Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35

وہ اس کے قریب آتا اس کے حسین چاند سے مکھڑے کو محبت سے دیکھنے لگا جو اس حال میں بھی اسکی جان اس کی روح کو کھینچنے کی طاقت طاقت رکھتی تھی۔۔وہ آہستہ سے جھکتا اس کی صاف ٹھنڈی پیشانی پر اپنے جلتے لب رکھتا اپنی ساری دکھ درد تکلیفوں سے آزاد ہونے لگا۔۔ایک آنسو آنکھ کے کنارے سے ٹوٹ کر اس کے چہرے پر گرا۔۔اذہاد کو اپنا بھاری وجود ایک دم ہلکا پھولکا لگا جیسے کسی نے اس کے اندر کی بھڑکتی آگ کو بجھا کر ہر طرف سکون کی شمائیں روشن کر دی ہو۔۔۔
کتنی ہی دیر وہ اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھے حور کے زندہ ہونے کا احساس خود کو دلاتا رہا۔۔پھر آہستہ سے اپنے لبوں کو ہٹا کر وہ اب اس کی ناک پر اپنی ناک ٹیکاے اس کی بند پلکوں کو دیکھتا رہا۔۔جن آنکھوں میں ہمیشہ وہ اپنا عکس دیکھتا تھا وہ آنکھیں آج بند تھی۔دل پر جیسے ایک گھونسا سا لگا۔۔
اذہاد کے آنسو اس کی بند پلکوں پر برسات کرنے لگے۔۔
اس نے ایک کرسی کھینچ کر بیڈ کے قریب کی اور اس پے بیٹھتے حور کا سیدھا ہاتھ تھاما جس میں اذہاد کی محبت کی نشانی سجی تھی وہ ہاتھ اس نے اپنے دھڑکتے دل پے رکھا اور اس کے تکیے پے سر رکھتا بیٹھ گیا۔۔ اذہاد نے اپنا چہرا حور کے کندھے میں چھپا لیا۔۔
حور میں جانتا ہوں تم میرے دل کی دھڑکنوں کو محسوس کر سکتی ہو۔۔تمہاری چلتی سانسیں دھڑکتا دل اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ تم میرے ساتھ ہو۔۔اذہاد کے آنسوں سے حور کا کندھا بھیگنے لگا۔۔
تم تو میری ہمت میری طاقت میرا حوصلہ تھیں حور۔۔مگر اب ایسا لگتا ہے تمہاری اس بے رخی سے میں کمزور پڑنے لگا ہوں میں ہارنے لگا ہوں پلیز حور ایسا مت کرو واپس آجاؤ۔۔۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیا کرو کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔۔میں تمھیں ڈھونڈ نے کے لیے یادوں کی کھلی راہوں پر خشک پتوں کی طرح روز بکھر تا ہوں۔۔حور مجھے تمہارے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا میری سوچوں کی تمام حدیں تم پر آکے ختم ہوجاتی ہیں میں کیا کروں حور میرا مجھ پر کوئی بس نہیں چلتا ان پے تو تمہاری حکمرانی ہے تم ہی آکے انہیں سمجھا دو۔۔مجھے بتاؤ میں کیا کروں حور؟؟ وہ آنکھیں بند کیے ٹوٹ کے رو دیا۔۔۔
اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے نرم ملائم انگلیوں سے اس کے چہرے کو چھوا ہے۔۔۔اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولی پھر نظروں کو پھیر کے اس ہاتھ کو دیکھا جو محبت سے اس کے چہرے پر سرائیت کر رہا تھا وہ حیران ہوتاجھٹکے سے گردن اٹھا کر سامنے دیکھنے لگا۔۔اس کا دل زور سے دھڑکا۔۔ان نے پلکوں کو جھپک کر اپنے وہم کو دور کرنا چاہا۔۔مگر وہ اسے دیکھ کر مزید حیران ہوا۔۔اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھوں کو رگڑ کر یقین کرنا چاہا تبھی اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے بڑھا کر اس کے ہاتھوں کو تھام لیا۔۔وہ حیران آنکھوں کو کھول کے اسے دیکھے ہی جا رہا تھا۔۔
ہادی۔۔۔بیحد محبت سے پکارا گیا۔۔۔
حو۔۔۔۔حو۔۔۔۔ر۔۔۔لفظ ٹوٹ ٹوٹ کے ادا ہوے۔۔نم ہوتی آنکھیں حیران اسے دیکھ رہی تھی۔۔وہ بیحد حسین چودھویں کے چاند کی طرح روشن لگ رہی تھی۔۔
اذہاد بے اختیار آگے بڑھتا زور سے اس کے سینے سے لگتا رونے لگا۔۔۔حور تم آگئی۔۔میں اب تمھیں کہیں نہیں جانے دونگا۔۔وہ مضبوط بازوں کا حصار اس کے ارد گرد باندھے سسکتے ہوے بولا۔۔
حور نے بھی آہستہ سے اسکے کاندھے کے گرد اپنے نازک بازوں کا حصار باندھے خود کے قریب کیا وہ اس کے کاندھے پر اپنے ہونٹ رکھے رو رہی تھی۔۔
❣❣وہ شخص مجھے پیارا ہے اسے کہنا
مرے جینے کا سہارا ہے اسے کہنا❣❣
❣❣لوگ بہت سے پیارے ہیں مجھکو
مگر وہ سب سے پیارا ہے اسے کہنا❣❣
❣❣محبتیں شکایتیں عداوتیں اسکی
مجھے سب گوارا ہے اسے کہنا❣❣
❣❣چاہنے والے اور بھی ہیں لیکن
مجھے صرف انتظار تمہارا ہے اسے کہنا❣❣
❣❣ڈوب نہ جاؤں تیری چاہت کے سمندر میں
وہی ہے ہمارا کنارہ اسے کہنا❣❣
❣❣زندگی کر دی اس کے نام پہ
وہ کر کے دیکھے اشارہ اسے کہنا❣❣
دونوں کتنی ہی دیر ایک دوسرے کے سینے سے لگے اپنے سارے غم بھولانے لگے۔۔
ہادی تم کمزور نہیں ہو تم تو میرے جلاد تھے نا۔۔وہ اسے کاندھے سے تھام کر سامنے اس کا چہرا کرتی مسکرا کر بولی۔۔وہ اپنے دونوں ہاتھ اس کے چہرے کے اطراف میں رکھتی انگوٹھوں کی مدد سے اس کے آنسوں کو صاف کرتی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔رو کیوں رہے ہو؟؟تمھیں پتا ہے نا میں تمھیں روتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔۔مجھے تکلیف ہوتی ہے جب تم روتے ہو اداس ہوتے ہو پریشان ہوتے ہو اپنا خیال نہیں رکھتے ہو تب تب میں بھی تڑپتی ہوں۔۔
نہیں میں تو نہیں رو رہا میں اداس بھی نہیں ہوں دیکھو۔۔وہ بچوں کی طرح آنکھیں صاف کرتا اداس مسکراہٹ کے ساتھ اس کے ہاتھوں کو تھامتا ہوا بولا۔۔
تم میرے پاس رہو گی میرے ساتھ رہو گی پھر میں کیوں اداس ہونگا کیوں رونگا۔۔تم اب مجھے چھوڑ کر تو کہیں نہیں جاؤ گی نا۔۔۔
وہ خاموش اس کی اداس آنکھوں میں دیکھتی رہی۔۔
ہادی میں تمہارے پاس ہی ہوں تمہارے ساتھ کبھی تمہارا دل بن کر دھڑکتی ہوئی کبھی تمہاری چلتی سانسوں میں۔۔کبھی غور کیا تم نے ؟؟
ارے ہاں یہ تو میںنے سوچا ہی نہیں۔۔وہ پلکوں کو جھپکتا معصومیت سے اسے دیکھ کے سوچنے لگا۔۔اور حور اس کی معصوم ادا کو دیکھ کے مسکرائی۔۔اور آہستہ سے آگے بڑھ کر اس کے ماتھے کو اپنے لبوں سے چومتی وہی اپنا گال اس کے ماتھے سے ٹکٹاتی آنکھیں موند لی۔۔اذہاد بھی اس خوبصورت پل کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتا آنکھیں موند گیا۔۔ہادی بابا اکیلے ہو گئے ہیں۔۔سب ان سے ناراض ہیں کوئی ان سے بات نہیں کر رہا وہ اس وقت ٹوٹ گئے ہیں۔۔پلیز انہیں سمبھال لو۔۔ایک تم ہی تو ہو اب جو میری تکلیف کو کم کرنے میں میری مدد کر سکتے ہو۔۔ذرا سوچو تمہارے پاس میں ہوں بابا کے پاس تو کوئی بھی نہیں۔۔وہ مجھ سے ناراض ہیں۔۔تمھیں انہیں منانا ہے ہادی۔۔۔وہ اب ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔اذہاد نے اسے سامنے کرتے اس کے آنسو پونچھے اور اس کا سر اپنے سینے لگایا۔۔
آنکھیں اس کی بھی نم تھی وہ اپنی انگلیاں۔اس کے بالوں میں چلاتا اسے چاہت سے چپ کروا رہا تھا۔۔
میں سب ٹھیک کر دونگا حور۔۔پلیز خود کو تکلیف مت دو۔۔میں وعدہ کرتا ہوں میں بابا کو منا لونگا وہ تم سے کبھی ناراض نہیں ہو سکتے وہ تمھیں بہت پیار کرتے ہیں۔۔حور بس تم میرے ساتھ رہنا مجھے کبھی چھوڑ کے مت جانا۔۔
میں تمہارے ساتھ ہی ہوں ہادی ہر پل ہر لمحہ۔۔۔۔میں بھلے نظروں سے دور ہوں مگر تمہاری روح کے قریب ہوں۔۔تم جب بھی مسکراؤ گے مجھے اپنے آس پاس محسوس کرو گے۔۔۔وہ اس کے سینے سے سر اٹھاتی محبت کے جگنو اس کی پلکوں میں سجاتی بولی۔۔۔
اذہاد کئی دنوں کے رونے کے بعد آج دل سے مسکرایا تھا۔۔اور تبھی حور بھی اس کے لبوں کی مسکراہٹ کو دیکھ کر مسکرا دی۔۔
اور تبھی اذہاد کی آنکھ دور مسجدوں میں گونجتی اذانوں کی آواز سے کھلی۔۔اس نے سر اٹھا کے حیران نظروں سے سامنے لیٹے وجود کو دیکھا۔۔اس کا کاندھا اذہاد کے آنسوں سے بھیگ چکا تھا۔۔یعنی وہ ایک خواب تھا۔۔حور میرے ساتھ ہے وہ مجھے چھوڑ کر نہیں گئی وہ مجھے چھوڑ کر کبھی جا ہی نہیں سکتی۔۔وہ خواب کے ساتھ حقیقت میں بھی روتا رہا تھا اس کا چہرا آنسوں سے بھیگا ہوا تھا۔۔وہ ہنستا ہوا اٹھا اور اس کے معصوم سے چہرے کے نقش کو چومنے لگا۔۔۔۔۔
میں اب کبھی نہیں رونگا حور۔۔تم بسس یوں ہی میرے ساتھ رہنا ہمیشہ۔۔میں سب ٹھیک کر دونگا۔۔۔میں تمہارا آخری سانس تک انتظار کروں گا حور ۔۔۔بس ان سانسوں کی ڈور ٹوٹنے سے پہلے ہی تم لوٹ آنا۔۔
مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔
جب تم مجھے اپنا خیال رکھنے کی تاکید کرتی ہو۔۔
مجھے کسی ننھے بچے کی طرف سمجھاتی ہو۔۔
بہت اچھا لگتا ہے۔
جب تم مجھ پے اپنا حق جتاتی ہو۔
اور مجھ سے کہتی ہو کہ تم میرے ہو۔
بہت اچھا لگتا ہے۔۔
میں جب ضد کرتا ہوں۔ یا روٹھ جاتا ہوں۔
مجھے تم اپنی محبت سے مناتی ہوں۔۔
مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔۔
جب میں روتا ہوں۔۔
میرے اشکوں کو تم اپنی پلکوں سے چنتی ہو۔۔
بہت اچھا لگتا ہے۔۔
تم سے تمہاری محبت کا اقرار سننا۔
جسے میں اپنا حق سمجھتا ہوں۔
مجھے بہت اچھا لگتا ہے
تم سے بے انتہا محبت کرنا۔۔
کیوں کہ میری زندگی کا واحد حاصل صرف تم ہو۔۔
مجھے اب اجازت دو حور میں پھر آؤنگا۔۔اس کے ماتھے کو چومتا ہوا وہ پیچھے ہٹا اور دروازے سے باہر جاتے پلٹ کر ایک آخری نگاہ مسکرا کر اس کے وجود پر ڈالتا آگے بڑھ گیا۔۔۔
__________________
وہ سجدے میں سر جھکاے بلک رہا تھا رو رہا تھا۔۔۔اے میرے اللہ‎ تو سب جانتا ہے۔مجھے بھی میری کمزوری بھی۔میری کمزور ذات تجھ سے شرمندہ ہے۔میرے رب میری مدد کر۔تو ہی اول ہے تو ہی آخر تو رحمٰن ہے تجھے تیری رحمت کا واسطہ میری مدد کر۔۔میری حور کو ٹھیک کر دے۔۔میں تجھ سے حور کی زندگی کی بھیک مانگتا ہوں۔۔آنکھوں سے آنسوں ٹوٹ ٹوٹ کے گر رہے تھے وہ سجدے میں سر جھکاے اپنے رب کے سامنے گڑ گڑا رہا تھا۔۔اس کی زندگی کے واپس لوٹ آنے کے فریاد کر رہا تھا۔۔جب انسان ٹوٹ کر چکنا چور ہوجاتا تو خالی ہاتھوں میں اپنی کرچیاں سمیٹ رب کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتا ہے اور وہ پاک پروردگار اسے ایسے سمیٹ لیتا ہے جیسے انسان ٹوٹا ہی نہیں تھا۔۔وہ حور کے پاس سے سیدھا اپنے راب کی بارگاہ میں حاضر ہوا تھا۔کیوں کہ ایک وہی تو تھا جو سب جانتا ہے کہ آپ کن وقتوں سے گزر رہے ہیں۔اور اس رب سے بڑی تسلی کوئی نہیں۔جب انسان مشکلوں پریشانیوں دکھوں اور تکلیفوں میں گِھر کر ہر کسی سے ناامید بے بس اور تنہا ہو جاتا ہے پھر اسے ایک ہی روشنی دکھائی دیتی ہے ایک ہی راستہ نظر آتا ہے تب وہ اپنے رب کے حضور سجدے میں گرتا اس سے فریاد کرتا ہی جو اس کے سارے حال سے واقف ہوتا ہے۔۔اور پھر وہی تو ہوتا ہے جب کوئی نہیں ہوتا۔۔جو تنہا نہیں چھوڑتا۔۔جو گرنے نہیں دیتا۔۔۔جو رحیم ہے کریم ہے۔۔
وہ آہستہ سے اٹھتا کھڑا ہوا۔۔اذہاد کو اپنے اندر سکون اترتا محسوس ہوا تھا وہ اپنی اس کیفیت سے باہر آرہا تھا جو کچھ دنوں سے اس پر قیامت کی صورت گزر رہی تھی ایک عجیب سا قرار تھا جو رب کے آگے جھکنے کے بعد اسے مل رہا تھا۔۔۔۔وہ اپنے رب کا شکر گزار تھا کے اس کی حور اس کے ساتھ تھی۔اس اندھیری سیاہ رات میں ایک جگنو کی طرح جس نے اجالا کر کے اسے راہ دکھائی تھی۔۔اس سے بڑھ کر اسے اور کیا میسر تھا۔۔۔
وہ خوشی سے وہاں سے باہر آتا کئی نئی سوچوں حوصلوں۔اور ہمت کے ساتھ آگے کی پلاننگ کرتا اور اس کو عمل دینے سے پہلے وہ داؤد کو اعتماد میں لینے کے لیے آگے منزل کی طرف قدم اٹھاتا آگے بڑھنے لگا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کچھ دیر خاموش نظروں سے چپ چاپ بیٹھ کر اسے دیکھتے اور۔ پھر یوں ہی خاموشی سے اس کے پاس سے اٹھتے اس کے سر پے پیار کرتے چلے جاتے۔۔۔
کوئی ان سے بات نہیں کرتا تھا۔۔عظمیٰ داؤد نے ان سے بات چیت بند کی ہوئی تھی۔۔عظمیٰ سارے کام ان کے اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں مگر جب بھی وہ ان سے کچھ بھی کہنے کی کوشش کرتے وہ اپنے قدموں کا رخ انکی طرف سے موڑتی وہاں سے دور چلی جاتی۔۔وہ اس وقت بلکل اکیلے رہ گئے تھے کوئی انہیں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا تھا کوئی بات نہیں کرتا تھا۔۔
ان کے جانے کے بعد عظمیٰ حور کے پاس ہوتی تھیں وہ اس کا خیال رکھتی اس کے بال سنوارتی اسے چینج کرواتی۔۔اور پھر ڈھیر سارا وقت اس کے ساتھ گزارنے اس سے باتیں کرنے کے بعد واپس چلی جاتی۔۔
..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد اسے حیران نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔اچانک سے سورج یہ کس رخ سے نکلا تھا وہ تو سمجھ ہی نہیں پا رہے تھے۔۔۔کھلا کھلا سا چہرا ہنستا مسکراتا۔۔۔۔
آپ مجھے ایسے حیران نظروں سے کیوں دیکھ رہے ہیں دادو میں نے کیا کچھ غلط کہہ دیا؟؟وہ معصومیت سے انہیں دیکھتا۔۔ایک ہاتھ سے کافی ‏پھینٹتا بولا۔۔۔
نہیں تو۔۔۔وہ اپنی حیرت پر کابو پاتے اسے دیکھ کے بولے۔۔
تو بس ٹھیک ہے جیسا میں کہہ رہا ہوں آپ سے آپ بالکل ویسا کریں۔۔سب سے پہلے مجھے ہاسپیٹل کے سامنے کوئی فلیٹ ارینج کرکے دیں۔۔اس کے بعد میرے کچھ پیپرز ہیں وہ مجھے بنوا کے دیں۔۔یہاں کے راستے اور رہی بات یہاں کی زبان سمجھنے کی تو اس کی ہیلپ شاہزیب کر دے گا میری۔۔کیوں شاہزیب؟؟؟وہ کافی کے کپ سامنے ٹیبل پر رکھتا ایک آئی برو اٹھاکر شاہزیب کی طرف دیکھتا بھاری آواز میں بولا۔۔یہ مدد مجھے تمہاری بس کچھ وقت کے لئے چاہیے اس کے بعد میں یہاں پر خود سیٹ ہو جاؤں گا مجھے زیادہ دیر تک کے لیے تمھیں اپنے ساتھ نہیں چپکانا۔۔وہ منہ ٹیڑھا کرتا بولا۔۔
شاہزیب تو پہلی بار اسے خود سے مخاطب ہوتا دیکھ کر منہ کھولے سن رہا تھا۔۔۔۔ہا۔۔ں۔۔ہاں ضرور اذہاد کیوں نہیں۔۔وہ ٹوٹے الفاظوں میں پلکوں کو جھپکتا بولا۔۔
اذہاد نے اس کے بعد کوئی بات نہیں کی اور خاموشی سے کافی ختم کرتا اٹھ گیا۔۔۔
وہ پہلے والا اذہاد عریض بن چکا تھا بے خوف نڈر چالاک ہوشیار۔۔اب اسے کسی بات کا کوئی غم کوئی دکھ نہیں تھا۔۔کیونکہ اب اس کی حور اس کے ساتھ تھی۔۔وہ دور ہو کے بھی اس کے نزدیک تھی۔۔۔اسے پورا یقین تھا۔۔کہ یہ اس کی اور حور کی آزمائش ہے جب اللہ‎ کسی سے محبت کرتا ہے تو اسے آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ اس کی عاجزی سن سکے۔۔اور بہت جلد وہ دونوں اس آزمائش پر پورے اترے گے۔۔اس کی حور واپس اس کے پاس آجاے گی سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔منزلیں چاہے کتنی اونچی ہوں۔راستے ہمیشہ پیروں کے نیچے ہوتے ہیں۔۔۔۔
اس کے حوصلے بلند تھے۔۔اس نے ہارنا نہیں سیکھا تھا۔
خوش قسمتی یہ نہیں ہوتی کہ آپ کی زندگی میں کوئی دکھ نہ آئے ایسا تو ممکن ہی نہیں کہ دکھ زندگی میں ہوں ہی نہ بلکہ خوش قسمتی تو یہ ہوتی ہے کہ جب بھی کوئی دکھ ملے تو ایک کندھا ہو جس کے اوپر ہم سر رکھ کر رو سکیں کوئی پیارا ہو جس کے سامنے ہم اپنی دل کی تمام باتیں آرام سے کہہ سکیں کوئی ایسا رشتہ ہو جو ہمارے ساتھ خود بھی آنسوبہاتے ہمیں سینے سے لگائے۔۔۔اور وہ یقینا خوش قسمت ترین تھا جس کی محبت ہر قدم پر اس کے ساتھ تھی اس کا حوصلہ اس کی ہمت بلند کرنے کے لیئے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت کا کام تھا گزرنا۔جو کسی کے لیے نہیں روکتا۔۔کسی کے لیے کٹتا نہیں کسی کے پاس ہوتا نہیں۔وقت کے پاس زخم بھی ہے مرہم بھی۔۔اچھے وقت کو حاصل کرنے کے لیے اپنے برے وقت سے لڑنا پڑتا ہی ہے۔۔۔
جس طرح ارتضیٰ اپنے آپ سے اپنے اس برے وقت سے لڑ رہے تھے۔۔۔سب پاس ہو کر بھی جیسے کھو سا گیا تھا۔۔۔
وہ تھکے قدموں سے دروازہ کھول کر اندر کی طرف بڑھ رہے تھے۔۔آفس کا ہر بندہ انہیں دکھ۔افسوس اور حیران نظروں سے ان کی شکستہ چال کو دیکھ رہا تھا وہ ٹوٹ چکے تھے۔۔۔
جنید آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر آیا۔۔سر آپ ٹھیک ہیں۔۔؟؟
وہ جو سر ہاتھوں پر گراے ماضی کی یادوں میں کھوے ہوے تھے۔۔جنید کی آواز پر سر اٹھاتے حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔۔۔ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔ان کی آواز میں صدیوں کی تھکن صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔۔وہ آج کئی دنوں بعد آفس آے تھے۔۔۔۔
سر کچھ ٹائم پہلے یہاں ایک نیو اپوئنٹمنٹ ہوئی ہے۔۔
میں ان سے کہہ کر آپ کو آفس کی ساری پروگریس بھجواتا ہوں۔۔
انہوں نے گردن اسباط میں ہلا کر اسے اجازت دی۔
کیا میں اندر آسکتا ہوں سر۔۔وہ دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تھا جب آفس کے پر سکون ماحول میں اس کی بھاری اجازت بھری آواز گونجی۔۔ارتضیٰ ابراہیم جو میز کی دوسری طرف بیٹھے کسی فائل کا مطالعہ کر رہے تھے۔۔کسی کی بھاری اجازت بھری آواز پر سر اٹھا کر آنے والی شخصیت کو دیکھا۔۔۔
وہ لمبا چوڑا شہزادوں جیسی شخصیت کا مالک کہیں سے بھی ان کے آفس میں ملازمت کے لائق نا لگا۔۔وہ حیران نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔کچھ دیر اسے حیران نظروں سے دیکھنے کے بعد انہوں نے اپنی حیرت پر قابو پایا اور اسے نظروں سے اندر آنے کی اجازت دیتے ہوئے سامنے کرسی پر بیٹھنے کی دعوت دی۔۔وہ آہستہ سے مضبوط قدم اٹھاتا اجازت ملنے پر اندر آیا اور سامنے رکھی دو کرسیوں میں سے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔۔
وہ خاموشی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔جو ایک انتہائی باروعب۔شاندار اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔مگر حالات کی بحرحمی کی وجہ سے ان کی شخصیت مرجھا سی گئی تھی۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کی سحر انگیز شخصیت میں جکڑے ایک دوسرے کا موازنہ کر رہے تھے۔۔
اس نے آہستہ سے ایک فائل میز پر رکھتے ان کے سامنے آگے کھسکائی۔۔۔
ارتضیٰ نے گردن ہلا کر فائل اپنی طرف کرتے اس پر ہاتھ جماتے پوری توجہ اذہاد کے اوپر دی۔۔
تو آپ یہاں نیواپوائنٹ ہوئے ہیں؟؟
یس سر۔۔۔وہ بالکل ریلیکس ہو کر ان کے سامنے بیٹھا تھا۔۔ان کی خود کو جانچتی پروفیشنل نظروں کو خود پر محسوس کرتا وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
__________________
وہ یہاں کا لگتا نہیں تھا وہ تو کسی اور ہی جہاں کا باسی لگتا تھا۔۔بیحد شاندار پرسنیلٹی کا مالک اس کے بولنے بیٹھنے ہتا کے دیکھنے تک کا انداز اسے سب سے منفرد اور دیکھنے والوں کے لیے کئی سوچوں کی راہ کھولتا تھا۔۔اس کی شخصیت اگنور کرنے والی تھی ہی نہیں مگر اس کی حدودیں بھی تھی جو سامنے والے کو اس کی کھوج لگانے سے دور رکھتی تھی۔۔
تو کیا نام ہے آپکا۔۔انہوں نےشاستگی سے پروفیشنل لہجے اپناتے ہوئے اس سے سوال کیا۔۔
میرا نام ہادی زیاد ہے۔۔بہت کم وقت ہوا ہے آپ کی کمپنی کو جوائن کر کے۔۔وہ سنجیدگی سے انہیں دیکھتا ہوا بولا۔۔
انہوں نے سر ہلا کے اس کے خوصورت برٹش اکسنٹ میں دیے گئے جواب کو دل میں سرایا۔۔۔
آپ یہاں کے نہیں لگتے جینٹلمین؟؟میں آپ کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔۔انہوں نے دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوے کہا۔۔
وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔جس سے اس کے گال کے ایک طرف ہلکا سا گڈھا نمودار ہوا۔۔آپ نے سہی اندازہ لگایا ہے سر میں حال ہی میں لندن سے پاکستان شفٹ ہوا ہوں۔۔میرے پیرنٹس کی میرے بچپن میں ہی ڈیتھ ہو چکی مجھے میرے نانا نے پالا تھا کچھ وقت پہلے وہ بھی مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔۔یہاں میرے ایک دور کے ریلیٹو رهتے تھے جنہوں نے مجھے اپنے پاس بلا لیا اور میں پاکستان آگیا۔۔انہی کی مدد سے مجھے آپ کی کمپنی میں جاب ملی۔۔وہ اعتماد سے ان کے دماغ میں اٹھتے ہر سوال کا جواب دے رہا تھا۔۔
ویل مسٹر ہادی زیاد لندن جیسی جگہ جہاں کے لوگ خواب دیکھتے ہیں ایک ترقی یافتہ شہر جہاں آپ پیدا ہوے پلے بڑھے جہاں اپنے اپنی پوری زندگی گزاری۔۔اتنی آرام سے سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آجانا؟؟میرا مطلب ہے پاکستان اور لندن میں بہت فرق ہے۔۔وہاں رہنے والوں کے لیے یہاں ایڈجسٹ ہونا بہت مشکل ہے۔۔پر تجسس سے اسے دیکھتے ہوے وہ سوال کر رہے تھے۔۔
سہی کہا اپنے سر لندن اور پاکستان میں بہت فرق ہے جہاں اپنے اپنی پوری زندگی گزاری ہو۔۔جس جگہ آپ کی جڑیں اس زمین سے جڑی ہوں مگر کیا فائدہ ایسی جڑوں کا جو کھوکھلی ہو چکی ہوں جہاں برسوں رهتے ہوے بھی کوئی اپنا نا ہو گرینڈ پا کے جانے کے بعد تو جیسے میں بلکل ہی تنہا رہ گیا تھا۔۔میں وہاں جاب کرتا تھا مگر پھر میں نے سوچا اس طرح تنہا زندگی گزارنے سے اچھا ہے کسی اپنے کے پاس چلے جانا وہاں تنہا رهتے اور مشینی زندگی گزارنے سے کئی بہتر ہے آپنوں کے ساتھ جوڑ کر رہنا۔جن کا کوئی نہیں ہوتا سر ان سے رشتوں کی آپنو کی اہمیت پوچھیں۔۔پیسہ دولت عیش و عشرت یہ سب کچھ اہم نہیں ہوتا بلکے خلوص رشتے اور احساس اہم ہوتے ہیں تنہائی اور اکیلا پن عذاب سے کم نہیں۔۔۔وہ کب ایک پروفیشنل ٹوپک سے ہٹ کر ایک حساس ٹوپک پر گفتگو کرنے لگا اسے احساس ہی نا ہوا لیکن جب اس نے ارتضیٰ کے چہرے پر تکلیف کے آثار دیکھے تو اسے خاموش ہونا پڑا….میں معذرت چاہتا ہوں سر آگر جانے انجانے میری وجہ سے آپ کا دل دکھا ہو تو۔۔وہ شرمندہ ہوتا انہیں دیکھ کے بولا۔۔
وہ زبردستی مسکراتے ہوے بولے ۔۔نہیں ایسی بات نہیں ہے بس یوں ہی کبھی کسی کی کہی کوئی بات سامنے والے پر گہرا آثار چھوڑ جاتی ہے۔۔تم ایک قابل اور ٹیلینٹڈ لڑکے ہو ہادی مجھے خوشی ہوگی تم ہمارے فرم کے لیے ہمارے ساتھ مل کر کام کرو گے۔۔تمہارا عتماد متاثر کن ہے۔۔وہ مسکراتے ہوے دل سے اس کی تعریف کرتے ہوے بولے۔۔
وہ بھی دل سے خوش تھا یہ کامیابی کی طرف آگے بڑھتا اس کا پہلا قدم تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتا ہے حور آج بابا مجھ سے بہت خوش ہوے انہوں نے مجھ سے بات کی۔اور مجھے یقین ہے بہت جلد میں بابا کا یقین بھروسہ انکا دل بھی جیت لونگا۔جب میں انکی بیٹی کا دل چرا سکتا ہوں تو انکا دل چرانا میرے لیے بہت آسان ہے۔۔وہ ہمیشہ کی طرح رات کے بیچ کے پہر آیا تھا اس سے ملنے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر اسے محبت سے دیکھتا وہ اس سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے وہ اس کی ہر بات پوری توجہ سے سن رہی ہو۔۔
بسس تم جلدی سے ٹھیک ہو کر میرے پاس آجاؤ حور۔۔اس کی آنکھیں ہلکی سی نم ہوئی جسے اس نے حور کی ناراضگی کے خوف سے فورا رگڑ دیا۔۔اور مسکرانے لگا وہ ایسے ہی اس کے ہاتھ پر اپنا سر رکھ کر آنکھیں موند گیا۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *