔مگر ابھی تم میرے ساتھ نہیں جاسکتے بابا تمہیں کبھی نہیں اپنائیں گے میں بابا کو ان کی ضد کو اچھے سے جانتی ہوں۔۔وہ ازہاد کے ہاتھوں کو پکڑے اسے ایسے بات کر رہی تھی جسے وہ کوئی چھوٹا سا بچہ ہو جو ماں کے بغیر تنہائی کے ڈر سے رو رہا ہو۔۔۔۔
نہیں حور تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤں گی میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا۔۔وہ نم آنکھوں سے ضدی بچے کی طرح بولا۔۔۔
حور نے زور سے اس کے تھامے ہاتھوں کو جھٹکا۔۔۔ تم سمجھ کیوں نہیں رہے ہو ہادی۔۔۔میرا اکیلے پاکستان جانا بے حد ضروری ہے تم اگر میرے ساتھ گئے تو سب کچھ بگڑ جائے گا۔۔۔بلاوجہ بچوں جیسی ضد مت کرو۔۔وہ آزہاد کی ضد کو دیکھ کر چڑ گئی اور غصے سے بولی۔۔۔دیکھو ہادی ہماری شادی تو ہو چکی ہے میں نے کہاں جانا ہے اب تمہارے علاوہ۔۔۔
ازہاد دل میں اٹھتی دردبھری ٹیسوں کو برداشت کرتا حور کو دیکھتے گردن نفی میں زور زور سے ہلا رہا تھا۔۔
وہ تنگ آ کر اس کے پاس سے ہٹتی آگے بڑھی فون اٹھایا اور نمبر ملانے لگی۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں فون اٹھا لیا گیا۔۔۔ جی میم۔۔۔میں حورین ارتضیٰ بات کر رہی ہوں مجھے بتائیں پاکستان کی کوئی اگلی فلائٹ ہے ؟؟؟
تھوڑی دیر انتظار کریں میں چیک کرکے بتاتی ہوں۔۔۔جی میم شام پانچ بجے تک کی فلائٹ تھے۔۔۔جواب فورا آیا۔۔۔
ٹھیک ہے میرا نام سے ایک سیٹ کنفرم کردیں شکریہ۔۔ حور بہت خوش ہوئی۔۔وہ مسکراتی ہوئی فون رکھتی پلٹی اور آزہاد اسے سکتے میں اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ باپ کی محبت میں بالکل بھول چکی تھی کہ وہ جانے انجانے اذہاد کے ساتھ کتنا بڑا ظلم کرنے جارہی تھی۔۔۔
اس پے ایک ہی دھن سوار تھی اپنے باپ کو منانا ایک ہی جنون تھا ان کی ناراضگی دور کرنا انہیں حقیقت سے آگاہ کرنا۔۔۔
ازہار غصے میں آگے بڑھا۔۔۔اور زور سے اس کا ہاتھ کھینچتا اس کا منہ اپنی طرف گھمایا ۔۔وہ طاقت سے اچانک موڑے جانے پر ازہار کے اوپر گری مگر ازہاد سخت چٹان بنا کھڑا تھا۔۔۔برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور وہ حد جب پار ہو جاتی ہے تو بڑے بڑے طوفان آتے ہیں۔۔۔
مسیز ازہاد عریض۔۔۔آپ میری اجازت کے بغیر یہاں سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکال سکتی۔۔ آپ مجھے یوں اس طرح سے چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔۔ حورین اذہاد۔۔۔وہ زور سے چیختا ہوا بولا۔۔۔
حور ٹھہری نظروں سے اس بھپرے شیر کو دیکھ رہی تھی جس کی دھڑکنیں اس کے اشارے پر دھڑکتی تھیں۔۔۔
تم مجھے قید کرو گے ہادی؟؟اس چار دیواری میں؟؟ چلو ٹھیک ہے تم مجھے قید کر لو۔۔ مگر کیا تم میری روح کو قید کر سکتے ہو؟؟؟وہ اس کے بے حد قریب آتی سفاکی کی انتہا پڑجاتی بولی۔۔۔
اذہاد اسے حیران نظروں سے ایک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔۔اسکا انداز بلکل بدل چکا تھا۔۔۔وہ کہیں سے بھی اس کی ڈری سہمی محبت کرنے والی پہلی حورین لگ نہیں رہی تھی۔۔بلکہ وہ تو اس وقت ایک ظالم حسینہ سے زیادہ کچھ نہیں لگ رہی تھی جو آزہاد کے سینے میں اس کا دل اپنے ہاتھ میں لیے اسے اتنی زور سے مسل رہی تھی کہ اذہار چیخ کر اپنی تکلیف پر احتجاج بھی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔
تو فیصلہ ہوا۔۔۔
محبت کرنے والا
محبوب کے ہر عمل پر راضی ہوتا ہے۔۔۔
وہ محبت میں اسے زہر سے بھرا پیالہ پینے کو کہہ رہی تھی۔۔اور اذہاد وہ خوشی خوشی محبت کا حق ادا کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے زہر سے بھرا پیالا پینے کو تیار تھا۔۔شاید اسی کو سچی محبت کہتے ہیں۔۔
وہ ظلم کی انتہا کرتی آہستہ سے اس کے سینے پر اپنے ہاتھ رکھتی ہلکا سا اسے پیچھے کی طرف دھکیلتی کمرے کی طرف مڑی۔۔ اذہاد دو قدم پیچھے کی طرف لڑکھڑایا۔۔وہ محبوب کے جاحرانہ سلوک پر بھی اسے محبت سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
