Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08
پتہ نہیں کیسا ہوگا وہ گھمنڈی؟؟ دوائی بھی لی ہوگی یا نہیں؟؟؟ کیا تھا ایک دو دن ہاسپٹل میں ہی ایڈمٹ رہتا مگر نہیں وہ تو خود کو پتہ نہیں کون سی توپ سمجھتا ہے۔۔۔ویسے حور توپ نہیں میزائل ہے پورا میزائل وہ۔۔۔حور ناشتہ کر رہی تھی اور خود سے باتیں بھی کیے جا رہی تھی ہن۔۔۔۔۔مجھے کیا میں کیوں اس کے بارے میں سوچ رہی ہوں ۔۔ جو بھی ہو وہ میزائل۔۔ بوم۔۔ گولا۔۔ میری بلا سے وہ ذہن جھٹکتی خود سے بولی۔۔۔اور جلدی سے تیار ہو کے ہوسپیٹل کے لیے نکلی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہاد گاڑی بھگاتا گھر پہنچا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے کیا ہوا ہے کیوں وہ ایک چھوٹی سی بات کو اتنا خود پر سوار کر رہا ہے یہ پہلی دفعہ تو نہیں تھا کہ اس نے کسی کے ساتھ انتہائی سخت رویہ رکھا یا کسی کو تکلیف دی ہو وہ تو شروع سے ہی ایسا تھا تنہا اکیلا گھمنڈی سخت چٹان اپنی تنہا اکیلی زندگی میں مست جیتا وہ کسی کی موجودگی برداشت نہیں کرتا تھا پھر وہ کیسے دھڑلے سے اس کی تنہا ویران زندگی میں آگئی اس کی سوچوں میں ڈیرے ڈالنے۔۔۔کیسی کوئی ناز سی تتلی اس جنگلی شیر کے ساتھ زبردستی کر گئی وہ خود بھی حیران تھا اس پر اور اب کیوں وہ اس کو دی گئی تکلیف کے بارے میں سوچ سوچ کے خود کو نقصان پہنچائے جا رہا تھا۔۔۔۔کیوں ؟؟؟کیوں ؟؟؟ وہ بیڈ پے بیٹھا انگلیوں کو بالوں میں پھنساے نہ چاہتے ہوئے بھی اسے ہی سوچے جا رہا تھا۔۔۔یہ اس کے اختیار سے باہر تھا کہ وہ اسے نہ سوچتا اور بھول جاتا۔۔
اس نے سر اٹھایا۔۔۔ڈیلن۔۔۔ڈیلن اور زور سے اسے آواز دی۔۔ڈیلن ہوتا تو آتا ڈیلن کو ابھی گھر پہنچنے میں وقت لگنا تھا۔۔اذہار غصے میں اٹھا اور زور سے ایک ہاتھ دیوار پر دے مارا۔۔۔بس بہت ہوگیا اذہاد اب نہیں اب تم اس کے بارے میں اور نہیں سوچو گے تم آزہاد عریض ہو تمہاری زندگی میں کسی انسان کی کوئی گنجائش نہیں سب دھوکہ ہے فریب ہے جھوٹ ہے کوئی کسی کا نہیں ہوتا سب چھوڑ کے چلے جاتے ہیں اکیلا کر جاتے ہیں نہیں میں تو کل بھی اکیلا تھا اور آج بھی ہوں آگے بھی اکیلا ہی رہوں گا اور مجھے کسی انسان کی ضرورت نہیں اکیلا انسان کبھی نہیں ہارتا کبھی نہیں ڈرتا کبھی نہیں روتا اسے کسی چیز کے کھو نے کا ڈر نہیں ہوتا ہاں میں ہوں وہی اذہاد عریض۔۔۔وہ ہاتھ کی پٹی سے ٹپکتے خون کو دیکھتے سفاکی سے سوچتا ادھر ادھر چکر کاٹ رہا تھا وہ خود کو ٹھنڈا کرتا واپس بیٹھ گیا۔۔۔
مگر انسان جو سوچتا ہے ضروری نہیں کہ وہی ہو انسان جیسے خود پہ اتنا غرور ہے وہ یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ وہ تو مٹی کا پتلا ہے جس کی ڈور اللہ کے ہاتھ میں ہے اور غرور تو اللہ پہ ہی سجتا ہے انسان تو فنا ہے مٹی ہے مٹی میں مل جانا ہے۔۔۔۔۔۔
ڈیلن گھر پہنچا تو اذہاد کے کمرے کا دروازہ بند دیکھا وہ قریب اتا ہلکا سا دروازہ بجاتا اندر آیا۔۔
اذہاد خاموش بیڈ پر لیٹا تھا ڈیلن نے دیکھا اس کے ہاتھ کی بندھی پٹی سے خون بہ رہا ہے۔سینور آپ کے ہاتھ سے خون نکل رہا ہے آزہاد نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔سینور۔۔۔۔ سینور۔۔۔۔۔ ڈیلن آوازیں دیتا اس کے قریب آیا تو دیکھا اذہاد آنکھیں بند کئے خاموش لیٹا ہے۔۔سینور سنئے ڈیلن نے جیسی ہی آزہاد کو ہاتھ لگایا تو دیکھا اسے پھر تیز بخار ہو رہا تھا۔۔ اور ہاتھ سے خون بھی بہہ رہا تھا۔۔۔اسے یاد آیا ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اس کی روز بینڈیج ہوگی اور دوائیاں وقت پر کھائے تو ہی جلدی ٹھیک ہو گا وہ الٹے قدم پیچھے گیا۔۔اور بھاگتا ہوا گاڑی تک آیا وہ تیز رفتار سے گاڑی چلاتا ہوسپٹل پہنچا ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی سے ڈاکٹر حورین کا پوچھا۔۔
جی ہاں وہ آئیں ہیں۔۔ ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی نے بتایا۔۔۔ وہ بھاگتا ہوا حورین کے کیبن میں آیا۔۔۔
ڈاکٹر حورین۔۔۔ بیلا نے مڑ کے ڈیلن کو دیکھا۔۔
جی؟؟
مجھے ڈاکٹر حورین کا بتائیں کہاں ہیں وہ ؟؟ ڈیلن ہانپتے ہوئے بیلا سے بولا۔۔۔
وہ راونڈ پہ گئی ہیں کوئی کام ہے آپ کو؟؟بیلا بھی اس کی حالت دیکھ کے فورا بولی۔۔
مجھے بتایں وہ کس طرف گئی ہیں وہ جلدی سے بولا۔۔
بیلا اسے حورین کے کیبن سے باہر لاتی اسی طرف لے جانے لگی جہاں حور گئی تھی کہ وہی پیٹر نے ڈیلن کو دیکھا اور ان کی طرف آتا بولا بیلا کیا ہوا ہے؟؟ بیلا پیٹر کی آواز سنتی رکی۔۔۔
ڈاکٹر پیٹر یہ ڈاکٹر حورین کا پوچھ رہے ہیں ۔۔وہ ڈیلن کی طرف اشارہ کرتی بولی پیٹر ڈیلن کو پہچان گیا تھا اسی لیے وہ اس کے پاس آیا۔۔۔ڈیلن سب ٹھیک تو؟؟ ہے آزہاد کیسا ہے؟؟ پیٹر ڈیلن سے بولا۔۔
ڈیلن حیران ہوتا بولا۔۔ نہیں اس وقت وہ ٹھیک نہیں ہے میں ڈاکٹر حورین کو اپنے ساتھ لے جانے آیا ہوں وہ ان کے کل پیشنٹ تھے۔۔
پیٹر جانتا تھا کہ کل اذہاد کو سیریس کنڈیشن میں دوبارہ ہوسپٹل لایا گیا ہے اور حور نے کیس ہینڈل کیا ہے۔۔اوکے آؤ آپ میرے ساتھ۔۔
ڈیلن حیران ہوتا پیٹر کے پیچھے چل دیا ۔۔ڈاکٹر پیٹر کیوں سینور کے لیے اتنا پریشان ہوتے ہیں؟؟ سینور نے کیوں ان کے ساتھ اتنی بدتمیزی کی تھی؟؟ کیا دونوں ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے ہیں؟؟ہزار سوال تھے جو اس کے دماغ میں اٹھ رہے تھے جن کا جواب اذہاد کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔
ڈاکٹر حورین۔۔پیٹر نے آواز دے کے حور کو روم سے باہر بلوایا۔۔۔
حور پریشان ہوتی تینوں کو دیکھتی روم سے باہر آئی جی ڈاکٹر بیٹر ؟؟
ڈاکٹر حورین آپ کو ہسپتال کی طرف سے ایک پیشنٹ کے چیک اپ کے لیے بھیجا جاتا ہے جو کہ آپ ہی کے پیشنٹ ہیں آپ کے ساتھ ڈاکٹر بیلا بھی جائیں گی۔۔
حورپیٹر کو آنکھیں پھاڑے دیکھنے لگی ۔۔۔مگر ڈاکٹر پیٹر میں کیسے؟؟؟حور نے مشکل سے آواز نکالتے ہوئے کہا۔۔۔
ڈاکٹر حورین آپ بالکل فکر نہیں کریں آپ دونوں ہاسپیٹل کی ذمہ داری پے جائیگی۔۔۔پیٹر نے دونوں کو مطمئن کیا۔۔۔
اوکے۔۔ حور نے آہستہ سے گردن ہاں میں لائی اور بیلا کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔ وہ دونوں ڈیلن کے پیچھے تیز تیز چل رہی تھی ایک پروفیسر ڈاکٹر کی طرح ہاسپٹل کی طرف سے دی گئی گاڑی میں حور اور بیلا دونوں بیٹھی تھی اور ڈیلن اگے اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔۔
حور اٹس اوکے۔۔۔ یہ تمہارا فسٹ ٹائم ہے مگر ایسا ہوتا رہتا ہے میں جاتی رہتی ہوں ۔۔۔کچھ نہیں ہوگا میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔ بیلہ نے مسکراتے ہوئے حور کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے اسے تسلی دی۔۔
حورنے بیلا کو خود کو مضبوط ظاہر کرتی مسکراتی نظروں سے دیکھا اور سامنے دیکھتے سوچنے لگی۔۔بیلا تم نہیں جانتی۔۔ میں جس گھر میں جارہی ہوں یہ اس انسان کا گھر ہے جس کی وجہ سے میں روئی تھی اور یہ سب ڈرامہ ہوا تھا مجھے اس انسان سے ڈر لگ رہا ہے یہاں تو میں ہوسپٹل میں تھی تو اس نے مجھے مارنے کی کوشش کی۔۔ اب تو میں اس کے گھر ہی جارہی ہوں وہ تو مجھے مار کے وہی کہیں پھینک بھی دے گا تو کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔۔۔ مما۔۔۔ بابا۔۔۔۔۔وہ روتی صورت بناتی خاموشی سے گردن پہ ہاتھ رکھے سوچ رہی تھی۔۔۔
لمبا خوبصورت صاف راستہ جس کے دونوں طرف لمبے لمبے درخت لگے تھے جو تھوڑی دور جا کے ایک خوبصورت درختوں کے بیچ بنے محل کے سامنے ختم ہوتا تھا بے حد خوبصورت اور بہت بڑا محل جیسے کسی بادشاہ کا ہو۔۔۔ وہ دونوں حیران ہوتی ڈیلن کے ساتھ اس کے پیچھے آئی۔ ۔ ایسا نہیں تھا کہ حور نے پہلے کبھی اتنا بڑا اور خوبصورت گھر نہیں دیکھا تھا بلکہ اس نے ایسا حسین اور الگ طرح کا بناخوبصورت
محل نہیں دیکھا تھا گرے کلر کا وہ کیسٹل نما گھر اپنی شان پہ ناز کر رہا تھا۔۔ وہ کیسٹل خوبصورت جھیل کے اوپر بنا ہوا تھا جس کے سامنے کی طرف بے شمار حسین پودے لگے ہوئے تھے ایسا نظارہ شاید ہی کوئی خواب میں ہی تصور کرے۔۔۔وہ آہستہ قدم اٹھاتی اندر آئی۔۔ اندر کی چمک ہی الگ تھی ہیرے کی طرح چمکتا گھر بے حد قیمتی چیزوں سے سجا ہوا تھا۔۔بے حد حسین سیڑھیاں جو اوپر کی طرف جا رہی تھی۔۔وہ ڈیلن کے پیچھے چلتی اوپر آئی۔۔
آزہاد اس وقت بےحد تیز بخار میں تپ رہا تھا لیکن ہوش میں تھا اور بند آنکھوں سے جان سکتا تھا کہ کون قدم آہستہ آہستہ اٹھاتا اس کی دنیا میں داخل ہورہا ہے وہ اس کی خوشبو کو دور سے سونگھ سکتا تھا ایسا کیوں تھا اسے اب سمجھنا ہی تھا وہ اب اس
کہ جال سے چاہ کر بھی نہیں نکل پا رہا تھا وہ جکڑا جاچکا تھا پوری طرح سے بالکل ویسے ہی جیسے اس کی ماں جکڑی گئی تھی ۔۔۔
ڈیلن ایک بڑے سے دروازے کے سامنے روکا اور ہاتھ کے اشارے سے حور کو اندر جانے کا اشارہ کیا۔حور نے آہستہ سے دروازے پے ہاتھ رکھا اور دروازہ کھلتا چلا گیا وہ آہستہ قدم اٹھاتی اندر آئی۔۔
اذہاد بند آنکھوں سے جان گیا کہ کون آیا ہے اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔ حور کے ہر بڑھتے قدموں کے ساتھ ساتھ آزاد کا دل بھی دھڑک رہا تھا۔۔کس کے لیے دھڑکتا ہے یہ دل؟؟؟ کس نے دھڑکا یہ دل؟؟؟ اندر سے کہیں خاموش آواز آئی حورین ۔۔۔
جس کے وجود کے احساس سے اس کی خوشبو سے ہی آزہاد کا دل دھڑکنے لگتا تھا۔۔
چلی جاؤ پلیز واپس چلی جاؤ میری مشکل اور مت بڑھاؤ۔۔۔۔ اگر میں اس راستے پر چل نکلا تو میں تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ میں اکیلا سفر نہیں کر سکوں گا۔۔۔ تمہیں میرا ساتھ دینا ہوگا پھر۔۔۔ چاہے وہ خوشی سے ہو یا پھر زبردستی ۔۔۔ پلیز چلی جاؤ۔۔۔یہ راستہ صرف دکھ اور تکلیف کی طرف لے جاتا ہے ۔۔انسان تباہ ہوجاتا ہے برباد ہو جاتا ہے۔۔۔پلیز چلی جاؤ ۔۔
حور نے دیکھا وہ سامنے ہی اپنے جہازی سائز بیڈ پر بالکل بیٹھ کے کنارے منہ دوسری طرف کر کے لیٹا ہوا تھا۔۔اس کا کمرہ بھی اس کی طرح شاندار تھا بے حد خوبصورت اور قیمتی چیزوں سے سجا ہوا ڈیسنٹ بلیک اور گلے گرے کلر کے قومبنیشن کا۔۔۔ اس کے بیڈ کے سامنے کی دیوار پوری شیشے کی بنی ہوئی تھی۔۔اور شیشے کے باہر نظر آتی خوبصورت جھیل کا نظارہ تھا وہ منظر دیکھنے والے کو جنت کا چھوٹا سا ٹکڑا تصور کرتا۔۔وہ چلتی آزہاد کے قریب آئی۔۔ ڈیلن نے اس کے لیے بیڈ کے قریب کرسی رکھی۔۔ حور کرسی پر بیٹھ گئی۔۔ بیلا بھی وہی رکھی ایک کرسی پر بیٹھ گئی بیلا گردن ادھر کرتی آزہاد کی شان و شوکت کو حیران نظروں سے دیکھے جا رہی تھی۔۔حور نے آہستہ سے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا اسے بہت تیز بخار تھا حور نے ڈیلن سے باول میں ٹھنڈا پانی منگوایا۔۔ڈیلن پانی لایا تو حور نے اس کے سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھیں۔۔تھوڑی ہی دیر میں آزہاد کا ٹمپریچر نارمل ہوگیا اسنے آزہاد کو ایک انجیکشن لگایا۔۔ حور نے دیکھا اس کے ہاتھ بے حد خوبصورت تھے اور ان پر بنے ٹیٹو اس کے ہاتھوں کو اور خوبصورت بناتے تھے۔۔حور نے جھک کے اس کے سر کی پٹی کھولی آزہاد کی ناک حور کی گردن کے بلکل قریب تھی وہ گہری سانس لیتا اس سے خوشبو سونگھ رہا تھا۔۔وہ اس کے ہاتھوں کی نرماہٹ اور ملائمیت کو ساتھ محسوس کر سکتا تھا۔۔وہ اس کے دھڑکتے دل کی دھڑکن ایسے سن سکتا تھا جیسے وہ حور کا نہیں اس کا اپنا دل ہو۔۔دونوں کے دل بے حد تیز ایک ساتھ دھڑک رہے تھے حور نے آہستہ سے اس کا سر اٹھایا اور پٹی کھولی اس کا زخم صاف کیا جو پہلے سے تھوڑا بہتر تھا.۔۔اچانک حور کی نظریں جھکی اور اس کے حسین چہرے پر نظر پڑتے ہی نظر واپس پلٹنا بھول گئی۔۔وہ بے انتہا حسین تھا خوبصورت نین نقش بڑی بڑی آنکھیں گھنی پلکیں مڑی ہوئی تھی۔ لمبی کھڑی مغرور ناک ۔۔بھرے بھرے خوبصورت ہونٹ ۔۔شارپ فیس کٹ۔اور اس پہ ہلکی داڑھی۔۔ وہ سوتے ہوئے حور کو کوئی معصوم سا بچہ لگا۔۔وہ ہاتھ روکے اسے مدھوش دیکھتی ہی گی۔
حورین۔۔۔ بیلا کی آواز نے اسے ہوش میں لایا۔۔
ہاں ۔۔۔کیا ہوا۔۔؟؟؟ حور نے پلٹ کے بیلا کو ایسے دیکھا جیسے گہری نیند سے جاگی ہو۔۔۔
اب کیسا ہے وہ ؟؟بیلہ نے حور سے آزہاد کے بارے میں پوچھا۔۔
حور نے پلٹ کے دوبارہ آزہاد کو دیکھا ہاں آپ پہلے سے بہتر ہیں میں نے ٹریٹمنٹ کر دی ہے اب یہ ٹھیک ہوجائیں گے۔۔حور نے بیلا کو آہستہ آواز میں جواب دیا۔۔
حور نے اسی طرح اس کے ہاتھ کی پٹی بھی کی وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ کیوں وہ اس کے لیے بے چین ہو رہی ہے؟؟ کیوں اس کا دل کر رہا ہے وہ اس کی ایسی حالت پر زور زور سے روئے۔۔ اس نے اب نظروں کو اٹھا کے ازہار کو دیکھنے کی گستاخی نہیں کی یہ نظریں تو ایک بار اسے دیکھنے کے بعد دوبارہ پلٹنے کا نام ہی نہیں لیتی تھیں۔ ۔یہ آنکھیں مجھے ذلیل کروائی گی۔۔ اس نے آزہاد کی آنکھوں کو تصور کرتے کوسہ اور جلدی سے اٹھی۔۔
میں نے ٹریٹمنٹ کردی ہے بخار آہستہ آہستہ ہی جائے گا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے دوائی ٹائم پر دیجئے اور کھانے کا خاص دھیان رکھیئے۔۔وہ ڈیلن سے بولتی تیز قدم اٹھاتی دروازے سے باہر نکل گئی بیلا اور ڈیلن اس کے پیچھے آے۔ ۔حور نے جاتے ہوئے پلٹ کے ایک بار بھی آزہاد کو مڑ کے نہیں دیکھا مگر اس کے دروازے سے باہر جاتے قدموں کو ان دو آنکھوں نے ضرور دیکھا تھا جن آنکھوں نے کبھی کسی کو پلٹ کے دیکھنا تو دور کسی کو ایک نظر دیکھنا تک گوارا نہ کیا تھا آج وہ آنکھیں جاتی حور کو حسرت سے دیکھ رہی تھی۔۔ اس کی آنکھ سے آنسو ٹپکا میں تھک گیا خود سے بھاگتے بھاگتے میں اور نہیں بھاگ سکتا۔۔اس نے تھک کے گردن زور سے تکیے پر ماری آنسو آنکھوں سے بہے جارہے تھے۔۔میں نے کہا تھا اسے ایک بار نہیں بار بار کہا تھا کہ مت آؤ میرے قریب میں آگ ہوں تم جل جاؤں گی مگر نہیں اس نے ایک بار بھی میری نہیں سنی ہر بار زبردستی میرے قریب آئ اب میں اکیلے اور نہیں جل سکتا اس آگ میں تمہیں بھی میرے ساتھ جلنا ہوگا حورین محبت کرنا آسان ہے مگر اس راہ پہ چلنا اور اسی نبھانا بہت مشکل یہ قربانیاں مانگتی ہے سکون چھین لیتی ہے یہ محبت انسان کو مار دیتی ہے جیتے جی انسان ہزار بار اندر سے مرتا ہے محبت میں انسان ہار جاتا ہے کس کو محبت نے خوشیاں دی؟؟کون محبت میں جیتا ہے ؟؟یہاں ہر کوئی محبت میں رویا ہے ہارا ہے میں نے دیکھا ہے محبت میں ایڑیاں رگڑتے زندگی کو ہارتے ہوئے محبت جیسی ظالم چیز دنیا میں کوئی نہیں ۔۔حورین محبت نیند چین سانس سب کچھ چھین کے پھر امر ہوتی ہے۔۔ تم نے مجھے گھسیٹا ہے اس محبت کی راہ پے میں اکیلے سفر نہیں کروں گا حورین تمہیں بھی ساتھ دینا ہوگا میرا۔۔وہ لال آنکھیں لئے اٹھتا ہوا بولا میں نہیں ہاروں گا میں اس محبت کو جیت کے دکھاؤں گا۔۔ میں ازہاد عرض ہوں۔اذہاد نہ تو کبھی کسی سے ہارا ہے اور نہ ہی ہارے گا۔پھر وہ چاہے اس دنیا سے آگے نکلنے کی ریس ہو یا محبت کی ۔۔اذہاد عریض ہمیشہ جیتا ہے اور آگے بھی جیتے گا۔۔ مجھے اگر پوری دنیا سے بھی اپنی محبت کے لیے لڑنا پڑے تو میں لڑوں گا اب ازہاد عریض پیچھے نہیں ہٹے گا۔۔اور حورین اس میں میرا ساتھ خود اپنی مرضی سے دے گی یہ میرا خود سے وعدہ ہے۔۔دنیا دیکھےگی اذہاد کی محبت کو جو کبھی کسی نا کی ہوگی۔۔میں ایسی محبت اپنی حور سے کروں گا۔۔۔وہ نظر آتے شیشے میں خود کے عکس کو دیکھتا چیلینج کرتا ہوا بولا اور گل پے گرے آنسو کو اپنی پوروں پے چنتا پھر انہیں بے دردی سے ہوا مے اچھالتا مسکرایا۔۔
تیار ہوجاؤ اذہاد عریض زندگی کی سب سے بڑی جیت کو جیتنے کے لئے اور پھر اس شاندار جیت کو سیلیبریٹ کرنے کے لئے۔۔وہ گردن اکڑاے ایک آئی برؤ اٹھاے دونوں ہاتوں کو جیب میں ڈالے کمرے کے بیچ کھڑا مغرور اذہاد عریض خود کو دیکھتا مسکراتے ہوے ایک عزم سے بولا۔۔۔ خود سے محبت کا اعتراف کرنے کے بعد وہ جیسے پر سکون سا ہوگیا تھا ۔۔۔
وہ جتنا محبت سے بھاگ رہا تھا محبت اسے اتنا ہی کمزور کرتی جا رہی تھی۔۔اور اب محبت سے نظر ملا کے اعتراف کرنے کے بعد جیسے وہ خود کو اب پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور محسوس کر رہا تھا۔اس کی محبت اس کے ساتھ ہو تو وہ دنیا کو مٹھی میں قید کر سکتا تھا۔۔اس نے حور کی دھڑکنیں سنی تھی اسے احساس تھا کہ وہ بھی ایک دن اس کی محبت کی اسیر ضرور ہوگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم بابا جانی کیسے ہیں آپ؟؟ مما کیسی ہیں آپ؟؟ اسکرین پر نظر آتے ماں باپ کو محبت سے دیکھتی بولی۔۔
وعلیکم اسلام میری جان ہم ٹھیک ہیں تم کیسی ہو ارتضیٰ بولے۔۔
دیکھیں کتنی کمزور ہوگئی ہے میری بچی اس پڑھائی نے میری بچی کی ساری تروتازگی چھین لی۔۔ عظمیٰ ناراض ہوتی بولی۔
حور ہنسی مما آپ کو بس میری صحت کی فکر رہتی ہے میں ٹھیک ہوں کھاتی ہوں پیتی ہوں آرام بھی کرتی ہوں بابا آپ سمجھآئے نہ مما کو۔۔۔وہ اب باپ سے بولی ماں کی اتنی فکر اسے ڈسٹرب کرتی تھی۔۔ ارے بھئی میں نہیں بولتا آپ کی مما اور آپ جانیں آپ کی اسٹڈی کیسی جارہی ہیں ؟؟
بہت اچھی بابا وہ ہنستی ہوئی بولی کافی لمبی بات کرنے کے بعد اب وہ اٹھی اور تیارہونے چلی گئی اسے تھوڑی دیر میں بس ہاسپیٹل کے لیے نکلنا تھا وہ جیسے ہی دروازہ کھولتی باہر آئی اس نے اپنے دروازے کے سامنے حسین پھولوں کا بڑا سا گلدستہ دیکھا وہ جھکتی ہوئی پھول اٹھاتی اور حیرت سے اسے الٹ پلٹ کے دیکھنے لگی رنگ برنگی پھولوں سے سجا گلدستہ جس میں چھوٹا سا ایک سوری کا کارڈ لگا تھا۔۔ حور نے سر باہر نکال کے آگے پیچھے دیکھا کہ کہیں کوئی غلطی سے اس کے دروازے پر تو یہ رکھ کے نہیں چلا گیا مگر وہاں کوئی نہیں تھا وہ ویسی گلدستہ لیتی آگے بڑھی اور وہاں تھوڑی دور جا کہ ایک بڑے سے ڈسٹ بن میں گلدستہ پھینک دیا۔۔ اور گاڑی میں بیٹھتی آگے نکل گئی کسی نے دور سے بیٹھے یہ نظارہ صاف صاف اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی اسے ایسی ہی امید تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت بہت تیزی سے ختیجہ سے سب کچھ سیکھ رہی تھی وہ دونوں بیٹھی قرآن پاک پر ڈسکس کر رہی تھی۔۔۔
لیزہ۔۔۔ جنت نے گھبرا کے پیچھے دی گئی آواز پے پلٹ کے دیکھااور حیران رہ گئی دونوں ایک دوسرے کو حیران ہوتے دیکھ رہے تھے۔۔۔
ذیاد۔۔ لیزہ نے آہستہ سے آواز میں اس کا نام لیا۔۔۔
زیاداسے حیران ہوتا دیکھ رہا تھا اس کا دل یوں ہی تو نہیں اسے تمام لڑکیوں سے سب سے الگ سمجھتا تھا۔۔
زیاد میری بات سنو دیکھو تم نے جو بھی دیکھا پلیز یہ کسی سے بھی مت کہنا۔۔جنت دو قدم آگے بڑھتی زیاد سے گھبرا کے بولی ابھی وہ تیار نہیں تھی سب کو فیس کرنے کے لئے ۔۔۔
زیاد اس کے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھ کے مسکرایا۔۔۔ جنت ۔۔جنت۔۔نام رکھا ہے نہ۔۔ وہ شرارت سے بولا۔۔
جنت نے ڈرتی آنکھوں سے زیادہ کو دیکھا اور گردن ہاں میں لائی۔۔
ہممم ۔۔۔۔۔بہت اچھا نام ہے جنت۔۔ کیا یہ جنت میری ہو سکتی ہے؟؟ وہ آنکھوں میں محبت لئے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔۔
جنت جس کی آنکھوں میں پہلے خوف تھا راز فاش ہونے کا اب ان آنکھوں میں حیرانگی تھی۔۔ کیا ؟؟کیا کہا تم نے میں سمجھی نہیں؟؟۔
میں نے کوئی چائنیز زبان میں تو نہیں کہا اچھا میں اور آسان طریقے سے کہتا ہوں۔۔۔وہ ایک گھٹنا موڑتا زمین پر بیٹھا اور سیدھا ہاتھ سامنے پھیلاتے ہوئے بولا۔۔ مجھ سے شادی کرو گی جنت۔۔
اب جنت کے ساتھ ختیجہ بھی منہ کھولے زیاد کو دیکھ رہی تھی جنت نے صاف اس کی بے حد حسین آنکھوں میں خود کے لئے محبت دیکھی تھی۔۔
ہاں بول دو جنت ایسا موقع پھر نہیں آئے گا ختیجہ خوشی سے بولی۔۔
زیاد ویسی بیٹھا اس کے جواب کا انتظار کر رہا تھا اور جنت نے مسکراتے ہوئے آہستہ سے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا اور گردن ہاں میں ہلائی۔۔کچھ ہی دنوں میں پوری یونیورسٹی جان گئی تھی کہ جنت اور زیاد کے بیچ کیا ہے۔۔جو لڑکیاں زیاد پر مرتی تھی وہ دونوں کو ایک ساتھ دیکھتی جلتی تھیں دونوں محبت کی مثال تھے ۔۔جنت کو ختیجہ کے ساتھ اب زیاد کی مدد بھی ملی اسلام کو بہتر سے بہتر جاننے کے لئے جنت کو اور کیا چاہیے تھا اللہ نے اس کے لئے بہت مضبوط زیاد کی صورت سائبہ بنا کر بھیجا تھا۔۔جو سے گرنے سے بچاتا اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے والا تھا اسے اور کیا چاہیے تھا وہ ہر دم اللہ کی شکر گزار رہتی تھی۔۔ ذیاد نے اس سے کہا تھا کہ تعلیم ختم ہوتے ہی وہ اپنے بابا سے جنت کے بارے میں بات کرے گا۔۔زیاد اگر تمھارے بابا نے مجھے ایکسیپٹ نہیں کیا تو؟؟
زیاد نے معصومیت سے اس کا چہرہ دیکھا تمہیں میرے بابا کیوں تمہیں ایکسیپٹ کریں گے؟؟ ان کا بیٹا تم سے شادی کر رہا ہے وہ تمہیں ایکسیپٹ کر رہا ہے کیا یہ کافی نہیں ؟؟؟
جنت نے ایک چپت لگائی اس کے کاندھے پہ۔۔۔زیاد زور سے ہنسا۔۔تمہیں ہر وقت مذاق سوجتا ہے کبھی سیریس نہیں ہوتے جنت نے منہ بنا کے کہا۔۔۔
تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے جنت اللہ ہمارے ساتھ ہے وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے ہوئے بولا اور اس کی بات جنت کے دل پہ لگی وہ بھی مسکرا دی۔۔۔
جاری ہے
