Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46

وہ اس کا نازک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھامے اس حسین منظر کے بیحد قریب کھڑا تھا جسے ایک جہاں ایک عالَم پوری کائنات عرش فرش زرہ زرہ پہاڑ جان بے جان ہر مخلوق سجدہ کرتے ہیں۔۔۔
دل کا عالَم بھی بیان سے باہر تھا وہ ایک دوسرے سے کچھ نا کہہ کر بھی بہت کچھ کہہ رہے تھے۔۔دونوں نے ساتھ جھک کر اس ہستی کو شکر کا سجدہ کیا جس کی موٹھی میں ان کی جان تھی جس نے دونوں کی قسمت میں ایک ہونا لکھ دیا تھا۔۔جس نے اس اس کے آنسوں اور رات بھر جاگ کر مانگی گئی محبوب کی زندگی کی دعاوں اور عبادت کو پسند کیا تھا اور اسے وہ لوٹا دیا تھا۔۔جس کا وہ سوالی بن کر روز اس رب کی بارگاہ میں بھیک مانگتا تھا۔۔۔
کتنے ہی آنسو دونوں کی پلکوں سے ٹوٹ کر سجدے میں گرے تھے۔۔
وہ ساری زندگی بھی اس رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے تو کم تھا جس نے دونوں کو ایک پاکیزہ رشتے میں باندھ دیا تھا۔۔۔
دونوں نے آہستہ سے سجدے سے سر اٹھایا اور رب کی بارگاہ میں دعا کیلئے ہاتھ اٹھاے۔۔
پھر ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھا۔۔
وہ آہستہ سے اس کے کان کے قریب آکر گنگنایا۔۔اذہاد عریض دو دو بار مبارک ہو آپ کو ۔۔
حور منہ پر ہاتھ رکھ کر ہلکا سا ہنسی اور اسی کے قریب کان میں بولی۔۔۔۔آپ کو بھی دو دو بار مبارک ہو حورین اذہاد۔۔
سب سے اتنی شاندار مبارکباد وصول کری اور مجھے روکھی پھیکی۔۔ایسی مبارکباد نہیں چلے گی؟؟ اذہاد شرارت سے اس کا حسین روپ دیکھتا ہوا بولا۔۔
اچھا میری چھوڑیں اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟؟وہ بھی حور تھی۔۔
تبھی اذہاد لبوں کی مسکراہٹ کو دباتا جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ نکالنے لگا اس کے گال کا ڈمپل گہرا ہو گیا تھا جس سے حور کی نظر ہٹنے کو تیار ہی نہیں تھی۔۔
تبھی اذہاد اس کے پیچھے آکر کھڑا ہوا حور حیران ہوئی۔۔
اور پھر اذہاد نے حور کی رکھی امانت کو حق سے اس کے گلے میں پہنا دیا۔۔
یاد آیا؟؟ وہ اس کی طرف پیچھے سے جھکتا ہوا بولا تھا۔۔
حور نے اپنے نام کے ساتھ جڑے اس کے نام والے لاکٹ کو دیکھا تھا۔۔وہ کیسے بھول سکتی تھی۔۔
اس کی کہی بات اذہاد نے پوری کر دکھائی تھی۔۔
وہ بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھے گئے۔۔
بہت حسین لگ رہی ہو۔۔وہ اس کے سادہ معصوم سے چہرے پر اپنی انگلیوں کا لمس بکھیرتا ہوا بولا تھا۔۔اور پھر اپنی ہی انگلیوں پر اس کے چہرے کی نرماہٹ کا لمس محسوس کرتا انہیں لبوں سے لگا کر چوم لیا تھا۔۔
تبھی حور نے محبت سے اس کا وہی ہاتھ تھام کر لبوں سے لگا کر اپنے چہرے پر رکھ لیا تھا۔۔
اور اس کے بازو پر چہرہ ٹکاتے ہوے کعبے حسین منظر کو دیکھنے لگی۔۔۔
اس کے رب نے اسے بے پنہا نعمتوں سے نوازا تھا۔۔
___________________
السلام عليكم۔۔اس کے کانوں میں کسی کی گھمبیر آواز گونجی تھی۔۔وہ اس آواز کو سن کر اپنی جگہ سے اچھل گئی۔۔جھٹکے سے گردن گھما کر اپنے برابر دیکھا اور بس اسے دیکھ کر آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔۔۔
وہ اس کی حیرانگی پر ہلکا سا مسکراتا بولا۔۔سلام کا جواب تو دے دیجئے۔۔۔
وہ اس کی اگلی بات پر اپنے خیال سے چونکتی آہستہ سے نظریں جھکا گئی تھی۔۔وعلیکم السلام۔۔مدھم آواز میں جواب دیا۔۔
جب وہ اس کی پناہوں سے دور تھا تو دل اسے پانے کی چاہ کرتا تھا اب جب وہ کی دسترست میں ہے تو دل کو یقین ہی نہیں ہو رہا۔۔وہ ہاتھوں کو مسلتی ہوئی اس کی نظریں خود پر محسوس کرتی نروس ہو رہی تھی۔۔۔
شاہ زیب اس کی اس کیفیت سے بخوبی واقف تھا۔۔آپ کو بہت بہت مبارک ہو۔۔
اآپ۔۔۔ آپ۔۔کو بھی۔۔وہ مشکل سے دھڑکتے دل پر قابو کرتی بولی۔۔
کچھ دیر اس کے حسین چہرے کو دیکھنے کے بعد وہ مزید اسے تنگ کرنے کا ارادہ رد کرتا اٹھا۔۔اب تو وہ ہمیشہ کے لئے اس کی بنا دی گئی تھی اور بہت جلد اس کے پاس بھی آجاے گی اپنے حسین جدبوں کو آگے آنے والے بہترین لمحوں کے لئے سمبھال کر دل میں رکھتا وہ اٹھ کر وہاں سے چلا گیا۔۔
جس طرح سے عنایا نے اپنے دل کی بات کئی سالوں سے ایک راز کی طرح اپنے دل میں چھپا کر رکھی تھی۔۔اسی طرح اب شاہزیب بھی اس کی محبت کا رازجان لینے کے بعد انجان بن کر اس کی خاموش محبت کا لطف لینے کے لئے بیچین تھا۔۔
ان کی زندگی ایک دوسرے کے سنگ حسین اور خوبصورت گزرنے والی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤❤❤❤❤❤
حور اور اذہاد نے نا صرف عمرے کے تمام احکام ساتھ مل کر ادا کیے بلکے وہ اس کے ساتھ حق سے وہاں کی تمام خاص مقامات کی زیارتیں بھی کی۔۔
اذہاد جو پوری دنیا گھوم چکا تھا کوئی ایسا ملک نہیں تھا جو اس نے نا دیکھا ہو سواۓ اس ملک کو چھوڑ کے وہ کہاں جانتا تھا کے اس کا رب اسے اپنے گھر اتنے حسین اور خوبصورت انسان کے ساتھ بلانا چاہتا تھا جس کی ہمراہی میں اس کا وہ سفر اس زندگی کا یادگار سفر بن جائے گا۔۔۔
اس کی سنگت جس میں ملکیت کا احساس ہر احساس سے خوبصورت اور بلند تھا وہ اس کی تھی کون تھا جو اب دونوں کو الگ نظریوں سے دیکھ سکتا تھا یہاں۔۔
وہ اس کی تھی۔۔شاید جب سے جب یہ دنیا بھی وجود میں نہیں آئی تھی۔۔اس کے رب نے اسی کے لئے تو اسے زمین پے اتارا تھا جو یہاں بھی اس کی تھی اور دوسرے جہاں میں بھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💖💖💖۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان آنے کے فورن بعد عنایا کی شادی کی تیاریاں شروع کردی گئی تھیں۔۔
اذہاد نے گھر میں سب سے صاف معذرت کر لی تھی کہ وہ یہ شادی اٹینڈ نہیں کر سکے گا اسے اپنی شادی سے ریلیٹڈ بہت کام جو ادھورے ہیں انہیں پورا کرنا تھا اور پروجیکٹ جو تھوڑا نا مکمل ہے اس کی جانب سے بھی کچھ کام ادھورے ہیں جنہیں وہ یہاں سے جانے سے پہلے ختم کرنا چاہتا تھا۔۔
اب عنایا کی 4 دن کی شادی کہ ختم ہونے کے فورن بعد حور اور اذہاد کی شادی مقرر کی گئی تھی۔۔جس کے لئے اذہاد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔۔۔
وہ حور کی شادی کی تمام تیاری اپنے پسند کے مطابق کرنا چاہتا تھا۔۔
اسے رسموں اور ان میں پہننے والے لباسوں کا اندازہ نہیں تھا۔جس میں عظمیٰ اس کی پوری مدد کرنے کے لئے تیار تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💗💗💗۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا مجھے اجازت دیں اب یہاں سے جانے کی۔۔۔وہ ان کا ہاتھ تھام کر بولا تھا۔۔
اذہاد کیوں بیٹا۔۔ارتضیٰ اسے ناراض نظروں سے دیکھتے بولے تھے۔۔
بابا آپ نے کہا تھا شادی کے قریب آپ مجھے جانے سے نہیں روکے گے۔۔اور پھر ویسے بھی آپ لوگ میری فکر بلکل مت کریں میں چکر لگا لیا کروں گا۔۔۔آپ لوگوں کے بینا میرا کون سا دل لگے گا۔۔۔وہ ہنستا ہوا بولا تھا۔۔۔
تبھی ارتضیٰ بھی مسکرا دیئے تھے۔۔۔چلو ٹھیک ہے پھر اپنا بہت خیال رکھنا۔۔
عظمیٰ بھی اداس تھیں۔۔کہ وہ کیوں جا رہا ہے۔۔مما پلیز آپ تو ہنسے میں آتا رہو گا۔۔ویسے بھی آپ نے میری بہت ساری مدد کرنی ہے۔۔وہ ان کے قریب آتا انکا چہرہ تھام کر بولا تھا۔۔
میں کھانا ڈرائیور کے ہاتھ بھیج دیا کروں گی باہر سے کھانے کی یا خود ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ان کی بات سن کر وہ انہیں گلے سے لگایا تھا۔۔
میری پیاری مما۔۔۔
وہ بھی ہنس دی تھیں۔۔۔
وہ جب باہر اپنی گاڑی کی طرف آیا تو دل نے اسے دیکھ ایک بیٹ مس کی۔۔ایک جان دار مسکراہٹ لبوں کو چھو گئی۔۔
وہ اس کا سارا ضروری سامان اپنی نگرانی میں گاڑی میں رکھوا رہی تھی۔۔
جب ہی وہ اس کے بیحد قریب آیا تھا۔۔
ناراض ہو۔۔۔؟؟ وہ اس کے کان کے قریب آتا بولا تھا۔۔
کلون کی اٹھتی خوشبو صاف بتا رہی تھی وہ اس کے کتنا قریب کھڑا ہے۔۔
تبھی وہ پلٹی چہرے کی اداسی اور انداز صاف ظاہر کر رہے تھے کہ وہ اس سے ناراض ہے۔۔۔
وہ اس کی جانب دیکھ نہیں رہی تھی۔۔تبھی اذہاد نے محبت سے اس کا چہرہ دونوں ہاتوں سے تھام کر اپر اٹھایا۔۔
ہلکی لال آنکھیں جن میں نمی صاف نظر آرہی تھی۔۔۔
اذہاد کا دل ایک پل کو ڈوبا تھا ان جھیل سی آنکھوں میں نمی دیکھ کر ۔۔وہ کہاں ان میں نمی برداشت کر سکتا تھا۔۔
حور تم روئی ہو؟؟وہ بے یقینی سے اسے دیکھتا پوچھ رہا تھا۔۔
ہادی کیوں جارہے ہیں؟؟ان جملوں کو مشکل سے ادا کرتی وہ بولی۔۔
حور یہ بات پہلے ڈیسائیڈ ہوچکی تھی۔۔بہت سارے کام پینڈنگ پر ہیں۔۔جنہیں کمپلیٹ کرنا ہے۔۔اور پھر تم کون سا یہاں پر ہو۔۔تم بھی تو عنایا کی شادی اٹینڈ کرنے کے لئے اس کے گھر جا رہی ہو۔۔اب وہ بھی منہ بناتا ہوا اسے چھیڑتا ہوا بولا۔۔
آپ رک جائیں میں کہیں نہیں جا رہی۔۔وہ جھٹ سے بولی۔۔
اذہاد ہلکا سا ہنسا۔۔اسے حور پر ٹوٹ کر پیار آیا۔۔نہیں حور تم جاؤ شادی انجواۓ کرو۔۔بعد میں میں نہیں چاہتا تم مجھ سے لڑو۔۔وہ اب اسے ہنسانے کے لیے تنگ کرتا ہوا بولا۔۔
اس کے ہر پل ساتھ رہنے کی عادت سی ہوگی تھی جسے دیکھ کر اس کی صبح نہیں ہوتی جسے دیکھ کر اسے رات کو نیند نہیں آتی جیسے محبت کرنا چاہنا اس کا فرض تھا۔۔اب وہ کچھ پل کے لئے ہی مگر دور جا رہا تھا۔۔تو دل جیسے خود اسی سے لڑ رہا تھا۔۔ہر چیز اس کے بینا روٹھی روٹھی سی لگ رہی تھی۔۔
اس سے مختلف حال آزہاد کا بھی نہیں تھا۔۔جیسا وہ آزہاد کے لئے محسوس کر رہی تھی ویسا ہی آزہاد بھی اس کے لئے محسوس کر رہا تھا۔۔
دونوں کو ایک دوسرے کی سانسوں ایک دوسرے کے دھڑکتے دل کو محسوس کرنے کی عادت سی ہوگئی تھی۔۔
وہ بچوں کی طرح منہ بناتی اس کے سینے سے لگی اور اس کی کمر کے گرد اپنے نازک ہاتھوں کا حصار باندھ دیا۔۔۔
ہادی اپنا فون ساتھ رکھیے گا میں آپ سے رابطے میں رہو گی۔۔
اپنا بہت خیال رکھنا ہے۔۔کھانا ٹائم پے کھانا۔۔خیر وہ سب میں خود دیکھ لو گی۔۔
اذہاد اس کے سر پر لب رکھے کھڑا اس کی تمام ہدایتوں کو خاموشی سے سنتا اس کی کمر پے پھیلے لمبے بالوں کی آبشار پے انگلیاں چلاتا مسکرا رہا تھا۔۔
ہادی میرے بینا اتنا مشکل وقت ایک لمبا عرصہ کیسے کاٹ لیا آپ نے۔۔ایک موتی آنکھ سے پھسلتا اس کے کوٹ میں جذب ہوا تھا۔۔
تم ساتھ تھیں میرے میں اکیلا تو نہیں تھا۔۔محبت سے بولا۔۔
میں آپ کی طرح مضبوط نہیں ہادی؟؟میں تو آپ کے چند پلوں کے دور جانے سے ہی ٹوٹ رہی ہوں۔۔شاید میں اگر آپ کی جگہ ہوتی تو۔۔حور اس سے آگے بول نا سکی کیونکہ اسے اپنی کمر کے گرد بندھے اذہاد کے ہاتوں کی انگلیاں سختی سے اسے اپنے وجود میں چوبھتی اور جکڑئی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔
حور جس طرح سے تم میری طاقت ہو ویسی ہی میری سب سے بڑی کمزوری بھی تم ہو۔۔۔ایسا کچھ بھی مت کہنا جو میں برداشت نا کر سکوں۔۔۔۔
بہت کچھ کھو چکا بہت سہہ لیا۔۔اب اور نہیں۔۔وہ سخت الفاظوں میں اسے آگے ایسا کچھ بھی کہنے سے محتاط کر رہا تھا۔۔
حور نے سر اٹھا کر اس کا چہرہ دیکھا اس کے الفاظوں کی طرح چہرے پے بھی سختی تھی۔۔
لو جی اذہاد عریض موڈ اون ہوگیا۔۔وہ ماتھے پر بل ڈالتی اس کا چہرہ دیکھ کر سوچنے لگی۔۔
تبھی اذہاد آگے بڑھتا اس کے ماتھے کو چومتا آنکھوں پر گوگل چڑھاتا گاڑی کی طرف بڑھا۔۔۔۔
ایک نظر اسے شیشے کے اس پار سے دیکھا اور زن کر کے گاڑی آگے بڑھا گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔
حور کہاں ہو یار ؟؟ میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔۔حور تیار ہو رہی تھی جب عنایا کا اسے فون آیا۔۔
ہاں بس میں نکل رہی ہوں۔۔۔
اور پھر تھوڑی ہی دیر لگی تھی اسے وہاں پوھنچنے میں۔۔اس کے آتے ہی جیسے گھر میں رونق لگ گئی تھی۔۔
آج عنایا کو مایوں بٹھانا تھا۔۔
گھر میں ایک چھوٹی سی رسم رکھی گئی تھی۔۔
فری اور حور ڈھول لے کر عنایا کے قریب بیٹھ گئیں۔۔
تیرے بن جیا نہیں جائے میرے راجہ۔۔
ہوے ہوے۔۔
دل بچین ہے ڈولی لے کے آجا۔۔
ہوے ہوے۔۔۔
حور زور زور سے ڈھول کو پیٹتے ہوے تیز آواز میں گاتے عنایا کے کان کے پردے پھاڑ رہی تھی۔۔جس میں فری اس کا بھرپور ساتھ دے رہی تھی۔۔
اللہ‎ حور تمھیں کوئی اور ڈھنگ کا گانا نہیں سوجا گانے کو یہ سونگ اپنی شادی میں سمبھال کر رکھو یہی گانا گانا تم۔۔عنایا چڑ کر گھونگھٹ کے اندر سے بولی تھی۔۔
چپ کرو تم منہ بند رکھو مجھے اچھے سے پتا ہے میری شادی میں کون کون سے گانے چلے گے۔۔دلہن کا اتنا پٹر پٹر بولنا ٹھیک نہیں۔۔سمجھی۔۔کیوں فری۔۔تصدیق کے لیے فری کی طرف دیکھ کر پوچھا گیا۔۔
جس پر فری نے زور زور سے گردن ہلا کر وفاداری کا پورا پورا ثبوت دیا۔۔۔
تو ہوجا شروع فری۔۔۔
ہو میرے سیاں سوپر سٹار میرے سیا سوپر اسٹار۔۔۔
میں فین ہوئی ان کی میرے سیاں سوپر سٹار۔۔۔
حور ایک بار پھر شروع ہوچکی تھی فری کے ساتھ۔۔جسے دیکھ کر عنایا کڑھنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرسکتی تھی۔۔
________________________
تمام مہمان جمع ہوگئے تھے مدثر کی پوری فیملی پوھنچتے ہی سب نے باری باری عنایا کو ابٹن لگا کر مایوں کی رسم ادا کی۔۔
ہر طرف مسکراہٹیں تھیں رنگ تھے۔۔
حور نے عنایا کو بھر بھر کے ابٹن لگایا۔۔
حور کی بچی تمہارا وقت بھی آنے والا ہے۔۔عنایا نے دھمکی دی تھی۔۔
وہ جب آئے گا تب کی تب دیکھیں گے۔۔آبھی تو میں ارمان پورے کر لوں۔۔اور پھر حور نے رگڑ رگڑ کر اسے ابٹن لگایا۔۔۔
داؤد نے تھوڑا سا ابٹن حور کے چہرے پر بھی لگایا۔۔
حور نے ایک ایک پل کی تمام تصویریں اذہاد کو بھیجی تھیں۔۔
اس نے اذہاد کو ویڈیو کال کرنی چاہی تھی مگر مصروفیت کی وجہ سے وہ بات نا کر سکا۔۔
مگر جب رات کو اس نے تصویریں کھولی تو ہنس ہنس کے اس کا برا حال ہو گیا۔۔
حور بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔اس نے سادھا سا پیلا سوٹ پہنا تھا اور پھولوں کی بالیاں جو اس پے بہت سج رہی تھیں۔۔اوپر سے اس کی اوٹ پٹانگ تصویریں کبھی ارتضیٰ کبھی عظمیٰ کبھی داؤد کے کے ساتھ لی گئی سیلفیز جن میں کبھی وہ زبان نکالتی کبھی منہ ٹہرا کرتی تو کبھی آنکھیں۔۔۔
اذہاد نے اس کی تصویریں دیکھنے کے بعد اسے دل والے ❤😚😍ایموجی بھیجے۔۔۔
اذہاد کے موبائل میں حور کی اس قسم کی ہزاروں تصویریں موجود تھیں۔۔جس میں اس نے فنی فیس بنانے ہوے تھے۔۔۔۔
کچھ دیر بعد اذہاد کو ایک اور نمبر سے میسج موصول ہوا۔۔جسے کھولنے پر اذہاد کا دماغ گھوم گیا۔۔وہ کوئی نیا نمبر تھا جس سے اسے حور کی ڈھول پیٹتے اور ساتھ چیخ چیخ گاتے ہوے والی ویڈیو بھیجی گئی تھی۔۔۔۔۔
اس نے غصے میں اس نمبر پر کال کرنی چاہی مگر سامنے والے کا نمبر بند ہو چکا تھا۔۔۔
ویڈیو کے ساتھ ایک میسج بھی تھا۔۔
میں اپکا محسن ہوں ایسی بہت سی ویڈیو میں آپ کو بھیجوں گا مگر آپ یہ حور کو نہیں بتائیں گے۔۔۔
میسج پڑھ کر اذہاد نے سوچا۔۔ ہو نا ہو یہ حرکت گھر کے فرد کی ہی ہے۔۔تبھی اس نے غور کیا تو جانا ویڈیو بہت قریب سے بنائی گئی ہے۔۔اور زیادہ تر حور عنایا کے ساتھ ہی رہی۔۔تبھی اس نے فورن حور سے عنایا کا نمبر منگا جو اس نے بڑے آرام سے اذہاد کو دے بھی دیا۔۔
اور پھر خالی گھر تھا اور اس میں اذہاد کے گونجتے جناتی قہقے۔۔
حور کی ویڈیو ا150 بار دیکھنے کے بعد بھی اذہاد کی ہنسی نہیں روک رہی تھی۔۔
__________________
جس طرح عنایا کی مایوں کی رسم ہوئی اسی طرح شاہزیب کی بھی ہوئی۔۔
آج مہندی تھی۔۔ عنایا اور شاہزیب کو ایک ساتھ بیٹھا کر رسم کیا جانا تھا۔۔۔۔
حور دور کھڑی اذہاد کو ویڈیو کال پر سب دیکھا رہی تھی۔۔
ہادی میں بتا رہی ہوں تمھیں پہلا ابٹن میںنے ہی لگانا ہے چاہے کوئی بھی ناراض ہو۔۔وہ اب کیمرہ اپنی طرف کرتی ایک خالی گوشے میں بیٹھ کر اس سے سکون سے بات کر رہی تھی۔۔
اذہاد ہلکا سا مسکرایا۔۔۔وہ صرف اسے دیکھ رہا تھا جو سادگی میں بھی قیامت لگتی تھی۔۔
حور آپی بس کر دیں آپ کے بغیر میں اکیلی ہوں انگلی پکڑائی کی رسم میں چلیں۔۔فریحہ اسے ڈھونڈتی ہوئی وہاں پوھنچتے ہوے بولی۔۔
ہادی میں بعد میں بات کرتی ہوں اوکے۔۔کال کاٹتی وہ فریحہ کے ساتھ چلی گئی۔۔
اور پھر جو ہنگامہ اور دھوم مچی انگلی پکڑائی کی رسم میں کے بڑوں نے بیچ میں کود کر لڑکی کی بہنوں کی ڈیمانڈ پوری کری۔۔
دادو آپکا پوتا بڑا ہی کنجوس ہے۔۔۔وہ داود کے کاندھے سے لگی شاہزیب پر طنز کر رہی تھی۔۔جسے شاہزیب کے تیز کانوں نے آرام سے سن لیا۔۔
وہ عنایا کے ساتھ بیٹھا تھا جب اس کی بات سن کر پلٹ کر بولا۔۔ہاں دادو آپکا پوتا تو ہے ہی کنجوس پوتی بھی کچھ لالچی نہیں۔۔وہ بھی ہنستے ہوے دوبدو جواب دیتا بولا تھا۔۔
حور تو اوپر سے نیچے تک آگ بگولہ ہو گئی۔۔۔سمجھا لیں دادو اپنی بیوی کے بگل میں بیٹھ کر یہ بہت اڑھ رہے ہیں۔۔مجھے اکیلا سمجھ رہے ہیں میرا شوہر یہاں نہیں تو کیا ہوا میں اکیلی کافی ہوں۔۔ایک فون کرنے کی دیر ہے بس جانتے نہیں ہیں آبھی یہ۔۔وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اس سے لڑ رہی تھی۔۔
تبھی عنایا تنگ آتی گھونگٹ اٹھاتی بولی۔۔۔معاف کر دے بہن غلطی ہوگی۔۔ہم عام سے بندے ہیں ڈر گئے تم سے۔۔دادو پلیز اسے سمبھالیں۔۔وہ ہاتھ جوڑتی بول رہی تھی۔۔اور وہاں کھڑا ہر بندہ ان کی باتیں سن کر ہنس رہا تھا۔۔
دیکھا کتنی سمجھدار بیوی ملی ہے دادو شاہزیب بھائی کو۔۔بڑی ہی ڈرپوک بہن ہے میری اتنی آرام سے اپنے شوہر کو بچا گئی۔۔یہ بات وہ زور سے بولی تھی۔۔جس پر شاہزیب کے ساتھ داؤد کا قہقا بھی گونجا تھا اور عنایا زور سے اپنا سر پیٹ کر رہ گئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤❤❤💞💞
اذہاد آج آفس آیا تھا اس بار وہ کسی ورکر کی حیثیت سے نہیں ارتضیٰ ابراھیم کے داماد اذہاد عریض کی حیثیت سے آیا تھا۔۔اور سیدھا ان کے آفس گیا تھا۔۔
کیا شان بےنیازی تھی چال میں کیا غرور تھا۔۔راہ سے گزرتے اس نے کسی کی طرف نگاہ اٹھانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔۔جنید تو نظریں جھکاے کھڑا تھا۔۔ہمت ہی نا ہوئی اسے اذہاد کی طرف دیکھنے کی۔۔
اذہاد بھی لا پرواہ سا سیدھا سیدھا بھاری قدموں سے تیز تیز چلتا آفس کے اندر چلا گیا تھا۔۔
اس کے پاس پرانے وقتوں کی فضول باتوں کو یاد رکھنے کا وقت نہیں تھا۔۔آبھی بہت سا کام تھا جو اسے ختم کرنا تھا۔۔اس کے پاس خود کے لئے بھی وقت نہیں تھا۔۔ہاں حور کی یاد ہر پل ساتھ رہتی تھی۔۔
صدیقی صاحب اس کے فورن پیچھے آئے تھے اسے اس کے پروجیکٹ کے حوالے سے رپورٹ دینے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤❤❤❤۔۔۔۔۔۔
آج رخصتی تھی۔۔صبح سے ہر طرف ہلچل سی مچی تھی۔۔
مگر حور کا کوئی آتا پتہ نہیں تھا وہ صبح اٹھ کر 11 بجے عنایا کو تھوڑی دیر میں آنے کا کہہ کہیں چلی گئی تھی۔۔۔۔۔۔
اذہاد کھڑے کھڑے ہی میز پر جھکا لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا جب ایک دلکش احساس اسے چھو گیا۔۔
وہ جھٹکے سے سیدھا ہوتا دروازے کی طرف تیزی سے بڑھا تھا اور لمبے لمبے قدم اٹھاتا جب وہ نیچے پوھنچا تو اسے سامنے دیکھ کر یقین ہی نا آیا۔۔
اس کا دل ایسے ہی حور کے معاملے میں غلط الہام نہیں دیتا تھا۔۔۔۔
وہ حسین لال گلابوں کا بوکے پکڑے ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی سے آزہاد کا پوچھ رہی تھی۔۔
حور۔۔اذہاد کی محبت سے بھری پکار پر حور پلٹی۔۔
اور تبھی اذہاد مسکراتا ہوا تیزی سے اسکی طرف بڑھا۔۔
پہلے تو حور اسے دیکھ کر کھلکھلائی۔۔مگر جب تیزی سے اسے خود کی طرف بڑھتا دیکھا تو گھبرا گئی۔۔
وہ بے اختیار زور اسے سینے سے لگا گیا تھا بینا آگے پیچھے کی پرواہ کیے۔۔۔۔۔
وہ اسے 3 دن بعد اپنے روبرو دیکھ کر خود پر قابو نا راکھ سکا تھا۔۔
حور میں نے تمھیں کتنا مس کیا۔۔وہ ویسے ہی اسے خود سے لگاے مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔
مگر حور تو سانس روکے کھڑی تھی۔۔
پھر اس سے دور ہوتا اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔اور پھر مسکراتا ہوا اس کے بازو سے اپنا ہاتھ گزارتا اسے آفس کی طرف لے جانے لگا۔۔
حور نے آگے پیچھے پلٹ کر دیکھنا چاہا کے اس کے شوہر کا یہ حسین محبت بھرا نظارہ کس کس نے انجونے کیا۔۔۔مگر قسمت سے وہاں ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔۔جو اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔
بتایا بھی نہیں کے آرہی ہو ملنے۔۔یہ میرے لئے لائی ہو۔۔وہ خوشی سے پھولے نہیں سماء رہا تھا اس سے مل کے۔۔اس کے ہاتھ سے پھول لے کر اس کی خوشبو سونگھنے لگا۔۔
یاد آرہی تھی۔۔اس لئے آگئی۔۔وہ اس کے چہرے کو آہستہ سے چھوتی ایک ٹک اسے دیکھتی بولی۔۔
دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔۔اذہاد بھی مسکراتا ہوا اس کے چہرے کا ہر ایک نقش قریب سے دیکھ رہا تھا۔۔
تبھی وہ آگے بڑھ کر اس کی ناک پر لب رکھ گیا اور حور نے ہنستے ہوے ہلکا سا اس کے سینے پر مارا۔۔
اور پھر اس کے گلے لگ گئی۔۔۔
اس کا احساس کتنی خوبصورت احساس تھا۔۔اس کے بغیر وہ کتنا اداس تھی۔۔مگر آج اس سے مل کر اس کی تمام اداسی دور بھاگ گئی تھی۔۔
اذہاد بھی آنکھوں کو بند کیے اس کے سر پر اپنا چہرہ ٹکاے آنکھیں موندے اس کے وجود کے احساس کو محسوس کرنے لگا۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *