Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30

حور نے داود کے منہ سے جب ارتضیٰ سنا تو وہ جھٹکے سے ان کے سینے سے اٹھی تو دیکھا سامنے اس کے بابا پتھر بنے کھڑے تھے۔۔ وہ روتی ہوئی ان کے سینے سے لگ گئی۔۔۔ بابا۔۔آپ آگئے کیسے ہیں آپ؟؟
عظمیٰ تو نہ سمجھی سے ہونکو کی طرح سب کی شکلیں دیکھ رہیں تھیں۔۔
ارتضیٰ نے اسے خود سے الگ کیا اور بڑی حیرانی سے اس کی ابتر حالت دیکھی۔۔ حور یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے اور بابا شاہ زیب آپ لوگ کب آئے بنا کسی کو کچھ بتائے؟؟ اور حور کیوں ہو رہی تھی؟؟ کئی سوال تھے جو ماحول کو دیکھ کر ان کے ذہن میں گھوم رہے تھے۔۔
داؤد اور شاہ زیب خاموش کھڑے تھے۔۔
ارتضی کے ذہن پر ان کی یہ خاموشی شک کی سوئیوں کی طرح چبھ رہی تھیں ۔۔۔کہیں نہ کہیں کچھ تو گڑبڑ تھی ۔۔
حور کی آنکھوں سے آنسو پھر بہنے لگے اپنے بابا کو سامنے کھڑا دیکھ کر اس کا دل بھر آیا وہ انہیں دو سال کے بعد اپنے سامنے دیکھ رہی تھی اور کچھ دل کا درد بھی تھا جو آنکھوں کی صورت بہہ رہا تھا۔۔ وہ اب باپ سے الگ ہوتی ماں کے گلے لگی اور ماں نے اسے اپنی آغوش میں چھپا لیا۔۔ ممتا بلاوجہ نہیں تڑپ رہی تھی اولاد کے لیے۔۔
ارتضیٰ اب بھی سوالیہ نظروں سے باری باری سب کی شکلوں کو دیکھ رہے تھے۔۔ ارے میں آپ لوگوں سے کچھ پوچھ رہا ہوں مجھے جواب دیں۔۔ وہ تنگ آ کر ان سب کی خاموشیوں پر زور سے بولے۔۔
بابا میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں۔۔ حور نے ہمت کرکے بولنا شروع کیا۔۔ اور اس سے شادی بھی کرنا چاہتی ہوں مگر۔۔!!!!!
ارتضیٰ کے سر پر تو جیسے کسی نے بم ہی پھوڑ دیا تھا۔۔سات سمندر دور وہ اپنی بیٹی کی محبت میں یہ سننے آئے تھے کہ وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ وہ ابھی آگے کچھ کہتی کہ ارتضیٰ کی دھاڑ نے جیسے اسے آگے بولنے سے روک دیا وہ کانپ رہے تھے غصے سے اور حور کا دل ایک نازک پتے کی طرح تھر تھر کانپنے لگا ان کی تیز آواز سن کر۔۔۔ یعنی اپنے باپ کی طرف کا ایک جو در اس کے لیے امید کا کھلا تھا وہ بھی بند ہوا۔۔چلو اچھا ہے کوئی امّید کوئی آس نہ بچی۔۔ موت اب آسان ہوگی۔۔ آنکھ سے آنسو جاری تھے۔۔۔
عظمیٰ سن ہوتے دماغ سے یہ سب دیکھنے پر مجبور تھیں۔۔۔
داؤد اور شاہ زیب بھی ارتضیٰ کا جلال دیکھ کر حیران تھے۔۔
تمہاری شادی شاہزیب سے پکی ہو چکی ہے اور ساری تیاریاں مکمل ہیں اپنا سامان سمیٹو اور ابھی اسی وقت ہمارے ساتھ پاکستان چلو۔۔ وہ دھارتے ہوئے تیز تیز آواز میں حکم سنا رہے تھے۔۔۔
ایک بات۔۔
صاف بات۔۔۔
آخری بات۔۔
سامنے والے کو نا پیچھے ہٹنے کی اجازت۔۔۔
نہ انکار کی۔۔
نہ اپنی صفائی میں کچھ بولنے کی۔۔۔۔
انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے فون نکالا پاکستان کی ٹکٹ کنفرم کروائی۔۔ جو رات 10 بجے کی تھی۔۔
میں تمہاری ماں کے ساتھ جا رہا ہوں ‏یہاں سے اور اگر تمہیں اپنے ماں باپ اور ان کی عزت عزیز ہے تو وقت سے پہلے اپنا سامان سمیٹ کر ایئرپورٹ پہنچ جانا اب سب کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔ تمہارے لیے کیا اہم ہے۔۔ ماں باپ یا۔۔۔ وہ۔۔ارتضیٰ بے حد جلال میں بول رہے تھے۔۔۔ انہیں بہت کم غصہ آتا تھا مگر آج ان کا یہ روپ دیکھ کر تو حور ٹوٹ گئی تھی۔۔ وہ اپنے ماں باپ کا دل دکھا کر کبھی خوش نہ رہ پاتی۔۔ ماں باپ کے لیے وہ اپنی محبت کو قربان کرکے تو پھر بھی مر جاتی مگر۔۔ ماں باپ کا دل توڑ کے ان کو ناراض کرکے تو نا وہ دنیا کی رہتی نا آخرت کی۔۔۔ وہ گرنے لگی جب ہی عظمی نے چیختے ہوئے آگے بڑھ کر اسے تھامہ۔۔ حور میری گڑیا۔۔ وہ بے تحاشا روتے ہوئے اسے چوم رہیں تھیں اور ساتھ ساتھ رحم کی نظروں سے اپنے شوہر کو بھی دیکھ رہی تھیں۔۔۔ جو پتھر بنے کھڑے تھے۔۔۔ انہوں نے ایک سرد نظر باپ پر ڈالی اور عظمیٰ کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے انہیں وہاں سے لے گئے۔۔۔۔
ارتضیٰ پلیز ایسا ظلم مت کریں میری حور دیکھیں وہ کتنا رو رہی ہے۔۔وہ اپنے شوہر سے رک جانے کی فریاد کرنے لگیں۔۔۔ مگر ارتضیٰ تو جیسے اپنے غصے میں اتنے اندھے ہو چکے تھے کہ سب بھول گئے تھے انہیں صرف ایک بات بار بار آگ لگا رہی تھی کہ ان کی بیٹی کسی اور سے محبت کرتی ہے ۔۔۔
شاہ زیب سر پکڑ کر وہی بیٹھ گیا اور داؤد آگے بڑھتے حور کو سنبھالنے لگے۔۔۔۔
حور داؤد کو دیکھ کر مسکرائی آنکھوں سے درد انتہا کو پہنچتا نظر آرہا تھا۔۔۔
چلیں دادو محبت کا اختتام یہی ہوا۔۔ وہ زور زور سے ایسے چیخنا چاہتی تھی کہ اس کا دل پھٹ جائے سننے والا بھی بہرا ہو جائے۔۔ مگر وہ خود پر صبر کرتی خود کو سنبھالتی اٹھی۔۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔۔۔ داؤد اور شاہ زیب نے اسے دکھ سے دیکھا۔۔
فون کی بیل مسلسل بج رہی تھی اتنے گرم ماحول میں کسی نے توجہ نہیں دی تھی مگر داؤد نے اٹھ کر حور کا فون اٹھایا۔۔۔جہاں مائی لو۔ کی کال آرہی تھی۔۔انہوں نے فون کان سے لگایا۔۔مگر جو خبرسامنے انہیں سننے کو ملی وہ بہت خطرناک تھی۔۔
وہ فون نیچے کرتے حور کی طرف تیزی سے بڑھے۔۔
حور کو ساکت نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے فون اس کی طرف بڑھایا اور حور نے فون کو ایسے دیکھا جیسے وہ کوئی بچھو ہو جو اسے ڈنگ مار لے گا۔۔
وہ گردن تیزی سے دائیں بائیں ہلاتی پیچھے ہٹنے لگی۔۔۔ اس نے تو بہت دعائیں مانگی تھی آزہاد کے لئے کہ اسے کچھ نہ ہو اس نے تو یہ بھی دعا کی تھی کہ اسے اس کی عمر بھی لگ جائے۔۔ میرا اللہ ہادی کے ساتھ کچھ برا نہیں کرسکتا۔۔وہ اس کی طرف سے کوئی بری خبر سننے کی اب ہمت نہیں رکھتی تھی۔۔ وہ چیخنے لگی نہیں دادو پلیز نہیں وہ پیچھے ہٹتی دیوار کے ساتھ لگے رو رہی تھی۔۔ حور میرے بچے سنبھالو خود کو آزاد بالکل ٹھیک ہے۔۔ وہ اس کے چہرے کو سختی سے ہاتھوں میں لیتے بولے۔۔ لو بات کرو اذہاد سے۔۔۔ انہوں نے فون پھر آگے بڑھایا اور حور جو کل سے خود کو ہزار تالوں۔۔ بیڑیوں میں جکڑ کر بیٹھی تھی کہ اذہار سے اب بالکل بات نہیں کریگی اگر اس سے دوری نصیب میں لکھ دی گئی ہے تو پھر وہ خاموشی سے بے وفائی کا مہر خود پر لگاتی پیچھے ہٹ جائے گی مگر اسے کوئی امید نہیں دے گی۔۔وہ اس آگ میں خود جلنے کے لئے تیار تھی مگر اس پر ایک آنچ نہیں آنے دینا چاہتی تھی وہ خاموشی سے گمنامی کی موت مر جانا چاہتی تھی۔۔ حور نے جھپٹ کر موبائل دادو کے ہاتھ سے لیا۔۔۔
ہادی۔۔۔آنسو حلق میں اٹک سے گئے تھے۔۔۔۔
حور۔۔۔ آزہاد کی بھی درد بھری آواز سنائی دی۔۔
گرینڈ پا کو اٹیک ہوا ہے۔۔ وہ ہوسپٹل میں ہیں میں اس وقت بہت اکیلا ہوں۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ آنکھ سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے اور اس نے فون بند کر دیا۔۔۔
ہادی۔۔۔ ہادی۔۔۔ وہ پاگلوں کی طرح فون ہاتھ میں لیے چیخنے لگی۔۔۔
شاہ زیب بھی اس کی چیخیں سن کر بھاگ کر اندر آیا۔۔
وہ تو جیسے سب بھول گئی تھی اسے یاد رہا تو صرف آزہاد۔۔ کہ اس کا اذہاد اکیلا ہے۔۔ اس کی محبت اکیلی ہے۔۔ وہ رو رہا ہے۔۔ اسے حور کی ضرورت ہے۔۔ اس نے صاف محسوس کیا تھا کہ وہ رو رہا ہے۔۔۔ وہ اٹھی اور دروازے کی طرف بھاگنے لگی کہ جب ہی شاہزیب نے اسے کاندھوں سے تھام کر روکا۔۔ حور کیا ہو گیا ہے پاگل ہو گئی ہو کیا کہاں جا رہی ہو؟؟ وہ اسے دیکھ کر پریشانی سے بولا۔۔۔
حور نے اسے اجنبی نظروں سے دیکھا جیسے وہ اسے جانتی نہ ہو وہ اس وقت ہوش و حواس سے بیگانی لگ رہی تھی۔۔ جھٹکے سے اس کے ہاتھ خود سے الگ کیے۔۔شازیب شرمندہ سا ہو گیا۔۔۔
مجھے ہوسپیٹل جانا ہے۔۔وہ وہاں اکیلا ہے۔۔ گرینڈ پا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔ میرا ہادی اکیلا ہے۔۔ وہ رو رہا ہے۔۔مجھے جانا ہے۔۔وہ دیوانوں کی طرح اسے دیکھتی بول رہی تھی اور ایک بار پھر باہر کی طرف بھاگنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
میں لے کر چلتا ہوں حور ۔۔شاہزیب کے بولنے پر وہ رکی اور گردن ہلانے لگی ہاں ٹھیک ہے چلو
____________________
شازیب خور اور دادو تینوں ہاسپٹل پہنچے۔۔ شاہزیب ابھی کاؤنٹر پر کھڑا پوچھ ہی رہا تھا جب وہ بھاگتی ہوئی آگے بڑھنے لگی اور اسے اس طرح سے بھاگتا ہوا دیکھ کر اس کے ساتھ ہی دادو اور شاہ زیب بھی اس کے پیچھے لپکے۔۔ وہ اپنے ہوش وحواس میں نہیں تھی۔۔انہیں اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں اسے کچھ نقصان نہ پہنچ جائے۔۔
وہ تیزی سے آگے کی طرف بڑھ رہی تھی جب سامنے ہی اسے اذہار سرجھکائے ٹوٹا بکھرا وجود لیے بیٹھا نظر آیا۔۔ وہ بھاگتی ہوئی اس کی طرف آئی۔۔۔
ہادی۔۔۔ وہ اس کے سامنے نیچے بیٹھتی اس کے جوڑے ہاتھوں کو تھامتی ہوئی بولی۔۔۔
آزہاد نے گردن ہلکی سی اٹھائی اور آنکھیں کھول کر حور کو دیکھا۔۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔ نظروں سے نظریں ملی۔۔ دونوں کی آنکھوں میں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں بکھری ہوئی تھیں۔۔ آزہاد نے دکھ سے اس کی حالت دیکھی۔۔ مطلب اس کا اندازہ سہی تھا وہ بھی آزمائش کی آگ میں جل رہی تھی۔۔ ایک آنسو آزہاد کی آنکھ سے ٹپکا۔۔ حور۔۔۔ اس کی پکار میں بےحد درد تھا۔۔۔ ہادی کیا ہوا ہے گرینڈ پا کو؟؟وہ روتے ہوئے بولی۔۔
آزہاد نے گردن نفی میں ہلائی وہ ٹھیک نہیں ہیں حور اور حور سے اس کی ایسی حالت دیکھی نہیں گئی۔۔ وہ بھاگتی ہوئی اس کمرے میں آئی جہاں گرینڈ پا لیٹے تھے۔۔
داؤد اور شاہزیب دکھے دل سے کھڑے سب دیکھ رہے تھے۔۔۔
حور روتے ہوئے گرینڈ پا کے پاس کھڑے ڈاکٹرز کے پاس آئی۔۔ کیا ہوا ہے انہیں؟؟
ڈاکٹر نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔۔میں ڈاکٹر حورین ارتضیٰ ہوں پلیز مجھے بتائیں کیا ہوا ہے انہیں اگر آپ لوگوں سے کچھ نہیں ہوتا تو مجھے بتائیں میں ان کا گیس ہینڈل کروگی۔۔
آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بے حد کمزور اور بکھری حالت لئے وہ کہیں سے بھی ایک ڈاکٹر نہیں لگ رہی تھی وہ تو کوئی نیم ذہنی مریضہ لگا رہی تھی۔۔
آپ پلیز آئیں میرے ساتھ۔۔ ڈاکٹر اسے لیکر کمرے کے ایک کونے میں آئے۔۔ دیکھیں مس مریض کے دل کی حالت اب پہلی جیسی نہیں رہی اس اٹیک کے بعد اب کوئی چانس نہیں ان کے زندہ بچنے کی اب جو سانسیں بچی ہیں وہ اوپر والے کے ہاتھ میں ہے ہم اس میں اب کچھ نہیں کر سکتے وہ یہ بول کر باہر چلے گئے اورحور نے روتے ہوئے سامنے بیڈ پر لیٹے گرینڈ پا کو دیکھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارتضیٰ پلیز حور کے پاس چلیں اس کی بات تو سن لیں وہ آپ کی بیٹی ہے آپ ایسا ظلم تو نہ کریں۔۔ وہ روتے ہوئے آہستہ سے انہیں سمجھانے کی کوشش کرنے لگی۔۔ مگر ارتضیٰ نے غصے سے انہیں دیکھا اور بولے۔۔۔ اگر اتنی اس کی فکر ہے تو چلی جائیں مگر واپس مڑ کر میرے پاس نہیں آنا۔۔۔عظمیٰ نے پتھرائی آنکھوں سے ان کی ظلم کی انتہا کو دیکھا اور خاموش ہوگئیں۔۔۔
ارتضیٰ تین ٹکٹس ہاتھ میں لیے لندن ائیرپورٹ پر بیٹھے حور کا انتظار کر رہے تھے آج فیصلہ ہو ہی جانا تھا کہ وہ دو دن کی محبت کو چھوڑ کر اپنے ماں باپ کے پاس آتی ہے یہ اپنے ماں باپ کی برسوں پرانی محبت کو چھوڑ کر اس دو دن کی محبت کے پاس جاتی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور نے گرینڈ پا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اس کی موجودگی اس کے لمس کو محسوس کرکے گرینڈ پا با مشکل اپنی بند آنکھوں کو کھول کر دیکھا۔۔حور تم آگئی بیٹا۔۔
جی گرینڈ پا میں آ گئی۔۔۔
وہ مسکرائے۔۔۔ روتے نہیں ہیں میرے بچے مشکل وقت سب پر آتا ہے اس کا سامنا حوصلہ اور ہمت سے کرنا چاہیے۔۔۔ حور نے گردن ہاں میں ہلائیں۔۔۔
آزہاد کا ساتھ کبھی مت چھوڑنا تمہارے علاوہ اب اس کا کوئی نہیں ہے اس دنیا میں۔۔ وہ اگر ٹوٹا تو پھر کوئی اسے جوڑ نہیں پائے گا۔۔ تمہارے بعد وہ اب کسی پر بھروسہ یقین اور اعتماد نہیں کر پائے گا۔۔
ان کی باتیں سن کر حور کا دل پھٹنے لگا وہ پر ہاتھ رکھتی روتی ہوئی باہر بھاگی۔۔۔وہ ایک بار پھر ڈاکٹرز کے پاس گئی تھی شاید کوئی آخری امید۔۔۔ کوئی کرن نظر آ جائے۔۔
داؤد نے اسے باہر نکلتے دیکھا تو خاموشی سے کھڑے ہوتے آگے بڑھے دروازے پر ہاتھ رکھتے دروازہ کھولا۔۔ سامنے لیٹا وجود مشینوں کے بیچ جگڑا اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا۔۔۔
__________________
ایڈم نے گردن گھما کر آنے والی شخصیت کو دیکھا۔۔ آپ حور کے دادا ہیں ؟؟داؤد نے گردن ہاں میں ہلائی اور ساتھ رکھی کرسی پر ان کے قریب بیٹھ گئے۔۔۔
حور آپ کا ذکر بڑی محبت سے کرتی رہتی تھی وہ آپ کو بہت چاہتی ہے۔۔۔ میری ایک التجا ہے آپ سے۔۔
آپ سنیں گے؟؟ایڈم نے آس بھری نظروں سے داؤد کو دیکھتے ہوئے کہتے ان کے آگے ہاتھ بھی جوڑ دیے۔۔
داؤد نے بے اختیار آگے بڑھتے ہوئے ان کے ہاتھوں کو تھاما ایسا مت کریں پلیز۔۔۔
ان بچوں کو ایک دوسرے سے الگ مت کریں یہ دیکھنے میں دو جسم ضرور ہیں مگر ان کی جان ایک ہے وہ الگ ہوئے تو مر جائیں گے۔۔۔ وہ روتے ہوئے بول رہے تھے۔۔۔
اور داؤد نے اسی پل ایک فیصلہ کرتے ہوئے کھڑے ہوئے۔۔۔ وقت آہستہ آہستہ بیت رہا تھا۔۔ گھڑی کی سوئیاں تیزی سے آگے کی طرف بڑھ رہی تھیں ۔۔۔
ارتضیٰ کا فون بجا۔۔ فون دیکھا تو داؤد کی کال آرہی تھی۔۔۔ فون کان سے لگایا۔۔
ارتضیٰ میں حور کا نکاح کر رہا ہوں تم سے اجازت نہیں لے رہا بلکہ بتا رہا ہوں تم نے حور کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق مجھے دیا تھا میں اس حق کو آج استعمال کرتا ہوں اور جو وعدہ تم نے مجھے دیا تھا اس وعدے کو واپس لیتا ہوں۔۔ اتنا کہہ کر داؤد نے فون کاٹ دیا اور شازیب کو آواز دے کر بلایا۔۔۔ دیکھیے مس آپ اگر ایک ڈاکٹر ہیں تو اس بات کو سمجھ کیوں نہیں رہی کہ۔۔۔۔ ڈاکٹر ابھی حور سے آگے بھی کچھ بولتاکہ داؤد نے پیچھے سے آ کر انہیں ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور حور کو کاندھوں سے تھام کر باہر لے آئے۔۔
دادو آپ مجھے لے کیوں آئے مجھے ان سے بات کرنی تھی اس نے چڑتے ہوئے کہا۔۔۔
حور آو میرے ساتھ وہ اسے تھامے ہوئے گرینڈ پا کے پاس لے آئے اور ان کے سامنے رکھی کرسی پر حور کو بٹھا دیا۔۔۔اور خود اس کے برابر میں کھڑے ہوگئے۔۔ تھوڑی ہی دیر ہوئی کے شاہ زیب ایک وکیل کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔۔۔رات کے اس وقت لندن میں ایک مولوی صاحب کو ڈھونڈنا ناممکن تھا۔۔اور جب کہ وقت بھی اتنا نہیں تھا اس لیے شاہزیب نے اس کم وقت میں ایک وکیل کا انتخاب کیا۔۔۔
حور اس سب سے بے خبر گرینڈ پا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لئے افسردگی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔اور وہ اسے دیکھ کر بس مسکرائے ہی جا رہے تھے۔۔۔
داؤد نے حور کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔اس نے پلٹ کر داؤد کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔شاہزیب نے وکیل کو آہستہ سے پیپرز دینے کے لیے کہا۔۔۔وکیل نے جھٹ سے پیپر نکال کر داؤد کی طرف بڑھائے۔۔اور داؤد نے وہ پیپر حور کے سامنے رکھے۔۔۔
حیران پریشان سی حور نے اب سوالیہ نظروں سے اپنے دادا کو دیکھا۔۔۔
داؤد نے اپنے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے کاندھوں پر پڑے دوپٹے کو اس کے سر پر ڈال دیا۔۔۔
یہ سب کیا ہے؟؟ اس نے ڈرتے ڈرتے ان کا کاغذوں کو دیکھتے ہوئے سر اٹھا کر پھر اپنے دادا کو دیکھا۔۔
ان پر سائن کر دو حور۔۔۔داؤد نے اسے آنکھوں سے سمجھاتے ہوئے بات ماننے کو کہا۔۔۔
حور کا دل زور سے کانپا۔۔۔وہ ان کا اشارہ سمجھ کر بھی نہیں سمجھنا چاہ رہی تھی۔۔۔نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔
یہ ایک طرح سے پیپر میرج ہے حور میں تمہاری اور اذہاد کی شادی کروا رہا ہوں۔۔۔ان کا کاغذوں پر سائن کرو حور۔۔۔ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی پوتی کو کیسے سمجھائیں۔۔۔
حور ان کی بات سن کر ایسے تڑپی جیسے انھوں نے جلتی گرم سلاخ اس کے جسم پر رکھ دی ہو۔۔۔یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ دادو نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔اس نے صدمے سے آنکھیں پھاڑے داؤد کو دیکھتے ہوئی بولی۔۔۔۔بابا کی اجازت کے بغیر نہیں کبھی بھی نہیں۔۔ وہ اب ان کے منہ کے قریب آ کر زور سے چیختی ہوئی بول رہی تھی۔۔۔بابا تو میرا انتظار کر رہے ہیں ائیرپورٹ پر اور میں یہاں یہ۔۔۔۔۔۔۔وہ ہاتھ کے اشارے سے ان پیپر کی طرف دیکھتی حقارت سے بولی۔۔میں
مر جاؤں گی مگر اپنے بابا کی رضامندی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاوں گی۔۔۔محبت میں جدائی قبول ہے موت کا بول ہے مگر ماں باپ کا دل دکھانا قبول نہیں۔۔وہ پاگلوں کی طرح چیختی ہوئی بول رہی تھی۔۔داؤد نے اسے آگے بڑھ کر سنبھالا۔۔۔
چھوڑ دیں مجھے دادو آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔وہ ان کے گھیرے میں ہاتھ پاؤں مار رہی تھی مگر داؤد نے اب جو فیصلہ کر لیا تھا وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹنے والے تھے۔۔یہ صحیح وقت تھا حور اور آزہاد کو ہمیشہ کے لئے ایک کرنے کا۔۔اگر ابھی یہ نہ کیا تو پھر شاید سب ختم ہو جانا تھا۔۔
حور میری بات غور سے سنو میرے بچے۔۔ انہوں نے اس کا چہرہ مضبوطی سے تھامتے اپنے چہرے کی طرف کیا۔۔ آنسو سے بھری لال آنکھیں جن میں درد کے ساتھ خوف بھی تھا سب کچھ تباہ ہوجانے کا اپنوں سے بچھڑ جانے کا۔۔۔
میں نے کئی سالوں پہلے ارتضیٰ سے ایک وعدہ لیا تھا حور کے تمہاری زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ میں اپنی مرضی سے کروں گا اور ارتضیٰ نے خوشی سے تمہاری ذمہ داری مجھے سونپی تھی۔۔ کیا میں تمہارا دادا تمہاری زندگی پر اتنا بھی حق نہیں رکھتا کے تم میرے لیے میرے کہنے پر یہ شادی کرلو۔۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں میں ارتضیٰ کو منا لوں گا سب ٹھیک ہو جائے گا میں تمہارے ساتھ ہوں بس تم ابھی ان کاغذوں پر سائن کر دو حور۔۔۔۔۔حور ان کی بات سن کر تڑپ کر ان کے سینے سے لگی چیخے مارتی رونے لگی۔۔
بھلے سے یہ ایک کاغذی شادی تھی مگر تھی تو!!!وہ جھڑنے تو جا رہی تھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کسی کے ساتھ۔۔ہر لڑکی کی زندگی کا یہ دن بہت خاص اور بڑا ہوتا ہے اور وہ یہی چاہتی ہے کہ اس کے ماں باپ کی دعائیں اس کے ساتھ ہوں تاکہ وہ ان کی دعاؤں کے سائے میں اچھے برے وقت کو کاٹ سکے۔۔
آزہاد ان سب میں خاموش کھڑا ضبط کئے بس ایک ٹک گرینڈ پا کو دیکھ رہا تھا جو موت کے قریب کھڑے ہو کر بھی اسے ہمت دلا رہے تھے حوصلہ دے رہے تھے۔۔۔
حور نے کانپتے ہاتھوں سے پین اپنے ہاتھ میں لیا اور ان کاغذوں پر دستخط کرنے لگی۔۔ باپ کی کمی اسے بے حد کھل رہی تھی دل لہو رو رہا تھا اس کی محبت اسے ملنے تو جا رہی تھی مگر وہ باپ کی محبت ان کے سائے سے اب محروم تھی۔۔ حور کےسائن کے بعد دادو نے آزہاد کو اپنے قریب بلای۔۔وہ نظر جھکاے ان کے قریب آیا اور اس نے بھی لمحہ ضائع کئے بغیر حور کو اپنی زندگی اپنی روح کا حصہ بنا لیا۔۔کاغذی ہی صحیح شادی ہوچکی تھی۔۔ وہ داؤد کے گلے لگی ہچکیاں لیتی رو رہی تھی۔۔۔
ارتضیٰ اور عظمی پاکستان کے لیے نکل چکے تھے۔۔۔خالی ہاتھ۔۔ سارا سرمایہ تو وہ لندن پر لوٹا آئے تھے۔۔
عظمیٰ روتی رہی اور ارتضیٰ چٹان بنے بیٹھے تھے۔۔۔اپنوں نے ہی ان کی پیٹھ پر خنجر گھونپا تھا۔۔جان سے پیاری بیٹی سے زیادہ آج انہیں اپنی زبان۔ عزت کے کھو جانے کا غم تھا۔۔
گرینڈ پا حور اور آزہاد کو ایک دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔۔اور اسی خوشی نے ان کی زندگی کی رفتار کم کردی ان کے دل میں درد ہونے لگا اور وہ جھٹکے کھانے لگے۔۔۔
حور رونا دھونا بھول کر آنکھیں پھاڑے گرینڈ پا کو دیکھنے لگی وہ ایک ڈاکٹر تھی اور اچھے سے جانتی تھی کہ ایسی حالت کا مطلب کیا ہوتا ہے۔۔۔
آزہاد زور زور سے ڈاکٹرز کو آواز دینے لگا مگر جب تک وہ آئے گرینڈ پا نے مسکراتے ہوئے اذہاد کو دیکھا اور ہلکی سی ایک آہ لی اس کے بعد ان کی گردن ایک طرف لڑھک گئی اور وہ ٹھنڈے ہوگئے ایسے جیسے انہیں بس اسی کی جلدی تھی وہ دونوں ایک ہو جائیں سانسوں کی مہلت اتنی ہی لی تھی کہ یہاں اذہاد حور ایک ہوں اور یہاں وہ دنیا چھوڑ جائے۔۔
آزہاد بنا پلکوں کو جھپکے ان کے ساکت وجود کو دیکھ رہا تھا آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ایک اور اپنا اس دنیا سے رخصت ہوا۔۔۔
ڈاکٹرز بھاگتے ہوئے آئے اور انہوں نے آتے ہی ان کی موت کی خبر کی تصدیق کردی۔۔ یہ سنتے ہی حور لہرا کر گرنے ہی والی تھی کہ داؤد نے اسے سنبھالا۔۔ اور اذہار تو بس خاموشی سے ان کے مسکراتے چہرے کو ہی دیکھے جا رہا تھا۔۔۔
زندگی میں جیتے جی کسی اپنے کو یہ بول دینا بہت آسان ہوتا ہے کہ وہ ہمارے لئے مرگیا۔۔ اب ہم چہرہ نہیں دیکھیں گے اس کا۔۔ اس کے ساتھ ہمارے سارے رشتے ناطے ختم۔۔۔مگر حقیقت میں جب وہ اپنا مر جاتا ہے تو پھر دل کیونکہ اس کے لیے تڑپ کے روتا ہے؟؟ اس کے واپس آنے کی فریادیں کیوں کرنے لگتا ہے؟؟ کیوں اس کی یادیں بھولے سے نہیں بولی جاتی۔۔
نہ کوئی پیغام نہ دعا کوئی۔۔۔
اس قدر ہم سے ہے خفا کوئی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سامنے خاموش نظروں سے دیکھ رہا تھا جب داؤد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
نظروں نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔
انہوں نے اس کا کاندھا تھپتھپایا۔۔۔ حوصلہ کرو اذہاد ان کی زندگی اتنی ہی تھی مگر اب تم اکیلے نہیں ہو۔۔۔حور بھی تمہارے ساتھ جڑ چکی ہے اس کی حالت بالکل ٹھیک نہیں ہے۔۔
وہ قبرستان میں کھڑے تھے گرینڈ پا کی قبر کے پاس۔۔۔
ارتضیٰ اس وقت تھوڑا ناراض ہے مگر مجھے یقین ہے وہ مان جائے گا آخر کوئی کب تک اپنی اولاد سے ناراض رہ سکتا ہے تم حور کو سنبھال لینا شاید اب مجھے اب اس کی طرف سے بے فکر ہو کر یہاں سے چلے جانا چاہیے کیوں کہ اب تم ہو اس کے پاس۔۔۔
آزہاد میری بات مانو گے؟؟ داؤد نے اس کی طرف دیکھتے اجازت مانگی۔۔۔
اذہاد نے اثبات میں گردن ہلائی۔۔۔
حور کو لے کر فورا پاکستان پہنچ جانا۔۔میرے دو گھنٹے بعد کی فلائٹ ہے میں کوشش کروں گا پوری کہ ارتضیٰ کا تم دونوں کے پاکستان آنے سے پہلے ہی غصہ ٹھنڈا ہو جائے۔۔۔
آزہاد نے نم آنکھوں سے انہیں دیکھا اور بے اختیار ان کے گلے لگ گیا۔۔
کچھ پل تو داؤد حیران اسے خود کے گلے لگا دیکھتے رہے پھر اسے بھی سینے سے لگا لیا۔۔ وہ گرینڈ پا کی موت کے بعد سے ایک بار بھی نہیں رویا تھا بس آنکھوں سے موتی ٹوٹ ٹوٹ جاتے تھے۔۔
آزہادہ آہستہ سے ان سے الگ ہوا تو سامنے اچانک سے اس کی نظر گئی۔۔ ڈیلن دورکھڑے بچوں کی طرح رو رہا تھا۔۔ آزہاد نے خود پر ضبط کی لگامیں ڈالیں اور تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھا اور دونوں ہاتھ کھول کر ڈیلن کو دیکھا۔۔ڈیلن بھاگتا ہوا آیا اور زور سے اس کے گلے لگ گیا وہ بچوں کی طرح اس کے گلے لگے رو رہا تھا۔۔ سینور گرینڈ پا چلے گئے ہمیں چھوڑ کے ہم ایک بار پھر یتیم ہوگئے۔۔۔ وہ کتنی ہی دیر اذہار کے گلے لگا روتا رہا۔۔آخرکار اذہاد نے ہی اسے خود سے الگ کر کے چپ کروایا۔۔۔ آزہاد تب بھی نہیں رویا تھا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *