Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36

ارتضیٰ اذہاد کی سحر انگیز شخصیت سے بیحد متاثر ہوئے تھے وہ جب سے اس سے ملے تھے ان کے دماغ میں یہ سوچ بار بار گھوم پھر کر اسی جگہ پر آکر اٹک جاتی کے وہ کہیں سے بھی اس ملازمت کے قابل نہیں لگتا تھا کہیں نہ کہیں ان کے ذہن میں ایک شک کا کانٹا چبھ گیا تھا کہ جو وہ دکھتا ہے وہ اصل میں وہ ہے نہیں۔۔اور یہی وجہ تھی کہ وہ اذہاد میں نا چاہتے ہوئے بھی دلچسپی لینے لگے۔۔۔
وہ صبح حور سے ملتے ہوے آفس آئے تھے۔۔
آفس میں اندر قدم رکھتے ہی ان کی نظریں جیسے ہر طرف کا جائزہ لیتی اسے جانے انجانے ڈھونڈنے لگی۔۔ایک عجیب سی کشش تھی جو انہیں اس کی طرف کھینچتی محسوس ہو رہی تھی۔وہ اسے مزید جاننے کی خواہش دل میں پالنے لگے۔۔
وہ مضبوط قدموں سے آگے بڑھ رہے تھے کہ جب ہی وہ اپنی جادوئی شخصیت کے ساتھ ہاتھ میں فائل پکڑے سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہا تھا تبھی انکی ملاقات آپس میں ہوئی۔۔
السلام علیکم سر۔۔وہ مسکراتے ہوئے گردن کو ہلکا سا جھکاتے احترام سے انہیں بولا۔۔
وہ ایک ٹک اسے دیکھنے لگے۔۔
وعلیکم السلام۔۔کیسے ہیں آپ مسٹر ہادی؟؟ وہ آفس کی طرف قدم بڑھاتے خود کو لا پرواہ ظاہر کرتے اس سے مخاطب ہوے۔۔
میں بھی ٹھیک ہوں سر۔۔وہ بھی اعتماد سے قدم اُٹھاتا ان کے ساتھ چلتا بولا۔۔
وہ ہلکا سا مسکرائے۔۔۔ہادی آپ کو لندن سے یہاں کام کرتے ہوے بہت مختلف لگ رہا ہوگا۔۔ظاہر ہے ہر جگہ پر کام کرنے کا طریقہ کار الگ اور مختلف ہوتا ہے۔۔آپ کو یہاں زیادہ پریشانی کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا؟؟
ظاہر ہے سر لندن اور پاکستان ہر طرح سے ایک دوسرے سے الگ ہے یہاں کے لوگ۔ ان کی زبان۔انکے کام کرنے کا طریقہ۔نظام رہن سہن سب کچھ ہی جدا ہے جنہیں وقت لگے کا مجھے آپنانے میں سمجھنے میں مگر یہ میرے لیے مشکل اور نا ممکن نہیں۔۔خود اعتمادی سے ان کی بات کا جواب دیتا آگے بڑھ کر انکے آفس کا دروازہ کھولتا ہوا بولا۔۔
وہ اس کی ہر ادا سے متاثر ہوے بغیر نا رہ سکے۔۔
آئیے۔۔وہ آگے بڑھتے اسے بھی اندر آنے کی دعوت دی۔۔
اذہاد نے رائل بلیو کلر کی ڈریس پینٹ اور اس پے وائٹ شرٹ گلے میں ٹائی پہنے۔روشن صاف چمکتا چہرا لئے وہ لاکھوں لوگوں کی اکیلا توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔۔
کیا لیں گے آپ؟؟ وہ کرسی کی طرف اشارہ کرتے سوال کیا۔۔
بلیک کافی۔۔انکے ساتھ تکلف تو اس نے پہلے دن نہیں برتا تھا پھر آج کیوں؟؟
آپ نے لندن جیسی جگہ پر تو چاۓ پی ہی نہیں ہوگی ؟؟انٹر کام پر چاۓ اور بلیک کافی کا کہنے کے بعد انہوں نے اس سے سوال کیا۔۔۔
اور یہ سوال چھم سے اذہاد کی یادوں کے دریچے کھول گئی۔۔کسی پیارے کی ہاتھوں کی بنی چاۓ وہ کیسے بھول سکتا تھا۔۔لبوں نے تبسم بکھرا۔۔۔
نہیں پی ہے۔صرف ایک بار اور خواہش ہے کے پھر سے ایک بار اسی کے ہاتھ کی چاۓ پینے کی۔۔۔
وہ حیرت سے اسے دیکھتے ابھی کچھ اور پوچتے کے چاۓ اور بلیک کافی آگئی اور اس کے ساتھ ہی جنید بھی اندر آفس میں داخل ہوا۔۔۔اس نے جب سامنے اذہاد کو بیٹھا دیکھا تو اس کے چہرے کے نقش کھینچ گئے۔۔وہ پہلے دن سے اس سے تھوڑا کھینچا کھینچا سا تھا اس کے آنے سے جنید کی برسوں کی بنائی گئی اہمیت جیسے گھٹنے لگی تھی۔اگر اس کے پیچھے داؤد صاحب کا خاموش ہاتھ اور طلحہ صدیقی کی حمایت نا ہوتی تو وہ کبھی اسے یہاں ٹکنے نہیں دیتا۔۔اس کی چاہ جانے والی شخصیت۔۔اس کی ذہانت قابلیت ۔۔اس کا ہر انداز پہلے دن سے اس کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا۔۔۔
مگر اذہاد یہاں کسی سے مقابلہ کرنے یا کسی کو نیچے کر کے خود آگے بڑھنے کی نیت سے نہیں آیا تھا اس کا مقصد کچھ اور تھا اس کا سارا فوکس کسی اور پے تھا۔۔یہاں کوئی ایسا نہیں تھا جو اس کے مقابل آسکتا۔۔جنید جیسوں سے زیادہ قابل اس کے آفس کے سب سے آسان کام کرنے والے ورکرز ہیں۔۔وہ اسے دیکھنا تو دور اسے منہ تک لگانا پسند نہیں کرتا تھا۔۔اسے سارے کام کا اچھے سے اندازہ تھا۔۔وہ اپنی ذہانت اور قابلیت اپنے کام سے صرف ارتضیٰ ابراھیم کو متاثر کرنا چاہتا تھا۔۔اس کے کولیگز اسے دور سے حیران نظروں سے دیکھتے تھے اس کی کسی کے ساتھ سلام دعا نہیں تھی۔۔اس کا خاموش اور سنجیدہ انداز سب کو اس سے دور رہنے پے مجبور کرتا تھا۔۔
ارتضیٰ ابراھیم کے آفس میں انہی کی عمر کے سینئر اور تجربہ کار طلحہ صدیقی تھے جو کے %90 پروجیکٹس کو ہینڈل کرتے تھے۔۔ داؤد ابراہیم سے جن کے کافی اچھے اور پرانے تعلقات تھے۔۔اذہاد زیادہ تر ان سے ہی رابطے میں رہتا تھا۔جن کی اسے مکمل سپورٹ تھی اور اس کا سارا کریڈٹ داؤد ابراہیم کو جاتا تھا۔۔۔اس کے پاس وقت کم تھا۔۔
سر یہ کچھ پروجیکٹس کی فائل ہے آپ پلیز دیکھ لیں اور کل ہمارے کچھ کلئنٹس کے ساتھ میٹنگ بھی ہے۔۔جنید اذہاد کو اگنور کرتا ارتضیٰ پے مکمل توجہ دیتا بولا۔۔
ارتضیٰ کھنکھارتے ہوے فائل سامنے کرتے دیکھنے لگے تھوڑی ہی دیر میں صدیقی صاحب بھی اجازت لیتے اندر آے اور اذہاد کے برابر بیٹھ گئے۔۔
جنید سینے پے ہاتھ باندھے اذہاد کو نظر انداز کرتا ارتضیٰ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
__________________
سر آگر آپ کو برا نا لگے تو کیایہ پروجیکٹ میں ہینڈل کروں؟؟ اذہاد نے اچانک سے یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا تھا۔۔
ارتضیٰ تو خاموش اسے دیکھنے لگے۔۔
مسٹر ہادی بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔مجھے لگتا ہے ہمیں انکی صلاحیت کو آزمانہ چاہیے۔صدیقی صاحب نے اس کا بھرپور ساتھ دیتے ہوے کہا۔۔
ٹھیک ہے صدیقی صاحب میں کیا کہہ سکتا ہوں اگر آپ اور مسٹر ہادی اس پروجیکٹ کو لے کر پر امید ہیں تو یہ لیجئیے مسٹر ہادی۔۔ارتضیٰ ابراھیم نے مسکراتے ہوے فائل اس کی طرف کھسکاتے ہوے کہا۔۔جنید تو آنکھیں پھاڑے اتنی آرام سے کامیابی اس کی جھولی میں جاتا دیکھتا رہا۔۔
اذہاد اس کے لئے تو یہ ایک بہت بڑا موقع تھا ارتضیٰ کے قریب ہونے کا انہیں متاثر کرنے کا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہاد اپنے پروجیکٹ کو لے کر پوری طرح سے کونفیڈینس تھا۔۔۔اس کی محنت لگن اور صلاحیت ارتضیٰ ابراہیم کو ہی نہیں سب کو نظر آتی تھی۔۔وہ تو اس کی ذہانت سے پہلے دن سے ہی متاثر تھے مگر اب تو اس کے کام سے بھی وہ کافی خوش تھے۔۔
پروجیکٹ کے بعد سے اذہاد کی ارتضیٰ سے صرف رسمی سلام دعا اور خیرو عافیت کی حد تک ہی ملاقات ہو پاتی تھی۔۔۔
اس دن بھی وہ پروجیکٹ کے حوالے سے صدیقی صاحب کے ساتھ مل کر کمپیوٹر پر کچھ کام کر رہا تھا جب ارتضیٰ ابراھیم وہاں آے۔۔
اذہاد فورا اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا انہیں سلام کیا۔۔
کیسے ہیں مسٹر ہادی آپ؟؟انہوں نے اس کی خیریت پوچھی۔۔
ٹھیک ہوں سر۔۔اس نے انہیں دیکھتے مختصر جواب دیا۔۔
اسے یہاں جاب کرتے مہینہ ہو گیا تھا۔۔اس شہر کی ہنگامی ٹریفک اور راستوں سے کچھ مانوس ہوجانے کے بعد اس نے اپنی ذاتی گاڑی خرید لی تھی۔جسے خود ڈرائیو کر کے وہ آفس اور پروجیکٹ کے حوالے سے جہاں جانا ہوتا بینا کسی کی مدد کے آتا جاتا ۔۔اردو سیکھنے میں ابھی اسے تھوڑی مشکل تھی جبکہ وہ اردو سمجھ اچھے سے جاتا تھا کہ سامنے والا کیا بول رہا ہے۔۔۔
ارتضیٰ ابراہیم اذہاد سے خیر خیریت پوچھنے کے بعد صدیقی صاحب کو اپنے آفس میں طلب کرتے آگے بڑھ گئے۔۔
وہ سر جھٹکتا دوبارہ کرسی پر بیٹھتا اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔۔
کمپیوٹر کے کام سے وہ ابھی فری ہی ہوا تھا جب اسے انٹر کام پے ارتضیٰ نے اپنے آفس طلب کر لیا۔۔
کیا میں اندر آسکتا ہوں سر؟؟ہلکا دروازہ نوک کرتا وہ آفس کا دروازہ کھولے ان سے اجازت مانگ رہا تھا۔۔
وہ کمپیوٹر پر کچھ کام کر رہے تھے جب اذہاد کی آتی آواز پر وہ نظریں اٹھا کر اسے دیکھنے لگے۔۔آئیے مسٹر ہادی۔۔
وہ ان کے سامنے رکھی کرسیوں میں سے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔۔
مسٹر ہادی کیسا لگ رہا ہے آپ کو اس پروجیکٹ پر کام کرتے؟؟وہ سنجیدگی سے اسے دیکھتے ہوے بولے۔۔
بہت اچھا سر۔۔۔۔مگر!! میں چاہتا ہوں آپ میرے ساتھ ایک بار سائٹس پر جا کر خود اس پروجیکٹ کو دیکھیں۔۔اس نے بینا کسی جھجک کے صاف بات کی۔۔
تو پھر ٹھیک ہے مسٹر ہادی آپ اپنا جو بھی ضروری سامان ہے وہ ساتھ لے لیں۔۔میں باہر گاڑی میں اپکا انتظار کر رہا ہوں۔۔وہ حیران سا انکے حکمیہ انداز کو دیکھتا جلدی سے اپنی خوشی چھپاتا کھڑا ہوا اپنے کیبن میں آیا کمپیوٹر اوف کیا موبائل اٹھایا اور گاڑی کی چابیاں اٹھاتا ان سے پہلے گاڑی کے پاس کھڑا ان کا انتظار کر رہا تھا۔۔
وہ اس کی ایکسائٹمنٹ کو دیکھ کر مسکراے۔۔
سر کیا آپ میرے ساتھ میری گاڑی میں چلنا پسند کریں گے؟؟ یہ میرے لئے اونر کی بات ہوگی اگر آپ میرے ساتھ۔۔۔۔وہ اپنی ادھوری بات سے فیصلہ ان پر چھوڑتا خاموشی سے انہیں دیکھنے لگا۔۔۔
وہ مسکراتے ہوے اس کی گاڑی کی طرف بڑھے اور اذہاد جو حیران ہوتا انہیں خود کی طرف بڑھتا دیکھ رہا تھا جلدی سے انکی طرف کا دروازہ کھولا۔۔وہ آہستہ سے اس کی گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔۔دروازہ بند کرتا انکی سیٹ کے برابر آکے بیٹھتا وہ ڈرائیونگ کرنے لگا۔۔۔
ایک ڈیڑھ گھنٹے میں وہ اپنی مطلوبہ جگہ پوھنچ گئے تھے۔۔سفر کے دوران بھی وہ انہیں اپنے پروجیکٹ کے حوالے سے آگاہی دیتا رہا جسے وہ کافی توجہ سے سنتے اس کے پروجیکٹ کے مطلق سوال جواب بھی کر رہے تھے۔۔۔
وہ دونوں جب مطلوبہ جگہ پوھنچے تو ارتضیٰ نے پروجیکٹ پے زورو شور سے کام ہوتا دیکھا۔۔سائٹس انجینیر اذہاد کی گاڑی دیکھتے فورا اسکی طرف آیا۔۔اور جب اس نے اذہاد کے ساتھ ارتضیٰ کو دیکھا تو سلام دعا کے بعد پروجیکٹ کے متعلق ساری زبانی رپورٹ اذہاد اور ارتضیٰ کو دینا شرو ع کر دی۔۔
وہ تینو ساتھ چلتے ہوے اندر آے جہاں تمام مزدور تعمیراتی کام میں زور و شور سے مصروف نظر آے۔۔
وہاں ہر طرف مٹی بجری سریا لکڑی پڑا ہوا نظر آرہا تھا اذہاد بے اختیار آگے بڑھتا ارتضیٰ کا ہاتھ تھام گیا وہ اسے حیران نظروں سے دیکھنے لگے مگر وہ ان کی حیران نظروں کو نظر انداز کرتا انکی فکر میں ہاتھ تھام کر آگے بڑھتا انہیں اپنا پروجیکٹ دکھانے لگا۔۔
ایک الگ ہی احساس تھا جب وہ اس کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دیکھ رہے تھے۔۔وہ یوں ہی ان کو تھامے احتیاط سے ایک ایک چیز دکھاتا اور ساری ڈیٹیل دے رہا تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد وہ گاڑی کی طرف آتے ان کا ہاتھ چھوڑ کر ان کے لئے دروازہ کھولا اور جیسے ہی وہ اندر بیٹھے وہ دروازہ بند کرتا اپنی سیٹ کی طرف بڑھا۔۔۔
اذہاد کی گاڑی کا رخ آفس کی طرف تھا جب ہی راستے میں ارتضیٰ کو عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی۔
ننھے ننھے پسینے کے قطرے انکے ماتھے پر چمکنے لگے۔۔جب اذہاد کو ان سے بات کرتے محسوس ہوا کے انکی حالت ٹھیک نہیں۔۔
سر آپ ٹھیک ہیں؟؟ انکی حالت کو دیکھ کر اذہاد نے گھبرا کر پوچھا۔۔۔
ہادی گاڑی میرے گھر کی طرف موڑ لو۔۔۔انہوں نے اس کے سوال کے بدلے اس سے صرف اتنا کہا۔۔
ٹھیک ہے سر آپ مجھے گھر کی طرف جانے والا راستہ بتائیں۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں اذہاد کی گاڑی ان کے دروازے کے آگے رکی۔۔اذہاد جلدی سے دروازے سے باہر آتا انہیں گاڑی سے باہر آنے میں مدد دیتا گھر کے اندر لانے لگا۔۔۔
پریشان مت ہو بیٹا میں ٹھیک ہوں بس کبھی کبھی کھانے پینے میں لاپرواہی کی وجہ سے ایسا ہوجاتا ہے اب تو زندگی جینے کی جیسے خواہش ہی ختم ہوتی جا رہی ہے۔۔وہ اس کے حد سے زیادہ پریشان ہونے پے مسکراتے ہوے بولے۔۔۔
سر پلیز ایسا مت کہیں۔۔وہ ان کا زبردستی ہاتھ تھام کر اندر لاتے ہوے بولا۔۔
وہ خاموشی سے اس کا ہاتھ پکڑے اندر بڑھنے لگے بینا یہ جانے کے ساتھ چلتے انسان کے دل میں کیسے کیسے احساسات نہیں ابھر رہے۔۔۔
وہ سر اٹھاتا اس حسین گھر کو حسرت سے دیکھ رہا تھا جو اس کی حور کا تھا جو اس کا اپنا گھر تھا۔۔جہاں حور نے بچپن لڑکھپن گزارا جہاں اس کی حور کی بےشمار یادیں وابستہ تھیں اس گھر سے۔۔۔
وہ گھر اذہاد کو باہر سے بیحد خوبصورت لگا۔۔
گھر کے مین دروازے سے اندر قدم رکھتے ہی اس نے سامنے وہ دلگرفتا منظر دیکھا جیسے دیکھ کر وہ ہی کیا ہر کوئی رشک سے اس تصویر کو دیکھتا جہاں حور ارتضیٰ اور عظمیٰ کے ساتھ مسکراتی زندگی سے بھرپور کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔۔
کتنی ہی دیر وہ بینا پلکوں کو جھپکے اس کے معصوم حسین چہرے اور اس پے سجی اس کی مسکراہٹ کو دیکھتا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ارتضیٰ کا ہاتھ تھامیں آگے بڑھتا رہا۔۔۔
ارتضیٰ کیا ہوا آپ کو؟؟؟ وہ دور سے انہیں دیکھتی بھاگتی ہوئی آئیں تھیں۔۔
اذہاد جو نم آنکھوں سے حور کی تصویر دیکھ رہا تھا کسی کی گھبرائی ہوئی آتی آواز پے اس سمت دیکھنے لگا۔۔
_________________
وہ حیران اور نم آنکھوں سے سامنے آتی اس شخصیت کو دیکھ رہا تھا جس کے چہرے کے نقش اس کے دل کے بہت ہی قریبی عزیز سے ملتے جھلتے تھے۔وہ حور کی مما تھیں۔۔اذہاد کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا کیا کیا خواب نہیں دیکھے تھے اس نے اور حور نے مل کے ساتھ۔۔ مگر اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ جو حور کے تواسے سے اس کے بھی ماں باپ ہوں گے ان سے وہ اتنا غیر اور اجنبی بن کر ملے گا۔۔جن کے وہ گلے لگ کر اپنوں کی تشنگی مٹانا چاہتا تھا آج وہ ان سے غیروں کی طرح میلوں کے فاصلے پر کھڑا تھا۔۔۔اپنی آنکھوں کی امنڈتی نمی کو اندر کی طرف دھکیلتا وہ مشکل سے خود کے جذبات پر قابو پایا۔۔۔
عظمیٰ ارتضیٰ کو کسی کے سہارے چلتے آتا دیکھ کر گھبرا گئی تھیں وہ اپنی تمام ناراضگی بھلائے ان کی طرف بھاگتی ہوئی آئیں۔۔بھلے ہی وہ اولاد کی خاطر ان سے ناراض تھیں مگر تھیں تو وہ ان کی شریک حیات جو اپنے شوہر پر جان چھڑکتی تھیں۔۔وہ کیسے انکی دور سے دیکھتی حالت پر تڑپ کر ان کے قریب نہ آتی۔۔
ارتضیٰ اذہاد کے سہارے چلتے صوفے پر آرام سے بیٹھے۔۔اور عظمیٰ کے پریشان ہوتے چہرے کو دیکھ کر آہستہ سے مسکرائے۔۔
عظمیٰ نے پلٹ کر اذہاد کو سوالیہ نظروں سے دیکھا جو ارتضیٰ اور عظمیٰ کو باری باری محبت سے دیکھ رہا تھا۔۔
پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے عظمیٰ میں اپنی صبح کی دوائی کھانا بھول گیا تھا۔۔۔انہوں نے انکی سوالیہ نظروں کا جواب دیا۔۔
آپ بھی کمال کرتے ہیں ارتضیٰ کیا زندگی میں اپنوں کی دی گئی تکلیفیں کم ہیں جو آپ نے بھی ان میں اضافہ کرنے کا سوچ لیا؟؟وہ دکھ سے انہیں دیکھتی ہوئی بولی اور اٹھ کر اندر کی طرف چلی گئیں۔۔
ارے ہادی بیٹا آپ۔ کھڑے کیوں ہیں ؟ بیٹھیں۔۔وہ جو عجیب سے احساسات میں گھرا کھڑا تھا انکی آتی آواز پر چونکہ۔۔
ایک عجیب سا سرور تھا خوشی تھی جب وہ اسے بیٹا کہہ کر بلاتے تھے۔۔وہ جلدی سے ان کے سامنے سوفے پر مسکراتے ہوئے بیٹھ گیا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں عظمیٰ اندرسے ایک ہاتھ میں ارتضیٰ کی دوائیاں اور دوسرے ہاتھ میں پانی کا گلاس پکڑے باہر آتی ارتضیٰ کی طرف بڑھی۔۔
وہ آب ارتضیٰ کے برابر میں صوفے پر بیٹھتی انہیں اپنے ہاتھ سے دوائیاں کھلا رہی تھیں۔۔
یہ لمحہ اذہاد کے لئے بے حد خوبصورت تھا۔عظمیٰ اپنی ناراضگی بھلا ئے ان کی فکر کر رہی تھیں۔۔۔اذہاد بہت خوش تھا کیونکہ بابا اور مما کے بیچ کی ناراضگی دور ہوگئی تھی۔۔بابا اب اکیلے نہیں تھے۔۔
میں اب اجازت چاہتا ہوں سر۔۔۔وہ خاموشی سے اٹھتا ان سے بولا۔۔
ارے ایسے کیسے بیٹا۔۔آپ پہلی دفع مہمان بن کر ہمارے گھر آئے ہو۔۔مہمان نوازی کا موقع دیئے بنا آپ ایسے کیسے جا سکتے ہو؟؟ ارتضیٰ بے تکلفی سے اسے روکتے ہوئے بولے۔۔
نہیں سر پھر کبھی۔۔۔۔
روک جاؤ بیٹا لنچ کا وقت ہو گیا ہے۔۔وہ اس کے چہرے پر کچھ کھوجتی اسے گہری نظروں سے دیکھتی ہوئی بولیں۔۔۔
ان کے اتنے پیار بھرے اصرار پر اذہاد کے آگے کے تمام الفاظ منہ میں ہی دم توڑ گئے اذہاد نے معصوم نظروں سے ارتضیٰ کو دیکھا۔۔جو اس کی طرف کندھے اچکاتے ایسے دیکھنے لگے کے جیسے کہہ رہے ہوں۔۔سوری میں آپ دونوں کے معاملے میں کچھ نہیں بول سکتا۔۔
اور تبھی اذہاد کو مجبورا دوبارہ اپنی جگہ پر بیٹھنا پڑا۔۔
عظمیٰ نے بہترین کھانا بنایا تھا۔۔وہ پہلی بار ایک ماں کے ہاتھ کا بنا کھانا کھا کر دل سے سرشار ہوا تھا۔۔
یہ اسکی زندگی کے بہترین قیمتی پلوں میں سے ایک پل تھا۔۔
بیٹا جی ایک بات پوچھوں آپ سے اگر آپ برا نا مانے تو؟؟عظمیٰ نے تھوڑا سا ہچکچاتے ہوئے اسے دیکھ کر سوال کیا۔۔
اذہاد مسکراتے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔۔میم آپ مجھے بیٹا بھی کہہ رہیں ہیں اور اجازت بھی مانگ رہیں ہیں اٹس نوٹ فیئر۔۔وہ ان سے بے تکلف ہوتا بولا۔۔
وہ کتنی ہی دیر بغور اس کا مسکراتا چہرہ دیکھتی رہیں۔۔اس کے چہرے سے نظریں ہٹانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔۔بیٹا جی آپ یہاں کے لگتے نہیں؟؟
یس میم اپنے ٹھیک اندازہ لگایا میں لندن سے آیا ہوں۔۔
اور اس کا جواب سن کر عظمیٰ کا دل دھک سے رہ گیا۔۔ایک سایہ سا ان کے چہرے پے ہوکر گزرا وہ جلدی سے اس کی طرف سے رخ موڑتیں اپنے دل میں اٹھتے اندیشے کو چھپا گئی۔۔۔
اذہاد سنجیدہ ہوتا خاموشی سے نظریں چرا گیا۔۔
پھر نا تو عظمیٰ نے اس سے کوئی بات کی نا ہی اذہاد نے۔۔
بہت شکریہ۔۔کھانا بہت اچھا تھا۔۔میں بتا نہیں سکتا آپ کے ساتھ گزارے گئے یہ پل میرے لئے بہت قیمتی ہیں۔۔اپنا بہت خیال رکھیے گا سر۔۔وہ دونوں اجازت لینے لگا۔۔اسے ڈر تھا کہیں وہ جذباتی ہوکر کوئی بیوقوفی نا کر بیٹھے۔۔آپنوں سے اجنبی بن کر ان سے دور رہنا بہت اذیت دیتا ہے۔۔یہ صرف وہی سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے ساری زندگی تنہا اکیلے گزاری ہو۔۔
اللہ‎ حافظ۔۔ ارتضیٰ اور عظمیٰ کی طرف آخری نگاہ ڈالتا وہ جلدی سے موڑا اور باہر کی طرف لمبے لمبے ڈاگ بھرتا نکلتا چلا گیا۔۔
بہت ہی پیارا بچہ ہے۔۔لندن جیسی جگہ پے پلا بڑھا ہے مگر لگتا ہی نہیں کے وہ ایسی جگہ سے آیا ہے جہاں لوگ مشینی زندگی گزارتے ہوں۔۔بہت ہی حسساس محبت احترام اور عزت کرنے والا بچہ ہے۔۔اس کے جانے کے بعد ارتضیٰ عظمیٰ سے بولے۔۔
عظمیٰ کھوئی کھوئی سی اپنے شوہر کو دیکھتی انکے منہ سے اس کی تعریف سن رہیں تھیں۔۔ایک عجیب سا کھچاؤ تھا جو انہیں اس کی طرف کھنچ رہا تھا۔۔اس کی محبت بھری نظروں کا حصار وہ ابھی بھی اپنے ارد گرد محسوس کر رہی تھی۔۔
اگر وہ سچ ہوا جو انکا دل ان سے کہہ رہا ہے تو۔۔؟؟
وہ ایک ماں تھی حسساس اور محبت کرنے والی ماں جو اپنے ہی نہیں کسی بھی بچے کی آنکھوں کی محرومی کو با خوبی پڑھ سکتی تھیں۔۔۔انکا دل بار بار ان سے کہہ رہا تھا کے وہ پرایا نہیں ہے میلوں دور ہو کر بھی وہ جیسے ان کا حصّہ ہے۔۔جیسے وہی تو ہے جو حور کے حوالے سے انکی تمام محبتوں کا جائز حق دار ہے۔۔مگر!!! اگر یہ سچ ہوتا جو ان کا دل کہہ رہا ہے تو وہ خاموش کیوں تھا؟؟اپنے حق کے لئے وہ بولا کیوں نہیں۔۔۔
عظمیٰ کہاں کھو گئی؟؟ ارتضیٰ نے انہیں خاموش دیکھ کر آہستہ سے انکے کاندھے پر ہاتھ رکھ پوچھا۔۔
وہ اپنے خیالوں سے چونکتی شوہر کو دیکھنے لگی۔۔اگر یہ سچ بھی ہوا تو کیا ارتضیٰ یہ حقیقت جان کر بھی اسے اپنائیں گے؟؟جو ابھی کچھ دیر پہلے اس کا ذکر بہت محبّت سے کر رہے تھے؟؟
کچھ نہیں آپ آرام کر لیں تھوڑا۔۔۔وہ سر جھٹکتی مسکرا کر بولی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور بابا تم سے ناراض نہیں۔۔وہ تو تم سے بہت پیار کرتے ہیں وہ تمیں بہت یاد کرتے ہیں ۔۔وہ رات کے اندھیرے میں اس کا ہاتھ تھامیں بول رہا تھا آنکھیں نم تھی مگر لبوں پے اداس مسکراہٹ تھی۔۔مما بہت اداس ہیں ایسا لگتا ہے جیسے وہ تمہاری اس خاموش ناراضگی سے ٹوٹ گئی ہیں۔۔آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر اب اس کے ہاتھ کو بھیگونے لگے۔۔
میں نے انکی آنکھوں میں پچھتاوا دیکھا ہے وہ خود سے خفا ہو گئے ہیں۔۔انہوں نے اپنی ذات کو اکیلا کر لیا ہے۔۔۔
اتنی ناراضگی بھی اچھی نہیں ہوتی حور پلیز لوٹ آؤ۔۔کیا کوئی اپنوں کو اتنی بڑی سزا بھی دیتا ہے۔۔کیا تمھیں ان پر ترس نہیں آتا۔۔۔ہم جس سے محبت کرتے ہیں اسی سے تو ناراض ہوتے ہیں کبھی اس کی بڑی سے بڑی ضد بھی مان جاتے ہیں اور کبھی ایک چھوٹی سی غلطی پر اس سے منہ موڑ لیتے ہیں اور والدین کا تو حق ہوتا ہے اپنے بچوں پے اگر وہ اس حق سے ناراض ہو بھی جاتے ہیں تو یہ وقتی ناراضگی ہوتی ہے وہ دل سے کبھی بھی ان کا برا نہیں چاہتے۔۔ وہ تم سے بہت محبت کرتے ہیں حور۔۔میں نے محسوس کیا ہے میں نے انکی آنکھوں میں تمہاری جدائی کی تکلیف دیکھی ہے اتنی ظالم اور سنگ دل تو نا تھی میری حور۔۔اس کا درد انتہا کو چھو جاتا جب وہ اس کا بے جان وجود دیکھتا۔۔بہت اذیت اور دکھوں کے ساتھ لڑتے لڑتے اپنی تنہا زندگی کے اس سفر سے وہ ٹوٹنے لگا تھا۔کب تک وہ اس کے یوں بے جان وجود کو دیکھتے خود کو دلاسے دے گا؟؟۔وہ اب حوصلہ ہارنے لگا تھا۔۔آنکھوں سے اشک بہہ رہے تھے۔۔
تم نے کبھی انتظار سے بھری آنکھیں دیکھی ہے؟؟تمھیں کیا پتا انتظار کا درد۔۔۔تم نے کب کسی کا انتظار کیا ہوگا۔۔۔میں تمھیں بتاؤں انتظار بھری آنکھوں کی اذیت۔۔۔کیسی ہوتی ہے؟؟
وہ اس کے سفید چہرے کو دیکھتا دکھ سے بولا۔۔
یہ انتظار شریانوں میں گھول کر جب سارے جسم کو نیلا کر دیتا ہے تو بدن کے مرنے سے پہلے ہی آنکھیں مر جاتی ہیں۔۔اور انتظار سے بھری آنکھیں مر کر بھی مرتی نہیں بس دھند اور اور بادلوں کے سنگ ہو لیتی ہیں تم یہ سب دیکھ نہیں سکتی دیکھنا تو دور تم اسکی اذیت کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتی۔۔
انتظار خوف اور اداسی جذبات تمہارے بے جان ساکت وجود میں سرے سے موجود ہی نہیں۔۔۔تم تو سن کر سمجھ کر بھی انجان بن گئی ہو۔۔۔وہ دکھ سے اس کے خاموش وجود کو دیکھ کر اٹھا وہ ایک ایسا پتھر بن گئی تھی جس پے کوئی لاکھ سر پٹخ لے اسے کوئی احساس کوئی درد محسوس نہیں ہوتا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *