Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37

وہ مڑا اور تیزی سے وہاں سے باہر آگیا۔۔
وہ رات کے اس پہر خود کو بے حد تنہا اور اکیلا محسوس کر رہا تھا حد سے بڑھتی تکلیف سے ہارتا اپنی سسکیوں کو دبانے کی کوشش کرتا وہ کوریڈور سے گزرتے آنکھوں سے آنسو گالوں پر بہتے جنہیں وہ اپنی ہتھیلیوں کی مدد سے بے دردی سے رگڑتا ٹوٹی امیدوں کی کانچ پر چل رہا تھا۔۔اس کی اذیت کو محسوس کرنے والا کوئی نہیں تھا۔۔۔
وہ چیخ چیخ کے رونا چاہتا تھا مگر رو نہیں پا رہا تھا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کے خود کو کیسے سمبھالے۔۔وہ سیدھا گھر آیا وضو کیا اور نماز پڑھنے لگا۔۔اپنے اللہ‎ سے رو رو کر دعا کرنے لگا۔۔ایک وہی تو تھا جو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا تھا۔۔جو اس ہر بات کو سنتا تھا۔۔۔جو دلوں کو سکون دیتا تھا۔۔۔
میری حور کو ٹھیک کر دے میرے اللہ‎۔۔اسے مجھے واپس لوٹا دے۔۔وہ روتے ہوے بس یہی ایک التجا کرتا جاتا۔۔ضد کرتا جیسے ایک بچہ اپنی ماں سے اس کا دامن پکڑ کر رو رو کے ضد کرتا ہے۔۔
دو لوگوں کے درمیان سب سے مضبوط رشتہ دعا کا رشتہ ہے۔۔کیونکہ اس رشتے میں تیسرا اللہ‎ ہوتا ہے۔جو انکی دعاؤں کو سنتا ہے جو ان کے دلوں سے واقف ہوتا ہے۔۔۔جو ان کے تعلق کو مزید مضبوط کرتا ہے انہیں حوصلہ اور ہمت دیتا ہے۔۔دعاکی طاقت تو عرش تک ہلا دیتی ہے۔۔۔اسی لئے اب اس نے دعا کا راستہ چنا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی یہ ٹوٹ جائیں یا کھو جائیں دوبارہ مل جاتی ہیں۔صرف ایک انسان ہی ہے جن کا کوئی نعم البدل نہیں۔یہ ایک بار کھو جائیں تو ساری زندگی نہیں ملتے۔۔ہم لوگ اتنے جذباتی کیوں ہو جاتے ہیں کے ایک پل میں ایک سیکنڈ میں رشتے ختم کر دیتے ہیں برسوں ناراض رهتے ہیں۔۔ہم میں ذرا سا حوصلہ اور ہمت نہیں؟؟۔۔ہمارا ایک پیارا پہلے ہی تکلیف میں ہے دادو اور آپ اس کی سزا کیسے کسی کو دے سکتے ہیں۔۔وہ داؤد کے سامنے بیٹھے آج دل کی ساری بھڑاس نکل رہا تھا۔۔ آفس کی چھٹی تھی۔۔رات بھر وہ سو نا سکا تھا ویسے بھی حور کی ایسی حالت کے بعد سے اس کی نیند چند گھنٹوں میں پوری ہو جاتی تھی باقی وہ تمام گھنٹے جاگتا تھا۔۔
بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے پلیز دادو بابا کا اس میں کوئی کسور نہیں یہ قسمت میں ہونا لکھا تھا۔۔حور کی اس حالت کا زمےدار آپ بابا کو ٹہرا کر انہیں سزا نہیں دے سکتے۔۔لال ہوتی آنکھوں سے وہ تمام ادب اور لحاظ کو ایک طرف رکھے آج دل کی گھرایوں سے ان سے صاف صاف الفاظوں میں بات کر رہا تھا وہ تھک گیا تھا اپنوں کو ٹوٹا ہوا دیکھ کر وہ حور کو کل کے دن دیا جواب دیتا۔۔۔
داؤد ابراہیم آنکھوں سے بہتے اشک کو صاف کرتے اس سے نظریں چرا گئے۔۔انکا دل ٹکرے ٹکرے ہو گیا تھا اس کی باتوں سےاس کے ایک ایک الفاظ سے۔۔۔اسے احساس تھا رشتوں کی باریکیوں کا جو ساری زندگی رشتوں سے محروم رہا تھا۔۔یہ اذہاد عریض نہیں بول رہا تھا یہ انکی حور تھی جسے اپنوں سے ان رشتوں سے محبت تھی جو اس سے جڑے تھے جن میں اس کی جان بستی تھی جو آپس میں ناراض تھے۔۔وہ کیسے سب کچھ بکھرا ہوا دیکھ سکتی تھی۔۔انہوں نے بے اختیار آگے بڑھ کر اذہاد کو سینے سے لگایا۔۔انہیں اذہاد میں اپنی حور نظر آئی تھی۔۔انکی حور ایسی ہی تھی۔۔۔
اذہاد بھی ان کے سینے سے لگا رو دیا۔۔۔مجھے معاف کر دو بیٹا۔۔مجھے معاف کر دو حور۔۔وہ سیسکتے ہوے بولے۔۔
نہیں دادو آپ کو کسی سے بھی مافی مانگنے کی ضرورت نہیں آپ بس مسکرا کر گلے سے لگا لیں۔۔
وہ اس سے دور ہٹتے ہوے سر کو ہلایا۔۔تم ٹھیک کہہ رہے ہو بیٹا چلو آبھی میرے ساتھ آج ساری حقیقت ظاہر ہو جانی چاہیے۔۔۔وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوے بولے۔۔
نہیں دادو ابھی نہیں۔۔۔وہ گھبرا کر ان کا ہاتھ دوسرے ہاتھ سے تھام کر بولا۔۔۔
مگر کیوں؟؟وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔۔
دادو یہ سہی وقت نہیں ہے۔۔کچھ فیصلے وقت پر چھوڑ دینے میں ہی بہتری ہوتی ہے۔۔اور مجھے یقین ہے دادو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔زندگی کی سب سے خوبصورت بات یہ ہےکہ اس میں کچھ بھی مستقل نہیں رہتا نا غم نا خوشیاں یہ وقت کے ساتھ اپنی چالیں بدلتی رہتی ہے۔۔۔وہ اداس آنکھوں سے مسکراتا ہوا بولا دل پے ایک بوجھ سا ہٹ گیا تھا۔۔۔
وہ بھی اسے دیکھ کے زبردستی مسکراے۔۔آنکھوں کی نمی کو صاف کرتے اس کا چہرا اپنے ہاتھوں میں تھاما۔۔۔اللہ‎ تمہاری محبت تمھیں جلد لوٹا دے تمہارا خالی دامن خوشیوں سے بھر دے۔۔تمہاری تمام مرادیں پوری ہوجائیں۔۔۔۔انہوں نے اسے دل سے دعائیں دی۔۔
امین۔۔اذہاد نے انکے ہاتھوں کو تھام کے چوما اور آنکھوں سے لگایا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارتضیٰ اور عظمیٰ صبح ہی حور کے پاس ہسپتال چلے آئے تھے کہ جب ہی داؤد بھی اذہاد سے مل کے وہی سے ہوتے ہسپتال آے تھے۔۔
السلام عليكم بابا۔۔۔ارتضیٰ نے خاموشی سے نظریں جھکا کر باپ کو دیکھ کر سلام کیا۔۔۔
اور وہیں داؤد نے انہیں دیکھ کر باہنیں ان کی طرف پھیلائی۔۔ارتضیٰ تو ے دیکھ کر حیران ہی رہ گئے اور تبھی وہ بے اختیار آگے بڑھ کر انکے سینے سے لگ گئے۔۔بابا مجھے معاف کر دیں۔۔ارتضیٰ کے آنسو داؤد کا کندھا بھیگونے لگے۔۔۔
نہیں ارتضیٰ اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں تمھیں معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔داؤد نے انہیں سامنے کرتے ان کا چہرا دیکھتے ہوے کہا۔۔۔
وہ بیحد شرمندہ سے نظر آرہے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
داؤد کے جانے کے کتنی دیر بعد تک اذہاد کو سکون نہیں مل رہا تھا وہ ارتضیٰ کی فکر کر رہا تھا ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی پتا نہیں وہ کیسے ہونگے۔؟؟۔یہی سوچتے ہوے اذہاد کی صبح سے شام تک کا وقت مشکل سے کٹا۔۔اور تبھی وہ ان سے مولاقات کا فیصلہ کرتے ہوے کھڑا ہوا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ ان کے گھر کے دروازے پر کھڑا تھا۔۔۔
ارتضیٰ اور عظمیٰ کچھ ہی دیر ہوئی تھی ہسپتال سے آکر کے جب اذہاد اندر آتا دکھائی دیا۔۔۔
ارتضیٰ کو اسے دیکھ کر ایک خوشگوار احساس ہوا تھا وہ مسکراتے ہوے اس کے استقبال کو کھڑے ہوے۔۔
اسلام وعلیکم سر کیسے ہیں آپ؟؟ وہ جھجھکتا ہوا ہاتھ میں پکڑے پھول انکی طرف بڑھاتا ہوا بولا۔۔
وعلیکم السلام ہادی بیٹا۔۔میں بلکل ٹھیک ٹھاک ہوں بیٹھو بیٹا۔۔بس اب بڑھاپا آگیا ہے تو بیماریاں تو آنی ہی ہیں۔۔۔وہ مسکرا کے اس کے ہاتھ سے پھول لیتے بولے۔۔
تم سناؤ کیسے ہو بیٹا۔۔
میں ٹھیک ہوں سر بس آپ کی فکر ہو رہی تھی مجھ سے رہا نہیں گیا تو میں چلا آیا۔۔آپ کو ٹھیک دیکھ کر میری فکر ختم ہوگئی۔۔اب میں چلتا ہوں۔۔۔اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ کل ہی تو انکے گھر سے کھا پی کے گیا تھا۔۔اور آج پھر چلا آیا تھا۔۔۔
ارتضیٰ خاموش اس کا چہرا دیکھ کر سوچنے لگے۔۔اگر میرا کوئی بیٹا ہوتا تو میں خواہش کرتا کے وہ بلکل ہادی کی طرح ہو۔۔دل اس سے گہرا ناتا جوڑنے کی خواہش کرتا۔۔وہ کیوں انکی اتنی فکر کرتا تھا؟؟ کیوں اتنا جذباتی ہوجاتا تھا انکے لئے؟؟ یہ وہ سوال تھے جو نا وہ اس سے پوچھ سکتے تھے۔۔نا وہ اس کا جواب دے پاتا۔۔شاید اسے ماں باپ کی کمی محسوس ہوتی ہو؟؟اسی لئے وہ انکی فکر میں پریشان ہوتا تھا۔۔
عظمیٰ اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھیں اسی لئے انہیں اذہاد کی آمد کا علم نہیں تھا ورنہ وہ بھاگی بھاگی آتی۔۔۔
اذہاد کچھ دیر انکے پاس بیٹھ کر واپس آگیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم کچھ نہیں کہہ سکتے یہ تو اللہ‎ کے ہاتھ میں ہے کے مریض کو کب ہوش آتا ہے۔۔
مگر ڈاکٹر حور کی کنڈیشن دیکھ کے تو بتا سکتے ہیں آپ کے اس کے ہوش میں آنے کے کتنے چانس ہیں؟؟وہ امید سے ڈاکٹر کی طرف دیکھتا پوچھ رہا تھا۔۔
آپ اللہ‎ سے دعا کریں۔۔ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں کے وہ جلدی ٹھیک ہو جائیں مگر ہوش میں لانا اللہ‎ کے اختیار میں ہے ہمارے نہیں۔۔یہ کہھ کر وہ آگے بڑھ گئے۔۔۔
اور اذہاد تھک کر کرسی پر گرا۔۔۔
اس نے نم آنکھوں سے اپر کی طرف دیکھا۔۔۔
اللہ‎ مدد کر اور ایک آنسو آنکھوں کے کنارے سے ٹوٹ کر اس کی گود میں گرا۔۔۔
وہ خاموشی سے اٹھ کر اس کے سامنے آیا جو سو رہی تھی سانسیں چل رہی تھیں مگر وہ دیکھتی نہیں تھی اٹھتی نہیں تھی بولتی نہیں تھی۔۔۔
جانتی ہو شدت کیا ہے؟؟
شدت وہ ہے جو سانسوں کی ترتیب کو تہس نہس کر دے۔۔شدت وہ جو اس کا خیال آتے ہی بیتاب کر دے۔۔
شدت وہ جو اس سے جڑی ہر یاد کو سامنے لا کھڑا کر دے۔۔شدت جو وہ ہیں
___________________
کاش۔۔۔حور کسی رات تم اس گہری نیند سے جاگو تو تمھیں میری ان بے نور آنکھوں کا خیال آے۔۔جو امید کی شمع جلاے کالی سیاہ ہو گئی ہیں۔۔اور پھر تمہاری رات صدیوں پر محیط ہوجاے۔۔
اس کی تصویر آنکھوں میں بساے یادوں کے دیپ روشن کیے امیدوں کی آس کا پرچم بلند کیے آنکھوں کو زور سے میچا چند قطرے موتیوں کے ٹوٹےاور پھر یوں ہی آنکھوں کو بند کیے الٹے قدم چلتا دروازے سے باہر نکل گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر اندر ہیں؟؟اس نے جنید سے پوچھا۔۔
وہ صبح سے پروجیکٹ کے سلسلے میں سائٹ پر گیا ہوا تھا۔۔اور جب کچھ دیر بعد وہ آفس پوھنچا تو سب سے پہلے اس نے ارتضیٰ ابراھیم سے ملنے ان کی خیریت جاننے کے لئے ان کے آفس کی طرف رخ کیا۔۔یہ دیکھ کر جنید کے تو تن بدن میں آگ ہی لگ گی۔۔
مسٹر ہادی زیاد بہتر ہوگا کے سر سے زیادہ آپ اپنے پروجیکٹ پر توجہ دیں سیلری آپ کو کام کی دی جاتی ہے نا کے انکی فکر کرنے کی۔۔وہ اسے پیچھے سے آواز دے کر روکتا ہوا زہریلے انداز میں بولا۔۔۔
اذہاد اس کی طرف مڑا نہیں تھا۔۔اس کی ساری بات سننے کے بعد وہ آرام سے پلٹا۔۔۔۔
ایک آئی برو چڑھائی سائیڈ لپس کی سمائل پاس کرتا وہ صرف اسے گھور رہا تھا۔۔اس کے گھورنے کے انداز پے ہی جنید گھبرا کے دو قدم پیچھے ہوا۔۔اس کی لال ہوتی آنکھوں میں وہ خوف سے دیکھ نا سکا اور پلٹ کر تیزی سے نکل گیا۔۔۔
اس کے پر کاٹنے پڑنگے نادان جانتا نہیں ہے۔۔۔کچھ پل یوں ہی دیکھنے کے بعد لمبی سانس لیتا وہ ارتضیٰ کے آفس کی طرف مڑا۔۔
اس نے ہلکا سا دروازہ نوک کیا۔۔۔
یس کم ان۔۔۔اندر سے ارتضیٰ کی خوشگوار آواز آئ۔۔
وہ دروازہ کھول کر مسکراتا ہوا اندر آیا۔۔السلام عليكم سر۔۔۔اچانک وہ سامنے دیکھتا حیران رہ گیا۔۔اس کی مسکراہٹ پل میں سمٹی تھی۔۔
ارتضیٰ کے سامنے والی کرسیوں میں سے ایک کرسی پر عظمیٰ بیٹھی تھیں جو سانس روکے بینا پلکوں کو جھپکے اسی کے دیدار کی آس لئے نا جانے کب سے بیٹھی تھیں۔۔
اذہاد نے مشکل سے خود کو سمبھالتے ہوے مسکرا کر عظمیٰ کو دیکھتے سلام کیا۔۔انہوں نے اسے دیکھتے ہوے صرف گردن ہلا کر اس کے سلام کا جواب دیا۔۔
کیسی طبیعت ہے سر آپ کی؟؟
میں ٹھیک ہوں بیٹھو ہادی۔۔وہ سامنے کرسی کی طرف اشارہ کرتے بولے۔۔وہ عظمیٰ کی برابر کرسی پر بیٹھ گیا۔۔
کسی خاص کام سے آئے تھے؟؟ اذہاد جو عظمیٰ سے نظریں چراتا ان کے برابر بیٹھا تھا۔۔چونک کر ارتضیٰ کو دیکھا۔۔
نہیں سر میں بس آپ کی خیریت پوچھنے آیا تھا۔۔۔پلکوں کو جھپکتا ہوا بولا۔۔
ارتضیٰ اس کی اتنی خود کی فکر کیے جانے پر قہقہہ لگاتے ہنس پڑے۔۔
پتہ ہے عظمیٰ مجھے اس کی یہی بات بہت پسند ہے یہ میری ایسی فکر اور خیال رکھتا ہے جیسے میرا اس سے بہت قریبی رشتہ ہو۔۔۔ارتضیٰ مذاق میں ہی سہی مگر حقیقت بیان کر گئے تھے۔۔اذہاد کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا۔۔اس نے ڈرتے ہوے عظمیٰ کو دیکھا جو ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاے ارتضیٰ کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔
میں چلتا ہوں سر بعد میں آجاؤں گا۔۔۔وہ جلدی سے کھڑا ہوتا پلٹ کر جانے لگا۔۔
ہادی بیٹا۔۔پیچھے سے آتی آواز پر اس کے قدم وہی روک گئے۔۔
جی۔۔سر۔۔۔اس نے آہستہ سے موڑتے ہوے جواب دیا۔۔
کیا آپ عظمیٰ کو ہسپتال چھوڑ سکتے ہیں؟؟ ڈرائیور میرے کسی کام سے گیا ہوا ہے اور آپ پے مجھے پورا بھروسہ ہے کے آپ میری مسز کو لے کر نہیں بھاگے گے۔۔وہ بے تکلف ہوتے ہنس کر بولے۔۔۔
کیوں نہیں سر۔۔یہ تو میرے لئے فخر کی بات ہے کے آپ مجھ پر اتنا بھروسہ کرتے ہیں۔۔میم میں اپکا نیچے ویٹ کر رہا ہوں ۔۔۔۔وہ عاجزی سے گردن جھکاتے بولتے ہوے باہر چلا گیا۔۔۔
ٹھیک ہے میں چلتی ہوں۔۔آپ لنچ یاد سے کر لیجیے گا۔۔اللہ‎ حافظ۔۔وہ خاموشی سے یہ کہتی اٹھی۔۔
اللہ‎ حافظ۔۔ارتضیٰ یہ کہتے خاموشی سے کھڑے ہوتے انکے لئے آفس کا دروازہ کھول کر انھیں رخصت کرتے اذہاد کے بارے میں سوچنے لگے۔۔
اس کی تربیت بہت اچھے سے کی گئی تھی وہ یقیناً خاندانی اور بہت اچھے خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔۔وہ جس کا بیٹا ہوگا بیشک وہ خود کو خوش نصیب باپ سمجھتا ہوگا۔۔اس کی تہذیب سلیقہ انداز بڑوں کا احترام دل جیت لینے والی ہر ادا اس نے پائی تھی۔۔جس لڑکی کے ساتھ اس کا نصیب جڑتا جس خاندان کا وہ داماد بنتا وہ نصیب والا ہوتا۔۔
کاش۔۔۔۔۔۔
دکھ بھری ایک سرد آہ ان کے لبوں پر آکے دم توڑ گئی تھی۔۔یہ خواب کا پورا ہونا معجزہ تھا اور معجزے کب عام ہوتے ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہاد عظمیٰ کو سامنے سے آتا دیکھ کر جلدی سے انکے لئے دروازہ کھولے کھڑا ہوا۔۔۔
وہ چپ چاپ کھولے دروازے سے اندر بیٹھتی دروازہ بند کیا۔۔
اذہاد نے ذہنی طور پر خود کو پوری طرح سے تیار کر لیا تھا۔۔انکے سوالوں کے لئے۔۔وہ سمجھ گیا تھا کے اس کا راز ان سے چھپا نہیں رہ سکا ہے۔۔مگر وہ تو اب اسے حیران کر رہیں تھیں انکی خاموشی اذہاد کو کئی وسوسوں اور پریشانیوں میں گھیر رہی تھی۔۔چلو شکر ہے یہ بھی اچھا ہی ہوا کے وہ خاموش رہ کر اسے ذہنی عذاب سے آزاد کر گئی تھیں۔۔
آفس سے ہسپتال کا سفر خاموشی سے کٹا۔۔۔
وہ ہسپتال کے باہر گاڑی روکتا انکے لئے دروازہ کھولنے کے لئے اترنے لگا۔۔
میری بیٹی سے نہیں ملو گے؟؟
دروازہ کھولتا اس کا ہاتھ برف کی طرح سرد ہو گیا۔۔
بے اختیار وہ انکی طرف پلٹا۔۔جو سامنے دیکھتی کسی بھی قسم کے جذبات ظاہر کرتی لا تعلق بیٹھی تھیں۔۔
میم وہ ایکچؤلی مجھے کچھ۔۔
زیادہ وقت تو نہیں لگے گا۔۔انہوں نے اس کی جھجکتی ہوئی معذرت کو رد کرتے ہوے تیز لہجے میں کہا۔۔۔
اور اذہاد نے زور سے آنکھیں بند کرتے ہوے خود کو مضبوط کیا اور پارکنگ کی طرف گاڑی موڑی۔۔
عظمیٰ گاڑی سے باہر نکلتی ایک طرف کھڑے ہو کر اس کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔۔
اذہاد نے مناسب جگہ دیکھ کر گاڑی کو کھڑا کیا اور باہر نکل کر انکی طرف آنے لگا کے جب ہی اس کی آنکھیں یہ منظر دیکھ کر پھٹ گئی۔
اصل میں عظمیٰ جس طرف کھڑی تھیں وہاں ایک ڈھلان بنی تھی جس سے اپر جا کر دوسری طرف بھی گاڑیاں پارک ہوتی تھیں۔۔
تبھی وہاں سے پیچھے کی طرف ریورس ہوتی گاڑی کا بریک نا لگنے کی وجہ سے وہ نیچے کھڑی عظمیٰ کی طرف تیزی سے آنے لگی جسے عظمیٰ اپنے خیالوں میں کھوے ہونے کی وجہ سے دیکھ نا سکیں۔۔
مما۔۔۔وہ زور سے چیخا اور طوفان کی طرح انکی طرف بھاگ کر آتا انہیں کندھوں سے پکڑ کر دوسری طرف کیا۔۔
اگر وہ انہیں کھینچ کر ایک طرف نا کرتا تو عظمیٰ کو وہ گاڑی بہت ذبردست ٹکر مار چکی ہوتی۔۔
عظمیٰ تو سن ہوتی دیکھنے لگیں کے ہوا کیا ہے؟؟
اذہاد بے حد غصے میں آتا لال آنکھوں سے گاڑی کی طرف بڑھا جہاں 16 17 سال کا کم عمر لڑکا گھبرایا ہوا سا بیٹھا تھا۔۔
اذہاد نے بینا دروازہ کھولے اس کی کھڑکی میں سے ہی ہاتھ ڈال کر اس لڑکے کو گریبان سے پکڑ کر باہر کی طرف کھینچ کر نکالنے لگا۔۔
عظمیٰ کے تو اسان ہی ختا ہو گئے اس کا جلالی روپ دیکھ کے۔۔وہ بھاگتی ہوئی اسکی طرف آئیں۔۔ہادی بیٹا چھوڑو اسے جانے دو۔۔وہ اس کا بازو تھامیں کھینچتے ہوے بولی۔۔
مگر وہ کب کہاں کسی کی سنتا تھا غصے میں۔۔کمزور سی عظمیٰ اس دھان پان سے لمبے چوڑے اذہاد کو کیسے پیچھے کر سکتی تھی۔۔
اس ریسلر جیسے بندے کو دیکھ کر گاڑی میں بیٹھا بچہ تھر تھر کانپنے لگا اس نے اندر سے گاڑی کو مظبوطی سے پکڑ رکھا تھا اگر وہ باہر آجاتا تو اس کی ایک ایک ہڈی اس ریسلر کے ہاتھوں سے سلامت نہیں رہنے والی تھی۔۔۔
شور شرابا دیکھ کر ایک عمر رسید آدمی بھاگتا ہوا آیا۔۔کیا ہوا ہے چھوڑو میرے بیٹھے کو۔۔۔اس نے اذہاد کو عظمیٰ کی مدد سے مل کر اپنے بیٹے سے دور کیا۔۔
شرم آنی چاہیے آپ کو اتنی چھوٹی سی عمر کے بچوں کے اتنی بڑی بڑی گاڑیاں حوالے کرتے ہوے۔۔اگر میری مما کو کچھ ہو جاتا تو؟؟ میں اس کی جان لے لیتا۔۔وہ دانت پیس کر کہتے ہوے دوبارہ اسکی طرف بڑھنے لگا تو عظمیٰ نے مظبوطی سے اس کا بازو اپنے کمزور ناتوان ہاتھوں میں جکڑ لیا۔۔
اذہاد نے ساری بات انگلش میں کہی تھی۔۔۔
آدمی نے عظمیٰ کی طرف دیکھا۔۔بہن میں معذرت چاہتا ہوں غلطی میرے بیٹے کی ہے مگر یہ اس نے جان بوجھ کے نہیں کیا تھا۔۔۔وہ آدمی اذہاد کے حلیے اور بات کرنے کے انداز سے پہچان گیا تھا کے وہ یہاں کا نہیں ہے اور نا اسے اردو بولنے آتی ہے۔۔۔
میری ماں سے اردو میں بات مت کرو۔۔۔وہ انگلش اکسنٹ میں اردو جیسے الفاظ بولتا دونوں وجود کو حیران کر گیا۔۔
میں آبھی پولیس کو فون کرتا ہوں اور تم دونوں کو اندر۔۔۔ہادی جانے دو بیٹا۔۔۔عظمیٰ نے اسے بیچ میں ٹوکتے ہوے کہا۔۔
مما آپ۔۔۔۔۔اس نے حیران نظروں سے دیکھا۔۔۔
کہ جب عظمیٰ اسے کھینچتی ہوئی تیز تیز آگے بڑھنے لگی
___________________
وہ کھینچتی ہوئی اسے ایک اکیلے گوشے میں لے جاتیں جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑ کر دیکھنے لگیں۔۔
اس آدمی نے دیکھا کے جلاد آدمی سے اس کی جان چھوٹی جلدی سے گاڑی میں بیٹھتا بھاگتا ہوا گاڑی وہاں سے لے گیا۔۔
کون ہو تم؟؟ وہ رو رہیں تھیں ان کی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے اذہاد نے دکھ سے انہیں دیکھتے ہوے آنکھیں بند کر لی۔۔
تم میری حور کی محبت ہو نا؟؟ وہی جس سے میری حور بیحد محبت کرتی ہے بولو۔۔۔۔وہ روتی آنکھوں سے اسے دیکھتی آس اور محبت سے پوچھ رہیں تھیں۔۔
کہ اذہاد کی آنکھ سے ٹپکتا ایک آنسو ان کے سارے سوالوں کے جواب دے گیا۔۔
وہ بے اختیار روتے ہوے اس کے چوڑے سینے سے لگیں تھیں۔۔میرا دل کہتا تھا تم وہی ہو۔۔تم نا بھی کہتے میں پھر بھی تمھیں پہچان لیتی تم تو وہ ہو جس سے میری حور نے محبت کی تم واقعی محبت کے قابل ہو ہادی۔۔۔وہ بے تحاشہ روتے ہوے اس کے سینے سے لگی کہہ رہیں تھیں۔۔
اذہاد نے محبت سے ایک بیٹے ہونے کے حق سے انہیں خود سے لگایا وہ صرف حور کی ہی نہیں اب اس کی بھی ماں تھیں۔۔پلیز مما روئیں نہیں۔۔تکلیف اسے بھی ہو رہی تھی دل اس کا بھی اداس تھا۔۔
مجھے بتایا کیوں نہیں ہادی۔۔اپنی ماں سے بھی چھپایا۔۔مجھے یقین تھا میری حور کی محبت بہت خاص ہوگی۔۔تم نے تو بیٹوں سے بڑھ کر ہمیں محبت دی عزت دی۔۔وہ اب اس کا چہرا ہاتھوں میں تھام کر محبت سے دیکھتی اسے کہہ رہیں تھیں کبھی وہ اس کا ماتھا چومتیں تو کبھی ہاتھ۔۔
اذہاد کی برسوں سے ماں کی محبت کے لئے تراستہ وجود آج سیراب ہو رہا تھا۔۔وہ جب یہاں آیا تھا تو ٹوٹا بکھرا اکیلا وجود تھا جو زخمی زخمی لہو سے رس رہا تھا مگر آج وہ اکیلا نہیں تھا کتنے عظیم رشتے تھے جو حور کی وجہ سے اسے ملے تھے جن سے وہ جڑا تھا۔۔۔
میں ڈرتا تھا مما۔۔کہیں آپ لوگ مجھے دھتکار نا دیں۔۔
اس نے تڑپتی ایک ماں کو سینے سے لگاتے ہوے کہا۔۔نہیں ہادی کبھی نہیں۔۔۔
اب ہمیں چھوڑ کے تو نہیں جاؤ گے نا ہادی۔۔وہ روتی ہوئی کہہ رہی تھیں۔۔
نہیں مما کبھی نہیں کبھی بھی نہیں آپ کا بیٹا آگیا ہے اب آپ کو بلکل بھی ہمّت ہارنے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جائے گا آپ بس دعا کریں۔۔وہ انہیں سامنے کرتے ان کے آنسو صاف کرتا بولا۔۔۔
چلو میرے ساتھ میں سب کو بتاتی ہوں۔۔وہ اس کا بازو تھامتی آگے بڑھتی ہوئی بولی۔۔۔
نہیں مما پلیز آبھی نہیں۔۔ وہ خوف سے ڈرتے ہوے ان کا ہاتھ تھام کر روکتا ہوا بولا۔۔۔
کیوں نہیں ہادی مجھے تایا ابو نے بتایا تھا کے انہوں نے تمہاری اور حور کی شادی کر دی ہے۔۔پھر کس بات کا ڈر ؟؟ تمھیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔۔
مما رشتے زبردستی نہیں بنائے جاتے۔۔کسی کے دل میں جگہ بنانے کے لئے خود کو وقف کرنا ہوتا ہے۔۔برسوں لگ جاتے ہیں۔۔خود بدلنا پڑتا ہے۔۔یہ سب اتنا آسان نہیں مجھے رشتے چھیننا یا زبردستی سے حاصل نہیں کرنا۔۔ مجھے محبتوں کے اس رشتوں میں روح کی رضا مندی چاہیے۔۔جن سے میں دونوں جہاں میں بھی الگ نا ہو سکوں ۔۔۔
عظمیٰ ایک ٹک اسے دیکھے گئیں۔۔اس کی ہر بات میں ایک سحر تھا۔۔۔انہوں نے آہستہ سے گردن ہلاتے ہوے اس کی ہر بات کو دل سے تسلیم کیا۔۔
ٹھیک ہے ہادی تمہاری مما ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہے۔۔تم اکیلے بلکل نہیں ہو۔۔۔میں دعا کروں گی تم اپنے ہر مقصد میں کامیاب ہو۔۔
ان کی بات سن کر وہ دل سے مسکرایا۔۔امین
اچھا تم رهتے کہاں ہو۔۔وہ ایک ماں کی طرح فکر کرتی ہوئی بولیں۔۔
یہی سامنے ایک فلیٹ میں۔۔اس نے اشارے سے انہیں بتایا۔۔
میرے بیٹے کا گھر ہوتے ہوے بھی وہ فلیٹ میں رہ رہا ہے۔۔انہوں نے دکھ سے دیکھتے ہوے کہا۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *