Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا حور کے کوئی میرے بارے میں کیا سوچتا ہے میں نے نہیں کہا تھا اسے کہ وہ مجھ سے بات کرنے آئے یا میں نے تم سے کہا تھا حور کے مجھے بیلا سے بات کرنی ہے ؟؟اذہاد نے بھی ٹھیک جواب دیا تھا۔۔
ہادی میں چاہتی تھی کہ آپ دونوں کے بیچ جو مس انڈراسٹینڈنگ ہے وہ دور ہو جائے۔۔۔حور نے اپنی طرف سے ایک کمزور سی دلیل دی۔۔۔۔
کیوں حور تم کیوں چاہتی تھیں کہ اس کے اور میرے بیچ جو غلط فہمی ہے وہ دور ہو؟؟ غلط فہمی وہاں دور کی جاتی ہے جہاں آپ کو اس رشتے کو قائم رکھنا ہو وہ انسان آپ کے لئے اہمیت رکھتا ہو مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتاحور وہ میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی جب کہ میرے لیے اس دنیا میں تمہارے علاوہ اور کوئی انسان اہمیت نہیں رکھتا وہ ہے کون ؟؟مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لڑکی سے میں آزہاد عریض ہوں۔۔۔۔وہ تھوڑا ٹھہرا۔۔۔
میری زندگی میں تم کب آئیں کیسے تم سے محبت ہوئی میں کچھ نہیں جانتا میں صرف اتنا جانتا ہوں حور کے تم صرف تم ہر جگہ بس تم صرف تم ہو اور بس تم ہو ۔۔ آزہاد کی اب آہستہ آہستہ برداشت سے باہر ہوتا جا رہا تھا اس کی سانس تیز تیز پھول رہی تھی۔۔۔ وہ کیوں بن کہے اسے سمجھ نہیں پا رہی تھی۔۔ میں بدلا ہوں تو صرف تمہارے لیے دنیا کے لئے میں اب بھی وہی آزہاد ہوں لاپرواہ خودغرض بے حس بے رحم ظالم اس دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑتا حور۔۔۔۔آزہاد اب چیخا تھا اور حور سہم کر دروازے سے لگی تھی وہ آنکھیں پھاڑے اسے بس دیکھ رہی تھی آزہاد کو کیا ہوا تھا ایک دم بات اتنی سیریس تو نہیں تھی۔۔۔
وہ اس کی طرف سے آنکھیں بند کرتا دروازے سے باہر آیا اور زور سے دروازہ پیچھے بند کیا حور کا دل اس کے ایسے جاہرانہ رویے کو دیکھ کر ڈر گیا تھا آخر کیا بات تھی اس کے اس طرح سے بگڑ جانے کی ورنہ اذہار بلا وجہ اتنا سخت رویہ نہیں اپناتا تھا ایسی بہت ساری سوچیں تھی جو حور کو پریشان کر رہی تھیں۔۔۔۔ وہ سامنے شیشے سے آزہاد کے تھکے وجود کو دیکھ رہی تھی۔۔وہ آہستہ سے گاڑی سے باہر آئی۔۔
ہادی اس طرح تو میرے لئے مشکل ہو جائے گی میں اپنی فیملی کو کیسے ہینڈل کرونگی اکیلی اگر تم اس طرح اپنے آپ کو بدلو گے نہیں تمہارا رویہ تمہارا غصہ تمہاری بے گانگی ان سب کو لے کر میری فیملی کے لیے تمہیں قبول کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔۔ وہ اس سے دور کھڑی بے حد پریشانی سے ہاتھوں کو مسلتی آہستہ آواز میں اس سے بولی تھی۔۔۔
آزہاد مسکرایا اور سامنے دیکھتے بولا۔۔۔حور میں تمہارے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں تمہاری فیملی میری بھی فیملی ہے۔۔ مما بابا دادو دادی یہ سب مجھ سے بہت دور ہیں میں نے انہیں کبھی دیکھا بھی نہیں مگر وہ سب تم سے جڑے ہیں میرے لئے وہ سب اہم ہیں۔۔مگر اس کے علاوہ میں کسی کو نہیں جانتا حور یہ دنیا سب دکھاوا ہے اپنی فیملی سے بڑھ کر اس دنیا میں اور کوئی نہیں ہے جو برے وقت میں آپ کا ساتھ دے یہ دنیا تو موقع ڈھونڈتی ہے حور آپ کو توڑنے کا آپ کو گرانے کا تم یہ نہیں سمجھو گی کیونکہ تم ان حالات سے گزری نہیں ہو حور اور اللہ نہ کرے کبھی تم گزرو بھی۔۔۔ایک پل لگتا ہے اپنوں کے بچھڑنے کا اور یہ دنیا جو آپ کے ساتھ بہت مخلص بنی پھرتی ہے یہی دنیا آپ کے اوپر کیچڑ اچھالنے میں آپ کو تکلیف دینے میں اپنی آنکھیں ایک دم سے پھیر لینے میں ایک وقت نہیں لگاتی۔۔۔۔ وہ اب اس کی طرف دیکھتا بول رہا تھا۔۔۔ دکھ تکلیف درد کیا کچھ نہیں تھا اس کی آنکھوں میں اس وقت وہ کتنا ٹوٹا ہوا نظر آ رہا تھا حور نے تو کبھی جانا ہی نہیں تھا وہ کتنی انجان تھی اس کے اندر کی چھپی ساری تکلیفوں سے۔۔۔۔۔وہ ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اپنی سکی کو باہر آنے سے روکتی آزہاد کی طرف سے پلٹی۔۔۔
اس دنیا نے تو ایک کم سن بچے کے منہ پر اس کے مرے ہوئے باپ تک کا لحاظ نہ کرتے ہوئے اسے ہر بار ذلیل کیا۔۔۔ کیا قصور تھا بس یہی کہ اس کی ماں پہلے غیر مسلم تھی پھر اللہ نے اسے سیدھی راہ دکھائی اور وہ سب برے راستوں کو چھوڑ کر سچائی کے راستے پر چلنے لگی۔۔ یہی آگ لگی تھی سب دنیا والوں کو اور وہ آگ کھا گئی حور میرے ماں باپ کو میری خوبصورت حسن کھیلتے بچپن کو میرے سارے احساسات کو جذبات کو اس دنیا کی نفرت نے مجھے ایسا بنا دیا حور جو میں آج تمہارے سامنے ہوں میں ایسا سخت دل اتنا پتھر بے حس نہیں تھا پہلے یہ اس دنیا کی بدولت ہے جو آج میں ہوں جو تم مجھے دیکھ رہی ہوں یہ دنیا مجھ جیسے پتھر دل لوگوں کے ہی قابل ہے جو انہیں ٹھوکروں میں رکھتی ہے
انسان سخت مزاج تب بنتا ہے جب بہت سارے لوگ اس کی نرمی کا فائدہ اٹھا چکے ہوتے ہیں ۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو سختی سے بند کیے دانتوں کو پیس پیس کر اپنے دل کی ساری کڑواھٹ آج لفظوں کے ذریعے ہونٹوں سے ادا کرتا ہوا حور تک پہنچا رہا تھا کتنا زہر تھا اس کے دل میں جو کئی سالوں سے اس کے دل میں پل رہا تھا کوئی ایسا تھا نہیں جسے وہ اپنے دل کی ساری باتیں بتاتا جو اسے سمجھ سکتا یہ تو اللہ کی طرف سے حور اسے تحفے میں ملی تھی جسے آزہاد نے سچے دل سے چاہا تھا جسے آج وہ اپنی ساری دل کی باتیں شیر کر رہا تھا وہی تو ایک پوری دنیا میں اس کی اپنی تھی نہ اس سے پہلے کوئی تھا نہ اس کے بعد کوئی اور ہوگا۔۔۔ حور پے ہی اذہاد کی دنیا اس کی سانسیں شروع ہوئی تھیں اور اس کے ساتھ ہی ختم ہو جانی تھیں۔۔
کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ سارے زخم بھر جاتے ہیں مگر سچ تو یہ ہے حور ہم درد کے ساتھ جینا سیکھ جاتے ہیں۔۔اذہاد اپنے سامنے ڈوبتے سورج کو دیکھ کر بول رہا تھا اور حور اس کی طرف سے رخ موڑے آنکھیں بند کئے خاموش آنسو بہا رہی تھی اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آزہاد کا ٹوٹا بکھرا روپ دیکھ پاتی اس کے الفاظ کافی تھے جو اس کا دل چیر رہے تھے جنہیں وہ بڑے کمال ضبط سے برداشت کر رہی تھی وہ اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتی تھی وہ تو اس کا مضبوط شیردل بے نیاز لاپروا مغرور شہزادہ تھا جو اسے اسی روپ میں اچھا لگتا تھا وہ کہاں اسے ٹوٹا بکھرا مجبور اداس اور بےبس دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔
اور آزہاد اسے تو آج برسوں بعد موقع ملا تھا اس زہر کو باہر نکالنے کا جو برسوں سے اس کے دل میں پل رہا تھا وہ ایسے ہی کسی خاص اپنے کو برسوں سے ڈھونڈ رہا تھا جس کے کاندھے پر سر رکھ کر وہ یہ سارا زہر اگل سکے جس کے ساتھ اپنا دکھ درد شئیر کرے۔باتیں کرے۔دکھ باٹنے سے کم نہیں ہوتے۔۔مگر بڑھتے بھی نہیں۔۔دل کو ایک تسلی سی ہوتی ہے کے کوئی ہے جو اسے سن رہا ہے سمجھ رہا ہے وہ پھر کیوں خاموش رہتا؟؟وہ تو اسی انتظار میں تھا کئی سالوں سے کہ اپنے اندر کی اس نفرت کو کب باہر نکالے اور آج اسے اللہ نے موقع دے دیا تھا وہ کیوں خاموش رہتا؟؟جب زندگی بہت تنگ ہوجاتی ہے دل کا جو درد ہوتا ہے بعض دفع بیان سے باہر ہوجاتا ہے۔۔تب انسان کسی ایسے کو شدت سے یاد کرتا ہے کے کوئی اپنا ہو جس کے سامنے وہ پھٹ پڑےاپنے دل کا سارا گبار نکال سکے ۔۔۔اللہ جانے دل یہ کیوں چاہتا ہے کہ کوئی سامع ہو۔۔کوئی احساس کرنے والا ہو۔۔کوئی سمجھنے والا ہو؟؟دل خود سے سمبھلتا کیوں نہیں؟؟اسے ہر لمحہ کسی سہارے کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟؟
حور جو آزہاد کی طرف سے منہ پھیر ے کھڑی تھی اس کے وجود کا ایک ایک حصہ آزہاد کی ساری تکلیفیں دکھ درد ہر ستم سننے کے لیے کان بن چکا تھا وہ اسے دیکھ نہیں رہی تھی مگر اس کے ہر ایک لفظ کی تکلیف وہ دل کی گہرائیوں سے صاف محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دن وہ شام وہ رات بہت بھیانک تھی آزہاد اور جنت کے لئے جو قیامت بن کر ان کی زندگی میں آنے والی تھی جنت کا صبح سے سر کا درد خطرناک حد تک درد میں مبتلا تھا وہ اس کی شدت کسی سے لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی تھی ایسا لگتا تھا جیسے ابھی اس کا دماغ بم کی طرح پھٹے گا اور ہر طرف اس کے زرے چھیتڑوں کی صورت میں ہر طرف بکھر جائیں گے اور اسے اس در سے ہمیشہ کیلئے نجات مل جائے گی۔۔۔۔
آزہاد۔۔۔۔۔ اس نے آہستہ آواز میں آزہاد کو پکارا۔۔۔
اذہار جو ماں کے پاس ہی سررکھے خاموش لیٹا تھا پکارے جانے پر اٹھ کر ماں کو دیکھا جو کبھی ایڑیاں رگڑتی تو کبھی سر کو یہاں وہاں پٹکتی۔۔۔
آزہاد اس نمبر پر کال کرو اور انہیں یہاں آنے کا کہو۔۔
ماں کے حکم پر آزہاد فورن اٹھا اور کال ملائی۔۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ یتیم خانے کی اونر جنت کے پاس موجود تھی۔۔۔
چلو جنت میں تمہیں ہاسپیٹل لے چلوں ۔۔ وہ اس ایسی تکلیف سے تڑپتی حالت کو دیکھ کر دکھ سے بولی۔۔۔۔
نہیں اسٹیلا اب میرا یہ علاج کسی کے پاس نہیں یہ میرا آخری وقت ہے مجھ سے وعدہ کرو جو میں نے آزہاد کے لیے تم سے کہا ہے وہ پورا کروں گی۔۔ جنت کو صرف آزہاد کی فکر تھی۔۔۔
ہاں میں وعدہ کرتی ہوں جنت تم اس کی بالکل فکر نہیں کرو۔۔۔ اسٹیلا نے اسے آزہاد کی فکر سے آزاد کیا۔۔ وہ کچھ دیر بیٹھی جنت کے پاس اس کی تڑپتی حالت کو دیکھ کر دکھ ہی کرسکتی تھی اور اس کے علاوہ وہ اس کے لئے کچھ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
آخرکار جنت نے ہی اسے جانے کی اجازت دی اور وہ خاموشی سے اٹھتی کل صبح آنے کا وعدہ کرتی لوٹ گئی۔۔۔
آزہاد۔۔۔جنت نے خاموش کونے میں بیٹھے اپنے معصوم سے بیٹے کو اپنے پاس بلایا وہ اٹھ کر اس کے قریب آیا جنت نے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا۔۔
آزہاد رونا نہیں میرے بچے بالکل نہیں رونا تم تو بہت بہادر ہونا میرا بہادر بیٹا آزہاد کبھی نہیں روتا۔۔۔
آزہاد نے اپنے خاموش آنسو جو آنکھوں سے بہہ رہے تھے انہیں بے دردی سے رگڑا اسے احساس تھا کہ اس کی ماں اس وقت بے حد تکلیف میں ہے مگر وہ اپنی ماں کے لئے مجبور تھا وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتا تھا جس سے اس کی ماں کی تکلیف کم ہو۔۔۔۔
وہ اسے چوم رہی تھی اسے پیار کر رہی تھی اپنی تکلیف کی پرواہ کیے بنا۔۔۔
رات کے بیج کے پہر جنت کا تڑپتا مچلتا وجود ایک دم ٹھنڈا ہوگیا تھا جیسے اسے ساری تکلیفوں سے نجات مل گئی ہو وہ ایکدم پرسکون ہو گئی تھی۔۔ آزہاد نے سر اٹھا کر ماں کے پرسکون چہرے کو دیکھا اور آہستہ آواز میں پکارا۔۔۔مما۔۔ مما۔۔ مما۔۔۔ اس نے تین بار بےحد آہستہ آہستہ آواز میں اسے آواز دی۔۔ شاید مما کے سر کا درد ٹھیک ہو گیا ہے اس لئے وہ سو گئی ہیں سکون سے۔۔۔وہ اپنی معصوم سی سوچ سے اندازہ لگاتا دوبارہ اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گیا۔۔۔۔
سورج کی نکلتی کرنیں آزہاد کے لیے زندگی کی سب بھیانک نوید لے کر ابھری تھی اس سے اس کا سب کچھ چھن جانے والا تھا۔۔۔
وہ ماں کے سینے سے سر اٹھا کر ماں کے پرسکون چھرے کو دیکھتے ماں کو پکارا۔۔۔۔
مما۔۔ مما۔۔
ماں کیسے اٹھتی وہ تو ابدی نیند سو چکی تھی اذہار کے سر سے آسمان چھن چکا تھا آزہاد نے ایک بار نہیں دس بار جنت کو آواز دی مگر وہ زندہ ہوتی تو اٹھتی اب آزہاد کی زمین آہستہ آہستہ سے اس کے پیروں سے کھینچنے لگی تھی وہ آہستہ آہستہ روتے ہوئے اب چیخنے لگا تھا ماں کو پکارنے لگا تھا۔۔
مما اٹھیں۔۔۔ پلیز ایسا مت کریں۔۔ وہ بے تحاشا روتے ہوئے اس کے سینے سے لگے اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔اس خالی گھر میں روتے اس معصوم سے بچے کی آھیں گونج رہی تھی اب جیسے یہ یقین ہو چلا تھا کہ ماں ہمیشہ کے لئے سو گئی ہے کبھی نہ اٹھنے کے لیے رو رو کے اس کی آنکھیں سوجھ کے لال ہو گئی تھی گلا خشک ہو چکا تھا۔۔۔وہ غم سے نڈھال اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا تھا۔۔۔
اسٹیلا نے دروازے کے قریب پہنچ کا دروازہ بجایا ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ گھر بین کر رہا ہو جہاں سے ایک ہنستا مسکراتا وجود بھی رخصت ہوا۔۔
ازہاد آہستہ سے اٹھا اور دروازہ کھولا اسٹیلا کی دروازہ کھولنے پر جب آزہاد پر نظر پڑی تو سمجھ گئی اس کا دل جو گواہی دے رہا تھا وہ جھوٹ نہیں تھا وہ بے اختیار آگے بڑھ کر آزہاد کو سینے سے لگا گئی۔۔۔
اسٹیلا اللہ کی طرف سے آخری وسیلہ تھی جو ان کی مدد کے لئے بھیجی گئی تھی۔۔
اسٹیلا نے جنت کی ساری آخری رسومات اسلامی طریقے سے ادا کی ورنہ اس بے رحم دنیا سے یہ امید کرنا ایک مذاق ہی تھا۔۔۔
اسٹیلا نے اسلامی طریقے سے اسے غسل دلوایا اور مسلمانوں کے ہی قبرستان اس کی آخری آرام گاہ کا بندوبست بھی کیا اس دوران ازہاد کا ایک آنسو بھی نا ٹپکا وہ بس پتھر کی مورت بنا کھڑا سب دیکھتا رہا۔۔اس کی ماں کو جب اس کی نظروں کے سامنے منوں مٹی تلے دفنایا جا رہا تھا وہ تب بھی نہیں ہلا وہ بس خاموش نظروں سے بنا پلکوں کو جھپکائے اپنی ماں کو آخری بار دیکھ رہا تھا کہ نہ جانے اب کب ملاقات نصیب میں ہو کب اس کا سوہنا چہرہ دیکھنا دوبارہ نصیب ہو باپ کو تو وہ آخری بار بھی دیکھ نا سکا ماں کو تو کم سے کم آخری بار وہ آنکھوں میں ہمیشہ کے لئے بسائے لے۔ ۔۔۔اگر کوئی اپنا بہت خاص اس کے قریب ہوتا تو جان لیتا کے اس قبر میں ایک انسان کے جسم کو نہیں دفنایا جا رہا بلکہ اس کے جسم کے ساتھ ایک زندہ انسان کے تمام احساسات جذبات ہنسی خوشی آنسو وہ تمام چیزیں بھی منوں مٹی تلے دفن ہو رہی ہیں جو ایک انسان کے جینے کے لیے اس کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں وہ اب ایک زندہ لاش ہی تو تھا کسے فرق پڑنا تھا اب اس کے زندہ رہنے سے اس کے اپنے تو اسے چھوڑ کر جا چکے تھے وہ بس ایک خالی خولی جسم ہی تھا جس کے تمام احساسات جذبات اس کے ماں باپ کے ساتھ ہی مر چکے تھے۔۔بس سینے میں ایک دل دھڑک رہا تھا جو اللہ کے حکم کی تکمیل کر رہا تھا جس دن اس رب نے کہا کہ رک جا ؤہ رک جائے گا یہ کہانی بھی ختم ہو جائے گی اور جسم بھی مٹی میں مل جائے گا۔۔اب یہ اوپر والے کے ہاتھ میں ہے کہ اس کا حکم کب تک رہتا ہے اس دل کے دھڑکنے میں۔۔۔
اب وہ ایک عام انسان کی طرح زندہ تو نظر آتا تھامگر اندر سے مر چکا تھا ۔۔
اسٹیلا اسے اپنے ساتھ یتیم خانے لے آئی تھی جہاں اس کے جیسے ہزاروں بچے بن ماں باپ کے پل رہے تھے۔کسی کو آزہاد کے آنے سے فرق نہیں پڑا تھا ہاں مگر ایک وجود ایسا تھا وہاں جس کا چہرہ ازہاد کو دیکھ کر کھل گیا تھا۔۔۔
وہ اسے دروازے سے اسٹیلا کے ساتھ اندر آتا دیکھ کر دوڑتا ہوا اس کے قریب آیا۔۔۔
کیسے ہو اظہاد؟؟ وہ خوشی چہرے پہ لئے اس سے مخاطب تھا۔۔
مگر آزہاد تو جیسے پھتر بنا ہوا تھا۔۔
اسٹیلا نے آزہاد کو دیکھا اور پھر اس کے سامنے جھکی۔۔ ڈیلن کیا تم آزہاد کو جانتے ہو ؟؟اسٹیلا نے سوال کیا۔۔
ہاں میں آزہاد کو جانتا ہوں یہ پہلی بار اپنی مما کے ساتھ یہاں آیا تھا تب ہی ہم دونوں کی دوستی ہوئی تھی مگر یہ بول کیوں نہیں رہا؟؟ اس نے آزہاد کو دیکھ کر پریشان نظروں سے اسٹیلا سے پوچھا۔۔
اسٹیلا نے دونوں کو ایک ساتھ اپنے سینے سے لگایا وہ اب کیا بولتی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہاد جنت کے مرنے کے بعد جب سے یتیم خانے آیا تھا وہ ایسے ہی بیٹھا رہتا تھا نہ بولتا تھا نہ کھانا کھاتا تھا نہ سوتا تھا بس ایک جگہ بیٹھا دن اور رات ایسے ہی کاٹ دیتا تھا۔۔۔
اسٹیلا اور ڈیلن اس کی اس حالت سے بے حد فکر مند اور پریشان تھے۔۔
ڈیلن کو بہت دکھ ہوا تھا جب یہ معلوم ہوا کہ اذہاد کی مما بھی اسے چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔۔وہ اس کے ساتھ ہر پل رہتا تھا اس کے لئے کھانا لاتا تھا شروع شروع میں تو آزہاد نے کھانا پینا سب چھوڑ رکھا تھا۔
مگر پھر آہستہ آہستہ وہ اس کے لائے گئے کھانے سے تھوڑا بہت کھانا کھانے لگا تھا۔۔
ڈیلن ہر طرح سے اس کا پورا پورا خیال رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ اب اس میں تھوڑی بہت تبدیلی آرہی تھی وہ اب کھانا بھی کھانے لگا تھا سوتا بھی تھا مگر وہ بولتا کچھ نہیں تھا ایک جگہ بیٹھ کر اپنا پورا وقت وہی گزار دیتا تھا۔۔۔۔
اسٹیلا نے جنت کا خط اس کے بتائے گئے پتے پر بھیج دیا تھا مگر ابھی تک وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہاد نے خاموش نظروں سے سامنے بیٹھے اس انسان کو دیکھا جو خود کو اس کا گرینڈ پا بتا رہا تھا۔۔۔
اذہاد جلدی چلو تم سے کوئی ملنے آیا ہے۔۔۔اذہاد نے خاموش نظروں سے ڈیلن کو دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔
جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو اسٹیلا نے بتایا کہ وہ اس کے گرینڈ پا ہیں۔۔۔
مگر یہ کون سے گرینڈ پا آگئے اچانک اس کی مما نے تو کبھی نہیں بتایا۔۔۔وہ خاموش نظروں سے سامنے بیٹھے اس انسان کو دیکھ رہا تھا جو خوشی سے اسے دیکھتے آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کرتے اٹھے اور اسے سینے سے لگایا۔۔۔
اذہاد کو انہیں دیکھ کر کوئی خوشی نہیں ہوئی۔۔
آزہاد میں تمہارا گرینڈ پا ہوں۔۔ وہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے بولے مگر اذہار کو اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔۔ جب میری مما کو اور مجھے کسی اپنے کی ضرورت تھی تو یہ تب کہاں تھے وہ خاموش نظروں سے انہیں دیکھتا سوچ رہا تھا اب کیا فرق پڑتا تھا کہ کون آتا ہے اور کون جاتا ہے جسے جانا تھا وہ تو چلی گئی تھی اسے چھوڑ کر اکیلا کر کے۔۔۔
اسٹیلا نے سارے پیپرز تیار کرکے ایڈم کو آزہاد کی ذمہ داری دے دی تھی وہ قانونی طور پر اب ایڈم کے پاس رہنے والا تھا۔۔۔
بھلے وہ یہاں زیادہ عرصہ نہیں رہا تھا نہ کسی سے بات کی تھی نہ کوئی دلی لگاؤ تھا مگر ایک چیز تھی جو یہاں سے جانے پر اسے بار بار احساس دلارہی وہ خود بھی جان نہیں پا رہا تھا۔۔۔
ازہاد۔۔۔۔۔۔۔ اسٹیلا نے اس کے ایڈم کے ساتھ جانے سے پہلے اکیلے میں اسے اپنے روم میں بلایا تھا۔۔
وہ زمین پر اس کے سامنے بیٹھی اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگی۔۔۔
ازہاد یہ تمہارے اپارٹمنٹ کی چابیاں ہیں جو تمہاری مما نے مرنے سے پہلے تمہارے نام کر دیا تھا یہ اپارٹمنٹ اب تمہاری ملکیت ہے تمہاری ماں کو تم سے بہت امیدیں تھیں آزہاد انہیں ٹوٹنے مت دینا اور کبھی بھی تمہیں میری ضرورت پڑے تو بلاجھجک میرے پاس چلے آنا۔۔ وہ مسکراتی ہوئی اسے دیکھ کر بول رہی تھی آنکھوں میں اس کے بھی اداسی تھی ازہاد نے خاموشی سے ان چابیوں کو اپنی ہتھیلی میں قید کیا اور پلٹ کر روم سے باہر چلا گیا۔۔
اسٹیلا اس کے پتھر وجود کو بے حد دکھ سے دیکھتی رہ گئی۔۔
گرینڈ پا نے ازہاد کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور آگے بڑھنے لگے کہ جب ہی آزہاد کے روکے قدموں نے انہیں بھی آگے بڑھنے سے روک دیا آزہاد نے خاموش معصوم نظروں سے پلٹ کر پیچھے دیکھا جہاں ڈیلن چھپ کر روتے ہوئے اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا ازہاد کے لیے شاید وہ کچھ نہ ہو مگر اس کم وقت میں ڈیلن کے لئے وہ بہت کچھ ہوگیا تھا۔۔۔
ازہاد نے یوں ہی کھڑے کھڑے ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھایا اور اس کا اتنا ہی اشارہ کافی تھا جب ڈیلن دوڑ کر بھاگتا ہوا ازہاد کے پاس آیا اور بے اختیار اس کے گلے لگ گیا۔۔۔ازہاد کے پتھر وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی۔انہیں اس طرح سے دیکھ کر ایڈم ساری کہانی سمجھ گیا اسنے ڈیلن کو بھی ایڈوپ کر لیا تھا۔۔۔۔
اب ازہاد وہاں سے اکیلا نہیں جا رہا تھا اس کے ساتھ ڈیلن بھی تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرینڈ پا کو ازہار کا رویہ بے حد عجیب سا لگا نہ انہوں نے اسے کبھی بولتے ہوئے سنانا عام بچوں کی طرح بی ہیو کرتے ہوئے۔وہ اکثر اس کے پاس بیٹھ کر اس سے ادھر ادھر کی چھوٹی موٹی باتیں کرتے رہتے تھے تاکہ وہ بولے مگر وہ خاموش ہی رہتا تھا۔۔
ڈیلن کیا یہ شروع سے ہی ایسا ہے؟؟ ایک دن وہ ڈیلن سے اس کے عجیب وغریب رویے کو دیکھتے ہوئے پوچھ بیٹھے۔۔۔
نہیں گرینڈ پا سینور سے جب میری پہلی ملاقات ہوئی تو وہ بہت باتیں کر رہے تھے انہوں نے مجھے اپنی مما سے بھی ملوایا تھا وہ ایسے نہیں تھے شاید وہ اپنی موم کے گزرنے کے بعد ایسے ہو گئے ہوں؟؟؟ڈیلن نے معصوم طریقے سے ساری وہ باتیں گرینڈپا کو بتا دیں جو اس نے آزہاد کے متعلق اندازے لگائے تھے۔۔۔۔گرینڈ پا آزہاد کو دیکھ کر گہری سوچ میں ڈوب گئے۔۔۔۔
________________
آزہاد بیٹا۔۔۔۔وہ خاموش کھڑکی سے باہر نا جانے کس چیز کو اتنی غور سے دیکھنے میں مصروف تھا۔۔اپنے آس پاس کے لوگوں میں اسے کوئی دلچسپی نہیں رہی تھی جیسے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا جب ہی گرینڈ پااس کے قریب آتے بولے۔۔۔۔وہ ان کی طرف پلٹ کر دیکھا نہیں مگر اس کے کانوں تک ان کی آواز جا چکی تھی۔۔
میں چاہتا ہوں آزہاد بیٹا تم آگے پڑھ لو اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ سے جوڑو۔۔۔۔ان کی بات سن کر آزہاد نے خاموش نظروں سے پلٹ کر انہیں دیکھا۔۔اس کی مما بھی تو یہی چاہتی تھیں کہ وہ آگے پڑھ لکھ کر ایک بڑا انسان بنے۔۔۔انہیں کچھ دیر یوں ہی دیکھنے کے بعد اس نے گردن دوبارہ سامنے کی طرف موڑ لی۔۔۔
ہاں۔۔۔ وہ بس اتنا ہی بولا اور گرینڈ پا نے حیران نظروں سے اسے دیکھا۔۔ چلو شکر ہے چپ کا روزہ تو ٹوٹا۔۔۔چلو شکر ہے وہ کچھ کرنا تو چاہتا ہے آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا وہ ہلکا سا اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے چلے گئے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گرینڈ پانے آزہاد اور ڈیلن دونوں کا ایک ساتھ ایک ہی اسکول میں ایڈمیشن کروایا تھا۔۔آزہاد کی قابلیت اس کی ذہانت محنت بہت جلد سب کے سامنے آگئی تھی۔
اس کا ریکارڈ ہمیشہ کی طرح سب سے شاندار رہا تھا وہ دونوں آہستہ آہستہ بڑے ہو رہے تھے۔۔ڈیلن پڑھائی میں تھوڑا کمزور تھا وہ سنجیدہ حساس کم گوتھا وہ جیسے آزہاد کا خیال رکھنے کے لیے اسے آگے پیچھے گھومنے اس کے حکم کو ماننے کے لیے مامور کیا گیا تھا۔۔ڈیلن نے ازہاد کی ساری ذمہ داری خاموشی سے اپنے سر لے لی تھی وہ اس کا رائٹ ہینڈ بن گیا تھا۔۔
آزہاد کا مزاج خاموش مغرور اور بے حس تھا وہ ڈیلن سے بنا ضرورت بات بھی نہیں کرتا تھا بس اس کی تعلیم اس کے لیے سب کچھ تھی صرف ایک ڈیلن ہی تھا جسے اس کی ذات کے قریب رہنے کی اجازت تھی 10th اسٹینڈرڈ کے بعد ڈیلن نے مزید تعلیم آگے جاری رکھنے سے منع کردیا مگر اذہاد کو تو جیسے ایک جنون سوار تھا اس نے ایک بہترین کالج میں آگے پڑھنے کے لیے داخلہ لے لیا اس کی قابلیت اور ذہانت کو دیکھ کر اسے فورا ایڈمیشن بھی مل گیا۔۔
آزہاد بیٹا تم مجھ سے بات کیوں نہیں کرتے ؟؟میں یہاں سارا سارا دن ساری رات تمہاری راہ دیکھتا ہوں میں نے آخر ایسا کیا کر دیا ہے جو تم مجھ سے اتنے اکھڑے اکھڑے ہوئے سے رہتے ہو ؟؟
جاری ہے
