No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
وہ پسٹلز ہاتھ میں تھامے ٹرک کی جانب بڑھ رہا تھا اور اسے آگے بڑھتے دیکھ کے اندر بیٹھے تینوں نفوس نے جلدی سے اپنے ہتھیار سنبھالے مگر اس سے پہلے کہ وہ اس کا نشانہ لے پاتے کھلے شیشوں سے آتی گولیاں ان کے ہاتھوں کو ناکارہ بناتیں ہتھیار نیچے گرانے پہ مجبور کر گئیں۔
“وائلنس سخت ناپسند ہے مجھے لیکن تم لوگوں کی فضول ہیرو گیری مجھے وائلنس کرنے پہ مجبور کر دیتی ہے۔” ایک اور فائر کرتا رہبان ٹرک کا دروازہ کھولتا ہوا بولا تو رات کی تاریکی میں اس کی بھاری آواز گونج اٹھی جبکہ اس کی بات پہ اس کے ساتھ آیا اس کا اہلکار سمیع مسکراہٹ چھپانے کو سر جھکا گیا۔
“سمیع!چونکہ میری نظر میں صرف میں ہی ہیرو ہوں اس لیے تم نقلی ہیروز کو گاڑی میں بٹھاو میں ذرا ان کے جنازے کا کنفرم بندوبست بنا کے آتا ہوں۔” اپنے مخصوص بے لچک انداز میں سمیع کو اشارہ کرتا وہ پچھلی سائیڈ پہ آیا اور جلدی سے دروازہ کھولا۔
دروازے کھولنے پہ اندر سکڑے سمٹے بیٹھے بارہ سے پندرہ سالہ لڑکے اور لڑکیوں کو دیکھ کے اس کا دل گویا پھٹنے والا ہو گیا۔
اس کا دل چاہا کہ وہ اپنے ہاتھ میں تھامے پسٹلز کی تمام گولیاں ان افراد کے سینے میں اتار دے جو ان جیسے معصوموں کا سودا کرتے ہیں۔
دکھتے دل کے ساتھ وہ اندر بڑھا اور ان بچوں کو وہاں سے نکالنے لگا جو اسے دیکھتے ہوئے روئے جا رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک نظر گھڑی پہ ڈالتے ہوئے اس نے تیزی سے ہاتھ چلاتے ہوئے ابراہیم صاحب کے لیے ناشتے کی ٹرے تیار کی اور ان کے کمرے کی جانب بڑھی۔
“بابا آپ یہ ناشتہ کریں فٹافٹ سے تب تک میں کام نبٹا کے آتی ہوں۔” ان کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے وہ بشاشت سے گویا ہوئی تو بیڈ پہ لیٹے ابراہیم صاحب نے چونک کے اس کی جانب دیکھا جو چاکلیٹ کلر کے سوٹ میں ملبوس بلیک دوپٹہ کندھوں پہ پھیلائے ان کے لیے ناشتہ پلاسٹک کی تپائی پہ رکھنے لگی۔
“تم جانتی ہو زحلے کہ میں تمہارے بغیر ناشتہ نہیں کرتا۔” اسے وہاں سے نکلنے کے لیے پرتولتے ہوئے انہوں نے آہستگی سے شکوہ کیا تو اس کے قدموں کو جیسے بریک سا لگا تھا۔
آج صبح صبح ابراہیم صاحب کی طبیعت اچانک بگڑنے کی وجہ سے وہ اپنے معمول کے کام وقت پر نپٹانے میں لیٹ ہو چکی تھی اسی لیے وہ آج بنا ناشتہ کیے جلدی سے بقیہ کام نپٹا کے اپنی جاب پہ جانا چاہتی تھی۔
“بابا جانتی ہوں میں لیکن آج میں تھوڑا لیٹ ہو گئی تو سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس نے یاسیت سے کہتے ہوئے قدم واپس موڑے اور کمرے میں پڑی کرسی گھسیٹ کے تپائی کے نزدیک کی اور پھر ابراہیم صاحب کو سہارا دے کے بٹھایا اور پھر وہیں براجمان ہو گئی۔
جبکہ اس کی ادھوری بات ابراہیم صاحب کے دل میں کھب سی گئی، انہوں نے اسے دیکھا جس نے ہوش سنبھالتے ہی اپنی ذات کو فراموش کر ڈالا تھا کیونکہ جب دس سال کی ہوئی تھی تو یہ جان لیوا انکشاف ہوا تھا کہ ابراہیم صاحب کو بلڈ کینسر ہے۔ شروع میں کینسر زیادہ پھیلا نہ تھا اس لیے جو جمع پونجی تھی اس سے ان کا علاج کروایا گیا لیکن مرض تھا کہ بڑھتا چلا گیا اور سرمایہ ختم ہوتا چلا گیا۔
حالات اس قدر بگڑ گئے کہ نوبت فاقوں تک آ گئی تھی اور پھر جب سولہ سال کی ہوئی تو ماں کی وفات کے بعد جیسے وہ صحیح معنوں میں تپتے صحرا میں آ گئی ہے۔
ماں اگر چہ سوتیلی تھی اور اس میں سے دو بھائی بھی تھے لیکن ان کے ہونے سے اسے ڈھارس تھی۔
ماں کے مرتے ہی جب دونوں بھائیوں معیز، معید کا اپنے ننھیال والوں کے ساتھ ربط بڑھا تو دونوں بھائی باپ اور بہن سے متنفر ہوتے چلے گئے اور پھر دو سال بعد ہی نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ اوپری پورشن میں دونوں بھائی شفٹ ہو گئے اور الگ دروازہ بھی سیڑھیوں پہ لگا کہ گویا ان باپ بیٹی سے تعلق ختم کر لیا کہ ان کے بقول ان کی ماں ان کے باپ کی وجہ سے مری ہے۔
بھائیوں کی ایسی حرکت اور باپ کی بتدریج خراب ہوتی حالت دیکھ کے زحلے جس کی دنیا گھر اور کالج سکول تک ہی محدود تھی وہ باہر نکلی اور اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف کام کرنے لگی کیونکہ وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے باپ کی موت کا ساماں نہیں بن سکتی تھی۔
پڑھائی میں ہمیشہ وہ اچھی رہی تھی اس لیے اس کی سکالرشپ جاری رہا جس کی وجہ سے اس نے پڑھائی نا چھوڑی لیکن پارٹ ٹائم ٹیوشنز، کمپیوٹر آپریٹنگ جیسی چھوٹی موٹی جابز کر کے گزارا کرنے لگی۔
لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے اس کے نام لگی دکان سے آیا جانے والا کرایہ جب اس کے سوتیلے بھائیوں نے ضبط کرنا شروع کر دیا اور حالات پھر سے کشیدگی کا شکار ہونے لگے تو وہ ان چھوٹی موٹی جابز کو چھوڑ کے ایک اچھی اور مستقل جاب کی تلاش میں نکلی تو اندازہ ہوا کہ اس راہ میں اپنی عزت اپنی جان سے بڑھ کے بچانی پڑتی ہے۔
کیونکہ بہت سی جگہوں پہ اسے جابز صرف اس کی خوبصورتی کی وجہ سے دی جانے کی کوشش کی جاتی کہ کیا ہوا جو تجربہ نہیں لیکن ایک خوبصورت بدن تو ہے۔
انہی کٹھن راہوں سے ہوتی وہ ایک دن ‘میر اینڈ سنز انٹرنیشنل کمپنی’ تک پہنچ گئی جہاں موجود جاب کو سن کے اسے لگا تھا کہ اس کا امتحان شاید ختم ہو چکا ہے کیونکہ ستر ہزار میں ان دونوں باپ بیٹی کے مہینے کا گزارا بہت آسانی سے ہو سکتا تھا بشمول ابراہیم صاحب کی دوائیوں کے جن پر کینسر کے اثر سے مزید بیماریاں جنم لے رہی تھیں۔
مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان تو ابھی شروع ہوا تھا۔
‘ذوالنورین میر’ کی صورت میں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا کھانا کھاتے ہوئے ‘گردیزی حویلی’ کے سارے افراد اس وقت ڈائننگ ہال میں جمع تھے جہاں وہ میز پہ کھانا چننے کی بجائے فرشی دسترخوان بچھاتے اور نیچے بیٹھ کے کھانا کھاتے تھے۔
“رہبان واپس چلا گیا نا؟” بی جان نے سائرہ گردیزی کی جانب دیکھتے ہوئے شکوں کناں لہجے میں استفسار کیا تو وہ نگاہیں چرا گئیں۔
“نہیں بی جان!رہبان واپس آ گیا ہے۔” غیرمتوقع طور پہ اس کی خوبصورت و بھاری آواز سن کے سب نے ہی چونک کے دروازے کی جانب دیکھا جہاں وہ سیاہ پینٹ کے ساتھ نیوی بلیو شرٹ پہنے کف کہنیوں تک فولڈ کیے بہت جازبِ نظر دکھ رہا تھا۔
“کل رات کو کہاں چلے گئے تھے اور آج بھی پورا دن نہیں دکھے؟” بی جان نے اس کے قریب آنے پہ اس کی پیشانی کا بوسہ لیتے ہوئے استفسار کیا تو اس نے ایک نظر باپ اور چچی کو دیکھا اور پھر بی جان کی طرف متوجہ ہوا جو کھانا چھوڑ کے اس کی جانب متوجہ ہو چکی تھیں۔
“دوستوں کو اپنی شادی کا انویٹیشن دینے گیا تھا۔” اس کے سنجیدہ لہجے میں کہے گئے الفاظ پہ وہاں موجود سبھی نفوس کو جیسے جھٹکا سا لگا ماسوائے دو افراد کے۔
سبھی کھانے چھوڑے اسے دیکھنے لگے۔
‘مجھے لگتا ہے لالہ نے ہماری ہونے والی بھابھی کی تصویر دیکھ لی ہے جو آناً فاناً یہ فیصلہ کیا ہے۔” ریحان نے ساتھ بیٹھی دریہ کے کان میں سرگوشی کی تو اس نے شدومد سے سر ہلاتے ہوئے اس کی بات سے اتفاق کیا۔
“آپ۔۔آپ واقعی شادی کے لیے مان گئے ہو؟” بی جان نے خوشی سے کانپتے ہوئے لہجے میں استفسار کیا تو اس نے ہولے سے کندھے اچکائے۔
“آپ سبھی مان چکے تھے اس لیے مجھے بھی مجبوراً ماننا پڑا۔” اس کے لہجے کی لاپرواہی اس کی سیاہ آنکھوں کے ناقابلِ فہم تاثرات کا بالکل ساتھ نہ دے رہی تھی۔
جبکہ اس کے ہونٹوں سے نکلنے والے ان الفاظ پہ بی جاب کو لگا جیسے انہیں ہفتِ اقلیم مل گئی ہو انہوں نے جھٹ سے اسے دوبارہ سینے سے لگایا اور اس کی پیشانی چومتی اس کا شکریہ ادا کرنے لگیں۔
مگر پھر ایک دم سے احساس ہونے پہ وہ تھمیں اور ایک نظر پوتے کو دیکھا جو ایک ٹھہرے ہوئے سمندر کی مانند بظاہر بہت پرسکون دِکھ رہا تھا۔
“بچے آپ جانتے ہیں کہ یہ شادی کس طرح سے ہو رہی ہے تو آپ دوستوں کو نہ بلاتے تو بہتر تھا۔” انہوں نے مناسب الفاظ کا چناو کرتے ہوئے اسے منع کرنا چاہا کہ یہ کوئی ‘نارمل شادی’ تھوڑی نہ تھی۔
“ریلیکس بی جان!شادی شادی ہی ہوتی ہے، یہ کسی بھی طرح سے ہو مگر مجھے اسے اسی طرح سے کرنا ہے جیسے ‘رہبان گردیزی’ کی شادی ہونی چاہیے۔” ان کی آنکھوں میں دیکھتا وہ مضبوط لہجے میں بولتا انہیں بہت کچھ باور کرواتے ہوئے پرسکون انداز میں کھانے کی جانب متوجہ ہو گیا۔
“مانو نا مانو یہ محترم لڑکی پہ بری طرح سے لٹو ہو چکے ہیں۔” ریحان کی زبان میں پھر سے کھجلی ہوئی تو وہ نوجوان پارٹی میں سرگوشی کرنے لگا۔
“لیکن بچارے یہ نہیں جانتے کہ جن پہ یہ محترم لٹو ہیں وہ ان کے ہاتھ نہیں آنے والی۔” دریہ جو کہ ریحان کے نزدیک بیٹھی تھی اس نے فورا پرتاسف لہجے میں جواباً کہا۔
رہبان گردیزی کی ایک دھواں دھار لو سٹوری بناتے اس کے بہن بھائی اور کزنز یہ بات نہیں جانتے تھے کہ سب کا سکون خاک میں ملانے کے بعد سکون سے کھانا تناول کرتا رہبان گردیزی اپنی ہونے والی ‘منکوحہ’ کے نام سے بھی ناواقف تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معمول کی مانند مستعد ملازمہ کی معیت میں جب اس نے لاونج میں قدم رکھا تو اس وقت نو بج کے پچیس منٹس ہو چکے تھے لیکن چونکہ لاونج میں کوئی نہیں تھا اس لیے کلمہ شکر کہتی تیزی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔
اسے ذوالنورین میر کو ٹیوشن دیتے ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا اور اس ایک ہفتے میں اسے لگتا تھا کہ وہ کسی پتھر کے مجسمے سے اپنا سر ٹکراتی رہتی ہے۔
اس نے نو سے ساڑھے پانچ بجے تک اسی کے کمرے میں رہنا ہوتا تھا چاہے اس دوران وہ شخص کچھ بھی کرے لیکن اس کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ وہ اسے زیادہ ٹائم پڑھائے تاکہ جلد از جلد اس کی اس مصیبت سے جان چھوٹے مگر اسے اس کی امید نہیں تھی۔
وہ گھنٹوں مسلسل بولتی رہتی لیکن وہ بنا کچھ بولے کوئی سوال کیے اسے سنتا رہتا اور اس کے چپ ہونے پہ گود میں رکھے نوٹس یا کتاب کو جھٹکے سے بند کرتا ساتھ پڑی میز پہ پٹخ دیتا تھا۔
ذوالنورین کے عجیب و غریب رویے کو سوچتی وہ اس کے کمرے کا دروازہ ہولے سے ناک کرتی ہوئی اندر داخل ہوئی تو نگاہ سیدھی اسی سے جا ٹکرائی جو معمول کی طرح سیاہ ٹی شرٹ اور سیاہ ٹراوزر پہنے ٹانگوں پہ سکن چادر پھیلائے صوفے پہ براجمان تھا جبکہ خوبرو چہرے پہ پھیلے تاثرات بھی ہمیشہ کی طرح جامد و سرد تھے۔
السلام علیکم!” اس نے آہستگی سے سلام کیا اور اس سے حتی المقدور فاصلہ رکھتی براجمان ہو گئی۔
“آپ آدھا گھنٹہ لیٹ ہیں۔” بنا سلام کا جواب دیے وہ دیوار پہ لٹکی گھڑی کی جانب اشارہ کرتا ہوا روکھے لہجے میں بولا تو وہ اسے دیکھ کے رہ گئی۔
“جب آپ نے کچھ سننا سمجھنا ہوتا نہیں تو کیا فرق پڑتا ہے کہ آدھ گھنٹہ کم پڑھا جائے یا آدھ گھنٹہ زیادہ۔” وہ سنجیدگی سے کہتی کتاب کھولنے لگی جبکہ اس کی بات پہ ذوالنورین نے اپنی خوبصورت آنکھیں جو کہ ہمیشہ کی طرح ہلکی سی سرخی لیے ہوئے تھیں اٹھا کے ایک کاٹ دار نگاہ اس پہ ڈالی جو اس سے کچھ فاصلے پہ براجمان اپنے کام میں مگن تھی۔
“مجھے کسی کے انتظار میں ایک لمحہ گزارنا بھی سخت ناپسند ہے کجا کے آدھ گھنٹہ۔” اس کا لہجہ اگرچہ گہری کاٹ لیے ہوئے تھا لیکن اس کے الفاظ پہ نجانے کیوں اس کی جانب نوٹس پکڑاتی زحلے کے ہاتھ پل بھر کے کپکپائے جس کی وجہ سے نوٹس ذوالنورین کے تھامنے سے قبل ہی زمین بوس ہو گئے۔
“ذوالنورین پلیز ڈونٹ۔۔۔۔۔” نوٹس نیچے گرنے پہ جب وہ ہولے سے نیچے جھکنے کی کوشش کرتا خود کو حرکت دینے لگا تو وہ بے ساختہ انداز میں قدرے بلند آواز میں کہتی اس کے بائیں کندھے پہ ہاتھ رکھتی اسے مزید مزید حرکت کرنے سے روک گئی۔
جبکہ اس کی اس اچانک حرکت اور اپنے کندھے پہ محسوس ہوتے لمس پہ وہ لحظہ بھر کے لیے تھم سا گیا لیکن یہ صرف پل بھر کے لیے تھا اگلے ہی پل جب وہ اس کے کندھے سے ہاتھ اٹھاتی نیچے جھک کے اس کے پیروں کے پاس پڑے نوٹس اٹھانے لگی تو اس نے کرب زدہ انداز میں آنکھیں زور سے میچیں۔
“آج کے بعد میرے پیروں میں مت جھکیے گا چاہے کتنی ہی اہم شے کیوں نہ اٹھانی ہو۔” وہ نوٹس اٹھا کے سیدھی بھی نہ ہوئی تھی کہ اس کی سرد آواز اس کے کانوں میں گونجتی اسے ششدر کر گئی۔
اس نے گردن گھما کے اس کی جانب دیکھنے لگی جس کا خوبرو چہرہ اس وقت شدتِ ضبط کے باعث سرخ ہو رہا تھا۔
وہ نہیں سمجھ سکی تھی کہ اس نے یہ الفاظ کیونکر کہے تھے اور کن معنوں میں کہے تھے لیکن اس جیسے شخص کے منہ سے نکلنے والے یہ الفاظ اسے حقیقتاً بے یقینی و حیرت کی عمیق گہرائیوں میں لے گئے تھے۔
لیکن کچھ ہی ثانیوں بعد وہ سنبھلتی ہوئی نوٹس اسے تھما کے آج کا لیکچر اسے دینے لگی جو حسبِ معمول اسے سننے کی بجائے اپنی خوبصورت آنکھیں اپنے چادر سے ڈھکے پیروں پہ مرکوز کر چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنا بریف کیس ملازم کو پکڑاتا وہ اپنا بلیو کوٹ دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں میں تھام کے کندھے پہ لٹکائے اندر کی جانب بڑھتا دوسرے ہاتھ سے گریبان کے اوپری بٹن کھولنے لگا۔
جب ہال کے داخلی دروازے پہ قدم رکھتے ہی اس کی سماعتوں میں اس کی کھلکھلاتی ہوئی آواز پڑی تو تھکن جیسے مزید بڑھ گئی۔
اس سے پہلے کہ وہ قدم واپس موڑتا اس کی نظر اس پہ پڑ چکی تھی۔
“لیں نگاہ چچی!آ گئے آپ کے مسٹر رائٹ۔” اس کی چہکتی آواز پہ اس نے گردن گھمائی جہاں نگاہ گود میں زوہان لے کے بیٹھی شہرے کے سامنے پڑے صوفے پہ ثمرین بیگم کے ساتھ براجمان مسکرا رہی تھی۔
“السلام علیکم!” باآواز سلام کرتے ہوئے وہ ان لوگوں کی جانب بڑھا۔
“وعلیکم السلام!” سب نے مشترکہ جواب دیا تو وہ وہیں نگاہ کے نزدیک ہی بیٹھ گیا۔
“کیسی ہیں آپ؟” اس نے نرمی سے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا تو نگاہ ہولے سے مسکرائی۔
“ہمیشہ کی طرح بہت خوبصورت۔” نگاہ نے حسبِ عادت اپنا پسندیدہ جواب دیا تو اس کے چہرے پہ بڑی خوبصورت سی مسکان سی پھیل گئی۔
اپنے بیٹے کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کے ثمرین بیگم کے دل میں ٹھنڈک سی اتری کیونکہ ایسا بہت کم ہوتا تھا جو وہ یوں مسکراتا جبکہ دوسری جانب شہرے اسے مسکراتا دیکھ کے جیسے خفا ہوئی تھی۔
“ساری دنیا سے مسکرا کے بات کرتے ہیں لیکن میری طرف تو دیکھتے بھی نہیں ہیں حالانکہ باقی ساری چاچو تو اتنا پیار کرتے ہیں۔” وہ جس نے ہمیشہ سبھی سے پیار سمیٹا تھا وہ ضرغام کے ایسے رویے پہ ہمیشہ خفگی و اداسی کا شکار ہو جاتی تھی۔
“نگاہ چچی! آپ کی نیکسٹ ایگزبیشن کب ہے؟” سب ہی باتوں میں مگن تھے کیونکہ اس ٹائم سبھی اکٹھے ہوتے تھے اور آج چونکہ نگاہ بھی آئی تھی اس لیے سبھی اسے وقت دینے کے لیے وہیں گپ شپ لگا رہے تھے۔
“دیکھ لو نگاہ یہ بیس سالہ لڑکی بھی تمہیں چچی کہے گی اور یہ ایک سالہ بچہ بھی۔” انیلہ بھابھی نے شہرے کے نگاہ کو مخاطب کرنے پہ شرارت سے کہا تو وہ جھینپ اٹھی۔
“بھئی اب یہ تو برداشت کرنا پڑے گا۔” وہ مسکراتے ہوئے اس کی شرارت کے جواب میں گویا ہوئی تو سب کے قہقہے بلند ہو گئے۔
“بالکل صحیح کہا اب ایسا شاندار بندہ ملے تو اس کے لیے بندہ چچی کیا دادی بننے کے لیے تیار ہو جائے۔” عیسیٰ نے انیلہ اور نگاہ کی شرارت کو طوالت بخشی تو محفل نگاہ کے گلابی پڑتے چہرے کو دیکھ کے جیسے زعفران سی بن گئی۔
“بھئی دادی نانی بھی یہ کچھ ہی سالوں میں بن جائے گی، یہ ایک دو سال تک ہم نے شہرے کی شادی کی تو شہرے کے بچوں کی نانی بن جائے گی یہ۔” قندیل بھابھی کے شرارت سے کہنے پہ جہاں شہرے کا چہرہ ایسی غیرمتوقع بات سن کے سرخ پڑا تھا وہیں سب کے قہقہوں پہ نگاہ کے ساتھ بیٹھے ضرغام کا وجود جیسے دہکتے انگاروں کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔
وہ ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تو سب نے چونک کے اسے دیکھا۔
“میں چینج کر آوں۔” نگاہ سے مدہم لہجے میں کہتا ہوا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اوئی ماں ایسا شاندار جوڑا!” پیر حویلی میں موجود زنان خانے کے بڑے سے ہال میں موجود خواتین اس وقت ایک جگہ میں جمع ہوئیں بڑے سے میز پہ پڑے سامان کو حیرت، رشک، حسد اور بے یقینی سے تک رہی تھیں۔
کیونکہ یہ سامان اور کسی کے لیے نہیں بلکہ آبگینے کے لیے آیا تھا۔اسی آبگینے کے لیے جس کی شادی فقط تین سائن کرنے کا ایک کھیل تھی۔
اس کے لیے مہندی اور بارات کے لیے دیدہ زیب و قیمتی جوڑا، میچنگ جیولری و جوتے آئے دیکھ کے سب حیرت سے گنگ رہ گئیں تھیں۔
“کیا فائدہ بھلا ان چیزوں کا جب اس ‘بیچاری’ کا ان سب پہ کوئی حق ہی نہیں رہنا۔” نسرین بیگم نے چچ کرتے ہوئے پرتاسف لہجے میں کہا تو بہت سوں سے ان کی بات سے اتفاق کیا اور بہت سے اختلاف کرتے ہوئے نازک سی آبگینے کے لیے دل سے دعاگو ہوئے۔
جبکہ اپنے لیے آئے اس شاندار سے سامان سے بے نیاز آبگینے کسی معجزے کی منتظر اپنے لیے دعا مانگ رہی تھی کیونکہ گزشتہ ایک ہفتے میں اس کی باپ، بھائی، چچا، دادا الغرض ہر ایک کے سامنے کی گئی التجا رد ہو چکی تھی۔
اور اب وہ فقط کسی معجزے کی منتظر تھی جو اسے اس اذیت سے نکال سکتا کیونکہ اس کی اس نام نہاد شادی میں چار دن ہی بچے تھے۔
وہ اپنی سوچوں میں غلطاں تھی جب اس کے کمرے میں پڑا موبائل گنگنا اٹھا۔
جاری ہے۔
