Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06
اسکا سر گھوم رہا تھا آنکھیں بے حد بھاری هو رہی تھی دل عجیب سا مطلع رہا تھا جسم کا ہر حصہ درد کار رہا تھا۔اسے متلی سی ہونے لگی۔آنکھوں کو مشکل سے پوری کھولنے کی کوشش کی ہر طرف اسے دھندلا سا نظر آ رہا تھا آنکھوں کو بار بار جھپکا جس سے پہلے سے کچھ بہتر نظر آیا اسنے ہوسپٹل روم کو دیکھا۔پھر اپنے ہاتھ آنکھوں کے آگے کیے اسکے ک خوبصورت ہاتھ کہیں کہیں سے زخمی تھے اور دونوں ہاتھوں پے ڈرپ لگی ہوئی تھی۔وہ جھٹکے سے اٹھا ۔۔اسکے شرٹ کے سامنے کے بٹن کھولے تھے جس سے اس کا خوبصورت ورزشی سینا نظر آرہا تھا۔اسنے کھینچ کے دو ہاتھوں سے ڈرپس نکالی شرٹ کے بٹن بند کیے ۔۔
اتنے میں دروازہ کھولتی نرس ہنستی ہوئی اندر آئ۔ارے آپ کو ہوش آگیا۔۔
اذہاد نے ایک آئیبرو کو اٹھاتے حیرت سے نرس کو دیکھا۔۔
ویسے آپ کو آبھی آرام کرنا چاہئے ابھی آپ کی کنڈیشن اٹھ کے بیٹھنے۔۔ارے یہ کیا آپنے ڈرپس نکال دی۔۔
اور اذہاد جو کب سے اسکی بکواس برداشت کر رہا تھا آخر میں اسکی برداشت جواب دے گئی۔۔۔ایک سیکنڈ میں اپنی شکل گم کرو ورنہ اپنی نقصان کی ذمہ دار تم خود ہوگی۔۔وہ سانپ کی طرح پھنکارتا نرس سے بولا۔۔
نرس الٹے قدموں سے روم سے بھاگی وہ اس وقت اسے خونی درندہ لگا۔۔جو واقی ایک سیکنڈ میں اسکی گردن موڑ بھی دیتا۔۔
اذہاد کی سانس تیز تیز چل رہی تھی اس نے زور سے ڈیلن کو آواز دی۔
ڈیلن نے نرس کو روم سے بھاگتا دیکھ کے سمجھ تو گیا تھا وہ تیر کی طرح اندر آیا۔۔یس سینور ۔۔۔
اذہاد نے ڈیلن کو دیکھا اس کی آنکھیں ہمیشہ کی طرح لال ڈیلن کو۔۔
مجھے کل کا سارا معاملہ ڈیٹیل میں بتاؤ..اذہاد نے سخت آواز میں کہا۔۔۔
اور ڈیلن نے ایک ایک بات آزہاد کو بتائی۔۔
اذہاد کی کنپٹی زور زور سے پھڑک رہی تھی کہ اسے ایک لڑکی نے ہاتھ کیسے لگایا اور اس کی اتنی ہمت کے وہاں سے اٹھا کے ہاسپٹل لائی اور اسے خون بھی دیا۔۔اس نے زور سے اپنی انگلیوں کو بیٹھ کے اندر تک دھنسایا ہوا تھا جیسےوہ وہی لڑکی ہو۔
ڈیلن جاؤ میری گاڑی لے کر آؤ اور میرے کپڑے بھی مجھے یہاں سے فوراً کرنا ہے۔۔
ڈیلن اس کے حکم کی تعمیل کے لئے فورا وہاں سے چلا گیا کیونکہ وہ جانتا تھا اذہاد کو انتظار کرنا پسند نہیں۔۔اور غلطی کی کوئی گنجائش بھی نہیں ۔۔
اذہاد کے دماغ نے اب صاف کل رات کی فلم اس کی آنکھوں کے سامنے چلانا شروع کر دی تھی وہ نازک سی لڑکی تھی جس کے گولڈن بال تھے بے حد لمبے سلکی اور وہ اس کے منع کرنے پر بھی بار بار اسے بچانے کے لیے آگے بڑھ رہی تھی۔۔یہ سوچتے ہوئے آزہاد کا الٹا پاؤں مسلسل حرکت کر رہا تھا۔۔
