Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01)
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01)
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01)
حورین جلدی تیار ہوتی گھر سے نکلی وہ رات سے ڈری ہوئی تھی کہ کہیں اب وہ پھران منہوس آدمیوں کی نظروں میں نہ آجائے وہ جیسی گاڑی کا دروازہ کھولتی اس میں بیٹھنے لگی کے پیچھے سے کسی نے زوردار سیٹھی ماری حور نے پلٹ کے دیکھا ان بدمعاشوں میں سے ایک بدمعاش جس کا حلیہ عجیب لوفرنا سا تھا لمبے گندے بالمنہ پورا ریچھ جیسی داڑھی سے بھرا ہوا تھا حور کو دیکھتا آنکھ ماری اور ہاتھ سے ہائے کیا یہ ان تینوں بدمعاشوں کا بڑا بدمعاش لگتا تھا حور نے اسے پہلے نہیں دیکھا تھا۔۔حور کی سانس اسے دیکھ کے سینے میں اٹک گئی وہ اسے دیکھتا خباثت سے مسکرایا ۔۔حور جلدی سے گاڑی میں بیٹھی گاڑی اسٹارٹ کرتی بھگاتی لے گی کمینہ بےغیرت انسان تو پاکستان میں ہوتا تو اتنا عوام سے پٹواتی کہ ہڈی پسلی ایک ہو جاتی پھر کبھی کسی سے بدتمیزی کرنے کے قابل نہیں رہتا وہ اس دل میں ہزار سلواتین سناتی ہسپتال پہنچی۔۔
آج سارا دن حور کا موڈ آف رہاتھا۔۔۔
اذ ہاد نے حورین کی ساری ڈیٹیل نکلوائی تھی وہ پاکستان میں کہاں رہتی ہے؟؟فیملی میں کون کون ہے ؟؟اس کے بابا کیا کرتے ہیں ؟؟لندن کیا کرنے آئی ہے؟؟ کیا پڑھنے آئی ہے؟؟ اس کی لندن کی کیا روٹین تھی ایک ایک بات آزہاد کے علم میں تھی لندن میں وہ اکیلی تھی اور سات آٹھ مہینوں سے اکیلے ہی رہ رہی تھی آزہاد نے کنپٹی کو انگلی سے مسلتے ہوئے سوچا حور اکیلی لندن میں رہ رہی ہے اور میں کیسے انجان رہا اسے سے اتنا وقت کیسے غافل رہا؟؟اگر وہ کسی مصیبت میں پڑ جاتی تو ؟؟وہ اکیلی کیسے ہینڈل کرتی؟؟وہ اس وقت اپنے آفس میں بیٹھا اس کے گزرے وقت کو لے کے پریشان ہو رہا تھا خیر آج میں حور سے ملنے جاؤں گا۔۔
سر میٹنگ کا ٹائم ہوگیا ہے۔۔ جارج نے اسے اطلاع دی اس نے سر ہلا کے اشارے سے اسے آپنے آنے کا کہا۔۔
حور کو پھر گھبراہٹ ہو رہی تھی وہ جیسے جیسے گھر کے قریب پہنچتی جا رہی تھی ویسے ویسے اس کی پریشانی بڑھتی جا رہی تھی آخر کہتی بھی کس سے ایک بیلا ہی تھی جو اس کے قریب تھی وہ بھی اکیلی رہتی تھی اور وہ بھی ہاسٹل میں۔۔ اس نے گھر کے آگے گاڑی روکی شکر تھا کہ اس وقت وہ غنڈے گھر پر نہیں تھے نہ ان کی گاڑی وہاں نظر آرہی تھی۔۔
وہ گاڑی سے اترتی جلدی بھاگتی ہوئی گھر میں آئی اور دروازہ اچھی طرح سے بند کیا اور سکون کا سانس لیتی صوفے پر بیٹھی ۔۔۔ایسا کب تک چلے گا حور؟؟ کتنا سکون کی زندگی گزر رہی تھی ابھی نہ جانے اور کیا کیا دیکھنا باقی رہ گیا تھا۔۔وہ یہ سوچتی اٹھی خود کے لئے چائے بنانے کچن میں آئی چائے کی شیدائی حور کو دن میں چار سے پانچ بار چائے پینی لازمی ہوتی تھی اس کے علاوہ اگر کوئی اسے چائے کی آفر کرتا تو وہ شکرانے نعمت اس کی آفر ضرور قبول کرتی حور نے اپنے لیے پاستہ بنایا تھا اس نے گرم گرم پاستہ پلیٹ میں نکالا اور مزے سے کھانے لگی وہ اس وقت ڈھیلی سی لمبی شرٹ پہنے اور ڈھیلی ٹراؤزر جس پر رنگ برنگی آئس کریم بنی ہوئی تھی اور ڈھیلے بالوں کو بل دے کے آگے ڈالے پاستہ کھاتی چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی۔۔گورا گلابی رنگ نیلی بڑی بڑی آنکھیں لمبے سنہرے بال اسے گڑیا کا تصور کرتے تھے۔۔ابھی اس نے آدھی پلیٹ پاستا ہی کھایا کہ دروازے کی بیل بجی۔دروازے کی بجتی بیل حور کو اپنے کان میں بجتی خطرے کی گھنٹی لگی۔۔وہ خاموش ڈرتی ڈرتی اٹھی دروازے تک آئی اور میجک آئی سے دروازے کے باہر دیکھا۔صبح والا خبیث انسان اس کے دروازے پر سامنے کھڑا تھا۔۔
اے لڑکی مجھے پتہ ہے تم گھر پر ہی ہو دروازہ کھولو اور اپنی گاڑی یہاں صحیح سے پارک کرو نہیں تو میں پولیس کو فون کر دوں گا۔۔وہ یہ بولتا وہاں سے چلا گیا حور ڈرتی ہوئی واپس اپنی جگہ آکے بیٹھی۔اتنی ٹھنڈ میں بھی وہ پسینہ پسینہ ہوگی ۔۔۔یااللہ گاڑی توصحیح پارک کی تھی میں نے یہ پھر کیوں ایسا بول رہا ہے؟؟ اگر واقعی اس نے پولیس کو فون کر دیا تو ؟؟یہ میرے لیے ایک اور بڑا مسئلہ ہو جائے گا ۔۔کیا کرو؟؟وہ دونوں ہاتھوں سے منہ پر آیا پسینہ صاف کرتی ڈرتی ہوئی سوچتے جارہی تھی۔۔
آخر کار وہ اللہ کا نام لیتی اٹھی بڑی سی چادر نکالی اچھے سے اس چادر میں خود کو چھپائے وہ دروازے تک آئی میں میجک آئی سے دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا۔۔ہلکا سا دروازہ کھولتی گردن باہر نکالی دور دور تک وہاں کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا وہ جلدی سے باہر آئی تو دیکھا گاڑی تو اس کی صحیح ہر دفعہ کی طرح اپنی جگہ پر کھڑی ہے۔۔
آزہاد جس نے تقریبا سارا دن ہی حور کی فکر میں گزار دیا تھا شام ہی سے اس کا دل عجیب طرح سے دھڑک رہا تھا جیسے کہیں کچھ ہونے والا ہے بار بار حور کی معصوم سی شکل اس کی آنکھوں میں گھوم رہی تھی۔وہ آفس سے میٹنگ ختم کرتا گھر آیا فریش ہوا رات کا ڈنر کیے بنا ہی وہ اپنی گاڑی بھگاتا ہوا نکل گیا۔۔۔
حور جو ایسے کھڑی تھی کہ پیچھے پلٹتے ہی وہ پتھر کی بن جائیگی اس نے آنکھوں کے ڈھیلے سے پیچھے آہستہ آہستہ گردن گھما کے دیکھا تو وہ چاروں خاموشی سے اس کے پیچھے اسے گھیرے کھڑے ہیں۔۔حور ایک دم سیدھی ہوتی گاڑی سے لگی۔۔
تم نے کیا ہمیں بے وقوف سمجھ رکھا تھا حسینہ ؟؟دیکھو کیسے ہم نے تمہیں پکڑ لیا اب کہاں بھاگو گئ۔۔
ان تینوں بدمعاشوں کا بڑا آگے آتے ہنستے ہوئے حور کو دیکھتے بولا۔۔وہ تینوں بھی پیچھے کھڑے اب اپنے بڑے کی شیطانی ہنسی میں شامل ہوتے حور کو ہنستے ہوے دیکھ رہے تھے۔۔
اور حور اسے تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ بس اب اس کی زندگی کا یہ آخری وقت ہے وہ اپنی جان تو دے دے گی مگر ان کتوں کو خود کو ہاتھ تک لگانے نہیں دے گی۔حور میں ایک دم سے اتنی ہمت آئی اس نے اللہ کا نام لیا اور آگے بڑھ کے ایک گھٹنا موڑ کے ٹانگ اٹھائی اور اس سامنے کھڑے سانڈھ کے دونوں ٹانگوں کے بیچ زور سے ماری وہ ایکدم زمین پر جھکا اسے اس نازک سی لڑکی سے اتنی ہمت کی اور گہرے وار کی امید نہیں تھی وہ درد سے تڑپتا حور کے سامنے جھکا ہوا تھا حور نے زور سے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا۔اس کے باقی ساتھی اپنے بڑے کی طرف بڑھے اور یہی موقع تھا حور کا وہاں سے بھاگنے کا اسے ایک پل لگا سوچنے میں اور وہ روڈ کی طرف بھاگنے لگی کیوں کہ اگر وہ گھر کی طرف بھاگتی تو کوئی بھی اس کی طرف متوجہ ہوکہ آرام سے اسے گھر کے اندر داخل ہونے سے پہلے پکڑ لیتا اور روڈ پر وہ تیز بھاگ سکتی تھی مدد لے سکتی تھی کہیں بھی چھپ سکتی تھی اندھیری سنسان سڑک پر حور تیز ی سے دوڑ تی اور بار بار مڑ کے پیچھے دیکھتی جا رہی تھی جہاں وہ بدمعاش اس کے پیچھے ہی آ رہے تھے اچانک سامنے سے آتی گاڑی کی تیز لائیٹ منہ پر پڑھنے سے حور کا پاؤں مڑا۔وہ منہ کے بل زمین پر گری اس کی چادر اس کے کاندھوں سے ہوتی زمین پر گر گئی تھی روڈ پر گرنے سے اس کے ہاتھ چھل گئے تھے۔اس کے الٹے پاؤں میں بے تحاشہ درد اٹھاؤہ آنکھوں میں آنسو لے کے اوپر آسمان کی طرف دیکھتی مدد مانگنے لگی۔۔
گاڑی میں بیٹھا انسان پہلے تو آنکھوں دیکھا یقین نہیں کر رہا تھا پھر اس نے جب غور سے دیکھا کہ وہ اس کی حورین ہے اور اس حال میں ہے وہ بجلی کی تیزی سے گاڑی سے باہر آیا اور زور سے دروازہ بند کرتا اس تک آیا۔۔
حور عزت بچانے کے لئے پاؤں کے درد کی پرواہ کیے بنا اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ ایک بار پھر زمین پر گری۔۔
حور وہ چیختا ہوا اس کے قریب آیا اس کی چادر اٹھا کے اس کے جسم پر پھیلا کے ڈالی۔اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے منہ پے آئے بالوں کو پیچھے کیا اور اس کی روتی ہوئی آنکھوں میں حیران ہوکے دیکھنے لگا اس کی آنکھیں جو اس سے صاف باتیں کرتی تھی۔۔اذ ہاد کو بہت کچھ بتا گئی۔اذہاد کا خون کھول اٹھا۔۔
اے کون ہے تو چل نکل یہاں سے اور لڑکی ہمارے حوالے کر۔۔ پیچھے سے آتی آواز پہ اذ ہاد نے زور سے جبڑوں کو پیسا۔۔
حوران بدمعاشوں کی آواز سنتی ڈر گئی تھی اور ایک بار پھر اپنی عزت کی حفاظت کے لیے اٹھنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔اذہاد جو حور کی طرف جھک کے بیٹھا تھا پیچھے سے آتی آواز پر یوں ہی گردن کو کاندھے تک گھما کے پیچھے کھڑے بدمعاشوں کو دیکھتا جھٹکے سے کھڑا ہوا۔اذ ہار اپنی پرانی ٹون میں واپس آ چکا تھا اور وہ تینوں شاید جانتے نہیں تھے کہ وہ بہت برا پھنسے ہیں وہ بھی ایک جنگلی اور وحشی انسان کے ہاتھوں۔۔
اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں اتنی زور سے بھینچی ہوئی تھی کہ بازو کی نسیں ابھر کے آگئی تھی۔۔
سنا نہیں تونے لڑکی ہمارے حوالے کر اور نکل یہاں سے ان کا جو بڑا تھا کچھ دیر پہلے جو زمین پہ گرا تڑپ رہا تھا تکلیف ختم ہوتے ہی حور کو زندہ نگل لینے کے ارادے سے آگے آتا غصے سے اذہاد سے بولا۔۔۔
اور بس وہی آزہاد کی برداشت جواب دے گی۔
حورجو ڈرتے ڈرتے اس کی گاڑی کا سہارا لیتی بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی اس نے پلٹ کے آزہاد کو دیکھا تو حیران رہ گئی۔۔۔
آزہاد بے حد غصے میں تیز بھاگتا ہوا آیا اور اس نے
اسے گردن سے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کے اوپر ہوا میں اچھالتا زور سے زمین پر پٹخا اور ایک گھٹنا موڑ کے اس کے اوپر بیٹھا۔۔اذہاد نے ایک مضبوط ہاتھ کا مکہ بنا کے ہاتھ کو پیچھے کی طرف لے جا کے زوردار اس کے منہ پر مارا وہ پہلے ہی زمین پر پٹخے جانے کی وجہ سے کمر کی ہڈی سے محروم ہوگیا تھا اوپر سے اذ ہاد کے جاندار مکے وہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ویسے ہاتھ پیچھے کئے ایک کے بعد ایک مکہ زوردار طریقے سے اس کے منہ ہی منہ پر مارے جا رہا تھا اس کے ساتھی اس وحشی انسان کا روپ دے کے اور اپنے ساتھی کا حال دیکھ کے اپنی اپنی جگہ جم گئے تھے ان کا وہ ساتھی زمین پر بےحس خون میں ڈوبا ہوا تھا وہ تینوں اپنی باری آنے کے خوف سے تیز بھاگنے لگے اذہاد نے لال آنکھیں اٹھاتے انہیں بھاگتے ہوئے دیکھا۔۔آزہاد اسے چھوڑتا ان تینوں کے پیچھے بھاگا جیسے شیر اپنے شکار کو پکڑنے بھاگتا ہے اگر وہ شکار چھوٹ گئے تو وہ کئی دن تک بھوکا ہی نہ رہ جائے۔۔اذہاد تیز بھاگتا ہوا ہوا میں اچھلا اور ایک ہاتھ پیچھے کرکے زوردار مکہ بھاگتے ہوئے اس بدماش کی پیچھے کی گردن پر مارا جس سے وہ منہ کے بل زمین پر جا گرا آزاد نے پہلے والے کی طرح اسے سیدھا کرکے اس کے منہ پر زوردار مکہ مارا جس سے وہ وہی گرا تڑپتا رہا اذہاد اسے چھوٹا تیسرے کی طرف بھاگا وہ تیز بھاگتے اسے پیچھے سے بالوں سے پکڑ تا زور سے پیچھے سر کے بل زمین پر مارا وہ جس طرح سے گرا تھا دوبارہ اٹھ نہیں سکتا تھا اذہاد اب اسے چھوڑ کے چوتھے والے کی طرف بھاگا وہ گھر کے دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ آزاد نے اس کا بازو پیچھے سے پکڑ کے موڑا اور اس کی گردن میں اپنا بازو ڈال کے گھسیٹتا ہوا روڈ پر لایا زمین پر گرا کے اس کے منہ پر مکوں کی بارش کر دی جب وہ آدھ مرا ہوگیا آزاد نے اسے چھوڑ کے تیسرے والے کے پاس آیا۔پھر تینوں کی وہی حالت کی جو سب سے پہلے والے کی تھی۔مار مار کر بھی وہ تھکا نہیں تھا اس کا غصہ کم ہو ہی نہیں رہا تھا حور وہی سڑک پر بیٹھی اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھ رہی تھی وہ جیسے جیسے انہیں مار رہا تھا اس کے دل کو سکون ملتا جا رہا تھا ۔۔
اور مارو انہیں اور مارو اذہاد اور مارو اچھا ہی ہے کہ یہ مر جائیں تا کہ پھر کسی کی عزت کی بے حرمتی نہ کرسکے یہ شیطان۔۔ وہ دانت پیستی آنسوؤں کے ساتھ بولتی جا رہی تھی۔۔
آزہاد مارتے مارتے ایک دم سے انہیں چھوڑتا حور کے پاس بھاگتا ہوا آیا وہ جنون میں بھول ہی گیا تھا کہ حور اکیلی ہے اسے مدد کی ضرورت ہے۔۔حور نے دیکھا اس کے ہاتھوں اور شرٹ پر خون لگا ہوا تھا وہ جھکتا ہوا زمین پر اس کے پاس بیٹھا۔۔ حورین آپ ٹھیک ہیں؟؟وہ دیوانوں کی طرح اس کے چہرے کو تکتا ہوا پوچھ رہا تھا
اذ ہاد کی فکر پر حور کا دل بھر آیا اگر وہ صحیح وقت پر نہ آتا اور اس کی مدد نہ کرتا تو ؟؟ حور یہ سوچتی ضبط کرتے ہوئے بھی اسے دیکھتی رودی۔۔
یہ وہی جگہ تھی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی مدد کی تھی۔وہ دونوں ایک دوسرے کے محسن تھے حور نے آزہاد کی جان بچائی تھی تو اذہاد نے حور کی عزت۔۔یہ وہی سڑک تھی یہ وہی وقت تھا وہی دو دل تھے جب وہ ایک دوسرے سے ملے تھے ۔۔
آزہاد نے اسے اس طرح سے روتے دیکھ کے منہ بے بسی سے دوسری طرف موڑ لیا وہ ہچکیاں لیتی رو رہی تھی اس کا گرتا ہر ایک آنسو اذہاد کی تکلیف میں اضافہ کر رہا تھا اس کا دل اس کے لئے رو رہا تھا۔۔حور آپ بالکل محفوظ ہیں ایسے مت روئیں اس نے ضبط کرتے ہوئے کہا۔۔ لال آنکھیں اس کی تڑپ اس کی تکلیف دیکھنا برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔۔
آزہاد نے اپنا بازو اور کاندھا اس کے سامنے جھکا یا۔۔
اٹھے ہور گھر چلیں۔۔۔وہ ویسے ہی سر جھکائے روتی رہی ۔۔۔
حور پلیز ۔۔۔اس نے بے حد محبت سے تڑپ کے اس سے کہا۔۔ حور چادر سے آنسو صاف کرتی سامنے کیے اس کے بازو اور کاندھے کو مضبوطی سے تھامتی اٹھی اس کے پاؤں میں درد کی ایک لہر دوڑی وہ برداشت کرتی اس کا سہارا لیتی آگے بڑھی۔۔آزہاد نے اسے گاڑی میں بٹھایا پھر وہ ان بدمعاشوں کی طرف آیا۔تینوں کو ٹانگوں سے پکڑ کے ایک جگہ پھینکا اور واپس گاڑی میں آ کے بیٹھا۔۔
حور کی طرف کا دروازہ کھولتا وہ پھر اسے سہارا دیتا گھر میں لایا حور کا اپارٹمنٹ چھوٹا سا مگر بے حد خوبصورت لگا اسے صاف ستھرا مختصر سامان سے سجا گھر آزہاد کو اپنے محل سے کئی زیادہ پسند آیا۔جہاں حور کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی وہ آرام سے اسے بیڈ پر لٹاتا اس کے کمر کے پیچھے تکیے لگاتا آرام سے بٹھایا۔۔حور فرسٹ ایڑ باکس کہاں ہے ؟؟
اسنے روتی آنکھوں سے اذہاد کو دیکھا۔۔آپ کے پاؤں میں موچ آئی ہے کوئی ائیمنٹ تو ہوگی نا موچ پر لگانے کے لئے۔۔۔؟؟ حور نے اشارے سے اسے بتایا۔۔۔اذہاد نے اس میں سے ائیمنٹ ٹیوب نکال کے حور کے پاؤں کے پاس بیٹھا جیسے ہی اس نے حور کے پاؤں کو ہاتھ لگانا چاہا حور زور سے چیخی۔۔ نہیںںں ۔۔۔۔میں۔۔ میں۔۔ خود لگا لوں گی آپ رہنے دیجئے۔۔آزہاد ٹیوب ہاتھ میں لیے اسے حیران ہوتے دیکھ رہا تھا۔۔ آپ سے جب میں نے کہا تھا جانے کو آپ نے میری سنی تھی؟؟آپ نے بھی زبردستی مجھے ٹھیک کرکے چھوڑا تھا تو حورین میں آپ سے زیادہ ضدی ہوں اور زبردستی کرنا میں بھی اچھے سے جانتا ہوں اس نے آنکھیں دکھاتے ہوئے حور کو خبردار کیا۔
حور نے آہستہ سے پاؤں اس کے آگے کردیا۔۔ گڈ گرل اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
جاری ہے
