Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27

Wahdat E Ishq by Maryam Kanwal Episode27

وہ لیٹی ہوئی بس ایک ہی بات سوچے جا رہی تھی کہ بس اب جلد سے جلد دادو سے آزہاد کے بارے میں بات کرنی ہے اس کے پیپرز بھی شروع ہونے والے تھے وہ اب اور ویٹ نہیں کر سکتی تھی۔۔ دادو کو یہاں آنے کا کہتی ہوں اور آزہاد کے بارے میں انہیں سب بتا دیتی ہوں وہ ضرور دادو کو پسند آ جائیں گے آزہاد کو کوئی ریجیکٹ کر دے ایسا تو ممکن ہی نہیں اور پھر دادو میرے سامنے ہی آزہاد سے مل بھی لیں گے یہ زیادہ صحیح رہے گا ایک بار دادو مان جائیں پھر بابا کو منانا مشکل بھی نہیں وہ دادو اور میرے ایک ہوجانے پر خود بخود فیصلہ میرے حق میں کردیں گے۔۔ وہ جب سے آئی تھی بس نئی نئی پلاننگ سوچے جا رہی تھی کہ کیسے سب معاملات سیٹ کرنے ہیں اور آخرکار سوچ بچار کے بعد نتیجہ نکل جانے پر وہ اللہ کا نام لیتی آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کا سارا دن اس کا بے حد مصروف گزرا ہاسٹل سے یونی کے بیچ وہ چکراکر رہ گئی تھی اسے ایک پل کی بھی فرصت نہیں ملی تھی پیپرز کے نزدیک ہونے کی وجہ سے اس کی روٹین ٹف ہونے والی تھی وہ یونی سے جب باہر نکلی تو رات کے سائے پھیلنے کو تیار تھے وہ بے حد تھکی ہوئی تھی جسم درد سے چور چور ہو رہا تھا وہ تیز تیز قدم اٹھاتی گاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی کہ بیگ میں رکھا اس کا موبائل بجنے لگا اس نے رک کر بیگ سے فون نکالا تو دیکھا پاکستان سے دادو کی کال آرہی تھی۔۔۔
اسلام علیکم دادو۔۔ فون کان سے لگاتی بولی۔
ارے میری جان وعلیکم السلام کیسی ہے میری گڑیا وہ پرجوش آواز میں بولے۔۔
میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟؟ پاکستان میں سب کیسے ہیں؟؟ اس کی آواز میں تھکاوٹ دادو نے صاف محسوس کی۔۔ یہاں سب ٹھیک ہیں مگر تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی سب خیریت ہے نا میرے بچے وہ پریشان ہوتے ہوئے بولے۔۔
ارے دادو میں بالکل ٹھیک ہوں میرے پیپر ایک دو دن میں اسٹارٹ ہونے والے ہیں اس لیے روٹین تھوڑی ٹف ہو گئی ہے ابھی بھی صبح سے یہاں وہاں بھاگ دوڑ مچی ہوئی ہے۔۔وہ ان کے پریشان ہو جانے پر ہنستی ہوئی بولی۔۔
اچھا اچھا ٹھیک ہے پھر تم آرام سے اپنے پیپرز دو اس کے بعد میرے پاس تمہیں دینے کیلئے ایک سرپرائز ہے وہ جوش سے بولے۔۔
سرپرائز ؟؟کیسا سرپرائز؟؟ وہ سوالیہ انداز میں بولی۔۔
نہیں نہیں یہ تو میں تمہیں ابھی نہیں بتاؤں گا تم اپنے ایگزیم سے فارغ ہو جاؤ پھر۔۔ وہ بھی ضد کے پکے تھے۔۔
ہاں مجھے بھی آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی دادو مگر مصروفیت اتنی بڑھ گئی ہے کہ لگتا ہے اب ایگزامز کے بعد ہی کوئی بات ہو پائے گی۔۔ وہ تھوڑی اداسی سے بولی مگر دادو اپنی ایکسائٹمنٹ میں غور ہی نہیں کرپائے۔۔
اچھا ٹھیک ہے تم اچھے سے پیپر دو میرے بچے اور اپنا بہت سارا خیال بھی رکھو اللہ حافظ۔۔ دادو نے فون رکھ دیا اور حور نے بھی زیادہ توجہ نہ دی انکی سرپرائز والی بات پر اسے آجکل آزہاد کے خیال سے اس کی سوچ سے ہی فرصت نہیں ملتی تھی کہ وہ دوسری باتوں پر توجہ دے پاتی وہ آگے بڑھتی گاڑی کی طرف چلنے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارتضیٰ بھی تیاریاں مکمل رکھو میں بس بہت جلد آرہا ہوں حور کو مانگنے اپنے شاہزیب کے لیے۔۔ وہ خوشی سے حور سے بات کرنے کے بعد ارتضیٰ کے پاس فون کرتے ہوئے بولے۔۔۔
بابا سو بسم اللہ آپ آئیں حور آپ ہی کی امانت تھی اور ہے۔۔۔
داؤد زور سے ہنسے ارتضیٰ میری بات ہوئی ابھی ہور سے اس کے پیپرز شروع ہونے والے ہیں پھر وہ جلد ہی پاکستان آجائے گی۔۔۔
اچھا یہ تو پھر بہت اچھی بات ہے بابا ہماری ساری تیاریاں مکمل ہیں آپ بس آجائیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور بے حد تھک چکی تھی اس میں اب اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر اپنے لئے کچھ کھانے کو بناتی اس نے سوچا وہ ایسے ہی بھوکی سو جائے گی اور اب صبح ہی اٹھ کر ناشتہ کرے گی۔۔ابھی وہ یہ آنکھیں بند کرکے لیٹی سوچ ہی رہی تھی کہ دروازے کی بیل ہوئی۔۔اپنی تھکی ہوئی آنکھوں کو بمشکل کھولتی وہ اٹھی دروازہ کھولا تو سامنے آزہاد کھڑا تھا جو مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
حور کی تھکی آنکھوں کو اسے دیکھ کر جیسے ایک تقویت سے ملی۔۔وہ بھی اسے دیکھ کر مسکرائی اور سامنے سے ہٹتی اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔۔وہ سمجھ گئی تھی کہ آزہاد آیا ہے تو خالی ہاتھ تو آیا نہیں ہوگا ضرور کھانے پینے کی دکان ساتھ اٹھا کر لایا ہوگا۔اور وہی ہوا وہ سیدھا کچن میں گیا تھا حور اس کے پیچھے آہستہ قدم اٹھاتی اندر کیچن میں آئی تھی۔اور ایک کرسی گھسیٹ کر اس پر بیٹھ گئی تھی
ازہاد پلیٹں نکال کر ٹیبل سیٹ کرنے لگا تھا۔
ہادی مجھے آپ کو اس طرح کام کرتے دیکھ کر اپنا روشن مستقبل صاف نظر آرہا ہے۔۔وہ اسے کام کرتا دیکھ کر مسکراتی ہوئی بولی۔۔۔
آزہاد اس کی طرف پلٹا اس کی آنکھیں اس کا تھکن سے نڈھال وجود وہ بہت اچھے سے جان گیا تھا کہ وہ آج تھک گئی ہے۔۔۔پھر وہ کیسے اپنی حور کی فکر نہیں کرتا۔۔وہ بھی اس کی ٹف روٹین اور اسکے آنے والے وقت کی اچھی خبر رکھتا تھا۔۔
حور تم صرف اپنے پیپرز پر دیہان دو اور ساتھ ساتھ اپنا خیال بھی پورا رکھو گھر کی فکر کھانےپینےکی ٹینشن لینے کی بالکل ضرورت نہیں ہے میں نے ایک میڈ کا بندوبست کردیا ہے جو ساری صاف صفائی کی ذمہ داری پوری کر لے گی۔۔اور رہی کھانے کی بات وہ میں خود اپنے ہاتھ سے بنا کر آپ کے لیے بھیج دیا کروں گا۔۔تمہیں اپنی پوری توجہ صرف پیپر اور خود پر دینی ہے سمجھ گئی؟؟۔۔۔۔وہ اس کے سامنے ٹیبل پر دونوں ہاتھ جمائے اس کی آنکھوں میں دیکھتا سختی سے بولا۔۔
حور ہنسی۔۔۔ ہادی آپ تو پورے ماسٹر لگ رہے ہو میرے۔۔سچی میری بہت بڑی پرابلم آپ نے سولو کردی۔۔وہ محبت سے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔۔
ہادی سوچ لیں مشکل ہونے والی ہے تھوڑی پورے ایک ہفتے میں آپ سے ملنے نہیں والی کیونکہ میں بہت گھن چکر بننے والی ہوں پیپرز میں۔۔ وہ منہ بسورتی ہوئی بولی۔۔
ازہاد ہنسا اور اس کی کرسی کے قریب اپنی کرسی لاتا بولا۔۔ فکر نہیں کرو اس کا بھی بندوبست میں نے کر لیا ہے۔۔
سچی۔۔۔۔ حور چہک کر بولی۔۔۔
جی۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی آزہاد نے چاولوں سے بھرا چمچ اٹھا کر اس کے ہونٹوں کے قریب کیا جسے حور نے آگے بڑھ کر کھا لیا۔۔۔
دونوں کی کھٹی میٹھی گفتگو کے بعد ازہار اپنے گھر آ گیا اور حور مست ہو کر سو گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور کے پیپرز شروع ہوگئے تھے اور اسے اس دوران سر کھجانے کی بھی فرصت نہیں تھی تین دن سے پاکستان والوں سے بھی کوئی رابطہ نہ ہو سکا تھا ایک آزہاد ہی تھا جو اس کے اتنے ٹف روٹین میں بھی کھینچ تان کر وقت نکال کر رابطہ کر ہی لیتا تھا پھر وہ چاہے فون ہو یا ویڈیو کال بس اسے ایک نظر دیکھنا ضروری ہوتا تھا اس کی آواز کانوں تک پہنچانی لازمی ہوتی تھی ورنہ اس کی سانس بحال کیسے ہوتی اسے حور کی پرواہ خود سے بھی زیادہ تھی اسی لئے اس سے ملنے کے لئے اس نے خود پر ابھی مکمل ضبط کیا ہوا تھا۔۔۔۔وہ رات میں جب بھی اس کا چہرہ دیکھتا اسے حور پر ٹوٹ کر پیار آتا۔۔ نیند سے بوجھل آنکھیں چہرے کی جھلکتی دن بھر کی تھکن۔۔وہ اس سے خیریت سے زیادہ بات بھی نہیں کر پاتی کہ آنکھیں بات کرنے کے دوران ہی بند ہوجاتی اور آزہاد اس کے معصوم بھولے بھالے سے چہرے کو گھنٹوں تکتے رہتا اور اس طرح اس کی بھی آنکھیں اسے جی بھر کے دیکھنے کے بعد چپکے سے بند ہو جاتی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ اللہ کرکے آخر کار یہ وقت کٹ گیا۔اور حور کو پیپرز سے آج نجات مل گئی۔وہ اپنے کولیگ اور کلاس فیلو سے ہائے ہیلو کر کے خوشی سے یونیورسٹی سے باہر آئی جہاں دھون دھار بارش نے اسے خیر مقدم کیا۔۔ بارش اسے آزہاد کی یاد دلاتی تھی اس نے بارش میں اپنا سیدھا ہاتھ آگے کیا جس میں آزہاد کی محبت کی نشانی سجی تھی۔۔ وہ مسکرائی آج وہ بہت خوش تھی وہ ازہار سے بات کئیے بنا جانتی تھی کہ آج تو اس کا دیدار نصیب ہوگا اسے میں نے نہ بھی بتایا وہ اپنے لاسٹ پیپرز کے بارے میں مگر اسے میری ہر بات کا علم ہوگا اور اسی خوشی میں بھیگتی ہوئی وہ گاڑی تک پہنچی اور ڈرائیو کرتی ہوئی گھر آئی۔۔
ازہاد کو صبح سے بے چینی سی لگی تھی بس اب حور کو سامنے آنکھوں کے کھڑا کرکے اس کا دیدار کرنا ہے بس۔۔۔ وہ ایک ارجن میٹنگ میں بس پھنس گیا تھا جو اس کی جان ہی نہیں چھوڑ کر دے رہی تھی اور اس میٹنگ کو چھوڑ کر جانا بھی ٹھیک نہیں تھا۔۔وہ کبھی شیشے سے باہر برستی بارش کو دیکھتا تو کبھی سامنے بیٹھے اپنے کلائنٹس کو۔۔ بے چینی تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔۔ جسے اس کے کلائنٹس بھی صاف محسوس کر رہے تھے۔۔۔۔
حور نے گھر پہنچ کر سادہ سا ایک سوٹ نکال کر پہنا اور ہلکا پھلکا سا تیار بھی ہوئی۔۔ابھی وہ اپنے بالوں کو باندھ کے ازہاد کے آنے کا انتظار کر رہی رہی تھی کہ اس کے موبائل پر پاکستان سے دادو کی ویڈیو کال آنے لگی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ اللہ کرکے میٹنگ ختم ہوئی وہ جلدی سے باہر آیا تو اس کا آرڈر کیا پارسل بھی آچکا تھا وہ بھاگتا ہوا پارسل ہاتھ میں لیے گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا اس کی اس جلدبازی کو اس کے سارے ورکر حیران ہو کر دیکھ رہے تھے۔۔اس نے جلدی سے گاڑی کھولی۔۔ہاتھ میں پکڑا پارسل سامنے سیٹ پر رکھا اور کوٹ اتار کر پیچھے کی سیٹ پر ڈالا اور آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کرتا اندر بیٹھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حور نے کال اٹھائی۔۔ اسلام علیکم۔۔ اس نے چہکتے ہوئے سلام کیا مگر یہ کیا وہاں صرف دادو نہیں نظر آ رہے تھے بلکہ مما بابا داری بڑی ماں بڑے بابا ماموں مامی سب تھے۔۔
وعلیکم السلام اینڈ سرپرائز۔۔ دادو نے خوشی سے جھومتے ہوئے اس کے سلام کا جواب دیا۔۔حور حیران ہوتی سب کی سجی دہجی تیاریاں دیکھ رہی تھی۔۔ ارے واہ آج کوئی پارٹی شارٹی رکھی ہے کیا گھر پہ سب ایک ساتھ جمع ہیں کافی تیار شیار ہوئے ہیں۔۔ ارے یہی تو تمہیں سرپرائز دینا تھا ہمیں حور۔۔دادو ہنستے ہوئے بولے۔۔۔
داؤد نے کیمرہ اب عظمیٰ اور ارتضیٰ کی طرف گھمایا۔۔حورنے انہیں بھی سلام کیا۔۔ماما کیسی ہیں آپ؟؟ بابا آپ کیسے ہیں ؟؟وہ خوشی سے انہیں دیکھتی ہوئی بولی۔۔
میری جان ہم ٹھیک ہیں آپ کیسی ہو؟؟ آپ کے پیپر کیسے ہوئے؟؟ عظمیٰ نے ہنستے ہوئے پوچھا۔۔
بہت اچھے مما بہت بہت اچھے گئے میرے پیپرز۔۔ ماں باپ سے بات کرنے کے بعد دادو نے اب کیمرہ اپنی طرف کیا۔۔۔
حورنے حیران حیران نہ سمجھنے والے انداز سے دیکھا دادو کے پیچھے اسے شاہ زیب کا چہرہ نظر آرہا تھا جو کھلے کھلے سے چہرے پر خوشیوں کی چمک لیے سب سے ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔۔۔
حور بیٹا یاد ہے میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کے لیے میرے پاس ایک سرپرائز ہے۔۔؟؟ داؤد نے ایسے بولا کہ اس کی دلچسپی بڑھے۔۔ حور نے سوالیہ نظروں سے گردن ہلائی۔۔۔
ہاں تو وہ سرپرائز یہ ہے کہ میں نے اور ارتضیٰ نے آپ کا شاہزیب کے ساتھ رشتہ پکا کر دیا ہے اور یہی نہیں ہم نے آپ دونوں کی شادی کی ڈیٹ بھی فکس کر دی ہے۔۔۔ وہ خوشی سے جھومتے ہوئے سامنے والے پربم گرا رہے تھے۔۔اور کے ہاتھ سے موبائل چھوٹتے چھوٹتے بچا وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے ایک ٹک بس اپنے دادا کو دیکھ رہی تھی جو اس کی موت کا پیغام لے کر آئے تھے۔۔۔ یہ وہ کیا سن رہی تھی کہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے شاید اسے سننے میں ایسا کیسے ہوسکتا ہے وہ تو ازہار سے محبت کرتی ہے۔۔۔ وہ تو آزہاد کی امانت ہے پھر یہ شاہزیب کون ہے؟؟ جو میرے اور آزہاد کے بیج آگیا ہے۔۔ داؤد نا جانے اور کیا کیا ہنستے ہوئے اسے کہہ رہے تھے مگر وہ تو پتھر ہو چکی تھیں۔۔۔۔ کہیں دو آنکھوں نے اس وقت اس کی یہ حالت بے حد تعجب اور حیران نظروں سے دیکھی تھی۔۔۔ حور کی پتھرائی آنکھوں سے اچانک ایک موتی ٹوٹ کر گرا اور اس نے جلدی سے موبائل بند کرکے پلٹ کر رکھ دیا۔۔۔ اس کی ایک سانس سینے میں جیسے اٹک سی گئی تھی وہ بے اختیار زمین پر بیٹھی۔۔اور آنکھوں سے آنسو موتیوں کی لڑی کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کر بکھرنے لگے۔۔۔
ہادی۔۔۔ وہ زور زور سے نیچے بیٹھے آزہاد کو پکارتی آواز کے ساتھ رو رہی تھی۔۔ہادی وہ ٹوٹ گئی تھی بکھر گئی تھی۔۔۔۔ ہادی۔۔۔۔۔وہ بے تحاشا رو رہی تھی اس کا نام بار بار لیتے ہوئے۔۔۔۔
داؤد نے اس کی آنکھ سے گرتے آنسو کو دیکھ لیا تھا ان کا ہنستا چہرہ ایک دم سناٹے میں آگیا تھا بے اختیار انہوں نے پلٹ کر شاہزیب کو دیکھا جس کی آنکھیں اور سپاٹ چہرہ اس بات کی دلیل دے رہا تھا کہ وہ انجان اور بے خبر نہیں ہے۔۔۔۔ ان کا دل شاہ زیب کے چہرے کو دیکھ کر زور سے دھڑکا۔۔۔۔
ارے بابا کیا ہوا حور چلی گئی؟؟ ارتضیٰ پیچھے سے آتے ہنستے ہوئے بولے۔۔۔
ہاں۔۔۔۔وہ۔۔۔وہ ۔۔۔۔ کہہ رہی تھی کہ اسے کچھ دیر آرام کرنا ہے۔۔۔ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں انہوں نے بہانہ گھڑا۔۔
ارے شرمآ گئی ہوگی وہ بابا۔۔ ارتضیٰ نے مذاق کیا۔۔مگر داؤد مسکرا تک نہ سکے۔۔۔۔
وہ یوں ہی زمین پر بیٹھی گھٹنوں کو سینے سے لگائے آواز کے ساتھ روتی بار بار ہادی ہادی پکار رہی تھی۔۔
اور آازہاد جو صبح سے بے چین تھا جو حور کے لئے تڑپ رہا تھا وہ ایسے ہی نہیں تھا صبح سے اس کا دل جو اسے الہام پہنچا رہا تھا وہ حور سے ملنے کی بے چینی نہیں تھی مگر وہ جان ہی نہیں پایا تھا۔۔اس نے راستے میں گاڑی روک کر حور کے لئے لال رنگ کے بڑے بڑے گلابوں کا بوکے لیا اور اس کے گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر خوشی خوشی وہ اس کے گھر کے دروازے کے سامنے کھڑا تھا دروازے کی بیل پر ہاتھ رکھے وہ اب دروازہ کھولنے والے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
حور۔۔۔جس نے رو رو کر اپنی حالت بگاڑ لی تھی دروازے کی بیل بجتی سن کر دوڑتی ہوئی آئی اور دروازہ کھولا دروازہ کھولنے پر آزہاد کو ایک جھٹکا سا لگا اس کے مسکراتے لب سکڑ گئے اور اسے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ ایک ہفتے بعد یوں اسے اس حالت میں ملاقات کرے گا حور آزاد کو سامنے دیکھ کر اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔
___________________
اذہار جلدی سے آگے بڑھا۔۔۔کیا ہوا حور ؟؟ ایسے کیوں رو رہی ہو؟؟ وہ پھول سامان وہیں زمین پر رکھ کر دروازہ بند کرتا حور کو کاندھوں سے پکڑ کر صوفے پر بٹھاتا بولا۔۔۔
ہادی۔۔۔وہ اسے دیکھ کر روتے ہوئے باربار بس یہی نام دہرائے جارہی تھی۔۔۔ بے تحاشا رونے کی وجہ سے اس کے سلکی بال کھل کر بکھر چکے تھے آنکھیں اور چہرہ رونے کی وجہ سے لال گلابی ہو گیا تھا۔۔
ازہاد اسے اس طرح سے تڑپتا بلکتا روتا ہوا دیکھ کر سخت پریشان ہو گیا تھا اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ حور کو کیسے چپ کروائے اسے اس کا اس طرح سے رونا دیکھا نہیں جا رہا تھا دل پر سختی سے جبر کرتا اس کے چہرے پر آئے بالوں کو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے سمیٹتے ہوئے اس نے اس کے سارے بالوں کو ایک جگہ کرکے باندھا اور پھر اس کے چہرے پر بکھرے آنسوؤں کو اپنی انگلیوں کی پشت سے صاف کیا اور پھر فورا اٹھ کر اس کے لئے پانی لایا اور زبردستی اسے دو گھونٹ پانی کا پلایا۔۔ حور اب زیادہ رونے کی وجہ سے ہچکیاں لینے لگی تھی۔۔۔
آزہاد نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لیا اور بولا۔۔۔ حور اب رونا نہیں مجھے بتاؤ بات کیا ہے ورنہ میری برداشت کی ہر حد پار ہو جائے گی۔۔ وہ آنکھوں کو اس کی آنکھوں میں گاڑھتے ہوئے سختی سے بولا۔۔۔
وہ کیسے اتنی آرام سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اتنی بڑی بات بول سکتی تھی اس کے دل پر کیا گزرے گی جب اسے پتہ چلے گا۔۔۔۔ وہ اس کے چہرے کو دیکھ کر اور سوچنے لگی تھی کہ جب ہی آزہاد کی ایک اور بار آواز آئی۔۔۔
حور میں کیا پوچھ رہا ہوں بولو پلیز۔۔ آزہاد نے اپنے جبڑوں کو زور سے پسیجتے ہوئے سختی سے کہا۔۔ حور نے اپنے خشک ہونٹوں کو زبان سے ترکیا اور بولنے کے لئے ہمت بڑھائی۔۔۔ ہادی دادو بابا نے میرا رشتہ پکا کر دیا ہے اور میری شادی کی ڈیٹ بھی فکس کر دی ہے۔۔ وہ اب روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان بولی۔۔۔ اور یہ سن کر تو اذہاد کے پیروں سے جیسے کسی نے زمین ہی کھینچ لی۔۔
کیا ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟؟حور ایسا نہیں ہوسکتا کوئی کیسے تمہاری اور میری زندگی کا فیصلہ اتنی آرام سے کرسکتا ہے میں نہیں مانتا۔۔ وہ بے یقینی سے حور کو دیکھتا ہوا بولا اور پھر زور سے ہنسا۔۔وہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیے زور زور سے ہنسنے لگا۔۔ پاگلوں کی طرح۔۔۔۔
حور پتھرائی ہوئی نظروں سے اپنا رونا دھونا بھول کر اسے دیکھنے لگی تھی کہ کہیں وہ پاگل تو نہیں ہوگیا۔۔۔
حور تم اتنی سی بات کو لے کر اتنا رو رہی تھیں؟؟ بلاوجہ اپنا اتنا خون جلایا اور ساتھ میں میری جان بھی عذاب میں ڈالی۔۔ وہ اب گردن دائیں بائیں ہلاتا افسوس سے بولا۔۔مگر آنکھیں اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ اس بات سے اس پر کتنی بجلیاں گری ہیں اس کی آنکھیں لال انگارہ بن چکی تھی۔۔
میں نہیں مانتا حور کسی بھی فیصلے کو۔۔ کسی کو حق نہیں تمہاری اور میری زندگی کا فیصلہ کرنے کا میں تباہ کر دوں گا سب کچھ تہس نہس ہوجائے گا۔۔ وہ اس کے بے حد قریب آتا اس کی آنکھوں میں دیکھتا بولا۔۔ حور کا دل زور سے دھڑکا وہ کوئی دیوانہ ہی لگا تھا جنونی سا۔۔۔
اور وہ ہے کون؟؟ جس کی اتنی ہمت ہوئی کہ وہ میری حور کا دعویدار بن کر اسے مانگنے آئے؟؟ میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔۔ وہ بے حد دیوانگی کی انتہا پر جاتا ہوا بولا۔۔ اور حور نے چیخ کر اسے پکار۔۔
ہادی۔۔۔وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ پاگل ہوگئے ہو کیا کیسی باتیں کر رہے ہو؟؟
وہ اب بڑے آرام سے زمین سے اٹھ کر اس کے برابر بےحد آرام سے ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا بے نیازی سے بولا۔۔ میں کسی ڈیٹ فکس یا بات پکی ہو جانے کو نہیں مانتا حور۔۔ دادو کو فون کرو آرام سے انہیں ساری بات بتاؤ انہیں یہاں بلاؤں میری ان سے ملاقات کرواؤ آگے کی ساری کہانی میں سنبھال لوں گا۔۔اب ان آنسوؤں کو بہانے کی ضرورت نہیں ابھی میں زندہ ہوں تمہیں پہلے اللہ پر اور پھر مجھ پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔۔ بے فکر شان بے نیازی سے وہ ایسے بول رہا تھا جیسے کوئی چھوٹی موٹی ڈیلینگ ہو۔۔۔ حور آنکھیں ٹپ ٹپآئے منہ کھولے حیران نظروں سے اسے ایسے دیکھ رہی تھی کے جیسے ہادی کا دماغ چل گیا ہے اسی لیے وہ ایسی اول فول باتیں کر رہا ہے۔۔ وہ اس کی طرف سے پلٹتی صوفی کی سائیڈ پر دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر اس پر اپنی گردن ٹیکاتی منہ بسور کر بیٹھ گئی۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *