Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45

بچوں میں نے عنان کو کل بلایا ہے یہاں تاکہ شادی کی ساری بات طے کر سکیں مل کر۔۔ میں چاہتا ہوں دونوں جوڑیوں کا نکاح ایک ساتھ ہو۔۔ کیا خیال ہے؟؟داؤد عنان کے گھر سے آنے کے بعد اچھے سے سوچنے کے بعد تاروں سے بھری رات لان میں بیٹھ کر چائے پیتے ہوے ارتضیٰ اور اذہاد کی طرف دیکھتے ہوے بولے۔۔
اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے بابا۔۔ارتضیٰ کا خیال بھی ایسا ہی تھا تبھی فورن مانتے ہوے بولے۔۔
مگر اذہاد خاموش تھا اس نے داؤد کی بات کے جواب میں کوئی اظہارے خیال ظاہر نہیں کیا۔۔۔
کیا ہوا اذہاد بیٹا تم کیوں خاموش ہو ؟؟داؤد ابراہیم اس کی خاموش کو محسوس کرتے بولے۔۔
اس نے خاموش نظر اٹھا کر ارتضیٰ اور داؤد کو دیکھا۔۔
ایسی بات نہیں ہے۔۔میں خاموش اس لئے ہوں کہ جیسا آپ نے سوچا ہے دادو ویسی ہی سوچ میری بھی ہے مگر آپ کی سوچ سے تھوڑی سی مختلف۔۔سنجیدہ الفاظوں میں بات کا آغاذ کرتا بولا۔۔
داؤد اور ارتضیٰ تو اس کی بات سن کر سوچ میں پڑ گئے ایسا کیا سوچ لیا تھا اذہاد نے۔۔۔بولو بیٹا کیا بات ہے؟؟ ارتضیٰ بولے۔۔
اذہاد نے ایک گہرا سانس لیا۔۔بابا دادو میں چاہتا ہوں کہ میں یہاں نہیں بلکے حور کے ساتھ اس کا ہاتھ تھام کہ پہلی بار اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوں میری خواہش تھی کہ میرا حور سے نکاح حرم شریف میں ہو۔۔۔جہاں ان گنت فرشتے ہمارے ہر قبول پر امین کہیں۔۔میں اپنی حور کے ساتھ زندگی کا پہلا سفر اللہ‎ کہ گھر سے شروع کرنا چاہتا ہوں ۔۔میں اس کے ساتھ مل کر اپنے اللہ‎ کے آگے شکر کے سجدے ادا کرنا چاہتا ہوں۔۔وہ گردن جھکاے آہستہ اپنے دل کی تمام باتیں کہہ رہا تھا۔۔
ارتضیٰ اور داؤد اس کی بات سن کر بے اختیار مسکرا ئے۔۔اس کے ہر الفاظ میں ایک جادوئی سحر تھا جو ان دونوں کو اپنی باتوں کے سحر میں جکڑ رہا تھا۔۔ارتضیٰ کو اذہاد کی بات دل پر لگی۔۔وہ بہت خوش ہوے تھے۔۔۔
َاذہاد تمہاری ہر خواہش سر آنکھوں پر۔۔وہ اٹھ کر اس کے قریب آئے ازہاد بھی انہیں دیکھ کر کھڑا ہوگیا۔وہ مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ تھام کر اس کے ماتھے کو چومہ۔۔۔مجھے تم پر فخر ہے۔۔مسکراتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔۔
اور داؤد بھی کھڑے ہو کر اسے گلے سے لگایا ۔۔دل تو پہلے جیت لیا تھا تم نے اب اپنا دیوانہ بھی کر لیا۔۔وہ ہنستے ہوئے اسے دیکھ کر بولے۔۔ان کی ہنسی میں ارتضیٰ اور آزہاد کی خود کی ہنسی بھی شامل ہوگی۔۔
_______________________
تمام بڑوں کی موجودگی میں پھر یہ فیصلہ طے ہوا کہ حور اور اذہاد کے ساتھ عنایا اور شاہزیب کا نکاح بھی حرم شریف میں ہوگا۔۔اور پھر وہاں سے پاکستان آنے کے بعد چاروں کی شادی بھی ایک ساتھ ہوگی۔۔
دادو بابا یہ کوئی بات نہیں ہوئی یہ آپ سب میرے ساتھ غلط کر رہے ہیں۔۔حور نے جب یہ فیصلہ سنا تو خود کو سب کے بیچ میں آکر بولنے سے روک نا سکی۔۔
خاندان کی پہلی شادی اس پر بھی آپ لوگوں نے پابندی لگا دی۔۔میں اپنی شادی انجوائے ہی نہیں کر سکوں گی یہ سوچ کر کہ میں اپنی بہن کی کسی بھی تقریب میں شریک نہیں ہو سکتی۔۔۔
میں دونوں شادی ایک ساتھ کروانے پر آپ لوگوں کے ساتھ نہیں۔۔یا تو آپ پہلے میری شادی کریں تاکہ میں عنایا کی شادی آرام سے انجوائے کر سکوں۔۔
ناممکن حور۔۔اذہاد کی آواز اس کی آواز کو کاٹتی ہوئی ابھری۔۔ہماری شادی کے فورا بعد ہم لندن کے لیے فلائے کر جائیں گے۔۔وہ سنجیدگی سے حور کو دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔
تو پھر ٹھیک ہے۔۔عنایا کی شادی کے بعد ہماری شادی ہو گئی۔۔وہ بھی آزہاد کی آنکھوں میں دیکھتی سنجیدگی سے بولتی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی۔۔
اذہاد خاموش نظروں سے بس اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔
ان دونوں کی آپس کی باتوں میں پوری محفل میں اچانک سے خاموشی چھا گئی تھی۔۔
فیصلہ اب اذہاد کو کرنا تھا۔۔جؤ حور کی بات سن کر پریشان نظر آرہا تھا۔۔
آزہاد اٹھا اور لمبے لمبے ڈاگ بھرتا حور کے پیچھے گیا۔۔
وہ لان میں رکھی کرسیوں میں سے ایک کرسی پر منہ پلٹائے بیٹھی تھی۔۔
آزہاد نے ایک کرسی اٹھائی اور اس کے منہ کے سامنے رکھتے ہوے اس پر بیٹھتا حور کو دیکھا جو نیچے گردن جھکاے منہ پھلائے بیٹھی تھی۔۔
وہ کب اسے اداس دیکھ سکتا تھا۔۔آخر اس کے معاملے میں دل ہمیشہ سے نرم رہا تھا اب بھی دل اسے اداس دیکھ کر مچل گیا تھا۔۔اسے تو ماننا ہی تھا۔۔
حور۔۔دنیا جہاں کی محبت ایک الفاظ میں سمیٹتا اس کے نام کو پکارا۔۔
اس کی پکار پر نم آنکھوں کو اوپر اٹھا کر دیکھا۔۔جن میں اذہاد کو اپنا دل ڈوبتا نظر آیا۔۔
ہادی آپ میری ایک چھوٹی سی بات بھی نہیں مان سکتے؟؟ آہستہ آواز میں اداسی سے بولی۔۔
وہ کچھ پل اس کی اداس آنکھوں میں دیکھتا رہا پھر ایک لمبی سانس لیتا بولا۔۔
چلو ایک ڈیل کرتے ہیں حور۔۔۔۔۔وہ آگے جھکتا گٹھنوں پر کوہنیاں ٹکاتا بولا۔۔
حور نے سوالیہ نظروں سے اذہاد کی طرف دیکھا۔۔
تم جب تک اس سرزمین پر ہو تب تک تمہاری جو جو خواہشیں ہیں وہ سب بنا میری اجازت کے تمہیں پوری کرنے کی اجازت ہے۔۔۔جو بھی جو بھی تم کرنا چاہو گی اس سب میں مجھے اپنے ساتھ پاؤ گی۔۔۔
حور آنکھیں کھولے اس کی بات سن رہی تھی۔۔
مگر۔۔۔
لندن کی سرحد شروع ہوتے ہی تمھیں میری تمام باتیں ماننی ہوگی۔۔۔
اس کی پوری۔ بات سن کر حور کا منہ کھول گیا۔۔
بولو ڈیل پکّی۔۔ایک آئی برو اٹھاے ایک ہاتھ آگے بڑھاے پوچھ رہا تھا۔۔
حور کے چہرے سے اداسی اڑن چھو ہوگی تھی۔۔وہ اب سانسیں روکے اس کی ڈیل سن رہی تھی۔۔
اس وقت اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بزنس مین اذہاد عریض کے سامنے بیٹھی کوئی ڈیل کر رہی ہو۔۔
اذہاد پہلی بار حور کے سامنے دل سے نہیں دماغ سے کام لے رہا تھا۔وہ اس وقت حور کا ہادی نہیں اذہاد بن کر بات کر رہا تھا جس کے لئے اس کی کی گئی ڈیل سب سے اہم ہوتی تھیں ۔۔جو نا بدلی جا سکتی تھیں اور جس سے نا کوئی پیچھے ہٹ سکتا تھا ۔۔
بولو حور۔۔وہ ایک سائیڈ کی سمائل پاس کرتا اسے ایک ٹک دیکھتا بولا جو نجانے کن سوچوں میں گم تھی۔۔
حور کیا کیا جائے؟؟ ڈیل تو اچھی ہے مگر یہ سامنے والے کا بچھایا جال تو نہیں؟؟ حور ہادی نے کون سا تم سے شرطیں منوا لینی ہیں۔۔ہاں کر لے اس سے اچھا موقع پھر نہیں ملنے والا۔۔بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔۔دماغ کچھ کہتا دل کچھ۔۔وہ اس کے بڑھے ہاتھ کو دیکھ کر سوچتی اس کا ہاتھ تھام گئی تھی۔۔
اذہاد بے اختیار مسکرایا تھا۔۔اذہاد عریض جس کے زہین دماغ کی لوگ مثالیں دیتے ہیں۔۔جس نے اس دماغ کے بل بوتے پر ہی کم عمر میں عزت دولت شہرت کیا کچھ حاصل نہیں کر لیا تھا۔۔وہ کیسے حور سے کوئی چھوٹی سی یا عام ڈیل کر سکتا تھا۔۔
حور شاید ڈیل کرتے وقت یہ بھول گئی تھی کے پاکستان کی سرزمین پر اس کا وقت اب کم رہ گیا ہے۔اسے لندن کا سفر اب اذہاد کی ہمراہی میں شروع کرنا ہے۔۔اس نے بڑی جلد بازی میں ڈیل پکی کر لی تھی۔۔
اصل مزہ تو اب آئے گا۔۔ایک وقت تھا جب لندن میں اذہاد کی تمام ڈور حور کے ہاتھ میں تھی حور نے اذہاد کو خوب نچایا تھا۔۔اب آنے والے وقت میں تمام دوڑ اذہاد کے ہاتھ میں ہونے والی تھی وہ بھی لندن میں۔۔۔۔
حور نے خود کو خوشی سے اذہاد کی قید میں عمر بھر کے لئے دے دیا تھا چند دنوں کی آزادی کے لئے۔۔بینا یہ سوچے کے اذہاد کوئی عام انسان نہیں تھا جو چھوٹی موٹی ڈیل کرتا۔۔اس نے خاص طور پے حور سے ایک پیپر پر سائن لیا تھا۔۔جس پے اس ڈیل کے حوالے سے خاص نکات لکھے گئے تھے۔۔تاکہ حور کل کے دن مکر نا جائے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤❤❤❤۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت اب کم رہ گیا تھا۔۔تھوڑی ہی دیر میں بس اس کے کمرے میں اب سب مرد حضرات اور خواتین آجائیں گے اور پھر نکاح کے لئے حرم شریف لے جایا جائے گا ۔۔پہلے حور کا نکاح ہوگا پھر عنایا کا ۔۔وقت بہت کم ہے۔۔بعد میں اس سے اچھا موقع نہیں ملے گا حور۔۔وہ اس وقت بہت حسین عبایا پہنے وضو کرے بینا کوئی بھی میک اپ کیے سر خوبصورت اسکارف سے اچھے سے لپیٹے بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔
ہاتھوں میں پکڑی عنایا کی ڈائری لئے وہ سوچ رہی تھی۔۔سامنے شیشے سے باہر نظر آتا حسین خوبصورت نظارا جس پے اس کی نظر ٹہر گئی تھی۔۔
اللہ‎ مدد کر۔۔میں کیا کروں۔۔کوئی راستہ دیکھا۔۔وہ سامنے نظر آتے اللہ‎ کہ حسین گھر کو دیکھتی دل میں اپنے اللہ‎ سے مخاطب ہوئی تھی جس کے آگے پیچھے ہوتے طواف کا حسین منظر اس کے رونگٹے کھڑے کر رہا تھا۔۔۔
وہ چاہتی تھی کے شاہزیب اور عنایا کے نکاح سے پہلے وہ اس ڈائری کے اصل مالک تک اسے پوھنچا دے۔۔
تاکہ وہ ایک دوسرے کو قبول کرنے سے پہلے دل سے ایک دوسرے کو محبت اور چاہت سے تسلیم بھی کر لیں۔۔۔۔
تبھی وہ کچھ سوچ کر اٹھی اور فون شاہزیب کو ملایا۔۔
شاہزیب اپنے کمرے میں تیار ہو رہا تھا اسے تھوڑی دیر میں بس بلاوا آنے والا تھا جب اس کے موبائل کی بیل ہوئی۔۔
تیاری کے دوران فون کان سے لگاتا مصروف انداز میں بولا ۔۔۔ہیلو۔۔
حور شاہزیب کی آواز سن کر ایک پل کو چپ ہی رہی۔۔اذہاد کی ناراضگی کے ڈر کی وجہ سے وہ سلام دعا سے زیادہ شاہزیب سے کوئی بات نہیں کرتی تھی۔۔اذہاد نے کبھی اسے منع نہیں کیا تھا مگر وہ اس بات کو اچھے سے محسوس کرتی تھی کے اذہاد شاہزیب کو پسند نہیں کرتا۔۔۔
السلام عليكم۔۔۔آہستہ آواز میں بولی جس کی گھبراہٹ سامنے والا صاف سمجھ گیا تھا۔۔
حور۔۔۔وہ حیران ہوتا صرف اتنا بولا تھا چلتے ہاتھ روک گئے تھے۔۔
وہ دل کو سمجھا چکا تھا اور دل سمجھ بھی گیا تھا۔۔اب اس کے دل میں حور کے لئے ویسا کوئی احساس نہیں تھا جو پہلے تھا ۔۔ہونا بھی یہی چاہیے جو چیز آپ کے نصیب میں لکھی ہی نا ہو اس کے لئے خود کو خوار کرنا ضد کرنا خود اپنا ہی نقصان کرنا ہے۔۔
شاہزیب بھائی آپ کی ایک امانت میرے پاس ہے جو مجھے لگتا ہے سہی وقت پر یہ آپ کو دے دینی چاہیے۔۔وقت کم تھا اس لئے کام کی بات پے آتے ہوے بولی۔۔
کیسی امانت؟؟ وہ سوچتے ہوے بولا۔۔
میں کچھ دیر میں چلی جاؤ گی نیچے میرے تکیے کے نیچے ایک ڈائری ہے جسے میرے جانے کے بعد آپ پلیز اپنے نکاح سے پہلے ضرور پڑھ لیجئے گا۔۔اللہ‎ حافظ۔۔اور فون کاٹ گیا۔۔
یا اللہ‎ حور کیا بول گئی۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھتا سر تھام گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤❤❤❤❤❤❤۔
آنکھ سے ایک آنسو بغاوت کرتا سامنے کھولی ڈائری پر گرا تھا۔۔
وہ بے اختیار ڈائری کو بند کرتا آنکھوں پر ہتھیلیاں رکھتا رو دیا۔
اے اللہ‎ میں تیرا بڑا گنہگار بندہ ہوں۔۔تو نے پھر بھی مجھے نوازا۔۔تو نے میرے نصیب میں بہتر سے بہتر لکھا تھا۔۔اتنی محبت کے تو میں قابل بھی نہیں جتنی محبت تو نے میرے نصیب میں لکھ دی۔۔
وہ سجدے میں جھکا رو رہا تھا رب کا شکر ادا کر رہا تھا۔۔اس نے حور کو چھین کر عنایا اس کے نصیب سے جوڑی تھی کیوں کے دلوں کا حال تو بخوبی وہی ایک ذات ہے جو جانتی ہے کس کے لئے کیا ٹھیک ہے اور کیا نہیں۔۔۔۔
اور وہ اپنے رب کے فیصلے سے بہت خوش تھا۔۔۔
وہ عنایا کے چھپے اس محبت کے راز کو جان کر خوش تھا۔۔
وہ اس رشتے کو کامیاب بنا سکتا تھا کیوں کے اس کی شریک حیات اس کے ہم قدم جو تھی
___________________
اسے آہستہ سے سامنے لا کر بٹھایا گیا تھا خواتینوں کی جھرمٹ میں۔۔
یہ احساس یہ خوشی الگ ہی تھی ایسا لگ رہا تھا کہ وہ آج سہی معنوں میں اذہاد کی دلہن بنائی گئی ہے۔۔اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر طرف فرشتے اس نکاح میں جھومتے ہوے خوشی سے سرشار نظر آرہے ہیں۔۔مسکراہٹ جیسے ہونٹوں سے الگ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی دل کی تال الگ لے پے دھڑک رہی تھی۔۔۔۔
نظروں کو ہلکا سا مشکل سے اٹھا کر سامنے دیکھا۔۔وہ تمام لوگوں میں موجود الگ ہی نظر آرہا تھا جو چل کر آرہا تھا جیسے کسی ریاست کے بادشاہ کی طرح اپنی ملکہ کو لے جانے کے لئے اسے اپنا بنانے کے لئے شان سے چل کر آتا ہے۔۔ وہ اگر پورے کالے لباس میں ڈھکی حوروں کی ملکہ تو وہ بھی سفید کرتا پہنے اس ملکہ کا حقدار لگ رہا تھا ۔۔۔اس کے چہرے سے پھوٹتی خوشی حور میلوں دور سے بھی بیٹھ کر دیکھ سکتی تھی۔۔دونوں کی دھڑکنیں ایک ساتھ ایک لے پر مل کر دھڑک رہیں تھیں۔۔
بیشک وہ ایک بے تاج بادشاہ تھا۔۔
ایک سلطنت کا۔۔
کسی کی پوری ہستی کا۔۔
وہ حور کی پوری دنیا اس کی رعایا کا بادشاہ تھا۔۔
اس کی چلتی سانسوں پر۔۔
اس کی دھڑکتی دھڑکنوں پر صرف اس کا راج تھا۔۔
جس کی ہر مسکراہٹ کی وجہ وہ خود تھا۔۔
اسے حور کی رعایا پر حکم چلانے کا حق اوپر سے وراست میں دیا گیا تھا۔۔
آہستہ سے نظروں کو جھکاگئی۔۔محبت میں اکثر نظر محبوب کو محبوب کی بھی لگ جاتی ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔❤❤❤❤❤
آنکھوں سے جھلکتی بے پنہا خوشی جسے وہ بلکل چھپانے کی کوشیش نہیں کر رہا تھا۔۔
گال میں پڑتا ڈمپل اس کی خوشی میں اس کے چہرے پر جھومتا نظر آرہا تھا۔۔
اپنے رب کے گھر میں اس کے آگے جھک کر فرض ادا کرنے کے بعد اب وہ اسی رب کے گھر میں ادائیگی فرض ادا کرنے جا رہا تھا۔۔
نکاح جو اللہ‎ کا بنایا سب سے خوبصورت اور پاکیزہ رشتہ ہے۔۔
جو کبھی مغرور تھا وہ اب محبوب تھا۔۔۔
جو دھتکارا ہوا تھا وہ اب طلبگار تھا۔۔۔
جو کل اکیلا تھا آج کسی کا بہت عزیز تھا۔۔
جو کل نفرت کی آگ میں جلا تھا آج محبت میں کندن بنا تھا۔۔
وہ کل کا اذہاد آج کسی کا ہادی بنا تھا۔۔
وہ خاموشی سے اس سے آگے آکر فاصلے پر بیٹھ گیا۔۔
سب کہ چہرے کی خوشی سے لگ رہا تھا وہ اس کی خوشی میں شامل ہیں۔۔ہر کوئی مسکرا رہا تھا۔۔اور اس کا دل یہ دیکھ کر خوشی سے جھوم رہا تھا۔۔
یہی تو خواب تھا جو اس نے دیکھا اس کی حور ہو وہ ہو اللہ‎ کا گھر ہو۔۔اقرار ہو قبول کا۔۔ اور پھر ہر طرف سے صدائیں گونج رہی ہو امین امین مبارک مبارک۔۔۔
بیشک اس کا چہرہ آگے تھا مگر اس کی پوری کائنات پیچھے بیٹھے شخص کے ارد گرد گھوم رہی تھی۔۔
وہ وقت آ پوھنچا تھا۔جب وہ پوری سماعتوں سے اس کا اقرار سننے کو بیتاب تھا کے وہ اس پوری کائنات میں واحد اس کے لئے اتاری گئی ہے وہ یہاں بھی اس کی ہے اور دوسرے جہاں میں بھی اسی کی ہوگی۔۔ اس لمحے کا صدیوں انتظار کیا تھا۔۔
کہ جب نکاح نامے پر۔۔
حور کی سنگت کے۔۔
اعتراف میں۔۔
دستخط کرتے ہوے۔۔
اس کا دل چپکے سے کہے۔۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ۔۔۔
بن تو وہ اسکی بہت پہلے ہی گئی تھی مگر یہ وقت اقرار کا تھا محبت کرنے والے دو دلوں کو ایک دوسرے کو ہمیشہ کے لئے قبول کرنے کا عہد تھا۔۔
سارے مرد حضرات اور امام صاحب اٹھ کر حور کے قریب آئے۔۔داؤد ارتضیٰ اس کے بیحد قریب ہی تھے۔۔خواتین سب دور ہٹ گئیں تھیں۔۔
اس کے سر پر لال حسین دوپٹہ اڑا کر گھونگٹ نکال دیا گیا تھا۔۔
امام صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا۔۔آتے جاتے لوگ بھی ٹھر کر یہ حسین منظر دیکھنے لگے۔۔
حور نے بے اختیار ارتضیٰ کا ہاتھ تھام لیا۔۔
بنیادی ادائیگی کے بعد من پسند سوال۔۔قبول ہے؟؟
حور نے بے اختیار نیلی کانچ سی نم آنکھوں کو اٹھا کر گھونگھٹ کے اندر سے سامنے بیٹھے اپنے پیارے سے بابا کو دیکھا۔۔
جن کی چلتی سانسوں سے صاف محسوس کر سکتی تھی۔۔وہ ضبط کی آخری منزل پر ہیں۔۔
آہستہ سے ان کے سینے سے لگی۔۔آنکھوں میں جمع موتی ٹوٹ کر بکھر گئے۔۔۔
بابا آپ خوش ہیں؟؟ کانپتی آواز میں آہستہ سے بولی۔۔
امام صاحب کچھ دیر کے۔ لئے خاموش ہوگئے وہ اس صورت حال سے باخوبی واقف تھے۔۔
ارتضیٰ کا دل ڈوب رہا تھا ان کی چڑیا انہیں اکیلا چھوڑ کر جا رہی تھی۔۔
میرا بچہ۔۔زور سے آنکھوں کو بند کیا کتنے آنسو آنکھوں سے گرتے اس کے سر پے جذب ہو گئے تھے دعاوں کی صورت میں۔۔
میں بہت خوش ہوں میری چڑیا۔۔وہ اب اس کا سر اٹھا کر محبت سے اس کا سر چومتے بولے۔۔
وہ انہیں دیکھ کر خود پر قابو پاتی گہرے سانس لینے لگی۔۔
اس لمحے نے سب کی آنکھیں نم کر دی تھیں۔۔اس نے نظر اٹھا کر ماں کی طرف دیکھا اب جو روتی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہیں تھی۔۔پھر مسکرا کر آنکھوں کے اشارے سے اسے آگے کے مراحل طے کرنے کی اجازت دی۔۔
باپ کا ایک ہاتھ مظبوطی سے اپنی گرفت میں لئے اس نے بھرائی ہوئی آواز میں اقرار کیا۔۔
قبول ہے۔۔
اے کعبے کی دیواروں گواہ رہنا۔۔
قبول ہے۔۔
میں نے اقرار کیا۔۔
قبول ہے۔۔
میں نے اسے دونوں جہاں میں قبول کیا۔۔
گونجتے کلمات اس رب کائنات دو جہاں کی بارگاہ میں لگتی صدائیں اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے پوری کائنات کے ساتھ اس کا رب بھی اس کی خوشی میں بہت خوش ہے۔۔اور اسے مبارک باد پیش کر رہا ہے۔۔
سب نم آنکھوں سے مسکرا رہے تھے۔
امام صاحب نے کاغز اس کے آگے رکھے۔۔
اس کانپتے ہاتھوں سے سائن کیے۔۔
اذہاد نے اس کے اقرار کو صاف سماعتوں سے سنا تھا۔۔
دل جیسے الگ ترنگوں کی لے پر دھڑک رہا تھا۔۔
امام صاحب اٹھ کر اب اس کے پاس آئے تھے۔۔
پھر وہی سوال دوہرایا گیا جس کا جواب دینے کے لئے دل مچل رہا تھا۔۔
کیا آپ کو قبول ہے؟؟
نماز عشق ہو۔۔
قبول ہے۔
پھر نماز نکاح ہو۔
قبول ہے۔
سجدہ شکر ہو میرا۔۔
قبول ہے۔۔
وفائے ذکر ہو تیرا۔۔
ہر ایک لفظ پر دل الگ ہی دھن پڑھ رہا تھا۔۔
خواب سچ ہوا تھا۔۔
مرادیں بر آئیں تھی۔۔
دو دل ایک ہوے تھے۔۔
خوشیاں برس رہیں تھیں۔۔
آزمائشیں تمام ہوئی تھیں۔۔
نور ہی نور تھا۔۔
اللہ‎ کے گھر میں رحمت نیچھاور کیے جا رہی تھی۔۔
دعائوں کی صدائیں بلند سے بلند تر ہوتی جا رہیں تھیں۔۔
امین کی آوازیں ایک ساتھ گونجتی۔۔فرشتے خوشی سے جھومتے ان پر پھول برسا رہے تھے اور کانوں میں آہستہ سے آکر امین بھی کہتے۔۔
دعا جیسے ہی ختم ہوئی مبارک باد کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔۔ہر کوئی اذہاد کو گلے لگا کر مبارک باد دے رہا تھا۔۔
اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔۔
وہ اس کا ہوا تھا لاکھوں کروڑو لوگوں کی موجودگی میں اس کے رب کی اجازت سے وہ اس کے سپرد کیا گیا تھا۔۔اوپر سے نیچے تک سب اس کے نکاح کے گواہ بناے گئے تھے۔۔اذہاد کو ایسا لگ رہا تھا جیسے سب کچھ آج اس نے پا لیا ہو وہ پوری کائنات میں ایک اکیلا واحد وہ انسان ہو جو مکمل ہو۔۔غم۔۔آنسو۔۔تکلیفیں وہ بھلا کیا ہیں؟؟ آج وہ اپنی خوشی میں اس تمام احساس سے لا تعلق نظر آرہا تھا۔۔
ایک طرف جہاں اذہاد کے چہرے سے ہنسی غائب ہی نہیں ہو کر دے رہی تھی وہاں دوسری طرف حور کی نم آنکھیں سب سے جدا ہونے پر اشک بار تھیں۔۔
انکے نکاح کے کچھ دیر بعد شاہزیب اور عنایا کا نکاح بھی ہوا۔۔
وہ دونوں جوڑے آبھی ایک دوسرے کے رو برو نہیں ہوے تھے۔۔۔
وہ باپ کے سینے سے کتنی ہی دیر لگی رہی تھی۔۔
ایک بوجھ تھا جو دونوں کے دلوں پر سے آج سرک گیا تھا۔۔۔
ارتضیٰ نے اسے زور سے سینے میں بھینچا ہوا تھا۔۔
میری چڑیا اپنے بابا سے ناراض تو نہیں ہے نا اب؟؟ میںنے اپنا فرض بخوبی پورا کیا ہے نے ؟؟ وہ اس کے کان کے قریب سوال کر رہے تھے۔۔
بھیگی آنکھوں سے سر سینے سے اٹھا کر باپ کے چہرہے کی طرف دیکھا۔۔اور نرم ھتیلی سے محبت سے ان کا چہرہ صاف کیا۔۔
بابا میں آپ سے کبھی ناراض نہیں ہو سکتی۔۔آپ دنیا کے بیسٹ بابا ہیں۔وعدہ کریں کے آپ اپنی چڑیا سے کبھی ناراض نہیں ہونگے۔۔میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں۔۔وہ اب بچوں کی طرح ان کے سینے میں سر چھپاے رو رہی تھی۔۔وہ دونوں باپ بیٹی سب سے دور الگ گوشے میں کھڑے دل ہلکا کر رہے تھے۔۔عظمیٰ دور سے انہیں دیکھتی رو رہیں تھی ان کا ظرف اتنا نہیں تھا کے وہ دونوں کے قریب جاتیں۔۔تبھی کسی سے پیچھے سے آکر ان کے وجود کے گرد حصار قائم کیا۔۔وہ اس حصار کو اچھے سے جانتی تھیں تبھی وہ بکھر گئیں تھیں اور اذہاد نے مسکرا کر ان کا سر سینے سے لگایا تھا اور انہیں لیتا حور اور ارتضیٰ کے قریب پہنچ گیا تھا۔۔
یہ تو بہت غلط بات ہے بابا آپ دونوں نے میری مما اکیلا چھوڑ دیا تھا۔۔وہ قریب آتا بولا تھا۔۔
تبھی حور باپ سے الگ ہو کر ماں کے گلے لگی تھی۔۔
جو اسے سینے سے لگاے چومتی جا رہیں تھی۔۔
وہ ماں تھیں جو نا شکوہ کرتی ہے نا شکایت جو صرف بیٹیوں کے نصیب کی جھولیاں پھیلا کر دعائیں کرتی ہیں۔۔۔
ارتضیٰ اور عظمیٰ نے ایک ساتھ دونوں کو سینے سے لگایا تھا اور ڈھیروں 😄دعائیں دعائیں دی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *