Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Last updated: 10 July 2026
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last EpisodeWahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal
میری عزت محبت بھروسہ سب خاک میں ملا دیا تم نے کتنا فخر تھا مجھے تم پراورتم نے۔۔ ذرا نہیں سوچا اپنے ماں باپ کے بارے میں مر گئے۔۔ تمہارے ماں باپ آج سے۔۔۔
بابا۔۔ میری۔۔ بات۔۔۔ہور نے ہچکی لیتے اور اٹکتے ہوئے کہا۔۔
اب کبھی اپنی شکل مت دکھانا مار دیا اپنے ہاتھوں سے تم نے..
وہ زور سے نیچے گرنے کے انداز میں بیٹھی گالوں سے آنسو موتیوں کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کے گر رہے تھے حسین آنکھیں رو رو کے بے حال تھی۔۔۔۔
بابا ۔۔۔بابا وہ آہستہ روتے ہوئے انہیں پکار رہی تھی مگر پرواہ کسی تھی سات سمندر پار اُنہیں صرف اپنی عزت اور انا کی پرواتھی۔۔
زندہ قبر میں اتار دیا ہے تم نے آپنے ماں باپ کو ارتضیٰ ابراہیم اس وقت غصے میں بھول چکے تھے کہ ان کی جان سے پیاری بیٹی اس وقت کتنی تکلیف میں ہے۔۔انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا ۔۔۔
بابا میری بات تو سن لیں۔ ۔۔ وہ ٹوٹے الفاظوں میں بولیی دل پہ جیسے کیسی نے اس کے خنجر گھونپ دیا ہو ۔۔۔
نہیں اب یہاں فون مت کرنا میری بیٹی مر گئی ہے ہمارے لئے اور ہم اس کیلئے۔۔ارتضیٰ ابراہیم اس وقت بے رحم بنے ہوئے تھے بیٹی کی سسکیاں بھی ان پر کوئی اثر نہیں کر رہی تھی ۔۔۔
بابا۔۔بابا ۔۔ ۔ ۔ وہ ہچکیاں لیتے انھیں پکار رہی تھی رو رہی تھی بابا بابا کیے جارہی تھی مگر سامنے سے فون کب کا بند ہوچکا تھا۔۔
اس وقت وہ ساتھ سمندر دور اپنے اپارٹمنٹ کے کمرے میں بیٹھی چیخ رہی تھی رو رہی تھی اپنے پیارے سے بابا کے لئے تڑپ رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اڑ کے جائے اور ان کے سینے سے لگ جائے انہیں منائے اور بتائے وہ ان سے مر کے بھی الگ نہیں ہو سکتی وہ انکی حورین ہے ان کی جان سے پیاری بیٹی جو ان سے بہت پیار کرتی ہے۔۔وہ گھٹنے موڑے زمین پہ جھکی ہاتوں سے پیٹ کو پکڑے رو رہی تھی تڑپ رہی تھی ۔
لیجئے آپ کے پکوڑے عظمیٰ ارتضیٰ ابراہیم نے پکوڑوں کی پلیٹ ارتضیٰ کے آگے رکھی۔۔
وہ ایک دم خوشی سے آ گے ہوئے ایک پکوڑا پلیٹ سے اٹھا کے چٹنی میں ڈبو کے منہ میں رکھا ۔۔۔
ہمممم۔ ۔۔۔بھئی واہ واہ بھئی مزا ہی آ گیا کیا پکوڑے بنائے ہیں آپ نے بھئی واہ۔۔۔ ایک کے بعد ایک پکوڑا پلیٹ سے ختم کرکے وہ تعریف کئے جا رہے تھے۔۔
وہ شام ڈھلے اپنے گارڈن میں بیٹھے پکوڑوں سے لطف اٹھا رہے تھے ۔۔۔
ہممم۔ ۔ کھا لیجئے جتنی مرضی مزے کرنے ہیں نہ کر لیجئے جب وہ آئے گی نہ پھر پوچھوں گی آپ سے کے ارتضیٰ صاحب لاو پکوڑے۔۔انہوں نے اپنے شوہر کو دھمکایا۔
ارتضیٰ نے منہ تک لے جاتا پکوڑے والا ہاتھ روک کے عظمیٰ کو دیکھا آپ میری بیوی ہیں ؟؟
جی بالکل چائے کا کپ ہاتھوں میں لیتے انہوں نے کہا ۔۔
ہممم۔ ۔۔تبھی تو آپ سے میری خوشی برداشت ہی نہیں ہورہی ارے بندہ مہینے میں ایک بار اگر ایسی ہلکی پھلکی تفریح کرلے تو کیا ہر ج ہے۔ ۔
بالکل بھی نہیں ایسی تفریح آپ کی صحت کے لیے بالکل ٹھیک نہیں ہے آ لینے دیں حورین کو میں ایک ایک بات آپ کی بتاؤں گی ذرا بھی فکر نہیں آپ کو
اپنی نہیں تو ہماری ہی فکر کر لیں۔۔وہ اٹھ کے اندر چلی گئی اور وہ پیچھے ارے ارے سنو بیگم کرتے رہ گے اور ہنسے پھر پکوڑوں کو دیکھا اور ایک پکوڑا اٹھا کے چٹنی لگا کہ کھانے لگے ۔۔۔
رات سے وہ بے چین ہو رہی تھیں کبھی اس کروٹ لیٹتی تو کبھی اس کروٹ ایسے کرتے وہ اٹھ کے بیٹھ گئی۔
ارتضیٰ جو خاموشی سے لیٹے ان کو نوٹ کر رہے تھے اٹھ کے بیٹھے کیا ہوا ہے عظمیٰ۔۔
پتا نہیں ارتضیٰ حورین کی بہت فکر ہو رہی ہے اس کی بہت یاد آرہی ہے آپ پلیز اسے فون کریں نہ مجھے اس سے بات کرنی ہے ۔۔عظمیٰ بات کرتے ہوئے ارتضیٰ کو بے چین اور فکرمند لگی انہوں نے ان کو کاندھوں سے تھاما آپ بالکل پریشان نہیں ہوں وہ بالکل ٹھیک ہوگئی میں اتنی رات کو اسے فون کر کے پریشان نہیں کر سکتا ہم صبح بات کریں گےحورین سے اوکے۔۔
مگر ارتضیٰ ۔۔۔۔عظمیٰ بولی تھی کہ ارتضیٰ بولے
میں کہہ رہا ہوں نہ عظمیٰ اس وقت ٹائم دیکھیں رات کے دو بج رہے ہیں سو جائیں ہم صبح حور سے بات کریں گے اوکے انہوں نے عظمیٰ کو بیڈ پر لٹایا اور انکو بلینکٹ اڑای وہ بھی دل میں اس آیتیں پھوک کے اسے اللہ کے امان میں دے کے لیٹ گئی۔۔
عظمیٰ صبح جلدی اٹھ گئی تھی ارتضیٰ انہیں کچن میں دیکھ کے مسکرائے ..
ارے بیگم کہاں ہیں آپ ۔۔۔
عظمیٰ کچن سے بہار آئی ۔۔آپ تیار ہو گئے میں ابھی آپ کیلئے ناشتہ لاتی ہوں ۔وہ الٹے قدموں سے واپس کچن میں گئیں ان کے لئے ناشتہ لینے ۔۔
یہ لیں آپ کا ناشتہ ۔۔عظمیٰ ان کے سامنے ناشتے کی ٹرے سامنے رکھتی وہی کرسی کھینچ ک بیٹھ گئیں۔۔
ارتضیٰ کو وہ بیچین سی لگی انھوں نے ان کے ہاتھوں کو تھاما اور پوچھا ۔۔حور سے بات کرنی ہے ؟؟؟
.عظمیٰ نے زور سے گردن کو ہاں میں ہلایا۔۔
ارتضیٰ ہنسے اور فون پینٹ کی جیب سے
نکال کے حور کا نمبر ملانے لگے وہ کرسی پے بیٹھی انتظار کرنے لگی کے بس جلدی سے حور سے بات ہو جائے کے وہ ٹھیک ہے بیل جاتی رہی جاتی رہی اور پھر فون بند ہوگیا ارتضیٰ نے فون کو کان سے ہٹا کے فون کو دیکھا ایک بار پھر فون ملا کے کان سے لگایا فون پھر بند جا رہا تھا
اب وہ پریشان ہوے اور اس کے ہسپتال فون کیا
السلام عليكم ۔۔ریسیپشن پے بیٹھی لڑکی نے فون اٹھا کے سلام کیا ۔۔
وعلیکم السلام میں حورین کا والد بات کر رہا ہوں ارتضیٰ ابراھیم کیا میں ڈاکٹر حورین سے بات کر سکتا ہوں ؟؟
سوری سر مگر ڈاکٹر حورین آج ہسپتال آئ ہی نہیں ۔۔
کیا ۔۔
ارتضیٰ اب سہی معنوں میں پریشان ہوئے اچھا ٹھیک ہے کیا آپ جانتی ہیں کہ آج وہ کیوں نہیں آئی ؟؟
معذرت سر میں اس سے زیادہ نہیں جانتی۔۔
