57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 52

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#52(2nd last Episode part 1);

شہرے کی وجہ سے ایک غیر ضروری کام پہ اچھا خاصا وقت ضائع کرنے کے بعد اس نے کال بند کر کے موبائل جینز کی پاکٹ میں گھسیڑتے ہوئے اسے دیکھا جو منہ کے برے زاویے بناتا اسی کی جانب متوجہ تھا۔

“میں تمہیں اچھا خاصا ذہین اور سلجھا ہوا انسان سمجھتا تھا۔” اس نے ‘سمجھتا تھا’ پہ زور دیتے ہوئے اپنی بات کی تو اس نے بایاں ابرو اچکا کے اس کی جانب تیکھے انداز میں دیکھا۔

“یہ ‘سمجھتا تھا’ سے کیا مراد ہے تمہاری؟” اس نے سنجیدگی سے استفسار کیا۔

“مراد بہت سیدھی سی ہے۔اب کوئی ذہین اور سلجھا ہوا انسان تو فضول میں ایک گھنٹہ کپڑوں کے کلرز سلیکٹ کروانے میں ضائع تو نہیں کرتا نا۔” دانت نکوستے ہوئے اس نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ اپنی بات کی وضاحت کی تو ضرغام نے دانت کچکچاتے ہوئے ایک گھونسا اس کے کندھے پہ رسید کیا۔

“اور جو تم صبح صبح چائے کی پیالی بناتے ہو اسے تم کس عقلمندی کے زمرے میں لانا پسند کرو گے؟” اس کے ساتھ متعلقہ جگہ کی جانب بڑھتے ہوئے وہ اپنے مخصوص انداز میں محوِ گفتگو تھا۔

“وہ۔۔۔۔۔” وہ کو خاصا لمبا کرتے ہوئے وہ جیسے کچھ یاد آنے پہ کھل کے ہنس دیا۔

“وہ تو ایک وفا شعار شوہر کی اپنی بیگم جان سے محبت کا ادنیٰ سا اظہار ہے۔” بمشکل اپنی ہنسی کو ہونٹوں کے گوشوں میں روکتا ہوا وہ آنکھوں میں شرارتی چمک لیے بظاہر بڑی انکساری سے بولا تو اس کے انداز پہ ضر کو ناچاہتے ہوئے بھی ہنسی آ گئی۔

“دو نہیں بلکہ تین نمبر انسان ہو تم۔” مسکراتے ہونٹوں کے ساتھ اس نے گویا تاسف کا اظہار کیا۔
تب تک وہ اس کمرے کے دروازے پہ پہنچ چکے تھے جہاں ان کے مجرم جمع تھے۔
دروازے کو دیکھتے ہی ان کے چہروں پہ چھائے نرم تاثرات یکلخت غائب ہو گئے اور ایک سرد اور سفاک تاثر آنکھوں اور چہرے پہ چھا گیا۔
دروازہ ایک جھٹکے سے کھولتے ہوئے وہ دونوں ایک ساتھ اندر داخل ہوئے تو وہاں ان سب کے ساتھ موجود نین اور نگاہ نے ایک ساتھ پلٹ کے ان کی جانب دیکھا تھا۔

“رہبان!پیر سائیں واپس آ چکے ہیں۔ہم نے کچھ دیر پہلے بخت خان کے موبائل پہ ان کا میسج دیکھا ہے۔” نگاہ نے رہبان کے نزدیک آتے ہوئے آہستگی سے اسے اطلاع دی۔
تو اس نے فوراً جیب سے موبائل نکال کے دیکھا کہ آیا گھر سے کوئی کال یا میسج تو نہیں آیا مگر کوئی نوٹیفیکشن نہ دیکھ کر ایک سکون سا اس کے اندر سرائیت کر گیا۔

“اٹس اوکے!ابھی سب انڈر کنٹرول ہے۔ان سب سے نپٹنے کے بعد ان سے بھی دو دو ہاتھ کرتے ہیں۔” اسے تسلی دیتے ہوئے وہ سب سے پہلے سفیر سائیں کی جانب بڑھا اور سختی سے اس کے سر کے بالوں کو جھکڑتے ہوئے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔

“ان چہروں کو غور سے دیکھو سفیر سائیں اور اندازہ لگاو کہ اپنے سے کم عمر ان نفوس سے اپنا ذاتی عناد نکالنے کے لیے ان کے کتنے قیمتی سال ضائع کیے ہیں تم نے۔” وہ بول نہیں رہا تھا بلکہ غرا رہا تھا۔

“جس عمر میں لوگ خواب بُنتے ہیں اس عمر میں یہ لوگ دنیا سے چھپ کے اپنے ٹوٹے بکھرے داغدار وجود کو سمیٹنے کی تگ و دو کر رہے تھے۔” اس کے بال چھوڑتے ہوئے اس نے ایک زوردار مکہ اس کے جبڑے پہ مارا تو وہ لڑھکتا ہوا ضرغام کی سمت گیا۔
جو رہبان سے بھی زیادہ بے دردی اور بے مہری سے اسے اپنے نشانے کی زد میں رکھے ہوئے تھا۔

“اپنی فرعونیت دکھاتے ہوئے تم شاید یہ فراموش کر بیٹھی تھی کہ ایک ذات اوپر بیٹھی ہے۔” ایک بند بوتل کو شازمین میر کے سامنے رکھتے ہوئے نگاہ کے لہجے کی ٹھنڈک اس کے ہڈیوں میں اترنے لگی تھی۔
کہ وہ بخوبی جان چکی تھی کہ اس بند بوتل میں کیا ہے۔

“پیسے کی ہوس اور اقتدار کی بھوک نے آپ سب کے دلوں سے اپنے رشتوں کا احترام اور بھروسہ اس طرح سے ملیامیٹ کیا ہے کہ آپ سب قتل جیسے منصوبے بنانے لگے۔” نین تابڑ توڑ آفاق میر اور عبدالرحمن میر کو زد میں رکھے ہوئے تھے۔
کمرے کے ایک کونے میں جمے ہوئے خون کے ساتھ زخمی ٹانگیں لیے بخت خان ادھ موا سا پڑا عبرت کی مثال لگ رہا تھا۔

وہ سبھی ان کے حملوں کے جواب میں مزاحمت کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اسی کوشش میں جب شازمین میر نے نگاہ کو دھکا دیا تو وہ میز سے ٹکرائی۔اس سے پہلے کہ کوئی سمجھ پاتا میز پہ رکھی وہ بوتل نگاہ کے ہاتھ لگنے سے نیچے گھٹنوں کے بل قدرے بپھری ہوئی بیٹھی شازمین میر پہ گری تو کمرہ ایک دم سے اس کی ہولناک چیخوں سے گونج اٹھا۔
کہ نگاہ کے ہاتھ لگنے سے جب بوتل گری تو اس پہ رکھا ڈھکن پہلے نیچے گرا تھا۔

“یا اللّٰہ!” شازمین میر کی حالت دیکھ کر نگاہ فوراً آگے بڑھی کہ اسے اس پل کی اذیت اور تکلیف یاد تھی۔
وہ یہ بوتل بھی صرف اسے ڈرانے اور اس کے تمام جرائم کو قبول کرنے کے لیے لائے تھے تاکہ انہیں پھر قانونی کاروائی کے لیے قانون کے حوالے کیا جا سکے۔
مگر مکافاتِ عمل شاید اسی کا نام تھا۔اس نے نگاہ، سامعہ اور زحلے سمیت بہت ساری لڑکیوں کے جذبات کے ساتھ گھناونے وار کیے تھے۔اسے اس کی سزا ملنی ہی تھی۔

“نگاہ!رک جاو۔” نین نے فوراً لپک کے اسے تھاما کہ بے شک اسے دیکھ کر اسے بھی تکلیف ہوئی تھی مگر وہ تکلیف ماں اور بیوی کو دی جانے والی تکلیف سے زیادہ نہ تھی۔

شازمین میر کو چار سپاہیوں کی کسٹڈی میں ہاسپٹل روانہ کرنے اور سب کی دگرگوں حالت کرنے کے بعد رہبان اور نین نے اپنے تمام مجرموں کو اپنے سپاییوں کے ساتھ ٹارچر سیل بھیج دیا کہ وہ اتنی جلدی انہیں معاف نہیں کر سکتے تھے نا ان کے جرائم اتنے آسان تھے۔
وہ ابھی اس کمرے سے نکلے بھی نہ تھے جب ریبان کی جیب میں رکھا موبائل گنگنا اٹھا۔
اس نے بائیں ہاتھ میں سفیر سائیں کے کالر کو جھکڑے دایاں ہاتھ جینز کی پاکٹ میں ڈال کر اپنا موبائل نکال کے بلنک کرتی سکرین کو دیکھا تو ماتھا پرشکن ہوا تھا۔

اس نے بھنچے ہوئے ہونٹوں کے ساتھ کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگایا۔

“ہیلو!ایس رہبان گردیزی، سنا ہے کہ اپنے لولے لنگڑے زخمی دوستوں کے ساتھ مل کے تم نے میرے کچھ ساتھیوں کو اپنی حراست میں لیا ہے۔” کال پک ہوتے ہی پیر سائیں اپنی منحوس آواز کے ساتھ جو بولنا شروع ہوئے تو اس کے چہرے کے عضلات تن سے گئے۔

“کام کی بات پہ آئیں، فضول باتیں کرنے کا آپ کو شوق ہو گا مگر مجھے سننے کا ہرگز نہیں ہے۔” بنا کسی لحاظ و مروت کے وہ تیکھے چتونوں کے ساتھ گویا ہوا تو اس کے نزدیک کھڑے ضرغام نے چونک کے اس کی سمت دیکھا۔

“دھیرج رکھو ایس پی، دھیرج کیونکہ جو میں کہنے والا ہوں وہ تمہیں سننے میں دلچسپی ضرور ہو گی۔” ان کا لہجہ گویا رہبان کی بے بسی کا مزہ لینے چاہتا تھا مگر دوسری جانب ایسی کوئی چاہت نہ تھی۔

“میری برد۔۔۔۔۔۔” وہ سختی سے بول رہا تھا جب ان کے الفاظ پہ جی جان سے ٹھٹھکا تھا۔

“سنا ہے کہ میرے پوتے کے ساتھ اپنی بہن کا نکاح کیا ہے؟”

“ہاں تو؟” بے چینی و اضطراب یکایک اس کی رگوں میں دوڑنے لگا تو سفیر سائیں کے کالر پہ گرفت مضبوط تر ہو گئی۔

“تو ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے رہبان گردیزی۔ تو اب تم بہن کے نکاح کی قیمت اپنی بیوی کو طلاق دے کے چکاو گے۔” اس کی زہرخند آواز پہ اس کی رگوں میں خون انگارے کی مانند دوڑنے لگا جبکہ آنکھیں لہو چھلکانے لگی تھیں۔

“کیا بکواس کر رہے ہو تم۔خبردار میری بیوی کا نام اپنی زبان پہ لایا تو۔” ضبط کھوتا وہ ایک دم زور سے چلایا تو ان تینوں نے پریشانی سے اس کی سمت دیکھا جو اس وقت گویا سب کچھ فنا کر دینا چاہتا ہو۔

“صرف نام؟میں تو تمہاری قائم و دائم بیوی کو اپنی حویلی لے کے آیا ہوں اور اس کے سامنے خلع کے پیپرز بھی رکھے ہیں۔ ارادہ تو یہی ہے کہ خلع کے پیپرز سائن کرواوں لیکن پھر تم پہ ترس آ گیا کہ کہاں بیوی کے ہاتھ سے طلاق لے کر منہ چھپاتے پھرو گے اس لیے بہتر ہے کہ تم ہی طلاق دے دو، یا پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس کے گلے پہ تیز دھار چھری کی مانند اپنے گھٹیا لفظوں کا وار چلاتے ہوئے وہ لمحہ بھر کے لیے رکے تو ضبط کی شدت سے اس کی سانسیں دھونکنی کی مانند چلنے لگیں جبکہ غیض و غضب سے ماتھے اور گردن کی رگیں پھولنے لگیں۔

“یا پھر میرے بیٹے سمیت میرے تمام ساتھیوں کو ہر طرح کے کیس سے آزاد کر کے بیوی بچے کی رہائی پا لو۔” مکارانہ انداز میں بات مکمل کر کے اس نے فوراً کال بند کر دی تو رہبان کا دل چاہا وہ اس شخص کو زندہ زمین میں گاڑھ دے۔
اور پھر اس نے سارا غصہ سفیر سائیں اور بخت خان پہ نکالتے ہوئے فوراً ‘گردیزی ہاوس’ کا رخ کیا کہ اسے سچ جاننا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آپ ایسا نہیں کر سکتے پیر سائیں۔” پیر سائیں کے حجرے میں ان کے ساتھ بیٹھی آبگینے نے جب ان کی اور رہبان کی باتیں سنیں تو خوفزدہ نگاہوں سے سامنے میز پہ رکھے خاکی رنگ کے لفافے کو دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تو انہوں نے توجہ سے پوتی کو دیکھا۔

“کیا تم جانتی ہو آبگینے جعفر کہ مجھے تم سے رتی بھر بھی کوئی لگاو نہیں ہے۔میرے لیے تم میری پوتی کے رتبے سے اسی دن دستبردار ہو گئی تھی جب وہ کمینہ شخص تمہیں ہماری برسوں سے چلتی ہوئی رسم کو توڑ کے لے چلا اور تم اس کی نسل کی بانی بننے کو تیار ہمارے سامنے آئی تھی۔تمہیں میں صرف سفیر سائیں اور اپنے پوتے جسے وہ پانچوں دوست موت کے حوالے کر گئے تھے، ان کا بدلہ لینے کے لیے لایا ہوں۔اس سب کے بعد میری بلا سے تم مرو یا جیو۔” اپنے لہجے میں دنیا بھر کی لاتعلقی اور سفاکی لیے وہ بولتے آبگینے کو تھرا کے رکھ گئے۔

“بہت خوب، پیر سائیں بہت خوب، شرم آتی ہے مجھے آپ جیسے شخص کو اپنا باپ کہتے ہوئے اور اس علاقے کا مرشد و پیر کہتے ہوئے۔” جعفر سائیں کی اچانک آواز پہ انہوں نے پلٹ کے دروازے کو دیکھا تو چہرے کی رنگت فوراً متغیر ہوئی کہ وہاں سے حویلی کے سبھی نفوس چہرے پہ نفرت لیے اندر داخل ہو رہے تھے۔

“کس بیٹے اور پوتے کا بدلہ لینا چاہتے ہیں آپ؟جسے خود آپ نے گناہوں اور لذتوں کی دلدل میں اتارا تھا؟ اور کیوں لینا چاہتے ہیں آپ ان کا بدلہ؟ کبھی ان کی بیوی ماں بہنوں نے سر پہ سایہ شفقت تو رکھا نہیں اور اپنی انا کے لیے بدلہ لینے کا کھیل رچا رہے ہیں آپ؟” نسرین بیگم اندر آتے ہوئے گویا پھٹ پڑی تھیں۔
اگر چہ بیٹے کی موت اور شوہر کی قید اور سزا کا غم انہیں بھی بے تحاشا تھا لیکن وہ ان سے اس قدر ظالمانہ اور بے رحمانہ رویے کی توقع نہ رکھتی تھی۔

“اپنے مرتبے اور اپنے نام کا ہی خیال کر لینا تھا۔ یہی سوچ لیتے کہ لوگ آپ کو کس جگہ پہ بٹھاتے ہیں اور آپ انہی لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے والے بیٹے اور پوتے کے لیے میری بیٹی اور بیٹے کی زندگی اجاڑنا چاہتے ہیں۔” آبگینے اور طلال کو دیکھتے ہوئے جعفر سائیں نے افسوس زدہ لہجے میں کہا۔
جبکہ آبگینے سمیت سب دم سادھے بہتے آنسووں کے ساتھ انہیں دیکھ رہے تھے۔

“میرے منہ کو مت آو تم لوگ۔میرے اسی نام و مرتبے کی وجہ سے میں نے تم لوگوں کے لیے کیا ہے یہ سب۔” سنبھلتے ہوئے انہوں نے اپنا بچاو کرنے کی سعی کرنی چاہی۔

“نہیں چاہیے تھی آپ کی دوسروں کی رگوں کو کاٹ کے حاصل ہونے والی حرام کی کمائی۔” ان کی بات سن کر غم و غصے سے پاگل ہوتا طلال ایک دم سے دھاڑا تو وہ لحظے بھر کے لیے لاجواب سے ہو گئے تھے۔

“م۔۔میں نے ہمیشہ یہی سمجھا تھا کہ آپ میری محبت میں مجھے یہاں لانے کی کوشش کرتے ہیں مگر آپ نے تو مجھے میری ہی نہیں اس شخص کی نظروں میں بھی گرا دیا جسے آپ کے لیے میں نے ہمیشہ ڈی گریڈ کیا تھا۔” سب پہ طائرانہ نگاہ ڈالتی آبگینے اپنی جگہ سے اٹھی اور پیر سائیں کے سامنے جا کے لرزتے ہونٹوں کے ساتھ گویا ہوئی۔

“اس جیسا دل رکھنے والے شخص کا نام خود سے جدا کرنے سے بہتر ہے کہ میں خود کو ہی ختم کر ڈالوں تاکہ آپ کے انتقام کی یہ نام نہاد جنگ کا اختتام ہو۔مگر اتنا یاد رکھیے گا کہ آپ کے سب مظالم ایک طرف اور میرے بچے کا قتل میں کبھی معاف نہیں کروں گی۔” بھیگے لہجے میں بولتی ہوئی وہ پلک جھپکنے کی سی دیر میں فروٹ باسکٹ میں پڑی چھری اٹھا کے اپنی کلائی پہ رکھی۔
تو ایک ساتھ بہت ساری چیخیں بلند ہوئی تھیں۔

“آبگینے!” ان سب کی چیختی آوازوں میں ایک آواز قدرے بلند خوفزدہ آواز گہری کھائی سے آتی محسوس ہوئی تو پیر سائیں کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیاہ کرولا تیزی سے چلتی ہوئی ‘ملک ہاوس’ کے دیوہیکل گیٹ کو پار کرتی پورٹیکو کی بجائے وہیں پتھریلی روش پہ جا رکی۔
ڈرائیونگ سیٹ پہ مضطرب اور قدرے غصے میں مبتلا ضرغام نے اتر کے فرنٹ ڈور اوپن کیا اور نگاہ کو نیچے آنے کا اشارہ کیا تھا۔
نین اس وقت گردیزی ہاوس سے ساری صورتحال جاننے کے بعد پیر حویلی جاتے رہبان کے ساتھ ہو لیا تھا۔
جبکہ نگاہ جو شازمین میر کی دگرگوں حالت دیکھ کر پینک ہو چکی تھی اسے ‘میر پیلس’ لے کے جانے کی بجائے وہ ‘ملک ہاوس’ لے آیا تھا تاکہ وہ یہاں شادی کا ماحول دیکھ کے فریش ہو جائے۔
کہ ‘میر پیلس’ میں بھی صورتحال ابھی سٹریسڈ تھی ایسے میں اسے ‘ملک ہاوس’ لے جانا اسے مناسب لگا تھا۔

“شہرے کا موڈ کیسا ہے؟” اس کے ساتھ چلتی نگاہ نے ضرغام کو دیکھا جو اس کا ہاتھ تھامے اندر کی جانب بڑھ رہا تھا۔

“اتنا بہتر ہے کہ تمہیں میرے ساتھ دیکھ کر کوئی گملہ ٹائپ شے میرے سر پہ نہیں دے مارے گی۔” لہجے میں زبردستی کی بشاشت سموئے وہ بولتا ہوا دروازہ کھول کے اندر قدم رکھ ہی رہا تھا کہ ایک کشن اڑتا ہوا اس کے سر پہ آ لگا۔
اس اچانک حملے پہ اس نے حیرت سے سامنے دیکھا تو متحیر نظر دشمنِ جان سے ٹکرائی جو پہلووں پہ ہاتھ دھرے مسٹرڈ کلر کے شلوار قمیض میں ملبوس خلافِ عادت و معمول دوپٹہ کندھے پہ رکھے سنہری بالوں کی چٹیا کندھے پہ سجائے ہوئے اسی طرف رخ کیے کھڑی تھی۔

نگاہ جو اس حملے پہ قدرے گڑبڑائی تھی مگر جیسے ہی نظر شہرے پہ پڑی تو ہنسی کا فوارہ سا اس کے ہونٹوں سے پھوٹ پڑا۔یونہی ہنستے ہنستے اس نے دوسرا ہاتھ ضرغام کے بازو پہ رکھتے گویا کچھ یاد کروانے کی کوشش کی تو اس کے چہرے پہ بھی مدہم سی مسکان پھیل گئی تھی۔

دوسری جانب شہرے جو ارسم کے تنگ کرنے پہ اس کا نشانہ لے رہی تھی، اس کے دغا دینے پہ بے ساختہ آنے والے ضرغام کو نشانہ بنا گئی۔ایسے میں نگاہ کی غیرمتوقع آمد اور ہنسی نے اسے گڑبڑا کے رکھ دیا۔

“ابھی کوئی قدردان شوہر یہ کہہ رہا تھا کہ میری بیوی مجھ پہ حملہ نہیں کرتی مگر۔۔۔۔۔۔” یونہی ہنستے ہنستے وہ آگے بڑھی تو شہرے نے ایک نظر ان دونوں کے آپس میں جھکڑے ہاتھوں اور مسکراتے ہونٹوں کو دیکھا تو دل میں عجیب سی لہر دوڑ گئی۔

“نین نگاہ کی زندگی کا سب سے بڑا سچ ہے۔اس کے بغیر نہ اس کی کوئی دنیا ہے نہ اس کی کوئی زندگی ہے۔ وہ نین کی آنکھوں کی نین تارا ہے اور یہ حقیقت دنیا جانتی ہے۔” ایک دم سے ضرغام کی گھمبیر آواز سماعتوں میں لہرائی تو اس نے سر جھٹک کے ان دونوں کے ہاتھوں سے نگاہ چرائی اور نگاہ کے آگے بڑھنے پہ اس کے گلے جا لگی۔

“انتہائی بے مروت خاتون ہو تم آنسہ نگاہ، تمہارے دوست کی مہندی ہے آج اور تم ابھی آ رہی ہو۔وہ بھی اتنی روکھی پھیکی حالت میں۔” اس سے گلے ملتی عمارہ نے اسے لتاڑا تو وہ مسکرا دی۔

“مہندی میں، میں اپنے نین کے ساتھ مکمل تیاری کے ساتھ شرکت کروں گی۔ ابھی تو میں ذرا اس ایمرجنسی شادی کی تیاریوں میں ہاتھ بٹانے آئی ہوں۔” اس نے فوراً بات بناتے ہوئے ثمرین بیگم اور شہرے کے ساتھ جگہ بنائی تھی۔

“شادی تو ایمرجنسی ہے ہی لیکن تم سب دوست تو اس سے بھی زیادہ ایمرجنسی میں رہتے ہو۔ مجال ہے جو کبھی سارے ایک ساتھ اپنی فیمیلیز کے ساتھ مل بیٹھے ہو۔” ماہ وش بیگم نے پیار سے ڈپٹا تو اس کے دل میں اک کسک سی اٹھی۔

“آپ ہمارے لیے دعا کریں نا کہ ہم سب کی ایمرجنسی آج ختم ہو اور آج کے فنکشن میں ہم سارے ایک ساتھ اکٹھے ہوں۔” نگاہ نے ایک نظر قدرے فاصلے پہ کال سنتے ضرغام کو دیکھ کے پورے دل سے کہا تو سب آمین کہنے لگے۔

“لڑکی تم بتاو ذرا، کیوں ہمارے لڑکے کے صبر کا امتحان لینے کے لیے آج اس کے سامنے اس روپ میں آئی ہو۔” وہ شہرے کی طرف متوجہ ہوئی جو ضرغام کو ان کی طرف آتے دیکھ کے کانشیئس سی ہونے لگی تھی۔

“خدا کا خوف کرو یار نگاہ، یہ شہرے کے لیے تو لڑکی کا لفظ ہم ہضم کر لیتے ہیں لیکن یار یہ ‘لڑکا’۔۔۔۔۔۔۔” راسم نے شرارت سے کہتے بات ادھوری چھوڑ کے اس کی طرف دیکھا جو بڑے استحقاق کے ساتھ شہرے کے ساتھ براجمان ہو گیا جو ثمرین بیگم اور نگاہ کے پاس پڑے فلور کشن سے اٹھ کے صوفے پہ بیٹھ گئی تھی۔
لیکن جیسے ہی وہ اس کے نزدیک آ کے بیٹھا وہ کرنٹ کھاتی اٹھنے لگی لیکن اس نے فوراً نظر بچا کے اس کا ہاتھ تھام کے اسے روکا تو اس کا دل دھڑک اٹھا۔
اس نے خائف سی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے سب کی جانب درزیدہ نگاہوں سے دیکھا اور بڑے بے ساختہ انداز میں اپنا دوپٹہ پھیلا کے ہاتھوں کو چھپانے کی کوشش کی۔

“ہم شہرے کو سسرال اور میکے والے چکر میں ڈالنا ہی نہیں چاہتے اس لیے ہم نے اسے گھر جانے دیا ہی نہیں۔” انیلہ بھابھی نے اس کے وہاں ہونے کا ریزن بتایا تو نگاہ مسکرا دی۔

“بلکہ ہم تو اسے مشورہ دیں گے کہ ضرغام کو بھی کبھی کبھار چاچو سمجھ کے یہاں ہی میکے کا مزہ لے لینا۔” ماہ وش چچی کی شرارت پہ چھت پھاڑ فرمائشی قہقہہ ابل پڑا تو وہ خجالت و حیا سے سرخ پڑنے لگی۔
وہ ان کی شرارتوں سے پہلے ہی پریشان ہو رہی تھی اس پہ ضرغام کی موجودگی اور اس کے ہاتھ کا نرم دباو جو اس کے یاتھ سے اب کلائی کی جانب سرائیت کر رہا تھا۔

“رات کو مہندی کی رسم کے لیے باہر آنے سے پہلے میرا انتظار کرنا۔” موبائل کی بیپ ہونے پہ اس کا ہاتھ ہولے سے دبا کے وہ سرگوشی نما آواز میں کہتا اپنی جگہ سے اٹھا اور نگاہ کو ایک اشارہ کرتا وہ ثمرین بیگم سے دعا لیتا بڑی تیزی سے واپس دروازے کی جانب بڑھ گیا۔
جبکہ اس کے عقب میں ان سب کی شرارتیں، مسکراہٹیں اور قہقہے گونجتے ہوئے سچی خوشیوں کی ترجمانی کر رہے تھے۔
اور وہ سرخ ہوتے ہاتھ کو چمکتی آنکھوں کے ساتھ دیکھتی اس کی کانوں میں بار بار گونجتی سرگوشی پہ خود میں سمٹی جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی سپاٹ نظریں اس کے ہوش و حواس سے بیگانہ وجود پہ مرکوز تھیں جو اس سے چند انچ کے فاصلے پہ موجود بیڈ پہ محوِ خواب تھی۔
کلثوم میر کی طبیعت کے پیشِ نظر انہیں میڈیسنز دے کے ان کے پرانے بیڈ روم میں ولید میر کے ساتھ بھیج کے وہ اپنی کزنز جنہیں ان کے والدین کے کیے کی سزا وہ نہیں دے سکتے تھے، ان کو تسلی دلاسے دینے کے بعد وہ کچھ دیر قبل کمرے میں آیا تھا جہاں وہ ہنوز خوابِ غفلت کا شکار تھی۔
اس کے وجود سے بھٹکتی ہوئی نگاہ صوفے پہ پڑے بیگ سے ٹکرائی تو خوبصورت آنکھوں میں جیسے سردمہری سی چھا گئی تھی۔
نجانے کتنی ہی دیر تک وہ یونہی جلتا کلستا رہتا جب اس کے نزدیک لیٹی زحلے کے وجود میں کسمساہٹ سی ہوئی تھی۔اس کو ہوش میں آتے دیکھ کے وہ بے ساختہ اس کے نزدیک کھسکا جس کے خوبصورت چہرے پہ اس وقت سخت بے چینی و اضطراب کے تاثرات رنگ دکھا رہے تھے۔

“ذ۔۔ذوالنورین!” اس کے خشک ہونٹوں سے نکلنے والے اس لفظ نے جیسے اس کے جلتے بھنتے دل پہ پھوار سی برسائی تھی۔

“ناٹ فیئر میم!اپنے کیے کی سزا بھگتے بغیر آپ یوں ان اداوں سے بچ نہیں سکتیں۔” اس کے ہونٹوں کو گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ سرگوشی نما آواز میں بولا اوع بڑی نرمی کے ساتھ اس کے نرم رخساروں پہ ہاتھ پھیرنے لگا جن پہ مٹے مٹے آنسووں کے نشانات تاحال موجود تھے۔

“نن۔نہیں اسے کچھ م۔۔مت کرو پلیز۔” اس کے خشک ہونٹ ایک دفعہ پھر سے سرسرائے تو اس کی ذہنی خلفشار کا اندازہ لگاتے ہوئے اس نے آہستگی سے اپنے ہاتھ کی دو انگلیاں اس کے ہونٹوں پہ رکھتے ہوئے اسے مزید کچھ بولنے سے روکا تھا۔
اس کے گرم ہاتھ کے لمس کی حدت تھی یا اس کی نگاہوں کی پرتپش لپک، وہ ایک دم سے شعور کی منازل طے کرتی آنکھیں کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔
آنکھیں کھولنے پہ دکھائی دینے والے چہرے کو دیکھ کر وہ چند پل بے یقینی و حیرت سے اسے دیکھتی رہی اور پھر کپکپاتا ہوا ہاتھ اٹھا کے اس کے چہرے کے جاذب نقوش کو چھونے لگی۔
اس کی یہ بے اختیاری اسے مدہوش کرنے لگی تھی لیکن خود پہ کڑے پہرے بٹھائے وہ اس کے اگلے عمل کا منتظر رہا۔

مکمل خاموشی اور سکون کے ساتھ۔

اس کے چہرے کے نقوش کو چھوتی زحلے جیسے اس کے وہاں ہونے کی یقین دہانی کرنے لگی۔

“آ۔۔ت۔۔تم ٹھیک ہو؟” اس کے چہرے کو چھونے والے بے تاب ہاتھ اب گردن کو چھوتے سینے پہ گردش کرتے اس کے مکمل ٹھیک ہونے کا یقین خود کو دلا رہے تھے جبکہ نم آنکھیں بے یقینی سے اسے تکے جا رہی تھیں جو قدرے اس کی جانب جھکا ہوا تھا۔
جبکہ اس کے ایسے بے خود انداز اس کے اندر لگی آگ مزید بھڑکائے جا رہے تھے اور یہ آگ شاید آج سب کچھ بہا لے جانے کے درپے تھی۔

“اس نے کچھ۔۔کچھ کیا تو نہیں؟” اس کے ہونٹ اور ہاتھ مسلسل اس کے کچھ بولنے کچھ کہنے کے منتظر اپنے دل کو سکون پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس نے ایک نظر اس کی ٹانگوں کی جانب ڈالتے ہوئے کمرے میں نظر گھمائی تو وہیل چیئر کو بیڈ کے نزدیک دیکھ کر اس کا دل چاہا وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگے۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ یہاں تک صحیح سلامت کیسے آئے تھے؟ لیکن اس کا اس حالت میں اسے بچانے کے لیے جانا اور اس کی معذوری کا سوچ کے اس کا دل جیسے پھٹنے کو ہو گیا تھا۔
بے قابو ہوتے آنسووں کے ساتھ اس نے ایک دفعہ پھر سے اس کے چہرے کو چھونا چاہا۔
جب اس کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا اور وہ اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جھکڑتے ہوئے اس کے سر کے اطراف میں تکیے کے ساتھ لگاتا اس پہ مکمل طور پہ جھکتا اپنی آنکھیں اس کی نم آنکھوں میں گاڑھ گیا۔

“جب مجھے چھوڑ کے جانے کا ارادہ باندھ چکی تھیں تو میرے صحیح سلامت واپس آنے یا نا آنے سے آپ کو کیا غرض؟” بھاری لہجے میں غراتے ہوئے بولتا وہ اس کی سانسیں خشک کر گیا۔
اسے اندازہ نہ ہوا کہ وہ کب اس کے ‘ارادوں’ سے باخبر ہوا تھا۔

“وہ سب ایک ک۔۔۔۔” وہ اپنی صفائی میں بولنا چاہتی تھی جب وہ مزید اس کی جانب جھکا تو ایسی بلا کی قربت پہ وہ دم سادھتی اپنے لب زور سے بھینچتی سانس تک روک گئی کہ وہ اس کے اتنے نزدیک تھا کہ اس کی مونچھیں اسے اپنی ٹھوڑی پہ چبھتی محسوس ہو رہی تھیں۔
اور اس نازک صورتحال میں ایسی قربت اس کی جان نکال رہی تھی۔

“بڑی لکھی باشعور خاتون ہیں آپ۔یقیناً جانتی ہوں گی کہ کاغذی رشتے کو ان مٹ رشتے میں تبدیل کرنے میں کتنی دیر لگتی ہے؟” اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کا اپنی بے تاب نگاہوں سے بوسہ لیتے ہوئے وہ ذومعنی لہجے میں بولتا اس کی سانسیں خشک کر گیا۔
جبکہ لہجے کی ذومعنویت اور مضبوط ارادے کی مہک اس کا چہرہ مارے خوف و شرم کے سفید کر گئی۔

“نن۔۔نہیں۔” اس نے بے بسی سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے ٹوکنا چاہا جو اب مدہوش نگایوں سے اس کی گردن سے لپٹے اس موتی کو دیکھتا ہوا اس پہ مزید جھکا تو زحلے کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔
کہ وہ دیوانہ وار اس کی گردن کو اپنے لمس کی حدت سے مہکاتا اپنے پیار اور جنون کی مہریں ثبت کیے جا رہا تھا۔
اور اپنے خوف اور شرم و حیا میں مبتلا زحلے یہ تک سوچ نہ پا رہی تھی کہ وہیل چیئر پہ بیٹھا وہ شخص کس طرح بنا سہارے کے اس پہ مکمل طور پہ جھکا اپنی مرضی سے حرکت کیے جا رہا تھا۔

“ذوالنورین!پلیز پیچھے ہٹو۔مم۔میں کہیں نہیں جا رہی۔نہ اس رشتے کو کچھ کہہ رہی ہوں۔لیکن پیچھے ہٹو میری جان نکلنے لگی ہے۔” جس رشتے کو ابھی دل و دماغ مکمل طور پہ تسلیم ہی نہ کر سکا تھا اس کے حوالے سے ایسی قربت اس کے لیے بہت بھاری تھی۔
تبھی وہ بھیگے لہجے میں دبا دبا سا چلائی تو ذوالنورین نے سر اٹھا کے اس کی جانب دیکھا تو اس کی سرخ گردن دیکھ کر دل ایک ترنگ میں دھڑکا تھا۔

“آپ کی جان بہت قیمتی میم، اسے یوں نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ پیار سے نکالنے کی کوشش کروں گا۔” اس کے کان کی لو کو چھوتے ہوئے دلنوازی سے کہا تو اس کا پورا وجود جیسے دل بن کے دھڑکنے لگا۔
کیونکہ اس ستم گر کی گستاخ انگلیاں اس کی گردن میں موجود موتی کو چھو رہی تھیں۔

“یہ موتی کس نے دیا تھا؟” ہنوز اس پہ جھکے اس کے موتی سے کھیلتے ہوئے اس نے بھاری لہجے میں سرسری سا تاثر سموئے استفسار کیا تو زحلے نے بے بسی سے اسے دیکھا۔
گویا اشارہ کیا ہو کہ ایسی قربت میں وہ کیسے جواب دے؟ وہ آج بہت ڈر گئی تھی، ذوالنورین کو کچھ ہو جانے کے احساس نے اسے جس طرح پاگل کیا تھا ایسے میں وہ ہر طرح کے خدشے کو پرے پھینکتی اس کے ساتھ کچھ پل گزارنے کے حق میں تھی۔
اسی لیے وہ اس وقت کوئی خاطر خواہ مزاحمت نہیں دکھا رہی تھی۔
اس کا اشارہ سمجھتے ذوالنورین نے تھوڑا سا فاصلہ بڑھا کے اسے بولنے کا اشارہ کیا تھا۔

“کچھ سال پہلے میں گھر جا رہی تھی کہ سڑک پہ کسی حادثے کا شکار چار پانچ لوگوں کو دیکھ کر رک گئی تھی۔ مجھ سے جس قدر ہوا میں نے ان لوگوں کی مدد کی اور ایمبولینس کو اطلاع دے کر وہاں سے جا رہی تھی جب وہاں موجود ایک فرد نے یہ میری طرف لڑھکایا تھا۔” ٹھہر ٹھہر کے بولتے ہوئے اس نے بات مکمل کی تو ذوالنورین کی آنکھوں میں نجانے کیا کچھ لہرایا تھا۔

“آپ ان لوگوں کو جانتی ہیں؟” گہری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے اس نے ایک اور سوال کیا تھا۔
“نہیں۔ان سب کی حالت بہت خراب تھی۔خون سے چہرے اٹے ہوئے تھے ایسے میں پہچاننا بہت مشکل تھا۔یہ موتی شاید ان کی طرف سے میرے شکریہ کے لیے تھا یہی سوچ کے میں نے اسے پکڑ لیا تھا۔” اس نے اب بھی وہ بات بتائی جو اس کے علم میں تھی۔
اس کی تمام بات سن کے وہ جھکا اور نہایت عقیدت سے اس کا ماتھا چومتے اسے چند پل کے لیے ششدر کر گیا۔

“میں انٹرکام کے ذریعے نیچے میسج بھجوا دیتا ہوں۔کھانا کھا کے میڈیسن لے کر ایک دو گھنٹہ مزید ریسٹ کر لیں۔رات آٹھ ساڑھے آٹھ بجے میرے ایک دوست کی مہندی پہ جانا ہے۔” اس پر سے ہٹتا وہ نرمی سے اسے کہتا انٹرکام کی جانب متوجہ ہو گیا جبکہ وہ اپنے بکھرے بال سمیٹتی فریش ہونے کے لیے اٹھنے لگی تو اس کے ساتھ ایک ہی کمرے، ایک ہی بیڈ پہ ہونے کے احساس نے اس کے وجود میں عجیب سی لہر دوڑا دی۔
جسے فوراً سر جھٹک کے زائل کرتی وہ جلدی سے واشروم کی جانب بڑھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بجلی کی سی تیزی کے ساتھ وہ آگے بڑھا اور اس کے چھری پھیرنے سے قبل ایک جھٹکے سے چھری اس کے ہاتھ سے کھینچ کے پرے پھینکی تو وہ سیدھی پیر سائیں کے دائیں بازو میں جا کے پیوست ہو گئی۔
جس سے ان کی غراہٹ بلند ہو گئی جس سے مکمل طور پر بے نیاز وہ روتی ہوئی آبگینے کو سینے سے لگائے دیوانہ وار اس کے چہرے, بالوں، ہاتھوں، کندھوں کو چومے جا رہا تھا۔
اس کی اس قدر دیوانگی پہ ‘پیر حویلی’ کی سبھی خواتین آبگینے کی قسمت پر رشک کرنے لگیں۔

“آپ جیسے لوگ ہی معاشرے کے لیے بدنما داغ اور انسانیت کی توہین ہیں۔دل تو چاہ رہا ہے کہ چوک میں الٹا لٹکا کے لوگوں سے درے لگواوں لیکن تمہارے نام کے ساتھ لگے مرتبے کی حیا مات دے جاتی ہے۔” آبگینے کو سینے سے لگائے وہ گردن موڑ کے ان کی جانب دیکھتا نفرت انگیز لہجے میں دھاڑا تو نین آگے بڑھا۔
اسی پل ضرغام نے اندر قدم رکھا۔ اس کے ساتھ اسد ملک کا پرسنل ملازم جو ان کا ہی کارندہ تھا وہ بھی تھا جس کے ذریعے ان کے کالے کارنامے کھل کے سامنے آ چکے تھے۔
اور اب ان کے ماننے والے حویلی کے باہر کھڑے مشتعل انداز میں انہیں زندہ مارنے کے درپے تھے۔

اور یہی ان کے لیے منتخب کی گئی سزا تھی۔ طلال نے سب کو اندر جانے کو کہا تو سبھی خواتین اپنے خاندان کے مردوں کے ایسے انجام پہ آنسو بہاتی ہوئی اندر چلی گئیں ماسوائے آبگینے کے۔
جو رہبان کے سینے سے لگی اس حجرے کے باہر کھڑی لوگوں کو حجرے میں موجود پیر سائیں پہ حملہ آور ہوتے دیکھ کر انتہائی دکھ اور تکلیف کا شکار ہو رہی تھی۔
اور اس کی یہی تکلیف دیکھ کر وہ اسے لیے سب سے ملنے کے بعد جلدی سے وہاں سے نکل گیا جبکہ نین اور ضرغام بھی کچھ دیر بعد لوگوں کے نرغے سے بمشکل ان دونوں کو چھڑوا کے جیل کی جانب لے جانے لگے۔
کہ اب تابوت میں آخری کیل قانونی انداز میں ٹھوکا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی آنکھ لگے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی جب عجیب سے احساس کے تحت اس کی آنکھ کھلی تو نگاہ سیدھی اپنے خالی پہلو کی طرف گئی تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھی۔

“یہ کہاں گئے اس وقت؟” دل میں ڈھیروں تفکر لیے اس نے واشروم کی طرف دیکھا تو لائٹ آف دیکھ کر اس نے فوراً کمرے میں نظر دوڑائی جب ایک سائیڈ پہ پڑی وہیل چیئر دیکھ کر جیسے دل دھک سے رہ گیا۔

“یہ۔۔وہیل چیئر کے بغیر کیسے گئے اور۔۔۔اور کہیں وہ پھر سے تو نہیں آ گیا؟” خوف کی زوردار لہر اس کے وجود میں لہرائی تو وہ سرعت سے بیڈ سے نیچے اترتی ننگے پاوں دروازے کی جانب لپکی اور دروازہ کھول کے بنا دوپٹے، کھلے بالوں اور ننگے پاوں وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھی اور بھاگتے قدموں کے ساتھ سیڑھیاں اترتی نیچے جانے لگی۔

وہ آخری سیڑھی پہ پیر رکھ رہی تھی جب سامنے پڑنے والی نظر پہ اس کا پورا وجود ہوا میں معلق ہو گیا۔

جاری ہے۔