_______________________
حور کی آنکھ صبح سات بجے کھلی وہ اٹھی فریش ہوئی اور گھر سے نکل گئ اس نے راستے میں آتی ایک فلاور شاپ پے گاڑی روکی اور وہاں سےالگ الگ کلر کے کچھ پھول لیے اس کا ارادہ ہاسپٹل جا کے اس مریض کی عیادت کرنے کا تھا جس کی حور نے کل رات جان بچائی تھی۔۔پھول لے کے وہ ہاسپٹل پہنچ گئی تھی۔۔۔
نرس بھاگتی ہوئی سینئر ڈاکٹر کے پاس گی جوپیٹر کے جانے کے بعد اس کی جگہ ذمہ داری سے ڈیوٹی دے رہا تھا۔۔ ڈاکٹر جلدی چلیں کل رات ایکسیڈنٹ کیس میں آیا ڈاکٹر پیٹر کا پیشنٹ ہوش میں آگیا ہے ۔۔لیکن اس وقت وہ بہت غصے میں ہیں کسی کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے آپ ڈاکٹر پیٹر کو فون کریں کہ وہ آئے۔۔۔سینئر ڈاکٹر نے فورا پیٹر کو فون کیا۔۔اوکے میں ابھی آتا ہوں پیٹر نے کہا ۔
حور قدم بہ قدم چلتی دروازے تک آئی اور ہلکا سا دروازے پہ نوک کیا۔۔پھر ہلکا سا ہینڈل پے ہاتھ رکھ کے نیچے کی طرف زور دیا۔جس سے دروازہ کھلا ۔۔
حور نے کمرے کا جائزہ لینے کے لئے صرف گردن اندر کی اور سامنے ہی وہ اپنے مضبوط جسامت سے بیڈ پے دروازے کی طرف پیٹھ کیے ہوئے بیٹھا تھا ۔۔
اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ہتھیلی کے بل سے بیڈ پے پھیلاکے ٹکآیا ہوا تھا۔آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا جس سے اس کے مضبوط ورزشی بازو نظر آ رہے تھے۔۔ایکسرسائز کی وجہ سے ہاتھوں کی نسیں ابھری ہوئی تھی۔اور الٹے ہاتھ پر اوپر سے نیچے تک ٹیٹو بنا ہوا نظر آیا جو دکھنے میں بڑا کول لگتا تھا۔
حور کو تھوڑی گھبراہٹ ہوئی پتہ نہیں کیوں وہ تو ایک ڈاکٹر تھی بھرپور اعتماد اور حوصلے والی گھبراہٹ کی امید حورین سے رکھنا ناممکن تھا۔۔۔شاید یہ کنڈیشن اس لیے ہیں کہ کل جو اس نے اپنی جان کی پرواہ کیے بنا اس کی جان بچائی اب وہ اس کے سامنے ٹھیک ٹھاک بیٹھا ہے وہ کیسا ری ایکٹ کرے گا حود کو دیکھ کے۔۔ عجیب عجیب سی سوچیں تھی جو اس کے ذہن میں آرہی تھی ۔۔۔۔حور نے گردن پیچھے کی اور گہرا سانس لے کے دروازے کے اندر قدم رکھا۔۔
اذہاد نے جھکی گردن سے صرف آنکھیں اٹھائی۔اسے اپنے روم میں کسی اور کے وجود کا احساس ہوا وہ ڈیلن کے آنے کی امید کر رہا تھا کیونکہ وہ وہاں سے جلدی نکلنا چاہتا تھا۔اسے یہاں کی ہر چیز سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔۔
ہائے۔۔۔حور نے اپنی خوبصورت آواز میں کہا۔
جاؤ یہاں سے۔۔سامنے سے انتہائی سخت جواب آیا۔۔
حور نے نہ سمجھی سے اس کے جواب بے دیہان دیا کہ شاید اس نے کچھ غلط سنا ہے۔حور نے اپنی جھجک مٹانے کے لیے ہلکا سا مسکرائ۔۔
سو کیسی طبیعت ہے اب آپ کی؟؟حور نے اس کی خیریت پوچھی۔
اذہاد جو تیز تیز سانس لے رہا تھا اب اس کی برداشت نے جواب دے دیا۔لاوا جو پک رہا تھا وہ پھٹ پڑا اور پھٹابھی کس پے بیچاری حور پہ وہ بےحد غصے میں اٹھا۔
حور نے جب اس کا چہرہ دیکھا تو اسے بہت کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا مگر دیر ہو چکی تھی اس کے قدموں نے اس کا ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا وہ بھاگنا چاہتی تھی مگر پتھر کردی گئی تھی ۔
اذہاد اپنی جگہ سے اٹھ کر اس تک ایسے آیا جیسے شیر اپنے شکار پر جھپٹتا ہے ۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے اسے اپنے قریب آتا دیکھ رہی تھی۔
اذہاد نے حور کی گردن کو اپنی چوڑی اور مضبوط ہتھیلی کے بیج جکڑ لیا۔۔آزہاد نے حور کی نازک گردن پر اپنے ہاتھوں کا پھندا بنایا ہوا تھا ۔۔
حور کے ہاتھ سے سارے پھول گرکے اذہاد کے پیروں میں بکھر گئے۔وہ ان پھولوں کو روندتا ہوا اسے دیوار سے لگایا۔اور اپنا چہرہ حور کے چہرے کے سامنے لایا۔مگر وہ حور سے فاصلے پر کھڑا تھا۔حور کا قد مشکل سے اس کے سینے تک پہنچ رہا تھا وہ اس کی جسامت کے آگے چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی۔
اذہاد نے اپنی لال انگارا آنکھیں حور کی خوفزدہ آنکھوں میں گاڑی وہ اس وقت ہوش میں ہو کے بھی ہوش میں نہیں لگ رہا تھا۔۔اس کی آنکھیں جتنی بند میں خوبصورت لگ رہی تھی وہ آنکھیں کھلنے پر اس سے بھی بے حد حسین تھی۔۔ چمکتی براؤن بڑی بڑی آنکھیں مگر لال انگار آنکھیں۔۔
میں نے کہا تھا نہ مجھ سے دور رہو۔۔۔کہا تھا نہ جاؤ یہاں سے۔۔۔بار بار کہا تھا جاؤ جاؤ ۔۔۔وہ اژدھوں سی پھنکار پھنکارتے ہوئے آہستہ آہستہ حور کی روح کھینچتے ہوئے بولا۔۔کیوں دیا مجھے خون میں نے کہا تھا مجھے بچاو مجھے خون دو کس سے پوچھ کے مجھے خون دیا؟؟؟ ہڈیوں کو جما دیتی سرد آواز میں وہ بولا۔۔۔تم نے زبردستی کی مجھے زبردستی ہوسپٹل لائ۔۔وہ زور سے دانتوں کو دانت پہ جمائے جبڑوں کو پیس رہا تھا۔۔لمبا ہونے کی وجہ سے اس نے حور کی گردن ایسے پکڑی ہوئی تھی کہ وہ چاہتے ہوئے بھی نیچے نہیں کر پا رہی تھی۔۔اور اس کی ظالم آنکھوں میں بے بسی اور خوف سے دیکھنے پر مجبور تھی۔۔
حور نے بے حد تکلیف سے ہلکا سا ہونٹوں کو کھول کے درد بھری سانس لی اور تب ہی پلکوں سے ٹوٹتا موتی لاکھ ضبط کے باوجود بھی اس کے گالوں سے پھسلتا
اذہاد کے ہاتھ پر گرا۔۔اس نے فورا ہاتھ پیچھے کیا اور زور زور سے ہاتھ جھٹکنے لگا۔اذہاد کو ایسا لگا جیسے کسی نے اس کے ہاتھ کو جلا دیا ہو ۔۔وہ اپنی حیران آنکھوں سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا زور زور سے اپنا ہاتھ جھٹک رہا تھا رگڑ رہا تھا مگر ایسا لگتا جیسے آگ آہستہ آہستہ زور پکڑتی ہی جا رہی ہو ۔۔
حور نے نفرت بھری آنکھوں سے بس کچھ پل کے لیے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور دروازہ کھولتی وہاں سے باہر نکل گئی ۔
وہ تیز تیز چلتی باہر جا رہی تھی کہ جب ہی بیلا کی نظر اس پے پڑی۔۔۔ارے حور وہ اس وقت آنسو ضبط کرتی وہاں بھاگی بیلا بھی اس کے پیچھے بھاگی حور جلدی سے گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی وہاں سے لے گئی بیلا پیچھے کھڑی اس کی جاتی گاڑی دیکھتی رہ گئی ۔
اذہاد کو ایسا لگا جیسے ہاتھ ہی نہیں اب وہ پورا ایک آندیکھی آگ میں جل رہا ہے۔۔
ڈیلن نے دروازہ کھول کے اندر جھانکا تو اسے وہاں اذہاد کہیں نظر نہیں آیا۔۔وہ اندر آیا تو اس کے پاؤں نے کسی کی نمی کو محسوس کیا اس نے نیچے دیکھا تو وہاں خوبصورت پھول اپنی روندہی گئی قسمت پے رو رہے تھے۔۔اسے واش روم سے پانی گرنے کی آواز آئی۔۔وہ آگے آتے دروازہ بجاتے بولا۔۔۔سینور میں آپ کے کپڑے۔۔اسنے اپنی بات پوری بھی نہیں کی کہ جب ہی اذہاد نے دروازہ کھولا اور اس کے ہاتھ سے کپڑے جھپٹے اور دروازہ اس کے منہ پے دے مارا وہ گہری سانس لیتا پیچھے ہوا اور روم میں بکھرے پھولوں کو دیکھنے لگا۔
وہ پانی کا نل کھولے جلتے ہاتھ کو پانی میں بھگوتا رہا تھا مگر جلن تھی کے کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی دیکھتے دیکھتے اسنے نل کے نیچے اپنا سر جھکا دیا۔اور پانی آہستہ آہستہ اس کے پورے سر کو بھگوتا چلا گیا۔۔اسکے سر کی پٹی گیلی ہوگی تھی اسے کسی پل بھی سکون نہیں مل رہا تھا۔۔اسنے تھک کے سر اٹھایا اور شیشے میں خود کو دیکھا اسے وہاں روتی ہوئی دو حسین آنکھیں نظر آئی جو اس سے شکوہ کر رہی تھی۔۔اذہاد حیران ہوتا دو قدم پیچھے ہوا اور چینج کرتا فورن بہار آیا۔۔
ڈیلن نے دیکھا اس کے سر کی پٹی پوری گیلی ہوچکی ہے اور گیلے بالوں سے گرتا پانی اس کی شرٹ کو بھگو رہا ہے وہ تیزی سے روم سے بہار آیا لمبے لمبے ڈاگ بھرتا ریسیپشن تک پہنچا۔۔
اس نے ڈیلن سے چیک بک مانگی اور ایک بھری رقم لکھ کے ریسیپشن پے بیٹھی لڑکی کے اگے رکھ دیا۔۔
ریسیپشن پے بیٹھی لڑکی نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا۔اس کی لال آنکھیں اور حالت سے اندازہ لگاتی اس میں اسے دوبارہ دیکھنے کی ہمت نا ہوئی۔۔
اذہاد۔
پیچھے سے دی جانے والی آواز پے وہ مڑا۔اور سامنے نظر آتے انسان کو دیکھ کے اسکے دماغ نے ایک بار پھر تیز رفتار گھوڑے کی طرح دوڑنا شروع کر دیا۔۔
وہ خاموش لال انگارہ آنکھیں لئے اسے حیران نظروں سے دیکھنے لگا۔
اذہاد تمہاری کنڈیشن ایسی نہیں۔۔۔پیٹر اتنا ہی بولا جب اذہاد نے انگلی اٹھا کے اسے چپ ہونے کا اشارہ کیا۔۔
پیٹر کو فون آیا تھا کہ۔۔ اذہاد غصے میں آپے سے باہر ہو گیا ہے اور وہ زخمی حالت میں وہاں سے جا رہا ہے تو پیٹر فورن بھاگتا ہوسپٹل آیا تھا۔۔۔پیٹر جانتا تھا اذہاد ہوش میں آتے ہی ایسا کوئی قدم ضرور اٹھاے گا اور اسے وہاں دیکھ کے پتا نہیں کیا ریایکٹ کرے گا۔
پیٹر نے کچھ نہیں بولا اور دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کے اسے کول ڈاؤن ہونے کا اشارہ کیا۔
اذہاد پیٹر کو دیکھ کے تیز تیز سانس لے رہا تھا اذہاد مڑا اور ایک مکّہ مار کے ریسیپشن کی ٹیبل پر لگا مضبوط شیشہ توڑ دیا۔
اس کی لال آنکھیں دیکھ کے پیٹر خاموش ہوگیا۔۔
مجھے اگر ذرا بھی ہوش ہوتا کے میں مرتے ہوئے پیٹر پٹرسن کے ہاسپٹل لایا جاؤں گا تو میں خوشی خوشی موت کو گلے لگانا پسند کرتا۔۔تم جیسا انسان صرف لفظوں سے موت دے سکتا ہے۔۔ اذہاد اس وقت برداشت کی آخری حد پر جاتا ہوا بولا،۔۔
پیٹر آہستہ سے آگے بڑھا اور اس نے جیسے اسے تھامنے کیلئے آگے ہاتھ بڑھایا۔۔اذہاد نے ایک زوردار دھکا دیا۔۔جس سے وہ سنبھلتے ہوئے بھی زمین پر گرا ایک تماشا سا لگ گیا تھا ہر کوئی منہ کھولے دیکھ رہا تھا۔
مجھے ہاتھ مت لگانا پیٹر پیٹرسن نہیں تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا وہ انگلی اٹھاتے ہوئے غصے سے دھاڑا۔۔ڈیلن اسے پیچھے قمر سے پکڑے ہوئے ہلکان ہو رہا تھا۔اذہاد کو پکڑے رکھنا ایک بندے کا کام نہیں تھا۔ڈیلن اگر اسے نہیں پکڑ کے رکھتا تو وہ اب تک پیٹر پیٹرسن کا منہ توڑ چکا ہوتا۔
پیٹر نیچے گرا دکھ سے آزہاد کو دیکھ رہا تھا۔۔
مجھے معاف کردو۔۔۔پیٹر کے آگے کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے ۔۔
کیونکہ اذہاد لمبے لمبے ڈاگ بھرتا وہاں سے چلا گیا تھا۔
پیٹر شرمندہ سا اٹھا اور اپنے کیبن میں چلا گیا کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ ان دونوں کے بیچ ایسا کیا ہوا تھا جو یہ تماشا وجہ بنا۔۔
حور تیز ڈرائیو کرتی گھر پہنچی سارا راستہ اس نے خود پر ضبط کرتے ہوئے کاٹا گھر آتے ہی اس نے زور سے دروازہ بند کیا اور وہی اس کا ضبط جواب دے گیا وہ دروازے سے لگتی وہی زمین پر بیٹھی دھاڑیں مار مار کے رو رہی تھی اسے اپنی گردن پہ اب بھی اس کی انگلیوں کی سختی محسوس ہو رہی تھی آج تک کسی نے اسے پھول سے بھی نہیں مارا تھا اور نہ اتنی سختی سے بات کی تھی اسے اس انسان سے بے رحمی کی امید نہیں تھی۔کیا کسی کی جان بچانے کا یہ صلہ ملتا ہے اس ملک میں ؟؟مجھے نہیں رہنا یہاں ۔۔۔بابا۔۔ دادو۔۔ وہ روتی ہوئی انہیں پکار رہی تھی ۔۔۔ ۔ مجھے آپ کے پاس آنا ہے اچھا تھا میں یہاں آتی ہی نہیں۔۔۔۔مر جاتا وہ تو اچھا تھا کیوں بچایا اسے میں نے۔۔۔وہ روتے روتے جب تھک گئی تو اٹھی اور منہ دھویا اور شیشے میں خود کو دیکھا اس کی گردن پہ اذہاد کی انگلیوں کے نشان تھے ۔گردن کا تل اس کے درد پہ اس کے غم میں اس کے ساتھ اداس تھا۔۔وہ روئی روئی ناراض آنکھوں سے کچن میں آی ایک کپ چائے کا بنایا پھر چائے پی کے لمبی تان کے سو گئی یہی ایک حل تھا غم بھلانے کا
_________________
لیز اخدیجہ کے ساتھ ایک خوبصورت گھر میں آئی تھی۔۔
آو لیزا بے فکر رہو تم اب جس راستے پر چل نکلی ہو وہاں ڈرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔
خدیجہ لیزا کے ساتھ چلتے چلتے اس سے باتیں بھی کرتی جا رہی تھی کے اچانک ختیجہ ایک کمرے کے دروازے کے باہر رک گئی اور مسکرا کے لیزا کو دیکھا۔۔اور پھر دروازہ ہلکا سا بجایا اندر سے آواز آئی۔۔ آجاؤ!!
ختیجہ دروازہ کھولتی اور ایک ہاتھ سے پلٹ کے لیزا کا ہاتھ تھامتی اندر آ گئی۔۔
السلام وعلیکم بابا۔۔۔ختیجہ کی آواز پے انہوں نے پلٹ کے دیکھا۔۔
وعلیکم اسلام انہوں نے مسکرا کے بیٹی کو سلام کا جواب دیا۔۔
یہ کون ہے؟؟لیزا کو دیکھ کے آنکھوں میں سوال لئے بیٹی کو دیکھا ۔۔
ختیجہ آگے بڑھی۔بابا یہ میری دوست لیزا ہے۔
انہوں نے مسکرا کے جواب میں گردن ہلائی ۔۔۔وہ ختیجہ کے آنے سے پہلے قرآن پڑھ رہے تھے ان دونوں کے آنے کے بعد اب وہ قرآن ایک خوبصورت کپڑے میں رکھ کے لپیٹے لگے۔۔۔
لیزا نے انہیں دیکھا بےحد نورانی چہرہ لمبی خوبصورت داڑھی سفید کپڑوں میں اسے وہ بہت اچھے لگے۔۔۔
بابا لیزا مسلمان ہونا چاھتی ہے ۔۔
اب ان کے کپڑے میں لپیٹتے قرآن پاک کے ہاتھ روک گئے۔انہوں نے حیران نظروں سے بیٹی کو اور پھر اس کے ساتھ کھڑی لیزا کو دیکھا۔
وہ قرآن کو رکھ کے لیزا کی طرف آئے ۔
لیزا ان کی نورانی آنکھوں میں دیکھ نا سکی اور گردن جھکا لی۔
میری بچی کیا تم اسلام کسی کے دباؤ میں آکے۔۔۔یا کسی کی محبت میں!!!یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے تو قبول نہیں کر رہی؟؟
جی وجہ ہے ۔۔۔لیزا آہستہ سے بولی۔۔
ختیجہ اور یوسف نے حیران نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔
وجہ یہ ہے کہ مجھے محبت ہو گئی ہے اللہ سے مجھے محبت ہوگی اس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے محبت ہو گئی ہے دین اسلام سے مجھے محبت ہوگی ہے اللہ کی کہی وہ ہر ساری باتوں سے جو قرآن میں ہے۔۔مجھے لگتا ہے کہ اس پوری دنیا میں میرا کوئی اپنا نہیں سوائے اللہ کے مجھے اس رب کی آیتیں سن کے سکون ملتا ہے جیسے وہ مجھ سے باتیں کر رہا ہوں۔لیزا یہ سب کہتے ہوئے رو رہی تھی۔۔مجھے مسلمان ہونا ہے مجھے بھی اس کی آیتیں پڑھنی ہے اس کی راہ پر چلنا ہے بس۔۔
یوسف نے لیزا کی ساری باتیں سن کے ایک گہرا سانس لیا۔۔
کیا تمھارے والدین واقف ہیں کہ تم اسلام قبول کر لیا
نہیں۔۔ لیزا نے روتے ہوئے گردن نہ میں ہلائی۔۔
یوسف دو قدم آگے بڑھے اور لیزا کے سر پر ہاتھ رکھا اللہ تمہاری مدد کرے ہر آزمائش میں پورا اترنے کی توفیق دے آمین۔۔یوسف نے آنے والے وقت کے لئے اسے دعا دی وہ جانتے تھے کہ اسلام دین کی راہ پہ چلنا اور اپنے ہی گمراہ ہوئے لوگوں سے دین حق کے لیے لڑنا کتنا مشکل ہے ۔۔
انہوں نے ختیجہ کو اشارہ کیا کہ وہ اپنے ساتھ اسے کمرے میں لے جا ئے۔ ۔
خدیجہ لیزہ کو کمرے میں لے آئی۔ ۔اسے اپنے کپڑے دئیے اور وضو کرنے کو کہا۔۔
لیزا وضو کر کے آئی تو ختیجہ نےایک خوبصورت کپڑے سے اس کے سر پر اسکارف بندھا ۔
لیزا یوسف کے سامنے سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی۔۔
یوسف نے جب اسے کلمہ پڑھانا شروع کیا تو لیزا پھوٹ پھوٹ کے رو دی خدیجہ نے اسے دونوں کاندھوں سے تھام کے گلے لگایا۔۔اور پھر لیزہ نے کلمہ پڑھا ۔۔وہ بے حد خوش تھی کہ اللہ نے اسے گناہوں کے اندھیرے سے نکال کے اسلام کی روشنی سے نوازا اسے اللہ کے حضور شکر کا سجدہ ادا کیا ۔۔یوسف نے اس کا نام جنت رکھا میری آج سے ایک نہیں دو بیٹیاں ہیں کوئی بھی پریشانی ہو بیٹا بلاجھجک یہاں چلی آنا میرے گھر کے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ کھلے ہیں جنت اتنی محبت دیکھ کے روپڑی اور اجازت لیتی وہاں سے آگئی
اس کے بعد ختیجہ اس کی مدد کرتی رہتی تھی قرآن پڑھنے میں اور اس نے جنت کو نماز بھی سیکھائی تھی جنت پہلے سے ہی ذہین تھی بہت جلدی سمجھ جاتی تھی اس نے گھر میں ابھی یہ بات چھپائی تھی سہی وقت آنے پر اس نے گھر والوں کو بتانے کا فیصلہ کیا تھا ویسے بھی اس کے والدین کو ایک دن پتہ چلنا ہی تھا۔۔
زیاد ویسے ہی شروع دن جیسا ہی جنت کے پیچھے رہتا تھا۔ وہ خود نہیں جانتا تھا مگر اسے لیزا کو تنگ کرنا اس سے باتیں کرنا اچھا لگتا تھا دن ایسے بہت جلدی جلدی گزر رہے تھے۔
____________________
اذہاد غصے سے گھر آیا مجھے کوئی بھی ڈسٹرب نہیں کرے گا اور اپنے کمرے کا دروازہ زور سے بند کیا گھر کے ملازم اپنے مالک کو جانتے تھے وہ ویسے بھی کسی سے کوئی بات تو کرتا نہیں تھا اور جب غصہ آتا تو اس کا مطلب اس کا کھانا اب جب تک بند رہے گا جب تک اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو جاتا۔۔
ڈیلن خاموشی سے اس کے بند دروازے کو دیکھتا رہا۔۔
اذہاد کو اپنے کمرے میں ہر طرف اس کی روتی آنکھیں نظر آرہی تھی اس نے اپنے ہاتھ کو دیکھا جہاں اس کے گرتے آنسو نے اب بھی آگ جیسی جلن مچائی ہوئی تھی اسے سکون نہیں مل رہا تھا اس نے زور سے اپنا ہاتھ سامنے لگے خوبصورت سے شیشے پہ مارا شیشہ ٹوٹ گیا اور خون اس کے ہاتھ سے بہنے لگا وہ خود سے تھک کے بیڈ پے زور سے گرا اس کا ہاتھ نیچے کارپیٹ کی طرف لٹک رہا تھا اور بے حد قیمتی قالین پر خون کے قطرے گرے تھے۔۔اسے پتہ ہی نہیں چلا کب و ہوش سے بیگانہ ہو گیا۔۔
ڈیلن خاموشی سے اندر آیا اور دیکھا کہ اذہاد کا ہاتھ بہت بری طرح سے زخمی ہے اور شیشہ ٹوٹ کے نیچے گرا ہوا ہے وہ سارا معاملہ سمجھ گیا اور بھاگتا ہوا اس کی طرف آیا اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور ملازم کو زور سے آوازیں دینا شروع کی ۔۔
ملازم بھاگتا ہوا آیا ۔۔جلدی سے فرسٹ ایڈ باکس لے کر آؤ ۔۔ڈیلن نے گھبراتے ہوئے ملازم سے کہا
ملازم بھاگتا ہوا گیا اور جلدی سے فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا ڈیلان نے جلدی سے اس کے ہاتھ پر پٹی باندھی۔۔ڈیل نے دیکھا وہ اس وقت بخار میں تپ رہا تھا اسنے پریشانی سے آزہاد کو دیکھا اور پھر ڈیلن کا موبائل بجا۔۔اس نے جیب سے فون نکالا تو دیکھا گرینڈ پاکی پندرہ مس کال آئی ہوئی تھی اس نے یس کا بٹن دبایا۔۔
جی گرینڈپا کیسے ہیں آپ؟؟
میری چھوڑو ڈیلن مجھے بتاؤ آزہاد کہاں ہے کیسا ہے؟؟اس کا فون کہاں ہے؟؟ وہ کل رات سے میری کال اٹینڈ نہیں کر رہا تھا اور اب تو اس کا نمبر ہی بند ہے کیوں؟؟ وہ بے حد فکرمندی سے بولے ان کا دل رات سے اس کے لئے پریشان تھا مگر اسے کسی کی پرواہ ہی نہیں تھی وہ اپنی زندگی کا خود مالک تھا
گرینڈ پا آپ فکر نہیں کریں وہ ایک ضروری میٹنگ میں ہے ابھی اور موبائل ان کا گر کے ٹوٹ چکا ہے اس لیے فون بند ہے ۔۔ ڈیلن کو جھوٹ بولنا پڑا ورنہ اذہاد کے حادثے کی خبر ان کی جان کو خطرہ بھی بن سکتا تھا۔۔
کیوں کیسے ٹوٹا موبائل کیا وہ پھر کسی پہ غصہ ہوا ہے؟؟ انہوں نے پریشانی سے ڈیلن سے پوچھا۔۔
نہیں گرینڈ پا ان کے ہاتھ سے پھسل کے نیچے گرنے سے ٹوٹا ہے۔ ڈیلن گرینڈ پاسے جھوٹ پہ جھوٹ بولے جا رہا تھا
ٹھیک ہے جب وہ اپنی میٹنگ سے فری ہو جائے تو میری بات کرواؤ اس سے۔۔۔گرینڈپا بولے
جی بہتر گرینڈ پا۔۔ ڈیلن نے انہیں مطمئن کیا اور فون رکھ کے دنیا سے بے خبر اس وجود کو دیکھا جس کے لیے اس پوری دنیا میں دو لوگ جان دیتے تھے۔۔ایک گرینڈ پا اور دوسرا ڈیلن ۔
جاری ہے
