Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41
اگر یہاں فیملی ممبرز کی جگہ کوئی اور بیٹھ کر اس طرح کے سوال جواب اس سے کر رہا ہوتا تو وہ کب کا اذہاد عریض بن چکا ہوتا۔۔
بہت سے سوالوں پر اس نے صبر کے گھونٹ پیے تھے۔۔اور خاموشی اختیار کی تھی۔۔
حور دور سے بیٹھی اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھتی اچھے سے اس کے اندر کی ہوتی جنگ کو دیکھ سکتی تھی وہ اس کے تمام حال سے واقف تھی اسے اچھے سے جانتی تھی۔۔
فری میرا ایک کام کرو گی۔۔حور نے کچھ سوچ کے فری سے کہا نظریں اس کی اب بھی ازہاد پر ہی تھی۔۔
ہاں بولوآپی۔۔
حور نے اسے کان قریب لانے کو کہا۔۔اور تبھی وہ ساری بات سمجھتی سر ہلاتی اٹھی۔۔
اذہاد بھائی۔۔ذرا ادھر تو آئیں مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔۔فری اچانک سے مرد حضرات کی محفل میں آدھمکتی ہوئی اذہاد سے بولی۔۔
اذہاد اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کوئی عجوبہ دیکھ رہا ہو۔۔اس نے آبھی تک دونوں لڑکیوں میں سے کسی کو دیکھا تک نہیں تھا اور یہ چھوٹی سی لڑکی جو اس سے بڑے دوستانہ انداز میں بات کرتی اسے بلا رہی تھی۔۔
اذہاد نے چہرے پر لاے سخت تاثرات سے اسے گھورنے پر اتفا کیا۔۔
وہ تھوڑی شرمندہ ہوتی نظروں کو پھیر کر خاموشی سے حور کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
اذہاد نے اس کی نظروں کے جاتے اشارے سے پلٹ کر دوسری طرف دیکھا تو وہ حور کو دیکھ رہی تھی تبھی اذہاد سارا معاملہ سمجھتا فورا کھڑا ہوا۔۔
اوکے چلو۔۔وہ فری سے مخاطب ہوتا بولا جس پے فری ایک دم اچھلی تھوڑی حیران تو ہوئی پھر فورا پلٹی۔۔سب اپنی اپنی باتوں میں الجھے ہوے تھے کسی نے کوئی خاص توجہ نہیں تھی۔۔
وہ آگے آگے چل رہی تھی جب کے اذہاد اس سے کچھ قدم دور اس کے پیچھے چل رہا تھا۔۔تبھی اچانک سے کسی نے اسکے سینے کی طرف سے شرٹ کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔۔
چلتے چلتے فری نے جب پلٹ کر دیکھا تو اذہاد اسے کہیں دکھائی نہیں دیا وہ حیران ہوتی سر کھجانے لگی۔اذہاد بھائی کہاں گئے آبھی تو میرے پیچھے آرہے تھے کہیں واپس تو نہیں پلٹ گئے؟؟ یہ سوچتی وہ پھر واپس اندر آنے لگی۔۔
اچانک کھینچے جانے پر اذہاد خود کو سنبھالتا منہ کھولے حیران سامنے کھڑی شخصیت کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگا۔۔
حوررر۔۔۔۔اس کی آواز میں حیرانگی تھی۔۔
تبھی حور کو کاندھوں سے ہلکا سا تھام کر اذہاد نے مزید اسے چھپا کے کوئی دیکھ نا لے۔۔
کیا کر رہی ہو کسی نے دیکھ لیا تو۔۔وہ آواز کو ہلکی نکلتا خوف سے دانتوں کو پیس کر اس کے چہرے کے قریب آتا بولا۔۔
کیوں میں کیا کسی ایرے غیرے کے ساتھ کھڑی ہوں؟؟ الٹا حور اس کی شرٹ کو مزید مٹھیوں میں جکڑ تی شرارت سے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔۔
اذہاد نے اب اس کی مٹھیوں سے اپنی شرٹ کو آزاد کرنے کے لئے اس کے ہاتھوں کو تھام کر پیچھے کھینچنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
حور پلیز چھوڑو۔۔اس نے اب معصومیت سے حور کی طرف دیکھ کر کہا جو مزید اپنی مٹھیوں کو سخت کرتی جا رہی تھی ۔۔حور تو اس کی معصومیت پے جیسے فدا ہی ہو گی۔۔کہاں وہ صبح اتنا بولڈ بنا ہوا تھا اور اب کہاں اس کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھی۔۔
اذہاد کو ڈر تھا تو صرف اس بات کا کوئی اگر انہیں اس طرح چھپ کر بات کرتے دیکھ لیتا تو وہ کیا جواب دیتا۔۔وہ شوہر تھا حق سے سب کے سامنے اس سے بات کر سکتا تھا۔۔مگر اسے یہ منظور نہیں تھا کہ وہ لوگوں کے سامنے حور اور خود کو مشکوک سوال بنا دیکھے۔۔اس پے اور حور پے انگلی اٹھے یا باتیں بنے۔۔اگر کوئی ان کے بیچ رشتے کو جان کر بھی کوئی سوال نہ کرتا پھر بھی وہ انکی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔
حور نے مسکراتے ہوے اس کی شرٹ چھوڑ دی۔۔تبھی وہ تین قدم حور سے پیچھے ہوا اور پلٹ کر جانے لگا مگر اچانک آگے بڑھتے اس کے قدم رکے وہ پھر اس کی طرف پلٹا جو اسے ہی مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔۔وہ بے اختیار آگے بڑھا اور ایک ہاتھ سے اس کا چہرہ تھام کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیے۔۔
وہ پیچھے ہوتا اب اس سے دور بھاگنا چاہتا تھا تب حور نے ہنستے ہوے اس کا بازو پکڑ اسے روکا۔۔
اب اگر کوئی آپ سے ذاتی سوال کرتا ہے تو آپ پلیز خود کو جلانے کی بجائے ہنستے ہوئے ٹوپک چینج کر دیں۔۔آپ کی بے شمار ذہانت کا ذخیرہ انہیں یہ محسوس بلکل نہیں ہونے دے گا کے آپ نے انکی بات کو رد کیا ہے بلکے وہ آپ سے اور متاثر ہی ہونگے۔۔
وہ حیران ہوتا اس کی بات کو سن رہا تھا۔۔وہ کتنی آرام سے اس کے اندر کا حال جان گئی تھی۔۔جس طرح سے وہ بینا دیکھے بینا سنے اس کے وجود کے احساس کو محسوس کر لیتا تھا۔۔اس کا وجدان اس پے آتی ہر مصیبت اور پریشانی کا الہام وقت سے پہلے ہی کر دیتی تھی۔۔اسی طرح حور بھی اس کے ہر احساس سے واقف تھی وہ اسے دیکھ کر پہچان جاتی تھی کہ وہ کیا محسوس کر رہا ہے خوش ہے یا اداس ہے۔۔یہ دونوں کی ایک دوسرے کی روح سے کی گئی محبت تھی۔۔
وہ مسکراتا ہوا سب کے درمیان حور کی ہی باتوں کو سوچتا ہوا بیٹھا تھا۔۔
اس نے اپنی زندگی میں بینا ضرورت کسی سے کام کے علاوہ کوئی بات نہیں کی۔۔اس کے علاوہ غصہ بیزارگی تناؤ سخت مزاجی اس کی شخصیت کا ہمیشہ حصّہ رہا۔۔جس کی وجہ سے لوگ اس سے بلا ضرورت بات کرنے سے خود بھی ڈرتے تھے۔۔
باتوں کو گھمانا بینا کسی کو رد کیے جانے کا احساس دلاے اسے حور نے آج بتایا تھا۔۔اسے ایسی باتوں کی کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی۔۔
عجیب سا احساس تھا وہ خود پر مسکرا دیا۔۔۔۔
اور پھر بینا دل کو جلاے اور اپنی ذاتی ٹوپک کو چھیڑے اس نے کافی اچھی گفتگو کی سب سے۔۔
اس کی ذہانت اور قابلیت کو ارتضیٰ تو بہت اچھے سے جانتے تھے۔۔تبھی اس کی باتیں سنتے وہ صرف مسکرا رہے تھے۔۔۔
آہستہ آہستہ شام گزرنے لگی تھی۔۔اذہاد گھڑی دیکھتا کھڑا ہوا۔
بابا مجھے اجازت دیں کافی دیر ہوگئی ہے میں اب چلتا ہوں۔۔۔
عظمی جو کسی کام سے جانے کے لیے کھڑی ہوئی تھیں۔آزہاد کی بات پر پلٹیں۔۔
کہاں جانے کی اجازت مانگ رہے ہو؟؟وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی۔۔
مما۔۔وہ۔۔ میں۔۔گھر۔۔جانے کے لیے۔۔۔وہ اٹکتا ہوا بولا۔۔
تو جہاں تم کھڑے ہو کیا وہ تمہارا گھر نہیں؟؟ اب کے سوال ارتضیٰ کی طرف سے ہوا تھا۔۔جو اس کے برابر آکے کھڑے ہوتے پوچھ رہے تھے۔۔۔
بابا ایسی بات نہیں ہے۔۔۔وہ جھجھکتا ہوا بولا۔۔
تو پھر کیسی بات ہے؟؟اب عظمی بھی اس کے قریب آتی ہوئی بولی۔۔
وہ دونوں میاں بیوی کے بیچ میں پھنستا معصوم شکل بنائے کھڑا تھا۔۔۔
تبھی ارتضیٰ زور سے ہنسے۔۔بیٹھ جاؤ یار تم اب یہاں سے کہیں نہیں جانے والے۔۔تم نے کون سا ہمیشہ کے لئے ہمارے ساتھ رہنا ہے۔۔چلے جاؤ گے حور کو لے کر لندن جہاں تمہارا اصلی گھر ہے یہ تو چھوٹا سا فلیٹ ہے جسے تم نے ایک وقتی ضرورت کے لئے خریدا تھا۔۔میں سب جانتا ہوں اب تم بھول جاؤ۔۔بلکے اپنا سارا سامان لے آؤ آبھی چلو میں بھی چلتا ہوں تمہارے ساتھ۔۔۔
اذہاد حیران ہوتا سب سن رہا تھا۔۔نہیں بابا سارا سامان نہیں۔۔بابا۔۔وہ جھجہکا۔۔
کیا ہوا۔۔ارتضیٰ اور عظمیٰ حیران اسے دیکھ رہے تھے۔۔
آپ کی اور مما کی خوشی کے لئے میں یہاں رہ لونگا مگر کچھ ٹائم بعد میں واپس جاؤ گا مجھے اچھا نہیں لگے گا۔۔وہ درخواست کرتا ہوا بولا۔۔
ارتضیٰ سمجھ گئے تھے اس کی بات کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔۔تبھی اس کے کاندھے کو تھام کر مسکراتے ہوئے بولے۔۔ٹھیک ہے۔۔
اور ان کے مان جانے پر وہ بھی مسکرا دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور نے ضد کر کے عنایا اور فریحہ کو روک لیا تھا۔۔باقی سب لوگ گھر واپس جا چکے تھے سواے داؤد اور انکی اہلیہ کے۔۔
گھر میں تقریبا سب سو چکے تھے صرف ایک آزہاد جاگ رہا تھا جسے نیند نہیں آرہی تھی۔۔وہ کب سے حور کے نمبر پر میسج کرکے اسے ٹیرس پر آنے کے لئے بلا رہا تھا۔۔
شاید وہ سو چکی تھی۔۔تبھی نہیں آئی تھی۔۔ورنہ ایسا ہوسکتا تھا کہ اذہاد بلائے اور حور نہ آئے۔۔
وہ سیاہ آسمان پر بچھی تاروں کی چادر کو مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔جب اسے پیچھے سے اپنے ارتضیٰ کی آواز سنائی دی۔۔۔
اذہاد۔۔۔
وہ فورا پلٹا۔۔بابا۔۔آئیں نا۔۔۔وہ مسکراتا ہوا ان سے بولا۔۔جن کے ہاتھ میں دو کپ تھے۔۔وہ حیران نظروں سے ان کے ہاتھ میں پکڑے گئے کپوں کو دیکھنے لگا۔۔
ارے بھئی حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔میں پہلے تمہیں دیکھنے آیا تھا کے تم سو گئے ہو یا نہیں اکثر ایسا ہوتا ہے نا کہ نئی جگہ پر ہمیں نیند نہیں آتی۔۔ مگر تم اپنے کمرے میں تھے ہی نہیں۔۔میں سمجھ گیا کہ تمہیں نیند نہیں آ رہی۔۔اس لئے میں گیا فورا کیچن میں دو کپ بلیک کافی بنائی اور تمہیں ڈھونڈتا ہوا ٹیرس پر آگیا۔۔میں نے سوچا کیوں نہ اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر کافی پی جائے۔۔اور کچھ باتیں جانی جائیں۔۔وہ مسکراتے ہوئے اس کے برابر بیٹھتے اسے اس کا کپ تھماتے ہوئے بولے۔۔
اذہاد مسکرا دیا۔۔ہاں مجھے سچ میں نیند نہیں آرہی تھی۔۔
تو اچھا ہے حور کو بھی بلا لو تینوں مل بیٹھ کے کوفی پین گے اور خوب مزے کریں گے۔۔وہ دوستانہ انداز میں اس سے بولے۔۔
بابا مجھے لگاتا ہے وہ سو گئی۔۔وہ ہلکا سا ہنستا ہوا بولا۔۔۔
بہت محبت کرتے ہو اذہاد حور سے؟؟ انکے اچانک کئے گئے سوال پر آزہاد کا منہ تک جاتا کپ واپس پلٹ گیا۔۔
انکی آنکھوں میں گہری سنجیدگی تھی مگر لبوں پر مسکراہٹ۔۔۔
پتہ نہیں بابا محبت کا مگر اس کے بینا میری سانسوں کی دوڑ میرے جسم سے ٹوٹنے لگتی ہے۔۔اس کا چہرا جیسے آب حیات ہو میرے لئے دیکھوں تو زندگی بڑھنے لگتی ہے۔۔جیسے ایک شخص آپ کی پوری کائنات بن گیا ہو۔۔اس کی مسکراہٹ میں میری مسکراہٹ چھپی ہوتی ہے۔۔
وہ خاموشی سے اس کی بات سن کر مسکرائے۔۔۔
آپ کو پتا ہے بابا میں صرف ایک کھنڈر تھا۔۔ایک ایسا کھنڈر جہاں ہزاروں میلوں دور تک کسی بھی جیتی جاگتی ہستی کا گمان کرنا ناممکن تھا۔۔میں نے اپنے آپ کو اس دل کو اس ویران تاریخی کھنڈر میں کی گہری زمین کھود کے دفن کیا ہوا تھا۔۔میں ڈرتا تھا کہ کہیں دنیا کو اگر میرے اندر کے چھپے کھنڈر کا راز پتا لگ گیا تو؟؟؟
اس ڈر کو چھپانے کے لئے میں نے یہ اذہاد عریض کا روپ خود چڑھایا۔۔جس کے سامنے یہ دنیا جھکتی ہے ڈرتی ہے اسے مانتی ہے۔۔
پھر ایک دن ایک پری نے اس کھنڈر میں قدم رکھا۔۔بےخوف ضدی اپنی منوانے والی نڈر۔۔وہ ہلکا سا یہ کہتے مسکرایا۔۔۔
میں نے اسے سمجھایا ڈرایا یہاں تک کہ اسے تکلیف بھی دی۔۔یہ کہتے اس کی آنکھ سے ایک آنسو گرا۔۔مگر وہ تو جیسے کسی خوشبو کی طرح مہکتی ہوئی میرے پورے وجود میں پھیل گئی۔۔وہ چراغ میں جلتا دیا تھی جس کی روشنی میرے کھنڈر کو روشن کر گئی۔۔یہی نہیں اس نے گھیری کھائی تلے دفن میرے اس دل کو بھی ڈھونڈ لیا۔۔جسے میں نے خود سے بھی چھپا کر رکھا تھا۔۔پتا ہے بابا وہ پری کون تھی؟؟وہ انہیں دیکھتا ہوا مسکرایا۔۔وہ میری حور تھی۔۔۔ آب یہ جو کچھ بھی ہے سب میری حور کا ہے۔۔میرا کچھ بھی نہیں۔۔ میرے وجود میں اب کھنڈر بھی نہیں۔۔میری پہچان میرا مان میرا غرور میری خوشی میری ہنسی سب اب صرف حور ہے۔۔میرے پاس آب کسی کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں۔۔کیوں کہ اب سب کچھ میری حور کا ہے وہ چاہے تو مجھے گروی رکھ دے چاہے تو خود کے پاس۔۔۔وہ ہنسائے گی تو ہنسوں گا وہ رلائے گی تو رو دوں گا۔۔میں تو حور کے وجود میں ڈھل گیا بابا۔۔وہ ہے اس کی سانسیں ہیں تو مجھے امید ہے مجھے وہ امید کی کرن کی طرح لگتی ہے۔۔کسی جیت کی طرح لگتی ہے جو ہر پل کہتی ہے ہادی ہارنا نہیں ہے ابھی لڑنا ہے۔۔وہ اوپر آسمان کی طرف دیکھتا ہوا مسکرایا۔۔
ہاں مگر مجھے اتنا یقین ہے کہ یہ سانسیں میری حور کے ساتھ جڑی ہے جس دن اس کی سانسیں رکی یہ سانسیں بھی خاموشی سے اس کے ساتھ رک جائیں گی۔۔میں نے حور کا وہاں بھی پیچھا نہیں چھوڑنا ہے بابا۔۔آپ دیکھنا ایک دن وہ تنگ ہوکر خود کہے گی ہادی پلیز کہیں تو مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔وہ نم آنکھوں سے یہ کہتے مسکرا دیا۔۔
حور دبے قدموں سے آہستہ آہستہ چلتی جو اوپر آئی تھی اذہاد کی ساری باتیں سنتی وہی دیوار سے لگی سانس روکے کھڑی تھی۔۔
آنکھوں سے آنسوں ٹوٹتے ہوے گر رہے تھے۔۔۔وہ اس سے اس حد تک محبت کرتا ہے۔۔اس کے الفاظوں کی سچائی اس کے دل میں گھر کر گئی تھی وہ ہر بار کچھ نا کچھ ایسا کر جاتا تھا جس سے حور اس سے پہلے سے زیادہ محبت کرنے لگ جاتی تھی۔۔وہ اس کی سانسوں سے بھی قریب ہوتا جا رہا تھا۔۔
وہ پھر چھپ کر سامنے بیٹھنے دونوں کو دیکھنے لگی۔۔۔اور مسکرائی۔۔آج اذہاد نے حور کے علاوہ کسی اور سے بھی اپنے دل کی باتیں شئیر کی کی تھی۔۔وہ آہستہ آہستہ نارمل ہوتا جا رہا تھا کسی پے بھروسہ نا کرنے کا جو اس کےدل میں خوف تھا وہ آب آہستہ آہستہ حور کو ہی ختم کرنا تھا۔۔
وہ مسکراتی ہوئی پلٹ گئی تھی۔۔کیوں کے وہ جانتی تھی اس وقت جو اس کے قریب ہے وہ اس دنیا کے بیسٹ فرینڈس میں سے ایک ہے۔۔
__________________
ارتضیٰ خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔انہیں اپنی بیٹی کی قسمت پر اس پل رشک ہوا۔۔شاید وہ تمام زندگی بھی اپنی بیٹی کے لئے ایسا ہمسفر نا ڈھونڈتے پاتے۔۔ہر ماں باپ اپنی بیٹیوں کے لئے ایسا ہی انسان ڈھونڈ تے جو انسے انہیں کی طرح محبت کرے انہیں خوش رکھے۔۔اور اذہاد ان سب سے بڑھ کر ایک بہترین انسان تھا جو انکی بیٹی کا نصیب بنا تھا۔۔۔
یا اللہ تیرا شکر ہے کے تو نے مجھے کوئی بڑی غلطی کرنے سے بچا لیا۔۔اور اتنا پیارا بیٹا اور انسان میری حور کے نصیب میں لکھ دیا۔۔
سہی کہا ہے کسی نے انسان کے ہاتھ میں اس کی تقدیر نہیں ہے یہ تو اس رب کا کمال ہے جس کے نصیب میں جو لکھ دے اسے وہی ملتا ہے چاہے کوئی کتنے ہی ہاتھ پیر مار لے اپنی قسمت کو نہیں بدل سکتا۔۔یہ محبت کسی کی جاگیر نہیں ہے یہ تو مشیت الہی ہے اس رب کا فیصلہ ہے جس کے دل پے چاہے نازل کر دے۔۔یہ سوچتے وہ مسکرا دیے اور اپنی کافی پینے لگے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورج آسمان پر اپنی پوری آبتاب سے چمکتا ہر طرف اپنی روشنی بکھیر رہا تھا۔۔آدھی سے زیادہ دنیا اپنے کاموں پر جا چکی تھی۔۔بس ایک حورین تھی جس کی نیند پوری ہی نہیں ہوکے دے رہی تھی۔۔وہ دن کے دس بجے بھی گہری نیند میں ڈوبی ہوئی تھی۔۔کہ جب ہی اس نے دوسری طرف کروٹ لینے کے لئے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس کا ہاتھ ہوا میں ہی کسی چیز سے ٹکرایا۔۔مگر یہ کیا اس چیز کی تو دو آنکھیں ایک ناک اور منہ بھی تھا۔۔وہ ہاتھ سے اس کو محسوس کرتی ہوئی مشکل سے اپنی بند آنکھوں کو کھول کر دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
یہ کیا وہ تو اذہاد تھا جو اپنی دونوں آئی برو کو چڑھائے چہرے پر سخت تاثرات لئے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔
حور دوبارہ آنکھوں کو بند کرتی ہوئی مسکرائی۔۔۔
ہائے ہادی میں تم سے اتنی محبت کرنے لگی ہوں کہ خواب میں بھی تمہیں جیتا جاگتا اپنے سامنے دیکھ رہی ہوں۔۔۔
حور میں سچ میں ہی تمہارے سامنے ہوں۔۔ٹائم دیکھا ہے 10 بج رہے ہیں آدھی سے زیادہ دنیا اپنے کاموں پر جا چکی ہے۔۔اور تم ہو کہ اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔۔۔میں کب سے تمہارے اٹھنے کا ویٹ کر رہا ہوں۔۔آج واک نہیں کرنی۔۔چہرے پر سختی تھی مگر انداز میں اس کی نرمی تھی۔۔
کیا ہادی تم صبح صبح ہٹلر بن کر میرے سر پر مسلط ہوگئے۔۔کوئی یہاں سکون سے سونے بھی نہیں دیتا۔۔وہ چادر کا کھونا منہ تک لے جاتی ہوئی بولی۔۔
آزہاد نے جھٹکے سے اسکی چادر پکڑ کر منہ سے نیچے کھینچی۔۔فورا اٹھ جاؤ ورنہ میں گود میں اٹھا کر تمھیں نیچے لے جاؤں گا۔۔وہ مسکراتا ہوا اسے دھمکی دیتا بولا۔۔
ٹھیک ہے آج لے ہی چلو۔۔وہ بھی جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھتی ہوئی بولی۔۔بالوں کی لمبی چوٹی جھٹکے سے اٹھنے پر سامنے اچھل کر آئی تھی۔۔وہ دونوں ہاتھ لمبے کیے اس کی طرف بڑھاتی منہ بناتی ہوئی بولی تھی۔۔
نیند میں ڈوبی حسین آنکھوں میں اذہاد کو اپنا دل نشے میں ادھر ادھر ڈولتا نظر آیا۔۔وہ مسکراتا ہوا جھٹکے سے زمین سے اٹھا باتھروم گیا اور خوب اچھے سے ہاتھ گیلا کر کے حور کے قریب آکر اس نے گیلا ہاتھ حور کے پورے چہرے پر اچھے سے پھیرا جیسے کوئی ماں اپنی بچے کا منہ دھلاتی ہو۔۔۔حور منہ کھولے آنکھیں پھاڑ کر اذہاد کے کارنامے کو دیکھنے لگی۔۔اس کی نیند بھک سے اڑی تھی۔۔اذہاد دانت نکال کار ہنس رہا تھا۔۔چلو یہ نظروں سے قتل بعد میں کر لینا آبھی یہ جوس پیو اور فورا اٹھ کر میرے ساتھ لان کا لمبا چکر کاٹو۔۔وہ جوس کا گلاس اس کے ہونٹوں کے قریب لے جاتا اسے جوس پلانے لگا۔۔
آب فائدہ کچھ نہیں تھا نیند اڑ چکی تھی سارے بدلے لینے کی لسٹ وہ دل میں تیار کرتی آبھی اس کی بات ماننے پر مجبور تھی۔۔
وہ اٹھی اندر گی اور چینج کر کے آئی۔۔
اذہاد نے محبت سے اس کے چہرے پر آئےسنہرےبکھرے بالوں کی لٹوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے سمیٹا۔۔
وہ اس کا جوتا ڈھونڈ رہا تھا تب ہی حور چلائی۔۔
ہادی تم مما سے مجھے جوتیاں پڑو آؤگے۔۔
کیوں ؟؟اذہاد آب حیرت سے اس کا چہرا دیکھتا بولا۔۔
شوہر اپنی بیویوں کے پیروں کو ہاتھ نہیں لگاتے اور جوتے وغیرہ اٹھانا اچھا نہیں سمجھا جاتا مما نے دیکھا تو بہت غصہ ہونگی ۔۔وہ خود ہی آگے بڑھتی جوتے ڈھونڈ کر پہنتی ہوئی اذہاد سے بولی۔۔
میں نہیں مانتا یار۔۔وہ لاپرواہی سے جھکتا اس کے جوتوں کی ڈوریا کسنے لگا۔۔
میں بسس اتنا جانتا ہوں کے میں اپنی حور سے بے حد بے انتہا محبت کرتا ہوں۔۔تمہارا خیال رکھنا۔۔تمہارے پاس رہنا۔۔تمہارے لاڈ اٹھانا تم سے ٹوٹ کر محبت کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔۔وہ چاہت سے اسے دیکھتا مسکرا کر کہہ رہا تھا۔۔
حور محبت سے اسے دیکھتی کھڑی ہوئی۔۔اسے اذہاد سے پہلے سے اور شدت والی محبت ہوگی تھی۔۔۔
اذہاد حور کا ہاتھ تھامتا اسے اپنے لبوں سے لگاتا باہر کی طرف قدم بڑھا دیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صدیقی صاحب لگتا ہے مسٹر ہادی کا کچھ کرنا پڑے گا۔۔اتنے ٹائم سے غیر حاضر ہے مگر مجال ہے جو آپ کو اس بات کا احساس ہو ارے باس کو فون کر کے اطلاع کریں کے ان کے سب سے چہیتے اور قابلے فخر مسٹر ہادی اتنے دنوں سے غائب ہیں۔۔۔
صدیقی صاحب جو اس وقت اپنے آفس میں بیٹھے کام کر رہے تھے۔۔آنکھوں سے عینک نیچے کرتے جنید کو غصے سے بھرا ہوا دیکھنے لگے۔۔
جنید بیٹا شاید آپ حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔۔بہتر ہوگا اپنے کام پر توجہ دیں بسس۔۔۔انہوں نے بڑی سہولت سے اسکی توجہ اس ٹوپک سے ہٹائی۔۔
اچھا کیسی حقیقت ذرا مجھے بھی تو بتائیں۔۔مجھے تو آپ کے اور اس کے بیچ کچھ دال میں کالا ہوتا نظر آرہا ہے۔۔آپ جو ذرا سے غلط کام پر اتنا بگڑ جاتے ہیں اتنی آرام سے اس کی غیر حاضری کو اگنور کیے اس کا سارا کام سمبھالے ہوے ہیں بڑا ہی شاطر اور چالاک انسان ہے وہ ماننا پڑے گا۔۔وہ مکاری سے مسکراتا آب صدیقی صاحب کو گھورتا ہوا انکے اندر تک آگ لگا گیا تھا۔۔کل کا بچہ ان کی برسوں کی وفا داری اور محنت پے شک کر رہا تھا۔۔
زبان کو سمبھالو میاں۔۔بڑا ہی غلط سوچ رہے ہو جس کے بارے میں تم زہر اوگل رہے ہو وہ کوئی عام انسان نہیں ہے اذہاد عریض ہے۔۔ایک کامیاب ترین بزنس مین جس کے آگے ہماری یہ کمپنی ایک معمولی سی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔۔اور یہی نہیں میاں اور سنو وہ صرف بزنس مین ہی نہیں آپ کے باس یعنی ارتضیٰ ابراھیم کے داماد بھی ہیں جی ہاں حورین بیٹی کے شوہر۔۔اور کچھ جاننا باقی ہے تو تھوڑا انتظار کرو۔۔اذہاد بیٹا خود آئے گا بہت جلد یہاں کا چکر لگانے ارتضیٰ کے ساتھ اس سے تفصیلی۔ خود بات کر کے سوال جواب کر لینا ۔۔وہ سخت لہجے میں اسے بہت کچھ بتاتے اور جتاتے ہوے چلے گئے تھے۔۔ان کے پاس اس کے لئے فضول وقت نہیں تھا۔۔
اور جنید کے تو مانو جیسے یہ سب سن کے طوطے ہی اڑ گئے تھے۔۔وہ جذبات میں آکر کس کو بھڑکا گیا تھا۔۔ وہ جانے انجانے اپنے جلاپے میں کئی بار اذہاد کو اوکسا بھی چکا تھا۔۔اسے اپنی جاب خطرے میں نظر آئی۔۔۔
کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو گڑھا ہم دوسروں کے لئے کھودتے ہیں اس میں ہم خود ہی گر جاتے ہیں۔۔حسد کی آگ انسان کو ہر طرف سے جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔۔اسی لئے کہتے ہیں کے حسد نا کرو بلکے جو مل رہا ہے اس پے شکر ادا کرو یا پھر اس سے زیادہ محنت اور قابل انسان بن کر دکھاؤ۔۔۔۔
کیوں کے نا تم اس کے نصیب کا چھین کر خود حاصل کر سکتے ہو نا ہی اس کی قسمت میں جو لکھا ہے وہ مٹا سکتے ہو۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب مل کر ایک ہی ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے جب عنایا ارتضیٰ سے بولی۔۔
پھوپھا کیا آپ ہمیں 12 بجے تک گھر ڈراپ کردیں گے؟؟
ارے اتنی بھی کیا جلدی ہے لڑکیوں آرام سے چلی جانا۔۔عظمیٰ مسکراتی ہوئیں عنایا سے بولی۔۔
نہیں پھوپھو ہم اگر گھر پر نہ ہو تو مما اور باپ بالکل اکیلے ہو جاتے ہیں۔۔۔پلیز ہمیں جانے دیجئے ہم پھر آئیں گے۔۔اور ویسے بھی آپ کے گھر کی رونق تو لوٹ آئی ہے۔۔وہ مسکرا کر حور کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔
تمام بیٹیاں اپنے گھر کی رونق ہوتی ہیں بچے۔۔ارتضیٰ بھی مسکراتے ہوے تینوں بیٹیوں کو پیار سے دیکھتے ہوئے بولے۔۔
ٹھیک ہے آپ لوگ تیار ہو جاؤ میں اور حور آپ کو چھوڑ آئیں گے۔۔۔
اور پھر حور اور ارتضیٰ دونوں کو چھوڑنے کے لئے چلے گئے اور اذہاد عظمیٰ کے ساتھ ہی روک گیا ان کو کمپنی دینے کے لیے۔۔عظمیٰ کے پاس ڈھیر ساری باتیں تھیں حور کی اذہاد کو بتانے کے لئے۔۔تبھی ارتضیٰ اور حور بھی بےفکر ہوتے چل پڑے تھے۔۔
جاری ہے
