Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39
وہ آج اس کے سینے سے لگے رو رہے تھے دل میں اتنا کرب اتنے اشک جمع تھے۔۔جو انہوں نے اپنی جان سے عزیز بیٹی کو تکلیف دی تھی وہ درد اندر ہی اندر پلتا لاوا بن چکا تھا جو آج اشکوں کی صورت بہہ رہا تھا۔۔
آپ کو پتہ ہے بابا جب آپ حور سے ناراض ہو کر گئے تھے وہ کتنی بیچین کتنا تڑپ گئی تھی وہ سب کچھ چھوڑ کر آپ کے پاس آنا چاہتی تھی یہاں تک کہ وہ پاکستان مجھے اکیلا چھوڑ کر آگئی تھی۔۔وہ اس بات پر روتے روتے ہنس دیا۔۔ارتضیٰ اب حیران آج اس کے منہ سے وہ سب سن رہے تھے جس سے وہ انجان تھے۔۔
میں تو ڈر ہی گیا تھا بابا آپ کی محبت کے لئے تو وہ موت کو بھی گلے لگانے کو تیار ہوگئی تھی۔۔وہ اپنی محبت سے دستبردار ہونے کو بھی تیار ہوگی تھی۔۔اذہاد کی نظریں سامنے لیٹے خاموش وجود پر مرکوز تھیں۔۔
ارتضیٰ گر جاتے اگر اذہاد انہیں نا سمبھالتا۔۔کئی گنا بوجھ ان کے سینے پر جیسے لادا گیا ہو۔۔کاش۔۔وہ ایک بار اپنی بیٹی کی بات سن لیتے کاش۔۔
بابا آپ ٹھیک ہیں۔۔اذہاد پریشان ہوتا انہیں سامنے کرسی پر بیٹھاتا بولا۔۔۔
وہ کیسے بھول گئے حور انکی بیٹی ہے جس کے لئے سب سے اہم اس کے بابا تھے۔۔۔
بابا کیا ہوا آپ ٹھیک ہیں؟؟
کتنا مان ہوگا اسے مجھ پے مگر میں نے اس کا مان توڑ دیا۔۔آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔یہ سب سوچتے ہوے۔۔۔ کیا گزری ہوگی اس پر کتنا تڑپی ہوگی وہ۔۔کتنا رو رہی تھی۔۔
بابا پلیز ایسا مت کریں۔۔۔وہ تڑپ کر بولا۔۔
اور ارتضیٰ نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگا کر چوما۔۔
کتنی ان کہی باتیں تھی جن کا پتہ انہیں آج چل رہا تھا۔۔اگر اذہاد ان کے ساتھ نا ہوتا تو وہ کبھی خود کو سمبھال نہیں پاتے۔۔
بس رب سے اب یہی دعا تھی کے اتنی بڑی آزمائش کے بعد اب اور کوئی آزمائش سے نا آزمایا جائے ورنہ وہ سہ نہیں پائے گے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر یہ جاننا چاہو۔۔!!
کے کوئی کیسے بکھرتا ہے؟؟
بکھر کر کیسے جیتا ہے ؟؟
چمن میں تم چلے جانا۔۔
خزاں کے سرد موسم میں!!
وہاں پتوں کو دیکھو تم:
یا پھر ایک آئینہ لے لو!!
اسے پتھر پہ دے ماروں!!
اگر مشکل ہو یہ بھی تو۔۔
ایک پھول لے لینا۔۔
ہوا کے دوش پر اسے رکھنا۔۔
تو پھر تم جان جاؤ گے۔۔
کہ کوئی کیسے بکھرتا ہے؟؟
اگر یہ بھی نہ ہو تم سے۔۔
تو میرے پاس چلے آنا!!
میرا دیدار کر لینا۔۔
خبر یہ ہو ہی جائے گی۔۔
کہ کوئی کیسے بکھرتا ہے۔۔
وہ مما بابا سے سارے گلے شکوے دور کر کے انکا دل صاف کر کے حقیقت کو سامنے رکھ کر رات ہی میں وہاں سے نکل کر سیدھا حور کے پاس آیا تھا۔۔
وہ بہت رویا تھا اس کے پاس آکے۔۔وہ اپنا درد اسکے علاوہ کسی سے بانٹ نہیں سکتا تھا سواے اللہ کے جو اس کے ہر حال کا محرم تھا۔۔
اب تو تم خوش ہونا حور۔۔بابا کو میں نے منا لیا۔۔بابا تم سے ناراض نہیں حور۔۔اب تو تم مجھ سے غصّہ نہیں ہو نا حور۔۔اس کا ہاتھ تھامے روتے ہوے وہ آہستہ آواز میں اس سے مخاطب تھا۔۔اب تو تم مجھے خود سے الگ نہیں کرو گی نا ؟؟ مجھے تنہا نہیں چھوڑو گی نا ؟؟ میری ہی وجہ سے تمہارے اپنے تم سے دور ہوے تھے دیکھو میں نے اپنوں کو تمہارے پھر سے تم سے جوڑ دیا پھر سے انہیں تمہارے قریب کر دیا ۔۔تم مجھ سے اب خفا تو نہیں ہو نا حور؟؟ وہ آس بے حد امید سے اسے دیکھتا ہوا پوچھ رہا تھا آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرتے حور کا ہاتھ بھیگو رہے تھے۔۔۔
کب رات سے صبح ہوئی اسے کوئی ہوش نہیں تھا۔۔داؤد نے آکر اسے جگایا۔۔وہ حیران تھے کے وہ ساری رات حور کے پاس رہا تھا اور اب سورج نکل آیا تھا۔۔
تب اذہاد نے انہیں ساری رات والی بات بتائی۔۔
داؤد نے محبت سے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا۔۔یہ ایک بہت بڑی مشکل تھی ایک بوجھ تھا جو ان کے سینے سے آج سرک گیا تھا۔۔وہ خوش تھے کے ارتضیٰ کو ساری حقیقت معلوم ہوگی اور اس نے خوشی سے اذہاد کو قبول بھی کر لیا۔۔اب بس حور کے ہوش میں آنے کا انتظار تھا۔۔جو رب ہی جانتا تھا۔۔
داؤد اسے زبردستی باہر لے کر آے تھے تاکے اس کے خالی پیٹ میں کچھ خوراک جائے۔۔مگر وہ بھی اپنی ضد کا پکّا اور ڈھیٹ تھا۔۔ایک کپ بلیک کافی کے علاوہ اس نے کسی چیز کو ہاتھ تک نا لگایا۔۔تبھی واپسی آنے پر اس نے ارتضیٰ کو وہاں حور کے پاس روتے ہوے دیکھا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور کی حالت میں کوئی تبدیلی نظر آتی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔۔اب تو ڈاکٹر بھی جیسے امید چھوڑنے لگے تھے۔۔
وہ پتھرائی لال نم آنکھوں سے غصے سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔
تماشہ بن گیا ہوں دنیا کی نظروں میں حور تمہیں محسوس نہیں ہوتا کیا؟؟میری تکلیف میری اذیت کا اندازہ ہے؟؟۔۔تم مجھے ڈھانپ کیوں نہیں لیتی۔۔
رات کے آخر پہر جب دل لرز کے کانپ جاتا ہے تو میرے کان تمہاری نرم آواز کو سننے کے لئے ترستے ہیں ہاتھ خلا میں اٹھ جاتے ہیں کہ تم انہیں ترس کھا کر تھام لوں گی میرا جسم تمہارے لمس کے لیے درد سے بلکتا ہے میں ٹوٹ کے ذرہ ذرہ بکھرنے لگتا ہوں مجھے اب محبت چاہیے۔۔مجھے تمہارا ساتھ چاہیے۔۔ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گا۔۔مجھے ان عذابوں سے رہا کر دوں۔۔حور۔۔مجھے پھر سے محبت کرنے دو۔۔اس کا ایک حرف سیسکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔تنہائی اور اکیلے پن کا عذاب جھیلتے جھیلتے اس کی روح زخموں سے تار تار ہوتی ناسور بن چکی تھی۔۔وہ اس کی تکلیف کی شدت سے بلبلا تا آج اس سے حساب مانگنے آیا تھا یا تو اسے اس تکلیف سے نجات دے یا اسے بھی اپنے پاس بلا لے اب وہ اور نہیں سہہ سکتا تھا۔۔آنکھوں سے آنسو خشک ہو چکے تھے۔۔سانسیں تیز تیز چل رہیں تھی۔۔
وحشت ہوتی ہے مجھے رات کے ان لمحوں سے جن میں تمہاری یادوں سے لڑتے لڑتے میرا وجود کانچ کی طرح ٹوٹ کے بکھر جاتا ہے میں ان کانچ کو کیسے سمیٹوں حور۔۔۔مجھے بتاؤ۔۔میرا خود پر کوئی اختیار نہیں یہ لمحے میرے لئے کسی عذاب سے کم نہیں۔۔وہ اس کے چہرے کے قریب اپنا چہرا لاے دانتوں کو پیستے ہوے کہہ رہا تھا۔۔اور تبھی وہ ہوا جس کی پچھلے 7 مہینوں سے وہ رو رو کے دعائیں کر رہا تھا۔۔
حور کی بند آنکھوں سے ایک موتی ٹوٹ کے گرا تھا۔۔اس نے اپنی بند آنکھوں کو مشکل سے تھوڑا سا کھولتے ہوے دھندلے منظر کو اجنبی نگاہوں سے دیکھا تھا اور پھر سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔
اذہاد تو سکتے کے عالَم میں گھرا پوری آنکھوں کو کھولتا ہوا یہ معجزہ دیکھ رہا تھا۔۔کہیں یہ اس کا وہم تو نہیں۔۔اسے شک سا گزرا تبھی وہ اس شک کا یقین کرنے کے لئے اس کی آنکھ کی طرف جھکا جہاں اس کے آنسو کے نشان تھے وہ اپنا گال اس کے آنکھ کے کنارے سے مس کیا تبھی اس اپنے گال پر ہلکی سی نمی کا احساس ہوا۔۔اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔
اس نے جب آنکھیں بند کی تھی تو اس کا چہرا دیکھ کر بند کی تھی اور جب آنکھیں کھلی تو تب بھی اس کا چہرا نگاہوں کے سامنے تھا۔۔
اذہاد کی آنکھ کا آنسو حور کے چہرے پر گرا۔۔
حور۔۔۔اس نے تڑپ کے اسے پکارا۔۔۔حور۔۔
اور پھر وو زور زور سے ڈاکٹر کو آوازیں دینے لگا۔۔اس کی خوشی کی انتہا نہیں تھی۔۔کہن وہ آبھی اس کے غم میں اس کی جدائی میں پاگل ہو رہا تھا اور اب اس کے ہوش میں آنے میں وہ دیوانہ ہو گیا تھا۔۔۔
_________________
اذہاد کی آواز پر ڈاکٹر بھاگ کر اندر آئی تھی۔۔
ڈاکٹر حور نے آبھی آنکھیں کھولی تھی اس نے مجھے دیکھا تھا۔۔اذہاد حور کے چہرے کو تھپتھپا ہوا ڈاکٹر سے بول رہا تھا۔اس کی آنکھیں خوشی سے جھلکی جا رہی تھیں۔۔
اوکے آپ پیچھے ہٹیں ہمیں دیکھنے دیں۔۔ڈاکٹر حیران ہوتی بولی۔۔
اذہاد دور ہوتا خاموشی سے دیکھنے لگا۔۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر حور کو چیک کرتی اذہاد کی طرف پلٹی۔۔مسٹر اذہاد مبارک ہو۔۔حور بلکل ٹھیک ہے۔۔پریشان مت ہوئیے گا۔۔انہیں آبھی مکمل ہوش میں آنے میں وقت لگے گا۔۔وہ مسکرا کر یہ کہتی ہوئی باہر چلی گئی۔۔
اذہاد وہیں بے اختیار گوٹھنوں کے بل زمین بیٹھا اور اپنے رب کے حضور سجدہ کیا۔۔اس کی آزمائشیں ختم ہوئی تھیں۔۔اس کی حور کی زندگی واپس لوٹائی گئی تھیں۔۔وہ ماتھا زمین سے لگاے رو رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہستہ سے اس کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھامتا وہ اس کے بیحد قریب بیٹھا تھا۔۔حور کی گردن کاندھے کی طرف ہلکی سی جھکی ہوئی تھی۔وہ بس ویران آنکھوں میں چاہتوں کے جزیرے لئے اسے ایک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔ہلکی ہلکی سی مسکان اس کے لبوں کو چھو رہی تھی۔۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اسے حور سے پہلی سی محبت ہوئی ہے۔۔دل پھر نئی لے پے دھڑک رہا تھا۔۔وہ اپنی محبت کی دیوانگی میں سب کچھ بھول بیٹھا تھا اسے یاد ہی نہیں رہا کے گھر پے ایک فون کر کے سب کو بتا دے۔۔وہ نظروں کو کبھی جھکاتا کبھی اٹھاتا مسکراتے ہوے اسے دیکھ رہا تھا جو آنکھیں بند کیے کچھ بھی کہے بینا اسے اپنا اسیر بنا رہی تھی۔۔وہ مسکراتا ہوا جھکا اسکے کاندھے سے اپنی ناک کو مس کرتا وہی سر کو ٹکا کر اس کا ہاتھ اپنے دھڑکتے دل پر رکھتا آنکھیں موند گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے بیچ کا پہر تھا۔۔
جب حور نے آہستہ سے اپنی انکھوں کو کھولتے ہوے چاروں طرف نظر دوڑائی اور پھر گردن کو موڑ کر اس نے اپنے کاندھے پے دئیے وزن کی طرف دیکھا جہاں کوئی اپنا سر رکھے سو رہا تھا۔۔اس کے گھنے سلکی براؤن بال حور کے چہرے پر لگ رہے تھے۔۔شاید اس کا سیدھا ہاتھ سامنے بیٹھے اس شخص کی گرفت میں تھا تبھی وہ اپنا الٹا ہاتھ اٹھاتی آہستہ سے اس کے گھنے بالوں میں پھیرنے لگی۔۔
اذہاد کو اپنے بالوں میں کسی نرم ملائم انگلیوں کا سرائیت کرتا محسوس ہوا اس لمس کو پہچانتے ہوے اذہاد کی آنکھیں پٹ سے کھلی۔۔اس نے جھٹکے سے گردن اٹھاتے سامنے دیکھا۔۔حور کا ہاتھ اذہاد کو سامنے دیکھ کر ہوا میں ہی ٹھرا رہ گیا۔۔وہ منہ کھولے اس کی آنکھوں میں حیران دیکھ رہی تھی۔۔دونوں آنکھوں میں نمی تیزی سے جمع ہونے لگی۔۔
ہا۔۔د۔۔ی۔۔۔۔ٹوٹے الفاظوں میں نام پکارا گیا۔۔
اذہاد بس نم آنکھوں سے اسے مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا کہ اس سے کیا کہے۔۔وہ غور سے اس کے چہرے کے ہر نقش کو دیکھ رہی تھی کہ جب اس کی حیران نظر اسکی آنکھ کے اوپر کی ابھری ہوئی چھوٹ پر گئی جو ٹھیک تو ہو گیا تھا مگر اپنا نشان چھوڑ گیا تھا۔۔بے اختیار ہاتھ اس نشان کو چھو گیا۔۔اذہاد نے آنکھیں بند کر لی۔۔وہ اس کے نشان کو انگلیوں سے چھوتی دکھ سے اسے سوالیہ نظروں دیکھ رہی تھی۔۔میں نے کہا تھا اپنا خیال رکھنا مجھے میرا ہادی سہی سلامت چاہیے۔۔وہ اب اسے شکایتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
اس کی نظروں کی زباں کو سمجھ کر وہ ہلکا سا ہنسا اور اس کے الٹے ہاتھ کو تھام کر لبوں سے لگاتا اپنےچہرے پر رکھ کر اسے دیکھنے لگا۔۔
کیسے رکھتا اپنا خیال میری حور خود اتنی تکلیف اور اذیت میں تھی۔۔تو اس کا ہادی کیسے ٹھیک رہتا۔۔وہ آہستہ نرم لہجے میں اس سے کہ رہا تھا۔۔
اور اس کی بات سن کر حور نے آہستہ سے اپنی بوجھل آنکھوں کو بند کر لیا۔۔چند موتی پلکوں سے ٹوٹ کے گرے ہی تھی کے اس کے رکھوالے نے فورا سے انہیں بکھرنے سے پہلے اپنی پوروں پر محبت سے سمیٹ لیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد ہمیشہ کی طرح اپنے وقت پر صبح ہی حور سے ملنے آے تھے جب سامنے سے آتی ڈاکٹر نے انہیں حور کے ہوش میں آنے کی مبارک بعد دی۔۔۔
داؤد تو یہ سن کر حیران کے حیران ہی رہ گئے۔۔
یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میری بچی لوٹ آئی۔۔ وہ ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کرتے روتے ہوے تیز قدموں سے چلتے حور ہی طرف آرہے تھے۔۔
اور جب وہ کمرے میں داخل ہوے تو دیکھ کے حیران رہ گئے کے اذہاد پھر وہیں حور کے ہاتھ پر سر رکھے بیٹھے بیٹھے ایسے مزے سے مدہوش سو رہا تھا جیسے اپنے شاہی گدے پر سو رہا ہو۔۔۔
سب سے پہلے وہ قریب آتے حور کے سر کا بوسہ لیا اسے پیار کیا کتنی دیر اسے محبت اور چاہت سے دیکھتے رہے ۔۔جو پھر گہری نیند کی وادیؤں میں گم تھی۔۔
پھر وہ اذہاد کی طرف آے۔۔اس کے کاندھے کو ہلکا سا ہلا نے پر ہی اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔۔۔ نیند میں ڈوبی آنکھوں سے داؤد کو دیکھا جو اسے ناراض نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔وہ خوشی سے اٹھتا بے اختیار ان کے زور سے گلے لگ گیا۔۔
دادو میری حور ہوش میں آگئی۔۔۔خوشی اس کے ہر لفظ ہر انداز سے جھلکتی محسوس کی جا سکتی تھی۔۔
ہنہہ۔۔۔۔تم سے تو اتنی توفیق نا ہوئی کے ہمیں ایک فون کر کے ہماری بچی کی ہوش میں آنے کی خبر ہی کر دو۔۔وہ اس سے ناراض تو تھے مگر خوشی سے اپنے دونوں بازو اس کی کمر کے گرد باندھے ہوے تھے۔۔
وہ ایک دم شرمندہ سا ہوا۔۔سوری وہ میں بھول گیا بتانا میں اتنا خوش تھا کے کچھ یاد ہی نہیں۔۔وہ دانتوں کی نمائش کرتا سر کھوجاتا ہوا بولا۔۔
داؤد ہنس دیے۔۔بیٹا جی میں تو چلو یہ غلطی معاف کر دونگا یاد رکھنا اس کے باپ کو اگر تم نے نا بتایا تو اس بار وہ تمھیں معاف نہیں کرے گا اور رخصتی پے بینڈ لگ جانی ہے۔۔وہ اس کے گال کو کھینچتے ہوے دوستانہ انداز میں بولے۔۔
توبہ استغفار دادو صبح صبح کوئی اچھی بات منہ سے نکالیں۔۔وہ سچ میں ڈرتے ہوے منہ بناتا جلدی سے فون نکالتا ارتضیٰ کو کال کرنے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں پورا خاندان وہاں جمع ہوگیا تھا۔۔سب خوش تھے حور کے ہوش میں آنے سے۔
ارتضیٰ اور عظمیٰ تو بس روے ہی جا رہے تھے اسے دیکھتے ہوے۔۔بار بار اسے چومتے۔۔حور اب بھی جاگی نہیں تھی ڈاکٹر نے کہا تھا اسے سہی ہوش میں آنے میں وقت لگے گا۔۔۔
ارتضیٰ نے پورے خاندان کے سامنے اذہاد کا تعرف ایک داماد اور بیٹے کی حیثیت سے کروایا۔۔۔
سب یہ سن کر حیران تو بہت ہوئے مگر پھر اتنا شاندار داماد دیکھ کر وہ ارتضیٰ اور داؤد کی موجودگی میں خاموش ہوتے ان کے خوشی میں شامل ہوگئے۔۔۔
اذہاد کو حور کی فیملی سے اتنی محبت اور عزت اس کی توقعات سے بڑھ کر ملی۔۔جن رشتوں محبتوں کے لیے وہ بچپن سے ترستا آیا تھا وہ سب اللہ تعالی نے جیسے اس کی آزمائش اور آنسوں کے بدلے اسے تحفے کی صورت میں دیا تھا۔۔وہ آج بہت خوش تھا۔۔اس کی حور ہوش میں آ گئی تھی۔۔ایک پل میں کئی رشتے اس سے جڑ گئے تھے۔۔اسے اور کیا چاہیے تھا۔۔وہ اب اکیلا نہیں تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویلکم بیک حور۔۔ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر کہاوہ حور کا چیک اپ کرنے آئی تھی کہ جب ہی حور نے آہستہ سے آنکھیں کھولتے ہوئے دیکھا تھا۔۔
تم بہت لکی ہو جو اتنے لوگ تم سے محبت کرتے ہیں شاید کسی کی دعاؤں اور آنسوؤں کے طفیل تمہیں یہ نئی زندگی ملی ہے۔۔اب جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ بہت سے لوگ تم سے ملنے کے لیے بے تاب باہر تمہارا صبح سے ویٹ کر رہے ہیں۔۔
وہ حیران نظروں سے ڈاکٹر کی باتوں کو سنتی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔اس کی نظریں چاروں طرف کسی کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔شروع سے آخر تک فلم اس کے ذہن میں چلنے لگی۔۔
وہ آہستہ سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی کہ جب ہی ایک درد کی لہر اس کے پیچھے سے ہوتی پورے جسم میں دوڑ گئی۔۔وہ درد سے کراہتی ہوئی دوبارہ لیٹ گئی۔۔
آرام سے حور کیا کر رہی ہو؟؟تم ابھی نہیں اٹھ سکتیں تمہیں آرام کی سخت ضرورت ہے۔۔ڈاکٹر نے کاندھے پر اس کے ہاتھ رکھ کر اسے دوبارہ لٹایا۔۔
اسے ابھی بھی اپنے پیچھے کاندھے سے تھوڑا نیچے بے حد تکلیف اور درد کا احساس ہو رہا تھا۔۔
پریشان مت ہو ہارڈ دوائیوں کی وجہ سے تمہاری بیک پر زخم ہوگیا ہے۔۔تم خود بھی ایک ڈاکٹر ہو یہ بات تم اچھے سے سمجھ سکتی ہو۔۔۔جب تم دوائیاں لینا بند کر دوں گی تو یہ زخم بھی ٹھیک ہو جائے گا۔۔وہ مسکراتی ہوئی اسے کہتی وہاں سے چلی گئی۔۔
ایک ہی بات بار بار اس کے ذہن میں گھوم رہی تھی۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟مگر وہ اپنے اس وہم کو جھٹلا بھی نہیں سکتی تھی۔۔یقینا وہ اس کا ہادی ہی تھا جب اس نے آنکھیں کھولتے ہوئے پہلا چہرہ اس کا دیکھا تھا۔۔مگر ہلکا ہلکا اسے یہ بھی یاد آرہا تھا کہ آنکھوں کے بند ہونے سے پہلے وہ اس کا ہادی ہی تھا جو اس کے سب سے قریب اس کے پاس تھا۔۔مگر یہ کیسے ممکن تھا؟؟
وہ تو اسے لندن چھوڑ کر آئی تھی وہ اس کا انتظار وہاں کر رہا ہے وہ یہاں کیسے آ سکتا ہے ۔۔وہ تیز تیز سانسیں لیتی ذہن پر زور ڈالتی ہوئی سوچ رہی تھی۔۔
کہ جب ہی ارتضیٰ اور عظمیٰ دروازہ کھول کر اندر آتے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے حور کی طرف آنے لگے۔۔
حور کی نظر جیسے ہی اندر آتے ارتضیٰ پر پڑی۔۔وہ بے اختیار منہ پر ہاتھ رکھے زور زور سے رونے لگی۔۔ارتضیٰ تڑپ کر اس کی طرف بھاگتے ہوئے آئے اور اسے سینے سے لگا لیا۔۔وہ کتنی ہی دیر ان کے سینے سے لگی روتی رہی۔۔بابا مجھے معاف کر دیں۔۔میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔پلیز مجھ سے ناراض مت ہوئیں۔۔وہ روتی ہوئی آہستہ آواز میں ان کے سینے سے لگی کہہ رہی تھی۔۔
نہیں میری چڑیا میری جان میرا بچہ میں تم سے ناراض نہیں ہوں۔۔رو مت۔۔ارے تو تو میری جان ہے میں کیا اپنی چڑیا سے ناراض ہو سکتا ہوں۔۔وہ اس کے لمبے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئےپیار سے۔اسے چپ کرواتے ہوئے خود بھی رو رہے تھے۔۔
ماں باپ سے ملنے کے بعد اس کا دل بہت حد تک ہلکا ہو گیا تھا۔۔
سارا خاندان وہاں جمع تھا وہ سب کو اپنے پاس دیکھ کر خوش تھی جتنے بھی گلے شکوے تھے سب دور ہوگئے تھے۔۔مگر اس کی جان جس میں اٹکی تھی وہ پہیلی بوجھ کے نہیں دے رہی تھی۔۔
سب اس سے باتیں کر رہے تھے اسے ہنسانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔مگر وہ گم سم سی سب کو دیکھتی زبردستی اپنے لبوں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ارتضیٰ اور عظمی اس کے دائیں بائیں بیٹھے تھے۔جو کبھی اس کا ہاتھ چومتے تو کبھی اس کا ماتھا۔۔۔
کیا کروں کس سے پوچھوں؟؟ وہ آنکھوں کو زور سے میچے سوچتے سوچتے ہلکان ہوئے جا رہی تھی۔۔
کہ جب ہی کوئی دروازہ کھولتا اندر آیا تھا۔۔جس نے اپنے چہرے کو لال سرخ گلابوں کے پیچھے چھپایا ہوا تھا۔۔حور آنکھیں پھاڑے دروازے کی طرف اندر وجود کو دیکھ رہی تھی۔۔دل گھوڑے کی ریس جتنی رفتار سے تیز دوڑ رہا تھا۔۔۔
__________________
اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کی سانسیں روک جائیں گی ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔۔رات والی بات کو چلو وہ خواب مان کر خود کو دلاسہ دے سکتی مگر اب کیا؟؟وہ دن کے اجالے میں اپنے پورے ہوش و حواس سے اس جیتی جاگتی حقیقت کو کیسے جھٹلا دیتی جو قیامت بن کر اس کے سر پر ٹوٹنے والی تھی۔۔گھبرا کر اس نے مدد طلب نظروں سے داؤد کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔۔
وہ اپنی شاندار تیاری کے ساتھ مسکراتے ہوے چہرے کے آگے سے پھول ہٹاے حور کو دیکھ رہا تھا ۔۔جو اسے ہی آنکھیں پھاڑے ایک ٹک دیکھ رہی تھی۔۔
لو بھئی برخودار ہمیں یہاں چھوڑ کر خود غائب ہوگئے تھے اب سمجھ آیا کے کیوں غائب ہوے تھے۔۔ اذہاد کی بے مثال تیاری دیکھ کر ارتضیٰ مسکراتے ہوے بولے۔۔۔
حور نے حیرت سے گردن گھما کر باپ کو دیکھا۔۔یا اللہ کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہی۔۔بابا ہادی سے بات کر رہے ہیں۔۔وہ بھی اتنی محبت سے۔۔اسے زور زور سے چکر آنے لگے۔۔
السلام عليكم۔۔وہ اندر آتا مسکرا کر سب کو سلام کرتا بولا اور حور کی طرف قدم اٹھاتا پھول اسے پیش کیے۔۔
جو حور نے اس کی شکل دیکھ ڈرتے ہوے تھام لئے۔۔
ہاں تو میں کوئی دیوداس تھوڑی ہوں جو اپنی پارو کے غم میں اپنا ہولیا بگاڑ کر پارو پارو چلاوں۔۔وہ بھی ہنستے ہوے ارتضیٰ سے بولا۔۔
اور حور کی تو مزید آنکھیں پھٹ گئی اس کی بات سن کر۔۔وہ اس کے بابا سے اتنا فرینڈلی ہو کر بات کر رہا تھا۔۔اور اذہاد نے دیوداس مووی بھی دیکھ لی۔۔
۔۔نجانے آبھی اور کتنے پہاڑ ٹوٹنے باقی تھے اس کے سر پے کومہ سے باہر آنے کے بعد۔۔سب سے پہلے میں اپنے دماغ کو تھوڑا سکون تو دے دوں۔ ہادی کی گردن تو میں بعد میں مروڑوں گی پتہ تو چلے آخر میرے پیٹھ پیچھے اور کتنے گل کھلاۓ ہیں ۔۔وہ منہ بناتی ہوئی خون خوار نظروں سے اسے گھورتی ہوئی دل ہی دل میں منصوبے بنا رہی تھی اور پھر ارتضیٰ کی گود میں سر رکھ کر آنکھیں بند کر لی۔۔۔
لو 7 مہینوں سے سو سو کر بھی موحترمہ کا دل نہیں بھرا۔۔۔اذہاد مسکراتا ہوا دل میں بولا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب گھر جا چکے تھے بس داؤد ارتضیٰ اور عظمیٰ بضد تھے کہ وہ یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے۔۔
دادو مما بابا میں یہاں حور کے پاس ہوں آپ لوگ یہاں کہاں ساری رات بیٹھ کر گزارے گے۔۔پلیز گھر جائیں صبح آجائیے گا اور ویسے بھی حور سو رہی ہے۔۔وہ انہیں سمجھاتا ہوا بولا۔۔بڑی مشکل سے وہ سب کو منا کر گھر بھیج سکا تھا ۔۔۔..
جاری ہے
