No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
“کیا ہوا؟” اس نے حیرانگی سے ان سب کی طرف دیکھا جو ہنستے ہوئے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
“کچھ نہیں بس تم بہت پیارا بولتی ہو۔” ارسم نے اسے دیکھتے ہوئے ہونٹوں پہ مچلتی مسکان کو دباتے ہوئے کہا تو اس نے ہلکی سی خفگی سے اس کی جانب دیکھا جبکہ باقی ارسم کی شرارت پہ مسکرا دیے ماسوائے اس کے جو اس کے ‘چاچو’ کہنے پہ ایک شاکی نگاہ اس پہ ڈالنے کے بعد واپس ناشتے کی جانب متوجہ ہو چکا تھا۔
“یہ اور بات ہے کہ اس پیارا بولنے کے چکر میں تم کسی کے نازک ارمانوں کے ساتھ کھیل گئی ہو۔” ارسم کی بات کو جاذم نے شرارت سے مکمل کیا تو سب کے چہروں پہ ایک دفعہ پھر سے مسکان پھیل گئی جبکہ اپنی پلیٹ پہ جھکے ضرغام نے بمشکل اپنے چہرے پہ کسی بھی قسم کا تاثر پھیلنے سے روکا تھا۔
“یہ آپ میرا مذاق اڑانے کی کوشش کر رہے ہیں؟” اس نے اپنے کہے گئے الفاظ کو ذہن میں دہراتے ہوئے اس سے قابلِ گرفت بات جاننے کی سعی کی لیکن اس کی سمجھ کے مطابق تو اس نے ایسا کچھ نہ کہا تھا تبھی وہ خفگی سے بولی۔
“بڑی ماما، دادا یہ دیکھیں سب کو؟” اپنے سوال کے جواب میں ان کے ہونٹوں پہ دوبارہ سے پھسلنے والی مسکان دیکھ کے وہ روہانسی سی ہوئی تھی۔
“اونہوں، میری بیٹی کو تنگ مت کرو۔” دادا بخش صاحب نے فورا سب کو تنبیہہ کی تو سب بمشکل مسکان ضبط کرتے اپنی پلیٹ پہ جھک گئے جبکہ جازم سب کو اللّٰہ حافظ کہتا ہال سے باہر نکل گیا۔
“نگاہ!یہ بھی لو بیٹا، تکلف برتنے کی ضرورت نہیں یہ آپ کا اپنا گھر ہے۔” ثمرین بیگم نے چائے کے سپ لیتے ہوئے نگاہ سے کہا چونکہ شادی کوئی روایتی طریقے سے نہ ہوئی تھی اس لیے ناشتے جیسی کسی بھی رسم سے انہوں نے منع کیا تھا۔
“جی آنٹی لے رہی ہوں میں۔” اس کے مسکرا کے کہنے پہ شہرے نے نظر بھر کے اسے دیکھا تو نظر نا چاہتے ہوئے بھی پل بھر کے لیے اس کے ساتھ بیٹھے ضرغام پہ جا پڑی۔
وہ دونوں ساتھ بیٹھے اتنے شاندار لگ رہے تھے کہ اس اپنے وجود میں بھانپھڑ سے جلتے محسوس ہوئے تھے۔
“شہرے آپ ناشتہ مکمل کرو، ضرغام آپ کو کالج ڈراپ کر دے گا۔” چونکہ گھر کی لڑکیوں کے لیے الگ ڈرائیور مختص کر رکھے تھے مگر اس ہونے والے حادثے کے باعث فی الحال ڈرائیور کی بجائے انہیں خود ہی پک اینڈ ڈراپ کیا جا رہا تھا اس لیے اسد صاحب نے ناشتہ مکمل کرنے کے بعد متانت سے اسے پکارا تو وہ چونکی۔
“لیکن بڑے دادا مجھے ضرغام چاچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ جو کچھ دیر لمحے آئی سوچ کے زیرِ اثر تھی اس نے گردن گھما کے انہیں انکار کرنا چاہا جب وہ ناشتہ ختم کر کے اپنی جگہ سے اٹھا۔
“اپنا بیگ لے کے باہر آ جائیں۔” اس سے قبل کہ وہ ایک دفعہ پھر سے ‘چاچو’ بول کے واقعتاً اس کے احساسات و جذبات کا جنازہ دھوم دھام سے نکالتی وہ سنجیدگی سے کہتا اسے ٹھٹھکنے پہ مجبور کر گیا۔
لیکن اس کے چونکنے پہ دھیان دیے بغیر وہ نگاہ کی جانب متوجہ ہوا۔
“اپنا خیال رکھیے گا۔” ایک الوداعی نرم مسکان اس کی جانب اچھال کے اس نے ماں کو خدا خافظ کہتے ہوئے اس کی جانب دیکھا جو ہنوز تذبذب کی حالت میں کھڑی تھی۔
“خدا کی بندی پہلے تمہیں جلدی پڑی تھی لالہ کے ساتھ جانے کی اب کس مراقبے میں کھو گئی ہو؟” ثمرین بیگم کو خداخافظ کہہ کے جب وہ باہر کی جانب بڑھنے لگا تو عائلہ نے اسے پکارا۔
اس کی بلند آواز پہ وہ چونکی اور اپنی چیزیں لے کر ایک چور نظر نگاہ کے چہرے پہ ڈال کے وہ سب کو خدا حافظ کہتی باہر نکلی جہاں وہ اپنی سیاہ مرسڈیز کی جانب بڑھ رہا تھا۔
نگاہ کے سامنے یوں ضرغام کے ساتھ نکلتے ہوئے اس کا دل اسے مسلسل کچوکے لگا رہا تھا۔
اس نے بہت من موجی اور فیئر سی زندگی گزاری تھی اس پہ اپنا سیکنڈ چوائس بن کے کسی دوسرے کی ذات پہ سونپ دینا بہت گراں گزر رہا تھا لیکن یہ بات کوئی بھی نہیں سمجھ رہا تھا۔
اس نے اپنی ہوتی آنکھوں کو شرٹ کی آستین سے صاف کرتے ہوئے سامنے دیکھا جہاں وہ گاڑی کے فرنٹ ڈورز ان لاک کرنے کے بعد فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کے سائیڈ پہ ہو گیا۔
اس کے ساتھ وہ جب جب ہوتی تھی اس نے فرنٹ ڈور ہمیشہ اس کے لیے خود ہی کھولا تھا اور اس پہ بات پہ اس نے کبھی سوال نہ اٹھایا تھا۔
مگر آج اس کی اس حرکت پہ اس کی کنپٹیاں سلگ اٹھی تھیں، وہ جلتی بھنتی بیک سیٹ کی جانب بڑھی لیکن لاکڈ دروازے کو دیکھ کے اس کا دل مزید جل اٹھا۔
“ان لاک کریں گاڑی۔” بنا اس کی جانب دیکھے اس نے قدرے تیکھی آواز میں اسے مخاطب کیا جو اس کے لیے فرنٹ ڈور اوپن کرنے کے بعد سائیڈ پہ ہو چکا تھا۔
“بیک سیٹ کا دروازہ تو تب بھی آپ کے لیے کبھی نہیں کھولا جب۔۔۔۔۔۔” وہ بنا رخ موڑے سنجیدگی سے کہتا کہتا اچانک رکا تھا لیکن اس ادھوری بات پہ بھی شہرے کے کانوں کی لوئیں تپ اٹھی تھیں۔
“اب جب ایک مضبوط رشتہ آپ کے ساتھ بندھ چکا ہے تب تو ایسا ناممکن ہے۔” اس نے اسی سنجیدگی سے بات مکمل کی لیکن دوسری جانب یہ بات بالکل پسند نہ آئی تھی۔
“میں ایسے کسی رشتے کو تسلیم نہیں کرتی۔دروازہ ان لاک کریں۔” اس کی جانب مڑتے ہوئے اس نے انگشت شہادت بلند کر کے غرا کے کہا تو وہ سکون سے اس کی جانب پلٹا اور اس کی اسی انگلی کو تھام کے اس کے سوچنے سمجھنے سے قبل اسے گاڑی میں بٹھا چکا تھا۔
“یہ بات گاڑی میں بیٹھ کے کر لینا آپ۔” دروازہ بند کرتے ہوئے اس نے اسی انداز میں کہا تو وہ جو اس کی اس حرکت پہ ہق دق سی تھی اس کے ڈرائیونگ سیٹ پہ آ کے بیٹھنے پہ جیسے چونکی تھی۔
“آپ۔۔۔آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی یا م۔۔۔۔۔۔” اس کی جانب رخ موڑتے ہوئے اس نے سلگتے ہوئے متنفر لہجے میں کہا تو اس نے رسانیت سے اس کی بات قطع کی۔
“پہلی دفعہ نہیں لگایا ہاتھ۔” اس کے اس قدر رسان بھرے الفاظ پہ وہ جیسے سیٹ میں دھنس سی گئی۔
ہاں یہ پہلی بار تو نہیں تھا پھر اب ہی اس قدر شدید مزاحمت کیوں؟
“پہلے۔۔۔پہلے آپ نگاہ چچی کے شوہر تھے۔” اس نے بہت دیر کے بعد بمشکل دلیل ڈھونڈنے کے سامنے رکھی جبکہ اس کی اس دلیل پہ بڑے عرصے کے بعد ڈرائیونگ کرتے ضرغام کی آنکھوں میں بہت محظوظ کن تاثر پھیلا تھا۔
