Dil Tere Sang Jor Liya By Huria Malik Readelle50062 Last Episode Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Part 1
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#55(Last Episode part 1);
اس کے ہاتھ کا لمس یوں محسوس کر کے اس کے ہونٹوں سے دبی دبی سی چیخ نکلی تھی۔
“مسز ضرغام!کیوں اپنے شوہر کو ظالم ثابت کرنے پہ تلی ہوئی ہیں؟” اس کے چیخ کے لیے نیم وا گلابی ہونٹوں پہ ذومعنی نگاہ ڈالتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا تو وہ خجل سی ہوتی فورا چہرہ جھکاتی لب بھینچ گئی۔
“کیسی ہیں؟” ایک ہاتھ اس کی کمر پہ رکھے دوسرے ہاتھ سے اس کے چہرے پہ بکھرنے والی بالوں کی نم لٹوں کو چھوتے ہوئے وہ نرم لہجے میں گویا ہوا۔
تو اس کی بے تحاشا قربت و ہاتھ کے لمس سے گھبرائی شہرے کی دھڑکنیں اس کے نرم لہجے پہ بجائے اعتدال پہ آنے کے مزید بگڑنے لگیں۔
“ٹھیک ہوں لیکن م۔۔مجھے نیند آئی ہے۔” جواب دینا ناگزیر تھا اس لیے اس نے جواب دینے کے ساتھ فوراً پیشگی حفاظتی حد بندی لگائی تو وہ بے اختیار ہنس دیا۔
اس کے یوں ہنسنے پہ اس نے چہرہ اٹھا کے اسے دیکھا جو سر کو ہولے سے جھکائے کھل کے ہنستا ہوا اسے دنیا کا بہترین منظر لگا تھا۔
اس نے بہت کم اسے یوں کھل کے ہنستے ہوئے دیکھا تھا تبھی اسے ہنستے دیکھ کر اس کا دل سرشار ہوا تھا۔
اسی سرشاری کے ہاتھوں اس نے بے اختیار اپنا مہندی کے دلکش رنگ سے سجا دایاں ہاتھ اٹھایا اور اپنا انگوٹھا اس کے نچلے لب اور تھوڑی پہ لمبائی کے رخ رکھتے ہوئے گویا اس ہنسی کو جذب کرنے کی بچگانہ سی سعی کی تھی۔
اس کی اس بے اختیارانہ حرکت پہ وہ جو کھل کے ہنس رہا تھا، وہ ایک دم سے ٹھٹھکا، ٹھہرا اور پھر چند لمحوں کے ساکت ہو گیا۔
پھر یکایک اس کی خوبصورت بھوری آنکھیں لو دینے لگیں جن کی حدت سے گھبراتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ کھینچنا چاہا۔
“رات کے اس پہر، اس حلیے میں حق ملکیت رکھنے والے مرد کے سامنے اسی کے نام کی مہندی سے ہاتھ رنگے ایسی بے اختیاری دکھائیں گی تو میں واقعی بال خراب کر دوں گا۔” اس کا اپنے چہرے پہ موجود ہاتھ وہیں تھامے دوسرے ہاتھ سے اسے مزید اپنے نزدیک کرتے ہوئے وہ مہندی کی مہک خود میں اتارتے گہرے لہجے میں بولتا اسے سر تا پا شرم و حیا کے خوش کن رنگوں سے نہلا گیا۔
“آپ مجھے تنگ کرنے آئے ہیں؟” اس کی شرٹ کے بٹنز پہ نظریں گاڑھے وہ مدہم سے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔
“اوں ہوں، تنگ میں کل رات کر لوں گا۔ابھی تو رسم کی تکمیل کے لیے آیا ہوں۔” اپنے مخصوص لہجے میں مکمل سنجیدگی لیے بولتا وہ پل بھر میں اس کے وجود میں سنسناہٹ سی بھر گیا۔
اس کے بے حد نزدیک کھڑی وہ اس کی بے باک باتوں سے گھبراتی ہوئی اس کے سینے پہ سر رکھتی گویا خود کو چھپانے کی سعی کرنے لگی۔
“آ۔۔آپ ایسی باتیں نہیں کریں پلیز۔” اس کے سینے پہ سر رکھے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں اس کے پہلووں پہ دھرے اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ گویا حکم جاری کیا تھا۔
“میری باتوں پہ پابندی لگائیں گی تو میرے جذبات بولنے لگیں گے۔” ذومعنی انداز میں کہتے ہوئے اس نے اس کی گردن پہ بکھرے ہاتھ اپنے ہاتھ کی انگلیوں کی مدد سے پیچھے سرکائے تو وہ بے ساختہ خود میں سمٹی تھی۔
لیکن جب اگلے ہی پل اس کے ہونٹوں کا لمس اپنی گردن پہ محسوس کیا تو اس کا سانس گویا حلق میں ہی اٹک گیا ہو۔
اس کے لیے سب سے مشکل ہوتا تھا ضرغام کی ایسی شدت و لمس کو برداشت کر پانا۔
اس کی گردن، اس کے بالوں، اس کے کندھے کو نرمی سے چھوتے ہوئے وہ اس کی دھڑکنوں کو تہہ و بالا کیے جا رہا تھا جس کی بدولت شرم و حیا سے چور شہرے اس کی شرٹ کو پہلووں سے بہت سختی سے دبوچے ہوئے تھی۔
“پ۔۔پلیز۔” جب لبوں کی گستاخی حدیں عبور کرنے لگی تو اس نے بے ساختہ اسے پکارا جو بمشکل اپنے ابھرتے جذبات پہ قابو پاتا سیدھا ہوا اور اسے اپنے بازو کے حلقے میں لیے کمرے میں پڑے صوفے کی جانب بڑھا۔
جس کے سامنے پڑی میز پہ کچھ دیر قبل آئلہ اور آیت مہندی کا ایک تھام رکھ کے گئی تھیں اور اس کے پوچھنے پہ اپنی ہنسی دباتیں کندھے اچکا کے رفو چکر ہو گئی تھیں۔
مگر اب اس تھال کی موجودگی کی وجہ اسے سمجھ آ رہی تھی۔
“آئیں دونوں مل کے اس لمحے کو قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔” ہاتھ میں مہندی کی کون پکڑے اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی ہولے سے مسکراتی اپنے ہاتھ اس کی جانب بڑھا گئی تھی۔
اس کے ہاتھ پہ مہندی آلریڈی لگ چکی تھی جسے اس نے شاور لینے سے قبل دھویا تھا۔
مگر پھر بھی اس نے اس کی ہتھیلیوں کے سائیڈ پہ اپنا اور اس کا نام لکھ دیا تھا۔
اس کے ہاتھوں پہ مہندی لگانے کے بعد اس نے تھال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اپنی ابرو اچکائی تو وہ ہلکا سا ہچکچائی مگر پھر اپنی ہمت مجتمع کرتے ہوئے اس نے ایک ہاتھ کی انگلیوں میں ہلدی لی اور دوسرے ہاتھ کی انگلیاں مہندی سے بھر کے بیک وقت اس کے دونوں رخساروں پہ مل دیں۔
“انفیکٹ اب ہمیں اس لمحے کو کیپچر کرنا چاہیے۔” کھلکھلاتے ہوئے لہجے میں کہتی وہ اس کی شرٹ (قمیض) کی پاکٹ سے اس کا موبائل نکال کے جلدی سے اس کی تصویریں بناتیں اسے واقعی شہرے ملک لگی تھی۔
“اونہوں، لمحہ پہلے مکمل تو کر لینے دیں۔” مسکراہٹ دبا کے کہتے ہوئے اس نے اس کے موبائل والے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے دوسرا ہاتھ اس کی گردن کے گرد حائل کرتا اسے اس کا چہرہ اپنے نزدیک کرتا اس کی ہنسی کو گھبراہٹ میں بدلنے لگا۔
لیکن اگلے ہی لمحے وہ اپنے رخساروں پہ لگی ہلدی اور مہندی اس کے رخساروں پہ ملتا ان لمحوں کو کیمرے کی آنکھ میں بند کرنے لگا۔
تو اس کے رخساروں کے ٹکرانے سے جسم میں پیدا ہونے والی برقی رو سے سٹپٹاتی وہ اس کی ہلکی ہلکی بیئرڈ کے چبھنے پہ اپنی ہنسی بھی نہ روک سکی تھی۔
