Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05
حور چلو کہیں چلتے ہیں جب سے آئ هو بس ہوسپٹل گھر اور یونیورسٹی کے گرد گھومتی نظر آتی هو ۔۔یار تم انسان هو یا مشین بندا گھوم پھر بھی لیتا ہے تھوڑا مائنڈ فریش ہوجاتا ہے۔۔۔بیلا حور کو سمجھاتے ہوے بولی۔۔ جو چار مہینوں سے جب سے آئ تھی کہیں نہیں گئی تھی۔۔
میں یہاں گھومنے پھرنے نہیں آئ ہوں بیلا۔۔حور نے مختصر سی بات کر کے اسے سمجھایا۔۔وہ دونوں اس وقت لنچ کر رہی تھیں۔۔بیلا نے حور کی بات پے منہ بنایا۔۔حور ہنسی چلو جلدی کرو ہم لیٹ هو رہی ہیں ۔۔۔
وہ خاموش بیٹھی کھڑکی سے باہرآسمان سے گرتی برف کو دیکھ رہی تھی یہ منظر بہت خوبصورت تھا وہ مگن سی اس منظر میں کھوسی گئی تھی۔تھوڑی دیر پہلے گھر والوں سے بات کر کے اب وہ آرام سے بیٹھی برف باری دیکھ رہی تھی۔۔ایسا لگتا جیسے آسمان سے نرم سفید روئی کے گالے زمین پے گر رہے ہوں۔۔اچانک اس کے دل نے ان روئی کے گالوں کو چھونے کی خواہش کی۔۔ایسا نہیں تھا کے وہ جب سے آئ تھی اس نے برف باری نہیں دیکھی تھی۔بس مصروفیت کی وجہ سے وہ ٹھیک سے خود پے اور حسین قدرتی نظاروں پے توجہ نہیں دے پا رہی تھی ۔۔آج سٹرڈے نائٹ تھی۔ساری مصروفیت کو ایک طرف رکھ کے خود کے لیے ٹائم نکالا تھا۔۔
رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے۔باہر سناٹا تھا کوئی بھی برف باری میں اتنی رات کو گھر سےباہر نکلنے سے کتراتا تھا۔۔اور لوگ اتنی رات میں گھر سے کم باہر نکلتے نظر آتے۔۔ کم سے کم جہاں وہ رہتی وہاں ایسا کچھ ہی تھا۔
اسنے گرم جیکٹ اور موٹے شوز پہنے گھر سے آہستہ سے قدم باہر نکالا اندر ہیٹر ہونے کی وجہ اسے سردی کا اتنا احساس نہیں تھا لیکن قدم باہر نکالتے ہی جیسے ٹھنڈی ہوا نے مسکرا کے اس کا استقبال کیا۔اس نے شرارت سے ادھر ادھر دیکھا اسے تھوڑے فاصلے پر واچ مین کرسی پر آنکھیں بند کئے اپنی ڈیوٹی دیتا نظر آیا ۔وہ ہنسی اس نے آہستہ سے دروازہ بند کیا اور واچ مین کے سامنے سے دبے قدموں سےگزرتی باہر آگئی۔
اس نے مسکراتے ہوئے اوپر آسمان کی طرف دیکھا اور وہاں سے گرتی برف کو اپنے نرم ہاتھوں سے تھاما وہ بے حد ٹھنڈی اور ملائم تھی۔سامنے روڈ تھا اور روڈ کے دوسری طرف بھی ایسے ہی گھر بنے ہوئے تھے۔روڈ پہ تھوڑی دور دور لائیٹس لگی ہوئی تھی سنسان راستہ دور دور تک کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ہر طرف برف ہی برف تھی بےحد خوبصورت نظارہ تھا۔حور نے سوچا کیوں نہ تھوڑی چہل قدمی کر لے اتنی خوبصورت رات ہے اور حسین نظارہ ہے اور پھر اس وقت سناٹا ہے کوئی ہے بھی نہیں وہ چلتی چلتی تھوڑی دور نکل آئی تھی وہ یہاں وہاں دیکھتی خوش ہو رہی تھی اس کی ناک اور گال سردی کی وجہ سے لال ٹماٹر ہو رہے تھے۔
کہ جب ہی حور نے دور سے ایک گاڑی کی ہیڈ لائٹس اپنی طرف آتے دیکھی وہ فورا گھومی کے پتہ نہیں اس گاڑی میں کون ہوں جس سے وہ مصیبت میں نہ پڑ جائے۔وہ تیز تیز قدموں سے گھر کی طرف جانے لگی۔جاتے جاتے اس نے پلٹ کے دیکھا وہ ہیڈلائٹس تیزی سے اس کے قریب ہوتی جا رہی تھی۔اب اس نے تھوڑا بھاگتے ہوئےپیچھے پلٹ کے دیکھا تو وہ ہیڈلائٹس اب ایک بڑی سی گاڑی کے ساتھ دیکھی جا سکتی تھی۔گاڑی بہت تیزی سے اس کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اچانک وہ گاڑی تیز چلتے روڈ پہ سانپ کی طرح یہاں سے وہاں رینگتی نظر آنے لگی۔
حور بھاگتے بھاگتے ایک دم رکی اور حیران ہوتے گاڑی کو ادھر ادھر تیزی سے رینگتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔
کے اچانک گاڑی تیز رینگتے ہوئے گول گھومی اور الٹی ہوگئی اور روڈ پہ گھسیٹتے ہوئے اس کے سامنے سے گزرتی دور جانے لگی حور کو ایسا لگا جیسے وہ کوئی ہالی وڈ فلم کا ایکشن سین دیکھ رہی ہو ۔حور مدد کے لئے گاڑی کی طرف بھاگی گاڑی گھسیٹتی ہوئی آگے جارہی تھی روڈ پہ گھسیٹنے کی وجہ سے چنگاریاں نکل رہی تھی حور گاڑی کی طرف بھاگ رہی تھی اور گاڑی آگے تیزی سے گھسیٹتی جا رہی تھی۔کے اچانک گاڑی وہاں بنی ایک دیوار سے ٹکرائی جس کی وجہ سے گاڑی اور آگے نہ جا سکی دیوار ٹوٹ گئی تھی جس کی وجہ سے ڈرائیونگ سیٹ کی طرف کا دروازہ پوری طرح سے بلاک ہو گیا تھا۔وہ تیز بھاگتے ہوئے کار کے پاس آکے رکی اس نے اپنے ہوش و حواس کو قابو میں رکھنا تھا نہیں تو اندر بیٹھے انسان کو جان کا خطرہ بھی ہو سکتا تھا۔ حور کے اندازے سے حادثہ آبھی آبھی ہوا تھا تو اندر بیٹھے انسان کو بچایا جا سکتا تھا اس کے خیال سے اسے سر پے چوٹ آی ہوگی۔
اسنے مدد کے لیے یہاں وہاں دیکھا ۔مگر بدقسمتی سے اس وقت وہاں کوئی نہیں تھا اسے اکیلے ہی اس کی مدد کرنا تھی ۔گاڑی کافی شاندار تھی اندر بیٹھی شخصیت اسے عام نا لگی گاڑی چھت کے بل روڈ پے الٹی پڑی تھی اور اس کے ٹائر تیز تیز گول گھوم رہے تھے۔گاڑی کے شیشے ٹوٹ چکے تھے اور کانچ بکھری ہوئی تھی۔وہ گاڑی کے قریب آئی اور اندر جھانکا وہاں اسے ایک شخص نظر آیا اندھیرا زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کی شکل نہیں دیکھ سکی۔وہ شخص اسٹیرنگ پر جھکا ہوا تھا سیٹ بیلٹ بندے ہونے کی وجہ سے وہ اسٹیرنگ پر گرانہیں تھا۔حور جلدی سے آگے بڑھی اور اس شخص کے برابر والی سیٹ کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی جو کہ لوک تھا۔اسنے ٹوٹی کانچ دروازے سے ہٹائی اور دروازے کالوک کھولا یہ دروازہ کافی نہیں تھا اس انسان کو باہر نکالنے کے لئے وہ اٹھی اور سامنے کے بڑے شیشے کو توڑنے کی کوشش کی حادثے کی وجہ سے اس پے بہت سی دراڑیں آ گئی تھی۔مگر وہ ٹوٹا نہیں تھا وہ شیشہ ایسے مٹیریل سے بنا ہوا تھا کہ حادثہ ہونے کی صورت میں کانچ ٹوٹ کے اندر بیٹھے لوگوں کو نقصان نہ دے ۔۔اس نے زور زور سے لاتیں ماری جس کی وجہ سے وہ شیشہ اپنی جگہ سے ہل گیا تھا حور کے پیروں میں بیحد درد ہورہا تھا۔۔مگر اسے اندر بیٹھنے انسان کو اس وقت ہوسپٹل پھنچانا تھا۔۔وہ دوبارہ دروازے کی طرف آی اور سب سے پہلے اس نے اپنی گرم جیکٹ اتاری اور نیچے کانچ کے ٹکڑوں پے پیچھائی نہیں تو اسے کافی چوٹیں آسکتی تھی۔وہ جھکتی ہاتھوں کی مدد سے اندر گئی اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ اندازہ لگاتی اندر آئ اسنے سامنے کے شیشے کو اندر سے لات ماری جس سے وہ پورا ثابت شیشہ باہر نکل کے گر گیا وہ پھر اس کی طرف گھومی وہ جو کوئی بھی تھا ہلکا ہلکا ہوش میں تھا اور اسے گو گو ۔۔ کہہ رہا تھا حور نے اس کی آواز نہیں سنی اور نا ہی دیہان دیا اس وقت وہ صرف اسے بچانا چاہتی تھی ۔حور نے اسٹیرنگ پے اپنی کمر ٹکائی اور اسکی بندھی بیلٹ کو زور زور سے کیچنے لگی جو کافی مضبوط تھی اس نے اس شخص کو پیچھے کیا اور واپس دروازے کی طرف آئ وہاں سے مضبوط کانچ کا ایک بڑا ٹکڑا اٹھایا اور اسکی طرف آئ۔۔اب وہ بیلٹ سے اس کانچ کے ٹکرے کو کاٹ رہی تھیبیلٹ کاٹنے سے حور کا اپنا ہاتھ بھی زخمی ہوا تھا جس سے خون نکل رہا تھا اسکے پاس وقت نہیں تھا وہ حور پے جھکا ہوا تھا۔۔ اس کا خون بہہ رہا تھا شاید اس کے سر پے چھوٹ آئ تھی جس کی وجہ سے اس کا منہ خون سے بھر چکا تھااور ناک سے ٹپکتے ہوے حور کی گردن اور کپڑوں کو رنگ رہا تھا۔حور تیزی سے ہاتھ چلا رہی تھی اس کے اپنے ہاتھ بھی زخمی ہوے تھے ۔وہ شخص نیم گنودگی میں آنکھیں کھولتا حور کو دیکھتا اور زور سے حور کا ہاتھ جھٹکنے کی کوشش کرتا۔۔اور مشکل سے آواز نکالتا اسے گو گو کہتا۔۔حور سمجھی شاید حادثے کی وجہ سے اسکے دماغ پے اثر ہوا ہے وہ ڈاکٹر تھی ایسے مریضوں سے اس کا واسطہ اچھے سے پڑتا رہتا تھا۔۔وہ ہر بار اسکے ہاتھ جھٹکنے پے دوبارہ سے بیلٹ کاٹنے لگتی آگر وہ اپنے ہوش میں اس کا ہاتھ جھٹکتا تو حور کا ہاتھ اتر جانا تھا۔وہ نیم بیہوشی میں بھی طاقت سے اس کا ہاتھ جھٹک رہا تھا۔۔اور گو گو کہتا جا رہا تھا ۔۔اچانک سے بیلٹ کٹی اور وہ جھٹکے سے اپنے پورے وزن کے ساتھ حور پےآگرا حور ایک دم ہل سی گئی کبھی کسی غیر مرد نے اسے ٹچ نہیں کیا تھا اور وہ پورا کا پورا اس پے آگرا تھا وہ بھلے بیہوش تھا مگر تھا تو انسان ہی ۔۔حور کو لگا جیسے ایک دم کسی نے بے تحاشہ وزن اس پے ڈال دیا هو اس کی اپنی سانس اس کے وزن سے روکنے لگی۔۔حور کو اپنی گردن پے اسکی آتی جاتی سانسوں کی نوید مل رہی تھی اور اس کا خون حور کے کپڑوں منہ اور گردن کو تیزی سے رنگ رہا تھا حور نے پوری طاقت سے اس کے بھاری وجود کو پیچھے کی طرف دھکیلا اور جلدی سے ہٹی۔۔اب وہ اسٹیرنگ پے گرا ہوا تھا وہ تھوڑی تھوڑی دیر میں ہوش میں آتا مگر خون بہنے کی وجہ سے اس کا جسم دماغ ساتھ نہیں دے پا رہے تھے جس کی وجہ سے وہ پھر بیہوش ہوجاتا۔۔حور سامنے کے راستے سے بہار آئ اور اسٹیرنگ پر رکھے اس کے دونوں ہاتھوں کو کھیچنے لگی کھینچتے کھینچتے حور کے ہاتھوں سے اس کے دونوں ہاتھ پھسلنے وہ زور سے گری اسے کمر پہ چوٹ لگی۔۔وہ ہمت کرکے پھر اٹھی اور ایک بار پھر اسے کھینچنے لگی۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی سانڈ کو کھینچ رہی ہو ۔۔پورا زور لگانے پر وہ آدھا باہر آ چکا تھا حور اسے اتنا ہی نکالنے پرہاپنے لگی۔۔کیا کھاتا ہے سانڈ وہ دل میں بولی ۔اس نے پھر سے زور لگا کے اسے دونوں کاندھوں سے پکڑ کے کھینچا جس سے وہ پورا باہر آگیا۔۔حور کی محنت رنگ لائی وہ آنکھیں پھاڑے اس شخص کو ہلکی روشنی میں دیکھ رہی تھی۔وہ جسامت سے ڈبلیو ڈبلیو ایف کا ریسلر رومن رینج کا جانشین لگتا تھا۔ساڑھے چھ فٹ کی ہائٹ اور مضبوط ورزشی جسامت چوڑے کاندھے ۔۔حور نے اسے زمین پے لٹا کے سیدھا کیا۔اس کا منہ خون سے بھرا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ اس کی شکل نہ دیکھ سکی۔وہ سوٹ بوٹ میں کوئی بڑی شخصیت لگتا تھا کم سے کم حور کو یہی لگا کہ وہ یہاں کی اونچی پارٹی سے تعلق رکھتا ہوگا۔۔ حورنے کانچ پے بچھائی اپنی جیکیٹ اٹھائی۔اور جھاڑ کر اس کے سر جہاں سے خون بہہ رہا تھا وہاں رکھ کے دبایا ۔ایک بار پھر مدد کے لئے ادھر ادھر نظر گھمائی۔اسے اب بھی کہیں سے کوئی مدد کے آثار نظر نہیں آئے اب ایک راستہ تھا اسے بچانے کا وہ بھاگتی ہوئی گھر کی طرف گئی تھوڑی ہی دور گھر تھا۔جہاں واچ مین کرسی پر سوتا نظر آیا۔ وہ واچ مین کے پاس آئی اور اسے جگایا وہ ہڑبڑا کے اٹھا اور حوا کو نیند میں ڈوبی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔پلیز میری مدد کریں ۔۔
کیوں کیا ہوا ؟؟واچ مین نے اس سے پوچھا۔
وہ وہاں ایک ایکسیڈنٹ ہوا ہے مجھے اسے ہوسپیٹل لے کے جانا ہے پلیز جلدی چلو۔۔ وہ پلٹ کے گھر میں گئی اور کار کی چابیاں لے کر آئی۔۔
اب وچ مین نے اپنی پوری آنکھیں کھول کے حور کو دیکھا وہ اس وقت خون میں لت پت تھی۔
تمہیں پولیس کو فون کرنا چاہیے ۔۔اس نے حور سے کہا۔
اس نے پلٹ کے واچ مین کو دیکھا اور بولی ۔۔پولیس کو فون کرنے سے زیادہ ضروری اس کی جان بچانا ہے۔اسے ہاسپیٹل لے کے جانا ہے پولیس کو فون ہم بعد میں بھی کر سکتے ہیں میں تمہیں جان بچانے کے لئے پیسے بھی دونگی اور اس سب میں تمہارا نام بھی نہیں آئے گا۔۔وہ جلدی جلدی بولی
واچ مین کی آنکھیں پیسے کا نام سنتے ہی چمک اٹھی۔اور وہ فورا بولا ٹھیک ہے چلو
حور بھاگتی ہوئی گاڑی تک آئی گاڑی میں بیٹھی اور واچ مین کے لئے بھی دروازہ کھولا اور گاڑی بھگاتی ہوں اس کے پاس لائی اور واچ مین سے گاڑی کا پیچھے کا دروازہ کھولنے کو کہا۔
حور اس کے پاس آئی ہی تھی اسے اٹھانے کے لئے کہ اس نے اپنی نیم وا آنکھیں کھولی اور حور کے مدد کے ہاتھوں کو زور سے جھٹکا اور اس کے جھٹکنے پر حور پوری ہل گی اور گرتے گرتے بچی ۔۔
واچ مین بھی اسے حیران کھڑا دیکھنے لگا۔۔
حور پھر آگے بڑھی اور واچ مین کو گھور کے بولی دیر نہیں کرو جلدی مدد کرو۔۔
اور پھر ایک بار حور نے اسے زبردستی کاندھوں اور واچ مین نے پیروں کی طرف سے پکڑ کے اسے حور کی گاڑی کے پیچھے سیٹ پر ڈالا۔ وہ ٹھہرا ساڑھے چھ فٹ چوڑے جسامت کا بندہ وہ حور کی گاڑی میں آتو گیا لیکن آدھا سیٹ پہ آدھا سیٹ سے نیچے گرتا اور اس کی ٹانگیں آدھی گاڑی سے باہر لٹکی ہوئی تھی۔۔حور نے اس کی ٹانگیں موڑ کے اندر کی اور جلدی سے دروازہ بند کیا ہاسپٹل جانے کے لیے یہ گاڑی بھی ایک نعمت سے کم نہیں تھی۔۔اس نے پلٹ کے واچ مین کو واپس جانے کو کہا اور گاڑی بھگاتے ہوئے ہاسپٹل لائ۔۔
واچ مین اسے جاتا دیکھتا رہا اسے پتہ تھا اس نے آکے اسے پیسے ضرور دینے تھے
حور کے ہاسپٹل میں جاب کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ اسے فورا اندر لے گے اور ٹریٹمنٹ شروع کردی اس وقت پیٹر اون تھا وہ حورکو اس حالت میں دیکھ کے بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا۔
آر یو اوکے حورین ؟؟۔وہ اس کے کپڑوں ہاتھ گلے پہ خون دیکھ کے گھبرا گیا۔۔
حور پیٹر کو دیکھ کے سیدھی ہوئی۔یس ڈاکٹر ایک ایکسیڈنٹ کیس ہے میرے سامنے ہوا ہے میں اسے ہی لے کر آئے ہوں۔۔
اومائی گاڈ حورین میں اس پیشنٹ کو دیکھتا ہوں آپ بالکل فکر مت کریں اور پیٹر نے ایک ڈاکٹر لیڈی کو آواز دی۔۔
یس ڈاکٹر ۔۔لیڈی ڈاکٹر قریب آکے کے بولی۔۔
حورین کا چیک اپ کرو مجھے لگتا ہے انہیں بھی چوٹیں آئی ہیں یہ کہہ کے وہ اندر آپریشن روم میں چلا گیا۔۔
لیڈی ڈاکٹر نے حور کی پٹی کر دی تھی اسے واقع کافی چھوٹیں آئی تھی ہاتھ پر بھی ٹھیک ٹھاک لگی تھی۔۔کہ جب ہی پیٹر حور کے پاس آیا۔۔ حورین کیا آپ جانتی ہیں۔ جس کو آپ ہاسپیٹل لے کر آئی ہیں وہ کون ہے؟؟ وہ عجیب سی نظروں سے حور کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔
نو ڈاکٹر میں نہیں جانتی یہ کون ہے ؟؟وہ حیران آنکھوں سے پیٹر کو دیکھتے ہوئے بولی وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا۔۔وہ پیٹر کے پیچھے روم سے باہر آئی۔تو وہاں پولیس کو کھڑے دیکھا۔پولیس حور کو دیکھ کے اس کے پاس آئی۔ اور اس کیس کے حوالے سے حور سے عجیب عجیب سوال کرنے لگی ۔
نہیں میں نہیں جانتی کسی کو بھی بس میری آنکھوں کے سامنے وہ حادثہ ہوا اور اور میں نے ان کی مدد کی انہیں ہاسپیٹل لے کر آئیں۔۔حور سارے سوالوں سے بیزار آ کے بولی۔۔
پولیس ابھی اور اس سے سوال کرنے لگی تھی کہ پیٹر نے ہاتھ اٹھا کہ پولیس کو کہا۔۔
یہ یہاں ایز آ ڈاکٹر جاب بھی کرتی ہیں اور ایک اسٹوڈنٹ بھی ہیں اور آپ انہیں مزید فالتو سوال کر کے پریشان مت کریں یہ خود بھی کافی زخمی ہیں آپ دیکھ سکتے ہیں۔۔
ٹھیک ہے ہمیں آگر دوبارہ ضرورت پڑی تو ہم پھر آئیں گے۔اور پھر وہ چلے گئے۔۔
ان کے جاتے ہی پیچھے سے ایک لڑکا بھاگتا ہوا آیا۔۔
جس کی جس کی عمر 27 سے 28 کے قریب ہوگی وہ باقیوں کی طرح انگریز ہی دیکھتا تھا۔پیٹر کے قریب آتے ہوئے بولا۔۔ اذہاد عریض کہاں ہے؟؟ پیٹر نے آنکھیں چھوٹی کرکے اسے پہچاننے کی کوشش کی؟؟آپ کون؟؟
میں ڈیلن ہوں ان کا خاص ملازم۔ وہ شکل سے بہت پریشان لگا ایسا لگا کے ابھی وہ رو دے گا۔۔
پیٹر نے اس کا کندھا تھپکا اس وقت وہ آپریشن تھیٹر میں ہے ابھی کچھ کہہ نہیں سکتے ۔۔
ڈاکٹر پیٹر مریض کی حالت بگڑتی جارہی ہے بلڈ کافی بہہ چکا ہے اور ان کا بلڈ اس وقت ہسپتال میں ہمارے پاس موجود نہیں ارینج کرنے تک کہیں دیر نہ ہوجائے۔ ڈیلن نرس کی بات سنتے ہی سکتے میں آگیا۔۔
ان کا بلڈ گروپ بتاؤ؟؟ حور فورا آگے آتے بولی۔
اور نرس کا جواب سنتے ہی حور پیٹر اندر بھاگے۔
حور نے اسے دیکھا اس کے چہرے سے خون صاف کیا جا چکا تھا جس سے اب وہ پہچانا جا سکتا تھا۔۔
براؤن شیڈ مارتے گھنےبال جو ماتھے پے گر رہے تھے اور اس کے نیچے پٹی بندھی تھی خوبصورت گنی آئی برو اس سے نیچے اس کی خوبصورت گھنی پلکوں والی بند آنکھیں ۔پتلی مغرور سی خوبصورت کھڑی ناک۔خوبصورت ہونٹ جو سائیڈ سے ہلکا سا پھٹ چکا تھا۔شارپ فیس کٹ جس پہ ہلکی بی بئیرڈ اس کے حسین چہرے کو اور حسین بنا رہی تھی.وہ26 سے 27کے بیج کا لگتا تھا حور اسے دیکھے گئی۔وہ کہیں سے انگریز نہیں لگتا تھا۔ اس کے نین نقش اسے کہیں اور ہی ریاست کا شہزادہ ظاہر کر رہے تھے وہ سوتے میں ہی غضب ڈھا رہا تھا تو جاگتے میں کیا سماں ہوگا اس کے کان سے تھوڑا نیچے گردن پے بنا ٹیٹو اسے اور حسین بنا رہے تھے۔۔
تھینک یو حورین آپ کے وقت پے بلڈ دینے کی وجہ سے اذہاد آب خطرے سے باہر ہے ۔۔ وہ پیٹر کی آواز پر چونکی۔
یہ میرا فرض تھا ڈاکٹر ۔۔ مسکرا کے بولی
تمہیں اب گھر جا کے آرام کرنا چاہیے تمہیں بھی چوٹیں آئی ہیں۔۔ اذہاد کو صبح ہوش آجائے گا۔۔
وہ مسکرائی اور ایک نظر سوتے اس شخص پر ڈالتی روم سے باہر آگئی۔۔
وہ کافی تھک چکی تھی گاڑی تک آئی اور اندر بیٹھ کے اس نے ایک نظر خون سے رنگی پیچھے والی سیٹ کو دیکھا اور گہرا سانس لے کے گھر کے لیے نکل گئی گھر آکے اس نے سب سے پہلے کپڑے چینج کیے ایک کپ اچھی سی چائے بنائی جس اس کی ساری تھکن اتر گئ۔پھر وہ بیڈ پے لیٹی دنیا سے غافل ہو ہوگئی
____________________
خدیجہ نے لیزا کو ترجمہ والا قرآن لاکے دیا تھا اور آج وہ کمرے میں بیٹھی قرآن ہاتھ میں لیے گھبرا رہی تھی یہ کیسی کتاب ہے جسے لینے کے لئے اسےسب سے پہلے پاک ہونا تھا یعنی وضو کرنا تھا آج سے پہلے کسی کتاب کو پڑھنے سے پہلے ایسی حالت تو نہ ہوئی جو آج ہورہی تھی اس نےکپ کپاتے ہاتھوں سے قرآن کھولا۔اور جیسے جیسے وہ پڑھتی گئی اس کے آنسو رک ہی نہیں رہے تھے اور برسوں سے جمی اس کے دل پہ گمراہی کی گرد آہستہ آہستہ چھٹتی گئی۔۔اس نے قرآن پڑھنے کے بعد اسی چومہ اور سینے سے لگایا اور اسے ایسی جگہ پر چھپا دیا جہاں اس کے علاوہ کوئی نہ دیکھ سکے اور خاموشی سے لیٹ گئی۔۔
صبح اپنے وقت پر اٹھ کے یونیورسٹی گئی۔
زیاد ہر جگہ اسے ڈھونڈ رہا تھا مگر اسے وہ کہیں نظر نہیں آئی وہ یونیورسٹی کی واحد لڑکی تھی جس سے زیاد بات کرتا تھا ورنہ لڑکیاں کیا وہاں کسی لڑکے کو بھی زیاد منہ لگانا پسند نہیں کرتا تھا۔اور پھر وہ اسے سامنے سے آتی دکھائی دی وہ اپنی دھن میں چلتی جا رہی تھی جب وہ اس کے قریب جاکے ہائے بولا۔۔۔لیزا نے چونک کے اسے دیکھا وہ ہنسا اس کی ہنسی بےپناہ حسین تھی مگر لیزا کی سوچ ابھی یہاں تک پہنچی ہی نہیں تھی وہ سیدھا چلتی رہی وہ بھی اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کے چلتا رہا۔۔
مجھ سے ناراض ہو؟؟ اس نے معصومیت سے لیزا سے پوچھا۔۔
کیوں میں کیوں تم سے ناراض ہونے لگی۔۔ منہ دوسری طرف گھما کے بولی۔۔۔
پھر مجھ سے بات کیوں نہیں کرتی؟؟زیاد نے سوال کیا۔۔
میں تم سے کیا کسی سے بات نہیں کرتی۔۔ وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی بولی۔۔
وہ اس کی بات سن کے اداس ہوا پھر شرارت سے ہنسا ۔۔ مجھے تمہاری یہی بات تو تمہاری طرف کھینچتی ہے۔۔
تم مسلم ہونا تمہارا اسلام غیر محرم سے بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا پھر کیوں کرتے ہو؟؟ لیزا غصے سے بولی۔۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا۔۔ ویٹ میں مسلم ہوں ٹھیک لیکن تم تو کرسٹن ہونا تم کیسے جانتی ہو اسلام اور دین کے بارے میں ؟؟تمہیں اتنی گہری بات کیسے پتہ اب وہ آنکھوں میں دیکھ کے سوال کرنے لگا۔۔
لیزا گھبرا گئی اتنی جزباتی ہو گئی تھی وہ کہ اپنے منہ سے اپنا بھانڈا پھوڑ دیا۔وہ وہاں سے بھاگ گئی اور زیاد اسے دور تک دیکھتا نئی نئی سوچین سوچتا رہا میرا شک سہی تھا میں ایسے ہی تو تمہاری طرف نہیں بڑھا ۔۔لیزا میرا دل ایسے ہی تمہارے بارے میں تمہارے اردگرد رہنے کے لیے نہیں سوچتا اور تڑپتا ۔۔اس نے گردن اٹھا کے آسمان کی طرف دیکھا جہاں صاف آسمان پر اڑتے پرندے اسے خوبصورت صبح بخیر کر رہے تھے وہ مسکرایا اور اشارہ سمجھتا آگے بڑھ گیا۔۔
خدیجہ اور لیزا آمنے سامنے بیٹھی تھی ختیجہ میں نے فیصلہ کیا ہے۔۔۔
خدیجہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
لیزا تھوڑی دیر اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی پھر آہستہ سے بولی میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں ۔۔۔
خدیجہ پہلے بے حد حیران ہوئی پھر خوشی سے اسے گلے لگایا۔۔وہ جانتی تھی لیزا بہت جلد یہ خواہش ظاہر کرے گی ۔۔۔
کیوں نہیں لیزا میں بہت خوش ہوں لیکن کیا تمہارے پیرنٹس تمہارے فیصلے سے آگاہ ہیں ؟؟
لیزا نے گردن جھکائی۔۔ نہیں ابھی نہیں جانتے وہ لیکن میں بہت جلد انہیں بتادوں گی مجھے یقین ہے وہ لوگ مجھے سمجھیں گے۔۔
خدیجہ نے اسکی جھکی گردن کو دیکھا ۔۔میں اللہ سے دعا کروں گئی کہ تمہیں اسلام دین کی راہ پے چلتے آزمائشوں پے پورا اترنے کی طاقت دے آمین۔۔
لیزا نے بھی دھرے لبوں سے آمین کہا۔
تم میرے ساتھ کل چلنا لیزا ٹھیک ہے ۔۔۔لیزا نے خاموشی سے گردن ہاں میں ہلا ئی۔ ۔
جاری ہے
