Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04
حور جلے پیر کی بلی بنی یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہی تھی اور باہر دروازے کی طرف دیکھتی جا رہی تھی۔۔
عظمیٰ صبح سے اسے نوٹ کر رہی تھی۔۔
عظمیٰ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کے آخر حور کے دماغ میں چل کیا رہا ہے وہ جب سے آئی تھی اس نے نہ تو کسی ہوسپٹل میں جاب کے لیے اپلائی کیا تھا اور نہ اس بارے میں کسی سے بات کی تھی وہ یا تو ماں باپ کے ساتھ وقت گزارتی یا اپنا لیپ ٹاپ لے کے کٹھہر پٹھر کرتی رہتی۔
عظمیٰ نے ارتضیٰ سے بھی اس بارے میں بات کی تھی لیکن انہوں نے کوئی خاص دھیان نہیں دیا عظمیٰ کو لگ رہا تھا کہ حور کوئی بم پھوڑے گی اس کی عادت تھی خاموشی کے بعد وہ ایک ایسا بم پھوڑتی جسے سب ہل جاتے ۔
حور کیا بات ہے بیٹا کوئی آنے والا ہے جو تم بار بار بہار گیٹ کی طرف دیکھ رہی ہوں؟؟عظمیٰ نے کہا
حور نے پلٹ کے ان کو دیکھا۔۔تھوڑی دیر میں پتہ چل جائے گا مما۔۔اس کے چہرے پر عجیب بیچینی سی نظر آئی اور وہ پھر دروازے کی طرف دیکھنے لگی ۔
عظمیٰ کو اب اسے دیکھ کے گھبراہٹ ہونے لگی ۔
تھوڑی ہی دیر میں گیٹ کے باہر پارسل بوائے آیا۔۔۔تو ادھر سے ادھر چکر کاٹتی حور اس پارسل بوائے کو دیکھ کے اپنی جگہ روک گی۔۔گیٹ پر کھڑے چاچا نے اس پارسل بوائے سے ایک لفافہ لے لیا اور حور کو وہ لفافہ دینے اس کی طرف بڑھے۔۔
حور بھاگتی ہوئی چاچا کے آنے سے پہلے ہی وہ ان تک پہنچ گئی اور ان کے ہاتھ سے لفافہ لیا اور وہی لفافہ پھاڑ کے اس میں سے ایک کاغذ نکال کر پڑھنے لگی ۔۔
جیسے جیسے وہ کاغذ پڑھتی جارہی تھی اس کے چہرے پر ایک عجیب سی چمک اور خوشی نظر آتی جا رہی تھی
عظمیٰ اسے ہی پلکیں جھپکائے بنا دیکھے جا رہی تھیں ۔
اور پھر حور نے گردن اٹھا کے ان کواسطرح دیکھا۔۔کہ وہ وہیں صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھی وہ ماں تھیں اپنی اولاد کے بدلتے ہر انداز کو نوٹ کر رہی تھیں ۔۔اور انہوں نے حور کے چہرے پر صاف پڑھ لیا تھا کے جو اس نے ٹھان لیا ہے وہ کرے گی کوئی نہیں جو اس کو روکے۔
ارتضیٰ صوفے پر بیٹھے ایک ہاتھ میں وہ کاغذ لئے اور دوسرے ہاتھ سے اپنا سر پکڑے کبھی وہ کاغذ پڑھتے اور کبھی حور کو دیکھتے۔۔عظمیٰ ارتضیٰ کے برابرخاموش سکتے میں بیٹھی تھیں ۔
حور خاموش نیچے ارتضیٰ کے پیروں کے پاس گردن جھکائے بیٹھی تھی۔
یہ سب کیا ہے حور ؟؟؟ تم ایسا کیسے کر سکتی ہو ہم سے بنا پوچھے۔۔۔ارتضیٰ نے بے یقینی سےاسے دیکھ کر پوچھا ۔
بابا آپ نے میرے میڈیکل میں ایڈمیشن لینے پر مجھ سے وعدہ کیا تھا یاد کریں ۔۔۔وہ سر اٹھا کے ان سے بولی۔
ہاں جب تم بچی تھی تو تمہیں بہلانے کے لئے میں نے تم سے وعدہ کیا تھا ۔
وعدہ تو وعدہ ہوتا ہے اور وہ وقت آگیا ہے جب آپ کو اپنا وعدہ نبھانا ہے ۔۔۔اور اب میں بچی نہیں ہوں جو بہل جاؤ گی۔۔حور نے اچھا بم پھوڑا تھا جس سے سب بلبلا گئے تھے۔
میں تمہیں کیسے اتنی دور اکیلے لندن بھیج دوں وہ بھی اکیلے؟؟؟ارتضیٰ بولے
پوری دنیا میں اکیلی میں ہی تو نہیں جو لندن اسپیشلسٹ بننے کے لیے جا رہی ہے۔۔۔دنیا میں اور بھی بہت سی لڑکیاں ہیں جواکیلے آتی ہیں۔۔
آتی ہونگی لیکن میں تمہیں نہیں بھیجوں گا۔۔۔ارتضیٰ نے سختی سے کہا ۔
آپ نے مجھے ڈاکٹر بننے کے لیے لندن نہیں بھیجا جب میں بچی تھی میں نے مان لیا۔۔آپ نے اس کے بدلے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اسپیشلسٹ بننے کے لیے لندن ضرور جاؤں گی۔۔۔تو اب آپ مجھے کیوں منع کر رہے ہیں ؟؟وہ خوبصورت آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لاتے ہوئے بولی۔۔
حور اس وقت تم یہی میڈیکل میں ایڈمیشن لینے کے لیے نہیں مان رہی تھیں اس لیے میںنے وہ وعدہ کیا تھا۔۔وہ بے بسی سے بولے۔۔
تو کیا آپ نے جھوٹا وعدہ کیا تھا ؟؟؟۔۔وہ دکھ سے بولی
یعنی پانچ سال سے جو میں نے خواب دیکھا وہ میرے بابا کا جھوٹا وعدہ تھا ؟؟؟اس کے آنسوؤں آنکھوں سے نکل کےگالوں پر بہہ رہے تھے ۔۔ارتضیٰ کو اسے روتا دیکھ کر بے حد تکلیف ہوئی۔
____________________
حور کے ہاؤس جاب کمپلیٹ ہونے میں ابھی کچھ ہی دن باقی تھے کہ جب ھی اس نے لندن کے ایک بڑے یونیورسٹی میں سپیشلسٹ کے لئے اپلائی کیا ۔۔۔اور اسے خوشی اور حیرت تب ہوئی جب ایک ہفتے کے بعد لندن کی یونیورسٹی سے ایک ایمیل اسے موصول ہوا ۔۔اسے لندن کی اسی یونیورسٹی نے ایڈمیشن کے ساتھ اس یونیورسٹی کے ہوسپٹل میں جاب بھی آفر کی تھی۔حور کا ارادہ تھا کے باقاعدہ لیٹر آنے کے بعد یہ خوشخبری گھر میں بتائے گی خیر اس کے لئے تو یہ خوشخبری تھی باقی گھر والوں کے لئے وہ ایک جھٹکا تھا۔
____________________
عظمیٰ دروازہ نوک کر کے اندر آئیں۔۔تو دیکھا وہ نیچے فرش پر بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔وہ اس کے پاس آ کے بیٹھ گئی چلو حور کھانا کھا لو ۔۔اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔رو رو کے آنکھیں سجالی تھیں ۔۔۔اب کھانے سے کیسی ناراضگی چلو شاباش غصہ چھوڑو اور کھانا کھاؤ۔۔۔اس نے غصے سے منہ دوسری طرف پھیر لیا ۔
عظمیٰ اچھے سے جانتی تھی کہ اب وہ جب ہی مانیں گی جب اس کی مانی جائے ۔۔
ارتضیٰ خاموشی سے اندر آئے اور اس کے سامنے آ کے بیٹھ گئے۔
حور نے ناراضگی میں گردن نیچے جھکا لی ۔
تو وہ مسکرائے بچپن میں بھی اس نے ایک بار اپنی ضد ایسے ہی ناراض ہو کے منوائی تھی وہ بالکل نہیں بدلی تھی ابھی بھی وہ بچوں جیسی ہی تھی ۔۔
انہوں نےہاتھ آگےبڑھا کے ٹھوڑی سے اس کی گردن اوپر اٹھائی اور مسکرا کے دیکھا۔
وہ روئی روئی ناراض آنکھوں سے باپ کو دیکھنے لگی ۔
اسپیشلسٹ کے لیے لندن جانا ہے ؟؟ انہوں نے محبت سے ا سے دیکھ کے بولا۔
اور وہ روتے روتے ہنستے ہنستے ان کے گلے لگ گئی ۔۔۔آئی لو یو بابا ۔۔
آئی لو یو ٹو مائی چڑیا ۔۔وہ کیسے اپنے جگر کے ٹکڑے کو ناراض کر سکتے تھے ۔۔۔۔لیکن وعدہ کرو اسٹیڈی کمپلیٹ کر کے آنے کے بعد تم مجھ سے اور کوئی زد نہیں منواؤ گی ؟؟
حور ہنسی ۔۔۔وہ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔۔
ارتضیٰ نے مصنوعی غصے سے آنکھیں دکھائیں۔۔۔۔ٹھیک ہے میں نے اجازت دے دی آگے دادو سے اجازت لینا تمہارا کام ہےمیں اس میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔۔۔انہوں نے صاف ہری جھنڈی دکھائی تھی وہ جانتے تھے داؤدابراہیم کو منانا کتنا مشکل ہے۔
حور نے پلٹ کے اپنی ماں کو دیکھا وہ خاموش تھیں مگر ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ ایک ساتھ حور کو دیکھی جا رہی تھیں ۔
حور تڑپ کے ماں کے گلے لگی ۔۔۔مما آپ ایسے رو رہی ہیں جیسے میں رخصت ہو رہی ہوں ۔
جب تم ماں بنو گی نا حور پھر جانوں گی ماں کا درد۔۔
عظمیٰ نے روتے ہوے کہا
ممابس دو سال کی بات ہے حور نے عظمیٰ کا ہاتھ پکڑ کے انہیں منانے کی کوشش کی وہ اس طرح سے ماں کو روتا ہوا نہیں دیکھ پا رہی تھی۔
عظمیٰ نے روتے ہوئے ہی گردن ہلائی اور کھانے کی ٹرے آگے کرکے اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے لگی۔۔اجازت تو دینی ہی تھی حور نے کب کسی کی بات ماننی تھی۔
____________________
داؤد حیران نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے نہیں حور میں تمھیں اس چیز کی قطعی اجازت نہیں دوں گا۔۔پرائے ملک میں اپنی بچی کو آکیلے بھیج دینا کہاں کی عقلمندی ہےتمہیں ارتضیٰ نے اجازت دی کیسے ؟؟ میں ابھی پوچھتا ہوں۔۔وہ اپنے جلال میں اٹھے۔۔
حور نے روتے ہوئے انہیں واپس بیٹھا دیا۔۔ پلیز پلیز دادو ایسا مت کریں۔۔کیا میرے خواب کی آپ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔شاہ زیب بھائی بھی تو لندن گئے تھے اکیلے پھر میں کیوں نہیں ؟؟؟ کیوں کہ میں ایک لڑکی ہوں تو مجھے خواب دیکھنے کا کوئی حق نہیں ؟؟ میری غلطی تو نہیں ہے کہ میں ایک لڑکی ہوں؟؟؟ وہ بے تحاشہ رو رہی تھی روتے روتے اس نے داؤد کی گود میں سر رکھ دیا ۔۔۔داؤد نے زور سے اپنی لاٹھی زمین پر ماری کیسی بے بسی تھی یہ وہ اس کے آنسو دیکھ بھی نہیں سکتے تھے۔اور اسے خود سے دور کر بھی نہیں سکتے تھے۔۔حور یہ غلط بات ہے تم نے ہر بار اپنی ضد اس طرح سے روتے ہوئے منوائی ہے۔
پلیز دادو مان جائیں نا ۔۔۔اس نے گردن اٹھائی رونے سے اس کی ناک گال اور آنکھیں لال سرخ ہو گئی تھی ۔۔
داؤد نے بے تحاشہ دکھ سے اسے دیکھا اور اس کی آنکھ سے آنسو صاف کیے ۔۔یہ پہلی اور آخری تمہاری ضد ہے جو میں مان رہا ہوں۔۔اس کے بعد تمہاری کوئی ضد اور کوئی آنسو مجھے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کریں گے ۔
وہ خوشی سے ان کے گلے لگ گئی ۔۔۔تھینک یو دادو ۔
لیکن ایک وعدہ کرو دوسال بعد جب تم واپس آؤگی ۔۔تو تمہیں ایک ضد میری بھی ماننی پڑے گی بولو منظور ہے کرتی ہو وعدہ۔۔۔داؤد نے وعدہ لینے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
حور نے ایک پل کے لیے اپنے دادا کو دیکھا اور بنا سوچے سمجھے ہنستے ہوئے ان کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ دیا۔
اس وقت اس کے سر پہ صرف لندن جانے کی دھن سوار تھی ایک عجیب سی کشش تھی جو اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔
سب حیران تھے حور کے اچانک لندن جانے کی پر ۔
جس جس کو پتہ لگاسب ا سے ملنے کے لیے گھر آئے۔
عنان اپنی فیملی کے ساتھ گھر آئے تھے۔
یہ کیا بات ہوئی حور ابھی تو تم پڑھ کر آئی ہو اور ابھی پھر پڑھنے کے لیے دو سال کے لئے جا رہی ہوں ۔۔عنایا ناراضگی سے بولی۔
عنایا میں تم سب کی محبت کی قدر کرتی ہوں مگر یہ میرا خواب ہے میں یہ خواب جلد ہی پورا کرکے واپس آ جاؤں گی تم سب کے پاس۔۔حور نے عنایا کے دونوں ہاتھوں کو تھام کے محبت سے کہا۔۔۔جس پہ عنایا مسکرا دی۔۔ٹھیک ہے اتنی دور جا رہی ہو تو اب رابطے میں رہنا بھولنا نہیں عنایا بولی
انشاءاللہ میں جب بھی فری ہوئی میں تم سب سے بات ضرور کروں گی۔
حور اٹھ کے فریحہ کے برابر میں آ کے بیٹھیں جو اس سے ناراض منہ بھلا کے بیٹھی تھی۔۔کیا ہوا میری گڑیا مجھ سے ناراض ہے حور اس کے کان کے قریب جا کے بولی۔
ہاں ۔۔۔فریحہ نے ناراضگی سے بولا۔
فری قسمت والے ہوتے ہیں جن کے خواب پورے ہوتے ہیں۔
کیونکہ جب خواب ٹوٹتے ہیں۔تو نایہ چاند سے چہرے چاند رہتے ہیں۔ نہ ستارہ آنکھیں ستارہ۔ زندگی بس تاریخ آسمان بن کر رہ جاتی ہے ۔۔حور نے محبت سے اس کا چہرا ہاتھوں مے لیتے کہا۔۔
فری اس کے گلے لگ گی آپی ابھی تو میںنے دوستی کی تھی آبھی تو آپ سے مجھے بہت کچھ سیکھنا تھا ۔۔۔۔وہ اداس ہوتے بولی ۔
ارے بیوقوف میں وہاں جا کے تم سے بات کروں گی نا ہم نزدیک هو یا دور دوست ھی رہے گے حور فری کو پیار کرتے بولی ۔۔۔فری ہنس دی۔
شاہزیب کو جب حور کا پتا لگا تو دل تھوڑا اداس ہوگیا آبھی تو۔ محبت کا ہلکا ہلکا احساس جگا تھا سب کچھ کتنا خوبصورت لگنے لگا تھا اور اب اچانک سے ویرانی چاہ گی هو جیسے وہ ایک روشنی هو ائی تو اجالا ہو گیا جب دور جا رہی ہے تو اندھیرا چھا گیا ۔
شاہ زیب حور سے ملنے گھر آیا تھا ۔
میں نے آپ سے کہا تھا نہ مجھے لندن جانے کے لئے آپ کی ضرورت نہیں ۔۔حور نے ایک عزم سے کہا کے دیکھو مجھے اپنے خواب پورے کرنے کے لیے کی سی مرد کی ضرورت نہیں میں خواب تو کیا پوری دنیا جیت سکتی ہوں اکیلی ۔۔
سہی کہا تھا تم نے حور خوابوں کو لے کے کوئی سمجھوتا لیکن ان خوابوں کا کیا جو کوئی کسی کے لیے دیکھے ؟؟؟ شاہزیب نے کچھ جاتاتے لہجے میں حور سے کہا
حور نے ہستے ہوے اس کی بات ہوا میں اڑائی وہ تو میں نہیں جانتی میں اتنا جانتی ہوں کے جو خواب دیکھو تو اسے پورا کرنے کے لیے آخری حد تک جاؤ تو خواب کیوں نا پورے ہونگے۔۔
شاہزیب ہنسا اللہ تمہارے سب خواب پورے کرے ۔
امین حور نے فورن کہا۔۔۔اور شاہزیب کی یہ دعا عرش تک پوھنچی تھی۔
__________________
حور کی ساری تیاری مکمل ہوگئی تھی لندن جانے کی۔۔۔کل کا ایک دن تھا اور پھر پرسو اسے صبح لندن کے لیے روانہ ہونا تھا۔
عظمیٰ نے سوتی ہوئی حور کے سر پر پیار کیا ۔۔اور کمرے سے باہر آ گئیں۔۔۔ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ارتضیٰ نے انہیں اداس دیکھا تو ان کا ہاتھ پکڑ کے اپنے برابر میں بٹھایا ۔۔۔یاد ہے تمہیں عظمیٰ میں نے بھی ایسا ھی کیا تھا بابا کے ساتھ حور کے مستقبل کے لیے انہیں چھوڑ آیا تھا آج احساس ہو رہا ہے کہ جب اولاد ماں باپ کو چھوڑ کے جاتی ہے تو کتنی تکلیف ہوتی ہے ۔۔جب میں بابا چھوڑ کے جا رہا تھا تب ان کو بھی اتنی ہی تکلیف ہوئی ہوگی جتنی آج مجھے ہو رہی ہے حور کے لندن جانے سے۔۔کتنے اکیلے ہو گئے ہوں گے وہ جب میں انہیں چھوڑ کر آیا ہونگا آج میں خود کو اکیلا محسوس کر رہا ہوں ۔۔۔انہوں نے اداس ہوتے کہا ۔
پتا نہیں ارتضیٰ لیکن ایک عجیب سی گھبراہٹ ہورہی ایسا لگ رہا ہے کے جیسے کچھ چھنے جا رہا ہے ۔۔۔پتا نہیں پر یوں لگ رہا ہے کے سب کچھ بدل جاے گا کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا ۔۔۔ میری حور ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہوجاے گی۔۔وہ بیچینی سے بولی ۔
تم ماں ہو نہ اس لئے اس کے دور جانے کی تمہیں فکر زیادہ ہو رہی ہے۔۔۔ارتضیٰ بولے ۔
نہیں ارتضیٰ پہلے بھی وہ مجھ سے دور پانچ سال کے لیے جاچکی ہے۔۔تب ایسی بے چینی نہیں تھی تب اس کے دور جانے کا دکھ تھا ۔۔لیکن آج مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔پریا ملک پراے لوگ پتا نہیں کیسے رہیگی ۔۔۔ارتضیٰ ہنسے یہ میری حور ہے تم اس کی فکر نہیں کرو۔
________________
اور پھر وہ وقت آگیا جب اس کو ایئرپورٹ پر سب چھوڑنے آئے۔۔وہ سب سے خوشی خوشی مل رہی تھی ۔۔اور سب اس سے اداس ہوکہ مل رہے تھے۔۔
ارتضیٰ نے اس کے لیے ایک اپارٹمنٹ خریدا تھا اور ایک چھوٹی سی گاڑی حور کی ہی فرمائش پے کہ زیادہ خرچہ کرنے کی ضرورت نہیں ہےمجھے چھوٹا سا اپارٹمنٹ خرید کے دے دیں ۔۔اکیلے رہتے بڑے گھر سے مجھے گھبراہٹ ہوتی ہےساری زندگی وہاں رہنا تو ہے نہیں صرف دو سال کی بات ہے۔۔اور چھوٹی سی گاڑی اس لیے کہ مجھے آنے جانے میں کہیں پریشانی نہ ہو اور جسے میں آرام سے سنبھال سکوں۔
انہوں نے اپنے خاص آدمی سےیہ سارا انتظام کروایا تھا ۔
حور نے ارتضیٰ کو ساتھ چلنے سے منع کردیا تھا ۔۔کہ وہ بلاوجہ پریشان ہوں گے اتنا لمبا سفر کرکے ۔۔۔۔اب وہ اسے اڑنے دیں گرنے کے ڈر سے تھامیں نہیں ورنہ وہ کبھی بھی اڑنا نہیں سیکھ پائے گی ۔
اور اس طرح وہ سب سے مل کے ہنستے مسکراتے اپنے خوابوں کی طرف قدم بڑھانے لگی ۔۔۔۔عجیب سی کشش تھی جواسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔اس کی زندگی بدلنے والی تھی۔۔ایسا لگتا تھا جیسے زندگی میں کچھ خالی پن ہے مگر جب وہ اپنے خوابوں کی طرف قدم بڑھا رہی تھی تو اسے ایسا لگ رہا تھا کچھ ایسا بھی ہے جو اس کے خوابوں سے بھی بڑھ کر اسے ملنے والا ہے۔۔وقت بہت جلد اسے بہت سی چیزوں سے نوازنے والا ہے ۔
_____________________
وہ لندن ایئرپورٹ پر کھڑی تھی۔۔خوشی اتنی تھی کے بیان کرنا مشکل تھا جہاں وہ کھڑی تھی وہاں دنیا جہاں کی بھیڑ تھی۔۔ترقی یافتہ ملک کے مصروف لوگ یہاں سے وہاں بھاگتے نظر آرہے تھے کوئی جا رہا تھا کوئی آرہا تھا کوئی کسی کو لینے آیا تھا وہ سب اسے مشین لگے۔وہ ہنسی کل اسے بھی اس بھیڑ میں گم ہوکے ان کے جیسا ہی بننا تھا وہ سامان اٹھاتے آگے بڑھی۔اس نے یہاں وہاں دیکھا اسے انفارم کیا گیا تھا کہ یونی کی طرف سے اسے کوئی لینے آ رہا ہے جو اس کی بہتر رہنمائی کرسکے ۔ویسےاسے کسی رہنمائی یا کسی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔کیونکہ وہ ایک ذہین اور قابل ڈاکٹر تھی اپنی تیاری وہ پاکستان سے اچھے سے کرکے آئی تھی۔حور نے نظر دوڑاتے دیکھا ایک لڑکی جو اس کی ہم عمر تھی ایک بورڈ ہاتھ میں پکڑے جس پہ حورین ارتضیٰ ابراہیم لکھا تھا۔کسی کو ڈھونڈ رہی تھی۔حور آہستہ قدم اٹھاتی اس کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔لڑکی نے پہلے اسے تعجب سے دیکھا۔اور پھر بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تم ہو۔حور نے ہاں میں گردن ہلائی۔لڑکی نے ہنستے ہوئے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا
ہائے آئے ایم بیلا ۔۔حور نے بھی مسکرا کے اس کا ہاتھ تھام لیا۔اور بولی۔میرا نام تو آپ جانتی ہیں۔
وہ دونوں مسکراتی ہوئی آگے بڑھی حور نے اپنے سامان خود اٹھایا ہوا تھا ۔ حور کے پاس زیادہ سامان نہیں تھا خاص ایک دو جوڑے اور خاص دو جوڑی جوتے تھے اور کچھ ڈاکومنٹس جو بہت ضروری تھے ۔۔اس کا خیال تھا کہ جس چیز کی ضرورت ہوگی وہ وہاں سے خرید لے گی بلاوجہ گھدے گھوڑوں کی طرح سامان لاد کے جانا بےوقوفی ہے اور اس وقت بھی وہ ایک سادہ سے سوٹ اور سادے سے حلیے میں ہی تھی ۔اس نے جینز پہنی ہوئی تھی جو ٹخنوں سے تھوڑی سی اوپر تھی ڈھیلہ لمبا کرتا اور دوپٹے کو گلے کے گرد لپیٹ کے سامنے دو سیروں کو چھوڑا ہوا تھا۔پاؤں میں سفید رنگ کے جوتے پہنے ۔۔سارے بالوں کو اوپر اٹھا کے بڑا سا جوڑے کی شکل میں لپیٹا ہوا تھا۔ گولڈن رنگ کے بال جوڑے سے نکل کے لٹوں کی شکل میں گورے مکھڑے اور گوری گردن پہ بکھرے ہوئے تھے۔۔وہ اس سادگی میں بھی بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔بیلا اس کے معصوم حسن اور سادگی کو دیکھ کر کافی متاثر ہوئی تھی۔۔
بیلا نے ایک کیپ روکی اور ڈرائیور کو ایڈریس سمجھانے جھکی ہی تھی کہ حور نے ایک پرچی اس کے آگے کی جس بے اس کے اپارٹمنٹ کا ایڈریس تھا ۔۔
بیلا نے حیران ہو کے اسے دیکھا۔۔ تم ہوسٹل نہیں جا رہی؟
حورنے گردن نہ میں ہلائیں۔۔
بیلا نے حیران ہوتے وہ پرچی ڈرائیور کو تھما دی۔
حور خاموش بیٹھی موبائل کی سیٹنگ کرنے لگی تاکہ گھر والوں سے رابطہ کیا جاسکے۔۔
بیلا خاموشی سے اسکی مصروفیت کو دیکھنے لگی۔۔تم اسکالرشپ پر آی هونا ؟؟
نہیں۔۔ حور نے بنا گردن اٹھائے جواب دیا ۔۔
پھر وہ اسکالرشپ کہاں گئی؟؟؟بیلا نے تجسس سے پوچھا ۔۔
صحیح حقدار کے پاس ۔۔۔حور نے مصروف انداز سے کہا۔۔میرے اسکالرشپ میرے بابا ہیں اس کے جواب میں فخر تھا۔
اوہ۔ ۔۔۔تو اس کا مطلب امیر باپ کی بیٹی ہو اس لئے مغرور هو؟؟
حور نے اب گردن اٹھائی اور اس کو مسکرا کے دیکھا ۔۔میں مغرور نہیں ہوں مگر اجنبیوں سے احتیاط برتی ہوں ۔۔
انٹرسٹنگ۔۔تم پہلی ایسی لڑکی ہو جس سےمیں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکی۔۔مجھ سے دوستی کروگی وہ ہاتھ آگے بڑھاتے بولی۔
حور نے بیلا کا ہاتھ تھام لیا۔۔ میں تمہارا دل نہیں توڑوں گی۔۔ تم مجھے اپنا دوست مان سکتی ہو۔۔مگر مجھے تمہیں اپنا دوست ماننے میں تھوڑا ٹائم لگے گاکیونکہ میں دوستی کرنے میں تھوڑی محتاط ہوں۔
بیلا ہنسی۔۔ ڈونٹ وری میں تمہارا یہ گریز اور ڈر جلد ختم کر دوں گی ہم بہت جلد ایک بہترین دوستی کی مثال قائم کریں گے۔
حوربھی مسکرائی۔۔ انشاءاللہ
اور دونوں کی باتوں باتوں میں حور کا اپارٹمنٹ بھی آگیا۔۔
بیلا نے پیسے دینے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا حور نے بیلا کا ہاتھ تھام کے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا پرس نکالا جس میں پیسے تھے اور اس میں سے پیسے نکال کے ڈرائیور کو دیے حور اور بیلا گاڑی سے نیچے اتری حور نے اپنا سامان خود نکالا
حورمڑی سامنے ہی خوبصورت سی راہ جو چھوٹے چھوٹے پتھروں سے بنی ہوئی تھی وہ راہ ایک چھوٹے سے مختصر لان تک جا کر ختم ہوتی تھی اس میں چھوٹے چھوٹے سے پھول لگے ہوئے تھے ۔۔اور پھر سامنے ایک دو زینہ اوپر جا کے اپارٹمنٹ کا دروازہ نظر آتا تھا۔۔حور کے اپارٹمنٹ کے تھوڑے فاصلے پر ایک کے بعد ایک دوسرے اپارٹمنٹ ایسے ہی لائن میں بنے ہوئے تھے۔۔اپارٹمنٹ میں رہنے والے تمام لوگوں کی ایک الگ سے کار پارکنگ کی بھی جگہ تھی جو تھوڑے سے قدم کے فاصلے پر تھی۔۔ کچھ لوگوں نے اپنی ذمہ داری پہ کار گھر کے آگے پارک کی ہوئی تھی۔۔ حور نے سامان اٹھایا اور اپارٹمنٹ کی طرف قدم بڑھائے۔
حور ۔۔۔بیلا نے پیچھے سے آواز دی۔۔حور نے پیچھے مڑ کے دیکھا۔۔ کل کا شیڈول پتا ہے نا ؟؟
حور نے مسکرا کے ہاں میں سر ہلایا ۔۔اور بیلا ہاتھ ہلاتی اگے بڑھ گی۔۔
حور دروازہ کھولتی اندر آگئی۔۔اپارٹمنٹ بہت خوبصورت تھا چھوٹا مگر صاف ستھرا اسے پسند آیا مختصر سامان اپنی جگا سلیقے سے سیٹ کیا ہوا تھا۔۔۔
حور نے سامان ایک جگہ رکھا اور فون نکالا پاکستان کال کی کال فور اٹھائی گئی تھی۔۔
اسلام علیکم بابا کیسے ہیں آپ مما کیسی ہیں؟
وعلیکم السلام میرا بیٹا خیریت سے پہنچ گئی آپ؟؟ ہم سب ٹھیک ہیں آپ کی مما بھی ٹھیک ہیں۔۔ارتضیٰ بولے
جی بابا تھوڑی دیر ہوئی ہے پہنچی ہوں اور بالکل خیریت سے ہوں۔۔۔حور بولی
کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی سفر میں اور گھر ڈھونڈنے میں؟؟
پلیز بابا میں چھوٹی بچی نہیں ہوں جو آپ پریشان ہو رہے ہیں میں ٹھیک ہوں۔۔حور نے انہیں مطمئن کیا۔۔
بچے کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہو جائے والدین کے لئے وہ بچے بچے ہی رہتے ہیں ۔۔یہ لوگ اپنی ماں سے بات کرو انہوں نے ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھایا ہے نہ ٹھیک سے سو رہی ہیں۔۔۔ارتضیٰ عظمیٰ کی شکایت لگاتے ہوئے بولے۔۔
حور میری بچی کیسی ہو ؟؟؟ٹھیک ہو خیریت سے ہو کوئی پریشانی تو نہیں ؟؟؟ان کے لہجے میں بہت فکر تھی حور کے لیے۔
مما میں بالکل ٹھیک ہوں پلیز آپ ایسا مت کریں خیال رکھیں اپنا بابا کا ورنہ میں بھی اپنا خیال نہیں رکھوں گی آپ کو سمجھ نہ ہوگا ۔۔پلیز مما ۔۔۔وہ منت کرتے ہوئے بولی ماں باپ سے دور ہونے کا دکھ تو اسے بھی تھا۔۔ان سے دور ہونے کے ڈر سے وہ جینا تو نہیں چھوڑ سکتی تھی۔
نہیں میں رکھوں گی اپنا خیال تم بھی اپنا خیال رکھنا کوئی بھی پریشانی ہو تو فورا فون کرنا وقت پے کھانا کھانا اور آرام کرنا دیر رات گئے تک پڑھنا مت اور باہر سے کچھ اسنیک وغیرہ لا کے فریز کر دو۔۔عظمیٰ جانتی تھی کہ حور نیند اور بھوک کی کتنی کچی ہے۔
حور ہنسی اوکے ماما اوکے اپنا خیال رکھیں اور بابا کا بھی اللہ حافظ کہہ کے اس نے فون رکھا اور پھر دوبارہ فون دادو کو لگایا ان سے بھی بات کرکے ان کو مطمئن کر کے اس نے فون بند کیا ۔
وہ کافی تھک چکی تھی سفر کی وجہ سے اسے ٹھیک سے نیند نہیں آئی تھی اب وہ سونا چاہتی تھی اس نے بیگ سے آرامدہ سوٹ نکالا سب سے پہلے فریش ہوئی اور پھر لمبی تان کے سو گئی ۔
اچھی بھرپور نیند لینے کے بعد وہ اٹھی اسے بھوک لگی تھی فریج میں دیکھا کچھ بھی نہیں تھا اس نے سوچا گھر میں کچھ بنانے سے بہتر ہے بہار سے کھانا کھا لیا جائے۔۔اس نے چینج کیا اور باہر آگئی سب سے پہلے اس نے اپنی چھوٹی سی گاڑی پارکنگ سے نکالی اور ایک پاکستانی ریسٹورنٹ کی طرف کار موڑی وہاں سے اچھا سا پاکستانی کھانا آرڈر کیا کیونکہ کل سے وہ بھی مصروف ہونے والی تھی پھر کیا پتا ایسی عیاشی کے لئے اسے وقت ملتا یا نہیں۔۔وہ اچھے کھانوں کی شوقین تھی۔
اچھا سا ڈینر کرنے کے بعد وہاں سے نکلی لندن بے حد خوبصورت تھا روشن صاف ستھرا بے حد بولڈ لوگ لیکن اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا وہ یہاں گھومنے نہیں آئی تھی جو ان سب چیزوں میں وقت برباد کرتی ہیں ان پر توجہ دیتی۔۔اس کی سوچ صرف یونیورسٹی ہسپتال اور آنے والے فیوچر کے اردگرد گھومتی تھی۔۔زندگی بہت سخت روٹین میں جو بدلنے والی تھی۔
اس کے بعد وہ ریسٹورنٹ سے نکلی اور ایک سٹور پر آئی وہاں سے اس نے کھانے پینے کی چیزیں لی اور گھر آ کر انہیں فریض کر دیا ۔۔ایک ہفتے تک کے لیے اب اسے کھانے پینے کی کوئی پریشانی نہیں ہونے والی تھی ۔
جاری ہے
