Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15
شاپ کے باہر کرسیاں رکھ کے بہت خوبصورت طریقے سے سجایا گیا تھا۔۔۔
اذہاد اس کے لئے ایک کرسی کھینچتا کافی آرڈر کرنے اندر کی طرف بڑھا۔۔اور پھر واپس آتا مسکراتے ہوے اس کی ٹیبل کے سامنے والی کرسی کھینچ کے اس پے بیٹھتا حور کو دیکھنے لگا۔۔
میںنے آپ کی اتنی کی جانے والی ہیلپ کا ایک بھی تھینکس نہیں کیا تو یہ کافی میری طرف سے ہوگی۔
وہ ایک ہاتھ کی مٹھی بناتا ہونٹ پر رکھتا مسکراتے ہوے اسے بولتا دیکھ رہا تھا اسے سننا بہت اچھا لگ رہا تھا۔۔
آپ کو کیا پسند ہے؟؟مجھے تو چاے بہت پسند ہے میں دن میں چار سے پانچ کپ چاۓ کے پی نا لوں میرا دن نہیں گزرتا۔۔وہ خود ہی سوال کرتی آگے کی بات بھی شروع کر دیتی۔۔۔
اذہاد نے آنکھیں نکلتے اسے حیران ہو کے دیکھا۔۔ چار پانچ کپ اتنی زدہ چاۓ؟؟
ہاں نا۔۔
وہ مزے سے بولی آپ کو پتا ہے میری مما مجھے کیا کہتی ہیں۔۔حور اتنی چاۓ پیو گی تو کالی ہوجاؤ گی پھر کوئی شادی بھی نہیں کرے گا بولے گا لڑکی کالی ہے۔۔وہ ماں کی کاپی کرتی بولی۔
اور اذہاد اسے دیکھتا زور سے ہنسا حور بھی اس کے ساتھ ہنسی۔۔
میں چاۓ نہیں پیتا مجھے بلیک کافی پسند ہے۔۔۔
چھی۔۔یکھ۔۔۔وہ ہ ہ۔۔۔نا تو جس میں دودھ ڈالا جاتا ہے نا چینی۔کڑوی کسیلی کافی آپ پی کیسے لیتے ہیں؟؟(تبھی اتنے کڑوے تھے)؟؟؟ یہ جملہ اس نے اردو میں خود سے کہا۔۔اور اذہاد جو حور کے منہ سے اپنی پسندیدہ چیز کی اتنی تعریف اتنی خوبصورت انداز میں سنتا شوکڈ تھا اس کے اردو میں بولے گئے جملے پے ایک آنکھ چھوٹی کرتا اور دوسری آنکھ کی آی برو اٹھا کے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
حور اس کے خود کو دیکھنے کے انداز پے ہنس دی وہ جانتی تھی اسے اردو سمجھ نہیں آتی۔۔۔
کبھی میرے ہاتھ کی کافی پینا پھر بتانا۔۔اذہاد اپنی پسندیدہ کافی کی حمایت کرتا بولا۔۔
جی نہیں آپ جب میرے ہاتھ کی چاۓ پیے گے تو سب بھول جائیں گے۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔
(ہاں تمھیں دیکھ کے تو میں اپنی ذات ٹک بھول گیا حور) وہ دل میں اسے مخاطب کرتا بولا پھر ہنسا۔۔جی ہاں میں ضرور آپ کی ہاتھ کی بنی چاۓ پیتا مگر بد قسمتی سے شاید میرے نصیب میں وہ لکھی نہیں تھی۔۔وہ اس دن اس کے گھر آے اور بنا چاۓ پیے واپس چلے جانے پر افسوس کرتا بولا۔۔۔
حور کو اس کی یاد دلائی گی اپنی سب سے بڑی غلطی پر ایک دم شرمندگی ہوئی۔۔
مگر میں بھولا نہیں ہوں حور آپ پر اب میری دو چاۓ ڈیو ہے۔۔۔وہ اسے اداس دیکھتا جلدی سے مسکرا کے چھیڑ تا ہوا بولا۔۔۔
ہاں کیوں نہیں ضرور۔۔وہ مسکرا کے بولی۔۔۔
ویٹر دونوں کے آگے کپ رکھ کے چلا گیا۔۔
حور نے اس کی بلیک کافی دیکھی۔۔اذہاد اسے دیکھ کے مسکرایا۔۔۔اور دونوں نے اپنی کافی کے ایک ایک سپ لیے۔۔۔تبھی اذہاد نے کچھ سوچتے ہوے اسے دیکھا۔۔۔
حور میں آپ کی کافی ٹیسٹ کروں؟؟حور نے حیران ہوتے اذہاد کو دیکھا۔۔اگر منع کرتی تو بری بات ہوتی اس کی فرمائش انوکھی سی تھی۔۔اسنے مسکراتے ہوئے اپنا کپ اسکے آگے رکھا اور تبھی اذہاد نے اپنا کپ اسکے آگے کھسکایا۔۔۔وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
جب میں آپ کی کافی ٹیسٹ کر رہا ہوں تو آپ بھی میری کافی ٹیسٹ کریں۔۔وہ دھونس جماتا شرارت سے اسے دیکھتا بولا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔حور آنکھیں بڑی کرتی پیچھے ہٹتی بولی۔۔وہ کالی کافی کو دیکھ کے ہی گندے گندے منہ بنانے لگی۔۔
اذہاد اس کے منہ بنانے پر زور زور سے ہنسنے لگا۔۔
حور چلیں شاباش۔۔۔میں تین تک گنو گا پھر ہم ایک ساتھ ایک دوسرے کی کافی ٹیسٹ کریں گے اوکے۔۔
وہ بچوں کی طرح اسے پچکارتا ہوا بولا۔۔۔
وہ اذہاد تھا حور کا آزہاد حور کو تو اس کی بات ماننی ہی تھی وہ کیسے انکار کر دیتی چاہے وہ کافی کڑوی کثیلی ہی کیوں نہ ہو۔۔اور وہ آزہاد تھا جو جانتا تھا اپنی حور سے اسے کیسے زد منوانی ہے۔۔
وہ مسکراتا ہوا بولا ایک دو تین گو۔۔حور اور آزہاد نے ایک ساتھ کافی کاسپ لیا۔اور اذہاد کا ایک قہقہہ گونجا حور کو دیکھ کے۔۔۔
حور اس کی پیالی سے لیا گیا سپ منہ میں رکھے زور سے آنکھیں بند کئے بیٹھی تھی وہ ناتو اسے اگل رہی تھی نہ نگل رہی تھی۔۔اور آزہاد اسے دیکھتا ہنستا ہی جا رہا تھا۔۔
حور نے ایک دم جلدی سے کالی کوفی کا گھونٹ حلق سے نیچے اتارا اور گندہ منہ بناتی اسے ہنستا ہوا دیکھ رہی تھی۔حور نے جلدی سے اس کے سامنے سے اپنا کپ اٹھایا اور اس کے آگے اس کی کالی کافی رکھی۔آپ کو مبارک آپ کی کالی کافی۔۔ وہ مصنوعی غصے سے ناک چڑاتی بولی۔۔۔
اذہار آج اس کی ہر ادا پہ نثار ہوئے جارہا تھا وہ جو چاہتا تھا وہ ہو گیا تھا وہ اپنا کپ اٹھاتا اس کے چھوڑے گئے ہونٹوں کے نشان پر اپنے لب رکھتا کافی پینے لگا حور کے ہونٹوں سے چھوئی اسکی کافی زندگی کی بہترین کافی تھی۔
یہ ان کی زندگی کی سب سے حسین شام تھی ہور اتنی رات تک بنا ڈر اور خوف کے آج باہر تھی کیونکہ اس کے ساتھ اس کا محافظ موجود تھا کسی کی مجال تھی جو اس کی موجودگی میں اسے آنکھ اٹھا کے بھی دیکھتا ہور جب جب رات میں گھر سے اکیلی باہر نکلی تب تب اتفاق سے آزہاد اس کے ساتھ تھا۔۔
حور اپنی کافی پینے لگی اور آزہاد اسے دیکھتا اپنی کافی پینے لگا۔۔۔
واہ ڈاکٹر واہ تالیاں۔۔۔۔وہ تالیاں بجاتا اس کی ٹیبل کی طرف آیا۔۔۔
حور جو اذہار سے باتیں کر رہی تھی اس کی آواز سنتی پیچھے گردن کر کے اسے دیکھا اور اسے دیکھ کے اس کی کچھ دیر پہلے والی مسکراہٹ اب ایک خوف میں ڈھل گئی تھی۔۔۔
آزہاد حیران ہوتا کبھی حور کو اور کبھی اس انسان کو دیکھ رہا تھا۔۔
میں تو سمجھا تھا تم بڑی پارسہ ہو مگر تمھارے اس معصوم سے چہرے کے پیچھے۔۔۔واہ واہ۔۔۔بتاؤ نا انہیں بھی۔۔وہ آزہاد کی طرف اشارہ کرتا ہور سے بولا۔۔
وہ ڈرتی ہوئی اب اذہاد کو دیکھ رہی تھی جو اس کے چہرے پہ چھائے خوف کو حیران ہوتا دیکھ رہا تھا تو کبھی اس انجان انسان کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔وہ کون تھا ؟؟کیا یہ سب حور سے کہہ رہا تھا؟؟مگر کیوں؟؟ کیا حور اسے جانتی تھی؟؟مگر حور تو آزہاد کے علاوہ کسی سے بات نہیں کرتی تھی اس کی دوست کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔پھر یہ کون ہے؟؟؟ایسے کئی سوال تھے جو اذہاد کے دماغ میں چل رہے تھے۔۔۔
کیا ہوا ڈاکٹر بتاؤ اسے بھی کہ یہ ایک نہیں تمہارا دوسرا یار بھی۔۔۔اور بس پھر اذہاد کی برداشت جواب دے گی اس کی آخری بات اس کا دماغ کیا پوری دنیا ہلا گیا تھا وہ بیحد غصے سے کرسی سے اٹھتا ایک مضبوط ہاتھ کا گھونسہ طاقت سے اس کی ٹھوڑی کے نیچے اوپر کی طرف مارتا اٹھا جس سے وہ آگے کے الفاظ بولنے سے تو کیا ساری زندگی کے بولنے سے محروم ہوگیا تھا اس کی زبان اذہاد کے گھونسے سے دانتوں کے بیچ آکے کٹ گئی تھی۔وہ جیسے ہی اوپر سے نیچے گردن کرتا جھکا اس کے منہ سے نکلتا خون کا فوارہ دیکھ کر وہاں بیٹھے لوگوں کی چیخیں نکل گئی۔۔۔۔
حور کو جس چیز کا خوف تھا وہ سچ ہوگیا آزہاد کو روکنا اب حور کے تو کیا وہاں بیٹھے کسی بھی انسان کے بس سے باہر تھا۔۔
وہ خونخوار بنا لال آنکھیں لیے غصے سے اس کی طرف بڑھا اور ایک زوردار لات اس کے جھکے منہ کی طرف ماری وہ درد سے دہرا ہوتا زمین پر گر گیا اذہاد جبڑوں کو پیستا اس کی طرف جھکا۔۔۔
حور جو اس کے بدلتے روپ کو خوف سے دیکھ رہی تھی چیختی ہوئی اذہاد کی طرف بڑھی۔۔جب وہ چار ہٹے کٹے بندوں کو اکیلے مار مار کے لہولہان کر سکتا تھا تو یہ تو میکس تھا سوکھا سڑا سا۔وہ تو اذہاد کے دو ہاتھ پڑنے سے ہی مر جاتا۔۔۔
آزہاد نہیں چھوڑو اسے یہ مر جائے گاوہ اس کا بازو کھینچتی چیختی ہوئی رو رہی تھی اسے روک رہی تھی۔۔۔
مگر اذہاد پڑھ تو جیسے جنون سوار تھا اس کے الفاظ اس کے دماغ میں ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے وہ گھونسے پر گھونسے اس کے منہ پر مارے جا رہا تھا۔
اور حور روتے ہوئے اس کے بازو کو پیچھے سے کھینچ رہی تھی۔۔۔۔
میکس ڈیلن سے پڑنے والے مکے کو لے کر جذباتی ہو گیا تھا اور اس نے اس چیز کا بدلہ حور سے لینا چاہا۔
وہ حور پر نظر رکھے ہوئے تھا۔۔اس کی نظر میں ہور جو بہت پارسہ بنی پھرتی ہے اسکے ایک نہیں دو یار ہیں اور یہی حقیقت بتانے کے لئے وہ آزہاد کے سامنے بڑا فخر سے آیا تھا تاکہ حور کا بھانڈاپھور سکے۔۔
اور پھر حور کو بھی ایسی ذلت ملے جو میکس کو ملی تھی۔۔۔مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہوگیا تھا۔۔
وہ بنا حور اور آزہاد کے بارے میں جانے ان کے بیچ کود پڑا تھا۔۔۔۔
ڈیلن نے اسے آخری بار وارن کیا تھا باتوں ہی باتوں میں کے وہ حور سے دور رہے اگر وہ اتنا سمجھدار ہوتا تو ڈیلن کی بات مانتا اور حور سے دور رہتا مگر اس کی بیوقوفی نے اس کی باتوں کو اپنی بےعزتی سمجھا اور اس کا بدلا حور سے لینے کے لئے اس پر نظر رکھنے لگا۔۔ اب ڈیلن تو تھا نہیں جو برداشت کرتا اور حور کی بات مان کر اسے بخش دیتا۔۔
یہ اذہاد عریض تھا جس کا ایک بار دماغ گھوم جائے تو پھر اسے روکنے کے لئے اس کے جیسے تین سے چار بندے ہوں۔۔اس کی زندگی اس کی محبت اس کی حور کے لیے ایسے گندے الفاظ کہنے والے کو تو جان سے ہی مار دینا چاہیے۔۔
حور اسکا ہاتھ پکڑے اسکے ہاتھ کو روکنے کے لیے پوری طاقت لگاے اس کے چلتے ہاتھ کے ساتھ ساتھ ہل رہی تھی۔۔ مگر ازہاد روکے نہیں رک رہا تھا۔۔
_____________
جب ہی پولیس بھاگتی ہوئی آئی اور اذہار کو میکس کی ادھ مری لاش سے زبردستی سے دور کیا۔اذہاد نے ہٹے کٹے پولیس والوں کو بھی ہلا دیا تھا۔وہ بے حد غصے میں تھا۔اس وقت کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
مسٹر آزہاد عریض خود پر قابو کریں۔۔ پولیس آفیسر نے اذہاد کو سمبھالتے ہوے دیکھتے کہا۔۔
پہلے اسے قبر میں دفنا کے آؤں میں پھر خود پر قابو کروں گا۔۔ اذہاد لال آنکھوں سے غصے میں آفیسر کو دیکھتا بولا۔اس کی ہمت کیسے ہوئی حور کے لئے گندے الفاظ میرے سامنے منہ سے نکالنے کی۔۔وہ آگے بڑھتا ایک زوردار لات میکس کے پیٹ میں مارتا ہوا بولا۔۔اسے پھر سے پولیس نے چاروں طرف سے پکڑ کے قابو کیا۔۔
آفیسر میکس کی بوڈی جلدی سے ایمبولینس میں ڈلواتا آزہاد کی طرف پلٹا۔ آپ کو ہمارے ساتھ پولیس اسٹیشن چلنا ہوگا مسٹر آزہاد عریض۔۔۔
آپ لوگ چلیں میں پولیس اسٹیشن میں خود آتا ہوں مجھے صرف 10 منٹ دیں۔۔
آفیسر آزہاد کو اچھے سے جانتا تھا وہ سر ہلاتا گاڑی میں بیٹھ کے چلا گیا کیونکہ اذہاد جو کہتا تھا وہ ضرور پورا کرتا تھا۔۔
اذہاد بےحد غصے اور جاہرانہ تیور لیے ہور کی طرف بڑھا حور کو اس سے بے حد خوف محسوس ہوا وہ دو قدم بےاختیار اسے دیکھتے پیچھے ہٹی۔۔
یہ کون تھا حور؟؟ یہ تم سے ایسے کیوں بات کر رہا تھا؟؟ اور دوسرا؟؟ یہ کسی دوسرے کی بات کر رہا تھا ؟؟!!!لال آنکھیں سخت خون جمع دیتے سرد لہجے میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کے اس کے چہرے کے قریب جاتا پوچھ رہا تھا۔۔حور اسے اتنے غصے میں دیکھ کے رو دی۔وہ اس کے اس روپ سے بے حد خوفزدہ ہوگئی تھی حور نے اسے غور سے دیکھا یہ اس کا وہ اذہار تو نہیں تھا جو کچھ دیر پہلے اس کے ساتھ بیٹھا ہنس رہا تھا قہقہ قہقہے لگا رہا تھا یہ تو کوئی اور ہی تھا۔وہ اس کی بےحد لال آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔۔
حور۔۔آزہاد نے بے حد سخت لہجے میں اس کا نام پکارا
اور حور بے یقینی سے اسے دیکھتی رودی اور شروع سے سارا معاملہ اسے بتایا۔۔۔
تم نے اتنی بڑی بات مجھ سے چھپائی حور ؟؟؟وہ ناامیدی سے اسے دیکھتا پوچھ رہا تھا۔۔۔اور ڈیلن۔۔ڈیلن نے بھی مجھ سے بات۔۔۔۔وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے بالوں کو مٹھی میں جکڑ تا پھر چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہور کو بے تاثر نگاہوں سے دیکھا۔۔۔ اور وہی حور کی جان پر بن آئی تھی وہ اس کی آنکھوں میں
بھروسہ ٹوٹنے کا درد دیکھ کے اندر کہیں خود بھی چور چور ہوگئی۔۔۔
ایک ہی دل تھا میرے سینے میں وہ بھی تجھ کو دیا۔
تیرے ہاتھوں سے میرا قتل محفوظ کیا۔۔
سانسیں رکنے پر مجبور ہوئی ہو جیسے۔۔۔
تھوڑا تھوڑا کرکے تو مجھ سے دور ہوئی ہو جیسے۔۔
میں ٹوٹا تو تھا ہی تو بھی چور چور ہی ہو جیسے۔۔
وہ اس سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے غصے سے گاڑی کی طرف بڑھتا اس کے لئے دروازہ کھولتا اس کی طرف پشت کیے کھڑا رہا۔۔
حور منہ پہ ہاتھ رکھے اپنی نکلتی درد بھری سسکیوں کو روکتی آگے بڑھی اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔
اذہاد نے زور سے دروازہ بند کیا اور گھوم کے اپنی سیٹ کی طرف آیا۔۔
وہ اس کے زور سے دروازہ بند کرنے پر ایک دم سہم گئی اور رونے لگی۔۔۔
اپنی انگلیوں کو سختی سے اسٹیرنگ پر جمائے آزہاد خود پر کنٹرول کرتا ڈرائیو کر رہا تھا۔حور کے آنسو اسے تکلیف دے رہے تھے مگر اس نے بھی تو غلط کیا تھا اس سے چھپا کے اگر وہ انسان حور سے بدلہ لینے کے لیے اسے کوئی نقصان یا اس کے ساتھ کچھ غلط کر بیٹھتا تو۔۔۔اس سے آگے اذہاد کی ساری سوچیں دم توڑ جاتی تھی وہ سوچ میں بھی حور کے ساتھ کچھ برا ہوتا یا غلط نہیں سوچ سکتا تھا….
اذہاد میں نے منع کیا تھا ڈیلن سے آپ کو بتانے کو وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی بولی۔۔
اذہار پتھروں جیسی سختی لئے سامنے دیکھتا تیز گاڑی چلا رہا تھا..اس کے گھر کے آگے گاڑی روکتا اس کا سامان نکالتا اسے گھر کے اندر چھوڑتا بنا بات کیے وہ واپس چلا گیا۔۔اس سارے عمل کے دوران حور روتی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس کے جانے کے بعد حور زمین پر بیٹھی رو رہی تھی۔۔
آزہاد آئی ایم سوری۔۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دیں ۔۔ اذہاد اب میں آپ سے کچھ نہیں چھپاؤ گی۔۔وہ خالی گھر میں بین کرتی اسے پکارتی رو رہی تھی ہچکیوں سے تڑپ تڑپ کے اس سے معافی مانگ رہی تھی…مگر وہاں کوئی ہوتا تو اس کے بین سنتا نہ وہ تو کب کا جا چکا تھا۔۔۔
اذ ہار تیز رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا بار بار ایک ہی سوچ اس کا خون کھولا آرہی تھی کہ حور نے تو چلو بات چھپائی ڈیلن۔۔۔ڈیلن تو اس کا وفادار تھا کبھی کوئی بات اس نے آزہاد سے نہیں چھپائی تھی پھر حور کے متعلق اتنی بڑی بات وہ اس سے کیسے چھپا گیا؟؟
پولیس اسٹیشن کے آگے جھٹکے سے گاڑی روکتا باہر آیا۔۔۔
مسٹر آزہاد عریض کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ آپ نے اسے اتنی بے دردی سے کیوں مارا۔۔ آفیسر اذہاد سے سوال کرتا بولا۔۔
ہاں کیوں کے۔۔۔۔اذہار آگے بولتا رک گیا حور کے لیے وہ گرل فرینڈ جیساکوئی بھی نازیبہ الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔اور ان کے بیچ کوئی ایسا رشتہ بھی نہیں تھا جو وہ بتاتا اس نے ایک پل کے لئے سوچا اور پھر بولا۔۔کیوں کہ اس نے میری منگیتر سے بدتمیزی کرنے کی کوشش کی ہے۔۔
آفیسر گردن ہلاتا بولا ٹھیک ہے مسٹر آزہاد عریض وہ آپ کی منگیتر کو کیسے جانتا ہے؟؟اب اذ ہاد کا دماغ اس کے سوالوں پر گھوم رہا تھا۔۔وہ لال آنکھوں لیے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے آفیسر کی طرف جھکا۔آفیسر ایک پل کے لئے اسے دیکھتا گڑبڑا گیا۔۔سر یہ ہمارے رولس ہیں ہمیں آگے رپورٹ دینی ہوتی ہے۔۔
اپنا منہ بند کرنے کے کتنے لوگے آفیسر ایکدم سیدھا ہوا اور ہنسا۔۔جتنے آپ کو میری اوقات کے حساب سے لگے اتنے دے دیں۔۔
اب کچھ بچا ہی نہیں تھا بیٹھنے کے لئے آزہاد ایکدم کھڑا ہوا اور جاتے جاتے ایک دم رکا اور مڑا اب اگر وہ انسان مجھے میری منگیتر کے سوفٹ بھی دور نظر آیا تو میں اسے جان سے مار دوں گا۔۔۔وہ آفیسر کے منہ پر جان سے مارنے کی دھمکی دیتا بولا۔۔۔
ارے سر آپ نے اس بے چارے کو جیسا مارا ہے مشکل ہے وہ زندہ بچے اگر بچ بھی گیا تو معذوری کی زندگی گزارے گا بیچارا۔۔۔
اور آزہاد غصے سے وہاں سے چلا گیا۔۔
پیسے کی بھوک ہر انسان کو اس کی اہمیت ضمیر اس کا فرض سب بھلا دیتی ہے۔۔۔اذہاد کے دیے گئے پیسوں سے اب اس کے تین چار مہینے عیاشی سے گزرنے والے تھے۔۔۔
آزہاد راستے میں تھا جب اسے ڈیلن کا فون آیا۔پہلے تو اس کا نام دیکھ کے اسے بہت غصہ آیا پھر فون اٹھاتا کان سے لگایا۔۔سینور گرینڈ پا کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ہے آپ فوراً ہسپتال پہنچے۔۔اور آزہاد گاڑی موڑتا تیز ڈرائیو کرتا ہسپتال پہنچا۔۔اس نے ڈیلن کو صاف اگنور کیا اور ڈاکٹر کی طرف مڑا۔۔
ڈاکٹر اندر جو مریض ہیں وہ میرے گرینڈ پا ہیں کیا ہوا ہے انہیں؟؟وہ پریشان ہوتا ڈاکٹر سے پوچھا۔۔۔
دیکھیں مریض کو ابھی چیک کیا جا رہا ہے ہم نے کچھ ٹیسٹ کیے ہیں معلوم ہونے پر ہم آپ سے بات کریں گے آپ پلیز انتظار کریں۔۔ یہ کہتا ڈاکٹر آگے بڑھ گیا اور اذہاد و ہی رکھی کرسی پر بیٹھ گیا اور چہرہ ہاتھوں پر گرا دیا۔۔
پرسوں ہی کی تو بات تھی جب وہ ان کے گھر ان سے ملنے گیا تھا۔۔۔۔
ارے میرے بچے آزہاد کیسے ہو؟؟ وہ مسکراتا ہوا تیز بارش میں بھیگتا ان کے سامنے کھڑا تھا۔۔سخت سردی میں بھی اس نے صرف شرٹ پہنی ہوئی تھی۔۔اذہاد میرے بچے اپنا خیال کیوں نہیں رکھتے ایسے تو تم بیمار ہو جاؤ گے۔۔وہ بارش میں اسے بھیگتا اور سخت سردی میں بنا کوئی گرم کپڑے پہنے دیکھتے ہوئے بولے۔۔
وہ مسکراتا ہوا اندر آیا اور ان کے ہاتھ تھامتا ہوا بولا۔۔
کرتا تو ہوں خیال۔۔۔
ہاں نظر آ رہا ہے۔۔ وہ اس کے کپڑوں پر اور اتنی ٹھنڈ میں بھیگنے پر چوٹ کرتے بولے۔۔۔
اذہاد ہنسا۔۔۔مجھے کافی پینی ہے۔
ہاں جاؤ تم چینج کرو میں ابھی بنا کے لایا۔۔۔
اذہاد اوپر کمرے کی طرف بڑھا اور گرینڈ پا کچن کی طرف۔۔
وہ شیشے کے باہر گرتی بوندوں کو دیکھ کے مسکرا رہا تھا اور شیشوں پہ گرتے پانی کو ہاتھ سے چھونے کی کوشش کر رہا تھا۔۔جب ہی گرینڈ پا کپ ہاتھ میں لیے حیران اس کے عمل کو دیکھتے ایک کرسی پر بیٹھے اور کپ سامنے میز پر رکھے۔۔آزہاد نے مڑ کر انہیں مسکرا کے دیکھا۔۔
کیا بات ہے اذہار تم مجھے بہت بدلے بدلے لگ رہے ہو۔۔
اچھا کیا بدلا بدلا لگ رہا ہوں میں؟؟وہ برستی بارش کو دیکھتے بولا۔۔
تم مسکرانے لگے ہو اب میری باتوں کا جواب بھی دیتے ہو غصہ نہیں کرتے کیا میں جو سوچ رہا ہوں وہ سچ ہے ؟؟؟گرینڈ پا اسے دیکھتے پوچھ رہے تھے۔۔
وہ مسکراتا ہوا ان کے قریب آیا اور پیروں کے پاس ان کے گھٹنوں پر سر رکھتا نیچے بیٹھ گیا۔۔آپ جو سوچ رہے ہیں گرینڈ پاوہ صحیح ہے مجھے محبت ہو گئی ہے۔۔گرینڈ پا نے آنکھیں بند کر کے کرسی کی پشت سے سر ٹکایا آیا۔۔۔تو تمہیں بھی محبت ہوگی۔۔۔
ہاں گرینڈ پا۔مجھے نہیں معلوم مجھے اس سے کس لمحے محبت ہوئی کونسا ایسا پل تھا جب وہ میری زندگی کے لیے لازم وملزم ہوگی لیکن بس وہ ہوگیا ۔اور جب مجھے پتہ چلا تب میں اس کی محبت میں مکمل ڈوب چکا تھا مجھے پتہ بھی نہیں چلا کہ کب میں نے اپنی پسند اور ناپسند کو پس پشت ڈال کر اس کی پسند نا پسند کو اپنا بنا لیا مجھے حیرت تب ہوئی جب مجھے اس کی چھوٹی چھوٹی ناراضگی کی پرواہ ہونے لگی۔میں اس کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ جاتا مجھے خود بھوک کا احساس نہ ہوتا لیکن اس بات کا بخوبی خیال رہتا کہ کھانے کا وقت ہے اس نے کھانا کھایا کہ نہیں غرض اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں نے مجھے بدل دیا گرینڈ پا۔۔۔
پتا ہے میرے بچے زندگی میں صرف ایک چیز ایسی ہے۔جو انسان کو جی بھر کے خوار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اور وہ ہے محبت وہ آپ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی ہے اور کبھی آپ کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کے اپنے ہونے کا اتنا گہرا احساس دلاتی ہے کہ انسان کو لگتا ہے کہ وہ اپنی مٹھی میں سمندر کو قید کر سکتا ہے اور کبھی کبھی آپ کو یقین کی سیڑھی سے اتنی زور سے دھکا دیتی ہے کہ انسان ساری زندگی سر اٹھا کے چلنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔۔
مجھے ڈر ہے اذہاد کہیں۔۔۔۔اس سے آگے وہ کچھ نہ بولے۔۔اور آزہاد کی آنکھوں سے ایک آنسو گرا۔۔
آپ میرے لیے دعا کریں گرینڈ پا کے اس محبت نے مجھے جیت ملے منزلیں کسی کے گھر جاکے حاضری نہیں دیتی راستوں پر چلنے سے راستے نکلتے ہیں اور ڈھونڈنے سے ہی منزلیں ملتی ہیں۔۔میں مانتا ہوں قسمت بنانا آپ کے ہاتھ میں نہیں مگر فیصلہ کرنا آپ کے ہاتھ میں ہے آپ کی قسمت آپ کو فیصلہ کرنے میں کوئی مدد نہیں کر سکتی لیکن آپ کا فیصلہ آپ کی قسمت بنانے میں بہت مدد کر سکتا ہے۔۔کامیاب لوگ اپنے فیصلوں سے دنیا بدل دیتے ہیں اور کمزور لوگ دنیا کے ڈر سے اپنے فیصلے بدل لیتے ہیں۔۔اور نہ تو میں کمزور ہوں اور نہ کسی سے ڈرتا ہوں میں اپنے رستے خود بنا سکتا ہوں وہ گردن ان کی گود سے اٹھاتا بولا۔۔۔
مجھے تم پر یقین ہے بہت بھروسہ ہے کہ میرا اذہاد اپنے فیصلوں سے دنیا بدل دے گا سارے راستوں کو اپنی طرف موڑ لے گا۔پھر آخر میں منزل اسی کی جیت ہوگی۔۔۔آہستہ سے جھکتے اس کے سر پر بوسہ دیا۔۔۔آز ہاد نے گردن پھر ان کے گھٹنوں پر رکھ دی۔۔
وہ بھی تو اسی طرح ان کے گھٹنوں پر سر رکھ کے محبت کی بھیک مانگتی تھی محبت کے لیے تڑپتی تھی۔۔کیا ہوا محبت کی تڑپ اور جدائی نے اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے منوں مٹی تلے سلا دیا۔۔خدا را
اذہاد کے ساتھ ایسا نا ہو میرے گوڈ پلز میرے بچے کی ہیلپ کرنا وہ خاموش دعا مانگتے رو دیے۔۔۔۔
مسٹر اذہاد۔۔۔۔ڈاکٹر نے اسے پکارا جو آنکھیں بند کیے سر پیچھے دیوار سے لگے گہری سوچ مے ڈوبا تھا ڈاکٹر کی آواز پے فورن آنکھیں کھولتا کھڑا ہوا۔۔
جی ڈاکٹر۔۔
اذہاد آپ میرے ساتھ آئیں۔
جاری ہے
