Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34

جنت نے گردن موڑ کر حور کو دیکھا اور آہستہ سے اس کا ہاتھ تھام کر اسے کھڑا کیا۔۔وہ مسکراتی ہوئی اس کا ہاتھ تھام کر آگے چلنے لگی۔۔اور اذہاد زور سےچیخا۔۔حورررر۔۔۔۔۔
اور تبھی آزہاد نے اپنی آنکھیں کھول کر اٹھتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا جیسے اس کے بے جان جسم میں فرشتوں نے روح زور سے پھینکی ہو۔۔۔۔دل اتنی زور سے دھک دھک کر رہا تھا جیسے ابھی پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا۔۔خشک گلا۔پتھرائی آنکھیں۔۔حیران حیران نظریں وہ اپنے چاروں طرف دوڑاتا خواب اور حقیقت میں فرق کرنے لگا۔۔
اس کی ایسی حالت دیکھ کر ڈیلن شاہزیب فورا سے اس کے قریب آئے۔۔۔
وہ بارہ گھنٹے کی مسلسل بیہوشی کے بعد ہوش میں آیا تھا۔۔اور سامنے نظر آتے ان دونوں کے چہرے کو حیران نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔وہ ایک بہت بھیانک خواب سے جاگا تھا۔۔۔
حور۔۔۔حور۔۔۔میری حور کہاں ہے؟؟ وہ شاہزیب اور ڈیلن کے چہرے کو دیکھتا سوال کرنے لگا۔۔۔آنکھوں سے خوف حور کے دور جانے کا اسے کھو دینے کا صاف جھلک رہا تھا۔۔
شاہزیب اور ڈیلن کے چہرے پر دکھ اور افسوس نظر آ رہا تھا اسے دیکھ کر۔۔۔
میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم لوگ بتاتے کیوں نہیں؟؟وہ غصے سے زور سے چلاتا ہوا بولا۔۔۔
اب وہ سے کیا بتاتے کہ اس کی حور زندہ ہو کر بھی زندہ نہیں تھی۔۔
کچھ دیر تو اذہاد ضبط کرتا ان کے بولنے کا انتظار کرتا رہا پھر جب برداشت جواب دینے لگی تو اس نے غصّے سے جسم میں چبھی سوئیوں کو بے دردی سے اپنے جسم سے نکالا اور اٹھنے لگا تبھی اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور ہر چیز گول گول گھومنے لگی اسے زبردست قسم کے چکر آ رہے تھے وہ ایک بار پھر گرتا اگر ڈیلن اور شاہ زیب اسے نہ سنبھالتے۔۔اس کی آنکھ کے اوپر کافی گہری چوٹ آئی تھی جس کی وجہ سے اسے ٹانکے لگے تھے۔۔وہ بھوکا پیاسا خود سے غافل اسے پرواہ تھی تو صرف حور کی۔۔
اپنی بے بسی پر زور سے آنکھوں کو بند کرتا وہ رو دیا۔۔کے جب ہی اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کسی نے اسے حوصلہ دیا۔۔درد بھری نظروں کو اٹھا کر سامنے دیکھا۔۔
تبھی داؤد نے آگے بڑھ کر اسے زور سے گلے سے لگایا۔۔
وہ ان کے سینے سے لگے زور زور سے رو دیا۔۔۔دادو میری حور۔۔کہاں ہے وہ ؟؟مجھے اس کے پاس جانا ہے میں جانتا وہ بلکل ٹھیک ہے اسے کچھ نہیں ہوا ہے۔۔میری چلتی سانسیں اور دھڑکتادل اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ وہ زندہ ہے اسے کچھ نہیں ہوا۔۔وہ ان کے سینے سے لگے روتا ہوا بول رہا تھا۔۔
داؤد بھی اسے اپنے سینے سے لگائے اس کی کمر سہلا رہے تھے وہ خود بھی رو رہے تھے۔۔۔
اذہاد حور کوما میں چلی گئی۔۔۔وہ ہم سب سے ناراض ہوگی۔۔وہ مانتی نہیں اب۔ نا کچھ بولتی ہے نا کھاتی ہے نا ہماری طرف دیکھتی ہے۔۔۔تم کچھ ایسا کرو کے وہ مان جائے۔۔۔داؤد روتے ہوے دکھ سے بولے اور اذہاد کے کان سائیں سائیں کرنے لگے۔۔۔
اس کی حور کوما میں۔۔۔۔
یہ سن کر اس کا دل درد کی لپیٹوں میں جکڑ گیا یعنی خواب سچ ہو گیا اس کی مما جنّت واقع حور کو اپنے ساتھ لے گئی ۔۔۔
وہ زور سے ان کے سینے سے الگ ہوا۔۔نہیں ایسا نہیں ہو سکتا حور جانتی ہی میرا اس کے علاوہ کوئی نہیں وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی۔۔وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتی میں اسے واپس لے آؤنگا۔اسے واپس آنا ہوگا۔۔وہ ہوش سے بیگانہ ہوتا پر کھڑا ہوا اور آگے بڑھنے لگا۔۔
نہیں اذہاد تم ابھی وہاں نہیں جا سکتے۔۔۔داؤد نے اسے کاندھوں سے تھام کر روکا۔۔
کیوں ؟؟میں کیوں نہیں جا سکتا اپنی حور کے پاس ؟؟وہ بھپر کے بولاآنکھیں لال انگارہ بنی ہوئی تھی۔۔۔
کیونکہ اس وقت وہاں سب موجود ہیں۔۔اور تمہارا ابھی وہاں جانا مناسب نہیں۔۔وہ بے بسی سے اسے دیکھتے بولے۔۔
مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا مجھے بس میری حور کے پاس جانا ہے۔۔وہ سخت تاثرات لئے انہیں دیکھتا ہوا بولا اور پھر آگے بڑھنے لگا۔۔۔
اذہاد کیا تم حور کو اس حال میں بھی تکلیف دینا چاہتے ہو ؟؟ذرا سوچو وہ کیا چاہتی تھی تم سے ؟؟وہ پاکستان کیوں آئی تھی ؟؟اس کا چھوڑا ادھورا کام کیا تم خراب کرنا چاہتے ہو ؟؟
اور آزہاد کے دماغ میں وہ ساری فلم چلنے لگی۔۔حور اپنے بابا کو منانے آئی تھی۔۔وہ انہیں سچ سے آگاہ کرنے آئی تھی۔۔مگر وہ کیا کرنے جا رہا تھا ؟؟
ہزاروں سوچوں نے جیسے ایک ساتھ اس پر حملہ کر کے اسے باندھ دیا تھا وہ بیڑیوں میں جکڑا بےبس اور لاچار ہو چکا تھا۔۔۔وہ وہی زمین پر جھکتے رونے لگا۔۔یا اللہ‎ مدد کر۔۔ میری حور مجھے واپس لا دے۔۔۔وہ تڑپ تڑپ کے رو دیا۔۔۔
داؤد نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا اور دونوں ایک دوسرے سے لگے اپنے پیارے کے لیے رو رہے تھے دعا کر رہے تھے کے وہ واپس آجائے۔۔۔۔
___________________
بابا آپ نے ٹھیک کہا تھا۔۔
وقت کی مٹھی کھل جائے تو۔۔
اس کی تتلی اڑ جاتی ہے۔۔
اک سناٹا رہ جاتا ہے۔۔
بس پچھتاوا رہے جاتا ہے۔۔
بابا آپ نے ٹھیک کہا تھا۔۔
خواب کی عمریں کم ہوتی ہیں۔۔
اور جب آنکھ کھل جاتی ہے۔۔
ایک اذیت رہ جاتی ہے۔۔
صرف حقیقت رہ جاتی ہے۔۔
بابا آپ نے ٹھیک کہا تھا۔۔۔
یہ وہ آخری پیغام تھا جو اس نے پاکستان آنے کے بعد ایک میسج کی صورت اپنے بابا کو بھیجا تھا۔۔جسے وہ آج پڑھتے رو رہے تھے۔۔
وہ جیسے جیسے قدم اٹھاتے اس کی طرف بڑھتے اس کے بھیجے گئے لفظ ان کے ذہن میں گردش کرتے انہیں پچھتاوں کی گہری کھائیوں میں اور دھکیلتے جاتے۔۔
حالات کی ستم ظرفی نے اور حور کی جدائی نے انکی کمر توڑ دی تھی سب اپنے جیسے ان سے خفا ہو گئے تھے۔۔وہ اس کے قریب آتے اس کے چہرے کی معصومیت کو پیار سے دیکھنے لگے۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ سو رہی ہو اور ابھی اٹھ کے بولے گی بابا آپ رو رہے ہیں؟؟؟میں تو مذاق کر رہی تھی۔۔۔اور ان کے گلے لگ جائے گی۔۔وہ یہ سوچتے رو دیے اور جھک کر اس کے ماتھے کو چوما۔۔پھر اس کے ہاتھوں کو تھام کر آنکھوں سے لگاتے رونے لگے۔۔حور مجھے معاف کر دو۔۔واپس آجاؤ۔۔۔وہ ہچکیوں سے رو رہے تھے۔۔مگر جو روٹھے ہوے ہوتے ہیں انہیں تو اور مزہ آتا ہے تڑپانے میں۔۔۔وہ کیا جانےاس درد کو جو سامنے والے پر گزر رہی ہوتی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور کے ساتھ چوبیس گھنٹے ایک ڈاکٹر ہوتی تھی جو اس کا خیال رکھتی تھی اس کی ساری کنڈیشن پر نظر رکھتی تھی۔۔ہسپتال کا نظام تھوڑا سخت تھا ہر کسی کو بینا وقت کے حور کو دیکھنے اس کے پاس جانے کی اجازت نہیں تھی۔۔پورے دن میں ایک وقت ایسا ہوتا تھا جس میں حور کو دیکھنے وہ بھی دور دروازے سے باہر صرف دیکھنے کی اجازت ملتی تھی ایک ماں تھی جسے دن میں کبھی بھی ملنے اس کے پاس جانے کی اجازت نہیں لیںنی نہیں پڑتی تھی۔۔وہ بھی ڈاکٹر کی موجودگی میں۔۔اور رہا سوال شوہر کا اسے ملنے سے نا دن میں کسی کو روکنے کی اجازت تھی نا ہی رات میں ان کے بیچ جو رشتہ تھا وہ تو دنیا کا ہی نہیں بلکے اللہ‎ کا سب سے پسندیدہ رشتہ تھا اسے ملنے سے روکنے پے تو اللہ‎ بھی ناراض ہوتا۔۔
ایک واحد اذہاد کے ملنے پے ڈاکٹر بھی روم سے باہر چلی جاتی تھی ان کے بیچ کسی تیسرے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔اور وہ تب تک باہر رہتی جب تک اذہاد نا باہر آتا۔۔
رات کا بیچ کا پہر تھا ہر طرف سناٹا تھا۔۔کسی کو بھی ہسپتال روکنے کی اجازت نہیں تھی۔۔تبھی وہ بینا کسی ڈر اور خوف کے مضبوط قدم اٹھاتا دروازہ ہلکا سا نوک کرتا اندر آیا۔۔ڈاکٹر جو حور کی کنڈیشن چیک کر رہی تھی نوک کرنے پر پلٹ کر دیکھنے لگی۔۔وہ جو بھی تھا کمال کا حسن پایا تھا۔۔اسے دیکھ کر صرف اسکی تعریف ہی کے گن گاۓ جا سکتے تھے۔۔مگر وہ جس کے عشق میں ڈوبا ہوا تھا وہ وجود تو اس سے بیگانی ابدی نید سو رہی تھی۔۔جسے لوگ حسرت سے دیکھتے تھے۔۔وہ تو کسی ایسے وجود کا طلبگار تھا جو نا سن سکتا تھا نا بول سکتا تھا نا دیکھ سکتا تھا۔۔۔جس کے ہوش میں آنے کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا۔۔مگر وہ تو دیوانہ تھا اور دیوانوں کو کب کوئی بات سمجھ آتی ہے۔۔۔۔
ڈاکٹر نے اسے دیکھ کر آہستہ سے اس کے برابر سے ہوتی باہر چلی گی۔۔۔
اذہاد کی نظریں تو صرف سامنے لیٹے اس وجود کا ہی طواف کر رہی تھی۔۔جو اس کے لیے ہوش میں نا ہوکر بھی بہت کچھ تھی۔۔
وہ آہستہ قدم اٹھاتا اسکی طرف بڑھا نظریں بس اسی پے جمی تھی۔۔
میری محبت میرے جزبات۔
صرف تم سے ہیں۔
دیکھو میری کائنات صرف تم سے ہے۔۔
اوروں سے پوچھنے کا حق نہیں رکھتا۔
میرے سوالات میرے جوابات۔۔
صرف تم سے ہیں۔۔
تمہیں معلوم ہی نہیں میری تنہائی کا دکھ۔
میری سوچیں میرے خیالات صرف تم سے ہیں۔
اگر کبھی بکھر جاؤں تو سمیٹ لینا مجھ کو۔
ہے مکمل جو میری ذات۔
صرف تم سے ہے۔
وہ اس کے قریب آتا اس کے حسین چاند سے مکھڑے کو محبت سے دیکھنے لگا جو اس حال میں بھی اسکی جان اس کی روح کو کھینچنے کی طاقت طاقت رکھتی تھی۔۔وہ آہستہ سے جھکتا اس کی صاف ٹھنڈی پیشانی پر اپنے جلتے لب رکھتا اپنی ساری دکھ درد تکلیفوں سے آزاد ہونے لگا۔۔ایک آنسو آنکھ کے کنارے سے ٹوٹ کر اس کے چہرے پر گرا۔۔اذہاد کو اپنا بھاری وجود ایک دم ہلکا پھولکا لگا جیسے کسی نے اس کے اندر کی بھڑکتی آگ کو بجھا کر ہر طرف سکون کی شمائیں روشن کر دی ہو۔۔۔
کتنی ہی دیر وہ اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھے حور کے زندہ ہونے کا احساس خود کو دلاتا رہا۔۔پھر آہستہ سے اپنے لبوں کو ہٹا کر وہ اب اس کی ناک پر اپنی ناک ٹیکاے اس کی بند پلکوں کو دیکھتا رہا۔۔جن آنکھوں میں ہمیشہ وہ اپنا عکس دیکھتا تھا وہ آنکھیں آج بند تھی۔دل پر جیسے ایک گھونسا سا لگا۔۔
اذہاد کے آنسو اس کی بند پلکوں پر برسات کرنے لگے۔۔
اس نے ایک کرسی کھینچ کر بیڈ کے قریب کی اور اس پے بیٹھتے حور کا سیدھا ہاتھ تھاما جس میں اذہاد کی محبت کی نشانی سجی تھی وہ ہاتھ اس نے اپنے دھڑکتے دل پے رکھا اور اس کے تکیے پے سر رکھتا بیٹھ گیا۔۔ اذہاد نے اپنا چہرا حور کے کندھے میں چھپا لیا۔۔
حور میں جانتا ہوں تم میرے دل کی دھڑکنوں کو محسوس کر سکتی ہو۔۔تمہاری چلتی سانسیں دھڑکتا دل اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ تم میرے ساتھ ہو۔۔اذہاد کے آنسوں سے حور کا کندھا بھیگنے لگا۔۔
تم تو میری ہمت میری طاقت میرا حوصلہ تھیں حور۔۔مگر اب ایسا لگتا ہے تمہاری اس بے رخی سے میں کمزور پڑنے لگا ہوں میں ہارنے لگا ہوں پلیز حور ایسا مت کرو واپس آجاؤ۔۔۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیا کرو کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔۔میں تمھیں ڈھونڈ نے کے لیے یادوں کی کھلی راہوں پر خشک پتوں کی طرح روز بکھر تا ہوں۔۔حور مجھے تمہارے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا میری سوچوں کی تمام حدیں تم پر آکے ختم ہوجاتی ہیں میں کیا کروں حور میرا مجھ پر کوئی بس نہیں چلتا ان پے تو تمہاری حکمرانی ہے تم ہی آکے انہیں سمجھا دو۔۔مجھے بتاؤ میں کیا کروں حور؟؟ وہ آنکھیں بند کیے ٹوٹ کے رو دیا۔۔۔
اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے نرم ملائم انگلیوں سے اس کے چہرے کو چھوا ہے۔۔۔اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولی پھر نظروں کو پھیر کے اس ہاتھ کو دیکھا جو محبت سے اس کے چہرے پر سرائیت کر رہا تھا وہ حیران ہوتاجھٹکے سے گردن اٹھا کر سامنے دیکھنے لگا۔۔اس کا دل زور سے دھڑکا۔۔ان نے پلکوں کو جھپک کر اپنے وہم کو دور کرنا چاہا۔۔مگر وہ اسے دیکھ کر مزید حیران ہوا۔۔اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کو رگڑ کر یقین کرنا چاہا تبھی اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے بڑھا کر اس کے ہاتھوں کو تھام لیا۔۔وہ حیران آنکھوں کو کھول کے اسے دیکھے ہی جا رہا تھا۔۔
ہادی۔۔۔بیحد محبت سے پکارا گیا۔۔۔
حو۔۔۔۔حو۔۔۔۔ر۔۔۔لفظ ٹوٹ ٹوٹ کے ادا ہوے۔۔نم ہوتی آنکھیں حیران اسے دیکھ رہی تھی۔۔وہ بیحد حسین چودھویں کے چاند کی طرح روشن لگ رہی تھی۔۔
اذہاد بے اختیار آگے بڑھتا زور سے اس کے سینے سے لگتا رونے لگا۔۔۔حور تم آگئی۔۔میں اب تمھیں کہیں نہیں جانے دونگا۔۔وہ مضبوط بازوں کا حصار اس کے ارد گرد باندھے سسکتے ہوے بولا۔۔
حور نے بھی آہستہ سے اسکے کاندھے کے گرد اپنے نازک بازوں کا حصار باندھے خود کے قریب کیا وہ اس کے کاندھے پر اپنے ہونٹ رکھے رو رہی تھی۔۔
❣❣وہ شخص مجھے پیارا ہے اسے کہنا
مرے جینے کا سہارا ہے اسے کہنا❣❣
❣❣لوگ بہت سے پیارے ہیں مجھکو
مگر وہ سب سے پیارا ہے اسے کہنا❣❣
❣❣محبتیں شکایتیں عداوتیں اسکی
مجھے سب گوارا ہے اسے کہنا❣❣
❣❣چاہنے والے اور بھی ہیں لیکن
مجھے صرف انتظار تمہارا ہے اسے کہنا❣❣
❣❣ڈوب نہ جاؤں تیری چاہت کے سمندر میں
وہی ہے ہمارا کنارہ اسے کہنا❣❣
❣❣زندگی کر دی اس کے نام پہ
وہ کر کے دیکھے اشارہ اسے کہنا❣❣
دونوں کتنی ہی دیر ایک دوسرے کے سینے سے لگے اپنے سارے غم بھولانے لگے۔۔
ہادی تم کمزور نہیں ہو تم تو میرے جلاد تھے نا۔۔وہ اسے کاندھے سے تھام کر سامنے اس کا چہرا کرتی مسکرا کر بولی۔۔وہ اپنے دونوں ہاتھ اس کے چہرے کے اطراف میں رکھتی انگوٹھوں کی مدد سے اس کے آنسوں کو صاف کرتی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔رو کیوں رہے ہو؟؟تمھیں پتا ہے نا میں تمھیں روتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔۔مجھے تکلیف ہوتی ہے جب تم روتے ہو اداس ہوتے ہو پریشان ہوتے ہو اپنا خیال نہیں رکھتے ہو تب تب میں بھی تڑپتی ہوں۔۔
نہیں میں تو نہیں رو رہا میں اداس بھی نہیں ہوں دیکھو۔۔وہ بچوں کی طرح آنکھیں صاف کرتا اداس مسکراہٹ کے ساتھ اس کے ہاتھوں کو تھامتا ہوا بولا۔۔
تم میرے پاس رہو گی میرے ساتھ رہو گی پھر میں کیوں اداس ہونگا کیوں رونگا۔۔تم اب مجھے چھوڑ کر تو کہیں نہیں جاؤ گی نا۔۔۔
وہ خاموش اس کی اداس آنکھوں میں دیکھتی رہی۔۔
ہادی میں تمہارے پاس ہی ہوں تمہارے ساتھ کبھی تمہارا دل بن کر دھڑکتی ہوئی کبھی تمہاری چلتی سانسوں میں۔۔کبھی غور کیا تم نے ؟؟
ارے ہاں یہ تو میںنے سوچا ہی نہیں۔۔وہ پلکوں کو جھپکتا معصومیت سے اسے دیکھ کے سوچنے لگا۔۔اور حور اس کی معصوم ادا کو دیکھ کے مسکرائی۔۔اور آہستہ سے آگے بڑھ کر اس کے ماتھے کو اپنے لبوں سے چومتی وہی اپنا گال اس کے ماتھے سے ٹکٹاتی آنکھیں موند لی۔۔اذہاد بھی اس خوبصورت پل کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتا آنکھیں موند گیا۔۔ہادی بابا اکیلے ہو گئے ہیں۔۔سب ان سے ناراض ہیں کوئی ان سے بات نہیں کر رہا وہ اس وقت ٹوٹ گئے ہیں۔۔پلیز انہیں سمبھال لو۔۔ایک تم ہی تو ہو اب جو میری تکلیف کو کم کرنے میں میری مدد کر سکتے ہو۔۔ذرا سوچو تمہارے پاس میں ہوں بابا کے پاس تو کوئی بھی نہیں۔۔وہ مجھ سے ناراض ہیں۔۔تمھیں انہیں منانا ہے ہادی۔۔۔وہ اب ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔اذہاد نے اسے سامنے کرتے اس کے آنسو پونچھے اور اس کا سر اپنے سینے لگایا۔۔
آنکھیں اس کی بھی نم تھی وہ اپنی انگلیاں۔اس کے بالوں میں چلاتا اسے چاہت سے چپ کروا رہا تھا۔۔
میں سب ٹھیک کر دونگا حور۔۔پلیز خود کو تکلیف مت دو۔۔میں وعدہ کرتا ہوں میں بابا کو منا لونگا وہ تم سے کبھی ناراض نہیں ہو سکتے وہ تمھیں بہت پیار کرتے ہیں۔۔حور بس تم میرے ساتھ رہنا مجھے کبھی چھوڑ کے مت جانا۔۔
میں تمہارے ساتھ ہی ہوں ہادی ہر پل ہر لمحہ۔۔۔۔میں بھلے نظروں سے دور ہوں مگر تمہاری روح کے قریب ہوں۔۔تم جب بھی مسکراؤ گے مجھے اپنے آس پاس محسوس کرو گے۔۔۔وہ اس کے سینے سے سر اٹھاتی محبت کے جگنو اس کی پلکوں میں سجاتی بولی۔۔۔
اذہاد کئی دنوں کے رونے کے بعد آج دل سے مسکرایا تھا۔۔اور تبھی حور بھی اس کے لبوں کی مسکراہٹ کو دیکھ کر مسکرا دی۔۔
اور تبھی اذہاد کی آنکھ دور مسجدوں میں گونجتی اذانوں کی آواز سے کھلی۔۔اس نے سر اٹھا کے حیران نظروں سے سامنے لیٹے وجود کو دیکھا۔۔اس کا کاندھا اذہاد کے آنسوں سے بھیگ چکا تھا۔۔یعنی وہ ایک خواب تھا۔۔حور میرے ساتھ ہے وہ مجھے چھوڑ کر نہیں گئی وہ مجھے چھوڑ کر کبھی جا ہی نہیں سکتی۔۔وہ خواب کے ساتھ حقیقت میں بھی روتا رہا تھا اس کا چہرا آنسوں سے بھیگا ہوا تھا۔۔وہ ہنستا ہوا اٹھا اور اس کے معصوم سے چہرے کے نقش کو چومنے لگا۔۔۔۔۔
میں اب کبھی نہیں رونگا حور۔۔تم بسس یوں ہی میرے ساتھ رہنا ہمیشہ۔۔میں سب ٹھیک کر دونگا۔۔۔میں تمہارا آخری سانس تک انتظار کروں گا حور ۔۔۔بس ان سانسوں کی ڈور ٹوٹنے سے پہلے ہی تم لوٹ آنا۔۔
مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔
جب تم مجھے اپنا خیال رکھنے کی تاکید کرتی ہو۔۔
مجھے کسی ننھے بچے کی طرف سمجھاتی ہو۔۔
بہت اچھا لگتا ہے۔
جب تم مجھ پے اپنا حق جتاتی ہو۔
اور مجھ سے کہتی ہو کہ تم میرے ہو۔
بہت اچھا لگتا ہے۔۔
میں جب ضد کرتا ہوں۔ یا روٹھ جاتا ہوں۔
مجھے تم اپنی محبت سے مناتی ہوں۔۔
مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔۔
جب میں روتا ہوں۔۔
میرے اشکوں کو تم اپنی پلکوں سے چنتی ہو۔۔
بہت اچھا لگتا ہے۔۔
تم سے تمہاری محبت کا اقرار سننا۔
جسے میں اپنا حق سمجھتا ہوں۔
مجھے بہت اچھا لگتا ہے
تم سے بے انتہا محبت کرنا۔۔
کیوں کہ میری زندگی کا واحد حاصل صرف تم ہو۔۔
مجھے اب اجازت دو حور میں پھر آؤنگا۔۔اس کے ماتھے کو چومتا ہوا وہ پیچھے ہٹا اور دروازے سے باہر جاتے پلٹ کر ایک آخری نگاہ اس پر ڈالی
بابا آپ نے ٹھیک کہا تھا۔۔
وقت کی مٹھی کھل جائے تو۔۔
اس کی تتلی اڑ جاتی ہے۔۔
اک سناٹا رہ جاتا ہے۔۔
بس پچھتاوا رہے جاتا ہے۔۔
بابا آپ نے ٹھیک کہا تھا۔۔
خواب کی عمریں کم ہوتی ہیں۔۔
اور جب آنکھ کھل جاتی ہے۔۔
ایک اذیت رہ جاتی ہے۔۔
صرف حقیقت رہ جاتی ہے۔۔
بابا آپ نے ٹھیک کہا تھا۔۔۔
یہ وہ آخری پیغام تھا جو اس نے پاکستان آنے کے بعد ایک میسج کی صورت اپنے بابا کو بھیجا تھا۔۔جسے وہ آج پڑھتے رو رہے تھے۔۔
وہ جیسے جیسے قدم اٹھاتے اس کی طرف بڑھتے اس کے بھیجے گئے لفظ ان کے ذہن میں گردش کرتے انہیں پچھتاوں کی گہری کھائیوں میں اور دھکیلتے جاتے۔۔
حالات کی ستم ظرفی نے اور حور کی جدائی نے انکی کمر توڑ دی تھی سب اپنے جیسے ان سے خفا ہو گئے تھے۔۔وہ اس کے قریب آتے اس کے چہرے کی معصومیت کو پیار سے دیکھنے لگے۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ سو رہی ہو اور ابھی اٹھ کے بولے گی بابا آپ رو رہے ہیں؟؟؟میں تو مذاق کر رہی تھی۔۔۔اور ان کے گلے لگ جائے گی۔۔وہ یہ سوچتے رو دیے اور جھک کر اس کے ماتھے کو چوما۔۔پھر اس کے ہاتھوں کو تھام کر آنکھوں سے لگاتے رونے لگے۔۔حور مجھے معاف کر دو۔۔واپس آجاؤ۔۔۔وہ ہچکیوں سے رو رہے تھے۔۔مگر جو روٹھے ہوے ہوتے ہیں انہیں تو اور مزہ آتا ہے تڑپانے میں۔۔۔وہ کیا جانےاس درد کو جو سامنے والے پر گزر رہی ہوتی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور کے ساتھ چوبیس گھنٹے ایک ڈاکٹر ہوتی تھی جو اس کا خیال رکھتی تھی اس کی ساری کنڈیشن پر نظر رکھتی تھی۔۔ہسپتال کا نظام تھوڑا سخت تھا ہر کسی کو بینا وقت کے حور کو دیکھنے اس کے پاس جانے کی اجازت نہیں تھی۔۔پورے دن میں ایک وقت ایسا ہوتا تھا جس میں حور کو دیکھنے وہ بھی دور دروازے سے باہر صرف دیکھنے کی اجازت ملتی تھی ایک ماں تھی جسے دن میں کبھی بھی ملنے اس کے پاس جانے کی اجازت نہیں لیںنی نہیں پڑتی تھی۔۔وہ بھی ڈاکٹر کی موجودگی میں۔۔اور رہا سوال شوہر کا اسے ملنے سے نا دن میں کسی کو روکنے کی اجازت تھی نا ہی رات میں ان کے بیچ جو رشتہ تھا وہ تو دنیا کا ہی نہیں بلکے اللہ‎ کا سب سے پسندیدہ رشتہ تھا اسے ملنے سے روکنے پے تو اللہ‎ بھی ناراض ہوتا۔۔
ایک واحد اذہاد کے ملنے پے ڈاکٹر بھی روم سے باہر چلی جاتی تھی ان کے بیچ کسی تیسرے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔اور وہ تب تک باہر رہتی جب تک اذہاد نا باہر آتا۔۔
رات کا بیچ کا پہر تھا ہر طرف سناٹا تھا۔۔کسی کو بھی ہسپتال روکنے کی اجازت نہیں تھی۔۔تبھی وہ بینا کسی ڈر اور خوف کے مضبوط قدم اٹھاتا دروازہ ہلکا سا نوک کرتا اندر آیا۔۔ڈاکٹر جو حور کی کنڈیشن چیک کر رہی تھی نوک کرنے پر پلٹ کر دیکھنے لگی۔۔وہ جو بھی تھا کمال کا حسن پایا تھا۔۔اسے دیکھ کر صرف اسکی تعریف ہی کے گن گاۓ جا سکتے تھے۔۔مگر وہ جس کے عشق میں ڈوبا ہوا تھا وہ وجود تو اس سے بیگانی ابدی نید سو رہی تھی۔۔جسے لوگ حسرت سے دیکھتے تھے۔۔وہ تو کسی ایسے وجود کا طلبگار تھا جو نا سن سکتا تھا نا بول سکتا تھا نا دیکھ سکتا تھا۔۔۔جس کے ہوش میں آنے کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا۔۔مگر وہ تو دیوانہ تھا اور دیوانوں کو کب کوئی بات سمجھ آتی ہے۔۔۔۔
ڈاکٹر نے اسے دیکھ کر آہستہ سے اس کے برابر سے ہوتی باہر چلی گی۔۔۔
اذہاد کی نظریں تو صرف سامنے لیٹے اس وجود کا ہی طواف کر رہی تھی۔۔جو اس کے لیے ہوش میں نا ہوکر بھی بہت کچھ تھی۔۔
وہ آہستہ قدم اٹھاتا اسکی طرف بڑھا نظریں بس اسی پے جمی تھی۔۔
میری محبت میرے جزبات۔
صرف تم سے ہیں۔
دیکھو میری کائنات صرف تم سے ہے۔۔
اوروں سے پوچھنے کا حق نہیں رکھتا۔
میرے سوالات میرے جوابات۔۔
صرف تم سے ہیں۔۔
تمہیں معلوم ہی نہیں میری تنہائی کا دکھ۔
میری سوچیں میرے خیالات صرف تم سے ہیں۔
اگر کبھی بکھر جاؤں تو سمیٹ لینا مجھ کو۔
ہے مکمل جو میری ذات۔
صرف تم سے ہے۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *