Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16

ڈاکٹر یہ بولتا آگے بڑھ گیا اور ازہار پریشان ہوتا ان کے پیچھے آیا ۔۔پلیز بیٹھیں ڈاکٹر کرسی کی طرف اشارہ کرتا بولا۔۔ازہاد ڈاکٹر کو دیکھتا خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گیا۔۔دیکھیں مسٹر آزہاد آپ تو یہ جانتے ہیں کہ مریض کو دل کی بیماری ہے۔مگر دل کی کنڈیشن تو بہت اچھی ہے ہمیں سمجھ نہیں آرہی پھر ان کی ایسی حالت کیوں؟؟کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ بیماری سمجھ نہیں آتی انسان کو کچھ بھی نہیں ہوتا اور وہ اوپر سے ختم ہوتا جاتا ہے یا تو مریض نے کوئی بات دل پر لے لی ہے جس سے ان کی یہ حالت ہوئی ہے۔۔اس کا صرف ایک ہی حل ہے ٹھیک ہونے کا کہ مریض خوش رہے کوئی بھی پریشانی والی بات دل پر نہ لے اب یہ مریض کے خود کے ہاتھ میں ہے کہ وہ ٹھیک ہونا چاہتا ہے یا نہیں۔۔آپ سمجھ رہے ہیں میں کیا کہنا چاہتا ہوں مسٹر آزہاد۔۔
آزہاد سمجھ گیا تھا اس نے ہاں کرتے ہوئے گردن ہلائی اور اٹھ کے گرینڈ پا کے روم کی طرف قدم بڑھائے۔۔گرینڈ پا نے آزہاد کی اس رات کی باتیں دل پڑھ لے لی تھی وہ ڈر گئے تھے کہ کہیں ان کی بیٹی کی طرح ازہاد کو بھی محبت نگل نہ جائے کہیں ازہاد کو بھی ان سے محبت چھین نا لے۔۔۔۔
وہ دروازہ کھولتا کمرے میں آیا وہ ایک پل میں ہی اسے بے حد کمزور لگے۔وہ قریب آتا اس انکے ماتھے کو چومتا وہیں بیٹھ گیا۔۔اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔۔گرینڈ پا جب مجھے آپ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو کیا آپ میرا ساتھ نہیں دیں گے؟؟مجھے یوں اکیلا چھوڑ دیں گے ؟؟ وہ خاموشی سے ان کو دیکھتا دل میں ان سے مخاطب تھا۔۔مجھے آپ کی دعاؤں کی آپ کے ساتھ کی ضرورت ہے گرینڈ پا پلیز ایسا مت کریں میرے لئے واپس آئیں میرے لئے جییں پلیز۔۔وہ ان کے ہاتھ پر اپنا سر رکھتا ٹوٹ گیا۔۔
اور گرینڈ پا نے آہستہ سے آنکھیں کھول کے ازہاد کو دیکھا۔۔آزہاد۔۔۔۔۔انہوں نے بے حد کمزور آواز نے اسے پکارا۔۔۔اذہاد نے جھٹکے سے گردن اٹھائی۔۔وہ ا سے دیکھ کے مسکرائے۔۔۔ پریشان نہیں ہونا میرے بچے۔ان کے اس جملے میں بہت سی ان کہی باتیں تھیں جو اذہار سمجھ گیا تھا۔۔۔
وہ بھی اس پل انہیں دیکھ کے مسکرایا اور گرینڈ پا نے آنکھیں بند کر لی۔۔۔اور پھر اذہاد وہی ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے بیٹھ گیا۔اس کی کب آنکھ لگی اسے نہیں پتا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور غصے میں سبزیاں زور زور سے کاٹ رہی تھی جیسے وہ سبزی نہیں آزہاد ہو جس پر وہ اپنا سارا غصہ نکال رہی ہو زور زور سے چھری گاجر پر مار رہی تھی۔۔۔
سمجھتے کیا ہیں خود کو ؟؟میں پاگل ہوں جو ساری رات پاگلوں کی طرح انہیں فون کرتی رہی ان کی فکر میری جان پر بنی تھی میرا ایک فون تک اٹینڈ نہیں کیا۔۔۔کھٹ کھٹ زور زور سے چھری مارتی وہ آنکھوں میں آنسو لیے دانت پیستی بڑبڑا رہی تھی۔۔۔میں ساری رات سوئی نہیں کہ پتا نہیں اذہار کس حال میں ہو نگے۔۔مگر انہیں میری کیا پرواہ بھاڑ میں جائے حور ان کی بلا سے۔۔۔وہ گال پر بہتے آنسو کو بے دردی سے پونچھتی پھر کھٹکھٹ کرنے لگی۔۔۔
وہ ساری رات روتی رہی تھی آزہاد کے لئے پریشان ہوتی رہی تھی کہ کہیں پولیس نے اسے کچھ کر تو نہیں دیا ہوگا عجیب عجیب سے خیال تھے جو اسے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھے اکیلی گھر میں رہتے جو کبھی نہیں ڈری تھی وہ رات اس نے بے حد خوف میں گزاری تھی ساری رات روتے اذہاد کانمبر ملاتی رہی مگر کوئی جواب نہیں آرہا تھا وہ بھوکی پیاسی روتی بلکتی کبھی اٹھ کے ادھر سے ادھر چکرکاٹنے لگتی تو کبھی کونے میں بیٹھ کے رونے لگتی ساری رات اس کی ایسی انگاروں پر گزری مگر آزہاد نے نہ تو کوئی فون کیا نا اس کا فون اٹھایا۔۔۔
اب وہ اسی غصے میں موبائل بند کرکے اپنا غصہ ان بیچاری معصوم سبزیوں پر اتار رہی تھی۔۔کہ جب ہی دروازے کی بیل ہوئی حور کے ہاتھ ایک دم رکے وہی چھری پھیک کے دروازے کی طرف بڑھی۔۔خود کو سنبھالتی دیواروں کا سہارا لے کے چلتی دروازے تک پہنچی اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا آنسو صاف کرتی اس نے ہنستے ہوئے دروازہ کھولا۔۔دروازہ کھلنے کے بعد اس کے ہنستے لب بجھ گئے۔۔۔بیلا۔۔۔ اس نے آہستہ آواز میں کہا۔۔۔حور جو سمجھی تھی کہ شاید اذہاد ہے۔اسے آخر اس کی حالت پر ترس آگیا ہو اس لئے وہ اسے معاف کر کے اس سے ملنے گھر آیا ہے مگر نہیں وہاں تو بیلا تھی۔۔۔وہ بیلا کو دیکھتی خود پر قابو کرتی مڑی۔۔۔
بیلا اس کی حالت دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔۔۔لال روتی سوجی ہوئی آنکھیں۔۔بکھرے بال۔۔کل والے کپڑوں میں وہ اسے عجیب ہی لگی۔۔بیلا پریشان ہوتی اس کے پیچھے آئی۔۔حور یہ کیا حال بنایا ہوا ہے اپنا؟؟
حور اپنا چھوڑا ہوا عمل واپس آ کے پھر سے دوہرانے لگی۔۔۔
حور میں تم سے پوچھ رہی ہوں۔۔بیلانے خاموش کھڑی حور کو اور پھر اس کے چلتے ہاتھوں کو حیران نظروں سے دیکھا۔۔اس کی حالت اسے پاگلوں جیسی لگی۔۔۔جن پہ نہ تو کوئی بات اثر کرتی ہیں اور نہ وہ کچھ بولتے ہیں بس اپنی دھن کی کرتے ہیں۔۔
چلو حور میں تمہیں لینے آئی ہوں بیلا اسے اس حال میں نہیں چھوڑ سکتی تھی اس لئے اس نے سوچا کیوں نہ تھوڑا باہر گھوم پھر آئے گی تو حالت بہتر ہو جائے گی گھر میں بند بند یا پھر پڑھائی کا کام انسان کا دماغ تو گھما ہی دیتی ہے۔۔۔۔
حور میں تم سے کیا کہہ رہی ہوں۔۔ چھوڑو اسے بیلا اس کے ہاتھ سے چھری لیتی بولی۔۔۔چلو فورا سے تیار ہو جاؤ ہم باہر گھومنے جا رہے ہیں وہ اسے یہ بولتی اندربڑھی اور اس کے الماری سے اس کے لئے کپڑے نکالنے لگی۔اور حور پلٹ کے خاموش نظروں سے فون کو دیکھنے لگی۔اچانک وہ بےحد غصے میں اپنے کمرے میں گئی بیلا کے ہاتھ سے اپنے کپڑے لیےاور واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھی تھی بیلا گاڑی ڈرائیو کر رہی تھی اور حور پیچھے چھوڑے گئے منظروں کو دیکھ رہی تھی۔۔
حور کہاں جانا پسند کرو گی۔؟؟بیلا نے خوشی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا جو خاموش بیٹھی تھی شکر ہے وہ اس کی بات مان کے اس کے ساتھ آ گئی تھی۔۔
پتا نہیں۔۔۔ ہور کی طرف سے بیزار جواب آیا۔۔
چلو ایسا کرتے ہیں میں تمہیں میوزیم لے کے چلتی ہوں تمہیں اچھا لگے گا۔۔۔۔۔۔ حور کی شکل دیکھتی بولی۔۔۔حور اب بھی باہر کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔حور دیکھ کچھ اور رہی تھی اور دماغ سے سوچ کچھ اور رہی تھی وہ بھیڑ میں ہو کر بھی خود کو تنہا محسوس کر رہی تھی بہت اکیلا۔۔۔
بیلا کافی دیر تو اسے ایکسائٹڈ ہوکر وہاں رکھی چیزوں کے بارے میں بتاتی رہی پھر جب اس کا چہرہ دیکھاجو دنیا جہاں کی بیزارگی لیے وہ اس کے ساتھ چل رہی تھی تو بیلا نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسٹر آزہاد۔۔۔ آزہاد کی کچھ منٹ پہلے ہی آنکھ لگی تھی جب ڈاکٹر کی آواز سنتے وہ فورا کھڑا ہوا آنکھوں میں رات بھر جاگنے کی تھکن صاف نظر آرہی تھی۔۔مبارک ہو آپ کے گرینڈ پا اب خطرے سے باہر ہیں۔۔لیکن میں اب بھی یہی کہوں گا کہ ان کے ٹھیک ہونے میں سب سے بڑا کردار ان کا اپنا خود کا کردار ہے جوان کو اب ادا کرنا ہے۔۔۔۔اذہاد نے ڈاکٹر کی بات سن کے شکر سے آنکھیں بند کیں اور آنکھیں کھولتا گرینڈ پا کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ کے مسکرا رہے تھے۔۔
ہم ان کو ایک دو دن آبزرویشن میں رکھ کے چھٹی دے دیں گے۔۔۔ڈاکٹر یہ کہتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
اور آزہاد گرینڈ پا کی طرف آتا ان کی طرف جھکا..
گرینڈ پا اب آپ کو میرے لئے ٹھیک ہونا ہے مجھے آپ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے آپ کے علاوہ میرا کون ہے مجھے کیا اکیلا کرکے جانا چاہتے ہیں ؟؟؟
نہیں میرے بچے میں تمہیں اکیلا چھوڑ کے کیسے جا سکتا ہوں ابھی تو مجھے تمہاری شادی میں پٹاخے پھوڑنے ہیں خوب موج مستی کرنی ہے اتنی آرام سے تھوڑی جان چھوڑوں گا۔۔۔وہ اسے ہنساتے ہوئے بولے اور اذہاد اداس آنکھوں سے انہیں دیکھتا مسکرا دیا۔۔
ٹھیک ہے اب تم بھی جاؤ تھوڑا آرام کر لو رات سے میری وجہ سے تم بھی پریشان ہوتے رہے کچھ کھایا پیا بھی ہے یا نہیں؟؟وہ اس کی فکر کرتے ہوئے بولے۔۔
نہیں میں یہی آپ کے پاس ہوں۔۔۔
میں کہہ رہا ہوں نہ تم جاؤ میں بھی ابھی کچھ دیر آرام کروں گا۔۔وہ اس سے ضد کرنے لگے آخرکار آزہاد تھک ہار کے ان کی بات مان گیا۔۔۔
اوکے آپ آرام کریں میں فریش ہو کے آتا ہوں ۔۔۔وہ باہر جاتے ہوئے بنا ڈیلن کو دیکھے اسے گرینڈ پا کے پاس ان کا خیال رکھنے کا کہتا لمبے لمبے ڈاگ بھرتا باہر آگیا۔۔۔۔
ڈیلن نے صاف محسوس کیا تھا رات سے آزہاد کا اس کے ساتھ ویسا رویہ نہیں تھا جیسے پہلے تھا۔ اب بھی اس نے اس سے بات کی تو پتھروں جیسے سختی اور اجنبیت صاف جھلک رہی تھی۔۔
آزہاد باہر اتا اپنا موبائل نکال کے دیکھنے لگا اسے حور کی فکر تورات سے تھی مگر وہ گرینڈ پا کی وجہ سے اس سے بات نہیں کر سکتا تھا اور ابھی بھی وہ گاڑی میں بیٹھا اسے سوچتا موبائل دیکھ رہا تھا۔جہاں حور کی رات سے اب تک کی ہزاروں مس کال آئی ہوئی تھی۔۔۔اس نے پیچھے سیٹ پر زور سے سر مارا وہ کیسے موبائل کی بجتی آواز نہ سن سکا۔۔غصے میں اسٹیرنگ پر زور سے ہاتھ مارتا وہ حور کو کال ملانے لگا۔۔۔
حور تم یہاں بیٹھو میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔۔بیلا اسے ایک خوبصورت سے پارک کی بینچ پر بٹھاتی ہوئی بولی۔۔۔
نہیں بیلا پلیز گھر چلو میرا دل نہیں کر رہا یہاں کچھ کھانے کو۔۔۔ وہ بیزار ہوتی اس سے بولی۔۔
چپ کر کے بیٹھی رہو حور ورنہ میں ناراض ہو جاؤ گی بس تھوڑی سی دور ہے وہ شاپ اس کے ہاتھ کا برگر بہت مزے کا ہوتا ہے تم کھا کے پاگل ہو جاؤ گی میں بس یوگئی اور یو آئی۔۔۔بیلا اس کے نانا کرنے پر بھی آگے بڑھ گئی۔۔
ہور بینچ پر بیٹھنے کی بجائے آلتی پالتی مار کر گھاس پر بیٹھ گئی اور گردن جھکا کے اپنی گود میں رکھے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھنے لگی۔۔کہ اتنے میں اس کا موبائل بجا۔۔اس نے جیب سے موبائل نکالا تو دیکھا وہاں ازہاد کالنگ لکھا آرہا تھا۔۔
___________________
حور کو بے حد غصہ آیا دل کہہ رہا تھا حور فون اٹھا اور دماغ کہتا تھا نہیں حور تم اتنی بھی اب غیر اہم نہیں ہو اور حور نے دماغ کی بات مان کر فون کاٹ دیا۔۔
آزہاد کی پھر کال آنے لگی دل زور زور سے یہاں سے وہاں اچھل کود کر رہا تھا۔مگر حور نے پھر کال کاٹ دی اس کا چہرہ ضبط سے سرخ ہو چکا تھا۔۔اب کیوں فون کر رہے ہیں مار تو دیا تھا رات میں مجھے۔۔۔اور اب اذہاد بار بار اسے کال کر رہا تھا زندگی تو تھا ہی وہ شروع سے اور اب حور بھی ضد پر اڑی ہوئی تھی
آزہاد نے فون کان سے ہٹا کے فون کو گھورا یہ میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہی؟؟ماتھے پے انگنت بل تھے۔۔
اور پھر آزہاد نے اپنے فون سے اس کی لوکیشن چیک کی اور گاڑی میں بیٹھتا تیز روڈ پر گاڑی بھگا دی۔۔
حور نیچے منہ کیے بیٹھی فون کو دیکھ رہی تھی کہ ایک بار پھر آزہاد کی کال آئی اور اس کے ساتھ دو بھاری جوتے بھی نظروں کے سامنے آئے بجتے فون کو دیکھتے اور پھر نظر جوتوں سے ہوتی اوپر اٹھی اسی پل اذہاد لال آنکھوں لیے اس کے سامنے جھکتا ہوا بیٹھا اسے اپنے سامنے دیکھ کے حور کا دل ایک دم دھک سے رہ گیا۔گلہ خشک ہوگیا۔۔اذ ہار کو اس کی حالت دیکھ کے بہت حیرت ہوئی صاف پتہ لگ رہا تھا کہ وہ بہت روئی ہے۔آزہاد نے فون کان سے ہٹا کے موبائل بند کیا اور حور کے ہاتھ کا بجتا موبائل بھی اس وقت بند ہوگیا۔۔میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں حور؟؟سوال آیا۔۔
حور نے بے حد غصے سے لال ہوتے چہرے کے ساتھ آزہاد کو دیکھا بنا پلکیں جھپکے۔۔۔
میں کچھ پوچھ رہا ہوں حور ؟؟آہستہ بھاری آواز میں کہا گیا۔۔
حور نے اسے دیکھتے ہوئے اپنا بیگ اٹھایا کھڑی ہوئی اور تیز تیز چلنے لگی۔آزہاد نے خاموشی سے اسے دیکھا اور کھڑا ہوتا اس کے ساتھ چلنے لگا۔
رکو حور۔۔۔ اس نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے اسے کہا۔۔
مگر وہ غصے میں چلتی ہی جا رہی تھی اب آزہاد کو غصہ آیا اس نے قدموں کو روک کے چلتی ہوئی حور کا بازو زور سے پکڑ کے اپنی طرف کھینچا حور پوری گھومتی ہوئی اس کی طرف مڑی لمبے بال کمر سے ایک دم سامنے آئے۔۔اذہاد نے بےحد غصے سے حور کو دیکھا۔۔ میں نے پوچھا ہے میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں۔۔
حور نے گردن اس کی طرف سے موڑ کے دوسری طرف کرلی تھی آزہاد نے اس کے رویے کو بہت حیران نظروں سے دیکھا اور پھر آہستہ سے اس کے ہاتھ سے فون لیا اور زور سے زمین پر مارا جس سے وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔۔
حور نے گردن گھما کے زمین پر پڑے اپنے ٹوٹے موبائل کو دیکھا اور پھر حیران نظروں سے آزہاد کو۔۔۔
جب میرا فون اٹھا نہیں سکتی تو پھر کس فائدے کا یہ موبائل اس لیے میں نے اسے توڑ دیا۔۔وہ ناک پھولاتا غصے سے بولا۔۔۔
وہاں بیٹھے لوگوں نے پلٹ پلٹ کے اس خوبصورت ہنسوں کے جوڑے کو دیکھا جو لڑ رہے تھے۔۔۔
حور نے تیز تیز سانس لیتے ہوئے خود پر ضبط کرتے ایک پل اس کی آنکھوں میں دیکھا اور مڑ کے پھر دوبارہ دوسری طرف جانے لگی۔۔
آزہاد پھر اس کے ساتھ چلتا اس کا بازو پکڑ کے اپنی طرف موڑا اب حور نے بھی اس کی کاروائی کا خوب جواب دیا اور اپنے نازک ہاتھ اسے سینے پر رکھ کے پیچھے کی طرف زور سے دھکا دیا وہ کیا پیچھے ہوتا بلکہ حور اس سے چار قدم پیچھے ہو گی وہ ایک انچ بھی اس کو اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکی اور پھر چلنے لگی۔۔اب آزہاد بھی پوری طرح میدان میں کود پڑا تھا اتنا غصہ اتنی اکڑ ایسا تو پھر ایسا ہی صحیح حور۔۔۔وہ آستین چڑھاتا اس کی طرف قدم بڑھاتا اس کے ساتھ چلتا ایک بار پھر اس کے دونوں بازوؤں کو مضبوطی سے پکڑ کے اس کا منہ اپنی طرف گھما کے کھڑا ہوا حور نے زور سے اس کے ہاتھ سے اپنے بازوؤں کو چھڑانے کی کوشش کی مگر اذہاد کی گرفت اتنی مضبوط تھی کے وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی وہ زور زور سے ہاتھ چلا رہی تھی خود کو چھڑانے کے لئے اپنی پوری طاقت استعمال کر رہی تھی مگر آزہاد کی طاقت کے آگے اس کی طاقت کچھ بھی نہیں۔آخر کار وہ ٹوٹ گئی اس کی برداشت ختم ہو گئی وہ زور زور سے اس کے چوڑے سینے پر اپنے نازک ہاتھوں سے مارتی بے تحاشہ رو رہی تھی۔ آزہاد نے اسے ایسا کرنے سے نہیں روکا وہ اسے خاموش دیکھتا رہا۔۔آخر کار جب وہ اسے مار مار کے تھک گئی اپنے دل کی ساری بڑھاس نکالی تو آزہاد نے اسے آرام سے ایک بینچ پر بٹھایا اور خود ٹانگوں کو موڑتا اس کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا جو زور زور سے روتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
جب ہی آزہاد نے اس کے چہرے پہ بکھرے آنسوؤں کو پونچھنے کے لئے آہستہ سے اپنا ہاتھ اٹھاتے اس کے چہرے کو چھوا تو حور نے زور سے اس کا ہاتھ جھٹکا ۔۔
آپ کو کیا فکر میری۔۔ آپ کو کیا احساس میرا۔۔میں جیو یا مروں۔۔آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتامیرے ہونے یا نہ ہونے سے۔۔میرے ہنسنے سے۔ رونے سے میرے۔ لفظوں سے یا پھر میرے بہت خاموش ہونے سے۔۔ آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا اذہاد عریض۔۔۔میں ساری رات سوئی نہیں اس ڈر سے کہ آپ ٹھیک ہیں یا نہیں؟؟
پوری رات آپ کو کال کرتی رہی آپ کو احساس ہی نہیں کہ مجھے ایک فون کر لیتے یا میرا فون اٹھا لیتے رورو کے آپ کے لیے میرا یہ حال ہوگیا۔۔وہ ہاتھ سے اشارہ اپنی طرف کرتی روتے ہوئے چیختے ہوئے اس سے بولی اور اذہاد اسے ایک ٹک دیکھے جا رہا تھا یعنی اظہار کا وقت قریب تھا اس کی سماعتیں پوری توجہ سے اسے سن رہی تھی کائنات اسے سنتے جیسے رک سی گئی تھی۔۔وہ چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ سجا کے حور کو دیکھ رہا تھا جو اس کے لئے اتنا رو رہی تھی اس کی فکر کر رہی تھی اسنے اپنا یہ حال ازہاد کے لئے بنایا تھا آزہاد کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا حور کے لیے۔۔۔۔
اذہاد نے اس کا نازک سا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیا اور آہستہ سے اپنے سینے پر رکھا جہاں اس کا دل زور زور سے حور ہی کیلئے دھڑک رہا تھا۔۔۔
حور نے روتے ہوئے اچانک اپنے اذہاد کو دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ کو جہاں اس کے ہاتھ کے نیچے آزہاد کا دل دھڑک رہا تھا وہ محسوس کر سکتی تھی اس کی ہر دھڑکن۔۔وہ کانپ سی گئی۔۔۔
پوچھو اس سے کیا اسے تمہاری فکر نہیں ؟؟؟ پوچھو اس سے کیا اسے تمہارا احساس نہیں ؟؟کیا اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تم سے؟؟ تمہارے ہنسنے سے رونے سے تمہارے لفظوں سے۔۔ تمہارے خاموش ہو جانے سے۔۔اذہار ایک ٹک اسے دیکھتا بے حد محبت سے آہستہ سے اپنے لفظوں کے جادو سے اسے مدہوش کر رہا تھا۔
حور نے آہستہ سے اپنی آنکھیں بند کر لی۔۔۔اس کا ہر لفظ دل پر اثر کر رہا تھا۔۔۔اذہاد کا دل ہر بات کی گواہی دے رہا تھا جو حور کے وجود کے احساس سے ہی زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔
پوچھو حور اس سے اگر اس کا جواب نہ ہے تو میں اسے سینے سے نکال کے پھینک دوں گا ایک یہی تو ہے حور جو تمہارے لیے تڑپتا ہے تم پر مرتا ہے جسے پوری دنیا میں صرف تم سے محبت ہو گئی تم اس کے لیے اہم ہوگی جسے تمہاری فکر ہر وقت رہتی ہے ہر پریشانی تم پر آنے سے پہلے اسے پتہ چل جاتا ہے جسے تم نے دھڑکنا کھایا۔۔یہ تو کئی سالوں سے خاموش تھا تم نے اسے زندہ کیا۔۔ احساس محبت اور کئی خوبصورت جذبوں سے تم نے اسے روشناس کروایا۔۔وہ آنکھوں میں بے پناہ محبت لیے اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھے اسے دیکھتا ہوا کہہ رہا تھا۔۔۔
اور حور نے آہستہ سے جھکتے ہوئے اس کے سینے پر اپنا ماتھا ٹکایا۔۔۔وہ اب خود سے تھک گئی تھی اس کا عمل گواہ تھا اس بات کا کہ وہ بھی آزہاد کی محبت میں ڈوب چکی ہے۔۔دونوں کچھ پل ایسے ہی خاموش ایک دوسرے کی دھڑکنوں کو ایک دوسرے کے وجود کو محسوس کرتے رہے۔۔پھر حور آہستہ سے اس سے الگ ہوتی نظریں اٹھاتی آزہاد کے چہرے کو دیکھا آزہاد نے ہاتھ آگے بڑھا کے اس کے چہرے پر گرے آنسو کو اپنی انگلیوں کی پشت سے اس کے حسین چہرے پر پھیر کے سمیٹا۔۔حور نے اب غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔۔وہ اپنے غصے میں اس پر غور کرنا بھول گئی تھی اور اب جب غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے غور سے آزاد کا چہرہ دیکھا۔۔۔
ہادی آپ نے یہ اپنا کیا حال بنایا ہوا ہے؟؟ وہ ماتھے سے ہاتھ رکھتی آہستہ سے اس کا پورا چہرہ چھوتی ہوئی بولی۔۔جہاں کل رات کی ساری داستان اس کے چہرے پر رقم تھی۔۔کپڑے بھی کل کے پہنے ہوئے ہیں؟ وہ اس کے کاندھوں پر اپنا مرمریں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔ اس کی آنکھوں میں اس کے لفظوں میں اس کے ہر عمل میں آزہاد نے خود کے لئے فکر محسوس کی۔۔۔
وہ ہمیشہ اپ ٹو ڈیٹ رہتا تھا مہنگے کپڑے جن پر ایک سلوٹ نہ ہو۔۔خوشبو میں بسا گھنے خوبصورت بالوں کو سیٹ کیے حور کا جو دل دھڑکا تھا۔۔۔آج وہ اسے ایسے تھکا ہوا۔۔کل کے ملگجے کپڑوں میں اور لال ہوتی آنکھیں جن میں رتجگے کی کہانی صاف بیاں تھی دیکھ کے فکرمند ہو گئی تھی۔۔اس کا ہادی ایسے تو نہیں رہتا تھا۔۔
اذہاد ہلکا سا ہنسا اور پھر اس کے منہ سے خود کےلیے ہادی لفظ سن کے اسے حور پر بہت پیار آیا۔۔وہ اس کے دونوں نازک نرم ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کے انہیں دیر تک ہونٹوں سے لگایا اور پھر ان پر اپنی ٹھوڑی ٹکاتا حور کو دیکھنے لگا۔۔۔
حور اذہاد کے اس جذباتی عمل پر ایکدم سٹ پٹا سی گئی اور آزہاد اس کے بلش کرنے پر ہنس دیا۔۔۔
وہ ایکدم کھڑا ہوا اور حور کا ہاتھ پکڑ کے اسے کھڑا کرتے چلنے لگا۔۔۔ہادی ہم کہاں جا رہے ہیں ؟؟حور نے ایک دم پریشان ہوتے اسے پوچھا۔۔
گھر۔۔ اس نے فوراً پلٹ کے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔۔
مگر بیلا وہ برگر لینے گئی ہے میں اسے نہ ملی تو پریشان ہو جائے گی۔۔ حورنے سر پر ہاتھ مارا اور اوپر سے آپ نے میرا موبائل توڑ دیا اب میں کیسے اسے بتاؤ گی؟؟وہ مصنوعی غصے سے اسے دیکھتی منہ پھولا کے بولی۔۔۔
آزہاد نے بڑی دلچسپ نگاہوں سے اس کے دلنشیں معصوم اداؤں کو دیکھا اور شرارت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔حور کیا اپنی ان معصوم اداؤں سے میری جان لینی ہے؟؟
حور نے اپنی آئی برو کو جڑا کے اسے غصے سے دیکھا اور نازک ہاتھ کا مکہ بنا کر اس کے سینے پر مارا۔۔اذہار زور سے ہنسا۔۔۔ہادی میں سیریس ہوں پلیز۔۔۔۔وہ ہاتھ چھوڑا کے پیچھے جانے لگی تھی جہاں بیلا اسے چھوڑ کے گئی تھی۔۔آزہاد نے جاتی حور کا پھر سے دوبارہ ہاتھ پکڑا اچھا میں کچھ سوچتا ہوں۔۔ وہ اسے اور تنگ کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
آئیڈیا۔۔۔حور تم دونوں کس میں آئی ہو؟؟وہ فورا کچھ سوچتا ہوا بولا۔۔
میری گاڑی میں صبح ہی ایک لڑکا گھر پے چھوڑ کے گیا تھا گاڑی۔۔۔
ہاں وہ میرا ہی آدمی تھا گاڑی کس طرف کھڑی ہے؟؟
حور آگے بڑھتی گاڑی کی طرف اسے لے جانے لگی۔۔
حور تمہارے اس بیگ میں پیپر اور ایک پین ہے؟؟وہ گاڑی کے قریب آتا اس سے بولا۔۔۔
ہاں ہے۔۔۔
اوکے جلدی دو۔۔
حور نے بیگ سے ایک پیپر اور پین نکال کے اذہار کو دیا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
بیلا میں گھر جا رہی ہوں تم پریشان مت ہونا حور۔۔آزہاد نے پیپر پر لکھا اور وہ پیپر اس کے سامنے شیشے کے وائپر میں پھنسا دیا۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ بیلا ہور کو ڈھونڈتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف ضرور آئے گی اور پھر وہ یہ پیپر پڑھ لے گی۔۔۔
حور آزہاد کی اس حرکت کو دیکھ کے زور سے ہنسی۔۔
ہادی آپ کتنے ذہین ہیں واہ۔۔۔۔
آزہاد اس کی طرف پلٹا اور اس کا ہاتھ پکڑ کے اپنی گاڑی کی طرف بھاگنے لگا۔ہنسو کا خوبصورت جوڑا آسماں پہ پر پھیلائے خوشی سے آزاد اڑ آرہا تھا۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *