Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47
کیا بات ہے ہبی آج تو بڑے لشکارے مار رہیں ہیں آپ؟ وہ ویسی اس کے سینے سے لگی اس کے کوٹ کو دیکھتی اوپر گردن کر کے پوچھنے لگی۔۔
ہاں میری وائف آنے والی تھی اس لئے اسے امپریس کرنے کے لئے اتنی تیاری کرنی پڑی۔۔
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کے کتنی دیر ہنستے رہے۔۔حور نے اس کے دونوں گال پکڑ کر زور سے کھینچتے ہوئے دائیں بائیں اس کی گردن ہلائی۔۔۔
اذہاد نے اس کے ماتھے کو چوما اور پلٹ کر موبائل گاڑی کی چابی اٹھاتا اس کا ہاتھ تھام کر بولا۔۔۔چلو۔۔
حور حیران ہوئی۔۔۔ کہاں؟؟
اچھا سا لنچ اور پھر کافی پینے۔۔۔۔وہ مزے سے اسے دیکھتا بولا۔۔۔
ہادی عنایا کو پالر لے کر جانا ہے میں لیٹ ہوجاؤ گی۔۔
وہ اسے مناتی ہوئی بولی۔۔
حور تھوڑی سی دیر کی بات ہے یار میں تمھیں چھوڑ دونگا پالر۔۔وہ اس کے قریب آتا اس کے دونوں ہاتھوں کو تھامتا منت کرتا بولا۔۔
ہادی دیکھو کتنا وقت ہو گیا ہے اور پھر لنچ کرنے بیٹھی تو لیٹ ہو جاؤں گی۔۔مجھے صرف تم سے ملنا تھا تمہیں دیکھنا تھا۔۔پلیز ہادی۔۔
وہ جو اب منہ بناے کھڑا تھا اس کے اتنی جلدی جانے پے۔۔دل اب اسے دیکھ کر بے چین ہو گیا تھا اور اسے جانے دینے پر آمدہ نہیں تھا۔۔۔
وہ خاموش ناراض نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا بس۔۔
ہادی میں ایسے نہیں جا سکوں گی۔۔پلیز۔۔۔وہ اس کی خاموش ہو جانے والی عادت کو اب سمجھنے لگی تھی اداسی۔درد۔ تکلیف۔میں وہ یوں ہی خاموش ہو جایا کرتا تھا کچھ نہیں کہتا تھا۔۔
اسے خاموش دیکھ کر حور کا دل جیسے کسی نے موٹھی میں جکڑ لیا ہو۔۔۔
ہادی۔۔۔وہ اس کا ہاتھ زور سے ہلاتی ہوئی اسے منا رہی تھی۔۔
اوکے۔۔۔اس کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکاتا اس کی آنکھوں میں دیکھتا مسکرا دیا۔۔۔
اس کے چہرے کی اداسی اس کی دنیا ویران کرتی تھی۔۔اس کے چہرے کی مسکان کے لئے وہ مسکرا دیا۔۔۔
اور تبھی حور بھی ہنس دی۔۔۔۔
میں جاؤ۔۔۔وہ آہستہ آواز میں اجازت لیتی بولی۔۔
نہیں۔۔اذہاد نے جھٹ سے کہا۔۔
حور نے ہونٹوں کو جھکا کر رونی صورت بنائی۔۔
اذہاد بے اختیار مسکرایا۔۔اور اس کے ماتھے کو چوم لیا۔۔۔
چلو۔۔۔اور پھر وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے گاڑی تک چھوڑنے آیا تھا۔۔۔
اور وہ اسے دیکھتی ہنستے ہوے چلی گئی تھی۔۔
اذہاد کتنی ہی دیر وہاں کھڑا اس کی جاتی کار کو دیکھتا رہا تھا۔۔۔
_____________________
حور عنایا کو لے کر 2 بجے پالر چلی گئی تھی۔۔
اور ٹھیک 6 بجے وہ عنایا کو لے کر ہال بھی پوھنچ گئی تھی بارات جلدی آنی تھی کیوں کہ نکاح کا کوئی سسٹم اب تھا نہیں صرف رخصتی تھی اور عنایا رخصت کو کر گاؤں جانے والی تھی۔۔۔۔
اس لئے 10 بجے تک سب معملات نبٹا کر فارغ ہونا لازم تھا۔۔۔
حور نے مہرون اور گولڈن رنگ کا حسین شرارہ پہنا تھا جس پے بہت باریک اور نازک گولڈن رنگ کام ہوا تھا۔۔ماتھے پر صرف ایک نازک سا ٹیکا لگا تھا۔۔کان خالی تھے۔۔گلے اور ہاتھ میں اذہاد کا پہنایا لاکٹ اور بریسلیٹ سجا تھا۔۔ہونٹوں پر لگی ہلکے شیڈ کی لپسٹک لگاے بالوں کو کھلا چھوڑے وہ محفل کی جان بنی ہوئی تھی۔۔
اور عنایا وہ تو تھی ہی دلہن۔۔جو آج الگ ہی روپ دھاری حسین لگ رہی تھی۔۔۔
حور بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔وہ اس کا تھامتی ہوئی بولی تھی۔۔حور کی آنکھیں ہلکی سی نم ہوئی اسے دیکھ کے۔۔پاگل ڈرتی کیوں ہو؟؟ وہ مسکراتی ہوئی بولی۔۔
دلہن روم میں اس وقت دونوں کے علاوہ اور کوئی موجود نہیں تھا۔۔
میری ڈائری کہاں ہے حور؟؟ عنایا کہ اچانک سوال پر حور گڑبڑائی۔۔
کون سی ڈائری عنایا۔۔تم بھی نا۔۔کیا تھا اس ڈائری میں؟؟۔۔حور انجان بنتی فورن سے خود کو سمبھالتی ہوئی بولی تھی۔۔۔
عنایا پوری طریقے سے کنفرم نہیں تھی کہ ڈائری حور کے پاس ہے اس نے بس اندازہ لگانا چاہا تھا۔تبھی خاموش ہو گئی۔۔
شاہزیب بھائی بہت اچھے ہیں۔۔تم بہت خوش رہو گی۔۔حور نے اس کے ہاتھ تھام کر اسے تسلی دی۔۔
وہ شاید مجھے پسند نہیں کرتے حور۔۔عنایا نے دل کا ڈر اس سے صاف الفاظوں میں بیان کیا۔۔
تم سے کس نے کہا؟؟ حور اب منہ کھولے اس کی بیوقوفی کی بات سنتی بولی۔۔
عنایا خاموش ہی رہی۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے شاہ بھائی بہت خوش ہیں۔۔اور پلیز ایسی فضول کوئی بھی بات ان سے مت کر دینا سمجھی۔۔۔۔تم دونوں اب ایک دوسرے سے جڑ چکے ہو۔۔یہ سب سوچنے کا اب کوئی فائدہ نہیں۔۔ہنسو مسکراو جشن مناؤ یار آج تمہاری شادی ہے۔۔۔وہ اسے ہنستے ہوے جھنجھوڑ کر بولی۔۔
عنایا بھی اس کی بات سن کر ہنس دی۔۔ہاں اب تو وہ بیوی تھی اس کی یہ سب تو پہلے سوچنا تھا نا۔۔اب اسے زندگی کو جینا ہے حور کی طرح۔۔۔
آپی بارات آگئی۔۔۔۔فریحہ دروازہ کھول کر اندر آتی جوش سے بولی۔۔
کیا۔۔حور جھٹکے سے کھڑی ہوئی۔۔
اور پھر کیا تھا ڈھول کی بجتی تیز آوازوں پر حور اور فریحہ نے وہ دھمال ڈالا کے عنایا سب بھول کر انہیں دیکھتی زور زور سے ہنسنے لگی۔۔
اسے ہنستا دیکھ کر حور آکے اس کے زور سے گلے لگی۔۔اللہ تمھیں ڈھیروں خوشیاں دے۔۔وہ دل میں اس کی دائمی خوشیوں کے عمر بھر قائم رہنے کی دعا کرنے لگی۔۔۔
_____________________
آف وائٹ شیروانی پہنے سر پر پگھ باندھے وہ دولہا بن کر جچ رہا تھا۔۔
بارات بہت دھوم دھام سے آئی تھی۔۔
شاہزیب کو اسٹیج پر لاکر بٹھایا گیا تھا۔۔اب دلہن کو لا کر بٹھانا تھا تاکہ جلد رسمیں ادا ہونے کے بعد کھانا شروع کیا جائے پھر رخصتی۔۔۔
حور عنایا کو پیچھے چھپاے دولہے سے نیگ مانگ رہی تھی۔۔
اب کون سا نیگ بھئی۔۔شاہزیب پریشان ہوتا بولا۔۔
دلہن کو اتنا تیار کیا ہے سجایا ہے اس کا نیگ دو۔۔۔حور آگے آئے بالوں کو جھٹکا دیتی پیچھے کرتی منہ چڑھا کر بولی۔۔
میںنے تو نہیں کہا تھا۔۔شاہزیب بھی ہار مانے کو تیار نہیں تھا۔۔
آپ کے لئے ہی تیار کیا ہے اسے اتنا چلیں نخرے نہیں دکھائیں پیسے نکالیں جیب ہلکی کریں ۔۔
ماتھے پہ بل ڈالتی تنک کر بولی۔۔
بھئی ظاہر ہے میرے لیے ہی تیار کیا ہے میں ہی دیکھوں گا۔۔مگر پیسے کیوں دوں؟؟؟ وہ ہنستا ہوا اسے اور تنگ کرتا بولا۔۔۔
حور کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ آگے بڑھ کر دولہے کی گردن مروڑ دے۔۔۔
وہ شعلہ بار آنکھوں سے اسے دیکھتی بولی۔۔ٹھیک ہے پھر رخصتی بھی نہیں ہوگی۔۔۔
اس کی بات سن کر شاہزیب قہقے لگا کر ہنس دیا۔۔۔دلہن کو تو میں اٹھا کر لے جاؤں گا۔اور آپ سب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی۔۔۔وہ اکڑ کر اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا۔۔۔
تبھی اس کی بات سن کر ہوٹنگ ہونے لگی۔۔۔اوووووو۔۔۔۔
بھئی نکالے نہ پیسے۔۔۔وہ اب تھکنے لگی تھی۔۔
کہ جب عنان اور داؤد بھی بچ میں آگئے۔۔
ارے شاہزیب دے دو بیٹا بہت دیر ویسے ہی ہوگئی ہے یہ کہیں واقعی ہی عنایا کو لے کر نہ چلی جائے۔۔۔داؤد شاہزیب کو سمجھاتے ہوے بولے تھے۔۔
اور تبھی شاہزیب انکی بات مانتا ہوا اسے جیب سے پیسے نکال کر نیگ کی صورت میں دیا۔۔مگر حور نے نا صرف دولہے سے نیگ لیا بلکے ماموں اور داؤد کو بھی نا چھوڑا۔۔
ارے اکلوتی پوتی اور اکلوتی بھانجی ہوں اتنا تو حق بنتا ہے میرا۔۔
یہ کہتی پھر دولہے پر احسان کرتی وہ عنایا کو اس کے برابر لا کر بٹھاتی بولی۔۔۔واہ واہ کیا جوڑی ہے۔۔کسی کی نظر نا لگے۔۔حور کی حرکتوں پر سب ہنس رہے تھے۔۔
ارتضیٰ پیار سے اسے دور سے دیکھ رہے تھے ان کی ہنستی کھیلتی چڑیا کے اب اڑنے کے دن قریب آرہے تھے پھر وہ کسی اور کی زندگی میں رنگ بکھیرنے چلی جائے گی۔۔۔۔۔۔وہ یہ سوچ کر اداس ہوگئے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔



۔۔۔۔۔۔
اذہاد کو عنایا کے نمبر سے ایک اور ویڈیو وصول ہوئی جیسے دیکھ کر اذہاد کی آنکھیں اور منہ کھولا کا کھولا رہ گیا۔۔
حور کی دھمال والی ویڈیو۔۔۔
اذہاد نے تو اپنا سر پیٹ لیا۔۔۔حوررر۔۔۔۔۔
اور یہ کہتا وہ کھڑا ہوا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


۔۔۔۔۔۔۔
ہاے۔۔۔اب تجھے ہم بہنے کہاں یاد رہیں گی۔۔۔اب تو تجھے میری ضرورت بھی نہیں ہوگی۔۔وہ عنایا کے کان میں گھسی بول رہی تھی جب عنایا نے کوہنی اس کے پیٹ میں مارنی چاہی۔۔
دیکھا دولہا بھائی۔۔آپ کی زوجہ موحترمہ کیسے داؤ لگانے بھی جانتی ہے بچ کے رہنا۔۔۔شاہزیب اس کی بات سن کر ہنس دیا۔۔۔
عنایا ہلکی آواز میں بولی۔۔شکر کر ہادی بھائی یہاں نہیں ہے ورنہ وہ اچھے سے لگام ڈالتے تمھیں۔۔۔
ارے ہٹو۔۔آئے بڑے تمہارے ہادی بھائی۔۔وہ میرا شوہر ہے قسم سے اس ڈھول کی تھاپ پر میں نے آج ہادی کو نا نچا دیا ہوتا تو میں تیری بہن نہیں تھی۔۔وہ سینہ ٹھوک کر عنایا سے بولی تھی ۔۔۔
بہت اچھا کیا جو تیری حرکتوں کی ایک ایک ویڈیو میںنے بھائی کو دی۔۔۔عنایا دل میں سوچتی خوش ہوئی۔۔
شادی میں ہر کوئی ارتضیٰ کے داماد کا پوچھ رہا تھا سب کو ارتضیٰ کے داماد کو دیکھنے اور اس سے ملنے کا تجسوس تھا ۔۔
مگر وہ یہ کہہ کر ٹال رہے تھے کہ اسے کام تھا اس لئے نہیں آیا۔۔۔
ارتضیٰ عظمیٰ سبکی زبان سے ایک سوال سن سن کر اداس ہو گئے تھے۔۔۔
حور بھی انکے چہرے کی اداسی دیکھ کر اداس ہو گئی تھی۔مگر خاموش تھی کتنوں کی زبان کو روکتی۔۔
تھوڑی دیر میں رخصتی کا شور اٹھا اور اللہ اللہ کر کے عنایا سب کی دعاوں میں رخصت ہو گئی۔۔۔۔
گھر کے کسی فرد نے آبھی تک کھانا نہیں کھایا تھا اسی لئے حور بھی بھوکی تھی وہ آبھی اذہاد کو فون کرنے لگی تھی جب اس کے نمبر پر اذہاد کی کال آنے لگی۔۔
فون اٹھاتے ہی حور نے سلام کیا۔۔
حور باہر آؤ میں ویٹ کر رہا ہوں۔۔اذہاد کی بات سن کر حور چادر لینے اندر بھاگی۔۔
بابا مما دادو ہادی آئے ہیں مجھے بلا رہے ہیں میں جا رہی۔۔یہ کہتی وہ باہر کی طرف بھاگ گئی اور سب پیچھے ارے ارے کہتے رہ گئے۔
______________________
وہ جب باہر آئی تو دیکھا اذہاد گاڑی کے ساتھ کمر ٹکاے اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
وہ اسے اس وقت یہاں دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھی۔۔
ہادی ی ی۔۔۔۔۔وہ بھاگتی ہوئی اس کے قریب آئی تھی۔۔
اذہاد بھی اسے دیکھ کر مسکرانے لگا اور اس کے قریب آنے پر گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔۔
جس میں حور کے بیٹھتے ہی اذہاد نے گاڑی دوڑا دی۔۔
ہادی یہاں تک آگئے تھے تو اندر بھی آجاتے کھانا سب کے ساتھ مل کر کھا لیتے۔۔حور اندر بیٹھتی بولی تھی۔۔
حور میں صرف آبھی تمہارے لئے آیا ہوں۔۔وہ بھی ایک امپورٹنٹ کام چھوڑ کر۔۔اذہاد نے اسے اپنی مجبوری بتائی۔۔
ہمممم۔۔حور نے گردن جھکائی۔۔
آپ کو پتا ہے ہر کوئی آپ کے بارے میں مما بابا دادو سے پوچھ رہا تھا کے آپ کا داماد کہاں ہیں آپ کا داماد کہاں ہے؟؟ اور وہ سب کو ایک ہی جواب دے رہے تھے۔۔۔کہ ان کا داماد کسی ضروری کام کی وجہ سے نہیں آ سکا۔۔وہ یہ کہتی اداس ہو گئی تھی۔۔
اذہاد کو یہ سن کر بڑا عجیب لگا۔۔سب اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے تھے؟؟
حور۔۔اس نے ایک ہاتھ سے اس کا چہرہ تھام کر اپنی طرف موڑا جو کھڑکی سے باہر دیکھتی اپنی اداسی اذہاد سے چھپا رہی تھی۔۔
تم اداس ہو؟؟اس نے گاڑی ایک طرف روکتے پیار سے اس کے چہرہ کو تھام کر پوچھا۔۔
حور مسکرائی۔۔ نہیں بلکل بھی نہیں۔۔وہ بہت صفائی سے اسے ٹال گئی تھی۔۔جو خوداس سے بھی زیادہ اسے جانتا تھا۔۔۔
اذہاد خاموش نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔
حور وہ سب میرے بارے میں کیوں پوچھ رہے تھے انہیں مجھ سے کیا لینا دینا؟؟؟ اس کے لیے یہ بات بہت عجیب تھی اس لئے دل کی بات زبان پر لاتا بولا۔۔
ہادی یہ لندن نہیں جہاں کسی سے کسی کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔۔یہ پاکستان ہے جہاں سب کو منہ دینا پڑتا ہے۔۔۔رشتوں کو لے کے چلنا پڑتا ہے۔۔۔۔وہ اس کی حیران پریشان شکل دیکھ کر مسکراتی ہوئی بولی۔۔
جس نے ساری زندگی تن تنہا اکیلے گزاری تھی اسے سارے لوگوں کو ڈھول پیٹ کر ایک ایک بات بتانے والی رسم سن کر بڑی حیرت ہوئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عنایا آنکھوں تک گھونگھٹ نکالے دھڑکتے دل کے ساتھ ہاتھوں کو مسلتی آنے والے وقت کے بارے میں سوچتی گھبرا رہی تھی۔۔
کمرے کو ہر طرف جابجا پھولوں سے سجایا ہوا تھا۔۔
جن سے اٹھتی دلفریب خوشبو ایک الگ ہی سماں باندھ رہی تھی۔۔
تبھی کوئی ہلکا سا دروازہ نوک کرتا اندر آیا۔۔
السلام علیکم۔۔شاہزیب مسکراتا ہوا اس کے سامنے بیٹھتا بولا۔۔
عنایا اس کے اتنے قریب بیٹھنے پر گردن اور جھکا گئی اور خود میں سمٹ گئی۔۔
شاہزیب نے صاف محسوس کیا کہ وہ اس کی موجودگی میں گھبرا رہی ہے۔۔
شاہزیب نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما۔۔
عنایا اس رشتے کو بیشک میرے بڑوں نے جوڑا ہے مگر اس رشتے کے جوڑنے میں میری دل سے اور خوشی سے دی گئی رضا مندی شامل ہے۔۔میں جانتا ہوں جو سب کچھ میری زندگی میں ہو کر گزرا وہ تم سے چھپا نہیں ہے۔ میرے دل میں اس بات کا افسوس بلکل نہیں جو مجھ سے دور ہوا۔۔ اس کے نصیب میں مجھ سے بہتر لکھا تھا جس طرح میری زندگی میں میرے اللہ نے اس سے بہتر لکھا۔۔تمھیں مجھ سے کوئی گلہ نہیں رہے گا میں پوری کوشیش کروں گا کے میری طرف سے تمھیں کبھی کوئی تکلیف نا ہو کوئی ایسا احساس نا ہو جس سے تمھیں لگے کے میں تمہارے قابل نہیں تھا۔۔میں تمھیں محبت مان عزت وہ سب دینا چاہتا ہوں جو ایک شوہر کا فرض بنتا ہے اپنی بیوی کو دے۔۔۔۔
اور تبھی عنایا کے آنسو شاہزیب کے ہاتھ پر گرے۔۔وہ شاہزیب کا ہاتھ آنکھوں سے لگاتی رونے لگی۔۔۔نہیں شاہزیب مجھے آپ سے کبھی کوئی گلہ نہیں ہو سکتا مجھے یقین ہے کہ آپ کی خوشی سے آج ہمارا یہ رشتہ قائم ہوا ہے۔۔میرے دل میں آپ کے گزرے وقت کو لے کر کوئی شک نہیں شاہزیب۔۔بلکے خوش نصیب تو میں ہوں جو مجھے آپ ملے۔۔آپ کو کوئی کوشیش کرنے کی ضرورت نہیں خود کو قابل ظاہر کرنے کی بلکے ساری زندگی اگر میں اپنے رب کا شکر کروں گی تو بھی کم ہے۔۔آپ بہت اچھے ہیں شاہزیب۔۔۔۔وہ روتی ہوئی اس کا ہاتھ آنکھوں سے لگاے کہہ رہی تھی۔۔۔
اور تبھی شاہزیب مسکراتے ہوے اس کے آنسو صاف کرتا اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتا محبت کی نشانی
چھوڑ گیا۔۔
ہر لڑکی اپنے لوگ ماں باپ بہن بھائی اپنی بچپن سے بتائی گئی اس گھر کی تمام یادوں کو چھوڑ کر ایک شخص کے ساتھ چل پڑتی ہیں۔۔ایک نئی دنیا بسانے نئے اور انجان لوگوں میں صرف 3 بار اقرار کر لینے سے کہ وہ اس انسان کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑ گئی ہے اسے اپنا آپ سونپ دیتی ہے۔۔تو کیا اس مرد کا فرض نہیں اپنے تین بار کے اقرار کے بدلے اسے وہ سب دے جو ایک عورت ہمیشہ اپنے شوہر سے چاہتی ہے۔۔محبت۔عزت ۔بھروسہ۔مان۔۔۔۔
شاہ زیب کے لیے یہی سہی وقت تھا۔۔جب وہ عنایا کے دل کی تمام خلش کو محبت اور اپنے پن سے دور کر سکتا تھا۔۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ آنے والی زندگی میں عنایا اور اس کے بیچ ہلکی سی بھی غلط فہمی کی کوئی گنجائش باقی رہے۔۔وہ اس کے ساتھ ایک بھرپور زندگی گزارنا چاہتا تھا۔۔۔
چاند کی چاندنی ان دو دلوں کی محبت پر مسکرا دی اور ہمیشہ کے لئے انکی محبت کی گواہ بن گئی کے یہ ایک ہو گئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور منہ کھولے حیران نظروں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔۔
آزاد نے آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر اس کی ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر اس کا کھلا منہ بند کیا۔۔۔
ہور نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا۔۔ہادی آپ یہاں رہتے ہیں؟؟ آنکھوں میں نمی لئے دکھ اور افسوس کی ملی جھولی کیفیت میں گھری وہ اذہاد کو دیکھتی بولی۔۔۔
اذہاد ہلکا سا مسکراتا اسے اندر لے کر آیا تھا۔۔۔
یہ جگہ آپ کے رہنے کے قابل نہیں ہادی۔۔وہ دکھ سے بولی تھی۔۔کہاں وہ محلوں میں رہنے والا شہزادہ۔۔آج ایک عام سی جگہ ٹہرا تھا۔۔
حور میرے لئے تم سے بڑھ کر اب کوئی چیز اہمیت نہیں رکھتی۔۔جب خود کو زندہ تصور نہیں کرتا تھا۔۔تب خود کو اونچے اونچے خوبصورت قعلوں میں قید کر لیتا تھا۔۔اور اب جب خود کو جیتا جاگتا محسوس کرنے لگا ہوں تو اب تمہارے سوا کسی چیز کو سوچنے کا وقت ہی نہیں۔۔۔۔وہ محبت سے اس کا ہاتھ تھامتا اس کی آنکھوں میں دیکھتا ایک جزب سا بول رہا تھا۔۔۔۔
حور آہستہ سے اس کے سینے سے لگی سوچنے لگی ۔۔کیا کوئی اتنی بھی کسی سے محبت کرتا ہوگا جتنا اس کا ہادی اس سے کرتا ہے۔۔
دل نے چپکے سے گواہی دی۔۔نہیں شاید کوئی بھی نہیں۔۔۔
حور مجھے بہت بھوک لگی ہے۔۔اذہاد کی مسکین آواز سن کر حور ہنس دی۔۔
اذہاد ہوٹل سے کھانا پیک کروا کر گھر لے یا تھا۔۔حور اور اذہاد نے مل کر خوشگوار ماحول میں پہلے کھانا کھایا۔۔
پھر اذہاد نے زبردستی اسے ہٹا کر خود کافی بنائی۔۔
وہ اس کے کمرے سے نکلتی بالکونی میں التی پالتی مار کر نیچے بیٹھی ہوئی تھی۔۔
میری کافی کہاں ہے؟؟ حور نے اذہاد سے پوچھا۔۔
آزہاد نے ہاتھ میں پکڑے کافی کے کپ کی طرف اشارہ کیا۔۔
اور آپ کی کافی کہاں ہے ؟؟
آزہادنے دوبارہ اسی کافی کے کپ طرف اشارہ کیا۔۔۔
وہ دونوں کے لئے ایک ہی کپ میں کافی نکال کر لایا تھا۔۔
حور نے منہ بنایا۔۔
آپ جانتے ہیں کہ میں یہ کالی کافی نہیں پیتی۔۔پھر بھی آپ میرے لئے یہ کافی لے آئے۔۔
مگر میں یہی کافی پیتا ہوں اور اس میں تم میرا ساتھ دوگی۔۔وہ جان بوجھ کر اسے چڑانے کے لئے ایک کپ میں بلیک کافی بنا کر لیا تھا۔۔آخر دھمال کا حساب برابر بھی تو کرنا تھا۔۔۔
وہ مزے سے ایک طرف کافی رکھتا اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹتا آنکھیں موند گیا۔۔
وہ آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں اپنی نرم ملائم انگلیاں چلانے لگی۔۔۔۔
آپ کو پتا ہے ہادی آج تو میں نے شاہ زیب بھائی سے پورے پچیس ہزار روپے لے کر ان کی دلہن کی جان چھوڑی۔۔۔وہ خوشی سے آزہاد کو اپنا کارنامہ سناتی بولی۔۔
اذہاد جیسے حور کی نرم ملائم انگلیوں سے سکون مل رہا تھا پٹ سے اس کی آنکھیں کھلیں وہ جھٹکے سے اٹھتا اس کے برابر بیٹھا اور صدمے سے اسے دیکھنے لگا۔۔حور تم نے شاہ زیب سے پیسے لیے؟؟تمہیں اگر پیسوں کی ضرورت تھی تو مجھ سے کہتی۔۔تمہیں شاہزیب سے پیسے لینے کی کیا ضرورت تھی۔۔وہ صدمے کی حالت سے باہر آتا اب اس پر برس رہا تھا۔۔
ہادی۔۔۔حور نے زور سے ہاتھ سر پر مارا۔۔یہ شگون کے طور پر لیا جاتا ہے۔۔۔ جو خوشی سے دیا جاتا ہے یہ ایک طور پر رسم ہوتی ہے جو سالیاں کرتی ہیں۔۔
وہ اسے کاندھے سے پکڑ کر دوبارہ اپنی گود میں اس کا سر رکھتی بولی۔۔
توبہ ایک پل میں یہ جلاد بن جاتے ہیں۔۔وہ یہ بات دل میں بولی تھی۔۔
پھر بھی تم اسے یہ پیسے واپس کر دو گی حور۔۔وہ ناراض چہرہ لئے اسے حکم کر رہا تھا۔ حور کا تو ا س کی بات سن کر منہ آنکھیں کھلی رہ گئی۔۔۔اتنے گھنٹوں کی محنت اور مشقت کے بعد لڑ جھگڑ کروہ یہ پیسے حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی اور آزہاد اب اسے اتنی آرام سے کہہ رہا تھا کہ وہ یہ پیسے اسے واپس کر دے۔۔۔
کیوں میں کیوں یہ پیسے واپس کروں؟؟ میں نے یہ ایک بہن اور ایک سالی ہونے کے حق سے لیے ہیں۔۔۔آپ کو بھی دینے پڑے گے۔۔
اور پھر حور نے اسے ساری بات اسے سمجھائی تھی جو اذہاد کو بڑی مشکل سے سمجھ آئی اور ہضم ہوئی تھی۔۔
آخر ایگریمنٹ بھی تو کوئی چیز تھی۔۔تبہی وہ خاموش ہو گیا تھا۔کچھ کر تو سکتا نہیں تھا۔۔۔
ہادی۔۔میں نے ایک اور بات سوچی ہے۔۔
اذہاد نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔اللہ جانے اب کیا حور کے دماغ میں سمائی۔۔
جس طرح سے آپ میری ہر تیاری اپنی پسند سے کر رہے ہیں۔اس لیے میرا فرض بھی بنتا ہے کہ میں ایک فنکشن کا سوٹ اپنی پسند سے آپ کیلئے بناؤ۔۔
اذہاد اس کی بات سن کر ایک آئی برو اٹھاتا سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ ۔۔
میں بارات میں اپنی پسند سے آپ کے لئے شیروانی بنوانا چاہتی ہوں۔۔وہ جوش سے بولی تھی۔۔
ازہاد جھٹکے سے دوبارہ اٹھ کر بیٹھتا اب خوف سے اسے دیکھنے لگا تھا۔۔۔
نہیں حور۔۔میں ایسا کچھ نہیں پہننے والا۔۔تمہاری بہت بہت مہربانی۔۔وہ اس کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوا بولا۔۔
کیوں کیوں نہیں ہادی آپ اتنی سی بھی میری بات میری خواہش نہیں پوری کر سکتے؟؟ وہ رونی صورت بنا تی اپنا آخری ہتھیار استعمال کرتی ہوئی بولی۔۔۔
میں کارٹون بالکل نہیں لگنا چاہتا سب لوگ مجھ پر ہنسیں گے۔۔ وہ بھی اس کی ضد کے آگے جھنجھلاتا ہوا بولا۔۔
کیوں شاہ زیب بھائی کیا کارٹون لگ رہے تھے؟؟وہ بھی تو دلہا تھے اور انہوں نے بھی شروانی اور بگھ پہنی تھی۔۔سارے دولہا یہی پہنتے ہیں۔تو کیا وہ کارٹون لگتے ہیں؟؟یا لوگ ان کے اوپر ہنستے ہیں؟؟ وہ بھی اب آنکھیں نکالتے گھورتی ہوئی اس سے سوال کر رہی تھی۔۔
جاری ہے
