Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal NovelR50778 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40
Rate this Novel
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode01 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode02 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode03 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode04 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode05 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode06 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode07 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode08 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part01) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode10(Part02) Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode11 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode12 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode13 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode14 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode15 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode16 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode17 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode18 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode19 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode20 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode21 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode22 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode23 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode24 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode25 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode26 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode28 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode29 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode30 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode31 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode32 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode33 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode34 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode35 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode36 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode37 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode38 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode39 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40 (Watching)Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode41 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode42 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode43 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode44 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode45 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode46 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode47 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode48 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode49 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode50 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode51 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode53 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Last Episode Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode52 Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode09
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40
Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode40
عظمیٰ مسکرا رہی تھیں۔۔
کیا بات ہے بھئی اکیلے اکیلے مسکرایا جا رہا ہے ہمیں بھی تو پتہ چلے۔۔ارتضیٰ بیڈ پر بیٹھتے ہوے بولے خوش تو وہ بھی بہت تھے۔۔
آپ نے دیکھا نہیں دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لئے بے پنہا محبت کو؟؟
ارتضیٰ نہ سوالیہ نظروں سے مسکرا کر عظمیٰ کو دیکھا۔۔
میں نے دیکھا۔۔ہادی کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے وہ پہلے جی نہیں رہا تھا اور حور کے آنے سے جیسے وہ سانس لینے لگا جینے لگا۔۔۔وہ مسکراتی ہوئی ارتضیٰ سے کہہ رہی تھیں۔۔
اور ارتضیٰ ان کی بات سن کر ہنس دیے۔۔
اچھا ہوا ہم آگئے دونوں کو تھوڑا ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے دیں نجانے کتنی باتیں ہیں جو وہ آپس میں ایک دوسرے سے شیئر کرنا چاہتے ہونگے۔۔اور ویسے بھی اب اسے ہی ساری زندگی حور کو سمبھالنا ہے۔۔
ارتضیٰ کی آنکھیں عظمیٰ کی باتیں سن کر نم ہوگی۔۔
عظمیٰ ہماری حور روخصت ہو کر ہم سے اتنی دور چلی جائے گی۔۔میری چڑیا اوڑھ کر اتنی دور چلی جائے گی۔۔میری بیٹی اتنی جلدی بڑی ہوگی..
بیٹیوں کے نصیب ماں باپ نہیں لکھ سکتے ارتضیٰ جہاں ان کا نصیب جڑا ہوتا ہے یہ وہی جاتی ہیں ماں باپ تو صرف ان کے اچھے نصیبوں کی دعائیں ہی کر سکتے ہیں۔۔۔ارتضیٰ کے ساتھ عظمیٰ بھی اداس ہو گئیں تھیں۔۔
مگر ایک بات کی بیحد خوشی ہو گی اور میں مطمئن بھی رہوں گا۔۔ارتضیٰ فورا نم آنکھوں سے مسکرا کر بولے۔۔
وہ کیا ؟؟؟
میری بیٹی کا نصیب بہت اچھی جگہ جڑا ہے جو اس اسے بے حد چاہتا ہے محبت کرتا ہے ۔۔میںنے ہادی کو دیکھ کر پتہ ہے ایک خواہش کی تھی۔۔کے کاش وہ میرا بیٹا ہوتا۔۔اور جس لڑکی کا یہ نصیب ہوگا وہ خوش قسمت ہوگی۔۔مجھے یقین نہیں تھا میری خواہش اتنی جلدی قبول ہوگی۔۔وہ بے شک قابلے فخر ہے۔۔۔
وہ مسکراتے ہوے عظمیٰ کو دیکھ کر بولے جو انہیں ہی دیکھ کر مسکرا رہیں تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ ہیں شاندار۔۔جی بہتر 
اور میں خاسکار۔۔ جی بہتر 
مجھ سے سرزد نہ ہو خطائیں۔۔
میں رہوں شیار۔ جی بہتر۔
لاپرواہی آپ کی عادت۔۔
میں کروں انتظار۔۔ جی بہتر
آپ کی آنکھ کے اشارے پر۔۔
چھوڑ دو یہ دیار۔۔ جی بہتر ۔۔
آپ کے ان گنت ہیں شیدائی۔۔
کیا ہے میرا شمار۔۔ جی بہتر۔
جس طرح چاہے آزما لیجیے۔۔
لب سے نکلے گا یار جی بہتر۔۔
وہ دروازہ کھول کر آہستہ سے قدم اٹھاتا اندر آیا تھا۔۔
حور جاگ رہی تھی اور تکیے سے کمر ٹکا کر بیٹھے ہوئے دروازے کے ہی طرف گھور رہی تھی۔۔
دونوں کو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ نہ جانے وہ کتنے سالوں بعد آج ملے ہوں اور ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں ۔۔
وہ محبت سے اسے دیکھتا قدم اٹھاتا بیڈ پر اس کے برابر آ کے بیٹھتا اس کے بریسٹ والے ہاتھ کی انگلیاں اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنساتا اس کے کاندھے پر سر رکھ کر آنکھیں موند گیا۔۔
حور کی دھڑکنوں کی رفتار تیز ہوتی جا رہی تھی۔۔
ہادی۔۔۔۔اس نے آہستہ اس کو پکارا۔۔
ہمممم۔۔ازہاد مسکرایا۔۔
یہ سب چل کیا رہا ہے میری ناک کے نیچے؟؟
اس کی جلتی بھنتی آواز پر آزہاد نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور ہلکی سی گردن اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا جہاں دو دو ہاتھ کے آثار صاف نظر آ رہے تھے۔۔
کیا مطلب۔۔۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھتا ہوا بولا۔۔
زیادہ معصوم بننے کی ایکٹنگ مت کرو۔۔۔مجھے پوری ان 7 مہینوں کی ڈیٹیل چاہئے۔۔اور دیوداس مووی بھی دیکھ لی۔۔۔
۔۔منع بھی کیا تھا۔۔کہ میرے پیچھے مت آنا۔۔مگر آپ سنتے کہاں ہیں میری؟؟اذہاد عریض جو ٹھہرے۔۔
اذہاد کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے کو تھیں۔۔۔
حور مجھے لگا تھا کے تم ہوش میں آنے کے بعد مجھے گلے لگاوگی روگی میں تمھیں پیار سے مناؤ گا اپنی اذیت بھری تنہائیوں کی لمبی داستان سناؤ گا۔۔تم میری تمام تکلیفوں اذیتوں کو اپنی محبت سے چن لو گی مجھے سمیٹ لو گی مگر تم تو جھانسی کی رانی بنے میدان میں تیز تلوار لئے میرے پیچھے دوڑنے لگ گئی۔۔وہ بیچارگی سی شکل بناے اس سے بول رہا تھا۔۔۔
اچھااااا۔۔۔۔۔میں آپ کو گلے لگاؤ گی۔۔کس حق سے؟؟ اچھا کو لمبا کھنچتی وہ دونوں آنکھوں کو چھوٹی کیے ہونٹوں کی چونچ بناتی اذہاد سے بولی۔۔
بیوی ہونے کے حق سے۔۔شاید آپ بھول گئی ہیں مگر اس بات کا ثبوت میں ہمیشہ اپنے ساتھ لئے گھومتا ہوں۔۔وہ دونوں آنکھوں کی آئی برو کو اٹھاتا اسے جتاتا ہوا بولا۔۔
ہممم۔۔۔۔حورنے ہونٹوں کو نیچے جھکاتے اس کی بات پر گردن ہلائی۔۔۔مگر میں تو نہیں مانتی ایسی شادی جہاں روتی ہوئی دلہن سے پیپر سائن کرواے جائیں۔۔اور دولہا بیچارہ خود غم سے نڈھال ہو۔۔وہ گندا منہ بناتی ہوئی بولی۔۔ہںننہ۔۔ارے شادیاں تو ایسے ہوتی ہیں دلہن لال جوڑے میں سجی دھجی اپنے دولہے کا انتظار کرے اور دولہا خوب زور شور سے بینڈ باجے کے ساتھ گھوڑی چڑھ منہ پر سہرا سجاے پوری برات کے ساتھ اپنی دلہن کو لینے آے۔۔۔وہ دور کہیں کھوئی اسے شرماتے ہوے بتا رہی تھی۔۔۔
اور اذہاد بیچارے کا تو حور کے خیال سن کر ہی دماغ میں زور زور سے گھنٹییاں بجنے لگی۔۔اسے ایسا لگنے لگا جیسے حور کے دماغ پے چوٹ لگنے سے اس کی تیز دوڑ نے والی نس کھول گئی ہو۔۔
ایسا کچھ نہیں ہونے والا حور۔۔اور تم مانو یا نا مانو شادی ہو چکی ہے تم اور میں ایک پرفیکٹ کپل ہیں۔۔وہ اندر سے ڈرتے ہوے مگر سامنے سے بے خوف خود کو ظاہر کرتا اپنی بات پر زور دیتا بولا۔۔
میرے کیوٹو ہبی۔۔بھولے بن کر تم کتنے پیارے لگتے ہو۔۔وہ گردن سے اوپر اس کا منہ تھامتی اس کی گردن ہلاتی آنکھیں پٹ پٹاتی مسکرا کر اسے دیکھتی بولی۔۔مگر میں بھی حوریںن اذہاد ہوں تمھیں دنیا کے پورے سات چکر نا لگواے تو کہنا۔۔۔
اس کی آنکھوں کی چمک دیکھ کر اذہاد کے ٹھنڈے کمرے میں بھی پسینے چوٹ گئے۔۔وہ پوری آنکھیں اس کے خطرناک ارادے صاف صاف دیکھ سکتا تھا۔۔
ویسے سچ سچ بتاؤ ہادی۔۔پاکستان آنے کے بعد سب سے پہلے تم نے کسی کالی بابا وغیرا سے کوئی جادو وادو تو نہیں سیکھا تھا؟؟ وہ اس کے بازو میں اپنا ہاتھ پھنسا ے اس کے بازو پر اپنی ٹھوڑی رکھے راز داری سے بولی۔۔
اذہاد جو مستقل اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔ایک بار پھر اس کی بات سن کر حیران ہوا۔۔اب کی بات اذہادے سر سے گزری تھی۔۔کیا مطلب؟؟؟ وہ نا سمجھی سے اسے دیکھتا بولا۔۔
وہ اس لئے ہادی کیوں کے بابا اتنی آرام سے تو کسی کے جہانسے میں آنے والے نہیں کہیں تم نے اتنے کم عرصے میں بابا کو اپنے جادو سے قابو کر کے انکا گھر ور تو اپنے نام نہیں کر لیا؟؟ وہ اب مشکوک نظروں سے دیکھتی معصومیت سے بولی۔۔
کاش کاش مجھے یہ خیال پہلے آجاتا اور میں سچ میں کسی کالی سے جادو سیکھ جاتا اور سب سے پہلے میں ان پے نہیں تم پے جادو کرتا۔۔تاکہ تم یہ سارے ڈرامے چھوڑ کر چپ چاپ ہوش میں آنے کے بعد میرے ساتھ رخصت ہو کر لندن چلتی۔۔وہ بھی اب اس کی باتوں کو انجونے کرتا آرام سے ٹانگے اوپر بیڈ پر سیدھی رکھتا بولا۔۔
زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے ہادی ورنہ میں آبھی بابا کو فون کر کہ بولتی ہوں آپ کا نیا نویلا بیٹا آپ کی چڑیا کے ساتھ فری ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔۔وہ ایک دم سیدھی ہوتی روب سے بولی۔۔جس کا زرہ برابر بھی اثر ہوتا نہیں دکھائی دے رہا تھا سامنے والے پے۔۔اذہاد صرف اس کا لال بھبھوکا ہوتا چہرا دیکھ کے ہنس رہا تھا۔۔تبھی دروازہ بجا اور اذہاد جلدی سے بیڈ سے اترتا سیدھا سامنے رکھی کرسی پر بیٹھا۔۔اس کی تیز رفتاری دیکھ کر حور زور زور سے منہ پے ہاتھ رکھ کر ہسنے لگی۔۔
تبھی نرس اندر آئی تھی اور اسے ہنستا دیکھ کر مسکرائی۔۔
اذہاد نے نرس کے ہاتھ میں بینڈیج کا سامان دیکھ لیا تھا جو وہ اس کے زخم کا کرنے آئی تھی۔۔تبھی وہ اٹھ کر خاموشی سے باہر چلا گیا تھا۔۔
اسے جاتا دیکھ کر حور مسکرائی۔۔۔یہ وہ ایک انسان نہیں تھا یہ حور کی پوری دنیا تھا بیحد خوبصورت اور حسین دنیا جس میں وہ جیتی تھی سانس لیتی تھی۔۔
______________
اذہاد نے اس کا ہاتھ تھام کر آہستہ سے اسے اٹھنے میں مدد کی تھی۔حادثے میں اس کی ٹانگیں دبنے کی وجہ سے تھوڑی متاثر ہوئی تھیں جن کا حل ڈاکٹر نے حور کے چلنے پھرنے کا بتایا تھا اس کا علاج ہی یہی تھا کہ وہ تھوڑا بہت ہو مگر چلے ضرور اور اسی وجہ سے اذہاد اسے صبح صبح ضد کر کے تھوڑا بہت چلنے کو کہہ رہا تھا۔۔
ہادی میں گر جاؤں گی۔۔وہ ڈرتے ہوے بولی۔
میرے ہوتے ہوے گرنے کا ڈر۔۔؟؟ چلو شاباش میری حور تو بہت بہادر ہے۔۔وہ مسکراتے ہوے اس کی ہمت بڑھاتا پیار سےپچکارتاہوا بولا۔۔
وہ مظبوطی سے ایک ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھامتی ایک ہاتھ سے اس کا بازو دبوجتی کھڑی ہوئی تھی اس کے سامنے وہ کوئی چھوٹی نازک سی کانچ کی گڑیا لگ رہی تھی۔۔
اذہاد نے ایک ہاتھ ہلکا سا اس کی کمر کے گرد رکھا ہوا تھا اس خیال سے کہ کہیں وہ کانچ کی بنی نازک سی اس کی گڑیا گرنے لگے تو وہ اسے فورن سے تھام لے گا۔۔
وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی چل رہی تھی اس کی ٹانگوں میں پہلی سی طاقت نہیں رہی تھی چلنے کی۔۔
اذہاد اسے سامنے لگے بڑے سے شیشے کے قریب چلا کر لایا تھا جہاں نظر آتی سورج کی تازہ کرنیں اپنی روشنی بکھیر رہی تھی۔۔
وہ کتنی مدتوں بعد سورج کی کرنوں سے مانوس ہوئی تھی آنکھوں کو یہ تازہ روشنی کتنا سکون دیتی تھی۔۔مگر چند قدم چل کر ہی وہ تھک گئی تھی اس میں واپس چل کر بیڈ تک جانے کی اب ہمت نہیں تھی۔۔تبھی اذہاد نے بے اختیار آگے بڑھ کر اسے اپنے مظبوط بازوں میں اٹھاتا بیڈ کی طرف آیا تھا ۔۔حور بلکل انجان تھی کے اذہاد ایسا بھی کر سکتا ہے وہ منہ کھولے اس کی شرٹ کی کالر کو موٹھیوں میں دبوجتی اس کے اچانک کیے گئے ردے عمل کو حیران ہوتی دیکھ رہی تھی وہ اس کے بے حد قریب تھی اس کی چلتی سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کر سکتی تھی۔۔مگر اذہاد بینا کوئی بڑی بات کا احساس دلاے بڑی آرام سے اسے بیڈ پر لٹاتا پیچھے ہوا ہی تھا کہ داؤد اندر آے۔۔
السلام عليكم بچوں۔۔۔وہ دونوں کو دیکھ کر مسکراتے ہوے بولے۔۔
حور کا تو شرم کے مارے برا حال تھا اس کی نظریں جھکی تو پھر دوبارہ نا اٹھ سکی۔۔دل الگ زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔چہرا لال گلنار بن چکا تھا۔۔اذہاد بڑی حیرت سے اس کا روپ دیکھ رہا تھا۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔دادو۔۔اذہاد نے بڑی مشکل سے حور پر سے نظریں ہٹا کر داؤد کو جواب دیا۔۔۔
وہ آگے بڑھتے حور کے سر پر پیار کرتے بولے۔۔۔میری بچی کیسی ہے؟؟
میں ٹھیک ہوں۔۔وہ آہستہ آواز میں بولتی ان کے سینے سے لگی۔۔
اور تبھی اذہاد مسکراتا ہوا خاموشی سے اس کے دل کا حال جانتا باہر چلا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اذہاد کی محنت اور کوشیشیں رنگ لائی تھیں۔۔
حور اب بینا ڈر اور خوف کے سہارا لے کر چل سکتی تھی وہ اب تھکتی بھی نہیں تھی۔۔اس سب کا کریڈٹ ازہار کو جاتا تھا کیونکہ اس کی دی گئی دھمکی کے ڈر کی وجہ سے حور کو اپنے چلنے کا ڈر ختم کرنا پڑا۔۔اگر وہ اپنا یہ ڈر نہیں ختم کرتی تو ازہاد کی دی گئی دھمکی کے برعکس وہ اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر پورے ہاسپٹل کا چکر لگاتا۔۔۔یہی وجہ تھی کہ اذہاد کے بولنے سے بھی پہلے وہ خود خوشی خوشی اس کا ہاتھ تھام کر پورے ہسپتال کا راؤنڈ لیتی تھی۔۔
وہ ڈاکٹر سے بات کر کے آبھی کمرے میں آیا ہی تھا جب اس کی نظر اس کے لال غصے سے بھرے چہرے پر گئی۔۔وہ بچوں کی طرح منہ پھولاے بیٹھی تھی۔۔
اسے اسطرح سے دیکھ کر اب اذہاد کا دل بھی اداس ہو جاتا تھا اسے اب چلبلی ہنسی مذاق اور چھیڑ چھاڑ کرنے والی حور کی عادت ہوچکی تھی۔۔اس کی ایک پل کی خاموشی سے بھی اذہاد بے چین ہو جاتا تھا۔۔
کیا ہوا حور؟؟ وہ فکر سے اسے دیکھتا اس کے قریب آیا۔۔
ہادی مجھے گھر جانا ہے۔۔میں یہاں پڑے پڑے بور ہو گئی ہوں۔۔پلیز مجھے گھر لے کے چلو۔۔یہاں اگر کچھ دن اور رہی تو میں پاگل ہو جاؤں گی۔۔وہ بچوں جیسے منہ بناتی اس کے ہاتھوں کو تھامتی ہوئی ضد کرتی بولی۔۔
حور مگر ڈاکٹر تمہیں کچھ دن اور یہاں رکھنا چاہتے ہیں۔۔انہوں نے ابھی چھٹی نہیں دی۔۔۔کچھ ریزنس ہے جس کی وجہ سے وہ تمہیں ابھی گھر نہیں بھیجنے دینا چاہتے۔۔وہ پیار سے اس کے بال سنوارتا ہوا اسے پیار سے سمجھانے لگا۔۔
یہ صرف تمہیں پاگل بنا رہے ہیں۔۔میں خود ایک ڈاکٹر ہوں۔۔مجھے اچھے سے پتا ہے کہ اپنا خیال مجھے کیسے رکھنا ہے۔۔۔تم بس مجھے یہاں سے لے کے چلو۔۔وہ اب اس کا ہاتھ تھامتی کھڑے ہونے کی کوشش کرنے لگی۔۔
اذہاد کو اس کی بچوں کی طرح ضد کرتی اور اس کی معصوم اداؤں پر بے اختیار پیار آیا وہ آگے بڑھتے ہوے اسے محبت سے سینے سے لگا گیا۔۔اچھا ٹھیک ہے میں یہاں سے لے جاؤ گا اپنی حور کو وعدہ کرو اب اداس نہیں ہوگی؟؟ وہ بڑی لاڈ سے اسے اپنے سینے سے لگائے اس وجود کے اردگرد حصار باندھے پوچھ رہا تھا۔۔وہ اس کے مضبوط بازووں میں چھپ گئی تھی۔۔
نہیں۔۔وہ بھی مسکراتی ہوئی خوشی سے بولی اس کے نازک ہاتھ اذہاد کے کمر کے گرد بندھے ہوے تھے۔۔
ٹھیک ہے میں پھر سارے بل کلیر کرتا ہوں اور گھر پے فون کر کے سب کو انفارم کر دیتا ہوں کہ میں حور کو لے کر آرہا ہے۔۔تم جب تک ریڈی ہو جاؤ۔۔وہ اس کے سر اور ماتھے کو چومتا ہوا مسکرا کر بولا اور چلا گیا۔۔
حور بہت ایکسائٹڈ تھی گھر جانے کو۔۔اس نے اپنے لائے گئے سامان والے بیگ کو کھولا اور اس میں سے پنک کلر کا ڈھیلا کرتا نکالا جس کے نیچے وائٹ کلر کا کھلے پائنچوں والا ٹراوزر تھا۔۔
اذہاد نے حور کے شروع سے آخر تک کے تمام ہاسپٹل بل خود ادا کیے تھے۔۔اس نے شروع ہی میں داؤد سے کہہ دیا تھا کہ وہ اس کی بیوی ہے اس کی ذمہ داری اس لئے برائے مہربانی وہ اس چیز میں اسے پیچھے ہٹنے کو نہ کہیں اور اس کی یہ بات سن کر وہ مان گئے تھے داؤد ابراہیم نے ارتضیٰ کے سامنے یہ ظاہر کیا تھا کہ وہ اپنی پوتی کا ذمہ خود اٹھائے ہوئے ہیں۔۔
جبکہ حقیقت کا آزہاد اور داؤد کے علاوہ کسی کو پتا نہیں تھا۔۔اور اس بات سے ازہار کو کوئی فرق پڑتا بھی نہیں تھا کہ یہ حقیقت کوئی اور جانتا ہے بھی یا نہیں۔۔وہ اس بات سے مطمئن تھا کہ ایک شوہر ہونے کے نعتے وہ اپنی بیوی کی تمام ذمہ داری پورے حق سے ادا کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ جب کمرے میں اندر داخل ہوا تو حور کو دیکھ کر مسکرا دیا۔۔وہ پوری تیاری کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی خوشی سے اسے دیکھتی اس کا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔
اذہاد کو وہ کوئی پیارا سا حسین گلاب کا گلابھی پھول لگی۔۔
ہادی چلیں۔۔وہ بچوں سی خوشی چہرے پہ سجائے اسے بولی۔۔
اذہاد اس کے قریب آیا اور اس کے بیڈ سے نیچے لٹکتے پیروں کی طرف جھکاتا ہوا پنجوں کے بل نیچے بیٹھا۔۔
حور ایک پل کو حیران ہوئی کے وہ کیا کرنے لگا ہے۔۔
تبھی اذہاد نے اس کی نازک سی چپل کو اٹھا کر اس کے سفید گلابی پیروں میں ڈالی۔۔
ہادی کیا کر رہے ہیں۔۔میں خود پہن لونگی۔۔وہ ایک دم گھبرا گئی تھی اسے ایسا کرتے دیکھ کر۔۔۔
مگر وہ تو مسکرا کر اسے دونوں پیروں میں چپل پہناتا کھڑا ہوا۔۔اور سیدھا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا۔۔حور کی سانسیں تو جیسے اس کے سینے میں پھنس گئی تھی۔۔آنکھیں نم چھوٹی سی ناک ضبط سے لال ہو چکی تھی۔۔
ہادی کیوں کرتے ہو اتنی محبت ؟؟ تمہاری اتنی محبت مجھے پاگل کر دے گی۔۔ تمہاری اتنی چاہت کہیں میری جان ہی۔۔۔ایک موتی ٹوٹ کر اس کر گال پر گرا تھا۔۔تبھی اذہاد نے اس کے ہونٹوں پے انگلی رکھ کر اسے آگے بولنے سے روکا اور آہستہ سے آگے بڑھ کر اس کے گال پر گرے موتی کو اپنے لبوں سے چن لیا۔۔
حور کی تو دنیا ہی جیسے تھم سی گئی تھی۔۔وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئی تھی دل زور زور سے پوری رفتار سے دھڑک رہا تھا۔۔شرم سے منہ نیچے ہی نیچے ہوتا پورا جھک گیا تھا۔۔
اس کے شرمانے پر اذہاد زور سے ہنسا۔۔اور آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا۔۔اس کے سینے سے لگ کر بھی اس کی گردن نیچے ہی جھکی ہوئی تھی۔۔
اچھا چلو اب۔۔اذہاد نے حور کو پیچھے کرتے اس کے نازک ہاتھوں کو تھامنا چاہا تو اس نے فورا ہاتھ پیچھے کر لئے۔۔
وہ ایک پل کو حیران ہوا۔۔حور چلو۔۔وہ نیچے گردن جھکا کر اس کے جھکے چہرے کو مسکرا کر دیکھتا ہوا بولا۔۔
مجھے نہیں جانا آپ کے ساتھ۔۔وہ ناراضگی سے سرخ چہرا لئے بولی۔۔
اچھاا ا ۔۔وہ کچھ سوچ کر سیدھا ہوا۔۔۔پھر ٹھیک ہے میں تمھیں گود میں۔۔وہ ایک آئی برو اٹھا کر خطرناک ارادے سے آگے بڑھا ہی تھا جب حور فورا اس کی ادھوری بات کا مطلب سمجھتی جھٹکے سے گردن اٹھائی اور دانت پیستی ہوئی اس کی طرف دیکھنے لگی۔۔
کتنا پیارا ہے میرا بچہ میری ہر بات ختم ہونے سے پہلے ہی فورا مان جاتا ہے۔۔وہ پیار سے اس کے گالوں کو کھینچتا اسے چھیڑ تا ہوا بولا۔۔۔
حور صرف نظروں سے شولے برساتی اسے دیکھ ہی سکتی تھی۔۔کچھ کرتی تو اس سے کوئی بعید بھی نہیں تھا کہ وہ سچ میں اسے اٹھا بھی لیتا۔۔
اسی لئے بعد میں سہی وقت پر اس بات کا بدلہ لئے جانے پر وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چلتی اس کی تمام چھیڑ چھاڑ کو برداشت کرتی رہی۔۔۔
اور اذہاد اسے تو جیسے کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا تھا اس نے حور کا خوب دل کھول کے ریکارڈ لگایا تھا پورے راستے۔۔۔ورنہ مشکل سے ہی کوئی اس کے ہاتھ ایسا کوئی موقع آتا تھا۔۔سارے راستے وہ ہنستا رہا انجونے کرتا رہا اور حور بچوں کی طرح منہ بناتی گردن جھکاے بیٹھی رہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بہت خوش تھی۔۔2 سال سات مہینوں بعد وہ اپنے گھر کو دیکھ رہی تھی۔۔
اذہادکی گاڑی دیکھ کر سب گھر سے باہرنکل آئے تھے حور کا ویلکم کرنے۔۔
حور کی طرف کا دروازہ ارتضیٰ نے مسکراتے ہوے کھولا تھا۔۔بابا۔۔وہ باہر نکل کر آتی ارتضیٰ کے گلے لگ گی تھی۔۔میری چڑیا۔انہوں نے مسکراتے ہوے اس کے سر کا بوسہ لیا۔۔ساتھ کھڑی عظمیٰ اور داؤد بھی باری باری حور سے ملے اور اسے گلے لگایا۔۔
اذہاد۔۔ارتضیٰ نے اسے آواز دے کر ہاتھ کے اشارے سے قریب بلایا جو گاڑی کا دروازہ پکڑے سب کو حور سے ملتے دیکھ کر ان کے چہروں پر آئی خوشی دیکھنے میں گم تھا۔۔ارتضیٰ کے بلانے پر چونکتا وہ فورا قریب آیا تھا جب ہی ارتضیٰ نے اسے بھی سینے سے لگا کر اس کا ماتھا چوما تھا۔۔
میرا بیٹا دور کیوں کھڑا تھا؟؟۔۔وہ اس کے چہرے کو تھامتے ہوے مسکرا کے پوچھ رہے تھے۔۔۔
کچھ نہیں بابا۔۔۔وہ جھیپتا ہوا بولا
تبھی داؤد کے ساتھ اندر جاتی حور نے پلٹ کر اذہاد کو دیکھا تھا۔۔ اسی پل اذہاد نے بھی نظر اٹھا کے بے اختیار حور کو دیکھا تھا۔۔دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا۔۔حور کے ہونٹوں پے اسے دیکھ کر بہت خوبصورت اور پیار بھری مسکراہٹ آئی تھی جسے دیکھ کر اذہاد بھی مسکرا دیا تھا اور اس کے چہرے کی حسین ڈیمپل والی مسکراہٹ دیکھ کر حور مطمئن ہوتی پلٹ گئی۔۔۔
داؤد اور سعدیہ تو ارتضیٰ کے گھر ہی رکے ہوے تھے۔۔جب کے گاؤں سے مدثر کی فیملی کو انفارم کر کے بلا لیا تھا کے حور گھر آچکی ہے۔۔وہ لوگ دوپہر تک پوھنچنے والے تھے۔۔
عنان کی فیملی کو حور کے گھر آنے کی اطلاع صبح ہی مل گئی تھی تبھی وہ صبح ہی آگئے تھے۔۔۔
عنایا اور فریحہ حور کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور اس کے اوپر پھول پھینکے۔۔حور ان کے استقبال پر حیران ہوتی ہنس دی پھر وہ دونوں اس کے گلے لگتے ہوے اسے اندر لے آئین تھیں۔۔۔
________________
ہنسی مذاق کے دوران گاؤں سے مدثر کی فیملی بھی پہنچ گئی اور پھر سب نے ایک بہترین ماحول میں مل کر کھانا کھایا۔۔
کھانا کھانے کے بعد چاہے کا دور چلا۔۔
جس میں سب کیلئے چائے بنائی گئی اور خاص ازہار کے لئے بلیک کافی۔۔
عنایہ فریحہ اور حور کی ٹولی تھوڑی دور نیچے رکھے بڑے بڑے کشنز پر جم گئیں۔۔
عظمیٰ ان کی بہن اور بھابھی اپنی گھریلو باتوں میں لگ گئی۔۔
رہ گیا بیچارہ ازہاد جو بزرگوں کے ہتھے چڑھ گیا۔۔
بزنس کے متعلق اس سے داؤد ارتضیٰ اور عنان نے ایسے ایسے سوال پوچھنے شروع کیے کہ اسے سمبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا ۔۔۔ہمیشہ سے کم گو مختصر بات کرنے والا اذہاد چاہ کر بھی انہیں کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔۔
رہ گئے شاہزیب اور افنان جو کبھی کسی بات پر خاموشی سے چاروں کا منہ دیکھتے ورنہ نیچے گردن جھکائے مسکراتے رہتے۔۔
افنان اذہاد کی شخصیت اور اس کی حیثیت سے تھوڑا خائف تھا سلام دعا سے زیادہ اس کی از ہاد سے اور کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی تبھی وہ خاموش تھا۔۔
اور شاہ زیب وہ اذہاد کو تھوڑا بہت جانتا تھا وہ اس کی خود سے ناپسندیدگی کو اچھے سے سمجھتا تھا اب تک کی ان کی مختصر آپس کی تمام گفتگو میں اذہاد نے اس سے صرف طنزیہ روکھی اور کھری گفتگو ہی کی تھی۔۔وہ کبھی خود سے اسے مخاطب نہیں کرتا تھا۔۔اور نہ کبھی آزہاد نے مشکل سے کوئی کام کے علاوہ اسے کوئی الگ سے بات کی ہو۔۔اس لیے اس تمام ہوتی گفتگو میں وہ بھی خاموش تماشائی بنا بیٹھا تھا۔۔
اذہاد میں نے تمہارا انٹرویو پڑھا ہے۔تم نے بہت چھوٹی عمر سے بزنس اسٹارٹ کیا؟؟ عنان نے اذہاد سے سوال کیا۔۔
جی۔۔زبردستی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجائے جواب دیا گیا۔۔اس سے زیادہ وہ کوئی جواب نہیں دے رہا تھا اپنی ذاتیات کو اس طرح محفل میں بیٹھ کر ڈسکس کرنا اذہاد کو کبھی پسند نہیں تھا۔۔
جاری ہے
