Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19
آزہاد اب اس کے جلاپے والے روپ کو دیکھ کے ہنس دیا۔۔ویسے اس میں کوئی شک تو نہیں مس حور آپ اس وقت واقعی ایک شہزادے کے ساتھ ہی بیٹھی ہیں۔۔۔آزہاد نے اسے دیکھتے ہوئے معنی خیز آواز میں آہستہ سے کہا۔۔۔
اوہ۔۔۔ اچھا کہاں کے شہزادے ہیں آپ؟؟ حور نے ماحول کے حساب سے اس سے مذاق میں کہا۔۔
حورین ارتضیٰ کے دل کے شہزادے ہیں ہم۔۔۔اور آزہاد نے بھی اس کے مذاق سے پوچھے گئے سوال کا جواب مذاق سے ہی دیا مگر محبت سے اور اس کی بات سن کر حور ہنس دی۔۔۔
وہ ایک بہت خوبصورت جگہ تھی جہاں آزہاد اسے لایا تھا ان دونوں کے علاوہ دور دور تک کوئی نظر نہیں آرہا تھا وہ گاڑی سے باہر آتے دیکھنے لگی وہ قدرت کا حسین نظارہ تھا جو حور اس وقت دیکھ رہی تھی۔۔دور دور تک پھیلا سمندر اور سامنے حسین ڈوبتا سورج وہ منظر آنکھوں کو ایک خوشگوار احساس بخش رہا تھا وہ لوگ کافی اونچائی پر کھڑے تھے جہاں سے یہ سب دیکھا جا سکتا تھا۔۔حور نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اسے لندن میں ایسا خوبصورت قدرتی منظر بھی دیکھنے کو ملے گا وہ تو یہاں جب سی آئی تھی اس نے لندن کی مصنوعی چمک ہی دیکھی تھی۔آج اذہاد کی بدولت اتنا خوبصورت دلکش نظارہ اسے دیکھنے کو ملا۔۔ورنہ وہ تو شاید جیسے خاموشی سے یہاں آئی تھی ویسی ہی خاموشی سے واپس بھی چلی جاتی اور اذہاد بھی تو اللہ کی طرف سے اسے ایک تحفے میں ملا تھا۔۔ وہ جیسے خود کو بھی فراموش کر کے اس منظر کو دیکھنے میں کھوئی ہوئی تھی اور اذہاد جانتا تھا کہ حور کو یہ جگہ بہت پسند آئے گی کیونکہ وہ جگہ اذہاد کی پسندیدہ جگہوں میں سے ایک تھی اور ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ جو آزہاد کو پسند ہو وہ حور کو ناپسند ہو۔۔ اذ ہاد گاڑی سے ٹیک لگائے مسکراتے ہوئے ہور کی پشت پر بکھرے بالوں کو یہاں سے وہاں اڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا
ہادی یہ کتنی خوبصورت جگہ ہے میں نے پہلے کبھی اتنی خوبصورت قدرتی منظر کو نہیں دیکھا۔۔وہ اس کی طرف پلٹتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔..
آزاد اس کے قریب چلتا ہوا آیا اور اس کے برابر کھڑا ہوگیا ڈوبتے سورج کی کرنیں اب دونوں پر ایک ساتھ پڑ رہی تھی تیز ہوا دونوں سے ٹکراتی جھوم رہی تھی ایک جادو سا تھا جیسے اس جگہ میں جہاں دونوں کھو گئے تھے۔۔۔
آزہاد گرینڈ پا کی طبیعت اب کیسی ہے ???حور نے اذہاد کی طرف دیکھتے اپنے اڑتے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔
آزہاد نے اس کی طرف مسکرا کے دیکھا۔۔وہ اب بالکل ٹھیک ہیں…حور۔۔۔ آزہاد نے اسے پکارا۔۔
حور نے پلٹ کے اسے دیکھا۔۔ہممم۔۔۔۔
تمہارے پیرنٹس مجھے ایکسیپٹ کر لیں گے؟؟ آزہاد نے اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے سوال کیا۔آنکھوں میں ایک انجانا سا خوف تھا۔۔
حور نے ایک گہرا سانس لیا اور پلٹ کے اس کی گاڑی کی طرف گئی اور اس کے سامنے کے بونٹ پر چڑھ کر بیٹھ گی۔۔
آزہاد نے گردن موڑ کر اسے دیکھا اور پھر اس کی طرف آیا۔۔تم نے جواب نہیں دیا۔۔ وہ بھی اس سے تھوڑا فاصلہ رکھ کے بونٹ پر چڑھ کے بیٹھ گیا۔
حور نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔ جیسے ڈوبتے سورج کے سارے رنگ اس کی آنکھوں نے چرا لیے ہوں۔۔
ہادی مسئلہ صرف میرے پیرنٹس کا نہیں ہے۔ایک اور بھی بڑا مسئلہ ہے۔۔حور نے اداس چہرے سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔اور حور کی بات سن کر آزہاد کو جیسے اپنے اندر گھٹن سی محسوس ہوئی اس کا دل اچانک گھبرانے لگا۔۔حور تم مذاق کر رہی ہو نا؟؟ آزہاد نے اس سے تصدیق کرنے کے لئے خود کو جیسے کمزور سا دلاسہ دیا۔۔۔
نہیں ہادی میں مذاق نہیں کر رہی میری زندگی کے سارے فیصلوں میں بابا کی ہاں کے ساتھ دادو کی ہاں بھی شامل ہوتی ہے میں کسی ایک کی نا کے بعد اس کی ناراضگی مول لے کر وہ فیصلہ نہیں کر سکتی۔۔ حور نے آزہاد کے سارے کمزور دلاسوں کو ایک پل میں ہی مٹی میں ملا دیا۔۔۔
اور اب آزہاد کو لگا جیسے اس کی اندر کی بڑھتی گھٹن نے اس کے دھڑکتے دل کی رفتار کو بہت آہستہ گر دیا آزہاد کا دل جیسے رکنے سا لگا حور کی بات سن کر۔۔۔۔
مگر ہادی میں منا لوں گی دادو اور بابا کو مجھے انہیں منانا آتا ہے انہوں نے کبھی میری کوئی بات نہیں ٹالی تم بالکل فکر نہیں کرو۔۔ اور ازہاد نے ایک دم لمبی سانس لی اور کی طرف دیکھا اس کی آنکھیں ہلکی لال ہوچکی تھی۔۔حور اس کی آنکھیں دیکھ کر ایک دم ہڑ بڑاتی ہوئی فورا بولی۔۔۔ہادی تم ٹھیک ہو؟؟؟؟
حور میں اتنی آگے تمہارے ساتھ اتنا سفر کرکے واپس نہیں پلٹ سکتا۔۔تمہیں منانا ہوگا اور انہیں ماننا ہوگا۔ ہر حال میں ہر قیمت پر ورنہ میں اپنی محبت کو پانے کے لئے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔اس کے ہر ایک الفاظ میں جذبات کی شدت تھی وہ بے حد جنونی انداز میں اس سے کہہ رہا تھا۔۔۔ازہاد کے الفاظ حور کو آگ کی تپش جیسے لگے۔۔۔
ہادی۔۔۔۔۔۔حور نے اس کے جنونی انداز کو دیکھ کر دھڑکتے دل سے آزہاد کو ہوش دلایا۔۔۔
ہادی نے اسے دیکھتے زور سے اپنی آنکھیں بند کیں اور سامنے کی طرف گردن کرکے پھر آنکھوں کو کھول کر سامنے دیکھنے لگا۔۔وہ پوری کوشش کر رہا تھا خود کو کچھ دیر پہلے کی طرح نارمل کرنے کی۔
ہادی وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا یہ کام تھوڑا مشکل ہے مگر ناممکن تو نہیں نہ۔میں جانتی ہوں بابا دادو مان جائیں گے۔۔۔۔وہ اسے امید کی کرن ہاتھ میں تھماتی ہوئی بولی۔۔۔
اور اگر پھر بھی وہ نہ مانے تو؟؟ازہار نے پھر اس کی طرف دیکھ کر سوال کیا۔۔
حور نے جیسے اس کا سوال سن کر سانس اندر روک لی۔۔
بولو حور۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر نہ مانے تو؟!!تو کیا تم مجھے چھوڑ دوں گی ؟اس سفر میں اکیلا کر دوں گی؟؟؟آزاد کی باتیں ہوشمند والی نہیں تھی وہ اس وقت جنونی ساہوکر اس سے سوال کر رہا تھا۔۔
ہادی تم سے جب الگ ہونگی تو وجہ صرف موت ہوگئی اس کے علاوہ مجھے تم سے کوئی الگ نہیں کر سکتا۔۔حور نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پورے یقین سے کہا۔۔
حور کا جواب سن کر اذہاد کے اندر کا جنون جیسے ایک دم سرشار ہوگیا خوشی سے جھوم گیا۔۔۔
میں تمہیں اتنی آسانی سے مرنے بھی نہیں دوں گا حور میں وہاں بھی تمہارے ساتھ تمہارے قدموں کے چھوڑے گئے نشان کو ڈھونڈتے ہوے تمہارے پیچھے آجاؤں گا کس فائدے کی ایسی زندگی جس میں میری حور میری محبت ہی نہ ہو۔جہاں حور نہیں وہاں اسکا اذہاد بھی نہیں۔۔۔آزہاد نے اس کے معصوم چہرے کو آنکھوں میں بساتے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
حور کو اس پل اچھے سے احساس ہو گیا تھا کہ آزہاد اس سے کس قسم کی اور کس حد تک کی محبت کرتا ہے۔وہ اس کی محبت کی انتہا کو دیکھ کر ایک پل کیلئے ڈر گئی تھی۔حور نے گہرا سانس لیا۔۔۔
اب جب محبت کر ہی لی ہے پھر ڈرنا کیسا؟؟اس محبت کے لئے اسے گھروالوں کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا۔۔
سورج ڈوب چکا تھا اب رات کی پرچھائیاں ہر جگہ ڈیرہ ڈال رہی تھی۔۔دونوں کچھ دیر خاموش اس پل کو محسوس کرتے رہے پھر اچانک ہادی گاڑی سے نیچے اترا اور اپنی گاڑی کے پیچھے کا دروازہ کھول کر اس میں سے ایک کاغذ کا بڑا بیگ نکالا اور حور کی طرف آتا اس کے برابر پھر آ کے بیٹھ گیا۔۔۔
حور یہ کھولو۔۔ وہ حور کے ہاتھ میں وہ بیگ دیتا بولا۔۔۔
حور نے اندر جھانکا تو وہاں اسے کھانے کے ڈبے نظر آئے حور نے اذہاد کو دیکھا۔۔آزہاد نے آنکھوں کے اشارے سے اسے کھانا باہر نکالنے کو کہا۔اور حور نے کھانے کے ڈبے باہر نکالے ایک میں چاول تھے ایک میں چکن اسپیگیٹی تھی اور بھی دو تین مختلف کھانے کی چیزیں تھیں جو حور کی ہی پسند کی تھی۔حور نے وہ ساری چیزیں گاڑی کی چھت پر رکھی اور دونوں نے ایک ہی ڈبے میں سے شیئر کرکے مل کر کھانا کھایا
حور گرینڈ پا تم سے ملنا چاہتے ہیں۔۔کھانا کھاتے ہوئے اذہاد نے اس سے کہا۔۔۔
ہاں کیوں نہیں ہادی میں آج ہی واپسی میں ان سے مل لیتی ہوں۔۔۔
نہیں ایسے نہیں۔۔۔آزہاد نے جھٹ سے کہا۔۔
حور نے کھانا کھاتے ماتھے پر بل ڈال کے اذہار کو دیکھا۔۔
وہ کل گھر آجائیں گے تو میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ پرسوں میں تمہیں خود ڈنر کے لئے انوائٹ کروں۔۔؟؟
حور نے اب ہاتھ روک کر اذہاد کو غور سے دیکھا۔۔
ہادی یہ ڈنر وغیرہ پر انوائٹ کرنا ضروری ہے کیا میں پرسوں ہاسپٹل سے گھر جاتے ہوئے ان سے ملتے ہوئے چلی جاؤں گی سمپل۔۔۔حور نے اس کا ڈنر والا آئیڈیا کاٹ کے اپنی طرف سے آسان حل نکالا۔۔
حور جب میں کہہ رہا ہوں کہ ڈنر پر انوائٹ کروں گا تو مسئلہ کیا ہے؟؟اب اذہاد نے بھی کھانے سے ہاتھ روک کر اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے حور گھورا۔۔۔
ہادی مجھے ایسا فیل ہو رہا ہے جیسے میں کسی مریض کو دیکھنے اس کی عیادت کرنے نہیں بلکہ اپنے رشتے کے لیے لڑکے کو دیکھنے اس کے گھر لڑکے کا ہاتھ مانگنے جارہی ہوں۔۔۔ حد ہے۔۔۔حور نے چڑتے ہوئے اذہاد سے کہا۔۔۔
آزہاد اس کی بات سن کر پیٹ پر ہاتھ رکھے زور سے ہنستے ہوے دھورا ہو گیا۔۔ اسے اس طرح سے ہنستے دیکھ کرحور نے اپنا سر پیٹ لیا۔۔
ہاں یہی تو میں چاہتا ہوں حور تم نے کتنی آسانی سے میرے دل کی بات سمجھ لی۔۔۔وہ ایکدم سیدھا ہوا۔ پتہ ہے حور میں کیا چاہتا ہوں۔کہ ہماری اس محبت میں سب کچھ الگ الگ سا ہو۔۔تم میرے گھر آؤ میرا ہاتھ مانگنے اور سب سے کہو کہ مجھے یہ لڑکا پسند آگیا ہے میں اس سے شادی کروگی۔۔۔اور جب مجھ سے پوچھا جائے تو میں خاموشی سے گردن جھکا کے گرینڈ پا کے سامنے بولوں مجھے بھی منظور ہے۔۔۔ آزہاد کی شوخیاں ایک بار پھر اپنے عروج پر تھیں۔۔ایک پل میں آگ اور پانی والا کام تھا اذہار کاحور کے معاملے میں۔۔حور اسے محبت سے دیکھ کر ہنس دی۔۔
ہادی میں تمہارا کیا کرو۔۔؟؟
آزہاد نے اس کی خوبصورت چمکتی آنکھوں میں دیکھا۔۔ تم مجھے اپنی یہ نوز پن کا ہیرا بنا لو جو ہمیشہ تمہاری خوبصورت ناک میں غرور سے چمکتا رہتا ہے۔۔یا پھر میرے سرکار مجھے اپنا غلام بنا لو۔۔مجھ ناچیز کا اس دنیا میں آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں۔۔۔حور اس کے ڈرامے بازیوں پر زور زور سے ہنس رہی تھی۔۔ہنستے ہنستے حور نے اس کا کان زور سے پکڑ کے مروڑا۔۔۔۔آہ ہ ہ۔۔۔۔حور چھوڑو درد ہو رہا ہے۔۔ آزہاد ایک آنکھ بند کرتا چیختے ہوئے بولا۔۔۔
اچھا درد ہو رہا ہے یہ ڈرامے کرتے ہوئے کیوں نہیں سوچا؟؟؟حور نے ہنستے ہوئے کہا اور کان چھوڑ دیا۔۔
اچھا ہادی ایک منٹ کے لیے نیچے اتریں۔۔ وہ آزہاد کو بولتی فٹ سے گاڑی سے نیچے اتری اور گاڑی کے پیچھے کا دروازہ کھولنے لگی۔۔اذہاد جو شیشے سے کمر ٹیکا کے بیٹھا تھا فورا حور کی بات سن کر نیچے اترا۔۔حور نے اسے دوسری طرف منہ کر کے سیدھا کھڑے ہونے کو کہا۔۔اچھا جی لو ہوگیا سیدھا۔۔وہ فرمابرداری سے گردن اکڑا کے دوسری طرف منہ کرکے سیدھا کھڑا ہوگیا۔۔حور نے پیچھے سے جیکٹ اس کے جسم سے لگائی اور ناپنے لگی وہ اسے بالکل صحیح آرہی تھی۔۔ اذہار نے سیدھی گردن رکھ کر محسوس کیا کہ حور اس کے لیے کچھ خرید کر لائی ہے جو اس کے جسم سے لگا کے ناپ رہی ہے..
ہادی میں نے آج آپ کے لیے یہ جیکٹ خریدی ہے پہن کر دکھائیں کیسی لگتی ہے آپ پے ؟؟حور اس کے سامنے آتی ہوئی بولی۔۔
آزہاد نے بے حد خوشی سے حور کہ ہاتھ میں وہ جیکٹ دیکھی جو وہ اس کے لئے لائی تھی۔۔
حور تم نے یہ میرے لئے۔۔۔ آزہاد اتنا بولتا اسے محبت سے دیکھنے لگا۔۔
جی یہ میں نے آپ کے لئے لی ہے اور بھی بہت کچھ خریدا ہے آپ اسے پہلے پہن کر دکھائیں نا۔۔۔وہ ازہاد سے لاڈ سے کہتی جیکٹ اس کے ہاتھ میں دیتی ہوئی بولی۔۔۔
اذہار نے گھما کے کاندھوں سے وہ جیکٹ پہن لی جو اس کی حور اسکے لئے لائی تھی۔۔ماں باپ کے گزرنے کے کئی سالوں بعد حور کی بدولت اس کی زندگی میں خوشیاں واپس لوٹ آئی تھی وہ جینے لگا تھا ہنسنے لگا تھا۔۔وہ جیکٹ پر ہاتھ پھیرتا اس محبت کو محسوس کر رہا تھا جو حور نے اس جیکٹ کو لیتے ہوئے آزہاد کے لئے محسوس کیا تھا۔۔یہ بہت اچھی ہے حور۔۔آنکھیں حور کو دیکھتے محبت لٹا رہی تھی۔۔
اذہار نے وہ جیکٹ پھر اتاری نہیں۔۔۔
ہادی چلو اب بہت دیر ہوگئی ہے مجھے گھر ڈراپ کر دو۔۔حور نے رات کی سیاہی بڑھتے دیکھ کر آزہاد سے کہا۔۔
حور کے ساتھ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا آزہاد کو ایسا لگا کہ وہ ابھی آئی ہے اور ابھی جانے کا کہہ رہی ہے۔۔حور تھوڑی دیر۔۔آزہاد نے بچوں سی ضد کی۔۔
نہیں ہادی بہت لیٹ ہوگئی ہوں پلیز۔۔ حور نے کچھ ایسے انداز سے کہا کہ اذہاد نے پھر ضد نہیں کی اور اس کے دروازے کی طرف قدم بڑھا کر اس کے لیے دروازہ کھول دیا۔۔حورنے اس کے جلد ماننے پر اسے مسکرا کے دیکھا اور اپنی سیٹ کی طرف آ کر بیٹھ گئی۔آزہاد اسی طرف کا دروازہ بند کر کے اپنی سیٹ کی طرف آ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آزہاد حور کے گھر کے سامنے گاڑی روکتا باہر آیا اور حور کی طرف کا دروازہ کھولا حور باہر آئی۔۔
حور نے آزہاد کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ اپنا خیال رکھیے گا بہت سارا وہ مسکراتی ہوئی اس کے آگے سے جیکٹ سہی کرتی ہوئی بولی۔۔
آزہاد اس کے اس انداز پر دل و جان سے فدا ہوگیا۔۔
حور کے آنے سے اس کی زندگی میں جیسے ہر طرف پھول ہی پھول رنگ ہی رنگ کھل گئے تھے۔۔
تم ہونا میرا خیال رکھنے کے لیے میری فکر کرنے کے لئے۔۔۔اب میرا سب کچھ تم سے ہے۔۔وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کے بولا۔۔
حور تمہیں یہ لاکٹ کس نے دیا؟؟حور جو جانےکےلیے پلٹ رہی تھی آزہاد کی بات سن کر پلٹی۔۔
آزہاد نے اس کے گلے میں چمکتے حورین نام کے اس لاکٹ کو آج پھر غور سے دیکھا تھا جو اس کے خوبصورت گردن میں چمکتا وہ ہمیشہ سے ہی دیکھتا آ رہا تھا۔۔حور نے اپنے گلے میں چمکتے اس لاکٹ پر آہستہ سے ہاتھ پھیرا۔۔۔ ہادی یہ مجھے میرے بابا نے دیا تھا میری سالگرہ پر اس لیے میں اسے ہمیشہ پہنے رکھتی ہوں۔۔وہ اپنے بابا کی تصویر تصور کرتی مسکراتی ہوئی اذہار سے بولی۔۔
یہ تمہیں بہت پسند ہے حور؟؟ آزہاد کی نظریں ابھی اس لاکٹ پر تھیں۔۔
ہاں بہت۔۔وہ لاکٹ کو چھوتی محبت سے بولی۔۔
اب آزہاد کی نظریں لاکٹ سے ہٹ کر حور کے چمکتے چہرے پر گئی۔۔
حور کیا تم مجھے یہ دو دن کے لئے دے سکتی ہو؟ ؟
آزہاد کی اچانک سے کی گئی عجیب وغریب فرمائش پر حور نے حیران ہوتے اذہاد کو دیکھا۔تم کیا کرو گے اس کا؟؟ وہ مسکراتی ہوئی اسے دیکھ کے بولی۔۔
حور کیا مجھے یہ دو دن کے لئے دے سکتی ہو؟؟ آزہاد نے اس کی بات کو اگنور کرکے اپنی ضدی اسٹائل میں سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے وہ لاکٹ دوبارہ اسسے مانگا۔۔
اب حور نے بنا کچھ کہے اپنے دونوں ہاتھوں کو گردن کے پیچھے لے جاکر اس لاکٹ کا لاک کھولتے ہوئے وہ لاکٹ اتار کے اذہار کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔۔ یہ لیجئے مسٹر ہادی۔۔ وہ اب مسکراتی ہوئی اس کی چمکتی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔
آزہاد نے اپنی ہتھیلی پر چمکتے اس خوبصورت لا کٹ کو دیکھ کر ہتھیلی مضبوط بن کر لی اور مسکراتا حور کو دیکھا۔۔۔
حور نے گھر کی طرف قدم بڑھائے اور گھر کے دروازے پر پہنچ کر آخری بار پلٹ کر اندر جانے سے پہلے اذہاد کو دیکھا اور ہاتھ ہلا کے اسے الوداع کیا اور آزہاد نے بھی اسی وقت اسے ہاتھ ہلا کر جانے کی اجازت دی اور اس طرح دونوں کے خوبصورت گزارے گئے وقت کا اختتام یہی ہوا۔۔۔
_________
جنت نے آہستہ سے سوئے ہوئے اذہاد کے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔اذہاد ماں کے لمس کو اپنے سر پر سرائیت کرتا محسوس کرکے آنکھیں کھولتا اٹھا۔۔۔جنت نے آزہاد کے سر کو چوما باپ کے مرنے کے بعد آج اس کی ماں نے اسے پیار کیا تھا اس کے پاس آئی تھی ورنہ تو اسے ایسا لگتا تھا جیسے باپ کی طرح ماں کو بھی وہ کھو چکا ہے۔۔مگر مرنے والوں پر صبر آجاتا ہے زندہ رہ کر زندگی سے دو جانے والوں پر کیسے صبر کریں؟؟وہ ایکدم ماں کے سینے سے لگا اور جنت نے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔۔۔
خدیجہ کے سمجھانے کے بعد جنت کو احساس ہوا تھا وہ زیاد کی موت کے دکھ میں اپنی اور زیاد کی محبت کی نشانی اس پھول کو مرجھا آرہی ہے۔کل کے دن وہ زیاد کو کیا جواب دے گی جب وہ اس سے اس پھول کے بارے میں سوال کرے گا۔وہ بہت روئی تھی اسے سینے سے لگا کے۔۔۔
مجھے معاف کردو زیاد۔۔۔ مجھے معاف کردو۔۔۔۔مجھے معاف کردو اذہاد۔۔ وہ روتے ہوئے بس یہی جملے بار بار دہرائے جارہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہاد اٹھ جاؤ بیٹا دیکھو کتنی حسین صبح ہے سورج کی کرنیں تمہیں صبح بخیر کہہ رہی ہیں۔۔جنت نے اس کے سر پر پیار کرتے ہوئے اسے جگایا جیسے وہ ہمیشہ آزہاد کو جگایا کرتی تھی۔۔رات کا نہ جانے وہ کونسا پہر تھا جب دونوں ماں بیٹے ایک دوسرے کے سینے لگ کر رو دھو کے اپنے آپ کو غموں کے بوجھ سے آزاد کر کے ایک دوسرے کو تسلی امیدیں تھیں۔۔
جنت نے آزہاد کو اپنی آغوش میں چھپا لیا تھا اور آزہاد بھی ماں کی آغوش میں آکر جیسے سارے غم بھول گیا تھا۔۔
آزہاد میری بات غور سے سنو میرے بچے آج سے تمہاری اور میری زندگی کی نئی شروعات ہے۔ اب اس دنیا میں میرا تمہارے اور تمہارا میرے اور ہم دونوں کا اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔۔وہ چلا گیا ہے جو ہمیں اس زمانے کی گرم اور تپتی دھوپ سے بچا کے اپنے وجود کی ٹھنڈی چھاؤں دیتا تھا۔۔اب ہم اکیلے ہیں اللہ کے سوا ہمارا کوئی نہیں ہے۔۔یہ کہتے آنکھوں سے موتی ٹوٹ کر گر رہے تھے۔۔اب ہمیں خود کی حفاظت اپنے بل پر کرنی ہے اس زمانے کی گرم دھوپ
بھی سہنی ہے اور ہمیں اس دنیا کو کمزور بن کر نہیں بہادر بن کر دکھانا ہے۔۔ اب ہمیں لوگوں کے بدلتے رویے سے لڑنا ہے ہمیں اس زمانے کو خود سے منوانا ہے۔۔
ضیاد بہت بہادر تھے جو حق کے لیے لڑے جنہوں نے مرتے دم تک بہادری سے سچ کا ساتھ دیا تم بھی انہی کی اولاد ہو اذہاد آج سے تمہیں بھی اپنے بابا کی طرح بہادر بے خوف اور فائٹر بننا ہے۔۔
پتا ہے اذہاد ایک وہ پتھر ہوتے ہیں جو عام سڑکوں پر پڑے نظر آتے ہیں جو لوگوں کی ٹھوکروں میں آکر یہاں سے وہاں اچھالے جاتے ہیں ان کی کوئی اہمیت کوئی قدر نہیں ہوتی جنہیں ایک دن یوں ہی یہاں وہاں روندتے لوگ توڑ دیتے ہیں۔۔اور ایک وہ پتھر ہوتے ہیں جو پہاڑوں میں چھپے ہوتے ہیں جنہیں جان پر کھیل کر حاصل کیا جاتا ہے اور پھر دن رات کی محنت سے تراش خراش کرنے کے بعد اس کے اندر کی وہ چمک حاصل ہوتی ہیں جس کے لوگ دیوانے ہیں جن کی قیمت لاکھوں کی ہوتی ہے جنہیں لوگ اپنے تاج میں لگانا پسند کرتے ہیں۔۔۔تمہیں بھی ایسا ہی بننا ہے آزہاد قیمتی ہیرے کی طرح سمجھ رہے ہو نا اذہاد۔۔۔
اور آٹھ سال کے ننھے دماغ نے کچھ سمجھا ہو یا نہ سمجھا ہو ایک بات اسنے دماغ میں اچھے سے بٹھا لی تھی اسے اپنے بابا کی طرح بہادر اور بے خوف بننا ہے ورنہ یہ دنیا اسے عام پتھروں کی طرح روند ڈالے گی
اسے ہیرے کی طرح قیمتی خاص اور منفرد بننا ہے۔
وہ کمزور ہرگز نہیں بنے گا۔۔۔۔
اٹھو اذہاد آج سے تمہیں اکیلے دنیا کو فیس کرنا ہے جنت کے آنسو اب اسے سمجھاتے سمجھاتے خشک ہو چکے تھے۔۔ اذہار اٹھا اور تیارہونے چلا گیا اسے ہیرا بننے کے لیے اب محنت کرنی تھی وہ اسکول جا رہا تھا اکیلا اپنے باپ بینا۔۔
باپ کے مرنے کے بعد آج اس نے گھر سے اکیلے قدم باہر نکالا تھا۔۔
مرنے والوں کے جسم اس حالت میں نہیں ملے تھے کہ انہیں ان کے ورثہ کو دیا جاتا ہاں ان کی موت کی شناخت ان کی ملنے والی چیزوں سے لگایا گیا تھا۔۔زیاد کی گھڑی اس کے باپ کو ملی تھی بیٹے کی آخری نشانی جسے دیکھ کر باپ کم سے کم بیٹے کی موت کی تصدیق کرنے کے بعد صبر تو کر سکتا تھا۔۔جنت کے پاس تو صبر کر نے کی نشانی بھی نہیں تھی ۔۔صرف ایک یہی خبر اس کو ملی تھی کہ زیاد مر چکا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارتضیٰ مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔۔۔؟؟ عظمیٰ ایک عجیب بے چینی کو محسوس کرتی بیڈ پر بیٹھی۔۔
ہاں بولیں بیگم۔۔۔ارتضیٰ خوشگوار موڈ میں انہیں دیکھتے ہوئے بولے۔۔
ارتضیٰ میں کہہ رہی تھی کے ایک بار آپ حور سے بھی اسکی مرضی پوچھ لیتے؟؟؟ عظمیٰ نے ڈرتے ہوئے ایک کمزور سی کوشش کی اپنی بیٹی کے حق میں بولنے کی۔۔۔
ارتضیٰ جو بیڈ پر بیٹھے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے عظمیٰ کی بات پر فورا گردن اٹھا کر انہیں دیکھنے لگے۔۔عظمیٰ آپ کہنا کیا چاہتی ہیں ؟؟اب انہوں نے کتاب ایک سائیڈ پر رکھ کر پوری توجہ سے انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
عظمیٰ نے گردن جھکالی شوہر کے فیصلوں میں کب انہوں نے کوئی سوال کیا تھا مگر آج بیٹی کی زندگی کا سوال تھا صبح جب انہوں نے عظمیٰ سے کہا کہ حور کی شادیوں کی تیاریاں مکمل رکھیں اس کے آتے ہی وہ بالکل دیر نہیں کریں گے شادی میں تو عظمیٰ کا دل حور کی خوشیوں کے لیے دھڑکا تھا وہ ماں تھیں نہ آخر کیوں نہ فکر کرتی اس کی خوشیوں کی۔۔۔ارتضیٰ آپ حور کے بہترین مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں مگر آپ ایک بار اس کی بھی مرضی پوچھ لیتے۔۔۔
دیکھیں عظمیٰ مجھے اپنی بیٹی پر پورا یقین ہے وہ اپنے باپ اور دادا کے فیصلے کو کبھی انکار نہیں کرے گی۔مجھے مان ہے اپنی حور پر وہ آنکھیں بند کرکے اس رشتے پر ہاں کردے گی جب اسے پتہ چلے گا کہ یہ فیصلہ میں نے اور اس کے دادا جان نے مل کر کیا ہے۔۔میں نے اس کی بچپن کی ہر بات ہر ضد کو اہمیت دی۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اپنی زندگی کے اتنے بڑے فیصلے کا حق وہ اپنے باپ کو نہ دے۔۔۔آپ بالکل فکر نہیں کریں اور شادی کی جو تیاریاں ہے وہ آہستہ آہستہ کر کے ابھی سے شروع کریں۔۔۔ ارتضیٰ نے سارے حقوق اپنے ہاتھ میں محفوظ کرکے انہیں آخری فیصلہ سنایا تھا۔۔۔
ارتضیٰ مجھے یقین ہے وہ اس رشتے سے کبھی انکار نہیں کرے گی وہ راضی ہو جائے گی مجھے بھی یقین ہے اپنی حور پر مگر اسے اس رشتے کے لئے سوچنے کا کچھ وقت تو دیں۔آپ لوگ تو آتے ہی اسے ذمہ داریوں میں باندھ رہے ہیں۔۔اسے اس رشتے کو لے کر سوچنے کا وقت تو دیں ۔۔۔ عظمیٰ نے آخری بار بھی بیٹی کے لیے کمزور سی کوشش کی۔۔
عظمیٰ ارے وہ کوئی غیروں میں تھوڑی جارہی ہے ایک گھر سے رخصت ہوکر دوسرے گھر جارہی ہے۔اس میں اتنا سوچنے والی کیا بات ہے۔اور وہاں اس کے ساتھ سب سے بڑی سپورٹر اس کے دادا جان ہوں گے اس کے ساتھ۔۔اسے تو خوش ہونا چاہیے کہ وہ ایسے اچھے گھر جائے گی جہاں اس کی ہر ضد ہر خواہش پوری کرنے والے اس کے دادا جان اس کے ساتھ ہوں گے۔۔ اور شاہ زیب بہترین لڑکا ہے۔۔مجھے اس پر فخر ہے وہ حود کو بہت خوش رکھے گا ہر قدم پر اس کا ساتھ دے گا۔چلیں اب آپ سو جائیں پریشان مت ہوں میں اس کا باپ ہوں اور اپنی بیٹی سے اتنی محبت کرتا ہوں جتنی آپ کرتی ہیں۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے انہیں تسلی دیتے بولے اور لیٹ کر اپنی طرف کی لائٹ بند کردی۔۔۔
جاری ہے
