Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22
حور گاڑی سے باہر آئی اور اس نے فلاور شاپ پے جاکے گرینڈ پا کے لئے بہت خوبصورت پھول لیے۔۔
گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اس نے آسمان پہ چھائے کالے بادلوں کو دیکھا جو برسنے کیلئے تیاری پکڑ رہے تھے۔۔
ازہاد بار بار گھڑی دیکھتا اور بڑبڑاتا۔۔کہا تھا کہ جلدی آنا۔۔پھر محترمہ کو جلدی جانے کی دھن سوار ہوجاتی ہے۔۔حور میری بات سنتی ہی نہیں ہے۔۔ وہ سلاد بناتا غصہ ان معصوم سبزیوں پر اتار رہا تھا۔۔
اور گرینڈ پا اس کے تپے تپے چہرے اور کھٹ کھٹ چلتی چھری کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔۔۔میں صدقے جاؤں اس محبت پہ جس نے ازہار جیسے بندے کو بدل دیا۔اسے ہنسنا بولنا جینا سکھا دیا اس کے بے جان دل کو دھڑکنا سکھا دیا۔۔وہ اسے دیکھتے مسکراتے ہوئے دل میں سوچ رہے تھے ۔۔۔
دروازے کی بیل ہوئی اور ساتھ ہی آزہاد کا دل بھی زور سے دھڑکا وہ چھری وہی رکھتا خوشی سے آگے بڑھنے لگا تاکہ حور کے لئے دروازہ کھولے تو اس سے پہلے ہی گرینڈ پا اٹھے اور اشارے سے اسے وہی رکنے کو کہا اور خود آگے بڑھ گئے دروازہ کھولنے کے لیے وہ ویسے ہی حور کے لیٹ ہونے پر تپا ہوا تھا اور اوپر سے گرینڈ پا نے آگ میں تیل کا کام کر دیا وہ پلٹ کر منہ پھلاتا ہوا کچن میں آگیا۔۔
گرینڈ پا نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو سامنے انہیں بے حد حسین معصوم سی پریوں جیسی چھوٹی سی لڑکی کھڑی نظر آئی جس کے ہاتھ میں بے حد خوبصورت پھولوں کا گلدستہ تھا۔۔۔
حور کو توقع نہیں تھی کہ گیٹ گرینڈ پا خود اس کے لیے کھولیں گے وہ بے حد کنفیوز ہوئی انہیں اچانک اپنے سامنے کھڑے دیکھ کر۔۔۔حور نے جھجھکتے ہوئے انہیں سلام کیا۔۔
_______
گرینڈ پامسکرائے۔۔ اندر تو آؤ۔۔وہ بےحد دوستانہ انداز میں حور سے بولے۔۔
حور نروس ہوتی نیچے گردن کیے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اندر گھر میں داخل ہوئی گھر بے حد خوبصورت تھا۔۔جسے کافی خوبصورتی سے سیٹ کیا گیا تھا۔۔
کچن میں ایک ایسی جگہ خوبصورت شیشہ سیٹ کیا گیا تھا جس سے دروازے کا منظر صاف دیکھا جا سکتا تھا۔۔ آزہاد کی کچن کے دروازے کی طرف پیٹھ تھی مگر وہ بنا گھومیں دروازے سے اندر داخل ہوتے وجود کو با آسانی دیکھ سکتا تھا۔۔حور کے وجود کی خوشبو اس کے اتنے فاصلے پر ہونے کے باوجود بھی وہ محسوس کر سکتا تھا وہ بنا پلکیں جھپکے اس کے حسین چاند سے مکھڑے کو دیکھ رہا تھا وہ اسے عام دنوں سے الگ الگ سی لگی یہ تیاری کیا خاص اس کیلئے کی گئی تھی؟؟ازہار کے دل کی دھڑکنوں کی رفتار حور کو دیکھ دیکھ کر مزید بڑھتی ہی جا رہی تھی۔۔
حور نے پھولوں کا بوکے گرینڈ پا کی طرف بڑھایا۔۔ یہ میں آپ کے لئے لائی تھی کیسے ہیں آپ اب؟؟
گرینڈ پا نے اس کے ہاتھ سے پھول لیے اور ترچھی نظروں سے کچن کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔۔ بہت شکریہ بیٹا مگر ان پھولوں کی کیا ضرورت تھی؟؟میں ٹھیک ہوں آب۔۔وہ زور زور سے کسی کو سنانے کے لیے بول رہے تھے۔۔
اور یہ سن کر آزہاد کا دل جل کے کباب ہوگیا۔۔ واہ محترمہ کو انوائٹ میں نے کیا اور پھول کسی اور کے لئے۔۔وہ پھر گردن نیچے کیے غصے سے تیز تیز چھری چلاتا کھٹ کھٹ کرنے لگا۔۔۔
گرینڈ پا حور لان میں صوفے پر بیٹھے تھے۔۔حور ہلکی سی گردن اوپر اٹھائے ازہاد کو ڈھونڈنے لگی۔مگر وہ تو پتہ نہیں اسے بلا کر خود کس کونے میں چھپ کر بیٹھ گیا تھا۔۔اس کے بنا تو جان آدھی ہوئی جا رہی تھی حور کی۔۔
آرام سے بیٹھ جاؤ بیٹا گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔۔گرینڈ پا نے اس کے گھبرائے گھبرائے سے چہرے کو دیکھ کر تسلی دی۔۔
حور صوفے پر ایسے ٹک کر بیٹھی تھی جیسے ابھی سیٹی بجے گی اور وہ دروازے کی طرف دوڑ لگائے گی۔۔
گرینڈ پا نےحور کی اڑتی ہوئی ہوائیوں کو دیکھا اور ایک نظر پیچھے گردن گھوما کے ازہاد کو اور زور سے
ہنسے۔۔
حوران کے اس طرح سے ہنسے جانے پر گردن اٹھاتی حیرت بھری نظروں سے انہیں تکنے لگی۔۔
تم دونوں کی شکلیں صاف بتا رہی ہیں کہ اس وقت کباب کی ہڈی میں ہوں۔۔حورین بیٹا تمہاری نظریں جسے ڈھونڈ رہی ہیں وہ اس طرف ہے۔گرینڈ پاکیچن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے۔۔جاؤ ورنہ اس نے سیلڈ اپنے ہاتھ کا بنا کے ہم دونوں کو کھلا دینا ہے۔۔
حور جھٹ سے اٹھتی گرینڈ پا کی بتائی جگہ پر گئی تو دیکھا آزہاد اس کی طرف پیٹھ کیے آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کئیے گردن جھکائے کچھ کاٹ رہا تھا
حور کا دل اسے دیکھ کر ایک ترنگ میں دھڑکا۔۔ابھی کچھ دیر پہلے اس کے بنا اس کی ایسی حالت ہو رہی تھی جیسے ایک بھیڑ ہو اور وہ انجان جگہ پر انجان لوگوں میں کھڑی خوف سے یہاں وہاں دیکھ رہی ہو
اور اب آزہاد کو اپنے سامنے دیکھ کر ایسا لگا جیسے وہ بھیڑ اچانک سے غائب ہوگئی ہو اور وہاں صرف آزہاد ہو۔۔جو پوری دنیا میں اکیلا وہ واحد اس کا شناسا ہو۔۔
وہ مسکراتی ہوئی آگے بڑھی اور اس کی پشت پر جاکے کھڑی ہوتی پنجوں کے بل اونچی ہوکر اس کے کاندھے سے دیکھنے کی کوشش کرنے لگی کہ وہ آخر بنا کیا رہا ہے۔۔مگر ازہاد کی ہائٹ اونچی ہونے کی وجہ سے وہ دیکھنا پائی۔۔حور نے ایک پل اس کی پشت کو دیکھا پھر آہستہ آواز میں بولی۔۔
ہادی۔۔۔میٹھی نرم آواز میں پکارا گیا اپنا نام جسے سن کر آزہاد کا دل اور زور زور سے دھڑکنے لگا۔مگر وہ پھر بھی ضبط کئے خود پر ایسے ہی کھڑا رہا۔۔
حور نے انگلی اس کے چوڑے بازو پر رکھ کر اسے ہلا کے خود کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔۔ مگر ازہار ٹس سے مس نہ ہوا۔۔حور نے مسکرا کے اپنے گالوں کو پھلایا اور آزہاد کی نقل اتاری پھر منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی۔۔کچھ دیر ایسے ہی اسے کھڑے دیکھ کر حور نے آہستہ سے چادر میں چھپا سرخ اور بڑا سا گلاب کا پھول نکالا جس کی ٹہنی لمبی سی تھی ازہاد کی پشت پر کھڑے ہوکر حور نے اس کی نظروں کے سامنے وہ گلاب کا پھول کیا۔اور آزہاد کی نظروں نے جب اس حسین پھول کا دیدار کیا تو اس کا سارا غصہ ناراضگی سب ایک پل میں سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔۔ازہاد نے آہستہ سے گلاب اس کے ہاتھ سے لیا۔اور اپنی حسین مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کے حور کی طرف جھٹکے سے پلٹا۔۔حور ایک قدم جلدی سے پیچھے ہوئی ورنہ آزہاد اچھا خاصہ اس سے ٹکرا جاتا۔۔ ازہاد کی نظروں میں حور نے اپنے لیے بے پناہ محبت دیکھی۔۔
آزہاد نے بے اختیار حور کے معصوم چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لے کر جھگڑا اور اس کی نیلی آنکھوں میں اپنی حسین آنکھیں گاڑتا زور سے دانت پیس کر اسے دیکھا اور ایک دم اسے چھوڑتا اس سے دور ہوا اور دوسری طرف بڑھ گیا۔۔۔
حور اس کے کچھ دیر پہلے کیے گئے عمل کو حیران ہوتی سوچنے لگی۔۔یہ کیا تھا ؟؟
حور شکر کر لیں آپ نے مجھے منالیا ورنہ تو آج کا ڈنر نہ تو آپ کو ملنے والا تھااور نہ ہی گرینڈ پا کو۔اور ڈنر کئے بغیر میں آپ کو جانے نہیں دینے والا تھا۔۔ازہاد دھمکی دیتا ایک آئی برو اٹھاکر حور کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔۔۔
اتفاق سے حور اور ازہاد کے کپڑوں کا کلر سیم تھا وہ دونوں ایک ساتھ ایسے لگتے تھے جیسے ان کی جوڑی آسمانوں پر بہت پہلے ہی بنا دی گئی ہو۔۔
ازہاد قدم اٹھاتا آہستہ سے حور کے قریب آیا اور اس کی چادر اس سے لیتا محبت سے طے کر کے سینے سے لگاتا کچن سے باہر آگیا۔۔حور بھی چلتی ہوئی اس کے پیچھے آئی تو اس کی نظریں اب ازہاد سے ہٹ کر صحیح معنوں میں اطراف کا جائزہ لینے لگی۔۔اور جیسے جیسے وہ جائزہ لیتی جا رہی تھی اس کی سانسیں رکتی جا رہی تھی۔۔ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے سینے میں چلتے دل کو کسی نے مضبوطی سے جکڑ لیا ہو اور وہ دھڑک نہیں پا رہا ہو۔۔
حور۔۔۔ازہاد کے پکارے جانے پر اس نے جھٹکے سے پلٹ کے ازہار کو دیکھا۔۔ آزہاد کو اس کا چہرہ خوفناک حد تک گھبرایا پریشان اور ڈرا ہوا لگا۔۔وہ اپنے اور حور کا فاصلہ چند قدموں میں طے کرتا ہوا اس کے قریب آیا۔۔
حور۔۔۔ اس نے تیز آواز میں حور کو پکارا۔۔
آزہاد کو دیکھ کر حور کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر اس کی پلکوں سے پھسل کرگرا ہی تھا کے آزہاد نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر اس کے آنسو کو اپنی ہتھیلی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جزب کر لیا۔۔
وہ کیسے اس کے آنسوؤں کو بے مول ہونے دیتا یہ آنسو تو اس کی زندگی جینے کا سبب بنے ہیں۔۔
حور ہوا کیا ہے ؟؟مجھے بتاؤ گی؟؟ آزہاد نے بے بسی سے حور کو دیکھتے ہوئے کہا۔اس کی ایسی ابتر حالت دیکھ کر وہ بھی ہوش کھو رہا تھا کہ حور نے زور سے اس کا بازو پکڑا اور کھینچتی ہوئی اسے ٹیرس پر لے آئی۔۔ اسے اس وقت کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔
گھنگھور کالے سیاہ بادل ہر طرف چھائے ہوئے تھے برسنے کے لیے۔۔۔
ازہاد حیران پریشان سا اس کے ساتھ کھنچتا اس کی بگڑتی حالت کو دیکھ رہا تھا۔۔ اللہ جانے ایسا کیا ہوگیا تھا اچانک حور کو جو اس کی ساری سمجھ بوجھ کی ڈوریں ہلا رہی تھی۔۔وہ خاموش سا بس حور کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
حور نے ٹیرس پر آکر آزہاد کا بازو جھٹکے سے چھوڑا۔۔ہادی میں جو پوچھونگی سچ سچ جواب دینا ورنہ میں جان سے مار دوں گی تمہیں۔۔وہ روتی ہوئی اذہاد بولی۔۔
اور ازہاد بس اس کے ایک ٹک چہرے کو دھڑکتے دل سے دیکھ رہا تھا جو اس وقت غصے سے لال سرخ ہو رہا تھا۔۔کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ اچانک ہوا کیا ہے؟؟
کون ہو تم ؟؟کیا روپ ہے تمہارا ؟؟؟بتاؤ مجھے ۔۔۔ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گی سوچ سوچ کے۔۔حور نے آب سوال آہستہ آہستہ اسکے سامنے رکھنے شروع کئیے۔۔
وہ اب بھی نہیں سمجھا تھا اس کی بات کہ جب ہی حور نے اٹکتے ہوئے لفظ میں اس سے پوچھا جس سے اذہاد کی ساری گتھی سلجھ گئی۔۔
کیا۔۔ تم۔۔کرس۔ٹن کرسٹن ہو؟؟؟
اصل میں جب وہ کچن سے باہر آئی تو اس نے سہی سے اپنے آس پاس توجہ دی گھر کی دیواروں پر کراس کے نشانوں کی تصویریں لگی تھی۔۔جو عموما کرسٹن کی پہچان ہوتے ہیں۔۔
اور دماغ تو تب ہلا جب باقاعدہ ایک چھوٹا سا چرچ اس نے گھر کے ایک کونے پر بنے دیکھا اور وہی اس کی ساری دماغ کی سوچیں مفلوج ہوگی کے اس کا ازہاد۔۔۔کیا اس نے اسے دھوکا دیا ؟؟نہیں ایسا نہیں ہو سکتا؟؟ نہیں وہ خود سے کیسے نظریں ملائے گی کہ اگر یہ سچ ثابت ہوا تو؟؟؟
بولو اذہاد عریض؟؟حور نے چیختے ہوے آزہاد کے دونوں بازوں کو زور سے ہلا کر کہا۔۔
ہاں تم نے ٹھیک سمجھا۔۔۔اس کی آواز بے حد آہستہ تھی جوحور کے کانوں تک موت کے فرمان جیسی پہنچی۔۔
وہ ایک دم اس سے بہت دور ہوئی اور آنکھیں پھاڑے آزہاد کو دیکھنے لگی۔۔ نہیں ہادی تم مذاق کر رہے ہو نا بول دو یہ جھوٹ ہے۔۔وہ بے یقینی سے اسے دیکھتی آنکھیں رگڑتی ہنستی ہوئی بولی۔۔
نہیں حور یہ سچ ہے۔۔۔آزہاد نے سختی سے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی تھی۔۔
اور وہی حور زور سے نیچے زمین پر بیٹھی جیسے اب ٹانگوں میں اس کی جان نہ رہی ہوں مزید کھڑے ہونے کی آزہاد نے اسے کہاں لاکر رسوا کردیا تھا جب وہ چاروں طرف سے اس کی محبت میں پورپور ڈوب چکی تھی۔آزہاد نے ایک پل میں روح اس کے جسم سے کھینچ لی تھی۔۔وہ سکتے کے عالم میں نیچے زمین پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔
آزہاد نے آنکھیں کھول کر جب حور کی طرف دیکھا تو اسے اس طرح نیچے بیٹھے دیکھ کر آزہاد کو محسوس ہوا جیسے کسی نے چھری سے مار مار کر اسکا دل زخمی کردیا ہو۔۔وہ تیزی سے آگے بڑھتا اس کی طرف جھکا۔۔۔حور میں مذاق کر رہا تھا۔۔حور میں تمہیں تنگ کر رہا تھا۔۔وہ ایکدم پریشان سا ہوتا حور کے چہرے کو ہاتھوں میں لیے اوپر کی طرف اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
حور نے زور سے اس کے ہاتھ پیچھے کی طرف جھٹکے۔۔۔۔ہاتھ مت لگاؤ مجھے۔۔وہ چلائی۔۔۔
ایسے کیسے نہ لگاؤ پاگل ہو گئی ہو کیا؟؟ حور ہوتی کون ہے اسے خود سے دور کرنے والی وہ بھناتا ہوا بولا۔۔ انسان آرام سے نارمل طریقے سے بھی پوچھ سکتا ہے حور تم نے تو مجھے ایسا جھٹکا دیا حور کے میری تو جان نکل گئی اب اتنا تو میرا حق بھی ہے کہ تمہیں تنگ کروں میں جانتا تھا کہ تم یہ سب دیکھ کر پریشان ہوگی سوال کرو کی مگر میں یہ نہیں جانتا تھا کہ تم تو اس قدر حواس باختہ ہی ہو جاؤ گی اور مجھے بھی کر دوں گی۔۔۔مذاق کر رہا تھا میں سنا۔۔۔ تمہیں اتنا بھی یقین نہیں ہے مجھ پر حور۔۔۔آزہاد اب اسے کھری کھری سنا رہا تھا جو ہر چھوٹی بات پر اتنی جلدی جذباتی ہو جاتی تھی۔۔
آزہاد کی ساری باتیں سن کر حور کی روکتی سانسیں جیسے لوٹ آئیں۔۔وہ ٹہری نگاہوں سے اذہار کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی۔۔مجھے یقین ہے آپ پر ہادی مگر یہ بات چھوٹی نہیں تھی میرے لیے آپ کو پتہ ہے اگر یہ سچ ہوتا نہ تو میں یہاں سے کود کر اپنی جان دے دیتی۔۔۔وہ اس کے سینے پر مارتی ہوئی بولی۔۔۔اذہاد نے اس کے ہاتھوں کو روکا نہیں۔۔۔
ہاں ں۔۔۔ اور میں تمہیں یہاں سے بیٹھ کر ہاتھ ہلاکے ٹاٹا کر رہا ہوتا۔۔اس نے ایکٹنگ کرنے کے ساتھ ساتھ غصے سے حور کو دیکھا جو رو رو کر اپنی حالت بگاڑ چکی تھی۔۔وہ بھی وہی اس کے ساتھ زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔۔رو رو کر اپنی حالت دیکھو کیا بنا لی ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے میں یہی سوچ رہا تھا کہ میری حور کی آنکھیں کتنی پیاری ہیں انہیں کبھی کسی کی نظر نہ لگے اتنا پیارا چہرہ۔۔اور حور صاحبہ نے میری سوچ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اپنی خوبصورت آنکھوں اور چہرے کی ایسی کی تیسی کردی۔۔وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کی آنکھیں اور چہرہ صاف کرتا ہوا افسوس سے بولا۔۔ابھی تو میں نے تعریف بھی نہیں کی تھی تمہاری۔۔وہ اب اسے چھیڑتے ہوئے بولا۔۔
حورنے سڑ سڑ کرتے لال آنکھوں سے آزہاد کو دیکھا اور ایک ہاتھ کا گھونسا بنا کے اس کے کاندھے پر مارا۔۔آزہاد نے اپنا کاندھا سہلاتے ہوئے حور کو محبت سے دیکھا۔۔۔
ہادی مجھے ابھی اپنے بارے میں بتائیں مجھے آپ کے بارے میں جاننا ہے ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گی یہ سوچ سوچ کر کے گرینڈ پا کرسٹن ہیں اور آپ مسلم کیسے؟؟وہ ضدی لہجے میں اس سے بولی۔۔جیسے اس کے بارے میں جانے بغیر اب یہاں سے ہلے گی بھی نہیں۔۔
آزہاد نے اس کے ضدی روپ کو دیکھ کر ایک گہرا سانس لیا۔۔حور میں تمہیں کل بتاؤں؟؟
نہیں ہادی بالکل نہیں مجھے ابھی بتائیں۔۔۔اس نے زور زور سے گردن نفی میں ہلائی۔۔
حور پوری دنیا میں تم ایک واحد ایسی ہو جس نے اذہاد عریض کی شروع دن سے نہ بات ماننے کی قسم کھائی ہے ورنہ کوئی ایک بندہ ایسا نہیں جس نے میرے کئیے ایک اشارے تک کو انکار کیا ہو۔۔ اذہاد نے تھک کر اسے محبت سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
مجھے کچھ نہیں پتا اس بارے میں ہادی مجھے بتائیں۔۔۔
اذہاد کپڑے جھاڑتا فورا کھڑا ہوا اور نیچے بیٹھی حور کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔حور چلو نا پلیز ورنہ سارا کھانا ٹھنڈا بدمزہ ہوجائےگا۔۔ اذہار نے بھوک سے نڈھال ہوتے منت بھرے انداز سے حور کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔میں تمہیں پرامس کل سب بتاؤں گا ابھی چلونا۔۔۔
حور نے بیٹھے بیٹھے ہی اسے ناراض نظروں سے دیکھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہو گئی۔۔
اذہاد مسکرایا۔۔۔اچھا کیا تمہارے لیے اتنا جاننا آج کے لیے کافی نہیں حور کہ میں مصر کے بادشاہ التمش عریض کے اکلوتے بیٹے زیاد عریض کا اکلوتا وارث ہوں۔۔۔اذہاد حور کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کرتا اس کی آنکھوں میں دیکھ کر صرف اتنا بولا۔۔اور سائیڈ اسمائل پاس کرتا موڑا اور آگے بڑھ گیا۔۔۔
حور بنا پلکوں کو جھپکے اسے ایک ٹک دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔کہیں آزہاد دیوانہ تو نہیں ہوگیا یہ کیا بول کر گئے ہیں؟؟وہ ابھی بھی حیران کھڑی اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی جب آزہاد نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا اور مسکراتا ہوا ایک آنکھ دبا کر نیچے چلا گیا
________________
وہ حیران ہوتی نہ جانے ابھی اور کتنی دیر وہی کھڑی رہتی کہ جب ہی آسمان سے رحمت نے برسنا شروع کردیا اور حور خود کو بچاتی بھاگتی ہوئی آزہاد کے پیچھے آئی۔۔
ہادی سچ بتائیں کیا واقعی آپ؟؟ وہ ابھی بھی اس پر شک کر رہی تھی۔۔آزہاد کا بھروسہ بھی نہیں تھا وہ کب مذاق کرتا اور کب سچ بولتا۔۔
اذہاد جاتے جاتے پلٹا۔۔میں سیریس ہوں حور آپ یقین کریں یا نہ کریں یہ میرا مسئلہ نہیں۔۔ وہ کندھے اچکاتا کچن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
حور خاموشی سے گرینڈ پا کے سامنے والے صوفے پر دوبارہ آ کے بیٹھ گئی۔۔۔
گرینڈ پا اسے خیالوں میں گم ہوتے دیکھ کر بولے۔۔ میں تو سمجھا تھا یہ لو برڈ بادلوں کے ساتھ ہی اڑ گئے۔مجھ بڈھے کو بھوکھا چھوڑ کے مگر تم دونوں تو جلدی نیچے آگئے۔۔۔گرینڈ پا ان دونوں کے بیچ جو کچھ بھی ہوا اس بات سے انجان تھے اس لئے آرام سے بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔
حور ایکدم خیالوں سے چونکی ان کی آواز سن کر۔۔گرینڈ پا اسے دیکھ کر مسکرائے۔۔
کہاں سے گرینڈ پا آپ کے نواسے نے میرے پر کاٹ دیے ہیں میں اب ان کے بغیر اڑ نہیں سکتی میں تو قید ہو کر رہ گئی ان کی ذات میں۔۔ وہ آہستہ سے کچن کی طرف دیکھتی خود سے ہمکلام تھی۔۔پھرگرینڈ پا کی طرف رازداری سے دیکھتی بولی۔۔ سچ بتائیں کیا ہادی التمش عریض کے پوتے ہیں؟؟
گرینڈ پا اب حیران نظروں سے اسے دیکھتے بولے۔۔ لو تمہیں ابھی تک یہ ہی نہیں پتا تھا۔۔کیا اذہاد نے تمہیں کچھ نہیں بتایا اپنے بارے میں؟؟
حور نے جل کر پھر کچن کی طرف دیکھا جو نہ جانے اب پھر کچن میں گھس کر کیا کر رہا تھا؟؟اگر مجھے پتہ ہوتا نہ گرینڈ پا ان کے بارے میں یہ ایسے ہیں ؟؟ تو میں کبھی ان سے محبت کرنے کی بھول نہیں کرتی۔۔وہ کچن سے باہر آتے آزہاد کو دیکھتی اس پر نظروں کے تیر اچھالتی بولی۔۔۔
میں کیسا ہوں حور ؟؟ وہ مسکراتا ہوا سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے بولا۔۔۔
کیا یہ سچ ہے گرینڈ پا ان شہزادوں کی دس شادیاں ہوتی ہیں ؟؟؟وہ ازہاد کا سوال پوری طرح سے اگنور کرتی گرینڈ پا سے بولی۔۔۔
اور اس کا سوال سن کے زوردار قہقہے آزہاد اور گرینڈ پا کے پورے گھر میں گونجنے لگے۔۔بھئی اس کا تو مجھے پتا نہیں یہ تو ازہاد بتا سکتا ہے۔۔۔گرینڈ پا نے مزے سے آزہاد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اذہاد خاموش ہی رہا۔۔۔
میرا نمبر کونسا ہوگا مسٹر ھادی؟؟ حور نے ایک آئی برو اٹھاکر آزہاد کی طرف جل کر دیکھ کر کہا۔۔۔۔
اور آزہاد ایک بار پھر زور سے ہنسا۔۔۔
یار یہ تو ابھی مجھے نہیں پتا میں نے تمہارے علاوہ باقی نو کوابھی سوچا نہیں۔۔آزہاد نے منہ بنا کر اتنے آرام سے کہا جیسے کوئی کانٹریکٹ کی بات کر رہا ہو۔جیسے ابھی تو فلحال کچھ سوچا نہیں ہاں آگے کرنے کے ارادے پورے ہیں۔۔۔
حور نے پیچھے رکھے کشن کو گھوم کے اٹھایا اور زور سے اس کی طرف پھینکا جسے آزہاد نے بڑے آرام سے کیچ کر لیا تھا۔۔وہ اسے تنگ کرکے خوب انجوائے کرتا تھا۔۔۔یہی تو اس کی زندگی تھی۔۔اسے تنگ کرنا۔ہنسانا ۔منانا ۔اس کا خیال کرنا۔اس سے محبت کرنا۔۔
میں جان سے مار دوں گی تمہیں ہادی۔۔ وہ ناراض ناراض سی اسے دیکھتی بولی۔۔۔
میں خوشی خوشی تم پہ اپنا قتل معاف کردوں گا حور۔۔وہ آپس میں بات کرتے ہوئے گرینڈ پا کو بھول چکے تھے۔۔
گرینڈ پا زور سے کھنکارے۔۔ ارے رومانس شروع کرنے سے پہلے مجھے کھانا دے دو میں بھوکا ہوں۔۔۔وہ اذہار سے بولے اذہاد ہنستا ہوا اندر چلا گیا اور حور نے جھینپ کر گردن نیچے کر لی۔۔۔
آزہاد نے ٹیبل سیٹ کروائی اور دونوں کو ٹیبل پر آنے کا کہا۔۔۔حور گرینڈ پا کے ساتھ چلتی ٹیبل تک آئی اس دوران گرینڈ پاسے حور کی اچھی خاصی دوستی ہو چکی تھی وہ تھے ہی جولی قسم کی طبیعت کے مالک۔ہنس مکھ سے۔۔۔حور کو وہ بہت اچھے لگے۔۔۔
حور کو ٹیبل کی طرف بڑھتا دیکھ کر آزہاد نے اس کے لئے خود کرسی کھینچی۔۔حور مسکراتی ہوئی اس کی کھینچی گئی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔آزہاد جب بھی اس کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھتا حور کو خود سے محبت اور گہرائی سے کرنے پر مجبور کرتا تھا۔۔وہ کیسی بھی کنڈیشن میں ہو اس کی فکر اس کا خیال رکھنا نہیں بولتا تھا۔۔
آزہاد نے اس کے اورگرینڈ پا کے آگے پلیٹیں خود رکھی اور انکی پلیٹوں میں کھانا ڈالنے لگا۔۔
وہ گرینڈ پا سے ہلکی پھلکی باتیں کر رہی تھی کہ جب ہی وہ بولی۔۔ گرینڈ پا کھانا کس نے بنایا ہے؟؟وہ دیکھ اذہار کو رہی تھی اور بول گرینڈ پاسے رہی تھی۔۔
آزہاد عریض دی گریٹ شیف نے۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولے۔۔۔
آزہاد نے ایک آئی برو اٹھاکر حور کو خاموشی سے دیکھا۔۔
ہممم۔۔۔۔یہ تو آب کھا کر ہی پتہ چلے گا کہ یہ کتنے گریٹ ہیں۔۔۔؟؟وہ منہ بناتی ہوئی بولی اور چاولوں سے بھرا چمچ منہ میں رکھا۔۔۔
آزہاد اس کے سامنے ٹیبل کے دوسری طرف کہنیوں کو کرسی پر ٹیکاے دو انگلیوں سے آئی برو اٹھائے حور کو ایک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔
حور نے چاولوں سے بھرا منہ چلایا۔۔کھانا اچھا نہیں بہت شاندار بنا تھا۔۔وہ ایسا شاندار کھانا ہزار بار کوششوں کے بعد بھی نہیں بنا سکتی تھی۔۔ہممم۔۔۔کھانا بس ٹھیک ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ آنکھوں سے مجھے کھائیں۔۔۔وہ ضمیر کے ملامت کرنے والی آواز کو دباتی اس کے ایک ٹک دیکھنے پر بولی۔۔
آزہاد اس کی بات پر ہلکا سا مسکرایا اور بولا۔۔ایک شرط پر۔۔
حور نے آنکھیں چھوٹی کرکے آزہاد کو دیکھا۔۔ اب یہ شرط منوانے کا کون سا وقت ہے؟؟ پھر گرینڈ پا کی طرف خاموش نظروں سے دیکھا۔۔ گرینڈ پانے کاندھے اچکائے۔۔۔مجھے نہیں پتا۔۔۔حور نے پھر اذہاد کو دیکھا اور بولی۔۔۔ کیا؟؟؟
وہ بعد کی بات ہے پہلے بولو منظور ہے یا نہیں؟؟ ازہاد اب اپنی ضد پر آیا تھا اور ضدیں کیسے منوائی جاتی ہیں وہ اذہاد عریض سے کوئی پوچھے۔۔۔حور تو سوچ میں پڑ گئی۔۔۔یہ چکر کیا ہے آب؟؟ کرتی کیا نہ کرتی اس کشمکش میں آخرکار اس نے ہاں کر دی۔۔۔اور اذہاد لب دباتا مسکرا دیا۔۔۔
یہ ہوئی نا بات اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے دیکھنا اب یہ ہے حوریں ارتضیٰ کے آپ کو اب مجھ سے کتنی محبت ہے؟؟ وہ اپنی پلیٹ کی طرف جھکتا ہوا اسے دیکھ کر مسکراتا ہوا سوچنے لگا۔۔ وہ جب کھانا کھا چکے تو اذہار بولا اور اب وقت ہے شرط منوانے کا۔۔
جاری ہے
