Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43
حور بہت غلط بات ہے۔۔وہ مصنوعی غصے سے اسے دیکھتا اس کے ہاتھ سے اپنا موبائل لیتا ہوا بولا۔۔
کیا ہادی بچپن سے پڑھائی پڑھائی پھر تھوڑی بڑی ہوئی تو ڈاکٹر بننے کے چکر میں آدھا بچپن بھی گیا۔۔پھر ڈاکٹر بنی تو لندن چلی گئی اسپیشلسٹ بننے کیلئے۔۔پھر وہاں جاکر یہ پیار محبت کے چکر۔۔وہ ہاتھ ادھر ادھر کرتی ٹیڑھا منہ بنا کر بولی۔۔پھر آدھی جوانی تو میری اس کومے میں چلی گئی۔۔شرارتیں مستی مذاق کرنے کا تو ٹائم ہی نہیں ملا۔۔آبھی میری کچھ ٹائم بعد رخصتی ہوجاے گی۔۔پھر تو یہ سب کرتی اچھی تھوڑی لگوں گی۔۔یہ کچھ وقت ملا ہے پلیز مجھے کھل کے جینے دو۔۔۔چہرے پر اداسی لائے وہ اسے دیکھتی ہوئی بولی جبکہ اس کی آنکھوں سے ٹپکتی شرارت آزہاد صاف دیکھ سکتا تھا۔۔۔
آزہاد بےاختیار مسکرایا۔۔اس کے گال میں پڑتا ڈمپل حور کی جان تھا۔۔وہ ہمیشہ اس کے گال پر یہ ڈمپل ٹہرا ہوا دیکھنا چاہتی تھی۔۔حور نے بے اختیار ہاتھ بڑھا کر اس کے ڈمپل پر انگلی رکھی۔۔۔اور پھر مسکراتی ہوئی بولی۔۔چلیں۔۔۔
اذہاد اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر لبوں سے لگاتا مسکراتا ہوا گاڑی آگے بڑھا دیا۔۔۔
تو پھر کہاں جانے کا ارادہ ہے میری جان کا؟؟ اذہاد فل موڈ میں آچکا تھا وہ محبت لوٹاتی نظروں سے حور کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔
حور ایک آئی برو اٹھاتی سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔اذہاد کا ایسا انداز اس کی جان نکال دیتا تھا۔۔
ایک کام کرو آگے جا کے کر رائٹ سائیڈ پر موڑ جاؤ۔۔پھر وہ اسے کوئی بھی فری ہونے کا موقع دیئے بغیر راستے بتانے لگی۔۔
اذہاد نے جہاں گاڑی روکی وہاں بہت ساری ٹیبل اور کرسیاں لگی ہوئی تھی پہلے تو وہ سمجھا نہیں کہ حور اسے کہاں لے کر آئی ہے وہ شیشے سے باہر دیکھتا جگہ کا اندازہ لگا رہا تھا۔۔
چلو ہادی۔۔حور کی خوشی سے بھرپور آواز سنائی دی۔۔
آزہاد اس کی طرف پلٹا۔۔یہ ہم کہاں آئے ہیں؟؟ وہ حیران ہوتا پوچھ رہا تھا۔۔
ہادی سارے سوال گاڑی میں بیٹھ کر پوچھ لو گے۔۔چلو آبھی پتہ چل جائے گا۔۔وہ دروازہ کھولتی باہر نکلی ازہار کو بھی مجبور گاڑی سے باہر آنا پڑا۔۔
وہ جہاں بیٹھے تھے ان کے آگے پیچھے تقریباً تمام فیملی ہی بیٹھی ہوئی تھی جو پلٹ پلٹ کر اذہاد اور حور کو دیکھ رہی تھی۔کیوں کہ ایک تو وہ دونوں بہت خوبصورت تھے اوپر سے انکی ملتی ڈریسنگ۔۔سب انکی طرف نا چاہتے ہوئے بھی پلٹ پلٹ کر ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔
حور کو یہاں کے لوگوں کا اچھے سے پتا تھا مگر اذہاد کو یہاں کے لوگوں کا یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھنا بلکل پسند نہیں تھا۔۔وہ بیزار منہ بناے بیٹھا تھا۔۔
اوئے چھوٹے۔۔اذہاد نے چونک کر حور کی طرف دیکھا جو تیز آواز دیتی کسی کو بلا رہی تھی۔۔وہ منہ کھولے دیکھ رہا تھا جب وہ قریب آتے 16 17 سال کے بچے کو بڑے مزے مینیو بتا رہی تھی۔۔دیکھ چھوٹے 6 پوریاں چھولے حلوہ سب گرم ہو ٹھیک ہے ورنہ یہی سب میں تمہارے سر پر انڈیلونگی۔۔سمجھ گئے۔۔وہ بچہ ہنستے ہوئے دونوں کو دیکھ کر خوشی خوشی مڑ گیا۔
اب حور مسکراتے ہوئے آزہاد کو دیکھ رہی تھی۔۔
حور یہ کیا طریقہ ہے کسی کو بلانے کا اور اس سے بات کرنے کا ؟؟ آزہاد حیرتوں میں ڈوبا اس سے پوچھنے لگا۔۔
ہادی یہاں یہی سب چلتا ہے۔۔وہ آنکھ دباتی ہوئی ہاتھ کے اشارے سے اسے بولی۔۔
آزہاد کا دل کیا زور سے اپنا سر دیواروں پر دے مارے۔۔۔
تھوڑی ہی دیر لگی اور پھر وہی بچہ ہاتھ میں بڑی ٹرے پکڑے نمودار ہوا۔۔جس میں گرم گرم پوریان اور سالن نظر آرہا تھا۔۔
اذہاد پہلی بار ایسا ناشتہ دیکھ رہا تھا۔۔
حور نے ایک نوالہ توڑا اور سالن بھر کر اس کی منہ کی طرف بڑھایا جسے اذہاد نے فورن آگے بڑھ کے کھا لیا۔۔
منہ میں نوالہ جاتے ہی اذہاد کو بہت مرچی لگی مگر اس کا ٹیسٹ بھی اسے بہت اچھا لگا۔۔حور دلچسپ نظروں سے اذہاد کہ انداز کو دیکھ رہی تھی۔۔ہادی کیسا لگا؟؟
بہت ذبردست ۔۔
اس نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا۔۔
حور بہت خوش ہوئی۔۔
تب اذہاد نے بھی نوالہ بنا کر حور کو کھلایا۔۔اس طرح ایک دوسرے کو کہلاتے وہ دونوں جیسے سارا جہاں بھولے ہوے تھے۔۔وہاں بیٹھے بہت سے لوگ ان دونوں کو دیکھتے اپنے اپنے نظرئیے سے سوچ رہے تھے۔۔
اچھا سا شاہی ناشتہ کرنے کے بعد حور نے اذہاد کو پورا شہر گھمایا۔۔اذہاد کی سنگت جیسے حور کے لئے پر ثابت ہوے اس کا بس نا چلتا وہ اذہاد کے ساتھ آسمانوں پے بھی اڑ جاتی۔۔۔اور اذہاد وہ تو جیسے حور کا ساتھ پا کر اتنا خوش تھا کہ اسے جیسے یہ سب ایک خواب لگ رہا تھا اور وہ اس خواب کو حقیقت سمجھ کر کبھی نا جاگنے کی دعا کر رہا تھا۔۔
ہنستے مسکراتے وقت صبح سے دوپہر میں کیسے ڈھلا پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔اب حور کہ پیٹ میں پھر چوہے دوڑ نے لگے۔۔ہادی روکو روکو روکو۔۔۔اذہاد آبھی کسی اچھے سے ریسٹورانٹ کی طرف گاڑی موڑنے ہی لگا تھا جب حور کی چیخوں نے اسے ہلا کر رکھ دیا۔۔اس نے فورن بریک ماری۔۔اب کیا ہوا۔۔اذہاد اب آرام سے بولا۔۔ وہ جو حور کے صبح سے نئے نئے رنگ دیکھ رہا تھا اب حیران نہیں ہوا وہ اسے انجونے کر رہا تھا۔۔
ہادی وہ دیکھو مجھے وہ کھانے ہیں چلو۔۔۔۔وہ اب ایک ٹھیلے والے کی طرف اشارہ کرتی بول رہی تھی۔۔تبھی اذہاد نے اس کا ہاتھ زور سے پکڑ کر اسے باہر نکلنے سے روکا۔۔
حور یہ کیا بلا ہے اب مجھے تو یہاں تمہارے بیٹھنے کی کوئی ڈھنگ کی جگہ بھی دکھائی نہیں دے رہی۔۔مجھے بتاؤ میں لے کر آتا ہوں۔۔
ہادی شیور آپ لے آئیں گے۔۔۔وہ اب الٹا اس سے سوال کر رہی تھی۔۔
ہاں کیوں؟؟ ماتھے پے بل ڈالے پوچھا گیا۔۔
وہ کیا ہے نا وہ بیچارہ آپ کی زبان نہیں جانتا۔۔حور دانت نکل کر بولی۔۔
تب اذہاد مسکراتا ہوا باہر نکلا۔۔
بیچارہ ٹھیلے والا اذہاد کو منہ پھاڑے دیکھنے لگا۔۔
صاحب کتنی پلیٹ بناؤ۔۔وہ خاموش کچھ سوچتے ہوے کھڑے اذہاد سے بولا۔۔
ہمممم۔۔ایک۔۔اس نے ہاتھ کے اشارے سے زبردستی مسکرا کے کہا۔۔
اور تبھی ٹھیلے والے نے کمالے مہارت سے جلدی سے ایک پلیٹ بنائی اور اذہاد کی طرف بڑھائی۔۔
جسے اذہاد منہ کھولے اب حیران دیکھ رہا تھا۔۔یہ کیا ہے؟؟وہ اٹک اٹک کر اردو کے الفاظ میں اسے بولا۔۔
صاحب اسے گول گپے کہتے ہیں۔۔وہ ہنستا ہوا بتیسی کی نومائیش کرتا بولا۔۔
اذہاد نے حیرت سے گول گپوں کو دیکھتے پلیٹ پکڑی اور گاڑی کی طرف بڑھا۔۔
حور نے جب گول گپے دیکھے تو زور سے چیخی۔۔آ آ آ آ آ ۔۔۔ہادی۔۔آپ کو پتہ یہ میرے فیورٹ گول گپے ہیں۔۔وہ اس وقت چھوٹی سی کوئی بچی معلوم ہوتی تھی۔۔
تبھی ایک گول گپا اٹھا کر پانی میں ڈبوتی وہ جیسی منہ کی طرف لیجانے لگی۔۔تب اذہاد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔حور حیران نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
حوریہ گندا پانی ہے۔۔وہ گندا سا منہ بنا کر بولا۔۔
حور نے اسے غصے سے دیکھا۔۔ہادی یہ گندا پانی نہیں ہے اسی کے ساتھ کھائے جاتے ہیں گول گپے۔۔اور پھر حور نے وہی گول گپا آزہاد کے منہ کے طرف بڑھایا۔۔
نہیں مجھے نہیں کھانا اور نہ ہی میں یہ تمہیں کھانے دوں گا۔۔وہ اس کے ہاتھ سے پلیٹ لینے لگا کہ جب ہی حور نے وہ پلیٹ پیچھے کری۔۔
ہادی یا تو آپ یہ مجھے کھانے دیں یا تو پھر میں آپ سے بات نہیں کرتی۔۔وہ غصے بھری نظروں سے اذہاد کو دیکھ رہی تھی کیونکہ وہ اس کی پسندیدہ چیز اسے کھانے سے روک رہا تھا۔۔
تبھی آزہاد نے اس کا ہاتھ سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔۔وہ سب کچھ برداشت کر سکتا تھا مگر اس کی ناراضگی نہیں۔۔
تب حور نے پھر گول گپے کو پانی میں بھر کے منہ میں ڈالا۔۔۔
ہادی پلیز ایک کھا کر کر دیکھو یہ بہت مزے کے ہیں۔۔
وہ ضد کرنے لگی تو آزہاد اس کی ضد کے آگے ہار تھا مجبورا ایک گول گپے کھانے کی شرط پر منہ کھول کر آنکھیں بند کردی۔۔تبھی حور نے کھٹاپانی گول گپے میں بھر کر آزہاد کے منہ میں ڈالا۔۔۔
اذہاد نے بے اختیار منہ پیچھے کیا۔۔اسے ایسا لگا جیسے کسی نے بہت ساری مرچی اور کھٹائی اس کے منہ میں ایک ساتھ بھردی ہو۔۔وہ آنکھوں کو میچتا گندے گندے منھ بنا رہا تھا۔۔
اور حور اس کے چہرے کو دیکھ کر زور زور سے ہنس رہی تھی۔۔
ازہاد کو گولگپے بالکل پسند نہیں آئے تھے۔۔
حور تم یہ کیسے کھا لیتی ہو؟؟ وہ اب دکھ سے اس کی طرف دیکھتا بول رہا تھا۔۔اس کا پورا منہ اس ٹیسٹ کی وجہ سے گندا ہو چکا تھا۔۔حور نے اپنے پیچھے بیگ میں سے پانی کی بوتل نکالی اور اس کی طرف بڑھائی۔جسے آزہاد نے فورن سے تھام کر منہ سے لگایا اور گھٹ گھٹ ایک ساتھ پیتا وہ پوری پانی کی بوتل آدھی کر گیا تھا۔۔
حور نے صرف ایک ہی نہیں 3 پلیٹیں گول گپے کی کھا کر آزہاد کی جان چھوڑی۔۔۔
___________________
کہاں اذہاد کا ایک گول گپے کو کھا کر ہی برا حال تھا اور حور نے بڑے مزے سے 3 پلیٹس ان گول گپوں کی کھا لی تھی ۔۔۔مجھے لگتا ہے کسی اچھے سے دماغ کے ڈاکٹر کو حور کو دکھانا پڑے گا۔۔
وہ بیحد حیران ہوتا گاڑی چلاتا چور نظروں سے اسے دیکھتا سوچ رہا تھا جو مسلسل کسی سے میسج پے بات کرنے میں لگی ہوئی تھی۔۔ تبھی تھوڑا بہت سکون تھا۔۔
آبھی وہ حور کی خاموشی کو محسوس کرتا اسے چھیڑ نے والا تھا کہ جب ہی حور موبائل سے سر اٹھاتی اذہاد کی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔۔
ہادی یہاں موڑ لو گاڑی۔۔پھر وہ اس کے بتاے گئے تمام راستوں سے ہوتا کسی کے گھر کے آگے روکا تھا۔۔
وہ حیران ہوتا سامنے کے لگے بڑے سے گیٹ کو دیکھ رہا تھا۔۔
یہ تو شاید عنان ماموں کا گھر ہے۔۔ ہے نا حور؟؟۔۔وہ اب اس سے اپنی بات کی تصدیق کروا رہا تھا جو گاڑی سے باہر جانے کے ارادے سے دروازہ کھول رہی تھی۔۔
اس کی بات سن کر پلٹی۔۔ہاں میرے معصوم سے ہبی بس تھوڑا سا انتظار کرو میرا میں آبھی آئی۔۔وہ یہ کہتی بجلی کی طرح اندر گئی۔۔
اور پیچھے اذہاد سر پکڑے اس کے آنے کا یعنی نئے طوفان کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
حور میں بتا رہی ہوں یہ چابی میں صرف تمھیں 3 گھنٹے کے لئے دے رہی ہوں۔۔اس سے زیادہ دیر کی تو میں بابا سے بول دوں گی میں مما سے جوتے نہیں کھانا چھاتی۔۔ایسا مت سمجھنا کے میں تمھیں یہ دینا نہیں چھاتی بلکے مجھے تمہاری فکر ہے۔۔تم نے ایک تو کسی کو بتانے سے بھی منع کیا ہے پھپا کو پتہ چلا تو تمہارے ساتھ مجھے بھی ڈانٹ پڑے گی۔۔سمجھ نہیں آتا تمہارے دماغ میں آخر چل کیا رہا ہے۔۔ بیچارے بھائی۔۔عنایا اتنا بڑا لیکچر اس کی فکر میں سنانے کے بعد آخر میں اذہاد سے ہمدردی بھی جتا رہی تھی۔۔
بڑی آئی بھائی کی چمچی تمہارے بھائی کے لئے ہی یہ سب کچھ کر رہی ہوں اب ڈرامے بند کرو اپنے مجھے جانے دوگی تو جلدی آؤ گی نا اور خبردار بابا یا ماموں کو بتایا تو ۔۔وہ اسے اچھے سے لاتاڑتی ہوئی چھپ کر مامی سے جیسے اندر آئی تھی ویسی باہر بھی آگئی۔۔۔
اذہاد جو اب بیزار ہو رہا تھا حور کو دیکھتا سیدھا ہوا۔۔ یہ کیا۔۔
گئی تو وہ اندر خالی ہاتھ تھی جب باہر آئی تو ایک عدد اِسکوٹی ساتھ تھی جسے بڑے مزے سے چلاتی وہ اذہاد کے قریب آئی تھی۔۔
چلو جلدی اپنی گاڑی کو لاک کر کے باہر آؤ آگے کا آدھا سفر ہم اس اِسکوٹی پے گھوم کر طےکریں گے۔۔وہ بڑے مزے سے اذہاد کو آگے کا پلین بتا رہی تھی جس کی حیرت آج ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی یعنی جس طوفان کے آنے کا ڈر تھا وہ یہی تھا۔۔
تم پاگل ہوگی ہو حور اور کچھ نہیں واپس دے کر آؤ جس سے مانگ کر لائی ہو۔۔۔اور فورن گاڑی میں آکر بیٹھو۔۔۔وہ اب سختی سے حکم صادر کرتا بولا۔۔مگر مجال ہے جو اس پے ذرا بھی اس کی سختی کا اثر ہوا ہو۔۔۔
اذہاد 5 منٹ ہیں آپ کے پاس ورنہ میں چلی جاؤنگی۔۔الٹا حور اب اذہاد کو سخت نظروں سے دیکھتی وارن کرتی بولی۔۔
اذہاد نے اسے گھور کر صرف دانت پیسنے پر اکتفا کیا اور زور سے گاڑی کا دروازہ بند کرتا اسکے پاس آیا۔۔
جو اپنی جیت پر فخر سے گردن اکڑائے بیٹھی تھی۔۔
وہ اس کے پاس کھڑا اسے گھورے جا رہا تھا کہ جب ہی حور بولی۔۔بیٹھو اب میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے۔۔
منہ بناتی بولی۔۔
وہ پہلے کبھی بائیک یا اِسکوٹی جیسی سواری پر نہیں بیٹھا تھا اور پھر ڈرائیور بھی ماشاءالله سے حور تھی۔۔آج تو اللہ ہی رحم کرے گا۔۔وہ ڈرتے ڈرتے حور کے پیچھے سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔
اس کے بیٹھتے ہی حور پلٹی اور اس کے سر پر ہیلمٹ پہنا کر مسکراتی ہوئی بولی۔۔ڈرنا نہیں ہادی میں ہوں نا آپ نے پہلے کبھی اتنا انجونے نہیں کیا ہوگا جتنا آج کرینگے۔۔اذہاد نے خوف سے اسے دیکھا اپنی پرواہ نہیں تھی اسے ہمیشہ کی طرح اسی کی فکر تھی جو ایڈونچر کے چکر میں نئی نئی حرکتیں کر رہی تھی۔۔
چابی گھما تے ہی اِسکوٹی بھڑڑ ڑ ڑ ڑ ۔۔۔کرتی اسٹارٹ ہوئی اور حور مزے سے اسے چلاتی آگے بڑھنے لگی۔۔
اذہاد نے بے اختیار خود کو سمبھالنے کے لئے اس کی شرٹ کو کمر کی طرف سے مظبوطی سے اپنی موٹھیوں میں جکڑا بیٹھا تھا۔۔
حور کافی اچھی اسکوٹی چلا رہی تھی جس کا اندازہ اذہاد کو ہوتے ہی وہ بھی ریلیکس ہو کر بیٹھتا انجونے کرنے لگا۔۔
اذہاد کو اسکوٹی کا سفر بہت اچھا لگا اس نے سچ میں اس سے پہلے ایسا انجونے کبھی نہیں کیاتھا۔۔۔۔
حور نے سب سے پہلے اذہاد کو اچھا سا لنچ کروایا بقول اس کے یہ یہاں کا بیسٹ برگر ہے۔۔جس کو انڈے والا برگر کہا جاتا ہے جسے لوگ دور دور سے کھانے آتے ہیں۔۔
گول گپوں کے علاوہ حور نے آج اذہاد کو جو کچھ کھلایا وہ سب اذہاد کو اچھا لگا۔
کھانے پینے سے فارغ ہو کر وہ لوگ پھر نکل پڑے سڑکوں کی خاک چھاننے۔۔۔اذہاد اور حور ہنستے مسکراتے ان خوش گوار پلوں میں اتنا گم ہوگے تھے کے اذہاد کے ہاتھ کب حور کی کمر کے گرد بندھے نا اذہاد کو معلوم ہوا اور نا اس کے مظبوط حصار کو حور نے محسوس کیا ۔۔
حور نے اذہاد کو شہر کا چپا چپا گھمایا 3گھنٹوں کا بول کر اب اسے اذہاد کے ساتھ گھومتے رات ہوگئی تھی۔۔مگر دونوں کا دل اب بھی نہیں بھرا تھا۔۔
اذہاد کو آج سمجھ آیا تھا زندگی جینا کسے کہتے ہیں۔۔وہ آج سے پہلے اتنا بھرپور زندگی کو کبھی نہیں جیا تھا۔۔حور کا شہر اسی کی طرح تھا کھٹا میٹھا سا وہ 7 مہینوں سے اس شہر میں رہ تو رہا تھا مگر اس کو قریب سے دیکھا آج تھا اس شہر کی پہچان حور نے کروائی تھی۔۔وہ دونوں آوارہ پنچھیوں کی طرح سارا دن خوار ہونے کے بعد اب سانس لینے کے لئے ساحل کنارے رکھے بڑے بڑے پتھروں پر بیٹھے تھے۔۔
حسین کئی یادوں کی طرح آج کا گزرا یہ دن بھی ان کی یادوں میں شامل ہوجاے گا۔۔جسے آگے جا کر وہ دونوں اس وقت کو یاد کرکے پھر سے ان لمحوں کو جیئیں گے۔۔
حور میں سوچ رہا ہوں ایک اسکوٹی خرید کر لندن لے چلوں۔۔کتنا مزہ آئے گا۔۔وہ ہنستا ہوا حور سے بولا۔۔
اذہاد نے حور کے کاندھے کے گرد اپنا مضبوط بازو حمائل کیا ہوا تھا جس کی انگلیاں حور کے ہاتھ کی انگلیوں سے الجھائی ہوئی تھیں۔۔حور کا سر اذہاد کے سر کے ساتھ جڑا تھا۔۔
اس کی بات سن کر وہ ہنسی۔۔۔
ویسے تمھیں اسکوٹی بھی چلانی آتی ہے۔۔ایم امپریس۔۔۔
بابا میرے لئے لاے تھے میری ضد پے۔۔۔حور نے مسکرا کے آہستہ سے بتایا۔۔
سچی۔۔پھر کہاں گئی وہ؟؟ اذہاد کو تشویش ہوئی۔۔
وہ ایک بار انکے سامنے ہی میں گر گئی تھی تو انہوں نے وہ عنایا کو دے دی۔۔وہ اب اداسی سے بولی تھی۔۔
اسکا مطلب۔۔۔وہ حیران ہوتا پلٹ کر اسکوٹی دیکھنے لگا۔۔
مگر یار تم نے تو بہت اچھی اسکوٹی چلائی۔۔مجھے تو بہت مزہ آیا۔۔اور میں لندن میں اس اسکوٹی پر تمہارے ساتھ بیٹھ کر پورا لندن گھومنے کا خواہش مند ہوں۔۔وہ اس کے اداس چہرے ڑ مسکراہٹ لاتا بولا۔۔
ہادی۔۔۔جب میں گری تھی تب 16 سال کی تھی۔۔مگر بابا آبھی تک ڈرتے ہیں۔۔
ہمممم۔۔۔کوئی نہیں میں ہوں نا میں اپنی حور کو بلکل نہیں روکوں گا۔۔۔
ارے واہ۔۔وہ دیکھو تو ذرا طوطا مینا کو۔۔ہاہاہا۔۔۔۔
وہ دونوں ایسی جگہ پر بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے جہاں دور دور تک نا روشنی تھی نا کوئی انسان۔۔
اذہاد نے غصے سے پلٹ کر دیکھا تو 3 سے 4 کم عمر کے لفنگے ٹائپ وہ لڑکے تھے جو انہیں دیکھ کر مذاق اڑا رہے تھے۔۔آندھیرے کی وجہ سے وہ اذہاد اور حور کو ٹھیک سے دیکھ نہیں سکے تھے تبھی غلط مطلب نکالتے ہوے فوکرے کسس رہے تھے۔۔
حور اذہاد کے غصے کو اچھے سے جانتی تھی۔۔۔وہ اگر غصے میں آجاتا تو اسے سمبھالنا مشکل ہوتا۔۔
ہادی جانے دو دفع کرو ان کے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔وہ اس کے ہاتھ کو سامنے کرتی دونوں ہاتھوں سے اس کے ہاتھ کو تھامتی خوف سے بولی۔۔
وہ لڑکے اب بھی ہنس رہے تھے۔۔اور دونوں سے تھوڑی دور بھی تھے اذہاد کے بھاگنے تک وہ لوگ بھاگ سکتے تھے۔۔
تبھی اذہاد نے سامنے پڑا ہیلمیٹ اٹھایا اور پوری طاقت سے کھینچ کر بیچھ والے لڑکے کو نشانہ بنایا۔۔
نشانہ بلکل سہی جگہ پر لگا تھا۔۔وہ لڑکا اچھل کر زور سے پیچھے گرا تھا۔۔تبھی اذہاد حور سے ہاتھ چھڑاتا تیز رفتار سے انکی طرف دوڑا مگر وہ کافی چالاک تھے اپنے نیچے گرے دوست کو جلدی سے اٹھا کر گاڑی میں ڈالتے وہ اذہاد کے قریب آنے سے بھی پہلے بھاگ گئے تھے۔۔۔
اذہاد نے غصے سے دور جاتی گاڑی کو گھورا اور نیچے پڑا ہیلمیٹ اٹھایا۔۔اور پھر مسکراتا ہوا پلٹ کر حور کے قریب آیا۔۔
کیا ضرورت تھی ان کے منہ لگنے کی۔۔وہ اب خود بھی اس کے قریب آتی پریشانی سے بولی۔۔
جو میری بیوی کے لئے غلط الفاظ بولے گا میں اس کا حشر برا کر دونگا۔۔اذہاد کے لہجے کی سرد مہری اور سفاکی حور کو خاموش کر گئی۔۔۔
حور کا چہرا نم تھا۔۔چاند کی ہلکی مدھم روشنی میں اذہاد نے دیکھا۔۔تبھی اذہاد آگے بڑھتا محبت سے اسے گلے لگا گیا۔۔۔۔
مجھے بہت بھوک لگی ہے حور۔۔وہ اسے سینے سے لگائے ہنستا ہوا بولا۔۔
حور اس کے سینے سے سر اٹھاتی مسکراتی بولی۔۔بھوکڑ۔۔۔۔۔ اذہاد نے آگے بڑھ کر اس کی ناک پر ہلکا سا کاٹا۔۔اور تبھی حور اسے مارنے کے لئے اس کے پیچھے دوڑ نے لگی اذہاد آگے حور اس کے پیچھے اور دونوں کے قہقے دور دور تک ساحل پر گونج رہے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کی گئی حور کو اب رات ہو چکی تھی اسے اب مجبوراً عنان کو بتانا پڑا تھا ورنہ حور کے ایڈونچر کی سزا عنایا کو ملتی۔۔۔
عنایا حور کس کے ساتھ ہے بیٹا؟؟ عنان نے پیار سے پوچھا۔۔
وہ انگلیاں مسلتی باپ کی شکل دیکھ کر آہستہ سے بولی۔۔وہ بابا اذہاد بھائی ساتھ ہیں اسکے۔۔۔
تبھی عنان مسکراے۔۔پھر تو چلو کوئی پریشانی کی بات نہیں وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہے نا میں تو ڈر گیا تھا کہ کہیں وہ اکیلی نا گئی ہو۔۔آجائیں گے۔۔
ان کا مطمئن چہرا دیکھ کر عنایا کی جان میں جان آئی۔۔چلو باپ تو ساتھ ہے اب اس کی سائیڈ لینے کے لئے۔۔
حور تمھیں اللہ پوچھے گا۔۔وہ اسے خیالوں میں کوستی ہوئی آگے بڑھتی کمرے میں جا رہی تھی جب اس کا فون بجا۔۔۔
کہاں ہو حور ؟؟ اس نے غصے سے پوچھا۔۔
باہر کھڑی ہوں آکر دروازہ کھولو۔۔
آبھی بھی کیا ضرورت تھی آنے کی گھر لے جاتیں یہ تحفہ تاکہ پھپا کو بھی دیکھ کر خوشی ملتی۔۔۔وہ جل کر جواب دے رہی تھی حور کو۔۔
ٹھیک ہے آج سے دوستی ختم۔۔اب حور نے بھی دھمکی دی تھی جو عنایا کے دل پے لگی تھی۔۔
حور کیا بول رہی ہو؟؟ پاگل ہوگئی ہو پوری۔۔روکو آرہی ہوں۔۔۔
اور تبھی تھوڑی ہی دیر ہوئی کے عنایا نے دروازہ کھولا۔۔حور مسکراتی ہوئی اس کے گلے لگی۔۔تھنک یو۔۔اور اسے اس کی چیز واپس کرتی گاڑی میں آکر بیٹھ گئی جہاں اذہاد اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم دونوں صبح کہ گئے رات کو واپس آرہے ہو یہاں میری جان اٹکی ہوئی تھی اور اوپر سے فون بھی بند۔۔عظمیٰ غصے میں بھر کے بیٹھی تھیں۔۔سارے لوگ خاموش تھے جب کہ عظمیٰ نے تو اچھے سے دونوں کی کلاس لے ڈالی۔۔
اذہاد مسکراتا ہوا انہیں گلے سے لگا گیا۔۔وہ تو ترستا تھا اس محبت اس فکر کے لئے۔۔
مما آپ کی جان آگئیں ہیں آپ کے پاس اب تو مسکرا دیں۔۔وہ پیار سے بولا۔۔
اور اس کی بات پر عظمیٰ ہنس دیں۔۔پھر اس کا ماتھا چومتی بولیں۔۔کھانا کھایا تم دونوں نے؟؟
حور جو منہ لٹکاے کھڑی تھی ہستی ہوئی ان کے سینے سے لگی۔۔ہاں کھا لیا۔۔
بھئی میں تو بہت تھک گئی ہوں نید بھی بہت آئی اوکے کل ملتے ہیں گڈ نائٹ۔۔۔وہ یہ کہتی فٹ سے اپنے کمرے میں چلی گئی اور وہں کھڑے سب اذہاد کا منہ دیکھنے لگے جو اسے ہی حیران نظروں سے جتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔واہ کیا شاہی انداز پائیں ہیں حور نے۔۔۔
جاری ہے