حور کو اس وقت کوئی درد کوئی احساس کوئی بندش پیچھےہٹنے سے نہیں روک سکتی تھی۔۔۔
کچھ لوگ ہماری روح کے ایک حصے میں ہمیشہ کے لئے دفن ہو جاتے ہیں۔۔نہ ہم انہیں کبھی پا سکتے ہیں نہ بھلا سکتے ہیں ‏نا چھو سکتے ہیں نہ محسوس کرسکتے ہیں۔۔بس انہیں خود سے دور ہوتے ہوئے دیکھ کر تڑپنے کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوتا اور یہی سب سے زیادہ اذیت ہوتی ہے۔۔۔
پتوں کی طرح شاخ پہ مرنا پڑا مجھے۔۔
موسم کے ساتھ ساتھ گزرنا پڑا مجھے۔۔
ایک انسان کے سلوک کی سب کو سزا ملی۔۔
ساری محبتوں سے مکرنا پڑا مجھے۔۔۔
اس سے بچھڑ کے زندگی آسان تو نہیں۔۔
پھر بھی یہ تلخ فیصلہ کرنا پڑا مجھے۔۔
آساں نہیں تھا ٹوٹتی سانسوں کو جوڑنا۔۔۔
اس سلسلے میں جاں سے گزرنا پڑا مجھے۔۔۔
وہ اسے کیسے بتاتا کہ جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آئے۔۔ وہ اسے کیسے سمجھتا کہ قسمت ایک بار پھر اسے توڑنے کے در پر ہے۔۔وہ اسے اکیلا کرنا چاہتی ہے۔۔اسے پھر ایک بڑی آزمائش سے گزارنا جاتی ہے۔۔مگر اس بار وہ اتنی سکت اتنی برداشت نہیں رکھتا کہ خود کو سنبھال سکتا۔۔۔وہ اسے کیسے بتاتا کہ گزرا وقت ایک بار پھر لوٹ کر آرہا ہے۔۔۔جیسے اس کی بابا اسے چھوڑ کر گئے تھے کبھی نہ لوٹنے کے لئے۔۔اس کی ماں اس کے گرینڈ پا جو آہستہ آہستہ اسے چھوڑ کر گئے۔۔ مگروہ سب برداشت کر گیا۔۔
مگر اب تو بات اس کی روح کی تھی جو اس کے جسم سے جدا ہوکر جا رہی تھی وہ کیسے اسے روکے کیسے اسے بتائے کہ وہ نہ تو کچھ سننے کے لیے تیار تھی نہ سمجھنے کے لئے۔۔جانے والے لوٹ کر نہیں آتے۔۔۔
ہر دکھ کے بعد سکھ ہے۔۔مگر کچھ لوگوں کے لیے ہر دکھ کے بعد اس سے بڑا دکھ ہے۔۔اذہاد کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہے۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا شکستہ چال چلتا لٹا پٹا سا ٹوٹا بکھرا سا اس کے کمرے کی دہلیز پر کھڑا اسے سامان پیک کرتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔
ہادی میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔ تم سب سنبھالو گے نہ؟؟وہ اس کی طرف بنا موڑے کہتی بولی۔۔
آزہاد نے ایک آہ لی۔۔ آنسو آنکھ سے بہہ رہے تھے۔۔ کیا یہ آنکھیں کبھی مسکرائیں گی بھی۔۔؟؟
میں جلد تمہیں بلوالونگی پریشان مت ہونا اپنا بہت خیال رکھنا۔۔۔ وہ سامان رکھتے ہوئے اسے ہدایتں بھی کرتی جا رہی تھی مگر کیا فائدہ۔۔۔۔ خیال تو زندہ انسان رکھتا ہے تمہارے جانے کے بعد کیا میں زندہ رہ پاؤں گا؟؟وہ خاموش تھا مگر دل کی دھڑکنوں کی صدا اسی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی۔۔
وہ لاکھوں لوگوں سے زیادہ نڈر دلیر اور باہمت تھا اس کے باوجود وہ حور کی محبت کے معاملے میں اس کا دل ایک بے حد کمزور اور غمزدہ بچے کی مانند لگ رہا تھا۔۔۔
کبھی کبھی انسان واقعی ہار جاتا ہے۔۔
خاموش رہتے رہتے۔۔
صبر کرتے کرتے۔۔
امید رکھتے رکھتے۔۔
رشتے نبھاتے نبھاتے۔۔
صفائیاں دیتے دیتے۔۔
اپنوں کو مناتے اور کبھی خود سے۔۔
جیسے وہ تھک گیا تھا۔۔
اپنوں کو کھوتے کھوتے۔۔
میرے پیچھے آنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے ہادی اگر تمہاری وجہ سے کچھ بھی گڑبڑ ہوئی تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔وہ پلٹ کر اسے دیکھتی بے رخی سے بولی۔۔
اداس ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں یہ سب ہم دونوں کے لئے کر رہی ہوں پھر ایک بار بابا مان جائیں گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔وہ اس کا روتا اداس چہرا دیکھ کر نظریں چراتی ہوئی بولی۔۔
اذہاد ہاتھ کی ہتھیلی سے اپنے بہتے آنسوؤں کو بے درری سے پونچھتا پھر اسے نظر بھر کر دیکھنے لگا۔۔وہ رو نہیں رہا تھا مگر اس کے اختیار میں نہیں تھا ان آنسوؤں کو روکنا وہ تو بہتے ہی جا رہے تھے۔۔
محبت تو محبت ہے۔۔اور ہمیشہ تم سے رہے گی
پھر چاہے تم ناراض ہو۔۔
بے رخی دکھاؤ۔۔
چلاؤ جدا کرو۔۔
یا خاموش ہوجاؤ.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *