Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09 (Watching)
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
جنت سرجھکائے ہاتھوں کو اٹھائے نماز میں دعا مانگتی رو رہی تھی اپنے اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی کہ اس نے اسے سچائی کا راستہ دیکھایا زیاد کی محبت جیسا تحفہ دیا وہ روتی منہ پر ہاتھ پھیرتی اٹھی چادر تہے کرتی وہ جیسے پلٹی اس کے ہاتھ سے چادر چھوٹ کے زمین پے گرگئی وہ سکتے میں کھڑی کھلے دروازے کے باہر کھڑے شخص کو دیکھتی پتھر ہوگئی اس کی آزمائش شروع ہوگئی تھی اللہ کو اب اپنے بندے کو آزمانا تھا کہ وہ اس کی آزمائش میں بھی اس کی شکر گزار تھی یا نہیں؟؟
ڈیڈ۔۔ حلق میں پھنستی ہوئی آواز کے ساتھ بولی جنت بولی ۔۔۔
ایڈمن لال آنکھیں لیتا جنت کی طرف بڑھا اور ایک ہاتھ گھما کے اسے زور دار تھپڑ مارا۔ جنت منہ کے بل زمین پر گری حیران آنکھیں لیے باپ کو پلٹ کے دیکھا جس نے کبھی سخت آواز میں بھی بات نہیں کی تھی آج اس نے اس پہ ہاتھ اٹھایا۔۔کیا مذہب بدل لینے سے خون بھی بدل جاتا ہے رشتے بھی بدل جاتے ہیں ؟؟وہ آنکھوں میں آنسو لیے باپ کو تکنے لگی۔۔
ایڈم نے اسے بالوں سے پکڑ کے اٹھایا لیزا یہ تم کیا کر رہی تھی ؟؟یہ تم کس راہ پر چل نکلی ہو ؟؟یہ سب تو نہیں سکھایا ہم نے تمہیں وہ غصے سے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
ڈیڈ صحیح کہا آپ نے یہ آپ نے نہیں سکھایا یہ مجھے میرے اللہ نے بتایا ہے اور آپ جس راہ پہ چل رہے ہیں وہ غلط راہ ہے۔۔جنت آگے کی بات بول ہی نہ سکی ایڈم نے اسے بے تحاشہ مارنا شروع کر دیا جب وہ تھک گیا تو کہا۔۔تمہارے لئے یہی بہتر ہے لیزا کے تم اس راہ کو چھوڑ دو اور واپس اپنے مذہب کو اپنا لو ورنہ میں اس سے بھی برا پیش آؤں گا تمہارے ساتھ وہ دروازہ بند کرتا غصے سے چلا گیا اور جنت زمین پے گری روتی رہی یا اللہ میری مدد کر۔۔۔
ایڈم نیچے آیا۔۔۔ماریہ ۔۔۔۔ ماریہ۔۔۔ ماریہ کچن سے بھاگتی ہوئی آئی ۔۔کیا ہوگیا ہے !؟!ماریہ نے ایڈم کو زندگی میں پہلے کبھی اتنا غصے میں نہیں دیکھا تھا
آج سے لیزا کا گھر سے نکلنا بند سمجھی۔۔۔وہ یہ بولتا باہر چلا گیا اور ماریا بھاگتی ہوئی لیزا کے کمرے میں آئی۔۔ جہاں لیزا زمین پہ بیٹھی رو رہی تھی کیا ہوگیا میری بچی تم ایسا کیوں رو رہی ہو وہ اسے اٹھاتی ہوئی بولی یہ تمہارا حال؟؟وہ اس کا چہرہ ہاتھ میں لیے حیران ہوتی بولی ۔۔ چہرہ صاف بتا رہا تھا کہ کسی نے اسے بہت بے دردی سے مارا پیٹا ہے۔۔مجھے بتاؤ لیزا کیا تمہارے ڈیڈ نے تم پہ ہاتھ اٹھایا ہے؟؟ مما میرا نام لیزا نہیں جنت ہے میں نے اسلام قبول کرلیا ہے۔۔وہ آنسو صاف کرتی بولی
ماریا منہ پر ہاتھ رکھے آنکھیں پھاڑے اپنی بیٹی کے منہ سے کڑوا سچ سن رہی تھی وہ زور سے اسے دھکا دیتی بولی۔۔یہ کیا بکواس کر رہی ہوں لیزا ہوش میں تو ہو ؟؟
ہاں میں ہوش میں ہوں مگر آپ دونوں ابھی بھی بے ہوش ہیں جاگ جائیں ہوش میں آ جائے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے وہ ماریہ کی آنکھوں میں دیکھتی بےخوف بولی۔۔۔
تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے تم بہک گئی ہوں لیزا ایڈم نے جو کیا تمہارے ساتھ بالکل ٹھیک کیا آج سے تم گھر سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکالوں گی سمجھ گئی ۔۔یہ کہتی ماریا دروازہ بند کرتی وہاں سے چلے گی۔۔
مجھے تو آپ قید کر دیں گے چپ کروا دیں گے مگر زیادہ کو کیسے روکیں گے وہ بند دروازے کو دیکھتی سوچنے لگی۔۔۔
السلام علیکم بابا۔۔کیسے ہیں آپ مما کیسی ہیں ؟؟وہ فون کان سے لگائے باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ ہاسپٹل جانے کی تیاری بھی کر رہی تھی۔۔جلدی جلدی ناشتہ کرتی گاڑی کی چابیاں بیگ اٹھاتی جیسے ہی حور نے دروازہ کھولا وہ آنکھیں پھاڑے سامنے دیکھنے لگی۔۔ شاید طوفان آ جاتا تو اسے اتنی حیرانگی نہ ہوتی جتنا اسے دیکھ کے ہو رہی تھی حور کو ایسا لگا جیسے سات آسمان ایک ساتھ اس کے اوپر ٹوٹے ہوں ۔۔اس کے ہاتھ سے فون چھوٹتے چھوٹتے بچا وہ سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
حور بیٹا۔۔ ارتضیٰ کی آواز فون میں سے آئی اسکا سکتا ایک دم ٹوٹا۔۔۔جی جی بابا میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں اللہ حافظ وہ یہ کہتی اسے بار بار دیکھتی بھی جا رہی تھی۔۔ اذہاد جو صرف بنا پلکیں جھپکائے حور کو ہی دیکھے جا رہا تھا وہ اسے اس وقت بے حد حسین لگی سادہ سے ڈھیلے ڈھالے کپڑوں میں لمبے خوبصورت بالوں کو بل دے کے باندھا ہوا تھا جن کی لٹیں یہاں وہاں سے نکلتی اسے اور حسین بنا رہی تھی۔وہ آزہاد کو اپنے سامنے چھوٹی سی اسکول گرل لگی اسے حور کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات یاد آئی تو شرمندگی اور دکھ سے اس کی آنکھیں جھک گئیں۔۔حور آنکھیں پھاڑے اسے دیکھے جا رہی تھی وہ خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتی تھی کہ آزہاد اس کے دروازے پے کبھی آئے گا۔۔دونوں کا دل ایک دوسرے کے لئے زور زور سے دھڑک رہا تھا اذ ہار صاف اس کے دل کی دھڑکن سن سکتا تھا۔ اس نے آہستہ سے نظروں کو اٹھا کے پھر اس دشمن جان کو دیکھا جو اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے وہ ہیل بوائے ہو بے اختیار اذہاد کے بائیں طرف کے لبوں کا کنارہ کھینچا اور ایک جاندار مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی جس سے اس کے گال پے ایک خوبصورت گڈھا نمایاں ہوا جو آج تک خود اپنے وجود سے ناواقف تھا وہ حور کی بدولت آج اس کے چہرے پہ نظر آیا۔۔
وہ حیران ہوتی اس کے مسکراتے چہرے اور گال میں پڑھتے گڈھے کو دیکھ رہی تھی۔۔اس کی مسکراہٹ خود اس سے بھی زیادہ حسین تھی حورین اسے دنیا جہاں کو بھولے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔
وہ ساڑھے چھ فٹ کا لمبا چوڑا بے حد حسین اور خوبصورت مغرور سا انسان جو اس وقت اپنی پوری تیاری کے ساتھ حور کی چوکھٹ پر کھڑا تھا۔۔بے حد قیمتی رویل بلو تھری پیس سوٹ میں جو پرفیکٹ اس کے جسم کے حساب سے بنایا گیا تھا شاندار لگتا تھا حورین کیا کوئی بھی اسے دیکھتا تو ایسے ہی دیکھتا رہ جاتا وہ شہزادوں جیسا دکھنے والا ان کی جیسی آن بان رکھنے والا واقعی تعریف کے قابل تھا۔۔
حور کا موبائل ایک بار پھر بجاحور ماتھے پہ بل ڈالے اس پے نظر ہٹاتی موبائل کو گھوڑا۔۔ہیلو۔۔ ہاں حور میں بیلا کچھ چیزیں ہیں یار یاد سے لیتی آنا۔۔حور فون کان سے لگاتی اسے دیکھتی بنا دروازہ بن کیے اندر چلی گئی۔۔اذہاد وہی دروازے پر کھڑا اسے ایسے ہی اندر جاتے ہوئے دیکھتا رہا وہ اندر نہیں آسکتا تھا اس کی اجازت کے بنا۔۔آزہاد اس کے دروازے پر اس طرح سے جم کے کھڑا تھا کہ باہر کا کوئی بھی انسان اندر گھر میں نہیں دیکھ سکتا تھا آزہاد اس کے دروازے پر کھڑا اس کے گھر کے اندر کو اپنے وجود سے چھپائے ہوئے تھا۔۔ حور سامان لیتی حیران پریشان سی واپس آئی۔۔حور کیا ہوگیا ہے ہوش میں آؤ وہ انسان ہی تو ہے ایسا بھی کیاجو آنکھیں پھاڑے دیکھتی ہی جا رہی ہو۔۔کیا سوچے گا وہ تمہارے بارے میں؟؟ وہ خود کو ملامت کرتی بڑبڑاتی واپس آئی۔۔
وہ واپس اسکے سامنے آتی اسے گھورتی رہی آزہاد نے بنا کچھ بولے خاموشی سے اس کے سامنے پھولوں کا گلدستہ آگے کیا۔حور نے آہستہ سے گردن جھکائی اور حیران ہوتی ان پھولوں کو دیکھا ساری پہیلیاں بوجھ گئی تھی تو وہ پھول اذہار رکھتا تھا روز اس کے دروازے پر۔۔ اس نے بنا کچھ کہے خاموشی سے پھول اس کے ہاتھ سے لیے ان پر آج دو کارڈ لگے تھے ایک پہ سوری لکھا تھا اور دوسرے پر تھینک یو سوری والا کارڈ تو چلو سمجھ میں آتا تھا یہ تھینک یو کس لئے وہ حیران ہوتی آزہاد کو پھر دیکھنے لگی۔۔اب اذہاد بھی اپنی بولتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا وہ خاموشی سے پلٹی اور پھول اندر رکھنے آئی تو دیکھا گھڑی آگے بھاگ رہی تھی وہ لیٹ ہو رہی تھی وہ تیزی سے دروازے تک آئی۔۔میرے گھر کی چوکیداری کا کام ختم ہوا اب میرے دروازے کے سامنے سے ہٹنے کی زحمت کریں گے یا آپ کو ہٹانے کے لئے مجھے کرین منگوانی پڑے گی کیونکہ آپ کو ایک بار اٹھانے کی غلطی کر چکی ہوں میں اور اس کا انجام بھی بھگت چکی ہوں وہ ماتھے پر بل لیے اسے گھورنے کے ساتھ ساتھ دل میں مخاطب بھی تھی۔۔
