Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal

میری عزت محبت بھروسہ سب خاک میں ملا دیا تم نے کتنا فخر تھا مجھے تم پراورتم نے۔۔ ذرا نہیں سوچا اپنے ماں باپ کے بارے میں مر گئے۔۔ تمہارے ماں باپ آج سے۔۔۔
بابا۔۔ میری۔۔ بات۔۔۔ہور نے ہچکی لیتے اور اٹکتے ہوئے کہا۔۔
اب کبھی اپنی شکل مت دکھانا مار دیا اپنے ہاتھوں سے تم نے..
وہ زور سے نیچے گرنے کے انداز میں بیٹھی گالوں سے آنسو موتیوں کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کے گر رہے تھے حسین آنکھیں رو رو کے بے حال تھی۔۔۔۔
بابا ۔۔۔بابا وہ آہستہ روتے ہوئے انہیں پکار رہی تھی مگر پرواہ کسی تھی سات سمندر پار اُنہیں صرف اپنی عزت اور انا کی پرواتھی۔۔
زندہ قبر میں اتار دیا ہے تم نے آپنے ماں باپ کو ارتضیٰ ابراہیم اس وقت غصے میں بھول چکے تھے کہ ان کی جان سے پیاری بیٹی اس وقت کتنی تکلیف میں ہے۔۔انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا ۔۔۔
بابا میری بات تو سن لیں۔ ۔۔ وہ ٹوٹے الفاظوں میں بولیی دل پہ جیسے کیسی نے اس کے خنجر گھونپ دیا ہو ۔۔۔
نہیں اب یہاں فون مت کرنا میری بیٹی مر گئی ہے ہمارے لئے اور ہم اس کیلئے۔۔ارتضیٰ ابراہیم اس وقت بے رحم بنے ہوئے تھے بیٹی کی سسکیاں بھی ان پر کوئی اثر نہیں کر رہی تھی ۔۔۔
بابا۔۔بابا ۔۔ ۔ ۔ وہ ہچکیاں لیتے انھیں پکار رہی تھی رو رہی تھی بابا بابا کیے جارہی تھی مگر سامنے سے فون کب کا بند ہوچکا تھا۔۔
اس وقت وہ ساتھ سمندر دور اپنے اپارٹمنٹ کے کمرے میں بیٹھی چیخ رہی تھی رو رہی تھی اپنے پیارے سے بابا کے لئے تڑپ رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اڑ کے جائے اور ان کے سینے سے لگ جائے انہیں منائے اور بتائے وہ ان سے مر کے بھی الگ نہیں ہو سکتی وہ انکی حورین ہے ان کی جان سے پیاری بیٹی جو ان سے بہت پیار کرتی ہے۔۔وہ گھٹنے موڑے زمین پہ جھکی ہاتوں سے پیٹ کو پکڑے رو رہی تھی تڑپ رہی تھی ۔
لیجئے آپ کے پکوڑے عظمیٰ ارتضیٰ ابراہیم نے پکوڑوں کی پلیٹ ارتضیٰ کے آگے رکھی۔۔
وہ ایک دم خوشی سے آ گے ہوئے ایک پکوڑا پلیٹ سے اٹھا کے چٹنی میں ڈبو کے منہ میں رکھا ۔۔۔
ہمممم۔ ۔۔۔بھئی واہ واہ بھئی مزا ہی آ گیا کیا پکوڑے بنائے ہیں آپ نے بھئی واہ۔۔۔ ایک کے بعد ایک پکوڑا پلیٹ سے ختم کرکے وہ تعریف کئے جا رہے تھے۔۔
وہ شام ڈھلے اپنے گارڈن میں بیٹھے پکوڑوں سے لطف اٹھا رہے تھے ۔۔۔
ہممم۔ ۔ کھا لیجئے جتنی مرضی مزے کرنے ہیں نہ کر لیجئے جب وہ آئے گی نہ پھر پوچھوں گی آپ سے کے ارتضیٰ صاحب لاو پکوڑے۔۔انہوں نے اپنے شوہر کو دھمکایا۔
ارتضیٰ نے منہ تک لے جاتا پکوڑے والا ہاتھ روک کے عظمیٰ کو دیکھا آپ میری بیوی ہیں ؟؟
جی بالکل چائے کا کپ ہاتھوں میں لیتے انہوں نے کہا ۔۔
ہممم۔ ۔۔تبھی تو آپ سے میری خوشی برداشت ہی نہیں ہورہی ارے بندہ مہینے میں ایک بار اگر ایسی ہلکی پھلکی تفریح کرلے تو کیا ہر ج ہے۔ ۔
بالکل بھی نہیں ایسی تفریح آپ کی صحت کے لیے بالکل ٹھیک نہیں ہے آ لینے دیں حورین کو میں ایک ایک بات آپ کی بتاؤں گی ذرا بھی فکر نہیں آپ کو
اپنی نہیں تو ہماری ہی فکر کر لیں۔۔وہ اٹھ کے اندر چلی گئی اور وہ پیچھے ارے ارے سنو بیگم کرتے رہ گے اور ہنسے پھر پکوڑوں کو دیکھا اور ایک پکوڑا اٹھا کے چٹنی لگا کہ کھانے لگے ۔۔۔
رات سے وہ بے چین ہو رہی تھیں کبھی اس کروٹ لیٹتی تو کبھی اس کروٹ ایسے کرتے وہ اٹھ کے بیٹھ گئی۔
ارتضیٰ جو خاموشی سے لیٹے ان کو نوٹ کر رہے تھے اٹھ کے بیٹھے کیا ہوا ہے عظمیٰ۔۔
پتا نہیں ارتضیٰ حورین کی بہت فکر ہو رہی ہے اس کی بہت یاد آرہی ہے آپ پلیز اسے فون کریں نہ مجھے اس سے بات کرنی ہے ۔۔عظمیٰ بات کرتے ہوئے ارتضیٰ کو بے چین اور فکرمند لگی انہوں نے ان کو کاندھوں سے تھاما آپ بالکل پریشان نہیں ہوں وہ بالکل ٹھیک ہوگئی میں اتنی رات کو اسے فون کر کے پریشان نہیں کر سکتا ہم صبح بات کریں گےحورین سے اوکے۔۔
مگر ارتضیٰ ۔۔۔۔عظمیٰ بولی تھی کہ ارتضیٰ بولے
میں کہہ رہا ہوں نہ عظمیٰ اس وقت ٹائم دیکھیں رات کے دو بج رہے ہیں سو جائیں ہم صبح حور سے بات کریں گے اوکے انہوں نے عظمیٰ کو بیڈ پر لٹایا اور انکو بلینکٹ اڑای وہ بھی دل میں اس آیتیں پھوک کے اسے اللہ کے امان میں دے کے لیٹ گئی۔۔
عظمیٰ صبح جلدی اٹھ گئی تھی ارتضیٰ انہیں کچن میں دیکھ کے مسکرائے ..
ارے بیگم کہاں ہیں آپ ۔۔۔
عظمیٰ کچن سے بہار آئی ۔۔آپ تیار ہو گئے میں ابھی آپ کیلئے ناشتہ لاتی ہوں ۔وہ الٹے قدموں سے واپس کچن میں گئیں ان کے لئے ناشتہ لینے ۔۔
یہ لیں آپ کا ناشتہ ۔۔عظمیٰ ان کے سامنے ناشتے کی ٹرے سامنے رکھتی وہی کرسی کھینچ ک بیٹھ گئیں۔۔
ارتضیٰ کو وہ بیچین سی لگی انھوں نے ان کے ہاتھوں کو تھاما اور پوچھا ۔۔حور سے بات کرنی ہے ؟؟؟
.عظمیٰ نے زور سے گردن کو ہاں میں ہلایا۔۔
ارتضیٰ ہنسے اور فون پینٹ کی جیب سے
نکال کے حور کا نمبر ملانے لگے وہ کرسی پے بیٹھی انتظار کرنے لگی کے بس جلدی سے حور سے بات ہو جائے کے وہ ٹھیک ہے بیل جاتی رہی جاتی رہی اور پھر فون بند ہوگیا ارتضیٰ نے فون کو کان سے ہٹا کے فون کو دیکھا ایک بار پھر فون ملا کے کان سے لگایا فون پھر بند جا رہا تھا
اب وہ پریشان ہوے اور اس کے ہسپتال فون کیا
السلام عليكم ۔۔ریسیپشن پے بیٹھی لڑکی نے فون اٹھا کے سلام کیا ۔۔
وعلیکم السلام میں حورین کا والد بات کر رہا ہوں ارتضیٰ ابراھیم کیا میں ڈاکٹر حورین سے بات کر سکتا ہوں ؟؟
سوری سر مگر ڈاکٹر حورین آج ہسپتال آئ ہی نہیں ۔۔
کیا ۔۔
ارتضیٰ اب سہی معنوں میں پریشان ہوئے اچھا ٹھیک ہے کیا آپ جانتی ہیں کہ آج وہ کیوں نہیں آئی ؟؟
معذرت سر میں اس سے زیادہ نہیں جانتی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *