Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32
وقت کی گھڑیاں کیسے تیزی سے آگے بڑھیں کوئی آزہاد کے دل سے پوچھے وہ جتنا اس وقت کو روکنا چاہ رہا تھا وہ اتنا ریت کی طرح اس کے ہاتھوں سے پھسلتی جارہی تھی۔۔
اذہاد خاموش ہوگیا تھا جیسے وہ بچپن میں ہو جایا کرتا تھا۔۔ ہمیشہ جب درد اذیت حد سوا ہوتی تھی۔۔ اس کے لفظ جیسے کھو سے جاتے تھے بس خاموش نظروں سے اپنی بے بسی اور آزمائش کی انتہا کو بڑھتا دیکھتا رہتا تھا اب بھی وہ اس دشمن یار کو دل گرفتگی سے ایک ٹک دیکھ رہا تھا کے ایسا کیا کرے وہ رک جائے یا اسے ہی اپنے ساتھ لے چلے۔۔
وہ دونوں ایئرپورٹ پر کھڑے اس چلتی پھرتی بھیڑ کا حصہ لگ رہے تھے۔۔بہت جلد وہ ایک دوسرے سے بچھڑنے والے تھے۔۔
ہاتھ چھڑوا کر جانے والے کی اذیت کی انتہا تھی۔۔اور جس کا ہاتھ چھوڑا تھا اس کا دل ہچکیاں لیتا اس کے قدموں سے لپٹا لپٹا جا رہا تھا۔۔واسطے دیتا خدارا نہ چھوڑ کر جاؤ۔۔اور ان سب کے بیچ محبت یتیم ہوتی بین کر رہی تھی۔۔
فلائٹ کا ٹائم ہوا۔۔
حور جھٹکے سے کھڑی ہوئی۔۔
آزہاد کی آنکھ سے آنسوؤں کے گرنے کی رفتار تیز ہو گئی۔۔خاموش نظریں صدائیں دے رہی تھیں۔۔
حور خود پر مکمل ضبط کرتی آگے بڑھ رہی تھی۔۔
اور اذہار کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح لوٹا پٹا سا بیٹھا تھا۔۔جس کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگایا تھا اس نے بھی آخر میں اسے اپنانے سے انکار کردیا تھا۔۔
ایک آہ ایک سسکی تھی دردبھری جو سینے سے نکلی۔۔وہ مشکل سے ریلینگ کو پکڑے کھڑا تھا ٹانگوں میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اسے جاتا دیکھتا اپنے قدموں پر کھڑا رہ پاتا۔۔۔اس کا وجود اسے جاتا ہوا دیکھ کر ریزہ ریزہ بکھر رہا تھا۔۔۔
اور حور خود کو مضبوط ظاہر کرتی اپنے قدم آگے کی طرف اٹھا رہی تھی۔۔اندر کی طرف بڑھتے اس کے قدم پتھر ہوگئے۔۔ بے اختیار وہ مڑی اور بچوں کی طرح ہوتے ہوئے سامان وہیں پھینک کر آزہاد کی طرف بھاگ کر آنے لگی۔۔۔
اذہاد نے جب اسے خود کی طرح بھاگ کر آتے دیکھا تو ایک پل کے لیے تو اس کی دھڑکنیں رک سی گئی تھیں۔۔وہ ریلینگ کے اوپر سے چھلانگ لگاتا حور کی طرف اس سے تیز دوڑ کر آنے لگا۔۔۔دونوں کی آنکھوں سے جدائی کے اشک بہہ رہے تھے۔۔
حور بھاگ کر آتے اس کے سینے سے لگی ہیچکیاں لیتی رونے لگی۔۔ آزہاد نے اسے اپنے بازوؤں میں بھر کر زمین سے بہت اوپر اٹھایا۔۔۔ بہت سارا ایک دوسرے کے گلے لگ کر رونے کے بعد حور نے ہی زبردستی آزہاد کو خود سے الگ کیا وہ اب بھی گردن دائیں بائیں زور زور سے ہلا تا اسے نہ جانے کو کہہ رہا تھا اس کے ہاتھ اب بھی حور کی کمر کے اردگرد مضبوطی سے اپنا حصار باندھے ہوئے تھے۔۔
حور نے اسے بچوں کی طرح روتے ہوئے پہلی بار دیکھا تھا۔۔ اس نے آہستہ سے اپنے نرم ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے اس کے چہرے کے سارے آنسو صاف کیے۔۔ اس کا دل بھی آزہاد کی محبت میں اس کی جدائی کے فراق میں تڑپ رہا تھا۔۔مگر وہ ایک محبوبہ سے پہلے ایک بیٹی بھی تھی۔۔ وہ مجبور تھی۔۔
اس نے اذہاد کے چہرے کو تھاما۔۔ اپنا خیال رکھنا ہادی میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں تمہیں ذرا سی تکلیف جو پہنچی اس کا درد مجھے بھی ہوگا میں تمہیں جیسے چھوڑ کر جا رہی ہوں مجھے میرا آزہاد ویسی ہی چاہیے۔۔۔دعا کرنا جلد سب ٹھیک ہو جاے ۔۔۔ہم جلد ملیں گے۔۔ہادی۔وہ پنجؤں کے بل اونچی ہوئی اسکا چہرہ جھکا کر اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھ دئیے۔۔
آزہاد اب بھی درد بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔حور نے زبردستی اپنی کمر سے اس کے بازوؤں کے گھیرے کو توڑا اور آنسو پونچھتی ہوئی پلٹ کر بھاگتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔۔۔اس کی آنکھیں ایک پل کے لیے بھی خشک نہیں ہوئیں تھیں۔وہ بے تحاشا رو رہی تھی بلک بلک کے۔۔۔۔
آزہاد گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا سسکتاہوا۔۔بے حد اذیت میں اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ ایک زرد پتے کی طرح اپنی شاخ سے ٹوٹا ہوا سا لگا۔جسے ظالم ہوا نے اپنے اصل سے اسے جدا کردیا۔۔۔۔
اس سے جدا ہو کر کوئی اس سے پوچھتا کہ اس کے دل پر کیا گزر رہی ہے۔۔وہ کس طرح سے ماہ آب کی طرح تڑپ رہی ہے۔۔اس کی جدائی کس طرح سے اسے بھی اندر سے کاٹ رہی ہی۔۔۔۔اس کے برابر بیٹھی وہ عمر رسیدہ عورت دکھ سے اسے اس طرح تڑپ کر روتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔
کسی سے دور ہونا اور کسی کو دور کردینا آسان نہیں ہوتاسب سمجھتے ہیں کہ ہم بے حس ہو گئے ہیں لیکن بہتری کے لیے راستے الگ کرنے پڑتے ہیں اس ایک حقیقت میں بہت تلخی چھپی ہوئی ہوتی ہے ہو سکتا ہے جسے آپ بے رخی سمجھ رہے ہوں وہ اس شخص کی ذات کا اذیت بھرا درد ہو۔۔۔
میرا عشق ہو۔۔۔
تیری ذات ہو۔۔۔
پھر حسن عشق کی بات ہو۔۔۔
کبھی ہم ملیں ملاقات ہو۔۔۔
کبھی تو ہو چپ۔۔۔
کبھی میں ہوں چپ۔۔۔
کبھی ہم دونوں کی بات ہو۔۔
کبھی میں تیرا کبھی تو میرا۔۔۔
کبھی صحبتیں۔۔ کبھی رنجشیں۔۔کبھی دوریاں۔۔ کبھی قربتیں۔۔۔کبھی الفتیں۔۔
کبھی جیت ہو۔۔کبھی ہار ہو۔۔۔کبھی یادہو۔۔ کبھی تیرا دیدار ہو۔۔۔
صرف میرا عشق ہو ۔۔۔
تیری ذات ہو ۔۔۔
کوئی ایسی بھی ملاقات ہو۔۔۔
_________________
داؤد اور شاہزیب دو دن اور ایک رات کی لمبی فلائٹ کے بعد پاکستان پہنچ گئے تھے۔۔وہ دونوں ایئرپورٹ پر کھڑے تھے جب داؤد نے آگے بڑھ کر ایک ٹیکسی والے کو ارتضیٰ کے گھر جانے کا ایڈریس سمجھانے لگے۔۔
دادو کیا ہوگیا ہے کیا ہم اتنی رات کو اب ان کے گھر جائیں گے بات کرنے ؟؟شاہزیب ٹیکسی والے سے معذرت کرتا انہیں ایک طرف لایا اور سمجھاتے ہوئے بولا۔۔۔داؤد نے سوالیہ نظروں سے پوتے کو دیکھا۔۔ پھر ؟؟
اتنی رات کو جا کر انہیں ڈسٹرب کرنا ٹھیک نہیں ہے وہ پہلے سے ہی کو ڈسٹرب ہوں گے۔۔۔ہم صبح چلیں گے ان کے گھر آرام سے بات کریں گے ٹھیک ہے۔۔
داؤد نے اس کی بات سمجھ کر گردان ہاں میں ہلائی۔۔ٹھیک ہے مگر ابھی ہم اتنی رات کو کہاں جائیں گے ؟؟آپ پریشان مت ہوں میں نے اپنے ایک دوست کو فون کیا ہے وہ ہمیں لینے آ رہا ہے بس ہم آج رات ایک ہوٹل میں رہیں گے اس کے بعد صبح چاچو کے پاس چلیں گے ان سے بات کرنے۔۔۔شاہزیب نے انہیں ساری پلاننگ بتائی۔۔اور داؤد نے ایک ٹھنڈی آہ لی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ اللہ کرکے رات کٹی اور صبح ہوئی۔۔
داؤد اور شاہ زیب صبح ہوتے ہی ارتضیٰ کے گھر پہنچ گئے تھے۔۔
وہ اپنے کمرے میں خاموشی سے بیٹھے ہوئے تھے جب عظمی دروازہ کھول کر گھبرائی گھبرائی سی اندر آئی۔۔تایاابو اور شاہ زیب آئے ہیں ارتضیٰ لاؤنچ میں بیٹھے ہیں جلدی چلیں۔۔
ارتضیٰ اداس چہرے کے ساتھ ہاتھ میں اخبار لیے بیٹھے تھے نظر اٹھائے انہیں دیکھنے لگے۔۔اور پھر اٹھ کر زبردستی قدموں کو گھسیٹتے آگے بڑھنے لگے۔۔
وہ ان سے سلام دعا کرکے خاموش سرجھکائے بیٹھے تھے۔۔۔
داؤد نے ہی بات کا آغاز کیا۔۔۔ ارتضیٰ میرے بچے اتنا جذباتی نہیں ہوتے اولاد جب جوان ہو جاتی ہے تو اسے کچھ فیصلے اس کی مرضی سے بھی کرنے کی اجازت دینی چاہیے ورنہ کچھ تو باغی ہوجاتے ہیں کچھ خاموش موت مر جاتے ہیں۔۔ ہمیں اپنی اولادوں کو اور ان کے کئے گئے فیصلوں کو مان دینا چاہیے۔۔
حور میرے بچے نے محبت کی مگر اس محبت میں اس نے بڑوں کی عزت ان کے کئے گئے فیصلے کو ھی اونچا رکھا تھا۔ہاں مگر خود کو مار کر۔۔ تم نے اس کی آدھی ادھوری بات سنی۔۔ کیا تم نے اسے اپنے حق میں بولنے کا ایک بھی موقع دیا۔۔۔ نہیں وہ کیا کہنا چاہتی تھی تم سنتے تو سہی۔۔۔مجھے یقین ہے وہ یہی کہتی۔۔ کہ بابا محبت تو کرلی مگر مان تھا کہ آپ مان جائیں گے چلو مان ٹوٹا میرا۔۔مگر میں آپ کا وعدہ آپ کی زبان آپ کا مان بھروسہ ٹوٹنے نہیں دوں گی۔۔داؤد یہ کہتے ہوئے رو دیے۔۔۔۔
اور ارتضیٰ کی آنکھ سے بھی نمکین پانی ٹپ ٹپ کر کے گرنے لگے۔۔۔اور عظمی وہ تو دور کھڑی یہ سب سنتی منہ پر کپڑا دبائے اپنی آوازوں کا گلا گھونٹ رہی تھی۔۔۔۔
بیٹیوں کو زبردستی ان کی خوشیوں کا قتل کرکے جب انہیں ڈولیوں میں بٹھایا جاتا ہے وہاں باراتیں نہیں جنازے اٹھا کرتے ہیں۔۔۔پھر وہ ان بڑوں کی خاطر اپنی زندگی جی نہیں رہی ہوتی بلکہ گھسیٹ رہی ہوتی ہیں۔۔پھر کیا فائدہ ایسی روایتوں کا ایسی عزتوں کا جس میں اپنی بیٹیاں وہ پریاں زندہ ہی نہ رہی ہوں۔۔۔وہ تھوڑی دیر خاموش ہوئے اور اپنی نم آنکھوں کو رومال سے صاف کیا۔۔۔
جانتے ہوئے ارتضیٰ عمر اور زندگی میں کیا فرق ہے ؟؟
جو اپنوں کے بنا گذرے عمر اور جو اپنوں کے ساتھ گزرے وہ زندگی ہے۔۔رشتے نبھانا اہم نہیں۔ انہیں مضبوطی سے تھام کے رکھنا اصل کامیابی ہے۔۔ مضبوطی قائم رکھنے کے لئے آپ کو اپنے بچوں کے لئے قربانیاں بھی دینی پڑے تو کوئی حرج نہیں۔۔۔
ارتضیٰ کا دل تڑپ رہا تھا داؤد کی باتیں سن کر۔۔۔انہیں احساس ہو رہا تھا کہ حور کی اتنی بڑی غلطی بھی نہیں تھی جس کی سزا انہوں نے اسے بڑی سزا سنا دی تھی۔۔۔
زیادتی اتنی ہی کرو جتنی خود پہ آئے تو جھیل سکو اور صبر اتنا سمیٹو جتنا خدا کا عذاب برداشت کرنے کی طاقت رکھتے ہو۔۔داؤد کے الفاظوں سے ارتضیٰ کا سخت دل آہستہ آہستہ پگھل رہا تھا وہ کمزور پڑتے جا رہے تھے۔۔۔
والدین کے فیصلے غلط نہیں ہوتے مگر ان کے کئیے گئے کچھ فیصلوں سے اولاد مسکرانہ بھول جاتی ہے اولاد کی خوشی کے لیے اپنا دل وصی کرو کیوں کہ اولاد کی خوشی میں ہی والدین کا سکون چھپا ہوتا ہے۔۔۔داؤد نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی تھی ارتضیٰ کو سمجھانے کی ان کے دل میں جو حور کے لیے غلط فہمی کنڈلی مار کر بیٹھی تھی وہ دور ہو جائے۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے اپنے آس پاس دیکھ رہی تھی زندگی نے بھی کیسے روپ بدلا تھا جو اس کی منزل تھی جہاں آخر کار ایک دن اسے لوٹ کر آنا ہی تھا وہاں وہ پہنچ تو گئی تھی مگر حوالہ بدل چکا تھا۔۔ اس کی شخصیت اس کے احساسات بالکل بدل گئے تھے جہاں سے وہ ہنستی مسکراتی ہوئی گئی تھی وہاں وہ لوٹی تو آنکھوں میں نمی دل میں بے شمار درد۔۔ اذیت۔۔ تھکا وجود اور ٹوٹے جذبات لے کر لوٹی تھی۔۔ دو راتیں اور ایک دن کے لمبے سفر کے بعد وہ صبح کی فلائٹ سے پاکستان پہنچ گئی تھی۔۔ آنکھوں کی آئی نمی کو بار بار ہاتھوں کی پشت سے صاف کرتی وہ آگے بڑھی۔۔۔ وہ اپنا دل اذہاد کے قدموں میں ہی چھوڑ آئی تھی۔۔۔بس ایک خالی خولی سا وجود تھا جسے وہ زبردستی گھسیٹتی اس مشکل امتحان کو پار کرنے اکیلی جارہی تھی۔۔۔۔
دور کہیں دو آنکھیں تھیں جو مسلسل اس کے تعاقب میں تھی۔کہ وہ صحیح سلامت ایئرپورٹ پہنچ گئی ہے۔۔ اب وہ اپنا اگلا قدم کہاں کس طرف اٹھا رہی ہے۔۔
وہ دور سے ہی اس پر نظر رکھتا اس کی آنکھوں سے اوجھل تھا۔۔۔۔
حور کو خود پر کسی کی نظروں کی چبھن کا احساس تو ہوا۔۔اس نے پلٹ کر بھی دیکھا۔۔مگر وہاں کوئی ایسا نہیں تھا جس پر اس کا شک یقین میں بدلتا۔۔وہ پہلے ہی غم سے نڈھال اور سمجھ بوجھ سے تباہ ہوچکی تھی۔۔اس نے ذہن میں اٹھتے اس وہم کو جھٹکا اور ٹیکسی کی طرف بڑھی۔۔۔
_________________
ٹیکسی کا مالک ایک ضعیف تھا جس کے چہرے پر وقت کی ستم ظریفی کی ایک داستان رقم تھی۔کاندھے مجبوریوں اور بوجھ کے وزن سے جھکے ہوئے تھے انہیں دیکھ کر حور کو بے حد دکھ ہوا۔۔۔
بابا جی کیا آپ مجھے اس ایڈریس پر لے چلیں گے؟؟ وہ انہیں ایڈریس بتاتی بولی۔۔
جی بیٹا میں لے چلوں گا۔۔ دکھی آنکھوں سے وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا اور اس کا سامان اٹھا کر گاڑی میں رکھنے لگا۔۔۔حور نے بھی آگے بڑھ کر سامان رکھنے میں ان کی مدد کی اور دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔۔۔
دنیا میں اگر دیکھا جائے تو اپنا غم کچھ نہیں کتنے لاکھوں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کی تکلیف دکھ درد ہم سے کئی گناہ زیادہ ہیں مگر پھر بھی ان کی آنکھیں اپنے رب کا ہر حال میں شکر ادا کرتیں نظر آتی ہیں۔۔حور نے دکھ سے سوچتے ہوئے سر سیٹ کی پشت سے ٹیکایا اور آنکھیں موند لی…گرم گرم سیال آنکھوں کے کنارے سے بہتے ہوئے بالوں میں جذب ہونے لگے۔۔۔
حور کے ٹیکسی میں بیٹھتے ہی وہ بھی ایک ٹیکسی میں جلدی سے بیٹھا اور ڈرائیور سے حور کی ٹیکسی کو فالو کرنے کا بولا۔۔
دونوں ٹیکسیاں اپنے سفر پر آگے پیچھے رواں دواں تھیں ایک آگے اور دوسری اس کے پیچھے۔۔۔
حور نے آہستہ سے گردن سیٹ سے اٹھائی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو اپنے ہاتھوں سے صاف کیا اور بیگ میں ہاتھ ڈال کر اپنا موبائل نکالا۔۔موبائل کی اسکرین روشن ہوتے ہی اذہاد کے چہرے کی حسین تصویر ظاہر ہوئی اور آنکھیں ایک بار پھر آنسوؤں سے بھرتی اس کے روشن موبائل کی اسکرین پر نظر آتے اذہاد کے چہرے پر ٹپ ٹپ گرنے لگیں۔۔۔دل کے ہر ایک کونے میں درد کی ایک ٹیس سی اٹھی ۔۔۔۔۔اور اسی پل ایک زور دار دھماکا ہوا۔۔۔ہر طرف دھواں دھواں سا پھیل گیا۔۔دماغ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوگیا۔۔کچھ پتہ ہی نہیں چلا کہ ہوا کیا ہے ؟؟مگر اسے اپنے آس پاس عورتوں کے چیخنے کی اور لوگوں کی بھنبھناہٹ صاف سنائی دے رہی تھی۔۔۔
وہ ہل کیوں نہیں پا رہی۔۔؟؟ اس کا ایک ہاتھ گاڑی کی کھڑکی سے باہر پڑا تھا روڈ پر اور جسم گاڑی کے اندر پھنسا ہوا تھا۔۔
جسم کے ہر حصے میں تکلیف اتنی شدت سے بڑھتی جا رہی تھی کہ جیسے اب وہ ہمت ہارنے لگی تھی آنکھوں کے آگے منظر دھندلانے لگا تھا۔۔وہ پلکوں کو جھپکتی منظر صاف کرنے کی کوشش کرتی مگر اس کی یہ کوششیں رائیگاں جا رہی تھی۔۔۔
یا اللہ میری مدد فرما۔۔۔اس کے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی مگر وہ دل میں اپنے رب سے مخاطب ہوتی بولی جو اسے سن رہا تھا اس کے بے حد قریب تھا۔۔آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔وہ اس وقت بے یارومددگار اور بے بس سی اپنے رب کے آگے فریاد کر رہی تھی۔۔۔داؤد ارتضیٰ عظمی اذہاد سب کے چہرے اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔۔گرم گرم سی خون کی بہتی ایک لکھیر سر سے ہوتی اس کے چہرے پر آ رہی تھی۔۔۔۔
ڈیلن کے تو حواس ہی ساتھ چھوڑ گئے جب اس نے حورین کی گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے کچھ پل بعد اس کی گاڑی کو ایک تیز رفتار گاڑی سے تصادم ہوتے دیکھا۔۔۔۔حور کی ٹیکسی اس تیز رفتار گاڑی سے ٹکراتی کھلونے کی طرح روڈ پر قلابازیاں کھاتے ایک اور گاڑی سے ٹکرائی تھی۔۔۔وہ اذہاد کے حکم سے حور کا پیچھا لندن کے ایئرپورٹ سے کر رہا تھا جس سے حور بالکل لاعلم تھی۔۔وہ دور سے ہی اس کے اوپر نظر رکھا ہوا تھا۔۔اور جب اس نے اتنا خطرناک حادثہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا تو بھاگتا ہوا لوگوں کی بھیڑ کو چیرتا اس کی گاڑی کی طرف بڑھا۔۔جہاں لوگ دور سے کھڑے گاڑی کو دیکھ کر اس پر تبصرہ کر رہے تھے۔۔کوئی بھی ان میں سے آگے بڑھ کر ان کی مدد کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔۔۔
وہ غریب بے بس اور لاچار ضعیف بابا تو اس خطرناک حادثے میں فورا ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔۔
سینوریتا۔۔۔ڈیلن چیختا ہوا آگے بڑھا۔۔۔
ڈیلن حور کی مدد کرنےکے لئے جیسے ہی آگے بڑھا تو وہاں کھڑے لوگوں نے اسے پکڑ لیا۔۔۔
پاگل ہوگئے ہو کیا یہ پولیس کیس ہے۔۔ہاتھ مت لگاؤ پولیس کو آنے دو۔۔ڈیلن نے حیران نظروں سے اور ان کی نا سمجھنے والی زبانوں کو سنتے زور سے انگلش میں انہوں خود کو چھوڑنے کو کہا۔۔مگر نہ وہاں کھڑا کوئی اس کی زبان سمجھ رہا تھا اور نہ وہ کسی کی۔۔۔پھر ان میں سے ایک آگے بڑھا اور اس نے انگلش میں ڈیلن سے بات کرتے اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگا۔۔ڈیلن نے زور سے دھکا دیتے اپنے آپ کو لوگوں کی گرفت سے چھڑوایا اور حور کی مدد کرنے
کے لیے آگے بڑھتا زمین پر جھکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کے حور بہت بری طرح سے گاڑی میں اندر پھنسی ہوئی ہے اس نے مدد طلب نظروں اور بے بسی سے ایک نگاہ اس بھیڑ پر ڈالی وہ اکیلا حور کو گاڑی سے نہیں نکال سکتا تھا۔۔مگر کوئی فائدہ نہیں تھا اس بھیڑ میں سے کوئی ایسا نہیں تھا جو آگے بڑھ کر اس کی مدد کرتا۔۔اب جو کچھ کرنا تھا اس اکیلے کو ہی کرنا تھا۔۔
وہ جیسے ہی حور کو نکالنے کے لئے اگلا قدم اٹھانے ہی والا تھا کہ کسی نے پیچھے سے اس کے کاندھے کی شرٹ کو پکڑ کر پیچھے کی طرف دھکیلا اور خود آگے بڑھا۔۔۔ڈیلن اس شخص کو اپنے سامنے آنکھیں پھاڑ کر حیران دیکھنے لگا۔۔۔وہاں کھڑی بھیڑ ایک پاگل کو دیکھ ہی رہی تھی کے دوسرا بھی بیوقوفی کرتا اس مسئلے میں کود پڑا تھا۔۔۔اسی بھیڑ میں سے پھر وہی شخص آگے بڑھتا اس دوسرے شخص کو بولا۔۔یہ پولیس کیس ہے اس میں مت پڑو ورنہ پھنس جاؤ گے۔۔۔
اور وہ شخص جو صدمے سے گاڑی سے باہر نظر آتے حور کے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا چیختے ہوئے اس آدمی سے بولا۔۔۔۔بیوی ہے یہ میری میں جان سے مار دوں گا اسے جس نے مجھے روکنے کی کوشش کی۔۔۔وہ زخمی شیر کی طرح دھاڑا تھا۔۔جس کی دھاڑ اور جاہرانہ تیور دیکھ کر تمام لوگ ڈر کے ایک ایک قدم پیچھے ہٹے تھے۔۔۔
اذہاد کو جس بات کا ڈر تھا وہ سچ ثابت ہوا یعنی اس کا دل جوحور کے معاملے میں گواہی دیتا تھا وہ بالکل سچ گواہی ہوتی تھی۔۔
لال روتی ہوئی آنکھیں بکھرا لوٹا پٹھا سا حلیہ وہ اس وقت زندگی کے بے حد دردناک عذاب سے گزر رہا تھا۔۔۔اس کی حور موت کی دہلیز پر کھڑی تھی۔۔
حور نے نیم بیہوشی کی حالت میں بھی اس کی آواز سن کر اسے پہچان گئی تھی۔۔۔منظر اب بھی دھندلا دھندلا سا نظر آرہا تھا۔۔اذہاد اس کی طرف جھکا تو دیکھا اس کا چہرہ خون سے تر تھا۔۔دل کو جیسے اسکے کسی نے اپنے پاؤں تلے کچل دیا ہو۔۔۔
حوررر۔۔۔۔ وہ زور سے چیختا اس کی طرف بڑھا۔۔۔
ڈیلن بھی فورا آگے بڑھتا گاڑی کو اوپر اٹھایا تاکہ آزہاد حور کو باہر نکال سکے جو بالکل گاڑی میں دبی ہوئی تھی۔۔۔
اذہاد جھکتا ہوا حور کے قریب گیا اور حور کے کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے باہر کھینچنے کی کوشش کرنے لگا۔۔ وہ زندہ تھی اس کی سانسیں چل رہی تھی جس کا ثبوت اس کا خود کا دھڑکتا دل تھا جو حور کے دل کے ساتھ دھڑکتا تھا۔۔اذہاد حور کو باہر نکالنے کی کوشش کر رہا تھا مگر وہ بہت بری طرح سے پھنسی ہوئی تھی۔۔۔ڈیلن کو اکیلا گاڑی اٹھاتا دیکھ کر دو تین اور آدمی بھی آگے بڑھے جن کی مدد ہے آزہاد نے بے حد احتیاط سے اسے آرام سے باہر نکالا ہی تھا کہ جب ھی اس کے لمبے بالوں کی چوٹی کسی چیز میں زور سے اٹکی جس کی تکلیف سے حور نے ایک درد بھری سسکی لی۔۔اذہاد اس کی تکلیف پر تڑپ سا گیا۔۔وہ جلدی سے اگے بڑھتا اس کے حسین خون آلودہ بالوں کو باہر نکالا۔۔وہ خون میں بھری ہوئی تھی۔۔اس کے سر کی پچھلی طرف گہری چوٹ آئی تھی جس سے اسکے سنہرے بال خون سے بھر چکے تھے۔۔اذہاد نے زور سے اسے اپنے سینے میں بھینچا اور دھاڑیں مار مار کر چیخ چیخ کے رونے لگا۔۔ایمبولینس سارن بجاتی وہاں پہنچ گئی تھی۔۔ ڈیلن آزہاد کے قریب آیا۔۔
سینور جلدی کریں ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔۔۔ہمیں انہیں جلد ہوسپیٹل لے جانا ہوگا۔۔۔
اذہاد جس کے کپڑے حور کے خون سے بھر چکے تھے۔۔
وہ پاگلوں کی طرح روتے ہوئے حور کو اپنے مضبوط میں اٹھاتا ایمبولینس کی طرف بھاگا۔۔۔وہ حور کو کسی کو بھی ہاتھ لگانے نہیں دے رہا تھا۔۔۔
حور نیم بیہوش تھی۔۔میں تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا حور ۔۔۔وہ ایمبولینس میں بھی بیٹھا اسے سینے سے لگائے بچوں کی روتا اسے کہہ رہا تھا۔۔۔
وہ لمبا چوڑا شاندار انسان اس وقت بےبسی کی مثال بنا ہوا تھا۔۔جس کی آنکھوں اور ہر ایک آنسوں میں بے پنہا درد ہی درد جھلک رہا تھا۔۔۔
آنکھیں بند مت کرنا پلیز۔۔حور اٹھو آنکھیں کھولو۔۔آنکھیں بند مت کرنا حور۔۔وہ اسے سینے میں بھیچے جھنجھوڑتا ہوا بولا۔۔۔
یہ ایک اذیت ناک مرحلہ تھا۔۔۔اور دیکھنے والوں کے لئے ایک بے حد افسوس ناک منظر۔۔۔
یا اللہ۔۔۔۔اللہ۔۔۔۔وہ بے حد تڑپ کر رو رہا تھا۔۔۔اپنے رب کو پکار رہا تھا۔۔۔
میرا چاہے مجھ سے سب کچھ لے لے میری زندگی میری سانسیں۔۔میری حور کو بچا لے۔۔۔۔
زور زور سے چیخنے اور رونے کی وجہ سے اس کے گلے میں کانٹے سے اگ آئے تھے۔۔۔
اذہاد کا دل حور کی ایسی حالت اس کا خون اس کی تکلیف دیکھ کر پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ارتضیٰ سے بات کر رہے تھے۔کہ جب ان کا فون بجا۔۔جیب سے نکال کر فون دیکھا۔۔تو حور کے پاکستان کے نمبر سے کال آتی دیکھ کر وہ ایک پل کے لیے حیران رہ گئے۔۔
یہ حور پاکستان کب آئی؟؟وہ حیران پریشان سے فون ہاتھ میں لیے کچھ دیر سوچتے رہے اور پھر یس کا بٹن دباتے فون کان سے لگایا۔۔۔
وہ کچھ بولتے اس سے پہلے سامنے کسی بھاری مرد کی آواز آئی۔۔۔السلام علیکم سر۔۔۔میں ارشد بات کر رہا ہوں۔۔۔
داؤد نے حیران نظروں سے فون کان سے ہٹا کر اسکرین کو دیکھا۔۔کہ کہیں انہوں نے غلطی سے کسی اور کا نمبر حور کے نام پر سیو تو نہیں کرلیا۔۔
آپ کون بول رہے ہیں؟؟داؤد نے سامنے والے سے سوال کیا۔۔۔سر میں ارشد ہوں۔۔یہاں تھوڑی دیر پہلے ایک بہت بڑا حادثہ ہوا ہے۔۔یہ جن کا فون ہے وہ اس حادثے میں بہت بری طرح زخمی ہوئی ہیں جن کا بچنا مجھے مشکل لگ رہا ہے۔ انہیں ابھی ہسپتال لے جایا گیا ہے۔۔آپ کا نمبر مجھے سامنے نظر آیا تو میں نے سوچا آپ کو انفارم کر دو۔۔۔
وہ آدمی نہ جانے اور کیا کیا بول رہا تھا مگر داؤد کے تو پیروں سے زمین اسی وقت نکل گئی جب اس نے کہا کہ اس فون کے مالک کا بچنا مشکل لگ رہا ہے۔۔۔
ان کی آنکھوں میں آنسو ایک دم بھر گئے۔۔ہاتھوں سے فون چھوٹ گیا۔۔۔
حور ر ر ۔۔۔۔وہ زور سے چیخے۔۔
جاری ہے
