Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26
وہ خاموش کتابیں کھول کر بیٹھا پڑھ رہا تھا جب گرینڈ پااس کے قریب آتے ہی بولے۔۔ وہ اس خاموش زندگی سے اب تھکنے لگے تھے ان کا دل کرتا تھا کہ وہ ازہار سے باتیں کریں اس سے جنت کے آخری لمحات کے بارے میں پوچھیں مگر ازہاد کی تو اپنی ایک الگ ہی دنیا تھی جہاں کسی کو بنا اجازت اندر آنے نہیں دیا جاتا تھا۔۔۔
کیوں؟؟ میری راہ کیوں دیکھتے ہیں آپ ؟؟اس نے بے حد کٹھور پن سے جواب دیا۔۔
کیونکہ میں تمہارا گرائنڈ پا ہوں۔۔
اس نے جھٹکے سے گردن ان کی طرف موڑی۔۔ گرینڈ پا۔۔۔وہ طنزیہ ہنسی ہنسا۔۔۔کیسے گرینڈ پا؟؟ کون سے گرینڈ پا ؟؟ میں نے تو آپ کو کبھی نہیں دیکھا؟؟ نہ ہی موم نے آپ کے بارے میں مجھے کبھی بتایا میں ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوا اور آپ ایک کرسٹن پھر کیسے آپ میرے گرینڈ پا ہوئے ؟؟ وہ چیختا ہوا بولا آنکھیں غصے سے لال انگارا ہوچکی تھیں
گرینڈ پا اپنے کانپتے وجود کے ساتھ کرسی پر ڈھے گئے۔۔۔کیا تمہیں لیزا نے کچھ نہیں بتایا ہمارے بارے میں؟؟؟وہ آنکھوں میں نمی لیے اذہاد کو دیکھتے ہوئے بولے۔۔
لیزا؟؟!!! یہ لیزا کون ہے ؟؟!!آزہاد نے اب تعجب سے لیزا کا نام لیتے ہوے گرینڈ پا سے سوال کیا۔۔۔
اور پھر گرینڈ پانے ساری کہانی شروع سے لے کر آخر تک آزہاد کو بتائی۔۔۔
آزہاد وہی سر کو تھامے زمین پر بیٹھا۔۔ اتنا بڑا سچ کیا ابھی بھی کچھ باقی رہتا تھا اس کی زندگی میں طوفان لانے کے لیے۔۔ تب ہی وہ سب کی نفرت کا نشانہ بنتا تھا کیوں کے اس کی ماں پہلے ایک غیر مسلم تھی اور پھر اس نے اسلام قبول کرلیا تھا حق کی راہ کو چننا تھا۔۔۔ اس لئے بابا کی فیملی بھی بابا سے ناراض تھی کیونکہ انہوں نے ایک ایسی لڑکی سے شادی کی تھی جو پہلے ایک غیر مذہب کی ماننے والی تھی۔۔۔ درپت در کھلتے گئے اور ساری کہانی شروع سے صاف اس کی آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگی اس نے آہستہ سے ہاتھوں پہ گرے سر کو اٹھا کر نم آنکھوں سے گرینڈ پا کی طرف دیکھتے ہوئے جھٹکے سے کھڑا ہوا اور لمبے لمبے ڈاگ بھرتا کمرے میں جاکر بند ہوگیا۔۔۔۔اسے اب گرینڈ پا پر نئے طریقے سے غصہ آ رہا تھا جب اس کی ماں کو مسلمان ہوجانے پر دھتکار دیا گیا تھا تو اس کی مسلمان اولاد کو کیوں اپنایا جارہا تھا؟؟کیوں اس سے محبت جتلائی جارہی تھی۔۔۔وہ اس بات کو لے کر کئی دن تک اپنے غصے کا اظہار کرتا رہا اور پھر ان کے کمزور اور لاچار وجود کو دیکھ کر آخرکار اسے ان پر ترس آگیا وہ ان سے بات نہیں کرتا تھا مگر خاموش ان کے سامنے بیٹھ کر ان کے دل کی باتیں سن ضرور لیتا تھا۔۔
زندگی ایسے ہی آگے بڑھتی جارہی تھی۔۔اذہاد وقت کے ساتھ ساتھ کامیابی کی منزلوں کو چھوتا گیا۔اور آخر کار اس نے اپنا لوہا منوا ہی دیا۔۔جو دنیا اسے کل نفرت سے دیکھ کر دھتکار دیتی تھی آج وہی دنیا اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اس سے بات کرنے کے لئے تڑپتی وہی دنیا آج اسے جھک کر سلام کرتی تھی۔۔اور اذہاد وقت کے گزرنے کے ساتھ اور زیادہ بےحس مغرور ظالم اور کٹہور بنتا چلا گیا وہ صرف دنیا کے لیے ہی نہیں حور کیلئے بھی ایک ظالم ظاہر ہوا تھا۔اس نے جان بوجھ کر پہلی ملاقات میں حور کو نقصان پہنچایا تھا اسے تکلیف دی تھی۔۔۔۔۔تاکہ وہ بھی اس سے نفرت کرے اس سے دور رہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور جو اب آہستہ آہستہ ہچکیاں لیتی اپنے وجود کے ساتھ گاڑی سے لگی زمین پر بیٹھی رو رہی تھی۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ سب درد سب تکلیفیں آزہاد نے اس کے وجود میں انڈیل دیے ہوں۔۔۔ازہاد نے کتنی کم عمری میں اتنی اذیتوں کو برداشت کیا۔۔۔اسے دیکھ کر دور دور تک یہ کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ اتنے مضبوط انسان کا کل کتنا اذیت ناک رہا ہے۔۔۔
ازہاد گاڑی کے بونٹ سے کمر ٹکائے سامنے دیکھ رہا تھا
ایسا لگتا تھا کہ اس کے اندر کا اندھیرا باہر نکل کر چاروں طرف پھیل گیا ہو۔۔
پتا ہے حور اس رات بھی میں نے جان بوجھ کر خود کو اذیت دینے کے لئے گاڑی کو آوٹ آف کنٹرول چلانے کی کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں وہ حادثہ ہوا تھا۔میں زندگی سے اب اکیلے لڑتے لڑتے تھکنے لگاتا تھا ہارنے لگا تھا میرے لئے اب اس چلتی سانسوں میں کوئی دلچسپی نہیں بچی تھی۔جس چیز کا جنون سوار تھا وہ جنون تو پورا ہو چکا تھا دنیا کو اپنے قدموں پر جھکانا تھا وہ میں نے جھکا چکا تھا اب میرے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔۔۔
مجھے اس وقت کوئی تکلیف کوئی درد کوئی احساس محسوس نہیں ہو رہا تھا میں بس اس وجود کو ہمیشہ کے لئے مٹانا چاہتا تھا ختم کرنا چاہتا تھا کہ اچانک تم آئی میری اندھیری زندگی میں روشنی بن کر میرے بے جان دل کو دھڑکانے کے لیے مجھے زندہ کرنے کے لئے۔۔۔میں یوں ہی تو تم سے دور جانے کو نہیں کہتا تھا حور۔۔۔۔میں یوں ہی تو نہیں تمہیں ہر بار دھتکارتا تھا۔۔۔میں ڈرتا تھا تم سے کیونکہ تم دنیا کی واحد انسان تھیں جس کے لیے میں خود کو مجبور کرتا تھا نفرت کرنے کے لیے۔۔۔ میرا دل میرا دماغ جو میرے خلاف جاتے تھے مجھ سے لڑتے تھے..
یہ احساسات یہ جذبات میرے لئے خطرہ تھے حور میں نے خود کو بہت روکا۔۔یہاں تک کہ تمہیں تکلیف بھی پہنچائی۔۔وہ بے حد دکھ سے بولا۔۔۔ مگر تم ہر بار جب بھی مجھ سے ملتی مجھے بدل دیتی اور میں اپنے وجود کو ڈھونڈتا ہی رہ جاتا۔۔پھر میں تھک گیا حور تم نے مجھے ہرا دیا میں جو ساری دنیا سے اکیلے لڑنے کی طاقت رکھتا تھا تم نے ایک بار میں ہی مجھے توڑ دیا ذرہ ذرہ بکھیر دیا۔۔اب میرا جو بھی ہے وہ صرف تمہارا ہے۔۔۔اس دنیا سے مجھے نہ کل کوئی غرض تھی نہ آج ہے۔۔۔
ہاں مگر اب میں جینا چاہتا ہوں حور۔۔تمہارے ساتھ ہسنا چاہتا ہوں خوشی کو محسوس کرنا چاہتا ہوں تمہارے ساتھ میں ایک یہ ہی زندگی نہیں موت کے بعد کی زندگی بھی میں تمہارے ساتھ رہ کر گزارنا چاہتا ہوں۔۔ پہلے میں ڈرتا نہیں تھا مگر اب تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں۔۔ وہ اس کے قریب آکے اس کے سامنے جھکتے آنکھوں میں نمی لیے بول رہا تھا۔۔
حور نے بھی روتی آنکھوں کو اوپر اٹھا کر اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھا۔۔
میں تم سے بے حد بے پناہ بے لوث محبت کرتا ہوں حور تمہارے ساتھ کے لئے تمہاری محبت کو پانے کے لئے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔وہ نم آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا۔۔
میں تمہاری اتنی محبت کے قابل نہیں ہوں ہادی پلیز اتنی چاہت نہ دو مجھے۔۔وہ روتے ہوئے اسے دیکھ کر بولی۔۔۔
یہ میرے بس میں ہے ہی نہیں حور۔۔۔ ہر پل ہر گھڑی ہر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ تم سے اور بے پناہ محبت کیے جاتا ہے۔۔وہ سینے کی طرف اشارہ کرتا دھڑکتے دل پر شہادت کی انگلی رکھتا بولا۔۔
ازہاد نے مسکراتے ہوئے اس کے بہتے آنسوؤں کو محبت سے چن لیا اور اسے کاندھوں سے تھام کر کھڑا کیا۔۔۔
آئی ایم سوری ہادی میری وجہ سے آپ ہرٹ ہوئے میں یہ نہیں چاہتی تھی۔۔وہ شرمندگی سے نیچے گردن جھکاتی بولی۔۔۔
کوئی بات نہیں حور میں تم سے ناراض نہیں اور نہ کبھی ہو سکتا ہوں اور ویسے بھی تم سے ناراض ہو کر میں جاؤنگا کہاں ؟؟ تم ہی تو میری کل کائنات ہو بس ایک وعدہ کرو کہ تم کبھی مجھے مجبور نہیں کروں گی کسی سے بات کرنے کے لئے میں دنیا کے لئے خود کو نہیں بدل سکتا۔۔میں ویسا ہی رہوں گا سب کیلئے جیسے پہلے تھا یہ نفرت ختم نہیں ہو سکتی حور۔۔۔ وہ بے بسی سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
حور نے خوف سے اسے دیکھا۔۔ پھر کیا آپ مما بابا دادو سے بھی بات نہیں کریں گے۔۔ وہ ڈرتے ڈرتے بولی اور ازہاد زور سے ہنسا۔۔ میری معصوم سی محبت یار میں اس ظالم دنیا کی بات کر رہا ہوں۔۔ تم سے جڑا ہر رشتہ میرے لئے بھی اتنا اہم ہے جتنا تمہارے لیے۔۔ وہ اس کے سر پر ہلکی سی چت لگاتا بولا۔۔اور حور نم آنکھوں سے ہنس دی۔۔۔شکر ہے اللہ کا ورنہ میں تو ڈر ہی گئی تھی۔۔۔ وہ دل پر ہاتھ رکھ کر شکر ادا کرتی بولی ۔۔۔۔۔
ماما بابا صرف تمہارے ہی نہیں آب سے میرے بھی ہیں تمہارے لئے مما بابا کے لیے ازہاد جان دینے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔۔۔۔
اللہ نہ کرے ہادی جان دینے کی باتیں کیوں کرتے ہیں آپ کو اگر کچھ ہوا نہ تو زندہ میں نے بھی نہیں رہنا ہے۔۔۔ وہ ناراض ناراض نظروں سے آزہاد کو دیکھتی ہوئی بولی اور اذہاد اس کی محبت اس کی چاہت دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔
اللہ نے اذہاد کو حور اس کی سخت آزمائشوں کی صورت کے بدلے تحفے میں دی تھی۔۔۔
اذہاد نے حور کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوے کہا۔۔۔حور میرے ساتھ چلو گی؟؟؟
حور نے اس کی اداس آنکھوں میں دیکھا۔۔۔وہ اسے کہاں لے جانے کی بات کر رہا تھا؟؟
بولو حور چلو گی ؟؟اذہاد نے سوال پھر دوہرایا۔۔۔
اب کی حور نے بے اختیار گردن آسبات میں ہلائی۔۔۔
اس پل اذہاد کی آنکھوں میں جگنو سے بھر گئے۔۔مان کے بھروسے کے یقین کے اعتبار کے اپنائیت کے۔۔۔وہ بے اختیار اسے محبت سے دیکھے ہی گیا۔۔۔حور نے اس سے کوئی سوال نا کر کے اسے بہت سے احساسات سے نواز دیا تھا۔۔۔وہ مسکراتے ہوے اس کا ہاتھ تھام کر گاڑی کی طرف بڑھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ اذہاد اسے کہاں لے آیا تھا۔۔وہ خاموش نظروں سے سامنے دیکھتی گاڑی سے اتری وہ کوئی اپارٹمنٹ لگتا تھا۔۔وہ آہستہ سے قدم اٹھاتی آگے بڑھی۔کے جب ہی اذہاد کی آواز پیچھے سے آتی سنائی دی۔۔
میں کئی سالوں سے ہمت ہی نہیں کر پایا یہاں آنے کی مجھے اس جگہ سے خوف آتا ہے میں ڈرتا ہوں یہاں آنے سے۔۔میرے قدم اب بھی میرا ساتھ نہیں دے رہے۔۔
حور نے پلٹ کر اذہاد کو دیکھا۔۔اس کے چھرے پے اس ٹھنڈ میں بھی ننھی ننھی پسینے کی بوندے چمک رہی تھی اور آنکھوں سے خوف جھلک رہا تھا وہ اپنی جگہ سے ایک قدم پیچھے ہٹا تھا۔۔حور نے حیران نظروں سے اذہاد کو دیکھا اور پھر اپنا سیدھا ہاتھ اسکے سامنے بڑھایا۔۔
______________
اذہاد نے سامنے خوف سے دیکھتے ہوئے اس کے آگے بڑھتے ہاتھ کو دیکھا۔۔حور نے مسکرا کے اسے اپنا ہاتھ تھامنے کا اشارہ کیا جسے اذہاد نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر تھام لیا۔۔حور نے اس کا ٹھنڈا برف ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں تھام کر ہلکا سا دبایا اور اس کی ہمت بڑھائی۔۔۔اذہاد نے آہستہ سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر دروازے کی چابی نکالی اور حور کی طرف بڑھائی جس کا مطلب دروازہ تم کھولو۔۔۔حور نے چابی اس کے ہاتھ سے لے کر ایک پل کے لیے آزہاد کی آنکھوں میں دیکھا اور دروازہ آگےبڑھنےکے کھول دیا۔۔ دروازے کے کھولنے پر اذہار کے قدم بےاختیار پیچھے ہوئے ہی تھے کہ حور نے فورا اس کا ہاتھ تھام کر اسے پیچھے ہٹنے سے روک لیا۔۔۔۔
ہادی جو وقت گزر گیا اس سے کیا ڈرنا تم نے بڑی سے بڑی تکلیف جب برداشت کر لی تو پھر یہ کیسا خوف ہے یہ کیسا ڈر ہے ؟؟وہ برا وقت تو گزر گیا نا؟؟اب ہمیں اپنا آنے والا وقت دیکھنا ہے ہادی سارے دکھ درد تکلیف آزمائش ختم ہوئی ہادی اب صرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں اپنی آگے کی راہ میں۔۔۔ہمیں اپنے گزرے ہوئے وقت سے ڈرنا نہیں چاہیے۔۔بلکہ یہ تو انسان کو اور مضبوط بناتی ہیں جتنی تکلیفیں آپ نے سہنی تھی سہہ لی اب میں ہوں نہ آپ کے ساتھ آپ کو اپنے گزرے وقت سے ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں اس کا سامنا بہادری سے کریں کیونکہ اب میں آپ کے ساتھ ہوں۔۔۔۔
کبھی کبھی ہم اللہ کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہیں اگر وہ زندگی میں ایک بار انسان کو اس کے گزرے وقت میں دوبارہ لاکھڑا کرتا تو ؟؟مگر نہیں اس نے ہر آزمائش کے بدلے ایک انعام رکھا ہے اور وہ اس کے پسندیدہ بندوں میں سے ایک ہوتا ہے جنہیں وہ آزماتا ہے۔۔
وہ پلٹ کر اسے دیکھتے ہوئے آنکھوں میں نمی ہونٹوں پر مسکراہٹ لئے اسے مضبوط سے مضبوط تر بنا رہی تھی اس کا حوصلہ بڑھا رہی تھی۔۔اذہاد اور حور نے ایک ساتھ دروازے سے اندر قدم رکھا۔اذہار کے قدم اندر رکھتے ہی جیسے گزرے ہوئے وقت نے فلم دوبارہ سے اس کی آنکھوں کے سامنے چلانا شروع کر دی۔۔
یہاں وہ کھیلتا تھا۔۔ یہاں سے اس کی مما اسے پکڑنے آتی تھیں ۔۔ بابا یہاں بیٹھ کر اپنے آفس کا کام کرتے تھے۔۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں اس کی مما نے اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے تھیں ۔۔ یہی تو ان کا دم نکلا تھا اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوئی تھیں۔۔ جہاں وہ اپنی ماں کے جسم سے لپٹ کے رویا تھا۔۔وہ ہر ایک چیز کو اپنے ہاتھ سے چھو کر محسوس کر رہا تھا۔۔وہ چیخ چیخ کے رونا چاہتا تھا اس رات والے بچے کی طرح جب اس کی ماں اسے اکیلا چھوڑ کر گئی تھی۔۔ایک خاموش آنسو آنکھ کے کونے سے بغاوت کرتا باہر نکلا وہ اس سے پہلے زمین بوس ہوتا جب ہی کسی نے بڑی محبت سے اسے چن لیا۔۔جواب اس کا ہوا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔۔
آزہاد نے آنکھوں کو زور سے بند کرکے منہ کھول کر ایک درد بھری آہ لی۔۔ حور کے لیے یہ سب برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا اس نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر دبایا۔۔اذہاد نے جب آنکھیں بند کرکے کھولیں۔۔تو جیسے وہ خود کو برسوں جکڑے اس خوفناک یادوں کے شکنجے سے آزاد پایا وہ خود کو ایک دم ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔برسوں جلتی اس کے اندر کی بھڑکتی آگ کو حور نے ٹھنڈا کر دیا تھا۔۔اس نے مسکراتے ہوئے حور کو دیکھا اور اس کے تھامے گئے ان ہاتھوں کو سینے سے لگایا۔۔۔
تھینک یو حور تھینک یو سو مچ تم نے مجھے آزاد کردیا۔۔وہ مسکراتے ہوے اسے دیکھتے ہوئے بول رہا تھا۔۔
ہادی آپ ٹھیک ہیں؟؟ حور کو اس کی بے حد فکر ہو رہی تھی۔۔
ہاں میں بالکل ٹھیک ہوں؟؟ اس کی آواز میں اب سکون ہی سکون تھا۔۔حور نے ایک ہاتھ آگے بڑھا کے اس کے پورے چہرے پہ پھیرا۔۔ چلیں اب مجھے ہنس کر دکھائیں بہت سارا مجھے آپ روتی صورت میں اچھے نہیں لگتے۔۔۔ حور نے اس کا موڈ اچھا کرنے کے لیے ایسا بولا تھا۔۔۔
آزہاد ہلکا سا ہنسا۔۔ اس کی گال میں پڑھتے ڈمپل پر حور کی نظر ٹھہر گئی اور اس نے بے حد محبت سے اس کے ڈمپل پڑتے گال کو کھینچا۔۔اذہاد کی محبت سے چمکتی آنکھوں نے کچھ پل بنا پلکوں کو جھپکائے اسے دیکھا اورسیدھ میں اس کے سامنے کھڑا ہوا۔۔۔اور پھر ایک گھٹنا موڑ کے اس کے سامنے زمین پر بیٹھا۔۔
حور کی مسکراہٹ اس کے ارادے کو دیکھ کر ایک دم سے سمٹ گئی اور دل زور سے دھڑکا دھڑکا اور دھڑکے ہی جانے لگا۔۔
حور میں نے سوچا تھا کہ ایک حسین یادگار شام تمہارے نام لکھوں۔۔ جسے تم اور میں کبھی نہ بھول سکیں۔۔میں تمہارے لیے اردگرد کی ہر چیز کو اس خاص اور خوبصورت شام میں سجانا چاہتا تھا پھولوں سے روشنیوں سے خوشبو سے مگر اب ایسا لگتا ہے کہ اس حسین پل سے بہتر اور کوئی لمحہ نہیں ہوگا جس میں میں تمہیں خود کو تمہاری قسمت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لکھ دوں اور تمہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے وعدوں میں اپنی قسموں میں اپنے دل میں قید کرلوں تمہارا اور اپنا نام ایک ساتھ جوڑ دوں۔۔ وہ جذبے لٹاتی آنکھوں سے اور محبت بھرے لفظوں سے جیسے جادو چلا رہا تھا اور حور اس کہ جادوئی سحر میں جکڑی صرف اسے دیکھ رہی تھی اور سن رہی تھی۔۔۔
حور مجھ سے شادی کروگی؟؟ آزہاد نے دل کی بات اس کے آگے رکھ دی۔۔ حور نے مسکراتے ہوئے اذہاد کو دیکھا۔۔جادو سر چڑھ کر اس کے بول رہا تھا۔۔وہ اسے اتنی خوبصورت اتنی محبت اور پیار بھرے لفظوں سے پرپوز کر رہا تھا۔۔ حور کی آنکھیں نم ہوگئیں۔۔ اس نے گردن ہاں میں ہلای۔۔ مگر اچانک سے مسکراہٹ اس کے چہرے سے غائب ہوگئی وہ آزہاد کو معصومیت سے دیکھنے لگی۔۔ اذہار اسے اس طرح سے دیکھ کر پریشان سا ہو گیا۔۔ کیا ہوا حور ؟؟ وہ پلکوں کو جھپکتا بولا۔۔
ہادی ایک پرابلم ہے۔۔ حور نے گردن جھکا کر رونی صورت بنا کر کہا۔۔اذہاد جھٹکے سے زمین سے کھڑا ہوا حور اللہ کا واسطہ ہے پلیز میری جان مت نکالو آخر بات کیا ہے ؟؟ وہ دھڑکتے دل سے حور سے بولا۔۔
ہادی مجھے آپ کی طرح اچھا کھانا بنانا نہیں آتا آپ شادی کے بعد مجھ پر غصہ نہ کریں یا مذاق نہ اڑائیں اسی لیے میں آپ سے ابھی کہہ رہی ہوں مجھے ایک دو ڈیشز کے علاوہ اور کچھ بنانا نہیں آتا۔۔ وہ منہ بسورے اسے کہہ رہی تھی اور ازہاد منہ کھولے حیران نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔ اتنے رومانٹک اور سیریس سچویشن میں بھی حور کو سکون نہیں تھا۔۔ وہ باز نہیں آئی تھی۔۔ آزہاد نے ایک ہاتھ زور سے اپنے سر پر مارا اور غصے سے بولا۔۔۔حورر ر ر ۔۔۔۔۔میں کیا کروں تمہارا ؟؟
ہادی آپ پھر غصہ کر رہے ہیں ۔۔۔۔وہ آنکھیں ٹپٹپاتے ہوئے معصومیت سے بولی۔۔۔
اور آزہاد اس کی اس قاتل ادا پہ ہنس دیا۔۔
ہادی آپ ہنس رہے ہیں میں تو آپ کے ہاتھ کا کھانا کھا کر اس دن سے سوچ سوچ کر پاگل ہورہی ہوں کہ آپ سے کیسے بولوں مجھے اچھا کھانا بنانا نہیں آتا۔۔وہ شرمندگی سے گردن جھکائے بول رہی تھی۔۔
آزہاد نے آگے بڑھ کر اس کے چہرے کو ہاتھوں سے تھام کر اوپر اٹھایا۔۔تمہیں سوچنے کی یا پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے میں ہوں نہ آپ کا غلام میں اپنے ہاتھ سے اپنے حور کے لیے کھانا بناؤں گا۔۔۔بلکہ بناؤں گا ہی نہیں کھلاؤں گا بھی اپنے ہاتھوں سے ۔۔اور آپ کا جب بھی دل کرے مجھے اپنے ہاتھ کا بنا کچھ بھی کھلانے کا تو آپ جیسا بھی بنائیں گی میں بالکل آپ کا مذاق نہیں اڑاؤں گا اور غصہ کرنا تو دور کی بات ہے۔۔۔وہ اس کے سامنے سینے پر ہاتھ رکھتا جھک کر بولا۔۔
حور ایسے خوش ہوتی ہنسی جیسے اس کی سب سے بڑی مشکل ازہاد نے پل میں حل کردی ہو۔۔۔سچی ہادی ہاؤ سویٹ۔۔۔۔آپ کتنے اچھے ہیں مجھے اپنے لئے ایسے ہی ہسبینڈ کی تلاش تھی۔۔حور نے جذبات سے قابو ہو کر بے اختیار بول دیا۔۔۔اور ازہاد نے ایک آئی برو اٹھاکر حور کو گھور کے دیکھا۔۔۔
وہ پہلے تو گڑبڑ آئی پھر ہنسی۔۔ میں مذاق کر رہی تھی ہادی۔۔وہ اس کے بازو پر ہاتھ رکھتی بولی اور آزہاد نے تبھی مسکراتے ہوئے اپنے کوٹ سے ایک خوبصورت بلیک کلر کا باکس نکالا۔۔حور نے حیران نظروں سے ازہاد اور پھر اس باکس کو دیکھا۔۔
یہ میں نے بہت پہلے تمہارے لیے خاص اپنی پسند سے ڈیزائن کروایا تھا سوچا تھا کہ کسی خاص موقع پر خاص لمحے میں تمہیں پہناؤں گا مگر لگتا ہے کہ اس موقع سے بہتر اور کوئی دوسرا موقع نہیں ملنے والا یہ گھر یہاں سے جڑی یادیں یہاں بیتایا میرا ہر ایک پل میرے لیے بہت خاص ہے حور۔۔ازہاد نے حور سے باتیں کرنے کے ساتھ وہ باکس بھی کھولا جس میں ایک خوبصورت قیمتی اور ہیروں سے سجا وہ بریسلیٹ جگمگا رہا تھا۔۔۔اذہاد نے وہ بریسلیٹ باکس سے نکال کر ہاتھ میں لیا اور وہ باکس کو سامنے ایک ٹیبل پر بند کرکے رکھا۔۔
حور اجازت ہے؟؟وہ اس بریسلیٹ کو حور کے ہاتھ کی زینت بنانے کی اجازت مانگنا رہا تھا۔۔اپنی محبت کی اس نشان کو اس کے وجود کے ساتھ جوڑنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔۔
حور نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنا سیدھا ہاتھ اس کے آگے بڑھا دیا۔۔۔اذہاد کی آنکھیں بھی اس کی آنکھوں کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔۔
اس بریسلیٹ کو بے حد خوبصورتی سے ڈیزائن کیا گیا تھا اس کی بناوٹ ایک خوبصورت چمکتے کڑے کی شکل میں تھی جس کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے قیمتی ہیرے جڑے ہوئے تھے اس کڑے میں ایک لاک تھا جو چابی سے کھلتا سکتا تھا اور ایک بار اسے پہننے کے بعد چابی سے اس کا لوک کھولنے کے علاوہ اسے ہاتھ سے باہر نکالنا ناممکن تھا اس کڑے کے ساتھ ایک خوبصورت زنجیر جڑی تھی جو ایک خوبصورت کوئین کراون کی شکل کی رنگ پر ختم ہوتی تھی اس پے بھی بے شمار باریک بریک ہیرے جڑے ہوے تھے کڑے اور رنگ کے بیچ کی زنجیر پر چاند اور ستارے لٹکاے گئے تھے۔۔
حور کسی بات پر حیران ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو اسے رنگ دیکھ کر جھٹکا ضرور لگا تھا۔۔اس نے بھی تو اذہاد ک لیے ایسی ہی کنگ کراؤن کے شکل کی رنگ پسند کی تھی۔۔اور ویسی ہی آزہاد اس کے لئے بنوا کر لایا تھا۔۔
اذہار اس کے حیران چہرے کو مسکراتا ہوا دیکھ کر گلے میں لٹکی شرٹ کے پیچھے سے چین باہر نکالی جس میں ایک چھوٹی سی چابی لٹک رہی تھی اس کا مطلب بریسلیٹ کے لوک کی چابی اذہار کے گلے میں تھی۔۔ازہاد نے بریسلیٹ کا لوک اپنے گلے میں ڈالی چین کے ساتھ جڑی اس چابی سے کھولا اور حور کے ہاتھ میں بے حد محبت سے وہ بریسلیٹ پہنا دیا۔۔حور یہ ایک بریسلٹ نہیں ہے یہ میری محبت کی ہتھکڑی ہے جسے تم اس چابی کے علاوہ کھول نہیں سکتی یہ بریسلیٹ ہمیشہ تمہارے ہاتھ میں سجا رہے گا میری محبت کی طرح ہے اور یہ چابی جسے میں نے اپنے دل کے پاس سنبھال کر رکھی ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ محبت کی ہتھکڑی میرے نام کی ڈالی گئی ہے۔جس کا نگہبان میں ہوں تم اسے میری اجازت کے بنا خود سے الگ نہیں کر سکتی۔۔وہ آنکھوں میں محبت کا جہاں آباد کیے حور کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔۔وہ بریسلیٹ حور کے ہاتھ میں ایسے جیسے رہا تھا جیسے وہ حور کے بنا اداس اور مدھم ہو اور حور کے ہاتھ میں آتے ہی اس شان بڑھ گئی ہو وہ مکمل ہو گیا ہو۔۔ آزہاد نے محبت سے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر دیکھا۔۔۔حور تو اس کی محبت میں ایسی جکڑی جاچکی تھی کہ وہ اب کھل کر سانس بھی نہیں لے پا رہی تھی۔۔آزہاد کی محبتوں کے سمندر میں ڈوب کروہ گہری کھائیوں میں پہنچ گئی تھی۔۔جہاں سے نکلنا اس کے لیے ناممکن تھا۔۔
حور نے اپنے ہاتھ کو مسکرا کر دیکھا جہاں اذہاد کی محبت کی وہ قیدی بنا دی گئی تھی۔۔
اس نے چمکتی آنکھوں سے آزہاد کو دیکھا۔۔ ہادی میرے پاس بھی آپ کو دینے کے لیے ایک سرپرائز ہے۔میں نے بھی سوچا تھا کہ آپ کا وہ کسی خاص موقع پر دونگی۔۔مگر میرا دل کر رہا ہے کہ بس اب دے ہی دوں۔۔۔ وہ بچوں سی خوشی لیے اذہار سے بولی اور بھاگتی ہوئی دروازے سے باہر اس کی گاڑی کی طرف گئی۔۔۔اس کی گاڑی کا دروازہ کھول کر اس میں سے اپنا بیگ نکالا اور بیگ میں ہاتھ ڈال کر اس میں سے ایک چھوٹی سی ڈبیہ بھی باہر نکالی اور بھاگتی ہوئی پھر آزہاد کے پاس آئی۔۔اذہاد حیران پریشان سا اسے بھاگتا دوڑتا دیکھ رہا تھا۔۔۔حور نے شرارت سے وہ چھوٹا سا باکس اس کے آگے بڑھایا۔۔جب آزہاد نے ہاتھ آگے بڑھا کر وہ باکس تھامنا چاہا تو حور نے جھٹکے سے دونوں ہاتھوں کو پیچھے کر لیا۔۔اور شرارت سے اسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔ ایسے نہیں؟؟
اور پھر وہ بھی اذہاد کی طرح زمین پر دونوں گھٹنوں کو موڑ کر اس کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔
جاری ہے