“بس۔۔بس ضرغام پلیز۔میرے چہرے پہ مہندی کا نشان رہ جائے گا۔” اس کی قربت و گدگدی سے خائف ہوتی وہ احتجاجی انداز میں گویا ہوئی تو ضرغام نے اپنا چہرہ اس کے چہرے سے دور ہٹاتے ہوئے اسے دیکھا جو چہرے پہ نرم سی مسکان لیے اس سے نظریں چرا رہی تھی۔
“لوگ فضول میں اس رسم کو اتنا لمبا لے کے چلتے ہیں انہیں چاہیے میاں بیوی کو پرائیویسی دیں رسم زیادہ اچھے سے ہو جائے گی۔” ایک بار پھر سے رخسار کے ساتھ رخسار ملاتے ہوئے اس نے شوخ لہجے میں کہا تو شہرے نے بوکھلا کے اب کی بار اسے پرے دھکیلا۔
“ہاں اور رسم کے ساتھ شوہر بیوی کو پاگل کر دے۔” سٹپٹائے ہوئے انداز میں کہتے اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے بال سمیٹتے ہوئے پیچھے کی طرف جھٹکے تھے۔
“اور جو بیوی شوہر کو پاگل کر رہی ہے۔اس کا کیا؟” اس کے سراپے کو بغور دیکھتے ہوئے اس کے لہجے میں نجانے کیا تھا کہ شہرے کو اس سے ٹوٹ کے حیا آئی تھی۔
تبھی اس کے چہرے پہ بکھرتے رنگوں کو نہارتا وہ اس کی گردن کی جانب جھکا اور اس کے اسی تل کو ایک دفعہ پھر سے نشانہ بنایا۔
“ضرغام لالہ!جلدی کریں پلیز، زونیہ آنٹی آ رہی ہیں۔” دروازے کے پار سے اچانک آئلہ کی بلند آواز پہ وہ جو اس کے ہوش ٹھکانے لگا رہا تھا۔
بے ساختہ ٹھٹھکا اور اس سے تھوڑا دور ہٹا۔
“نئی زندگی کی ابھرتی صبح مبارک ہو۔” ایک نظر دیوار گیر گھڑی پہ ڈالتے ہوئے اس نے اپنی گستاخیوں کی بدولت سرخ ہوتی گردن سے بمشکل نظر چراتے اس کی کنپٹی کو ہولے سے لبوں سے چھوا اور ٹشو کے ساتھ اپنے رخسار تھپتھپاتا دروازے کی طرف بڑھا۔
جبکہ صوفے پہ رنگے ہوئے رخساروں، مہندی لگے ہاتھوں، بکھرے بالوں، سرخ ہوتی گردن اور پاگل ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ بیٹھی شہرے تادیر اس کی خوشبو کے حصار میں رہی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں رکھے تھری سیٹر صوفے پہ بیٹھی وہ مخلوق اس وقت اس کی طبیعت بحالی سے زیادہ اس کا بی پی بڑھانے کا فریضہ زیادہ اچھے سے سر انجام دے رہی تھی۔
“ویسے دریہ، مانا کہ تمہارا نیا نیا نکاح ہوا تھا لیکن شوہر سے ملنے کی اتنی خوشی کے اپنا ہی پیر تڑوا کے بیٹھ گئی۔چچ چچ۔۔۔” انگوروں کا گچھا ہاتھ میں پکڑے دانہ دانہ منہ میں ڈالتی زمل بظاہر بڑے پرتاسف انداز میں بولی لیکن اس کی آنکھوں سے جھلکتی کمینگی وہ بخوبی بھانپ چکی تھی۔
“ہاں تھی اتنی ہی خوشی، پھر اب؟” ان کی فضول گوئی پہ تپتی وہ انہیں پھاڑ کھانے کو دوڑی۔
“پھر اب یہ کہ تمہیں سنبھالنے کے چکر میں تمہارے بیچارے شوہر کی کمر کا درد نکل گیا ہے۔” داود نے جیسے اطلاع بہم پہنچائی جسے سن کے اسے درد سے زیادہ بے یقینی کا جھٹکا لگا تھا۔
“واٹ؟کمر کا درد؟ یہ کیا بکواس ہے؟” ایک نظر خود پہ ڈالتے ہوئے وہ بے یقینی کی شدت سے چلائی تھی۔
لیکن جن پہ چلائی تھی وہ اثر لیے بغیر گود میں فروٹس کی پلیٹس رکھے خود میں انرجی ٹھونستے اپنے کام پہ لگے ہوئے تھے۔
“تمہارے چیخنے سے حقیقت بدل تھوڑی جائے گی؟ خود سوچو جس طرح مہندی کے فنکشن پہ جانے کے لیے تم تیار شیار سیڑھیوں سے اتر رہی تھی مگر جیسے ہی تم نے اپنے مجازی خدا کو سامنے دیکھا کسی الہڑ مٹیار کی طرح تمہاری پاوں پھسلا اور تم پرانی دیوار کی طرح گرنے لگی۔ اب ایسے میں ناچاہتے ہوئے بھی تمہارے بیچارے شوہر پہ فرض تھا گویا اپنی بیوی کو بچانا تو بس پھر کیا تھا ہیرو گیری کے چکر میں درد کروا بیٹھا ہے۔” حمدان تو گویا ایک دم سے کسی کمنٹیٹر کی طرح جو شروع ہوا تو ساری واردات کا احوال سنانے کے بعد چپ ہوا۔
اور اس احوال پہ پیر پہ پلاسٹر چڑھا کے نیم دراز دریہ کا دل مزید جلنے لگا۔
جسے ایک تو شادی اٹینڈ نہ کرنے کا صدمہ تھا اس پہ مستزاد طلال کے بارے میں یہ سب سننا۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس اطلاع پہ دکھ محسوس کرے یا اس بات پہ کڑھے کہ اس کے نازک وجود کو سہارا دینے کے چکر میں اس کے شوہر کی کمر میں درد ہو گیا ہے۔
“تمہیں کس نے بتایا؟” اس کی مدہم سی آواز ابھری جو کہ یقین و بے یقینی کے ہنڈولے میں جھول رہی تھی۔
“ہم کوئی ناسمجھ تھوڑی ہیں۔طلال بھائی کی بہن ہیں آبگینے بھابھی، وہ بات کر رہی تھیں اور خود سوچو کیا آج صبح سے آبگینے بھابھی یا طلال بھائی میں سے کوئی آیا آپ کے پاس؟” مشعل اس وقت پوری پھپھے کٹنی بنی لفظ جما جما کے بولی تو اس کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا لیکن دل۔۔۔۔۔
“لیکن۔۔۔لیکن صبح باقی گھر والے تو آئے تھے۔زارا آپی بھی باقی سب بھی۔تب تو بھابھی آئی تھیں کمرے میں۔” اس نے ایک اور توجیہہ پیش کرنے کی کوشش کی۔
“وہ تو بس اپنے گھر والوں کی وجہ سے آئی ت۔۔۔۔۔” رس بھری چیری منہ میں ڈالتے ہوئے حمدان بڑے مدبر انداز میں اس کی توجیہہ کو رد کر رہا تھا جب دروازے میں ایک فریش سی بھاری آواز گونجی۔
“السلام علیکم!” طلال کی مسکراتی تروتازہ آواز پہ سب نے ایک ساتھ دروازے کی طرف دیکھا جہاں وہ براون رنگ کے شلوار سوٹ کے ساتھ اپنی شاندار شخصیت لیے کمرے میں داخل ہو رہا تھا۔
“وعلیکم السلام!کیا بکواس ٹائمنگ اپنائی ہے برادر لینڈنگ کی۔” باآواز سلام کا جواب دینے کے بعد سب ہولے سے بڑبڑائے تو طلال نے چونک کے انہیں دیکھا۔
“کیسے ہیں طلال بھائی؟کمر درد کیسا ہے؟” دریہ کی کھوجتی نگاہیں طلال پہ مرکوز پا کے داود نے خوش اخلاقی کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے استفسار کیا۔
“کمر درد؟” اس نے اچنبھے سے ایک نظر انہیں دیکھ کر اسے دیکھا جو پھولے ہوئے چہرے کے ساتھ یک ٹک اسے گھور رہی تھی۔
ان کے سوال سے زیادہ اسے اُس کے دیکھنے کے انداز نے حیرت میں مبتلا کیا تھا جس نے اس کے دیکھنے پہ بھی پلکیں نہ جھپکائی تھیں۔
“وہی درد جو کل دریہ کو سہارا دیتے ہوئے آپ کی کمر میں ہوا تھا۔” حمدان نے آنکھیں گھماتے ہوئے کمینگی سے کہا تو اس کی آنکھوں میں پہلے تعجب اور پھر شرارت سے چمک اٹھیں۔
“اوکے اوکے آئی گاٹ اٹ!اب تم لوگ یہاں سے نو دو گیارہ ہو جاو اور شادی پہ جانے کی تیاری کرو۔ میں ذرا درد کا احوال سن سنا لوں۔” اس نے مسکراہٹ ہونٹوں پہ دبائے انہیں وہاں سے کھسکنے کو اشارہ کیا تو سب ایک ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے کہ دریہ کا جس طرح کا موڈ تھا وہ سچ جاننے پہ ان کا سر بھی پھاڑ سکتی تھی۔
“خدا آپ کا بھلا کرے بھائی اور ایک پوری کرکٹ ٹیم سے نوازے۔” دروازے سے نکلتے زمل اور حمدان نے دعائیں دیں اور چھپاک سے سب غائب ہو گئے۔
ان سب کے جانے کے بعد کمرے میں نامحسوس سی خاموشی چھا گئی تبھی وہ اپنی قمیض کی آستینیں فولڈ کرتا ہوا اس کی جانب بڑھا تو اسے کب سے بے دریغ گھورتی دریہ جزبز سی ہونے لگی۔
“پاوں کا درد کیسا ہے؟” اس کے بیڈ کے نزدیک پہنچتا وہ بڑی سہولت کے ساتھ اس کے پاس ہی بیڈ پہ براجمان ہوا تو اس کی ہمت ہوا ہونے لگی۔
وہ اس کے اس قدر نزدیک تھا کہ اس کے وجود سے اٹھنے والی کولون کی مہک اسے اپنے اندر تک اترتی محسوس ہو رہی تھی۔
“کچھ پوچھا ہے میں نے۔” اس کا خود پر اوڑھے گئے کمفرٹر پر موجود اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اس نے اپنا سوال دوبارہ دہرایا تو اس کے ہاتھ کے دباو سے اس کا غصہ و ناراضگی گڈمڈ سی ہونے لگی۔
“میرا پیر ٹھیک ہے۔آپ اپنی کمر کا خیال رکھیں جو میری وجہ سے درد کا شکار ہوئی ہے۔” بنا اس کی جانب دیکھے اس نے مدہم مگر نروٹھے لہجے میں کہتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کی گرفت سے نکالنا چاہا۔
“وہ تو ٹھیک ہے لیکن میں اس دردِ دل کا خیال کیوں نہ رکھوں جو تمہاری بدولت مجھے بے حد عزیز ہے۔” قدرے اس کی جانب جھکتے ہوئے اس کے گہرے لہجے میں بولے گئے الفاظ پہ اس نے بے حد حیرت و بے یقینی سے پلکیں اٹھا کے اس کی جانب دیکھا جو آنکھوں میں جذبات کا طوفان لیے اسے پلکیں جھکا کے خود میں سمٹنے پہ مجبور کر گیا تھا۔
“مجھ سے ڈائیلاگ نہ بولا کریں۔” ایک دفعہ پھر سے ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی گئی لیکن اس نے گرفت مضبوط کرتے ہوئے اس کی نبض پہ انگوٹھے کا ہلکا سا دباو بڑھاتے ہوئے چہرہ مزید اس کی جانب جھکایا تو دریہ کو کمرے میں آکسیجن کی بے تحاشا کمی محسوس ہوئی تھی۔
“ڈائیلاگ تھا تو کچھ دیر مزید میری آنکھوں میں دیکھ لیتی۔” اس کے نگاہیں چرانے پہ چوٹ کرتے ہوئے اس نے اس کی جھکی پلکوں کو اپنے ہونٹوں کی جنبش سے چھوا تو وہ کپکپا سی اٹھی۔
“تمہاری معصومیت پہ تو مجھے روزِ اول ہی یقین آ گیا تھا لیکن یار ایسی بھی کیا معصومیت کہ اپنے آفتی کزنز کی بدولت بیچارے شوہر کی محبت پہ بے اعتباری کر بیٹھی۔” اس کے چہرے پہ بکھرتے رنگوں کو والہانہ انداز میں تکتے وہ متبسم لہجے میں گویا ہوا تو دریہ نے بے ساختہ نظریں اٹھا کے اس کی جانب دیکھا۔
جو اس کے دیکھنے پہ اپنی بائیں آنکھ دباتا اس کے رخسار پہ جھکا تھا۔
“محبت پہ بے اعتباری نہیں تھی۔” اس کے چہرے کے نقوش پہ سرسراتے نرم گرم ہونٹوں کے لمس سے سمٹتی وہ دبے دبے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔
“تو کیا بازووں کی طاقت پہ یقین نہیں تھا؟” اس کے گلابی ہونٹوں کو گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ گویا ہوئی تو اس نے شرمندگی سے نظریں چراتے بے ساختہ اپنی گرفت اس کے ہاتھ پہ مضبوط کی تو اس کے اس ردعمل پہ وہ کھل کے مسکراتا ہوا۔
اس کے چہرے پہ جھکا اور اس مسکراہٹ کو اس کے ہونٹوں پہ بھی بکھیرنے لگا جب اس اچانک افتاد پہ اس کی آنکھوں کی پتلیاں سائز میں دوگنا ہو گئیں جبکہ دھڑکنیں سرپٹ دوڑتی سانسوں کی راہ معطل کرنے لگیں۔
اس کی ڈوبتی ابھرتی سانسوں کا تال میل محسوس کرتا وہ اس کے ہونٹوں کی نرماہٹ جذب کرتے ہوئے اپنی طلب پوری کیے جا رہا تھا۔
جب وہ کچھ ثانیوں کے بعد پیچھے نہ ہوا تو اس پرفسوں قربت سے نڈھال ہوتی دریہ نے بے اختیار اپنے ناخن اس کے ہاتھ کی پشت پہ کھبوتے ہوئے گویا شعور کی راہ دکھانی چاہی مگر وہ اس کے اس تشدد پہ نہیں لیکن اس کی بکھرتی سانسوں پہ ترحم کھاتا ہوا پیچھے ہوا تو وہ گہرے گہرے سانس لیتی اسی کے کندھے پہ سر ٹکا گئی۔
“میں نے ایک دہائیوں سے چلتی جنگ سے ٹکرا کے تمہیں حاصل کیا ہے دریہ۔اور تمہیں خوش رکھنے، تمہیں محظوظ رکھنے کے لیے میں ہر شے سے ہر شخص سے ٹکرانے کی ہمت رکھتا ہوں۔اور اس سارے سفر کے دوران مجھے تمہاری محبت اور تمہارے یقین کی ضرورت ہے۔” اپنے کندھے پہ ٹکے اس کے سلکی بالوں والے سر پہ اپنے ہونٹ جماتا وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا تو وہ گہری سانس بھرتی جھجھکتی ہوئی اس کے کندھے سے سر اٹھاتی اس کا چہرہ دیکھنے لگی جس پر اس کے ساتھ کا خمار درج تھا۔
“آپ ہمیشہ مجھے ہر راہ پہ اپنے ہمراہ پائیں گے۔” دھیرے سے شرمگیں لہجے میں کہتی وہ اس کے سینے پہ سر ٹکاتی اسے زندگی کا اصل مفہوم سمجھا گئی تھی۔
“ابھی آبی اور زارا آ کے تمہیں تیار کرتی ہیں کیونکہ آج کا فنکشن ہم ہرگز مِس نہیں کریں گے۔” اس کے بالوں کو چومتے ہوئے اس نے کہا تو وہ سر اثبات میں ہلا گئی۔
اس نے یہ سوچا نہ پوچھا کہ وہ زخمی پیر کے ساتھ فنکشن کیسے اٹینڈ کرے گی کیونکہ وہ یہ بات جان چکی تھی کہ جس کو اس کے خدا نے اس کے لیے چنا تھا وہ اس کو اکیلا ہرگز نہ چھوڑے گا۔
اور اس احساس سے سرشار ہوتی وہ اس کے گرد اپنی بانہیں پھیلاتی اس کی گستاخیوں پہ سمٹتی جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کروٹ کے بل نیند میں سوئی ہوئی تھی جب اسے اپنے چہرے پہ کچھ سرسراتا محسوس ہوا تھا۔
نیند میں ہی کسمساتے ہوئے اس نے اپنا چہرہ اپنے بازووں میں چھپانا چاہا جب اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پہلو میں دراز ہوتا اس کی کوشش کو ناکام بنا چکا تھا۔
اور ایسی جرات کون کر سکتا ہے اس کا ادراک ہوتے ہی اس کی گہری نیند بھک سے اڑی تھی کیونکہ اسے جاگتے پا کر وہ مزید بے لگام ہوتا اس کے چہرے کے نقوش کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا اس کے نیند کے نشے میں ڈوبے چہرے کو اپنی قربت کے رنگوں سے سجانے لگا تھا۔
“رہبان!” اس کی بے باکی سے گھبراتے ہوئے اس نے بے ساختہ اسے پکارا جو اس کی تھوڑی پہ لب جمائے اب گردن کی حدود کو چھونے والا تھا۔
“مسز رہبان!” گھمبیر لہجے میں بولتے ہوئے اس نے اس کی شہہ رگ کو ہونٹوں سے چھوا تو اس کی دھڑکنیں تلپٹ سی ہو گئیں۔
“صبح اٹھتے ہی کون سا نشہ کیا ہے آپ نے؟” نیند کے خمار میں ڈوبی آنکھیں نیم وا کرتے ہوئے اس نے اس ساحر کو دیکھا جو اسے بہت پرفسوں انداز میں اپنے سحر میں جھکڑ چکا تھا۔
جبکہ اس کے سوال پہ وہ کھل کے مسکراتا ہوا ایک بار پھر سے اس کی گردن پہ جھکا اور اپنے ہونٹ ثبت کرتا ہوا بولا۔
“ہم تو نہایت شرافت کے ساتھ تیار ہو کے اپنے دوست کی طرف جا رہے تھے لیکن نظر بھٹکتی ہوئی آپ پہ جا پڑی تو اندازہ ہوا کہ سوتے ہوئے میں بھی کیا قیامت ڈھاتی ہیں آپ۔” ذومعنی انداز میں بولتا ہوا وہ اس کے وجود میں خون کی گردش تیز کر گیا جبکہ دل گویا کنپٹیوں میں دھڑکنے لگا تھا۔
“اور جو آپ ہر وقت اس موڈ میں آن رہتے ہوئے مجھ پہ قیامت ڈھاتے ہیں اس کا کیا؟” اس کے سینے پہ نظریں جمائے وہ ہولے سے کہتی ہوئی اس کے ہونٹوں پہ کھلتی ہوئی مسکان مزید گہری کر گئی۔
“اس کا نتیجہ بھی تو دیکھو کتنا پرفیکٹ مل رہا ہے۔” اس کے وجود پہ بے باک نگاہ دوڑاتا وہ اس کے پورے وجود کو سنسنا سا گیا۔
“افففف!ہٹیں پیچھے۔لوفر اور چھچھورے پولیس والے ہو آپ۔” شرم و حیا کو جھنجھلاہٹ کے پردے میں چھپاتی وہ اسے پرے کرنے لگی جب اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے اس نے نرمی سے چومے اور پھر اس کے کان کی طرف جھکا۔
“چائے پیو گی؟” اس کے سوال پہ وہ لحظہ بھر کو ٹھٹھکی اور پھر مسکراتے ہوئے اس کی گرفت سے نکلتی سیدھی ہو بیٹھی۔
“اور میرے چائے پینے کے بعد کیا آپ واقعی اپنے دوست کی تیاری کے لیے اس کے پاس جا سکیں گے؟” اس نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے جس معنی خیزی سے سوال کیا رہبان پل بھر کے لیے ششدر رہ گیا۔
لیکن اگلے ہی لمحے اس نے کھلکھلاتی ہوئی آبگینے کو اپنے بازووں میں جھکڑا اور پوری شدت سے اس کے چہرے کو چومنے لگا۔
“میری بے بسی کا فائدہ اٹھا رہی ہو تم۔” اس کے وجود پہ گرفت نرم رکھے وہ معنی خیزی سے اسے بہت کچھ باور کرواتا ایک دفعہ پھر سے کھلکھلانے پہ مجبور کر گیا۔
اس کی کھلکھلاہٹ کو نہارتے ہوئے اس نے جھکتے ہوئے اس کی کھلکھلاہٹ میں اپنی وارفتگی کے رنگ بھرے تو کمرے میں معنی خیز سی خاموشی چھا گئی اور یہ خاموشی مزید فسوں سمیٹ لائی جب اس کے سینے سے لگی آبگینے نے آہستگی سے اس کی گردن میں بازو حائل کرتے ہوئے اپنی خودسپردگی کا دلپزیر اظہار کیا تھا۔
وہ چومتا ہے ہر روز اک نئے انداز سے مجھے
اس کا اکلوتا عشق ہوں میں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاسدین اور شر پسند افراد کے وہاں سے نکل جانے کے بعد ‘میر پیلس’ ایک دفعہ پھر سے خوشیوں کا گہوارہ بن چکا تھا۔
جہاں ولید میر اور کلثوم میر کے پرشفقت اور پیار بھرے سائے میں ان کے دونوں بیٹے و بہوئیں رہ رہی تھیں۔
جبکہ عبدالرحمن اور آفاق میر کے بچے ان کی منشا کے مطابق بیرونِ ملک شفٹ ہو چکے تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ والدین کے شرمناک اعمال کی بدولت ابھی کچھ عرصہ یہاں سر اٹھا کے کھل کے نہیں رہ سکتے اس لیے ان کی مکمل حفاظت کا بندوبست کرتے ہوئے انہیں امریکہ بھجوا دیا تھا۔
“نین اور ذونین کب نکلے تھے ضرغام کی طرف؟” ناشتہ کرتے ہوئے ولید میر نے اپنی بہووں کی طرف دیکھا۔
“نین تو کچھ دیر پہلے نکلا ہے، آپ کو بتانے کے لیے گیا تھا لیکن آپ شاور لے رہے تھے لیکن ذوالنورین زحلے کو ڈراپ کرتے ہی واپس چلا گیا تھا۔” نگاہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تو آملیٹ کو فورک سے ادھر ادھر کرتی زحلے کو ایک دفعہ پھر سے وہ بند باکس یاد آیا تو جسم میں عجیب سی لہر دوڑ گئی۔
“آپ ناشتہ نہیں کر رہی بیٹا؟کیا ذوالنورین سے ابھی بھی ناراضگی ہے؟” ولید میر نے ناشتے سے اس کی بے توجہی دیکھی تو نرمی سے استفسار کرنے لگے۔
جبکہ ان کے یوں مخاطب کرنے اور غیر متوقع سوال پہ وہ خجل سی ہو گئی تھی کہ آج صبح ہی انہیں اس بابت معلوم ہوا تھا کہ زحلے ذوالنورین کے چل سکنے کے متعلق لاعلم تھی۔
“نہیں بابا!یہ لوگ اتنا کچھ پہلے ہی سفر کر چکے ہیں کہ اپنی انا اور ناراضگی میں انہیں مزید کیسے کوئی سزا دے سکتے ہیں ہم۔” اس نے سنبھلتے ہوئے اپنے مخصوص نرم مگر سنجیدہ لہجے میں جواب دیا تو کلثوم میر نے پسندیدگی سے اسے دیکھا جو حسبِ معمول کلائیوں پہ چوڑیاں سجائے دوپٹہ اوڑھے ناشتہ زہر مار کر رہی تھی۔
“ویسے بھی میرے بابا کہتے ہیں کہ انا رشتوں میں ایسی فصیلیں اگا دیتی ہے جن کو کاٹنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔” اس نے مزید کہتے ہوئے بہت کچھ ان الفاظ میں کہہ دیا تو ان تینوں کے چہروں پہ پیار بھری مسکان پھیل گئی تھی۔
“ہمیشہ خوش رہو بچے۔” ولید صاحب نے دعا دی تو وہ مسکراتے ہوئے سر جھکا۔
“تم لوگوں نے کب جانا ہے؟” کلثوم میر نے ناشتہ ختم کرتے ان سے پوچھا تھا۔
“مما!نین لوگ تو آج سارا دن ادھر ہی رہیں گے۔ہمیں کہا تھا کہ تیار ہو کے ڈیڈ ساتھ آ جائیں تو بس تھوڑی دیر میں ہم تیار ہو جاتی ہیں۔” اب کی بار بھی نگاہ نے ہی جواب دیا تھا چونکہ زحلے اس بابت آگاہ نہیں تھی۔
“چلیں بچے آپ لوگ تیار ہو جاو پھر نکلتے ہیں۔” کرسی گھسیٹ کے کھڑے ہوتے ولید میر نے دونوں سے کہا تو وہ سر اثبات میں ہلا گئیں۔
“چلیے میم!اس وقت تیار ہونے کی فارمیلٹی نبھائیے بس کیونکہ اصل تیاری تو ہم رات میں کروائیں گے تمہاری۔” کلثوم میر کی موجودگی میں نگاہ کے ان الفاظ پہ پانی پیتی زحلے کو ‘اچھو’ سا لگ گیا۔
اس نے بے ساختہ کھانستے ہوئے ان کی جانب دیکھا جو مدہم سا مسکراتی ہوئیں اسے نظریں چرانے پہ مجبور کر گئیں۔
“ڈونٹ وری یار لیکن مما اب نین کی دلہن کی بس چوڑیاں نہیں بلکہ نین کے بچے بھی چاہیے۔” نگاہ کے شوخی سے کہنے پہ وہ اس قدر گڑبڑائی کے اسے ڈھنگ سے گھور بھی نہ سکی اور بے ساختہ اپنا رخ بدل گئی۔
“یہ خوشخبری آپ پہلے سنائیں اماں کو کیونکہ آپ بڑی ہیں۔” زحلے نے خود پہ قابو پاتے ہوئے اس پہ چڑھائی کی تو فطری طور پہ وہ فوری حیا کی لپیٹ میں آئی لیکن پھر کھل کے مسکرا دی۔
“مما کی دعائیں ہوئیں تو ضرور۔ویسے تو جتنا عرصہ تم لوگوں کی شادی کو ہو چکا ہے پہلے خوشخبری تم لوگوں کی طرف سے بنتی ہے مگر کیا کریں ہمارے لڑکے کا جھوٹ اس کے گلے پڑ چکا تھا۔” اس کے معذور ہونے کی طرف اشارہ کرتی نگاہ بظاہر پرتاسف لہجے میں گویا ہوئی تھی لیکن زحلے کی بے ساختہ نظر کلثوم میر کی جانب اٹھی تھی۔
جو اپنے ‘معذور بیٹے’ کی بےباکیوں کے مظاہرے لائیو دیکھ چکی تھی لیکن دونوں ساس بہو اپنی ناسمجھی میں کبھی یہ نہ جان پائیں کہ ٹانگوں سے معذور شخص کیسے اسے بے بس کر دیتا تھا۔
ان کی نظروں سے گھبراتی وہ اٹھی اور برتن اٹھا کے کچن کی جانب چل دی۔
اب بھی کچن کا زیادہ تر کام وہی کرنے کی کوشش کرتی تھی کہ اسے ملازماوں کی بجائے خود کوکنگ کرنا زیادہ اچھا لگتا تھا۔
ملازمہ کو برتن سمیٹنے کا کہہ کے وہ نگاہ کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف بڑھی جہاں انہیں ‘ضرغام ملک اور شہرے ملک’ کی بارات کے لیے تیاری کرنا تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت ‘ملک منزل’ میں موجود شہرے کے بیڈ روم میں گویا طوفان سا مچا ہوا تھا۔
کیونکہ ایک سائیڈ پہ شہرے کو تیار کرتی بیوٹیشن تھی تو دوسری طرف ‘ملک ہاوس’ کی تمام لڑکیاں (جو اس وقت اس کی بہنوں کا رول ادا کرتی اس کی طرف سے شادی میں شریک ہو رہی تھیں اور رخصتی کے بعد ان کا ارادہ ضرغام کی سائیڈ ہونے کا تھا)، نگاہ، زحلے، آبگینے اور دریہ لوگ بھی موجود تھیں۔
جو ضرغام کے نام سے اسے چھیڑتی ہوئیں اسے گھبرانے پہ مجبور کر رہی تھیں۔
جبکہ عمارہ، انیلہ بھابھی کے ساتھ جب آبگینے اور نگاہ نے بھی اپنے شادی شدہ ہونے کی بدولت اسے کچھ مشورے بہم پہنچائے تو اس کے ہاتھوں کے طوطے چڑیاں سب اڑ گئے۔
“مشورے یہ سب شہرے کو دیے جا رہے ہیں، آپ کیوں لال پیلی ہو رہی ہیں؟” شہرے کو چھیڑتے ہوئے آبگینے کی نظر آف وائٹ کلر کے دیدہ زیب سوٹ میں ملبوس مہرون کلر کی چوڑیاں پہنے دوپٹہ سر پہ رکھے اپنی ہتھیلیاں مسلتی ہوئی زحلے پہ پڑی تو بے ساختہ بول اٹھی۔
“کیونکہ کے پلے جو پڑا ہے نا وہ تمہارے شوہر سے بھی زیادہ اتھرا ہے۔” نگاہ نے آبگینے کو بھی رگیدا تو وہ گڑبڑا گئی جبکہ زحلے نے تشکرانہ انداز میں نگاہ کو دیکھا جس نے فوراً بات سنبھالی تھی۔
ورنہ یہاں موجود شرارتی ٹولے نے اسے پریشان کر دینا تھا۔
“شہری!پہلے تو جو تھا وہ ضرغام چاچو کے ضرغام بننے کا ہلکا پھلکا ٹریلر تھا لیکن اب پوری فلم ہو گی اس لیے ہم تم سے بعد میں پوچھیں گے کہ ضرغام چاچو والا رول ٹھیک تھا یا ضرغام والا؟” انیلہ بھابھی نے بیوٹیشن کے ساتھ اس کا زرتاری ڈارک مہرون آنچل اس کے سر پہ سجاتے ہوئے شرارت سے کہا تو اس کا دل ہتھیلیوں میں دھڑکنے لگا۔
“انیلہ چچی!مجھے بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے۔” اس نے نروس انداز میں کہتے گویا چپ ہو جانے کی التجا کی تھی۔
“اب اس گھبراہٹ کا علاج تو ضرغام ہی کرے گا۔” عمارہ کے برجستہ جواب پہ اس نے بے ساختہ ہاتھ بڑھا کے سر پہ پڑے آنچل کو گھونگھٹ کی صورت اپنے چہرے پہ پھیلا لیا۔
“گائز، ہمارے دلہے بھیا اپنے دوستوں کے بڑے شاندار انداز میں انٹری مارنے والے ہیں اس لیے جلدی سے لان میں کھلنے والی کھڑکی کھولو۔” اچانک زمل دروازہ ایک جھٹکے سے وا کرتی اندر آئی اور پرجوش انداز میں انہیں اطلاع پہنچائی جو وہ نیچے سے لے کر آئی تھی۔
اس کے بولنے کی دیری تھی جلدی سے پچھلے لان کی طرف کھلنے والی بڑی سی گلاس ونڈو کو پورا کھول کے پہلے شہرے،دریہ اور آبگینے کو تسلی سے بٹھایا اور پھر باقی سب ایک دوسرے پہ جھکتی پراشتیاق نگاہوں سے باہر دیکھنے لگیں۔
جہاں ‘ملک منزل’ کے ہی خوبصورت لان میں بارات کے فنکشن کا انتظام کیا گیا تھا۔
اور اس وقت صرف اور صرف بارات کا ہی انتظار تھا حالانکہ آدھے باراتی تو پہلے ہی یہاں موجود تھے۔
اور پھر یکایک پورا گھر فائر ورکس کی پرزور آوازوں سے گونج اٹھا اور فائر ورکس کے رنگ برنگے دھوئیں کے مرغولوں کے بیچ گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز پہ ‘ملک منزل’ کے مکین متجسس سے کھلے دروازے کو دیکھنے لگے۔
جبکہ شہرے کے کمرے میں کھڑکی سے لگی لڑکیاں یوں دم سادھے باہر دیکھ رہی تھیں کہ گویا سانس لینے سے منظر بکھر جانے کا خدشہ ہو۔
دھوئیں کے مرغولے تھوڑے سے چھٹے تو سامنے دکھائی دیتے منظر کو دیکھ کر سب لڑکیوں کے ہونٹوں سے ایک ساتھ نکلا تھا۔
“کلاسیکل!” دو گھوڑوں سے سجی سفید بگھی جس کی سجاوٹ سرخ پھولوں سے کی گئی تھی اس پہ سیاہ رنگ کی شیروانی زیب تن کیے سر پہ سیاہ کلہ پہنے وہ شہزادوں کی سی آن بان رکھتا ہوا شخص کسی ریاست کے شہزادے کی ہی مانند کھلے ہوئے چہرے کے ساتھے براجمان اپنی شہزادی کو دنیا سے چرانے آیا تھا۔
جبکہ اس کے دوست آف وائٹ رنگ کے ایک جیسے سوٹ پہنے ان گھوڑوں کی باگیں تھامے اس شہزادے کی خوشیوں کو دوبالا کر رہے تھے۔
اس منظر کو تکتی بہت سی آنکھیں محبت و رشک کی ملی جلی کیفیات سے نم ہوئی تھیں۔
کیونکہ یہ سب بہت سی پتھریلی اور کٹھن راہوں سے گزرنے کے بعد دیکھنا نصیب ہوا تھا اور شاید تبھی بہت سے ہونٹوں سے برآمد ہوا تھا۔
“الحمداللّٰہ۔۔۔۔۔!”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میرا دل کر رہا ہے میں ایک دفعہ پھر سے شادی کروں۔” سٹیج پہ موجود صوفے کے پیچھے کھڑے رہبان نے بلا مبالغہ کوئی پانچویں دفعہ یہ فقرہ بولا تو ذوالنورین نے کھا جانے والی نگاہوں سے اسے گھورا۔
“آبگینے کا سگا بھائی یہاں موجود ہے اور اس نے مجھے بھی بھائی کہا ہے۔اب اگر تم نے پھر بکواس کی تو بھول جاوں گا کہ تو میرا دوست ہے۔” سٹیج پہ موجود طلال جو رہبان کی دہائی سن رہا تھا اس کی جانب اشارہ کرتے ذوالنورین نے جس انداز میں کہا اس پہ وہ بھنا کے رہ گیا۔
“میں پہلے تمہارے اس بھوسے بھرے دماغ کا بھرکس بنا دوں گا۔ میرا دل آبگینے سے ہی شادی کرنے کو چاہ رہا ہے۔” اس نے دانت کچکچاتے ہوئے جواب دیا تو ذوالنورین نے اس انداز میں ‘اوہ’ کہتے ہوئے سر ہلایا جیسے واقعتاً وہ ابھی اس کی بات کا مطلب سمجھا تھا۔
“اتنے لمبے ہنی مون ٹرپ کے ساتھ شادی انجوائے کرنے کے بعد بھی تمہارے اندر شادی کرنے کی ہڑک جاگ رہی ہے؟” شہرے کے لیے منتظر ضرغام نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔
“پولیس والے جو ہوئے اور ان کا لالچ کبھی ختم نہیں ہوتا۔” طلال نے بڑی سنجیدگی سے ٹکڑا لگایا تو اس کے اندر باہر جل اٹھا جبکہ اس کی بات پہ ایک فرمائشی قہقہہ سٹیج پہ گونجا تھا۔
“اور یہ تھا تیرے لیے تیرے لیول کا جواب۔” نین نے ہنستے ہوئے کہا تو اس نے کھا جانے والی نگاہوں سے بہنوئی پلس سالے کو گھورا جو بے نیازی سے ٹانگیں جھلاتا ہوا اسے زہر سے بھی برا لگا تھا۔
“مجھے ایک بار پھر سے اپنی ساس سے اختلاف ہو رہا ہے کہ جنہوں نے تم جیسے شخص کو جنم دیا اور اپنے باپ سے اس سے بھی زیادہ اختلاف ہو رہا ہے جنہوں نے تمہیں ایک پیاری سی لڑکی دی۔” کڑھتے ہوئے اب وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا تھا جس پہ طلال نے بے نیازی سے کندھے اچکا دیے تھے۔
تبھی ایک دم سے دلہن کے آنے کا شور مچا تو وہ سب بھی اینٹرس کی طرف متوجہ ہوئے جہاں سے وہ لڑکیوں کے جھرمٹ میں اسد صاحب اور احسن صاحب کے ساتھ قدم سے قدم ملاتی ڈارک ریڈیش مہرون رنگ کے برائیڈل ڈریس میں ملبوس، بھاری جیولری، مہندی اور چوڑیوں کے ساتھ اس شہزادے کی شہزادی لگ رہی تھی۔
اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا اور سٹیج کے کنارے پہ جا پہنچا۔
اسد صاحب اور احسن صاحب کے ہالے میں موجود شہرے جب سٹیج کے پاس پہنچی تو ضرغام نے اپنی مضبوط ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائی۔
اسی دم ارسم نے ایک مائیک رہبان کی سمت پھینکا جسے اس نے فوری کیچ کرتے ہوئے اپنے ہونٹوں کے نزدیک کیا۔
تیرے ہاتھ میں میرا ہاتھ ہو
ساری جنتیں میرے ساتھ ہوں
تو جو پاس ہو
پھر کیا یہ جہاں
تیرے پیار میں ہو جاوں فنا
تیرے ہاتھ میں میرا ہاتھ ہو
ساری جنتیں میرے ساتھ ہوں
احسن صاحب نے اس کا کپکپاتا ہوا ہاتھ جب اس کی مضبوط ہتھیلی پہ رکھا تو رہبان کی دلکش آواز میں گونجتے ان الفاظ نے سب کو مسمرائز سا کر دیا تھا۔
جبکہ اس کی جانب محبت سے دیکھتی آبگینے کا دل چاہا کہ وہ شخص یونہی بولتا رہے اور وہ تاعمر بنا تھکے اسے سننے کو بے قرار تھی۔
اس کا ہاتھ تھام کے اس نے اسے صوفے پہ بٹھایا اور خود بھی اس کے ساتھ یوں براجمان ہوا کہ اس کا بایاں کندھا اس کے دائیں پہلو سے ٹکراتا بدن میں سرسراہٹ پیدا کر رہا تھا۔
“ریلیکس شہرے!” اسے یوں سمٹے ہوئے انداز میں بیٹھے دیکھ کر اس نے بے اختیار اس کا ہاتھ تھام کے تسلی دی تو ینگ جنریشن کی ہوٹنگ پہ وہ جلدی سے ہاتھ کھینچتی اپنے دوپٹے کے نیچے چھپا گئی۔
اسی طرح کے ہلے گلے کے دوران ذوالنورین کی بے چین نگاہیں اپنی ٹیچر کو ڈھونڈ رہی تھیں جسے اس نے پچھلے کئی گھنٹوں سے نہیں دیکھا تھا۔
اور پھر چند منٹ بعد وہ اسے ضرغام کی بہن کے ساتھ ایک ٹیبل کی طرف جاتی ہوئی دکھائی دی تو آنکھوں کی جوت جل اٹھی۔
وہ فوراً سے پیشتر لمبے ڈگ بھرتا ہوا سٹیج سے اترا اور اس کی جانب بڑھا۔
“میڈم!” حسبِ سابق اس نے وہی اندازِ تخاطب اپنایا تو وہ ایک جھٹکے سے اس کی جانب مڑی جو آف وائٹ رنگ کے شلوار سوٹ میں ملبوس اپنی چھا جانے والی شخصیت کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا تھا۔
“آپ کا شوہر بھی ہوں اور سٹوڈینٹ بھی لیکن آپ مجھ سے یوں نظریں چرا رہی ہیں جیسے جانتی ہی نہ ہوں۔” اس کے سامنے پھیل کے کھڑا ہوتا وہ جان بوجھ کے گویا ہوا تو زحلے نے حیرت سے نظریں اٹھا کے اس کی جانب دیکھا جو آنکھوں میں جذبات کی لپک لیے اسے تک رہا تھا۔
“بڑے باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ آپ کی میرے ساتھ ناراضگی ختم ہو چکی ہے پھر یہ میوٹ میوٹ گیم کیوں؟” ایک قدم مزید اس کے نزدیک پہنچتا وہ گہرے لہجے میں گویا ہوا تو زحلے نے کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھا جہاں موجود ڈھیروں افراد سے لاپرواہ وہ بس اس پہ فوکس کیے کھڑا تھا۔
“وہ ناراضگی صرف اماں اور بابا کے سامنے ختم کی ہے۔” اسے سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا توجیہہ پیش کرے تبھی بے ربط سے انداز میں گویا ہوئی تو اس کے ہونٹوں کے گوشوں میں دبی دبی سی مسکان مچلنے لگی۔
“تو اب کیا مما اور ڈیڈ کے سامنے آپ کے ساتھ رومانس کروں اب؟” اس کی متبسم ذومعنی بات پہ اس کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔
اس نے نظریں اٹھا کے حیرت سے اس بے شرم انسان کو دیکھا جو اس کے دیکھنے پہ آنکھوں کو جنبش دیتا گڑبڑانے پہ مجبور کر گیا۔
“آپ کو شرم نہیں آتی، ٹیچر ہوں میں آپ کی۔” جب کچھ اور سمجھ نہ آیا تو اس نے جھنجھلائے ہوئے انداز میں اسے کہا جس کی آنکھیں اس کے چہرے کے اتار چڑھاو پہ چمک رہی تھیں۔
“اور یہ بات آپ اچھے سے جانتی ہیں کہ مجھے اپنی ٹیچر سے رومینس جھاڑنا کس قدر پسند ہے۔” اس کی گردن پہ گہری نگاہیں ڈالتا وہ ذومعنی انداز میں کہتا اس کی چہرے کو سرخ انگارے کی مانند دہکا گیا۔
“اففففف!ت۔۔۔۔” اس کے لفظوں کی برجستگی سے خائف ہوتی وہ اسے پرے ہٹنے کو کہنے ہی والی تھی جب نگاہ ایک دم سے ان دونوں کے بیچ آ کھڑی ہوئی تھی۔
“یہ دن دیہاڑے اتنے لوگوں کے سامنے ایک معصوم لڑکی کو ہراس کرنے کا کیا مطلب ہوا بھلا؟” آنکھیں سکیڑتے ہوئے وہ تیکھے انداز میں بولتی کچھ فاصلے پہ کھڑے نین کو ہنسنے پہ مجبور کر گئی جو سب بڑوں کے فوٹو شوٹ کروانے کے باعث سٹیج سے نیچے اتر آئے تھے۔
“مطلب بہت صاف ہے کہ یہ معصوم لڑکی اتنی پیاری لگ رہی ہیں کہ میرا دل ان کے لیے مچل سا گیا ہے۔” نگاہ کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتی زحلے کو تکتا وہ اس کے چودہ طبق روشن کر گیا۔
تبھی وہ سرپٹ دوڑتی دھڑکنوں کے ساتھ فوراً سے پیشتر مڑی اور سیدھا کلثوم میر کے پاس جا رکی تھی جو ‘گردیزی فیملی’ کی خواتین کے ساتھ ایک ٹیبل پہ موجود تھیں۔
جبکہ اس کے یوں وہاں سے بھاگنے پہ جہاں وہ حیران ہوا تھا وہاں نگاہ کی ہنسی نکل گئی تھی۔
“زہر لگ رہی ہو قسم سے۔اچھا خاصا تمہیں نین کے ساتھ باندھا تھا لیکن تم قیدو والے کام کرنے سے باز نہ آنا۔” اسے چڑانے کی خاطر تیز تیز بولتا وہ کچھ فاصلے پہ موجود نین اور رہبان کی طرف چل دیا۔
“او بھائی یہ اپنی آنکھوں کے نین تارے کو سنبھالو پلیز، یہ میری آنکھوں کے دیپ بجھانے چلی آئی تھی۔” اس نے نگاہ کی کلائی پکڑ کے نین کے ہاتھوں میں تھمائی تو نگاہ اس کی فضول گوئی پہ اسے گھور کے رہ گئی۔
“میرے نین کو تڑی دکھانے کی ضرورت نہیں۔وہ تمہاری طرح بے شرم انسان نہیں ہے۔” اس نے فوراً جوابی کاروائی کی تو رہبان اور ذوالنورین کی آنکھیں بیک وقت چمک اٹھیں۔
“چونکہ تمہارا نین بے شرم انسان نہیں ہے اس لیے آج تم آبگینے کے ساتھ جاو گی۔وہ کچھ دیر پہلے رہبان سے کہہ رہی تھی کہ اسے تمہارے ساتھ ٹائم س۔۔۔۔۔۔” رہبان کو اشارہ کرتا وہ پرسکون انداز میں گویا ہوا تو نین نے یکلخت اس کی بات کاٹی۔
“ہرگز نہیں۔” اس کے یوں اچانک بول اٹھنے پہ جہاں ان دونوں کے قہقہے بلند ہوئے تھے وہیں وہ جزبز سی ہو گئی تھی۔
تبھی دودھ پلائی کا شور بلند ہوا تو ایک دفعہ پھر سے ضرغام کے باڈی گارڈز بنے اس کے دوست اس کے سر پہ جا کھڑے ہوئے۔
“یہ جتنی لڑکیاں ایک گلاس دودھ دینے آ رہی ہیں۔اتنے لوگ پورا بھینسوں کا جاڑہ سنبھالتے ہیں اس لیے ہماری طرف سے صاف انکار ہے۔” ارسم نے لڑکیوں کی پوری جماعت کو سٹیج کی طرف آتے دیکھ کر بلند آواز میں کہا تو لڑکوں نے فوراً تائید کی۔
“یہ آپ کے لیے ہے بھی نہیں اس لیے اچھا ہے آپ نے خود ہی انکار کر دیا۔یہ جن کے لیے ہے وہ اس وقت انکار کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔” آبگینے نے فوری طور پہ ارسم کو ٹکڑا توڑ جواب دیا تو لڑکوں نے فوراً رہبان کی طرف دیکھا۔
جو دانستاً آگے پیچھے دیکھتا اس گفتگو سے اپنی لاپرواہی ظاہر کر رہا تھا۔
“ہم تمہارے زن مرید ہونے پہ پہلے ہی شک و شبہ نہیں ہے۔ایسی حرکتیں کر کے اس پہ مہر نہ لگا میرے بھائی۔” جاذب نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بظاہر بڑی سنجیدگی سے کہا تو دونوں جھینپ گئے جبکہ باقی سب کی ہنسی بے ساختہ تھی۔
ایسے ہی چٹکلوں کے بیچ دودھ پلائی کی رسم کے بعد رخصتی کا شور بلند ہوا تو سٹیج پہ بیٹھی شہرے کا دل گویا مٹھی میں آن جھکڑا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا خیال ہے، موقع بھی ہے، دستور تو نہیں لیکن دل کے تقاضے بھی ہیں، گاڑی کا رخ ‘پیر حویلی’ کی جانب نہ موڑ لوں؟” ڈرائیونگ کرتے طلال نے فرنٹ سیٹ پہ براجمان رائل بلیو کلر کے خوبصورت سوٹ میں ملبوس نک سک سی تیار دریہ کو دیکھا جس کا پیر ہنوز پٹی میں بندھا ہوا تھا۔
لیکن سب کے پرزور اصرار پہ وہ شادی میں شریک ہو گئی تھی۔
لیکن اس وقت اس کی بات سن کر اس نے جس طرح کرنٹ کھا کے اس کی طرف دیکھا تھا طلال کا خود پہ قابو رکھنا مشکل ہونے لگا تھا۔
اس نے ایک دم سے گاڑی کو بریک لگاتے ہوئے اس کا بازو تھام کے نرمی سے اپنے نزدیک کیا تو وہ مزید سٹپٹائی تھی۔
“گاڑی ڈرائیو کرتے مرد کو ان نگاہوں سے نہیں دیکھتے میری جان۔” اس کی مسکارے سے سجی خوبصورت پلکوں پہ اپنے ہونٹ رکھتا وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا تو اس کی دھڑکنیں مدہم پڑنے لگیں۔
“تو گاڑی ڈرائیو کرتے مرد کو بھی ایسی بات نہیں کرنا چاہیے نا۔” اس کے لمس سے گھبراتی وہ آنکھیں میچے آہستگی سے گویا ہوئی تو مدہم سی لائٹ میں دکھتے اس کے چہرے کے نقوش کو محسوس کرتا جا رہا تھا۔
“کیوں؟” اس کی لرزتی پلکوں کو ہونٹوں سے چھوتے ہوئے اس نے یک لفظی سوال کیا تھا۔
“کیونکہ مجھے صحیح والی شادی کرنی ہے۔نکاح بھی اتنی ایمرجنسی میں ہوا تھا۔ آپ ضرغام لالہ کی طرح لینے آئیں گے تو میں ‘پیر حویلی’ جاوں گی نا۔” آنکھیں یونہی موندے وہ بڑے بے ساختہ انداز میں اپنی خواہشات کا اظہار کر رہی تھی۔
“اس انداز میں بلاو گی تو سر کے بل دوڑتا چلا آوں گا۔” اس کے ناک کی نوک کو ہونٹوں سے چھوتا وہ جانثار انداز میں گویا ہوا تو اس نے پٹ سے آنکھیں کھول کے اسے دیکھا جو وارفتگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“دوڑتے ہوئے نہیں آنا گاڑی پہ یا بگھی پہ آنا ہے طلال۔” اس کے لہجے کی بے ساختگی میں چھپا شاکی پن اس پہ مستزاد آنکھوں کا انداز، اس کا سو بار اس کا دیوانہ ہوا تھا۔
“تم بہت خاص ہو دریہ میری جان۔ہمیشہ ایسی ہی رہنا۔” اس کے ہونٹوں کو نرمی سے چومتے ہوئے اس نے پوری شدت سے اسے سینے سے لگایا تو دریہ کو لحظہ بھر کے لیے اپنی پسلیاں ٹوٹتی محسوس ہوئیں لیکن اگلے ہی لمحے وہ مسکراتی ہوئی اس کے کندھے پہ سر رکھتی اسے گاڑی سٹارٹ کرنے کا اشارہ کرنے لگی تو اس نے سر ہولے سے خم کرتے ہوئے سٹیئرنگ تھاما۔
جبکہ وہ اب اس کے کندھے پہ سر رکھے اسے اپنی بے تحاشا باتیں سنانے لگی جسے پوری توجہ سے سنتا زندگی سے بھرپور انداز میں مسکرا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلڈ ریڈ کلر کے لہنگے چولی جس پہ گولڈن موتیوں کا خوبصورت کام ہوا تھا، زیب تن کیے وہ کھلے بالوں کو کندھوں پہ بکھیرے چہرے پہ ڈھیروں گھبراہٹ و الجھن لیے نگاہ کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔
جس نے کچھ دیر پہلے اس کے ہاتھوں پہ بڑی سمپل سی مہندی لگائی تھی جسے وہ پانچ منٹ قبل ہی دھو کے آئی تھی اور اب گورے ہاتھوں پہ مہندی کا نکھرا نکھرا رنگ عجب بہار دکھلا رہا تھا۔
“اتنی نروس کیوں ہو؟” اس کے چہرے کو تکتی نگاہ نے ہلکی سی حیرانگی کے ساتھ استفسار کیا تو وہ فقط سر نفی میں ہلا کے رہ گئی تھی۔
اب وہ اسے کیا بتاتی کہ جو شخص سٹوڈینٹ ہوتے ہوئے معذوری کا ناٹک کرتے ہوئے اپنی بے باک حرکتوں سے اس کی سانسوں کو درہم برہم کر دیتا تھا، وہ آج نجانے بے باکی و بے شرمی کے کون سے عظیم مظاہرے قائم کرتا۔
نگاہ اس کی بند آنکھوں پہ رنگ سجا رہی تھی جب اس کی آنکھوں میں چند مہینوں قبل کا منظر بڑی جاذبیت کے ساتھ جاگا تھا۔
وہ واشروم کے دروازے کے پاس ادھر سے ادھر چکر کاٹتی اس کا انتظار کر رہی تھی جس کی وہیل چیئر ریپیئرنگ کے لیے گئی تھی اور وہ آج مکمل طور پہ اس پہ منحصر تھا۔
چونکہ وہیل چیئر کو ریپیئرنگ کے لیے اس کا میل اسسٹنٹ لے کے گیا تھا اس لیے آج وہی اسے واشروم تک لے کے آئی تھی۔
“میم!” دروازے کے پار سے اس کی آواز آئی تو اس نے بند دروازے کو بے بسی سے دیکھا اور پھر اپنی ہمت مجتمع کرتی واشروم میں گئی اور بنا اس کی جانب دیکھے اسے سہارا دینے لگی۔
“آپ کون سا پرفیوم یوز کرتی ہیں؟” لمبے تڑنگے ایک مضبوط توانا مرد کو مکمل طور پہ سہارا دیتی وہ بمشکل گھسیٹتے ہوئے واشروم سے باہر نکال رہی تھی۔
جب اس کی گردن میں سانس بھرتا ہوا وہ سنجیدگی سے گویا ہوا تو اس کا چہرہ شرم و غصے سے تپ اٹھا تھا۔
“اس فضول سوال کا مقصد؟” تنکتے ہوئے لہجے میں استفسار کرتے وہ ہولے ہولے قدم اٹھاتی جیسے گرنے والی ہو چکی تھی۔
“کیونکہ آپ کی خوشبو مجھے ہیپناٹائز کر رہی ہے۔” اس کے سادگی سے جواب دینے پہ اسے اپنے کانوں سے دھواں سا نکلتا محسوس ہوا تھا۔
جبکہ چہرہ اس پل گویا لہو چھلکانے لگا تھا اور وہ ایک ہاتھ اس کے کندھوں پر سے گزارے دوسرے ہاتھ سے اس کے اپنی کمر کے گرد لپٹے ہاتھ کو تھامے وہ اس کی وجود کی خوشبو خود میں انہیل کرتا اس کی سانسوں کو ارتعاش کا شکار کر رہا تھا۔
“ذوالنورین پلیز!” یونہی گہری سانس بھرتے ہوئے اس نے اس کے کان کی لو کو ہولے سے چھوا تو وہ بے اختیار لڑکھڑائی مگر شکر تھا کہ وہ بیڈ کے نزدیک پہنچ چکے تھے۔
اس نے اس کا رخ بدلتے ہوئے دونوں ہاتھ اس کی کمر کے گرد رکھتے ہولے ہولے اسے نیچے بیڈ پہ لٹانے کی کوشش کرنے لگی اور دوسری جانب وہ اس کے نازک وجود کے گرد اپنے بازو حمائل کیے اس کے کندھے پہ سر جھکائے اس کی اس کوشش سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
جو اس بلا کی قربت سے سرخ پڑتی اپنی لرزتی پلکوں کو جھکائے، اپنے کپکپاتے ہونٹ سختی سے بھنچے بمشکل اسے سہارا دیتی اس کے بے حد نزدیک تھی۔
اسے تکیے پہ لٹانے کے چکر میں وہ پوری طرح اس پہ جھکی ہوئی تھی جب اس کی کمر کے گرد جمے ذوالنورین کے ہاتھوں نے اس کی کمر پہ اچانک دباو ڈالا تو وہ ایک جھٹکے سے اس کے کشادہ سینے کا حصہ بنی تھی۔
“ایک لاچار بندے پہ اتنا ظلم ڈھانا جرم ہے میم۔” اس دوری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ اس کی گردن میں لپٹی چین کو انگلی سے چھوتا اس موتی کو اپنا نشانہ بنانے ہی والا تھا جب اس اچانک افتاد پہ ششدر پڑی زحلے کو جیسے ہوش آیا تھا۔
اس کا ہاتھ بے ساختہ اٹھا اور اس کے بیئرڈ سے سجے رخسار پہ جا پڑا۔
“تمہیں سہارا دینے کے چکر میں،تمہاری دیکھ بھال میں میری جان ہلکان ہوئے جا رہی ہے اور تمہیں ان فضولیات کی پڑی ہے۔” بجلی کی سی تیزی سے اس کے اوپر سے اٹھتی وہ گہرے سانس لیتی کپکپاتے ہوئے لہجے میں گویا ہوئی۔
تو اس شاندار عزت افزائی پہ اپنے رخسار کو ہاتھ کی انگلیوں سے چھوتا ہوا وہ سرد نگاہوں سے اسے گھورنے لگا جو شرم و غصے سے لال ہوئی پڑی تھی۔
“معذور ہونے کا یہ مطلب ہے کہ میرے اندر کے تمام جذبات بھی معذور ہو چکے ہیں؟” اس کے سرد لہجے میں کیے گئے سوال پہ وہ پل بھر کے لیے چکرا سی گئی تھی۔
“ایک دفعہ آنکھیں کھول کے خود کو دیکھو۔” نگاہ کی پرجوش سی آواز پر وہ جیسے ماضی کے جھروکے سے نکلتی ہوش میں آئی تھی۔
اس نے فوراً پلکیں وا کرتے ہوئے ڈریسنگ مرر میں خود کو دیکھا تو پلکیں جھپکانا بھول گئی۔
وہ یقین ہی نہیں کر پا رہی تھی کہ اس روپ میں وہ تھی یا اس کا کوئی بہروپ۔اس نے ہمیشہ بڑی سادہ سی زندگی گزاری تھی اور ہمیشہ سادگی پسند رہی تھی۔
مگر اس وقت بھاری دیدہ زیب برائیڈل ڈریس زیب تن کیے، میچنگ جیولری پہنے وہ لمبے گھنیرے بالوں کو سائیڈ سے مانگ نکال کے کھلا چھوڑے، ان میں جھومر سجائے، زرتاری آنچل کو سر اور کندھے پہ اٹکائے سچ میں کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔
“یہ آئینہ تمہیں شاید اصل حقیقت نہ بتا پا رہا ہو۔ ذوالنورین کے آنے کا انتظار کر لو۔” اسے خود کو یک ٹک گھورتا پا کے نگاہ شرارت سے گویا ہوئی تو وہ گڑبڑاتی ہوئی فوراً پلکیں جھپکا گئی تھی۔
“اوکے گڈ لک، میں اب چلتی ہوں۔پریشان نہیں ہونا۔دل میں جو بھی بات ہے کوئی بھی خلش ہے اسے زندگی کا یہ نیا سفر شروع کرنے سے پہلے ختم کر لینا تاکہ آنے والا کل خوشگوار ہو سکے۔” محبت سے اس کے رخسار چھوتی وہ چلی گئی تو وہ بے چینی سے سٹول سے کھڑی ہوتی اپنی کلائی میں موجود چوڑیاں کو گھماتی ادھر سے ادھر چکر لگانے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ملک ہاوس” میں اس کا استقبال نہایت ہی شاندار طریقے سے کیا گیا تھا جس کے بعد آغاجان نے اس کو تحفے دیے جبکہ ثمرین بیگم نے اپنے خاندانی زیورات میں سے کنگن اس کی کلائیوں کی زینت بنائے تھے۔
چونکہ ایک ہی گھر والا سسٹم تھا اس لیے بہت سارا ہلہ گلا اور رسمیں ‘ملک منزل’ میں پہلے ہی ہو چکی تھیں اس لیے اس کی تھکن کا خیال کرتیں ثمرین بیگم نے اسے عمارہ بھابھی اور ماہ وش چچی کے ساتھ ضرغام کے کمرے میں بھجوا دیا۔
جہاں وہ اسے اچھا خاصا ریلیکس کرنے کے بعد جب کمرے سے چلی گئیں تو وہ گہری سانس بھرتی کمرے میں نظریں دوڑانے لگی جہاں فریش سرخ گلابوں سے بڑی خوبصورت سجاوٹ کی گئی تھی۔
چونکہ سرخ گلاب اس کے پسندیدہ تھے اس لیے اس کی پسند کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا تھا۔
وہ اس کمرے میں لاتعداد مرتبہ آ چکی تھی، پہلے رشتے کی نوعیت مختلف تھی تو کمرے میں آنا جانا زیادہ ہو گیا مگر جب ضرغام کے جذبات بدلے اور اس نے حالات کے پیشِ نظر اس سے دامن بچانا شروع کیا تو اس معمول میں تغیر آنے لگا۔
اور پھر وقت نے ایک پلٹا کھایا اور کمرے کے مکین سے اس کا رشتہ تبدیل ہوا تو اس نے اس کی منکوحہ کی حیثیت سے بھی بہت بار اس کمرے کی دہلیز کو پار کیا تھا اور آج وہ اس کی اولین چاہت کے طور پہ اس کی زندگی میں ہزاروں لوگوں کے سامنے شامل ہوئی تھی اور اس کے کمرے میں موجود تھی۔
اس کمرے کی دہلیز پار کرتے ہمیشہ اس کی کیفیات مختلف ہوا کرتی تھیں مگر جو آج کیفیات تھیں وہ ناقابلِ بیاں تھیں اور شاید انہی کیفیات سے خائف ہوتی وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور اس کی کلوزٹ کی جانب بڑھ گئی۔
جاری ہے۔۔۔۔
