Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01

میری عزت محبت بھروسہ سب خاک میں ملا دیا تم نے کتنا فخر تھا مجھے تم پراورتم نے۔۔ ذرا نہیں سوچا اپنے ماں باپ کے بارے میں مر گئے۔۔ تمہارے ماں باپ آج سے۔۔۔
بابا۔۔ میری۔۔ بات۔۔۔ہور نے ہچکی لیتے اور اٹکتے ہوئے کہا۔۔
اب کبھی اپنی شکل مت دکھانا مار دیا اپنے ہاتھوں سے تم نے..
وہ زور سے نیچے گرنے کے انداز میں بیٹھی گالوں سے آنسو موتیوں کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کے گر رہے تھے حسین آنکھیں رو رو کے بے حال تھی۔۔۔۔
بابا ۔۔۔بابا وہ آہستہ روتے ہوئے انہیں پکار رہی تھی مگر پرواہ کسی تھی سات سمندر پار اُنہیں صرف اپنی عزت اور انا کی پرواتھی۔۔
زندہ قبر میں اتار دیا ہے تم نے آپنے ماں باپ کو ارتضیٰ ابراہیم اس وقت غصے میں بھول چکے تھے کہ ان کی جان سے پیاری بیٹی اس وقت کتنی تکلیف میں ہے۔۔انہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا ۔۔۔
بابا میری بات تو سن لیں۔ ۔۔ وہ ٹوٹے الفاظوں میں بولیی دل پہ جیسے کیسی نے اس کے خنجر گھونپ دیا ہو ۔۔۔
نہیں اب یہاں فون مت کرنا میری بیٹی مر گئی ہے ہمارے لئے اور ہم اس کیلئے۔۔ارتضیٰ ابراہیم اس وقت بے رحم بنے ہوئے تھے بیٹی کی سسکیاں بھی ان پر کوئی اثر نہیں کر رہی تھی ۔۔۔
بابا۔۔بابا ۔۔ ۔ ۔ وہ ہچکیاں لیتے انھیں پکار رہی تھی رو رہی تھی بابا بابا کیے جارہی تھی مگر سامنے سے فون کب کا بند ہوچکا تھا۔۔
اس وقت وہ ساتھ سمندر دور اپنے اپارٹمنٹ کے کمرے میں بیٹھی چیخ رہی تھی رو رہی تھی اپنے پیارے سے بابا کے لئے تڑپ رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اڑ کے جائے اور ان کے سینے سے لگ جائے انہیں منائے اور بتائے وہ ان سے مر کے بھی الگ نہیں ہو سکتی وہ انکی حورین ہے ان کی جان سے پیاری بیٹی جو ان سے بہت پیار کرتی ہے۔۔وہ گھٹنے موڑے زمین پہ جھکی ہاتوں سے پیٹ کو پکڑے رو رہی تھی تڑپ رہی تھی ۔
لیجئے آپ کے پکوڑے عظمیٰ ارتضیٰ ابراہیم نے پکوڑوں کی پلیٹ ارتضیٰ کے آگے رکھی۔۔
وہ ایک دم خوشی سے آ گے ہوئے ایک پکوڑا پلیٹ سے اٹھا کے چٹنی میں ڈبو کے منہ میں رکھا ۔۔۔
ہمممم۔ ۔۔۔بھئی واہ واہ بھئی مزا ہی آ گیا کیا پکوڑے بنائے ہیں آپ نے بھئی واہ۔۔۔ ایک کے بعد ایک پکوڑا پلیٹ سے ختم کرکے وہ تعریف کئے جا رہے تھے۔۔
وہ شام ڈھلے اپنے گارڈن میں بیٹھے پکوڑوں سے لطف اٹھا رہے تھے ۔۔۔
ہممم۔ ۔ کھا لیجئے جتنی مرضی مزے کرنے ہیں نہ کر لیجئے جب وہ آئے گی نہ پھر پوچھوں گی آپ سے کے ارتضیٰ صاحب لاو پکوڑے۔۔انہوں نے اپنے شوہر کو دھمکایا۔
ارتضیٰ نے منہ تک لے جاتا پکوڑے والا ہاتھ روک کے عظمیٰ کو دیکھا آپ میری بیوی ہیں ؟؟
جی بالکل چائے کا کپ ہاتھوں میں لیتے انہوں نے کہا ۔۔
ہممم۔ ۔۔تبھی تو آپ سے میری خوشی برداشت ہی نہیں ہورہی ارے بندہ مہینے میں ایک بار اگر ایسی ہلکی پھلکی تفریح کرلے تو کیا ہر ج ہے۔ ۔
بالکل بھی نہیں ایسی تفریح آپ کی صحت کے لیے بالکل ٹھیک نہیں ہے آ لینے دیں حورین کو میں ایک ایک بات آپ کی بتاؤں گی ذرا بھی فکر نہیں آپ کو
اپنی نہیں تو ہماری ہی فکر کر لیں۔۔وہ اٹھ کے اندر چلی گئی اور وہ پیچھے ارے ارے سنو بیگم کرتے رہ گے اور ہنسے پھر پکوڑوں کو دیکھا اور ایک پکوڑا اٹھا کے چٹنی لگا کہ کھانے لگے ۔۔۔
رات سے وہ بے چین ہو رہی تھیں کبھی اس کروٹ لیٹتی تو کبھی اس کروٹ ایسے کرتے وہ اٹھ کے بیٹھ گئی۔
ارتضیٰ جو خاموشی سے لیٹے ان کو نوٹ کر رہے تھے اٹھ کے بیٹھے کیا ہوا ہے عظمیٰ۔۔
پتا نہیں ارتضیٰ حورین کی بہت فکر ہو رہی ہے اس کی بہت یاد آرہی ہے آپ پلیز اسے فون کریں نہ مجھے اس سے بات کرنی ہے ۔۔عظمیٰ بات کرتے ہوئے ارتضیٰ کو بے چین اور فکرمند لگی انہوں نے ان کو کاندھوں سے تھاما آپ بالکل پریشان نہیں ہوں وہ بالکل ٹھیک ہوگئی میں اتنی رات کو اسے فون کر کے پریشان نہیں کر سکتا ہم صبح بات کریں گےحورین سے اوکے۔۔
مگر ارتضیٰ ۔۔۔۔عظمیٰ بولی تھی کہ ارتضیٰ بولے
میں کہہ رہا ہوں نہ عظمیٰ اس وقت ٹائم دیکھیں رات کے دو بج رہے ہیں سو جائیں ہم صبح حور سے بات کریں گے اوکے انہوں نے عظمیٰ کو بیڈ پر لٹایا اور انکو بلینکٹ اڑای وہ بھی دل میں اس آیتیں پھوک کے اسے اللہ کے امان میں دے کے لیٹ گئی۔۔
عظمیٰ صبح جلدی اٹھ گئی تھی ارتضیٰ انہیں کچن میں دیکھ کے مسکرائے ..
ارے بیگم کہاں ہیں آپ ۔۔۔
عظمیٰ کچن سے بہار آئی ۔۔آپ تیار ہو گئے میں ابھی آپ کیلئے ناشتہ لاتی ہوں ۔وہ الٹے قدموں سے واپس کچن میں گئیں ان کے لئے ناشتہ لینے ۔۔
یہ لیں آپ کا ناشتہ ۔۔عظمیٰ ان کے سامنے ناشتے کی ٹرے سامنے رکھتی وہی کرسی کھینچ ک بیٹھ گئیں۔۔
ارتضیٰ کو وہ بیچین سی لگی انھوں نے ان کے ہاتھوں کو تھاما اور پوچھا ۔۔حور سے بات کرنی ہے ؟؟؟
.عظمیٰ نے زور سے گردن کو ہاں میں ہلایا۔۔
ارتضیٰ ہنسے اور فون پینٹ کی جیب سے
نکال کے حور کا نمبر ملانے لگے وہ کرسی پے بیٹھی انتظار کرنے لگی کے بس جلدی سے حور سے بات ہو جائے کے وہ ٹھیک ہے بیل جاتی رہی جاتی رہی اور پھر فون بند ہوگیا ارتضیٰ نے فون کو کان سے ہٹا کے فون کو دیکھا ایک بار پھر فون ملا کے کان سے لگایا فون پھر بند جا رہا تھا
اب وہ پریشان ہوے اور اس کے ہسپتال فون کیا
السلام عليكم ۔۔ریسیپشن پے بیٹھی لڑکی نے فون اٹھا کے سلام کیا ۔۔
وعلیکم السلام میں حورین کا والد بات کر رہا ہوں ارتضیٰ ابراھیم کیا میں ڈاکٹر حورین سے بات کر سکتا ہوں ؟؟
سوری سر مگر ڈاکٹر حورین آج ہسپتال آئ ہی نہیں ۔۔
کیا ۔۔
ارتضیٰ اب سہی معنوں میں پریشان ہوئے اچھا ٹھیک ہے کیا آپ جانتی ہیں کہ آج وہ کیوں نہیں آئی ؟؟
معذرت سر میں اس سے زیادہ نہیں جانتی۔۔
بہت شکریہ ۔ارتضیٰ نے یہ کہہ کے فون بند کر دیا۔۔۔
کیا ہوا ارتضیٰ ؟؟عظمیٰ نے پریشان ہو کے پوچھا۔
کچھ نہیں عظمیٰ حور فون نہیں اٹھا رہی ہوسپٹل بھی فون کیا تو وہ آج ہوسپیٹل بھی نہیں آئی انہوں نے پریشانی سے کہا خیر کوئی بات نہیں تم پریشان نہیں ہوں وہ ٹھیک ہوگی میرا دل کہہ رہا ہے اور دیکھنا میری کال آی دیکھ کے وہ خود مجھے تھوڑی دیر میں کال کریں گی چلو آؤ ناشتہ کریں ۔۔ارتضیٰ نے ان کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے انہیں بھیلایا۔۔
نہیں میں نہیں کر رہی ناشتہ میرا دل نہیں کر رہا آپ کریں ناشتہ آپ کو دوائیں بھی لینی ہے۔۔
بالکل بھی نہیں آپ نہ کھائیں اور میں کھا لو ایسا کیسے ہوسکتا ہے چلے منہ کھولیں انہوں نے بوائل انڈے کا ایک پیس اٹھا کے ان کے منہ کی طرف پیار
سے بڑھایا۔۔عظمیٰ کا دل نا چاھتے ہوے بھی انہو ں نے ارتضیٰ کا ہاتھ سے نوالہ کھا لیا وہ اچھی ماں ہونے کے ساتھ سب سے پہلے ایک اچھی بیوی تھیں کیسے شوہر کی محبت کا جواب محبت سے نا دیتی مگر اندر کہیں سے ان کا دل حور کے لیے تڑپ رہا تھا۔۔
تھوڑی ہی دیر میں ارتضیٰ کا فون بجا انہوں نے فون دیکھا تو چڑھیا رانی کے نام سے کال آرہی تھی
انہوں نے فون اٹھا کی عظمیٰ کے سامنے کیا اور مسکرا تے ہوے فون یس کیا ۔۔
السلام عليكم بابا جانی چہکتی آواز آی ۔۔
وعلیکم السلام میرا چڑھیا کا بچا کیسا ہے؟؟ارتضیٰ پیار سے اور بہت جب لاڈ کرتے تو اسے چڑھیا کہتے ارتضیٰ نے بھی ہستے ہوے جواب دیا ۔۔
عظمیٰ کے چہرے پے سکون آ گیا حور کا فون آیا تو ۔۔
میں ٹھیک ہوں بابا آپ کیسے ہیں ماما کیسی ہیں ؟؟حور نے پوچھا ۔۔
میں بھی ٹھیک ہوں بیٹاآپ کی ماما بھی ٹھیک ہیں آپ کی ماما کو آپ کی بہت فکر ہو رہی تھی تو میں نے سوچا کیوں نہ آپ کی بات کروا دی جائے۔۔
نہیںںںں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔بابا بالکل نہیں حور چیکھی۔ مجھے اس وقت ایک ضروری کام سے جانا ہے میں ابھی بالکل بات نہیں کر سکتی اوکے ماما کو بولیں میں بالکل ٹھیک ہوں اور وہ بھی اپنا خیال رکھیں اوکے اللہ حافظ ۔۔۔ یہ کہہ کے حور نے فون کاٹ دیا
ارتضیٰ نے فون دیکھا اور کاندھے اچکائے ۔۔بھی آپ کی بیٹی اس وقت ایک ضروری کام سے جا رہی تھی اس لیے فون بند کر دیا ہے۔۔
وہ ٹھیک تو ہے نہ ؟؟عظمیٰ جلدی سے بولی
ہاں ہاں وہ بالکل ٹھیک ہے خیریت سے ہیں اور آپ کو پریشان نہ ہو نے کا بولا ہے۔۔
اللہ تیرا شکر ہے وہ سینے پر ہاتھ رکھ کے بولی۔۔
اب تو آپ پریشان نہیں ہے نا؟؟ ۔۔ارتضیٰ نے نے انہیں دیکھ کے کہا انہیں دیکھ کے کہا ۔۔
نہیں ۔۔۔وہ مسکرائی ارتضیٰ بھی انہیں دیکھ کر مسکرائے وہ ماں تھیں اولاد کی پریشانی چھپا نہیں سکتی تھیں۔۔وہ باپ تھے ظاہر نہیں کرتے مگر اندر سے وہ بھی ماں کی طرح نرم دل رکھتے تھے ۔۔
ارتضیٰ آفس چلے گئے تو عظمیٰ بھی گھر کے دوسرے چھوٹے موٹے کام کرنے لگی۔۔
بڑے سے گیٹ پے ٹیکسی آکے روکی اور بڑے سے گیٹ جس پے ارتضیٰ ابراہیم ولا کی تختی لگی ہوئی تھی ٹیکسی سے اتر کے آنے والے وجود نےاس کے گیٹ کی بیل بجائی اندر سے دینوں چاچا نے دروازہ کھولا اور خوشی سے چیخنے والے تھے کہ سامنے کھڑے وجود نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کے چپ ہونے کا اشارہ کیا وہ خاموش ہو کہ ایک طرف ہوگئے مگر چہرے سے خوشی جھلکی جارہی تھی ۔۔
وہ وجود آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اندر گھر میں داخل ہوا چار سو گز پے بنائے خوبصورت ارتضیٰ ابراہیم ولا
گھر میں رہنے والے مکینوں کی شاندار پسند کا منہ بولتا ثبوت تھا اندر گھر کے مین ڈور میں داخل ہوتے ہی سامنے لگی بڑی سی تصویر جس میں ارتضیٰ کھڑے اور ایک کر سی پہ عظمیٰ بیٹھی ہوئی تھی اور وہی کرسی کی سائیڈ پے حور بیٹی ایک ہاتھ ماں کے کندھے پر رکھے اور دوسرا ارتضیٰ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے خود کے کاندھے پر رکھا تھا اور باپ کے ہاتھ پہ اپنا چہرہ ٹکآیا ہوا تھا۔۔
دیکھنے والوں کو ایک پل کیلئےوہ تصویر لاجواب کردیتی تھی وہ تصویر دیکھنے والوں کو زندگی سے بھرپور لگتی تھی ہنستی مسکراتی زندگی جیسی۔۔
آہستہ قدم اٹھاتا وجود چاروں طرف نظر دوڑاتا آگے بڑھ رہا تھا اور پھر جس کی تلاش تھی وہ سامنے تھیں ۔۔
وہ بھاگتی ہوئی آئی اور ان کے گلے لگ گئی مما۔۔۔۔۔عظمیٰ نے گھبرا کے دل پہ ہاتھ رکھا اور حیران نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔حورین ؟؟
انہوں نے زور سے حور کو گلے لگایا میری بچی میری حور آگئی ۔۔
حور عظمیٰ کے سینے سے لگی بچوں کی طرح اچھل رہی تھی خوش ہو رہی تھی مما آئی لو یو ۔۔
عظمیٰ بھی کبھی اس کا ماتھا ‏چومتی کبھی بال سمیٹتی کبھی گلے لگاتی وہ نثار ہوئے جا رہی تھی۔۔ ماما بابا نہیں ہے ؟؟یہاں وہاں دیکھتے حور نے پوچھا۔
نہیں آفس گئے ہیں تم آؤ یہاں بیٹھو صبح جب بات ہوئی بتایا کیوں نہیں ؟؟
میں آپ کو بابا کو سرپرائز دینا چاہتی تھی وہ بچوں سی خوشی لیے بتانے لگی۔۔
اچھا یہ بتاؤ میری بچی کیسی ہے ؟وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے چومتے ہوئے بولی ۔۔
میں بالکل ٹھیک ہوں اب آپ کے پاس ہوں دیکھتے رہیے گا مجھے۔۔
کیا مطلب تمھاری ہاؤس جاب ؟؟عظمیٰ نے پوچھا
مما میری ہاؤس جاب مکمل ہو گی ۔۔خوشی سے بولی۔
سچ عظمیٰ نے خوشی سے کہا میری بیٹی ڈاکٹر بن گئی ۔۔وہ اسے گلے لگاتے بولی بس اب میں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گی بن گئی ڈاکٹر پڑھ لیا جتنا پڑھنا تھا بس اب تم یہی کوئی ہوسپیٹل میں جوب کروں گی اور میرے پاس رہو گی دیکھو تو ذرا کیا حالت بنائی ہے اپنی پڑھ پڑھ کے کتنی کمزور ہوگئی ہو آنکھیں کتنی چھوٹی ہو گی رات بھر جاگ جا گ کے پڑھ پڑھ کے اپنی آنکھوں کے نیچے ہلکے کرلیے ۔
کوئی شادی بھی نہیں کرے گا بولے گا یہ لڑکی کم لکڑی زیادہ لگ رہی ہے اتنی کمزور ۔۔
حورین زور سے ہنسی ماما ۔ڈاکٹر بننا آسان تھوڑی ہے دیکھیں کتنا مشکل ہے ۔۔
ہاں دیکھ لیا اب بس میرے پاس رہو گی تمہیں شوق تھا ڈاکٹر بننے کا بن گئی نہ اب ڈاکٹراب بس ۔۔عظمیٰ نے ہاتھ اٹھا کے حورین کو کہا ۔۔
اچھا ٹھیک ہے نا میری پیاری ماں مجھے کچھ کھانے کو تو دیں بہت بھوک لگی ہے اور سر درد سے پھٹ رہا ہے مجھے اچھی سی چائے پینی ہے۔۔وہ چائے کی شوقین تھی ۔۔
عظمیٰ نے مسکرا کے حور کے سر پے پیار کیا۔ میں ابھی لائی ناشتہ تم جلدی سے فریش ہو جاؤں ٹھیک ہے ۔۔۔
حور مسکراتی ہوئی اوپر اپنے کمرے میں آئی حور نے جیسے ہی اپنے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ دیکھ کے حیران رہ گئی اس کی ہر چیز اپنی جگہ پر ویسی رکھی تھی جیسے وہ چھوڑ گئی تھی صاف ستھری ہر چیز اس کی ماں نے بہت محبت سے اس کے لئے اٹھا کے صاف کرکے رکھی تھی۔ جیسے وہ پانچ سال سے اسی کمرے میں رہ رہی ہو اسے عظمیٰ پے بے حد پیار آیا اور پھر وہ آگے بڑھ کے فریش ہونے چلی گئی ۔
_______________
ارتضیٰ آفس میں بیٹھے حور کےبارے میں سوچ رہے تھے انہیں بھی آج عظمیٰ کی طرح اس کی بہت یاد آرہی تھی کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا اسی کے بارے میں سوچے جا رہے تھے ان کی اپنی جانی معنی کنسٹرکشن کمپنی تھی۔۔
انہوں نے اپنےسیکریٹی جنید کو بلایا ۔۔میں گھر جا رہا ہوں طبیعت عجیب ہو رہی ہے تم کام سنبھال لینا ٹھیک ہے ۔۔
جی سر میں سنبھال لوں گا آپ بے فکر ہوکے جائیں۔جنید نے کہا جو ایک ذمہ دار اور محنتی لڑکا تھا ۔۔
وہ اٹھے اور گھر کے لیے آفس سے باہر آگئے ۔۔
حور عظمیٰ کے ہاتھ سے ناشتہ کر رہی تھی اکلوتی ہونے کا پورا پورا فائدہ اٹھا رہی تھی۔۔
ماما آپ تو بہت مزے کے پراٹھے بناتی ہیں میں نے آپ کے ہاتھ کے کانوں کو بہت مس کیا ۔۔
عظمیٰ حور کی بات پہ ہنسی۔۔ بس ٹھیک ہے اب میں تمہیں روز مزے مزے کے کھانے بنا کے کھلاؤں گی ٹھیک ۔۔
ہممممممم۔ ۔۔حور نے ہاں میں گردن ہلائی اور چائے پیتے کچھ سوچنے لگی۔اور خاموش نظروں سے ماں کو دیکھنے لگی ۔۔
ارتضیٰ جو گھر میں داخل ہوئے تھے کہ انہیں اپنے خاموش گھر میں جیسے زندگی مسکراتی نظر آئی ان کی چڑیا ان کے حور ہنستی مسکراتی زندگی سے بھرپور گھر کی رونق ان کی اکلوتی لاڈلی بیٹی سامنے بیٹھی تھی وہ ہنستے ہوئے آگے بڑھے اور بس حور نے باپ کی آہٹ کو محسوس کرتے پلٹ کے دیکھا اور صوفے سے اٹھ چلتی ہوئی ان کے سینے سے جا کے لگ گئی۔۔
بابااااااااا۔۔۔۔۔ اس نے خوشی سے بابا کو لمبا کی کھینچا ۔۔
ارتضیٰ حور کو خاموشی سے سینے لگائے کھڑے رہے پھر اس کو سامنے کر کے ماتھے پہ بوسہ دیا۔۔
میری چڑیا آگئی وہ اسے بچپن سے پیار سے چڑیا پکارتے تھے اور کہتے تھے ایک دن دیکھنا یہ اڑ جائے گی اور ہمیشہ کے لیے اور ہمارا آشیانہ سونا کرکے کسی اور کے آشیانے پر جاکے ہمیشہ کے لیے اپنا گھر بسالے گی وہ محبت سے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔
جی بابا جانی میں آگئی آپ کیسے ہیں ؟؟
میں بالکل ٹھیک میری چڑیا ۔۔وہ مسکراتے ہوئے دیکھ کے بولے ۔۔
بابا جانی آپ کو پتہ میری ہاؤس جاب کمپلیٹ ہوگئی آپ کی بیٹی ڈاکٹر بن گئی۔حور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے چومتے ہوئے بولی ۔۔
ارے بھئی واہ سچ بتایا کیوں نہیں فون پے میں خود آ جاتا لینے ۔۔
آپ آ جاتے تو میں آپ دونوں کی یہ خوشی مس نہیں کردیتی۔۔وہ دونوں کو دیکھتے ہوئے بولی اور پھر سے ارتضیٰ کے سینے پر سر رکھ دیا ۔۔
بابا آپ دادو کو کچھ نہیں بتائیں گے اوکے میں انہیں بھی سرپرائز دوں گی۔وہ فورا سر سینے سے اٹھاتی بولی ہم کل گاؤں جائیں گے دادو کے پاس ٹھیک ہے اور وہاں کچھ دن میں ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں مجھے دادو کی بہت یاد آرہی تھی وہ ماں باپ کے ساتھ اپنے دادا اور دادی کی بھی لاڈلی تھی خاندان کی اکلوتی پوتی نازوں پلی تھی ۔۔وہ ماں باپ کی جان تھی تو دادا کی دل کی دھڑکن تھی ۔۔ڈاکٹر بننا بھی اس کی سب سے بڑی خواہش تھی جس کی وجہ سے وہ ضد منوا کے سب سے دوراسی ملک میں دوسرے شہر پڑھنے گئی تھی پانچ سال سب سے دور رہ کے اب وہ ایک اچھی ڈاکٹر بن کے آئی تھی جس کی وجہ سے اس کے پیارے دادا اسے ناراض بھی تھے
کہ وہ ان سب کو چھوڑ کے دور چلی گئی ۔۔وہ اس سے ملتے بھی تھے لیکن ناراضگی دکھاتے رہتے تھے ۔۔
سعدیہ بیگم ذرا ارتضیٰ کو فون کریں پتہ کریں حور ٹھیک ہے خیریت سے ہے پانچ سال ہوگئے۔عجیب پڑھائی ہے ختم ہی نہیں ہوکے دے رہی میری بچی کی ساری خوبصورتی کھا گئی۔۔ وہ کرسی پہ بیٹھے آگے پیچھے جھولتے ہاتھ میں کتاب لیے ہوئے تھے
سعدیہ بیگم ہنسی جب آپ کو حور کی اتنی ہی یاد آ رہی ہے تو خود کیوں نہیں فون کرکے اس سے بات کر لیتے۔ ابھی آپ کو اس سے مل کے آئے مہینہ بھی نہیں ہوا اور پھر یاد آگئی اس کی جانتے تو ہیں ڈاکٹر بننا آسان نہیں ۔۔
سعدیہ بیگم کیا پورا خاندان جانتا تھا دادا کی پوتی کے لئے اور پوتی کی دادا کیلئے بے حد محبت کو ۔۔
پتا نہیں میرا خواب پورا کب ہو گا میری بچی کب میرے پاس ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آجائے گئی ۔۔۔ وہ آنکھیں بند کرکے کرسی سے پیچھے سرٹکاتے ہوئے سوچ رہے تھے ۔۔۔
سعدیہ بیگم نے انہیں ایسے خاموش دیکھا تو بولی کیا پھر سے حور کے خیالوں میں کھو گئے ؟؟ اور ہنسی وہ اکثر اپنے شوہر کو پوتی کے حوالے سے چھڑتی رہتی تھی ۔..
اڑا لو آپ بھی میرا مذاق ایک وہ ہے جسے ذرا خیال نہیں میرا آرام سے اپنی پڑھائی کمپلیٹ کر رہی ہے۔اور ایک میں ہوں جو اس کی محبت میں گھلتاہی جا رہا ہوں کہیں زندگی ختم ہی نہ ہو جائےاسکا انتظار کرتے کرتے۔۔
اللہ نا کرے کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ۔۔سعدیہ بیگم فورا توبہ توبہ کرتی بولی۔۔جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو انہیں خود سے باندھ کے نہیں رکھ سکتے وہ بھی اڑنا چاہتے ہیں زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔جب اجازت دے ہی دی ہے تو اب انتظار کریں وہ یہی آئے گی آپ کے پاس جائے گی کہا۔۔
تم ٹھیک کہتی ہو
_____________
داؤد ابراہیم گاؤں کے سردار تھے دولت عزت اللہ نے بہت کچھ دیا تھا پورا گاؤں ان کی بہت عزت کیا کرتا تھا وہ ایک پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔۔
داؤد ابراہیم اور سعدیہ ابراہیم کے دو بیٹے تھے مدثر ابراہیم اور ارتضیٰ ابراہیم دونوں بھائیوں میں دو سال کا فرق تھا دونوں کی شادی انہوں نے اپنے بھائی کی بیٹیوں سے کی تھی کچھ ہی سال پہلے ان کے بھائی اور بیوی کا انتقال ہوا تھا ان کا ایک بیٹا بھی تھا جو والدین کے گزرنے کے بعد بہنوں کا واحد سہارا تھا عنان دونوں بہنوں سے بڑا تھا اور شادی شدہ تھا ۔۔
ماں باپ کے گزرنے کے بعد بہنوں کی شادی کی ذمہ داری بھی باخوبی پوری کی تھی ۔
یاسمین جو عنان سے چھوٹی تھی۔بڑے بیٹے مدثر کی بیوی تھی۔مدثر کے دو بیٹے تھے ایک شاہزیب ابراہیم جو بڑا تھااور حال ہی میں باہر سے ڈگری لیکر لوٹا تھا اور دوسرا شاہ میر جو انٹر کا اسٹوڈنٹ تھاجو شہر میں ہی رہتا تھا اور وہی پڑتا تھا ۔
عظمیٰ جو عنان اور یاسمین سے چھوٹی تھیں ۔چھوٹے بیٹے ارتضیٰ کی بیوی تھیں ۔۔ارتضیٰ کی شادی مدثر کی شادی کے چار سال بعد ہوئی تھی ان کی اپنی پڑھائی مکمل ہونے کے بعد اس لئے حورین آخری اور اکلوتی سرطان تھی جو شاہزیب سے پانچ سال چھوٹی تھی۔
داؤد نے شاہزیب کے پیدا ہونے پر اپنی سرداری مدثر کو دے دی تھی ان کے خاندان کی روایت برسوں سے چلی آ رہی تھی کہ جب بڑے بیٹے کی شادی کر دی جائے اور اس کے یہاں جب پہلی اولاد ہو تو اسے باپ اپنی سرداری دے دیتا ہے۔۔اس لیے آنے والے وقت میں اس سرداری کا حقدارشاہ زیب ابراہیم تھا۔۔
_______________
ڈاکٹر جب روم سے باہر آئیں تو اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت سی بچی کپڑے میں لپٹی ہوئی تھی۔
مبارک ہو مسٹر ارتضیٰ آپ کی بیٹی ہوئی ہے۔۔
ڈاکٹر کے منہ سے بیٹی کا سن کے ارتضیٰ وہی رب کے سجدے حضور میں جھک گئے۔انہیں بیٹی کی چاہ تھی اور اللہ نے ان کی سنی تھی رات میں عظمیٰ کی طبیعت خراب ہونے پر وہ انہیں آدھی رات کو بھاگے بھاگے شہر لائے تھے۔۔
ڈاکٹر میری وائف ؟؟
بالکل ٹھیک ہے وہ ماں اور بچی دونوں ٹھیک ہیں۔۔ڈاکٹر بولی ۔۔
اور سعدیہ بیگم نے آگے بڑھ کے ڈاکٹر کی گود سے بچی کو لیا۔۔
داؤد ابراہیم نے خوشی سے بیٹے کو گلے لگایا انہیں بیٹی کی بہت خواہش تھی مگر اللہ نے بیٹے دیے تھے
مگر آج وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے بیٹے کے یہاں بیٹی کا سن۔۔۔
بس بھی کریں مجھے بھی اپنے بیٹے سے ملنے دیں داؤد پیچھے ہوئے اور سعدیہ بیگم کی گود سے بچی کولیا اور اس کا ماتھا چومنا ۔۔
سعدیہ بیگم نے بیٹے کو گلے لگایا۔۔ بہت مبارک ہو ارتضیٰ آج تم ایک بیٹی کے باپ بن گئے وہ مسکرائے ۔۔
اور پھر سب نے انہیں باری باری مبارک باد دی ۔۔
سب سے مل کے ارتضیٰ نے پھر بچی کو آہستہ سے باپ کی گود سے لیا۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *