Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42
عنایا اور فریحہ کو ان کے گھر ڈراپ کرنے کے بعد ارتضیٰ حور کو کہیں اور لے گئے تھے۔۔
وہ کوئی سائٹ جیسی جگہ لگ رہی تھی۔۔جہاں ہر طرف اڑتی دھول مٹی اور بڑی بڑی مشینوں کے ذریعے چلتا کام نظر آ رہا تھا۔۔
وہ سوالیہ نظروں سے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوئے گاڑی سے باہر آئی۔۔
ارتضیٰ اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔۔
بابا آپ یہ مجھے کہاں لے کر آگئے؟؟اب وہ ان کے خود کے قریب آنے پر سوال کرتی بولی۔۔
آبھی پتہ چل جائے گا۔۔
تب ہی صدیقی صاحب ارتضیٰ اور ان کے ساتھ آئی حور کو دیکھ کر مسکراتے ہوے قریب آئے۔۔
آپس میں سلام دعا ہونے کے بعد صدیقی صاحب نے انہیں تمام تعمیراتی کام دکھایا۔۔
حور پتہ ہے یہ کس کا پروجیکٹ ہے۔۔ارتضیٰ اس کے کاندھے کے گرد بازو رکھے اسے دیکھتے مسکرا کر سوال کرنے لگے۔۔
حور جو یہ سب دیکھتی بیزار ہو رہی تھی۔۔منہ بنا کر باپ کو دیکھنے لگی۔۔اسے ان سب چیزوں کی ا سے ب بھی نہیں پتہ تھی۔۔
بابا کیوں پہیلیاں بھجوا رہے ہیں پلیز خود بتا دیں آپ مجھے یہاں کیوں لے کر آئے ہیں اور یہ سب کھنڈر مٹی دھول دکھانے کا مطلب؟؟
ارتضیٰ زور سے ہنسے اس کی بات پے۔۔یار تم ٹھری ایک ڈاکٹر کیسے دل لگا بیٹھی ایک بزنس مین کے ساتھ؟؟
اس نے مسکرا کر گردن جھکا لی۔۔بابا۔۔اور نروٹھے پن سے بولی۔۔
یہ اذہاد کا پروجیکٹ ہے جو اس نے میرے قریب آنے کے لئے مجھے متاثر کرنے کے لئے میری کمپنی میں جاب حاصل کی اپنی ذہانت سے میرا دل اور بھروسہ جیتا۔۔یہ پروجیکٹ اسے اس کی ذہانت اور محنت کے بلبوتے پر ملا۔۔
حور منہ کھولے ارتضیٰ کی بات سن رہی تھی۔۔ سچی بابا۔۔میرا ہادی اتنا قابل ہے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔۔وہ مسکراہٹ دباتی ہوئی بولی۔۔
اور ارتضیٰ پہلے تو حیران اسے دیکھتے رہے کہ یہ وہ کیا بول رہی ہے پھر دونوں باپ بیٹی کا مشترکہ قہقا گونجا۔۔۔۔
ارے نواز صاحب تو خوش قسمت نکلے کے ان کا پروجیکٹ خود اذہاد عریض نے لیا ہے۔۔جس کہ ساتھ دنیا کام کرنے کے لئے ترستی ہے اس سے ایک ملاقات کے کے لئے کیا کچھ نہیں کرتی اس انسان نے خود ان کا پروجیکٹ لیا ہے اس پے محنت کی ہے جس کا منہ بولتا ثبوت یہ شاندار پروجیکٹ ہے جس پر کام چل رہا ہے۔۔۔وہ فخر سے بول رہے تھے۔۔
کیا اس بات کا نواز انکل کو علم ہے ؟؟ حور نے ارتضیٰ کو دیکھتے ہوے کہا۔۔
نہیں یار بندہ ویسے ہی آخری عمر کی اسٹیج پر ہے۔۔ارتضیٰ بہت ہی عام انداز میں بولے تھے۔۔مگر حور کے قہقے دور دور تک گونجے تھے۔۔۔
___________________
دونوں باپ بیٹی جب گھر میں داخل ہوے تو ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔ حور نے ہاتھ کے اشارے سے سامنے بیٹھے دادا سے پوچھا۔۔کیا بات ہے؟؟
جنہوں نے کاندھے اچکا کہ لاعلمی کا اظہار کیا۔۔
تبھی وہ دبے قدموں سے کچن میں جاتی ہلکی سی گردن اندر کر کے دیکھنے لگی۔۔
اذہاد دروازے کی طرف پیٹھ موڑے شاید کچھ کر رہا تھا۔۔اس کے دائیں بائیں دادی اور عظمیٰ کھڑی کچھ دیکھ رہی تھیں۔۔
تبھی وہ دبے پاؤں چلتی اذہار تک آئی۔پنجوں کے بل تھوڑا سا اونچا ہو کہ اس کے کان کے قریب تک گئی اور زور سے بولی۔۔بھاؤؤ۔۔۔
دادی اور مما تو ڈر گئیں تھیں۔۔ہائے اللہ۔۔دونوں خواتین دل پر ہاتھ رکھ کر حور کی طرف مڑی تھیں۔۔
مگر آزہاد اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلا تھا۔۔وہ آہستہ سے گردن موڑ کر اسے مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔وہ اس کی موجودگی کو پہلے ہی محسوس کر چکا تھا جن سے دل اور روح جڑی ہو انہیں دیکھنے کے لئے آنکھوں کی ضرورت نہیں۔۔
حور اس کے نہ ڈرنے پر بڑی بدمزا ہوئی اور گندے گندے منھ بنا کر اسے دیکھنے لگی۔۔
آپ دونوں کب آئے۔۔عظمیٰ آب حور کے پیچھے آتے ارتضیٰ سے سوال کرتی بولیں۔۔
بس ابھی ابھی۔۔ارتضیٰ حور کے کاندھے پر بازو رکھے اسے سینے سے لگاتے بولے۔۔
یہ آپ دونوں میرے معصوم شوہر سے کوکنگ کروا رہی ہیں؟؟حور آب ماں اور دادی کو کڑے تیوروں سے دیکھتی سوال کرنے لگی۔۔
لو ہم کیوں کوکنگ کروانے لگے تمہارے معصوم شوہر سے۔۔وہ تو خود بڑے مزے سے ہم دونوں کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف کھڑا کرتا بولا کہ آج کا کھانا میں خود بناؤں گا۔۔دادی بھی حور سے اسی کے انداز میں جواب دیتی بولیں۔۔جب کہ ان دونوں کی ہوتی باتوں کو وہاں کھڑے سب نفوس انجوائے کر رہے تھے۔۔
ہاں انہیں ویسے بھی خبط ہے اچھا کھانا بنا کر سب سے تعریفیں وصول کرنے کا۔۔حور آب اذہاد کو دیکھ کر فُکرا اچھالتی بولی۔۔
ہاں پتہ ہے حور اذہاد نے بہت مزے مزے کی 2 نیو ڈشز بنائی ہیں۔۔جو میںنے کم سے کم پہلے کبھی کھائی نہیں۔۔اور یہ دیکھو آبھی وہ فروٹ کیک بنا رہا ہے جو دیکھنے میں ہی بہت مزے کا لگ رہا ہے۔۔عظمیٰ پیار سے اذہاد کو دیکھتی ہوئی بولیں۔۔اور دادی نے تو جھٹ آگے بڑھ کر اس کی بلائیں لینا شروع کردی۔۔۔حور بڑی حیران ہوتی دونوں خواتینوں کے پیار بھرے مظاہرے کو دیکھنے لگی۔۔۔
ارے بھئی واہ۔۔ہمارا بیٹا تو ملٹی ٹیلنٹڈ نکلا۔۔بھئی ہماری چڑیا بھی کچھ کم نہیں ہے اتنی ہارڈ پڑھائی کے دوران بھی حور نے کھینچ تان کے اپنی پسند کی سستی دو ڈشز عظمیٰ جی سے سیکھی۔۔ہاں مگر انہیں نت نئی ڈشز کھانے کا شوق بہت ہے مگر جب بھی کوکنگ کرتی ہیں تو اپنی پسند کی دو ڈشوں میں سے ایک ڈیش ہی بنا کر کھلاتی ہیں۔۔ارتضیٰ مسکراہٹ دباتے ہوے ایسے کہہ رہے تھے جیسے اس کی تعریف کر رہے ہوں۔۔مگر الفاظ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے تھے۔۔
وہ اپنی گھوریوں سے ارتضیٰ کو نوازتی ہوئی منہ بسور کر بولی۔۔۔بابا آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔۔۔یہ کہتی وہ بچوں سی ناراضگی لیے دادا کے پاس باہر چلی گئی۔۔۔جو اب اس کے آخری سپوٹر بچے تھے۔۔
اور وہاں کھڑے سب لوگ اس کی بچوں جیسی ادا کؤ دیکھ کر ہنس دیے۔۔
کھانا واقع شاندار بنا تھا سب طرف اذہاد کی واہ واہ ہورہی تھی۔۔اس نے اپنے ہاتھوں سے سب کو کھانا سرو کیا تھا۔۔
تعریف اذہاد کی ہو رہی تھی اور خوشی حور کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کا وقت تھا۔۔
اذہاد اپنی عادت کے مطابق صبح اٹھ کر لان میں ایکسرسائز کر رہا تھا۔۔
کہ جب ہی پش اپ کرتے اس کی نظر سامنے ٹھہرتے سفید جوکرز پر گئی۔اس نے گردن اوپر اٹھا کر دیکھا۔۔تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کے حور اتنی صبح نہ صرف جاگ گئی ہے بلکہ اپنی پوری تیاری کے ساتھ کھڑی اسے مسکراتا ہوا دیکھ بھی رہی ہے۔۔
ڈھیلی ڈھالی سی ہرے رنگ کی لمبی شرٹ جو گھٹنوں تک آ رہی تھی اس پر اذہاد کے کپڑوں میں سے ڈھونڈ ڈھان کر نکالی حور کی ہی دی ہوئی جیکٹ اور اس کے نیچے پہنی بیلو جینز اور پھر سفید جوکز۔۔لمبے بالوں کی پونی ٹیل بنائے وہ کوئی نازک سی گڑیا لگ رہی تھی۔۔
اذہاد اٹھ کر بیٹھتا اس کی تیاری کو تعریفی نظروں سے اور اس کے بھولے بھالے معصوم چہرے کو دل میں بساتا محبت اور چاہت سے مسکرا کر دیکھنے لگا۔۔
یہ مسکرانے کا ٹائم نہیں ہے۔جلدی سے اٹھو اور جاکر تیار ہو میں تمہارا نیچے ویٹ کر رہی ہوں۔۔وہ اس کے چوڑے مضبوط مثلث کو اپنے نازک ہاتھوں سے پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کرنے لگی جو ایکسرسائز کی وجہ سے اور پھول گئے تھے۔۔
اس کی بات سن کر ازہاد حیران ہوتا اس کی شکل دیکھنے لگا۔۔کیا مطلب حور ہم کہیں جا رہے ہیں؟؟وہ کھڑا ہوتا اس سے سوال کرنے لگا۔۔
حور بار بار پلٹ کر پیچھے دیکھ بھی رہی تھی۔۔
اس کے کاندھے پر ایک چھوٹا سا بیگ بھی تھا۔۔
ہادی سوال بعد میں کر لینا ابھی جاؤ اور فورن تیار ہو کر نیچے آؤ۔۔وہ آب اس کی پیٹھ پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے آگے کی طرف دھکیلنے لگی۔۔
اچھا یار جا رہا ہوں۔۔ایک نظر حور پار ڈالتا وہ پلٹا اور تھوڑی ہی دیر میں تیار ہوتا وہ نیچے آیا۔۔
دونوں نے ایک ہی رنگ کے کپڑے پہنے تھے۔۔اکثر اذہاد اور حور کے کپڑوں کا رنگ ملتا جلتا ہوتا۔۔آبھی بھی اذہاد نے گرین ٹی شرٹ جس کے اوپر اس نے بلیک لیدر کی جیکٹ بلیو جینز وائٹ جوکرز پہنے تھے۔۔حور اگر حسین گڑیا لگ رہی تھی تو اذہاد بھی ہینڈسم ڈیشنگ اپالو لگ رہا تھا۔۔جب وہ دور سے چلتا حور کے پاس آرہا تھا تو اسے دیکھ کر حور نے بے اختیار اس کی بلائیں لیں۔۔
دیکھنے والوں کو وہ دونوں ہنسوں کا جوڑا لگتے تھے۔۔
اذہاد کے قریب آتے ہی حور نے اس کا ہاتھ تھاما اور اذہاد کی گاڑی کی طرف بڑھی۔۔جلدی سے آزہاد کی گاڑی میں بیٹھتی اسے گاڑی سٹارٹ کرنے کو کہا۔۔
تھوڑی ہی دیر میں اذہاد کی گاڑی روڈ پر فراٹے بھرنے لگی۔۔
حور آب بتاؤ گی کے ہم کہاں جا رہے ہیں؟؟ اذہاد کے چہرے پر کئی سوال تھے۔۔
وہ جو آلتی پالتی مار کر سیٹ پر بیٹھی ہنس رہی تھی۔اذہاد کے سوال پر اپنی چمکتی آنکھوں سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔۔
میں آپ کو بھگا کر لائی ہوں ہادی۔۔وہ اتنے مزے سے اس سے اتنی بڑی بات اتنی آرام سے بول رہی تھی۔۔
ازہاد نے حیران ہوتے اسے دیکھ کر ایک طرف گاڑی روکی۔۔کیا کہا تم نے؟؟ ازہاد کو ایسا لگا جیسے اسے سننے میں کچھ غلطی ہوئی ہے۔۔
آج میں آپ کے ساتھ اپنا یہ پورا شہر گھومنا چاہتی ہوں۔۔وہ ہاتھوں کو کھول کر مزے سے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔۔
مما بابا پریشان ہو رہے ہونگے تمہارے اس ایڈونچر کی وجہ سے۔۔وہ ناراضگی سے گاڑی موڑ تا ہوا بولا۔۔
ہادی آپ گاڑی نہیں موڑے گے۔۔وہ اب اسے دیکھتی حتمیہ انداز سے بولی۔۔
اذہاد برا پھنسا تھا۔۔وہ ایک ٹک سے دیکھنے لگا۔۔
صرف ایک دن ہی کی تو بات ہے۔۔بہت مزہ آئے گا۔۔وہ دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو بند کرتی آنکھوں کو میچتی ہوئی بولی۔۔
آبھی وہ دونوں یہ بات کر ہی رہے تھے کے اذہاد کے نمبر پر گھر سے کال آنے لگی۔۔وہ فون نکالتا اسکرین کو گھورنے لگا۔۔کہ تبھی حور نے جھٹکے سے موبائل اس کے ہاتھ سے چھینا اور یس کا بٹن دباتی کان سے لگاتی بولی۔۔۔ہیلو۔۔
حور اذہاد کہاں ہے بیٹا اس کا موبائل تمہارے پاس کیا کر رہا ہے؟؟ آبھی تو وہ لان میں ایکسرسائز کر رہا تھا۔
ابھی اٹھ کے دیکھا تو اس کی گاڑی بھی نہیں ہے اور وہ خود بھی کہیں نظر نہیں آرہا؟؟ ارتضیٰ کے لہجے میں آزہاد کے لیے فکر تھی۔۔
ہاں بابا آپ کو بیٹے کی فکر ہے بیٹی کا خیال ہے؟؟ جا کر دیکھیں آپ کی بیٹی بھی نہیں ہے۔۔۔مصنوعی ناراضگی سے جواب دیا گیا۔۔۔
کیا مطلب کہاں گئے ہو تم دونوں اتنی صبح صبح۔۔ارتضیٰ پریشانی سے بولے۔۔
کہیں نہیں بابا ہادی بس ضد کر رہے تھے کے انہیں یہ شہر گھومنا ہے تو میں نے کہا چلو آج ہادی کو گماں ہی دیتی ہوں۔۔وہ دانتوں کی نمائش کرتی اسے دیکھ کر ایک آنکھ دباتی بولی۔۔
اذہاد کا تو یہ سب سن کر منہ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے تم دونوں اپنا خیال رکھنا اور لیٹ مت ہونا جلدی گھر واپس آنا تم دونوں کے بغیر دل نہیں لگتا۔۔۔ارتضیٰ پیار سے بولے۔۔
اوکے بابا۔۔اللہ حافظ۔۔شرارت سے مسکراتی ہوئی اس کی طرف موبائل بڑھایا۔۔۔
جاری ہے