اذہاد ایک بارپھر مسکرایا جسے بزنس کا جادوگر مانا جاتا تھا وہ جو جس چیز کو چھو لے وہ سونا بن جائے لوگوں کے دماغ کو پڑھنے کا جسے فن تھا جو اڑتی چڑیا کے پر گن لے گئے وہ شخص کیسے حور کی آنکھوں کی زبان نہیں سمجھتا وہ کیسے اسکی دل کی باتوں کو نہ جان پاتا جس نے اس کی دل کی دھڑکنوں کو زندہ کیا جس کے دل کی دھڑکن اس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ دھڑکتی ہو۔۔جس نے زندگی کے اتنے حسین رنگوں سے اسے روشناس کروایا۔۔وہ دونوں بنا کہے بہت گہرے لفظوں میں ایک دوسرے سے آنکھوں کی گفتگو کر رہے تھے۔آزاد مسکراتا ہوا اس کے سامنے سے ہٹ گیا۔۔ حور آہستہ سے آگے بڑھتی دروازہ بند کرتی توبہ کر رہی تھی اس کی آنکھوں میں دوبارہ دیکھنے سے وہ صحیح تو کہتی تھی یہ آنکھیں ایک دن اسے ذلیل کروائیں گئی۔۔آزہاد اسے محبت سے دیکھے جا رہا تھا اس کا دل حور کو دیکھ کے زور زور سے دھڑکے جا رہا تھا۔۔
حور پلٹی اور اپنی گاڑی کی طرف آئی تو دیکھا وہاں اذہاد کی بے حد قیمتی اور شاندار بلیک کلر کی مرسیڈیز AMG-GTR کھڑی تھی جو اپنے مالک کی ہی طرح نق چڑی اور مغرور دکھائی دیتی تھی۔ حور کی چھوٹی سی گاڑی آزہاد کی AMG-GTR کے سامنے ایک سائیکل کی حیثیت معلوم ہوتی تھی۔وہ منہ بناتی گاڑی کی طرف آئی۔اور دروازہ کھولتی اندر بیٹھی اذہاد نے جھکتے ہوئے اس کی سائیڈ کی طرف کا شیشہ اپنی انگلی کی پشت سے ہلکا سا بجھایا۔حور نے دھڑکتے دل سے اس کی انگلی کو اور پھر اسے دیکھا آج پتہ نہیں کیوں اسے اذہار سے کوئی خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا شاید وہاں ا سے پہلی ملاقات والا ازہاد آج والے آزہاد میں نظر ہی نہیں آیا۔
کیا مجھے آپ کی گاڑی میں ہوسپٹل تک لفٹ ملے گی؟؟ وہ اس کے شیشے کی طرف جھکتا ہوا بولا۔۔
حور نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا پھر بولی۔۔ کیوں آپ کو ہاسپٹل کیوں جانا ہے ؟؟؟
وہ ایکچولی میں ڈاکٹر حورین کا پیشنٹ ہوں ا نہیں تو اپنے پیشنٹ کا بالکل خیال نہیں وہ اپنے ہاتھ کی چوٹ کی طرف اشارہ کرتا اسے بہت کچھ جتا گیا۔۔اس کی آواز بھی بہت پیاری تھی بھاری خوبصورت ٹہری ہوئی۔ بریٹش انگلش اکسنٹ میں بات کرتا وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔حور منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔ ایم سو سوری میں بھول گئی پوچھنا اب آپ کا ہاتھ کیسا ہے اور سر کی چوٹ ؟؟
آزہاد گہری سانس لیتا اور مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کے بولا۔۔ یہ تو میرے ڈاکٹر کو پتہ ہوگا نہ کہ اس کے پیشنٹ کا زخم اب کیسا ہے ؟؟ وہ زبان سے بولے گئے الفاظ اور آنکھوں سے بولتی کوئی اور ہی زبان سے حور کا دل دھڑکا گیا۔۔
آپ پلیز ہٹیں مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔گھبراتی ہوئی اس سے نظریں چراتی ہوئی بولی ۔۔
اور لفٹ ؟؟؟؟
میں کسی ایرے غیرے کو اپنی گاڑی میں لفٹ نہیں دیتی پلیز آپ اپنی گاڑی یوز کریں وہ سامنے دیکھتی ہوئی بولی۔۔اسے خود پر بھی رہ رہ کے غصہ آ رہا تھا وہ کیوں گھبرا رہی تھی اس کے سامنے اتنا۔۔
آزاد مسکرایا۔۔ اچھا زبردستی آپ کسی ایرے غیرے کو اپنی گاڑی میں بٹھا تو لیتی ہیں مگر لفٹ نہیں دیتی۔۔
حور نے لال ہوتے چہرے سے اسے دیکھا جو اس کا مذاق اڑا رہا تھا وہ غصے سے گاڑی اسٹارٹ کرنے لگی۔۔
اظہاد دو قدم پیچھے ہوا اور جاتی حور کو مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا وہ زندگی میں آج بے حد بے پناہ خوش ہوا تھا اسے یقین ہوا تھا کہ حور بھی اس سے محبت کرتی ہے کہیں نہ کہیں اس کا دل بھی تو اسے دیکھ کے دھڑکتا ہے مگر ابھی وہ اس احساس سے انجان ہے۔۔وہ اپنی محبت سے بے خبر ہے ابھی ورنہ وہ کیوں اسے بے اختیار دیکھی جاتی کیوں اس کے لیے اس کا دل بھی دھڑکتا آزاد کا دل محبت کی جیت میں اس کے حق میں گواہی دے رہا تھا.. آزہاد مسکراتا ہوا گاڑی میں بیٹھا اور بھگاتا ہوا گھر کی طرف لے گیا۔
حور سارے راستے کانپتے ہاتھوں سے گاڑی چلاتی آزہاد کے بارے میں سوچتی رہی…یہ ا نہیں کیا ہوگیا ہے یہ ظالم ضیاد سے اچھے انسان کیسے بن گئے یا اللہ مجھے بچا لے میں ابھی مرنا نہیں چاہتی۔۔ ابھی میری عمر ہی کیا ہے۔۔وہ آٹھ پٹان سوچتی گاڑی چلاتی ہوسپیٹل پہنچی۔۔
اس کی مسکراہٹ کتنی پیاری تھی کیا کوئی اتنا پیارا لگتا ہے مسکراتے ہوئے؟؟ اور اس کے گال کا ڈمپل!!
حور ۔۔۔۔۔۔ارے حور کیا ہوگیا کہاں گم ہو؟؟!بیلا جو کب سے پیچھے چلتی اسے آوازیں دے رہی تھی۔۔
ہاں کیا ہوا۔۔ حور نے پلٹ کے اسے دیکھا۔۔ وہ قریب آئی۔کہاں گم ہو ؟؟میں کب سے پیچھے چلتی آوازیں دے رہی ہوں تم ہو کے سن ہی نہیں رہی۔۔بیلا اسے فکرمندی سے دیکھتی بولی۔۔
بس یوں ہی چلو ۔۔۔حور نے بات گھمائی اور آگے چل دی۔
_______________
آزہاد مسکراتا ہوا اپنی گاڑی سے باہر نکلا اور اندر چلا گیا ڈیلن اسے یوں مسکراتا ہوا زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا وہ آج صبح سے ہی اسے حیران کر رہا تھا اس نے سب سے پہلے فریش ہوکے ڈیلن سے اپنی بینڈیج کروائیں پھر اس نے ڈیلن سے بہترین ناشتے کی فرمائش کی۔میڈیسن بھی اس نے بنا کوئی شور شرابے کے آرام سے کھالی تھی اور تیار ہوکے اپنی پسندیدہ گاڑی میں چلا گیا تھا۔۔
گوڈ سینور کے سارے غم دکھ تکلیفیں ختم کر دیں انہیں ہمیشہ ایسے ہی ہنستا ہوا خوش رکھ وہ اسے خوش دیکھتا دل سے اس کے لیے دعا کر رہا تھا۔۔
ڈیلن۔۔ جارج سے پوچھو کہ آج میری کون کون سی اور کس کس کے ساتھ میٹنگ ہے؟ازہار اپنے خاص سیکیرٹی کا نام لیتا بولا۔۔
مگر سینور آپ ابھی پوری طرح سے ٹھیک نہیں ہوئے ہیں آپ کو ابھی اور آرام کرنا چاہیے ۔۔۔ڈیلن اس کی فکر کرتا ہوا بولا۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے ڈیلن کو دیکھا کیا تمہیں اب بھی لگتا ہے کہ مجھے آرام کی ضرورت ہے ٹھیک ہونے کے لیے ؟؟
وہ ڈیلن کو آج جیتا جاگتا وجود محسوس ہوا تھا۔۔اس کا ٹھیک ہونا اہم نہیں تھا اس کا جینا زندگی سے بھرپور یہ اہم تھا ٹھیک تو وہ شروع سے تھا مگر اس میں زندگی جینے کی کوئی چاہ نہیں تھی وہ بے حس احساس کے بنا تو پہلے بھی زندگی گزار رہا تھا مگر آج دیکھ کے اسے ایسا لگتا تھا کہ وہ زندوں میں شمار ہوتا ہے نا کہ مردوں میں
حور جب گھر پہنچی تو اس نے دیکھا کہ اس کے برابر اپارٹمنٹ میں کوئی لوگ رہنے آئے ہیں کافی سامان باہر رکھا تھا جو اندر رکھا جا رہا تھا وہ ا بھی کھڑی یہ دیکھ کہ سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک اسی اپارٹمنٹ سے تین چار لمبے چوڑے سے بدمعاش قسم کے 36 27 کی عمر کے آدمی نکلے جن کا حلیہ ہی دیکھ کے حور کو متلی سی ہوئی۔اس نے فورا اندر جانے کو قدم بڑھایا۔۔تبھی ان بدمعاشوں نے بھی حور کو دیکھ لیا تھا۔۔ اوہوو و ۔۔۔ جانیمن کہاں جا رہی ہو یہاں آؤ۔۔ وہ اسے دیکھ کے آوازے کسنے لگے ہوٹنگ کرنے لگے۔۔حور توبہ استغفار کرتی اندر آئی اور جلدی سے دروازہ لاک کیا وہ صوفے پر سامان رکھتی سب سے پہلے کچن میں آئی اپنے لئے چائے بنانے۔۔ آرام سے فریش ہوکے چائے پینے کے بعد اس نے اپنے لئے کھانا بنایا۔۔کھانا کھا کے ابھی وہ پاکستان دادو سے بات کر رہی تھی کہ دروازے کی بیل ہوئی۔۔
اس وقت کون ہو سکتا ہے؟؟ وہ دل میں سوچتی ہوئی بولی۔۔ دادو میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں ٹھیک ہے اللہ حافظ۔۔ لیپ ٹاپ بند کرتی وہ دروازے تک آئی اور میجک آئی سے دروازے کے باہر دیکھا وہاں شام والے تین بدماش آدمیوں کے چہرے نظر آئے وہ دھڑکتے دل کے ساتھ پیچھے ہوئی اور سینے پر ہاتھ رکھا۔۔یااللہ یہ یہاں کیوں آئے ہیں؟؟ وہ قرآنی آیاتیں پڑھتی اپنے کمرے میں بھاگی اور دروازہ اچھے سے لوک کرتی جو جو اسے قرآنی آیتیں یاد تھی وہ بڑھتی خود پردم کرتی گئی دروازہ بچتا رہا بیل بجتی رہی آخر کار وہ بھی تھک کے واپس چلے گئے انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ ان کے برابر اپارٹمنٹ میں ایک خوبصورت حسین لڑکی اکیلی رہتی ہے جس کے اکیلے پن کا فائدہ اٹھانے وہ تینوں بدمعاش نشے میں اس کے دروازے تک آئے تھے یہاں اکثر یہ سب ہوتا رہتا تھا بے حیائی عام تھی مگر وہ یہاں کی نہیں تھی نہ ہی غیر مسلم تھی جنہیں غلط کام کرتے ہوئے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔وہ ڈرتی ڈرتی کونے میں دبکی بیٹھی رہی ۔۔۔جب اسے یہ احساس ہو گیا کہ اب کوئی نہیں ہے دروازے پر شاید وہ جا چکے ہیں تو وہ آہستہ سے اٹھی دروازے تک آئی اچھے سے دیکھا کہ دروازہ بند ہے پھر واپس کمرے میں آئی اچھے سے دروازہ لوک کرتی وہ بیڈ پر آئی اور سونے کی کوشش کرنے لگی دن بھر کی تھکن کی وجہ سے وہ جلد سو گیئ تھی اس کی نیند ڈر کے اوپر حاوی ہو گئی تھی۔۔۔
اذہاد کا دل حورین کے لیے فکرمند ہو رہا تھا بار بار ایسا لگ رہا تھا کہ حور اکیلی ہے کسی کو مدد کے لیے پکار رہی ہے وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوتا گاڑی نکالتا اس کے گھر پہنچا بند دروازے کو باہر سے کھڑا کچھ دیر دیکھتا رہا پھر جب دل کو تسلی ہوگئی کہ وہ محفوظ ہے تو وہ واپسی میں گرینڈ پا سے ملنے گیا ۔۔۔
گرینڈ پا اسے دیکھ کے بے حد خوش ہوگئے گرینڈ پا کا گھر حورین کہ گھر سے تھوڑی ہی دور کی ڈرائیو پر تھا اور آزہاد کا اپنا گھر حورین کہ گھر سے دور تھا جہاں اذہاد کے کیسٹل جیسے محل کے علاوہ دور دور تک کوئی گھر کوئی وجود نہیں تھا۔
میرے بچے کیسے ہو؟؟ اب تمہاری طبیعت کیسی ہے؟؟ اور زخم ؟؟وہ اس کی فکر کرتے بولے۔
میں ٹھیک ہوں وہ مسکراتا ہوا بولا۔۔اور ان سے ملتا آگے بڑھ گیا اور گرینڈ پا حیران آنکھوں سے اس کی پشت دیکھنے لگے۔۔وہ مڑا اور ایک بار پھر انہیں دیکھ کے مسکرایا ۔۔پلیز گرینڈ پا حیران ہونا چھوڑ دیں مجھے بھوک لگی ہے کیا مجھے کچھ کھانے کو ملے گا؟
آج اذ ہاد نے گرینڈ پا کوحیران پہ حیران کرنے کی قسم کھائی تھی وہ اس کے بدلتے ہر انداز کو حیران آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔۔یہ آج چاند کہاں سے نکلا ہے؟؟ انہوں نے اس سے سوال کیا۔۔
حورین کے حسین مکھڑے سے اس نے مسکراتی جادوئی آنکھیں اٹھا کہ گرینڈ پا کو دیکھا۔۔اور دل میں خود کو چپکے سے جواب دیا۔
آپ نے پھر سے سوال کرنا شروع کردیا ؟
ہاں کیونکہ مجھے امید ہے کہ آج کا اذہاد مجھے جواب دے گا میرے سوالوں کا۔۔انہوں نے بھی صحیح وقت پر صحیح پتہ پھینکا۔۔
آزہاد زور سے ہنسا اس کے قہقے کوسن کے گرینڈ پا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔وہ خوشی سے اٹھتے اس کا سر سینے سے لگا کے چومتے ہوئے بولے ۔۔آزہاد میرے بچے ایسے ہی ہنستے رہو خوش رہو میری جان مجھے اور کچھ نہیں چاہئیے میں تو تمہاری مسکراہٹ دیکھنے کے لئے ترس گیا تھا
وہ ان سے الگ ہوتا کھڑا ہوا اور انہیں سینے سے لگایا آپ بس میرے لیے دعا کریں۔
ہاں میرے بچے ہاں وہ اس کے گلے لگے ہنستے ہوئے بولے کافی پیو گے ؟؟
نیکی اور پوچھ پوچھ۔۔ دونوں زور سے ہنس دیے آج کئی سالوں بعد اس گھر میں ہنسنے کی آواز گونجی تھی۔۔
زیاد پوری یونیورسٹی میں جنت کو ڈھونڈتا رہا مگر جنت اسے کہیں نظر نہیں آئی ختیجہ۔۔ حتیجہ جو کلاس کی طرف جا رہی تھی زیاد کی آواز دینے پر پلٹی۔۔ ہاں کیا ہوا زیاد۔۔۔؟
ختیجہ مجھے جنت نظر نہیں آرہی آج کیا وہ یونیورسٹی نہیں آئی۔؟؟۔ زیاد بے چین سا دکھائی دیا
ہاں مجھے بھی جنت نظر نہیں آئی ختیجہ بھی سوچتی بولی..
ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں اور پھر زیاد اسے ہر جگہ دیکھتا یہاں وہاں ڈھونڈتا رہا مگر وہ ہوتی تو نظر آتی زیاد پریشان تھا کوئی ایسا تھا بھی نہیں جس سے وہ جنت کے بارے میں آج نہ آنے کی وجہ معلوم کرتا فون بھی نہیں تھا جنت کے پاس۔۔۔زیاد کا دن یوں ہی گزر گیا جنت کے لیے پریشان ہوتے ہوئے۔۔
آج یونیورسٹی کا دوسرا دن تھا اور جنت کا آج بھی کوئی پتہ نہیں تھا زیاد آج بھی اسے ہر جگہ تلاش کر رہا تھا اب صحیح معنوں میں وہ اس کے لئے پریشان ہو رہا تھا کہیں کوئی گڑبڑ ہے اور اسی وجہ سے وہ جنت کے دروازے کے آگے کھڑا دروازہ کھڑا تھا اس نے دروازہ بجایا..بار بار دروازہ بجانے پر ایک درمیانی عمر کی عورت نے دروازہ کھولا اور ماتھے پہ بل ڈالے اسے دیکھا۔۔
میرا نام زیاد ہے لیزہ کا کلاس فیلو ہوں لیزہ دو دن سے یونیورسٹی نہیں آئی تو سوچا پوچھ لو وہ ٹھیک تو ہے ؟؟
ماریہ نے ایک آنکھ چھوٹی اور ایک آنکھ بڑی کر کے اسے دیکھا کلاس فیلو ہو مگر تڑپ تو ایسے رہے ہو جیسے اس کے عاشق ہو۔۔
اب زیاد کے دماغ کی گھنٹی بجی مجھے لیزا سے ملنا ہے زیادہ زور دیتے ہوئے بولا ۔۔۔
نہیں ہے لیزہ جاؤ یہاں سے ماریہ دروازہ بند کرنے لگی تو زیادہ نے دروازہ بند نہیں ہونے دیا اور انہیں پیچھے ہٹا کر زبردستی اندر آگیا مجھے جنت سے ملنا ہے کہاں ہے وہ جنت۔۔ جنت ۔۔وہ زور زور سے چیختہ جنت کو آوازیں دینے لگا۔۔
ماریہ حیران ہوتی آگے آئی میں ابھی پولیس کو فون کرتی ہوں۔۔
زیادہ غصے سے ماریہ کو دیکھا اور بولا ٹھیک ہے میں بھی پھر پولیس کو بتاؤں گا کہ آپ لوگوں نے بھی اپنی بیٹی کے ساتھ کیا کیا ہے وہ بھاگتا سیڑھیاں چڑھتا اوپر آیا اور دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر وہ بند تھا اس نے زور سے دروازے کو دھکے دینا شروع کردیا جس سے دروازہ کھل گیا وہ اندر آیا دیکھا کہ جنت زمین پر گری ہے۔۔۔
جنت جنت وہ دھڑکتے دل سے اسے اٹھاتا ہوا بولا کھانا پینا نہ ہونے کی وجہ سے جنت بالکل نڈھال سی زمین پر گری ہوئی تھی۔۔آہستہ سے آنکھیں کھولتی وہ زیاد کو دیکھنے لگی اور مسکرای تم آگئے زیاد۔۔
زیاد کے آنسو جنت کے چہرے پر گرنے لگے وہ جلدی سے اٹھا اور بھاگتا ہوا اس کے لئے پانی ڈھونڈ کے لایا اسے ہاتھ سے اٹھا کے پانی پلایا جنت نے جلدی جلدی پانی پیا وہ پورا ایک دن پیاسی رہی پیاس سے ہونٹ سوکھ گئے تھے۔۔۔
زیادا سے اٹھاتا بیڈ پر لاکر لیٹ آیا۔۔
کون ہو تم دفع ہو جاؤ میرے گھر سے ابھی ایڈم بھاگتا ہوا آیا تھا اسے ماریہ نے فون کرکے بلایا تھا۔۔ زیاد نے لال آنکھوں سے ایڈم کو دیکھا ۔۔تم لوگ مجھے جانتے نہیں ہو کہ میں کون ہوں؟؟جنت کو اب ایک کھروچ بھی آئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا میں زیاد التمش عریض ہوں مصر کے سب سے بڑے تاجر اور بادشاہ کا بیٹا میں جنت سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور میں جنت کو بہت جلد یہاں سے لے جاؤں گا وہ انگلی اٹھاتا دونوں کو دھمکاتا جنت کی طرف آیا میں تمہیں بہت جلد لینے آوں گا جنت میں لے جاؤں گا تمہیں یہاں سے ہم بہت دور چلے جائیں گے تمہیں اور آزمائش نہیں سہنی پڑے گی وہ دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھامتا محبت سے بولتا وہاں سے لمبے ڈاگ بھرتا چلا گیا ماریا اور ایڈم منہ کھولے کھڑے اسے دیکھتے رہے۔۔۔
جاری ہے