“لیکن اب آپ کا شوہر بھی ہوں اس لحاظ سے تو اب آپ مجھے ہاتھ لگانے سے منع نہیں کر سکتی۔” موڑ کاٹتے ہوئے اس نے اپنے مخصوص لہجے میں اسے جواب دیا تو اس کا وجود جیسے کسی ملبے تلے دھنستا چلا گیا۔
اس نے سرخ پڑتے چہرے اور اچانک ہی نم ہو جانے والی پلکیں اٹھا کے اسے دیکھا جو نیوی بلیو تھری پیس سوٹ پہنے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔
جبکہ ڈرائیونگ کرتے ضرغام کی توجہ ڈرائیونگ سے ہٹ رہی تھی، وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ اس کی خوبصورت کتھئی آنکھیں اسے ہمیشہ سب بھولنے پہ مجبور کر دیا کرتی تھیں اس لیے اسے یوں دیکھنا بند کرو لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب وہ اسے نہیں کہہ سکتا تھا۔
کہہ سکتا ہوتا تو شاید آج سب اس قدر آزمائش کا شکار نہ ہوتے۔
نہ شہرے۔۔۔
نہ ضرغام۔۔
نہ نگاہ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں پوری طرح کھولے اسے دیکھ رہی تھی جو اپنی ہنسی کو قابو میں کرتا ہوا اسے عجیب سے احساسات میں مبتلا کر گیا۔
“کمال ہے مس ابراہیم!جب کوئی رشتہ نہ تھا تب مجھے اپنی اداوں کا اسیر کرنا چاہ رہی تھیں اور اب جبکہ اسیر کرنے کے لیے، آپ کو قاتلانہ جادو چلانے کے لیے ایک بنیاد ڈھونڈ کے دی ہے تو قدم پیچھے ہٹا رہی ہیں، تعجب ہے۔” اس کے متبسم لہجے میں تمسخر کی جھلک اور آنکھوں کی کاٹ دار لپک پہ اس کا وجود جیسے اندر تک زخمی ہوا تھا۔
“یا اسے بھی آپ کی کوئی قاتلانہ ادا سمجھوں؟” اپنی کاٹ دار نگاہیں اس کے صبیح چہرے پہ گاڑھتے ہوئے اس نے استفسار کیا تو اس کا چہرہ سپید پڑنے لگا۔
“ا۔۔ایسی باتیں نہیں کرو خدا کے لیے۔” وہ احساسِ بے بسی و ذلت سے جیسے رو پڑی تھی۔
اول روز سے جن آنکھوں میں اجنبی اور اکھڑ تاثر چھایا رہتا تھا وہ اس سمے ان آنکھوں میں چھائی نفرت اور تمسخر سے کئی درجے بہتر تھا۔
کیونکہ اسے اس کی چبھتی ہوئی آنکھیں مار رہی تھیں۔
“ادھر آئیں۔” اس کی التجا کے جواب میں اس کی اب کے بنا کسی تبسم کے مخصوص سی سرد آواز گونجی تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
اس کے جسم میں زخموں اور ذہنی تھکاوٹ کے باعث بے حد تکلیف ہو رہی تھی لیکن وہ بمشکل خود کو سنبھالے اس کے سامنے کھڑی تھی لیکن اب اسے لگ رہا تھا کہ وہ اپنے حواس کھو دے گی۔
اس سے قبل کہ ان دونوں میں سے کوئی کچھ بولتا اچانک دروازے پہ دستک ہوئی تو وہ جو دروازے کی جانب ہی بڑھ رہی تھی اس اچانک آواز پہ جیسے اچھل سی گئی۔
اس نے گردن گھما کے دیکھا تو دروازہ کھول کے ڈاکٹر ارتضیٰ ہاتھوں میں اپنا میڈیکل باکس لیے کمرے میں داخل ہوئے۔
ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کے ذوالنورین نے بمشکل خود کو کچھ کہنے سے باز رکھا جبکہ وہ زحلے کی طرف متوجہ ہوئی جو کمرے میں ایک سائیڈ پہ کھڑی قابلِ ترحم دِکھ رہی تھی۔
“ادھر آو بیٹا۔” اس کا ہاتھ نرمی سے تھام کے انہوں نے اسے صوفے پہ بٹھایا اور بنا کچھ کہے اس کے زخموں کی مرہم پٹی کرنے لگے۔
“سسس، بابا!” ڈاکٹر صاحب نے جب اس کے رخسار پہ لگے ٹانکے جو معیز کے تشدد سے بگڑ کے خون آلود ہو چکے تھے ان کی جانب ہاتھ بڑھایا تو مارے تکلیف کے اس کے ہونٹوں سے کراہ کی صورت میں باپ کا لفظ نکلا۔
اس کی سسکی اور لفظ ‘بابا’ پہ بیڈ پہ نیم دراز ذوالنورین جو کہ قصداً بے نیازی برت رہا تھا، اس نے بے ساختہ گردن گھما کے صوفوں کی جانب دیکھا جہاں وہ زور سے اپنی آنکھیں اور مٹھیاں میچیں ڈاکٹر صاحب کے سامنے بیٹھی اپنا رخسار صاف کروا رہی تھی۔
اس لمحے اس کے زرد پڑتے چہرے پہ اس قدر ملاحت تھی کہ وہ چند لمحات قبل خود پہ چھائے احساسات سے برطرف اس کے چہرے سے نگاہیں نہ ہٹا سکا تھا۔
“یہ میڈیسن کھا کے کچھ دیر ریسٹ کرو تاکہ آپ کے اعصاب پرسکون ہوں اور آپ کے زخموں کو بھی آرام ملے۔ابھی میں آپ کو انجیکشن بھی لگا دیتا ہوں تاکہ درد کی شدت میں کمی آ سکے۔” اسے میڈیسن تھماتے ہوئے انہوں نے انجیکشن تیار کرنا چاہا تو زحلے کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔
وہ اپنی عمر کی پچیس بہاریں دیکھ چکی تھی لیکن وہ اس لمبے سے دورانیے میں خود کو اتنا مضبوط نہ کر سکی تھی کہ وہ پرسکون ہو کے انجیکشن لگوا سکے۔
مگر اس سمے اس نے اپنا خوف کسی پہ ظاہر نہ ہونے دیا تھا کیونکہ یہاں ابراہیم صاحب نہ تھے جو اس کے خوف پہ اسے سہارا دیتے۔
ان کے انجیکشن تیار کرنے تک وہ خود کو انجیکشن کے لیے پوری طرح سے تیار کر چکی تھی لیکن لاکھ کوشش کے بعد بھی جب سرنج اس کے بازو سے ٹکرائی تو اس کی فلک شگاف چیخ کمرے میں گونج اٹھی۔
اس کی اس قدر بلند چیخ پہ ذوالنورین نے جھٹکا کھا کے اس کی جانب دیکھا جو آنکھیں میچے انجیکشن لگوانے کے بعد اپنا بازو مسل رہی تھی۔
“ایک انجیکشن پہ اتنا کون چیختا ہے؟” اس کی حیرانگی اس وقت اپنے پیک پہ تھی، تبھی وہ پوچھے بنا نا رہ سکا۔
“تمہاری بیوی۔” ڈاکٹر ارتضیٰ کے برجستہ جواب پہ زحلے جو آنکھیں کھولے اس کی جانب دیکھ رہی تھی گھبراتے ہوئے فوراً پلکیں جھکا گئی جبکہ وہ اس کی گرتی پلکوں کی حرکت گہری نگاہوں سے تکنے کے بعد ڈاکٹر ارتضی کی جانب متوجہ ہوا جو اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“آپ ریسٹ کرو ابھی۔” زحلے کو دوبارہ سے ہدایت دینے کے بعد وہ ذوالنورین سے معمول کے چند جملے بولنے کے بعد کمرے سے نکلے تو کمرے میں ایک دفعہ پھر سے وہی تاثر رقص کرنے لگا جو زحلے کے اعصاب پہ بھاری پڑ رہا تھا۔
“ریسٹ کیجیے فی الحال مس ابراہیم کیونکہ مجھے ہمیشہ چاق و چوبند دشمن پہ وار کرنے میں لطف آتا ہے اس لیے کل سے حساب کتاب شروع کروں گا۔” اس کی میڈیسن اور سکون آور انجیکشن کے زیرِ اثر بند ہوتی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے اس نے سپاٹ لہجے میں کہا لیکن وہ بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اس کی بات کو صحیح سے سمجھ نہ سکی تھی۔
کیونکہ ڈاکٹر ارتضیٰ جان بوجھ کے اسے ایسی میڈیسن دے کے گئے کہ وہ ذوالنورین میر کے اس ‘زخمی روپ’ سے برسوں سے واقف تھے۔
اس لیے وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ روپ زحلے ابراہیم دیکھے۔
تبھی وہ گرم لوہے کو پرسکون کرنے کے لیے اس لمحے ایک مناسب بندوبست کر کے جا چکے تھے۔
دوسری جانب گزشتہ بہت سی راتوں کی مانند اس کی یہ رات بھی کھلی آنکھوں میں تمام ہونی تھی جبکہ صوفے کی پشت پہ سر ٹکائے زحلے زخمی وجود لیے پرسکون نیند کے زیرِ اثر گہری سانسیں لے رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھری سیٹر صوفے پہ رہبان سے چند انچ کا فاصلہ بنائے وہ محتاط سی گود میں لیپ ٹاپ لے کے بیٹھی ‘گردیزی ہاوس’ کے مکینوں سے محوِ گفتگو تھی۔
“بھائی نے گفٹ کیا دیا ہے آپ کو؟” زمل جو سب سے زیادہ اسی بابت جاننے کو بے تاب تھی اس نے تیسری دفعہ اپنا سوال دہرایا تو مائرہ بیگم کی بات سنتی آبگینے کا ربط پھر سے ٹوٹا۔
“خدا کے لیے زمل، ہمیں پہلے بات تو کر لینے دو، یہ ندیدوں کی طرح گفٹ بعد میں دینا لینا تم۔” مشعل جو مائرہ کے ساتھ بیٹھی اس سے بات کر رہی تھی وہ زمل کے بیچ میں ٹوکنے پہ بری طرح تلملائی۔
“دس منٹ سے مسلسل آپ لوگ باتیں ہی کر رہی ہیں۔” زمل نے روہانسے انداز میں جواب دیا تو ان سب کی نوک جونک پہ مسکراتی آبگینے نے اپنی کلائی سکرین کے سامنے کرنی چاہی جب اس کے ساتھ بیٹھے رہبان نے سرعت سے اس کی کلائی اپنی گرفت میں لے کے واپس صوفے پہ رکھی۔
“بھئی یہ مصنوعی کیمروں میں آپ سب لوگ میری مسز کے گفٹ کو اسے پہنے دیکھ کے کیسے سراہ سکتے ہو۔اس لیے گفٹ کی رونمائی ہمارے آنے پہ ہو گی۔” اس کی کلائی کو گرفت میں لیے وہ اپنے مخصوص بلنٹ انداز میں بولا تو آبگینے نے گردن گھما کے کھا جانے والی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“یوں مت دیکھیں، میری مما روایتی ساس ثابت ہوئیں تو بیٹے کو ایسے گھورنے پہ بہو کے خلاف محاذ کھول لیں گی۔” اس کی نگاہوں کو محسوس کر کے اس نے اپنی چمکتی نگاہیں اس کی آنکھوں میں گاڑھتے ہوئے اسی انداز میں کہا تو جہاں گردیزی ہاوس کے افراد کا بلند قہقہہ گونجا تھا وہیں وہ بدتمیزی، ڈھٹائی اور بے شرمی کے عظیم مظاہرے پہ جیسے شرم سے ڈوب مرنے کو تیار تھی۔
“رہبان!تنگ نہیں کرو میری بیٹی کو۔” سائرہ بیگم نے آبگینے کے خجل چہرے کو دیکھتے ہوئے بیٹے کو تنبیہ کی تو اس نے سعادت مندی سے سر خم کیا۔
“جی بہتر،میں ان کو تنگ کرنے کی جرات کیسے کر سکتا ہوں بھلا۔” فرمانبرداری سے کہتے ہوئے اس نے واپس صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی تو آبگینے پرسکون سی سانس خارج کرنے کے بعد واپس ان لوگوں کی جانب متوجہ ہوئی ہی تھی کہ ایک دم سے اس کا سانس رکا تھا۔
ساتھ بیٹھے رہبان کی مضبوط انگلیاں بڑی خاموشی کے ساتھ سرسراتی ہوئیں اس کی کمر پہ رینگتی اس کی سانسوں کے ردھم کو متاثر کر رہی تھیں۔
“بھابھی آپ نے جواب نہیں دیا؟” عدن نجانے اس سے کیا پوچھ رہی تھی جو اس کے چپ ہونے پہ اس نے دوبارہ اسے پکارا تو وہ چونکی۔
“او۔۔ہاں سوری میں۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔” اس کی پکار پہ سنبھلتے ہوئے اس نے اسے جواب دینا چاہا جب اس سرسراتی ہوئی انگلیاں اس کے پہلو پہ پہنچیں تو اس کے ہونٹوں سے بڑی بے ساختگی میں مدہم سی چیخ بلند ہوئی۔
“اپنی ساس کو سمجھائیے مسز کہ اگر ان کا بیٹا آپ کو تنگ نہیں کرے گا تو پیر سائیں کو پرنانا کیسے بنائے گا اور ان کے اپنے گھر میں قلقاریاں کیسے گونجیں گی؟” سبھی اپنی اپنی بولی بول رہے تھے اس لیے آبگینے کی مدہم سی چیخ کسی کے نوٹس میں نہ آئی تبھی وہ نامحسوس انداز میں اس کی جانب جھکا اور بے باکی سے الفاظ ادا کرتا وہ اس کے ہتھیلیاں نم کر گیا جبکہ خوبصورت چہرہ اس کے الفاظ پہ جیسے بھاپ چھوڑنے لگا۔
“م۔۔مجھے آپ لوگوں کے ساتھ رہنا ہے۔ آپ رہبان سے کہیں مجھے آپ لوگوں کے پاس چھوڑ دیں۔” اس کے کہے الفاظ نے اس کی حالت اس قدر غیر کر دی تھی جبکہ لہجے سے چھلکتی اٹل بے باکی نے اس قدر خوفزدہ کر دیا تھا کہ وہ اچانک ہی بہت بے ربط سے انداز میں بولتی ناصرف ان لوگوں کو بلکہ ساتھ بیٹھے رہبان کو بھی حیران کر گئی۔
“ہمارے ساتھ ہی رہنا ہے آپ نے ہمیشہ۔یہ تو آپ کے گھومنے پھرنے کے دن ہیں نا تو انہیں انجوائے کر لو بعد میں ایسے موقع کہاں ملتے ہیں۔” سائرہ بیگم نے سنبھلتے ہوئے اس آکورڈ سی سچویشن کو توڑنے کی کوشش کی۔
“ن۔۔نہیں میں یہاں بور ہو چکی ہوں۔مجھے واپس آنا ہے۔” وہ جو یہ چاہتی تھی کہ رہبان اسے واپس پیر حویلی چھوڑ آئے کیونکہ وہ اس رسم کے خاتمے کے لیے رہبان یا اس کے گھر والوں کو کسی تکلیف کا شکار نہیں کر سکتی تھی۔
وہ اپنے گھر والوں کو جانتی تھی کہ اپنی روایات و اقدار سے ٹکرانے والوں کے ساتھ وہ کس قدر بھیانک انداز میں پیش آتے تھے اور رہبان نے تو انہیں دی بھی بڑے کڑے انداز میں تھی شکست اس لیے وہ واپس جانا چاہتی تھی۔
لیکن گزشتہ چند ہی دنوں میں اس کی قربت میں بتائے گئے پلوں میں اس شخص کی بے باکی اور شدت کے اس قدر عظیم مظاہرے دیکھ چکی تھی کہ اب وہ چاہتی تھی کہ پیر حویلی نہ سہی وہ اسے کم از کم اپنے گھر ضرور لے چلے تاکہ وہاں شاید وہ سب کی موجودگی کے باعث اپنی بے باک اور ڈھیٹ حرکتوں سے باز آ جائے تبھی وہ اس وقت بول اٹھی تھی۔
“اچھا ٹھیک ہے۔رہبان آبگینے ٹھیک کہہ رہی ہے بہت دن ہو چکے ہیں اس لیے بہو کو لے کے گھر واپس آ جاو اب آپ۔ویسے بھی بی جان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔” اس کی گھبرائی ہوئی شکل دیکھ کے سائرہ بیگم نے رہبان کو ہدایت دی تو اس نے فقط سر ہلانے پہ اکتفا کیا۔
اور پھر چند ایک بات کرنے کے بعد انہوں نے کال بند کی تو آبگینے سے فورا سے پیشتر وہاں سے اٹھ کے بھاگنا چاہا لیکن مضبوط گرفت کے باعث وہ قدم بھی نہ اٹھا سکی۔
اس کے بازو کو گرفت میں لیے اس نے اسے واپس اپنی جانب کھینچا تو سیدھی اس کی آغوش میں جا گری۔
“یہ ‘پیر حویلی’ جانے کا ورد کرتے ہونٹوں نے ‘گردیزی ہاوس’ جانے کا کیونکر کہہ دیا؟” ایک ہاتھ اس کے گرد حائل کیے دوسرے ہاتھ کی مضبوط انگلیوں سے اس کے ہونٹوں کو چھوتے ہوئے اس نے طنزیہ لہجے میں کہا تو اس کے مضبوط ہاتھوں کی شوخ جسارتوں پہ اتھل پتھل ہوتی دھڑکنوں پہ بمشکل قابو پاتے ہوئے اس نے پوری ہمت مجتمع کرتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔
“کیونکہ گردیزی ہاوس جانے کی صورت میں پیر سائیں خود ہی مجھے لے جائیں گے۔” اس نے اپنے ہونٹوں کو جنبش دیتے ہوئے جی کڑا کے جواب دیا تو وہ بے ساختہ ہنس دیا۔
“یار۔۔۔۔۔۔!” ہنستے ہنستے اس نے اسے زور سے اپنے ساتھ بھینچا تو وہ اپنی اس قدر چبھتی ہوئی بات کے جواب میں اس ردعمل پہ جیسے بھونچکا رہ گئی۔
“آپ معصوم ہو یا بیوقوف، آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کے پیر سائیں سے ‘ڈر’ کے یہاں آپ کو لیے چھپ کے بیٹھا ہوں؟” اس کو یونہی سینے سے لگائے اس نے محظوظ انداز میں استفسار کیا تو اس کی گرفت میں مچلتی آبگینے نے سلگ کے اس کی جانب دیکھا۔
“بالکل!” وہ اپنی باتوں سے اسے سلگانا چاہتی تھی کہ شاید وہ کسی طریقے ہی ہار مان کے اسے واپس بھیج دے۔
“اوپسس!واقعی اس ڈر نے تو نیندیں اڑا رکھی ہیں میری۔” اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے معنی خیز انداز میں کہتے اپنی بائیں آنکھ دبائی تو اس کے لہجے کی ذومعنویت سمجھتی وہ سر تا پا سرخ رنگوں میں نہا گئی۔
“ایک نمبر کے بیکار اور بے شرم انسان ہیں آپ۔اگر کل تک آپ مجھے اپنے گھر یا میرے گھر نہ لے کے گئے تو میں یہاں سے بھاگ جاوں گی۔” پوری قوت سے لگا کے اس کی گرفت سے آزادی حاصل کرتی وہ بلند آواز میں اسے وارن کرنے کے بعد تیزی سے واشروم میں گھس گئی۔
“شادی جیسی خرافات کے اسی لیے سخت خلاف تھا میں کیونکہ شادی کے بعد انسان کے ساتھ بہت سارے ‘بے’ لگ جاتے ہیں جیسے بے شرم، بے باک، بے کار، بے غیرت وغیرہ وغیرہ۔” وہ وہیں صوفے پہ بیٹھا عادتاً بڑبڑاتے ہوئے اپنی ٹھوڑی کھجانے لگا۔
“خیر، مسز کا طعنہ دل کو جا لگا ہے اس لیے سسر صاحب!اب جنگ آمنے سامنے ہو کے لڑتے ہیں، زیادہ مزہ آئے گا۔” صوفے سے کھڑے ہوتے ہوئے وہ قدرے بلند آواز میں کہتا سیٹی کی شوخ سی دھن بجاتے ہوئے کچن کی جانب بڑھ گیا۔
کیونکہ اسے اس وقت چائے بنانی تھی کہ اس کی ‘مسز’ کو چائے بہت پسند تھی۔
یہ اور بات تھی کہ اس کے ہاتھ کی بنی چائے آبگینے نے ان دس بارہ دنوں میں ایک دفعہ بھی نہیں پی تھی۔
مگر اس کے باوجود وہ اس کے لیے روز چائے بنایا کرتا تھا کیونکہ اسے امید تھی کہ
کسی روز چائے کا بنا کپ وہ ضرور تھامے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کالج سے جب وہ اپنے ٹائم پہ باہر نکلی تو غیرمتوقع طور پہ سامنے اسی کی گاڑی کھڑی تھی جسے وہ کم از کم اس وقت بالکل دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔
مگر خود پہ ضبط کرتے ہوئے اس نے قدم آگے بڑھائے اور کھلے دروازے سے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گئی۔
“مجھے آج کے بعد کالج لینے یا چھوڑنے مت آئیے گا ضرغام چاچو۔” اس کے گاڑی سٹارٹ کرنے کے بعد اس نے دوٹوک لہجے میں اسے وارن کیا جس کی ساری توجہ ونڈ اسکرین پہ مرکوز تھیں۔
“شہرے آج کے بعد مجھے چاچو مت بلائیے گا۔” اسی کے انداز و الفاظ کے ساتھ اس کی سپاٹ آواز گونجی تو شہرے کے سر پہ لگی تلووں پہ جا بجھی۔
“مجھے شوق بھی نہیں ہے آپ کے ساتھ کوئی رشتہ جوڑنے کا۔” وہ اس ہرگز ہرگز بھی اس کی بات کا مطلب نہیں سمجھی تھی۔
اسے بس یہی لگا کہ شاید وہ نہیں چاہتا کہ وہ اسے مخاطب کرے اس لیے اس نے اسے ‘چاچو’ بولنے سے منع کیا تھا تبھی وہ تڑخ اٹھی تھی۔
جبکہ اس کے کہنے پہ اس نے ایک جھٹکے سے گاڑی سڑک کنارے روکی تو وہ اس کی اس حرکت پہ حیران ہوتی اس کی جانب مڑنے ہی والی تھی جب اس نے اس کے بازو کو اپنی نرم گرفت میں لیتے ہوئے اس کا رخ اپنی جانب موڑا۔
“جو رشتہ آپ کا مجھ سے جڑ چکا ہے وہ آپ کے نا ماننے سے ختم نہیں ہو جائے اور دوسری بات۔۔۔۔۔۔” اس کے بازو کو گرفت میں لیے وہ قدرے اس کی جانب جھکا سنجیدگی سے بولتے بولتے تھما تو اس اچانک قربت اور خود پہ پڑتی اس کی سانسوں کی تپش پہ اپنی سانسیں تک روک کے بیٹھی شہرے ٹھٹھکی۔
“میں آپ کا ‘چاچو’ ہرگز نہیں ہوں اور جو ہوں اسے خاموشی سے سمجھ لیں کیونکہ میرا سمجھایا گیا کم از کم آپ ابھی برداشت نہیں کر سکتیں۔” اس نے اسی سنجیدگی سے اپنی بات مکمل کی تو اس کے الفاظ کے مفہوم سمجھتی شہرے کو پل میں اپنے وجود سے جان نکلتی محسوس ہوئی۔
وہ بے ساختہ اس سے فاصلہ بڑھاتی ہوئی اپنا بازو اس کی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کرتی آنکھوں میں خوف، غصہ، نمی اور تنفر جیسی ملی جلی کیفیات لیے اسے تکنے لگی تو اس کی نم ہوتی آنکھوں کو دیکھ کے اس نے گہری سانس بھر کے اس کے بازو اپنی گرفت سے آزاد کیا۔
اس سب کے بعد شہرے جو بہت کچھ کہنے کا سوچ کے اس گاڑی میں بیٹھی تھی وہ اس کی اس حرکت اور اس کے الفاظ پہ اس قدر بے یقین و گم صم ہو چکی تھی کہ بقیہ راستہ وہ کچھ بھی نہ بول سکی۔
جبکہ دوسری جانب اپنی بائیں ہتھیلی میں ہنوز اس کے نرم بازو کا لمس محسوس کرتا وہ گاڑی کی سپیڈ بڑھا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب سے شور کے باعث کے باعث اس کی گہری نیند میں خلل پڑا تو اس نے آنکھیں مزید میچتے ہوئے کروٹ بدلنی چاہی تو مارے درد کے اس کی نیند بھک سے اڑی تھی۔
نیند سے بوجھل آنکھیں کھولتے ہوئے اس نے اردگرد کا جائزہ لینا چاہا جب سپاٹ سی مردانہ آواز پہ اس کے حواس پوری طرح سے بیدار ہوتے اسے تلخ حقیقت کی وادیوں میں پٹخ گئے۔
“مس ابراہیم، میرا خیال ہے کہ آپ کی نیند پوری ہو چکی ہو گی اس لیے اٹھ کے اب ٹیوٹر پلس بیوی ہونے کی زمہ داریاں نبھائیں۔” اس کی سپاٹ آواز پہ وہ جلدی سے سیدھی ہوئی تو بے آرامی سے سونے کے بعد گردن میں اسے درد محسوس ہوا لیکن اسے نظرانداز کرتی وہ فورا اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی وہ نیند کے خمار سے سرخ ہوتی آنکھوں میں استفسار کے رنگ لیے اسے دیکھنے لگی۔
“مجھے واشروم لے کے جائیں مجھے فریش ہونا ہے۔” اس کے کہے پہ اسے کمرے کی چھت خود پہ گرتی محسوس ہوئی۔
“م۔۔میں،۔واشروم؟؟” اس یوں پوچھا گویا کہ اسے تختہ دار پہ چڑھنے کو کہہ دیا ہو۔
جاری ہے۔
