No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
اس نے چادر سے جھلکتی آنکھوں میں حیرت سموئے اس کی پھیلی ہوئی ہتھیلی کو دیکھا۔
“تھام لیں قسم سے کرنٹ بالکل نہیں مارتا۔” اس کی حیرت پہ چوٹ کرتے ہوئے وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ خفیف سی ہو گئی۔
“میں اکیلی چل سکتی ہوں۔” اپنی خجالت مٹانے کو وہ سنجیدگی سے کہتی ایک قدم آگے بڑھی جب اس کی آواز پہ قدم تھم گئے۔
“لیکن میں نہیں چل سکتا نا، میرے زخم درد کریں گے۔” اس کے کہنے پہ اس نے فورا گردن گھما کے مسکارے سے بوجھل پلکیں اٹھائیں تو اسے لگا وہ وہیں کھڑے ان نینوں کی دلکشی میں ڈوب گیا ہے۔
“تو گاڑی سے یہاں کس کے سہارے چل کے آئے ہو؟” اس کے طنز پہ اس نے بمشکل مسکان روکی۔
“خود کو تکتی آپ کی ان مخمور آنکھوں کے سہارے۔” اس کے گھمبیر لہجے میں دیے گئے برجستہ جواب پہ اس کی پھیلی آنکھوں میں پہلے حیرت، پھر خفگی اور پھر یکایک شرم کے رنگ چھا گئے جبکہ ان بدلتے رنگوں کی دلکشی میں کھوتا وہ دو قدم مزید اس کے نزدیک ہوا۔
“کیا خیال ہے پھر سے نہ بھاگ جائیں؟” اس کے بے حد نزدیک آ کے ٹھہرتا وہ اس کے چادر میں چھپے سجے سنورے وجود کو تکتے ہوئے سرگوشی نما آواز میں بولا تو اس کی بے باکی سے شرم محسوس کرتی وہ چڑی۔
“آپ کی سوچ کس قدر گینگسٹر ٹائپ ہے، لڑنا، مارنا، ذلیل کرنا، بھاگنا، گولیاں مارنا اور کھانا یہی آپ کے کام ہیں۔” چڑے ہوئے شاکی لہجے میں کہتے ہوئے اس نے چاروناچار ہتھیلی اس کی ہاتھ میں دی کیونکہ وہ جانتی تھی جب تک وہ اس کے ہاتھوں میں ہاتھ نہ دے گی وہ اسے لیے یونہی کھڑا رہے گا۔
اس کے نازک ہاتھ کو بہت ہی نرمی سے دباتے ہوئے وہ اس کے ہم قدم ہوتا ان کی جانب بڑھا۔
صدر دروازے کو ہلکا سا پش کرتے ہوئے جیسے ہی انہوں نے اندر قدم رکھنا چاہا ایک دم سے پھولوں کی برسات ان پہ ہونے لگی۔
“مسز!ان سب کو روک لیں، میں تو آپ کے اس کیل کانٹوں سے لیس خوبصورت سراپے کی ادھوری سی جھلک سے ہی بہک چکا ہوں اب یہ سب مل کے میرے جذبات کو مزید مت ابھاریں۔” پھولوں کی برسات کے بیچ وہ ہلکا سا اس کی جانب جھکتا سرگوشی کے سے انداز میں بولتا اس کا دل دہلا گیا۔اس کی گرفت میں مقید اس کا نازک ہاتھ کپکپا سا گیا۔
اس نے حیا کے احساس سے بوجھل ہوتی پلکیں اٹھا کے دیکھا تو ہال کا نقشہ مکمل طور پہ بدلا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
فریش پھولوں کی لڑیوں،بیلونز اور لائٹنگ کی وجہ سے اسے بہت خوبصورت سی لک دی گئی تھی۔
بی جان آگے بڑھیں اور ان دونوں پر سے پیسے وار کے ملازمہ کو تھمائے۔
“بی جان!آپ کو میرے خیال میں صدقہ فقط آبگینے کا ہی اتارنا چاہیے تھا کیونکہ ساتھ کھڑا آپ کا پوتا جس طرح اس کو گھور رہا ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔” ان سے قدرے فاصلے پہ وہ صوفے پہ بیٹھا فورک سے پائن ایپل کھاتے ہوئے ان لوگوں پہ نظریں جمائے بولا تو رہبان سلگ اٹھا۔
“اور یہ بات کون کہہ رہا ہے؟ جس کی خود کی دو دو بیویاں ہیں۔” اس کے جوابی حملے کا اس پہ کوئی خاطر خواہ اثر نہ ہوا بلکہ وہ یونہی اطمینان سے بیٹھا اپنے کام میں مگن رہا۔
“اللّٰہ پاک تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے، پوتو پھلو دودھو نہاو۔” آبگینے کی پیشانی چومتے ہوئے انہوں نے دعا دی تو اس کا سر شرم سے مزید جھک گیا۔
“لالہ!اب تو آپ کا اتنا گرینڈ ویلکم بھی کر دیا ہے، اب تو دکھا دو کہ بھابھی کو کیا گفٹ دیا تھا؟” آبگینے کے چہرے سے چادر ہٹا کے اسے رہبان کے ساتھ صوفے پہ بٹھا کے ان دونوں کی ڈھیروں تصاویر لینے کے بعد وہ مشعل بے صبرے پن سے بولی تو باقی سب نے بھی اس کی تائید میں شدو مد سے سر ہلایا۔
“آج آفیشلی رخصتی ہوئی ہے میری بیوی کی، وہ آج ہی تو میرے ساتھ رخصت ہو کے اپنے سسرال میں اینٹر ہوئی ہے تو دے دوں گا آج گفٹ بھی تو دیکھ لینا۔” اس کی معصومیت کے اس مظاہرے کو کسی نے بھی اتنا پسند نہ کیا کیونکہ سبھی جانتے تھے کہ یہ معصومیت کس قدر ڈھونگ تھی۔
“اور وہ جو ہنی مون کے نام پہ دو مہینے ان آفیشلی رخصتی کے گزار کے آئے ہو، وہ کیا تھے؟” ایسے برجستہ حملے اس وقت ضرغام ہی کر سکتا تھا کیونکہ بہت کم ہوتا تھا جو رہبان جیسا شخص قابو میں آئے۔
“اب میں تم لوگوں کو اپنے شب و روز کا حساب دیتا اچھا تھوڑی لگتا ہوں؟” گدی کھجاتے ہوئے وہ مسکراہٹ دبا کے بولا لیکن اس سے پہلے کہ کوئی مزید کچھ کہتا حماد گردیزی اور رضا گردیزی کے آنے پہ ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔
“آپ دونوں ہاسپٹل سے ڈسچارج لینے کے بعد کہاں گئے تھے؟” ان دونوں کو دعاوں سے نوازنے کے بعد اپنی اپنی نششت سنبھالتے ہوئے رضا گردیزی بولے تو رہبان نے چونک کے انہیں دیکھا جن کے چہرے کی سنجیدگی بتا رہی تھی کہ وہ کسی حد تک تو اس کے کارنامے سے واقف ہو ہی چکے ہوں گے۔
“پیر سیداں۔” اس نے بھی بات گھما پھرا کے کرنے کی بجائے کھل کے جواب دیا تو اس کے اس جواب پہ لڑکیوں کے جھرمٹ میں سر کو جھکائے بیٹھی آبگینے نے ایک جھٹکے سے گردن اٹھا کے اس کی طرف دیکھا لیکن اس وقت اس کی ساری توجہ اپنے چچا کی طرف مبذول تھی۔
“وجہ پوچھ سکتا ہوں؟” ان کے سنجیدہ انداز پہ نجانے کیوں اسے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔
“اس سے بڑی وجہ کیا ہو گی کہ وہ میرا سسرال ہے۔” اس کے مطمئن انداز میں دیے گئے جواب پہ جہاں ضرغام نے مسکراہٹ دبانے کا جلدی سے پائن ایپل کا آخری پیس منہ میں رکھا وہیں باقی سب اس کو دیکھ کے رہ گئے۔
“مل آئے سسرالیوں سے؟” دونوں چچا بھتیجا اس وقت گویا باقی سب سے انجان بنے اپنے سوال و جوابات میں مصروف تھے جبکہ مارے پریشانی کے آبگینے کے دل کو گویا پتنگے سے لگ گئے تھے۔
“نا، آج اپنے آنے کی خوبصورت سی اطلاع دے کے آیا ہوں۔ملنے کے لیے پھر کسی دن چلا جاوں گا سیدھا ہی ‘پیر حویلی’۔” اس نے بھی بھرپور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا یہ اور بات تھی کہ آنکھوں کی چمک اور شرارت اس کے لہجے کی سنجیدگی کو مات دے رہی تھی۔
“یہ کیا باتیں کر رہے ہو تم لوگ؟رہبان تم ‘پیر سیداں’ کیوں گئے تھے؟تم جانتے ہو نا کہ وہاں ابھی جانا تم لوگوں کے لیے کتنا خطرناک ہے۔” ان دونوں کی اس سوال و جوابات والی گیم کو بی جان کی متفکر آواز نے منقطع کیا تو دونوں چونکے تھے۔
“جی بی جان۔” اب بی جان سے تو وہ ایسے برجستگی کا مظاہرہ کرنے سے رہا اس لیے مختصراً کہہ کے بات ختم کر دی۔
یہ اور بات تھی کہ اب اس ختم ہوئی بات نے آبگینے کو اس قدر بے چین کر رکھا تھا کہ وہ جو کئی گھنٹوں سے یہ دعا مانگ رہی تھی کسی بہانے آج وہ رہبان کے ساتھ کمرے میں جانے سے بچ جائے لیکن اب وہ ہی یہ دعا کر رہی تھی کہ جلد از جلد کمرے میں پہنچیں تاکہ وہ اس سے اس کی بابت دریافت کر سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ کیا بکواس ہے؟کس نے کیا یہ سب؟” ان سب سے دور ‘پیر سیداں’ کی حدود میں واقع پیر حویلی والوں کی ذاتی شوگر مل میں کھڑے جعفر سائیں بلند آواز میں دھاڑے۔
“سائیں!ہم کچھ نہیں جانتے۔مشینیں بالکل ٹھیک کام کر رہی تھیں لیکن پھر اچانک بجلی بند ہونے کے بعد جب آدھ گھنٹے بعد کنکشن ٹھیک ہوا تو دیکھا کہ مشینیں الیکڑک کرنٹ کے باعث جل چکی ہیں۔” تجربہ کار مینیجر نے ان کے انداز پہ بوکھلاتے ہوئے بمشکل جواب دیا تو ان کا تنفس مارے غصے کے بھڑک اٹھا۔
اسی لمحے طلال لمبے لمبے ڈگ بھرتا بہت تیزی کے ساتھ ان کی جانب چلا آیا۔
“آج دن میں یہاں ضرغام ملک اور رہبان گردیزی کے آنے کی خبر ملی تھی آپ کو؟” آتے ساتھ ہی جلی ہوئی مشینوں پہ ایک بنا نظر ڈالے بغیر وہ خطرناک سنجیدگی کے ساتھ باپ سے مخاطب ہوا۔
“نہیں۔” ان کی لاعملی پہ اس کے چہرے پہ غیض و غضب بڑھ گیا جبکہ آنکھیں بھی گویا غصے کی شدت سے دہک اٹھی تھیں۔
“وہ کمینہ انسان آج بہت دیدہ دلیری سے اپنے اسی دوست کے ساتھ ہمارے علاقے میں آیا تھا اور یہ سب بھی اسی کا کارنامہ ہے۔” اچانک ہی وہ بلند آواز میں گرجا تو انہیں گویا سانپ سونگھ گیا۔
لیکن چند لمحوں کے بعد وہ سنبھلتے ہوئے شاکڈ انداز میں گویا ہوئے۔
“ایسا کیسے ممکن ہے؟علاقے میں ہر طرف ہمارے آدمی پھیلے ہوئے کتوں کی مانند اس کی بو سونگھ رہے ہیں، ایسے میں وہ یہاں کیسے آ سکتا ہے اور آنے کے بعد ہماری ہی فیکڑی کو کیسے نقصان پہنچا سکتا ہے؟” ان کا شاک اب اشتعال میں بدل رہا تھا۔
“آپ کے آدمیوں کو وہ چکما دے کے اپنی کمینگی دکھا گیا ہے۔ پہلے اس نے ہماری عزت پہ وار کیا، پھر چچا سائیں کو جیل میں ڈالا اور اب یوں ہمارے ہی علاقے میں گھس کے ہمارا نقصان کیا ہے۔اس کے جرائم کی فہرست بڑھتی جا رہی ہے اس لیے اب آپ صبر کریں کیونکہ اس کو زک پہنچانا آپ کے رکھے ان آدمیوں کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ میں خود اسے اس جگہ سے زک پہنچاوں گا کہ وہ سالوں یاد رکھے گا۔” آنکھوں میں نفرت اور انتقام کی بھڑکتی آگ لیے وہ سرد لہجے میں بولا تو جعفر سائیں نے توجہ سے اسے دیکھا۔
“کیا کرنا چاہتے ہو تم؟” انہوں نے اس کے ارادے جاننے چاہے۔
“اسے اُسی کے انداز میں جواب دینا۔” اس نے نپے تلے انداز میں کہتے ہوئے ایک نظر ناکارہ ہوئی مشینوں پہ ڈالی تو اندر لگی آگ مزید بھڑک اٹھی۔
“پتہ چلا کچھ کہ اس رات اسے بچا کے ہاسپٹل لے جانے والا کون تھا؟” انہیں اچانک یاد آیا تو واپس پلٹتے طلال کو پکارا۔
“نہیں لیکن آپ فکر نہیں کریں اُس کا بھی پتہ چل جائے گا اور چچا سائیں کا بھی کیونکہ اب تُرپ کا پتہ میرے ہاتھ میں ہے۔” پرتپش انداز میں کہتے ہوئے وہ تیز قدموں سے چلتے ہوئے باہر نکل گیا۔
جبکہ اندر سلگتے ہوئے جعفر سائیں پیر سائیں کو کال ملانے لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سُن ہوئے دماغ کے ساتھ وہ ان کے کمرے کے بند دروازے کے سامنے کھڑی تھی۔
اس کا دماغ ابھی تک شازمین میر کے کیے گئے ہولناک انکشاف کی زد سے باہر نہ نکلا تھا۔
ایسے کیسے ممکن تھا کہ وہ شخص جو اِسے کچھ نہیں سمجھتا جسے اس نے ایک انتقامی کاروائی کی بدولت اپنی زندگی میں شامل کیا تھا اس سے اپنی ماں کے لیے التجا کرتا رہا ہے ایسے میں وہ کیسے مان لے کہ اپنی ماں کی اس حالت کا ذمہ دار بھی وہی ہے۔
دماغ میں ڈھیروں سوالات کا بوجھ لیے اس نے ہولے سے دروازے کو دھکیلا تو حسبِ معمول منظر دیکھ کہ اس کے دل کو تکلیف ہوئی۔
آج وہ بیڈ پہ نیچے کو پاوں لٹکا کے بیٹھی ہوئی تھیں جبکہ پیروں سے بندھی زنجیر کے باعث ان کے سفید زخمی پیر ایک دفعہ پھر سے سرخ ہو رہے تھے۔
وہ بے ساختہ آگے بڑھی۔
“آپ پاوں کو حرکت نہ دیا کریں نا ورنہ آپ کے پہلے والے زخم بھی خراب ہو جائیں گے اور نئے زخم بھی آئیں گے۔” ان کے پیروں کے پاس بیٹھتے ہوئے اس نے ان کے پیروں کے سرخ حصے کو سہلاتے ہوئے گویا ان کی تکلیف کم کرنے کی کوشش کی۔
“تم پھر آ گئی ہو؟چوڑیاں لائی ہو؟” وہ گزرے ان دنوں میں روز ان کے پاس آ کے بیٹھتی تھی۔اس کا یہ فائدہ ہوا تھا کہ انہیں اس سے انسیت سی ہو گئی تھی۔
“جی۔کیسی ہیں؟” بمشکل مسکراتی وہ یونہی گھٹنوں کے بل ان کے پیروں میں بیٹھی ان کے سامنے دونوں کلائیاں کرتی استفسار کرنے لگی۔
“یہ بہت پیاری ہیں۔” کپکپاتے ہاتھوں کی انگلیوں سے اس کی چوڑیوں کو حرکت دیتے ہوئے وہ آہستگی سے گویا ہوئیں تو وہ چوڑیوں کی کھنکھناہٹ کے ساتھ ان کی آنکھوں کی چمک کو بڑھتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
اور اسی چمک کو دیکھتے ہوئے اس نے جھجھکتے ہوئے اپنے سر سے دوپٹہ سرکاتے ہوئے کھلے بال نکال کے اپنی پشت پہ بکھیرے تو اس نے دیکھا کہ ان کی خوبصورت آنکھوں کی چمک دوبالا ہو گئی ہے۔
“ی۔۔یہ۔۔۔” بولنے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے بایاں ہاتھ اس کے کھلے بالوں کی طرف بڑھایا اور ان کی نرمی محسوس کرنے لگیں۔
“آنٹی!نین کہاں ہے؟” وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ‘نین’ کسے بلاتی تھیں لیکن یہ نام وہ اکثر پکارتی تھیں اس لیے انہیں اپنے بالوں کے ساتھ مگن دیکھ کے اس نے ہولے سے استفسار کیا۔
“نین؟” ایک ہاتھ اس کی چوڑیوں سے بھری کلائی پہ رکھے دوسرے ہاتھ سے اس کے بال سہلاتے ہوئے وہ پل بھر کے لیے سوچ میں پڑی تھیں۔
“ہاں، نین۔” اس نے ان کے چہرے کو دیکھتے ہوئے اپنے لفظوں پہ زور دیا۔
“وہ۔۔وہ میرے لیے یہ لینے گیا ہے۔مجھے یہ اچھی لگتی ہیں۔” انہوں نے ذہن پہ زور ڈالتے ہوئے گم صم سے لہجے میں جواب دیا تو اس کا دل گداز ہونے لگا۔
“وہ واپس نہیں آیا؟” اس نے اپنا اگلا سوال پیش کیا۔
“نہیں۔وہ نہیں آتا۔” اس نے دیکھا کہ یکایک ان کی آنکھوں کی جوت ایک دفعہ پھر سے بجھ گئی تھی۔
تبھی اس نے چادر مکمل طور پہ سرکا کے اپنے بال اپنے کندھوں پہ بکھیرتے ہوئے ان کے دونوں ہاتھ تھامے۔
“آپ کو نین کی دلہن چاہیے؟وہ آپ کے لیے اپنی دلہن لینے نہیں گیا کیا؟وہ آپ کو اچھی لگتی ہے کیا؟” اسے یہ بھی یقین نہیں تھا کہ آیا اس کا شوہر ہی نین ہے یا کوئی اور لیکن اُس نے اسے کہا تھا کہ جا کے کہو نین کی دلہن ہوں تبھی اس نے اگلے مرحلے کی جانب بڑھنے کا سوچا۔
“نین کی دلہن؟” وہ ایک دفعہ پھر سے سوچوں میں گم ہو چکی تھیں۔
“ہاں نین کی دلہن، جو چوڑیاں پہنتی ہو، بال کھول کے رکھتی ہو اور تیار رہتی ہو۔” ان کے کمزور ہاتھوں پہ اپنے ہاتھوں کا نرم سا دباو بڑھاتی وہ مدہم انداز میں بولتی ہنوز ان کے پیروں کے پاس ہی گھٹنوں کے بل براجمان تھی۔
“ہاں، ہاں۔مجھے نین کی دلہن لینی ہے۔” انہوں نے اس کی بات سن کے بچوں کی طرح شد و مد سے سر ہلاتے ہوئے جواب دیا تو وہ تھوک نگلتے ہوئے آر یا پار ہونے کے لیے لفظ جمع کرنے لگی۔
“م۔۔میں نین کی دلہن ہوں۔” سر جھکاتے ہوئے اس نے اللّٰہ کا نام لے کے اس رسک میں پاوں گھسا ہی لیے۔
“یا اللّٰہ پاک اگر یہ نین کوئی اور ہے ‘ذوالنورین میر’ نہیں ہے تو مجھے معاف کر دیجیے گا۔” اس نے ساتھ ہی فوراً دل ہی دل میں اللّٰہ پاک سے معافی بھی طلب کر لی کہ کہیں انجانے میں کسی نامحرم کے ساتھ اپنا رشتہ نہ جوڑ رہی ہو۔
جبکہ اس کی سوچوں کے برعکس اس کی بات سن کے ان کا چہرہ یوں سپاٹ ہوا گویا کسی پتھر کی مورت کا ہو۔
“جھوٹ بولتی ہو تم۔” اس کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ کھینچتے ہوئے انہوں نے طیش سے اسے پرے کو دھکیلتے ہوئے اونچی آواز میں کہا تو ان کے اس ردِعمل پہ وہ پل بھر کے لیے سہم سی گئی۔
“جاو یہاں سے تم، جھوٹ بولتی ہو۔میرے نین۔۔نین کو دور لے گئی ہو مجھ سے اور اب۔۔اب جھوٹ بولتی ہو۔” اچانک ہی وہ گویا اپنے حواسوں میں نہ رہیں اور اسے ایک دفعہ پھر سے پرے دھکا دیا تو وہ اپنے توازن برقرار نہ رکھی اور لڑکھڑاتی ہوئی پرے کو گر گئی جس کے باعث اس کا رخسار پہ مندمل ہوتا زخم ایک دفعہ پھر سے لہو چھلکانے لگا۔
“آپ۔۔آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔میں آپ کے نین کی دلہن ہوں۔یہ دیکھیں مجھے۔” اپنی پوری ہمت جتاتی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوتی ان کے سامنے اپنی کلائیاں کرتی ہلکا سا گھومی تو اس کے رخسار پہ بہتے خون کو دیکھ کے گویا وہ ہِل سی گئیں۔
“وہ۔۔وہ خون؟” انہوں نے یکسر بدلے ہوئے لہجے میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو درد کی شدت کو بمشکل برداشت کرتی مسکرائی۔
“کچھ نہیں ہوا ہے۔آپ یہاں مجھے دیکھیں۔میں سچ میں آپ کے نین کی دلہن ہوں۔” اس نے بہت ہمت سے ان کے پاس بیٹھتے پہ بیٹھتے ہوئے ان کا چہرہ اپنی طرف موڑتے ہوئے اپنے الفاظ پہ زور دیا۔
“تم نین کی دلہن ہو؟” اس کی طرف دیکھتے وہ کھوئے کھوئے لہجے میں کہتی اس کے چہرے اور گردن کو چھونے لگیں تو نجانے کیوں لیکن اسے پل یوں محسوس ہوا کہ اُس دشمنِ جان کے گستاخی پہ مائل لب اس کے چہرے اور گردن پہ رقص کر رہے ہیں۔
اور یہی احساس پل میں اس کے چہرے کو فطری حیا کے رنگوں سے دہکا گیا۔
اور شاید یہی رنگ تھے جنہوں نے اس کے سامنے بیٹھی حواس الباختہ عورت کی آنکھوں کو چمک سے بڑھ دیا۔
وہ آگے بڑھیں اور اسے سینے سے لگا لیا۔
“نین کی دلہن ہو۔نین بھی آئے گا۔چو۔۔چوڑیاں بھی، پھول بھی۔” عجیب بے ربط سے الفاظ بولتے ہوئے وہ اس کی کلائیوں اور کھلے بالوں کو دیکھنے لگیں۔
اسی لمحے دروازے پہ دستک کی آواز سن کے جہاں وہ چونکی تھی وہیں اس نے دیکھا کہ وہ سہم گئی ہیں۔
“میڈم!اب آپ پلیز باہر چلی جائیں۔ہمیں میڈم کو چینج کروانا ہے، میڈیسن دینی ہے۔” دروازہ کھول کے اندر آتی ملازمہ روبوٹک انداز میں بولی تو اس نے ایک نظر انہیں دیکھا جو اس کے ہاتھ کو دبوچے بیٹھی تھیں۔
“میں چینج کروا دیتی ہوں ان کو۔” اس نے ان کے چہرے کی سراسیمگی دیکھتے ہوئے کہا۔
“نہیں۔اس کی ہمیں اجازت نہیں ہے۔” اس نے دوٹوک لہجے میں جواب دیا تو وہ گہری سانس بھر کے رہ گئی کیونکہ وہ ابھی سے اپنی من مانی کر کے ان کے لیے کوئی مشکلات نہیں پیدا کرنا چاہتی تھی تبھی ان کے ہاتھ ہولے سے چومتی حسبِ معمول کلائی سے چوڑیاں اتار کے ان کے پاس رکھتی باہر نکل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں پھیلی زرکاری روشنی میں وہ صوفے پہ بیٹھا دونوں ٹانگیں سامنے میز پہ پھیلائے اپنی گود میں لیپ ٹاپ دھرے اپنے کام میں مسلسل مگن تھا جب اس نے محسوس کیا کہ اس کے ساتھ والے صوفے پہ وہ آ کے براجمان ہوئی تھی۔
“کچھ کہنا چاہتی ہو؟” چند ثانیے اس کے بولنے کا انتظار کرنے کے بعد وہ خود ہی اپنے مخصوص سنجیدگی سے لبریز بھاری لہجے میں گویا ہوا۔
“ہاں۔” اس نے یک لفظی جواب دیا تو اس نے لیپ ٹاپ کی سکرین سے نظر ہٹا کے اسے دیکھا گویا بولنے کا اشارہ دیا گیا ہو۔
“جس دن آپ کا نکاح ہو رہا تھا شہرے سے، تب آپ نے یہ کیوں کہا تھا کہ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں؟” اس کے ایسے غیرمتوقع سوال پہ اس کی کی بورڈ پہ تھرتھراتی انگلیاں لحظہ بھر کو تھمیں۔
“تو کیا نہیں کرتا؟” اب کی بار بنا اس کی جانب دیکھتے ہوئے اس نے جواب میں بھی سوال کیا تو وہ اسے دیکھ کے رہ گئی۔
“ہاں لیکن محبت کرنے میں فرق ہوتا ہے۔” اس نے چڑانے والے انداز میں کہتے ہوئے جواب دیا۔
“عجیب منطق ہے آپ کی، محبت میں کون سا فرق آ گیا؟” اس نے اب کی بار بھی لیپ ٹاپ سے نظریں نہ ہٹائی تھیں۔
“ویسا ہی فرق آتا ہے جیسا شہرے کے لیے آپ کی محبت اور میرے لیے آپ کے جذبات میں ہے۔” اس کے ایسے جواب پہ وہ سر تا پا پل بھر کے ٹھٹھک گیا اور پھر ٹھک سے لیپ ٹاپ بند کر کے مکمل طور پہ اس کی طرف متوجہ ہوا۔
“ان بے سروپا باتوں کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟” اس کی سنجیدگی پہ نگاہ گڑبڑائی تھی لیکن ظاہر نہ ہونے دیا۔
“بے سروپا باتیں یہ ضرور ہوتیں جو ان سے تین لوگوں کی زندگیاں نہ وابستہ ہوتیں لیکن اب یہ بے سروپا نہیں ہیں۔” اس نے بھی سنجیدگی سے اسے بہت کچھ باور کروانے کی کوشش کی۔
“چار۔۔چار زندگیاں۔” فوراً سے پہلے اس نے اس کی بات کی تردید کی تو اس کے دو لفظی اس جواب پہ نگاہ کا وجود جیسے برف کے تودے تلے دھنستا چلا گیا۔
“آپ اس چوتھی زندگی کو اس سب میں فراموش کیسے کر سکتی ہیں جبکہ بات تو شروع ہی اسی زندگی سے ہوئی تھی۔” اس نے مزید کہا تو نگاہ کا چہرہ رنگ بدلنے لگا جبکہ کان سائیں سائیں کرنے لگے۔
“ریلیکس، میرا مقصد آپ کو پریشان کرنا نہیں تھا۔” اس کی حالت دیکھ کے وہ لیپ ٹاپ وہیں میز پہ رکھتے ہوئے اٹھ کے اس کے نزدیک ہوا اور اسے اپنے ساتھ لگایا۔
اس کا سہارا ملنے کی دیر تھی کہ وہ اس کے کندھے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔
“نگاہ ریلیکس۔” اس کے بال سہلاتے ہوئے اس نے اسے چپ کروانے کی کوشش کی۔
جو اس کی کوشش پہ تو نہیں ہاں اپنی بھڑاس مکمل طور پہ نکالنے کے بعد چپ ہوتی اس سے الگ ہوئی۔
“گنتی کر لو کہ میری اب تک کتنی شرٹس آپ یوں ہی گندی کر چکی ہو۔” اس کو اس فیز سے نکالنے کے لیے اس نے جان بوجھ کے اپنی گیلی شرٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو وہ جھینپ گئی۔
“اب اتنا تو حق رکھتی ہوں نا۔” روئے روئے سے چہرے اور بھیگی پلکیں لیے خجالت سے کہتی وہ اسے بھی مسکرانے پہ مجبور کر گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“رات بہت ہو گئی ہے، رہبان آپ اٹھو ریسٹ کرو اور مشعل دریہ آپ بھی اٹھو بھابھی کو روم میں چھوڑ کے آو۔” انہیں وہاں بیٹھ کے گپ شپ لگاتے تقریباً آدھی رات گزر چکی تھی اسی لیے مائرہ بیگم نے وہاں آتے انہیں ٹوکا تو ان کے حکمیہ الفاظ پہ ان سے باتوں مگن آبگینے کا دل کانپ اٹھا۔
اس نے درذیدہ نگاہوں سے اسے دیکھا جو صوفے کی پشت پہ ہاتھ پھیلائے، ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے بہت اطمینان سے بیٹھا ہوا تھا۔
“چلیے بھابھی جی۔” آیت نے اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے شرارت سے کہا تو اس کی دھڑکنوں کی رفتار میں اضافہ ہوا۔
“آیت!پہلے اپنے بھائی سے پوچھ لو کہ کہیں وہ خود نہ اپنی بیگم کو کمرے میں لے جانا چاہتا ہو۔” ریحان نے شرارت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو ان سب کی ہوٹنگ پہ وہ بے طرح شرم محسوس جلدی سے بول اٹھی۔
“نہیں، میں خود چلی جاوں گی۔” وہ جلدی سے کہتی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی کیونکہ اس سے کچھ بعید نہ تھا کہ وہ اپنے زخموں کی پرواہ کیے بغیر اسے لیے سیڑھیوں پہ نہ چڑھ جائے۔
“اس نے بھابھی نہیں بھائی سے پوچھنے کا کہا تھا۔” اس کے فوری طور پہ بول اٹھنے پہ وہ تپے ہوئے لہجے میں بولا تو اس کے انداز پہ ناچاہتے ہوئے بھی اس کے ہونٹوں پہ مسکان سی پھیل گئی جس فوراً دباتے ہوئے وہ مشعل، آیت اور دریہ کے ہمراہ تیز ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ بڑھ گئی۔
“گڈ نائٹ۔” اسے دروازے کے پاس چھوڑ کے وہ اسے وش لک دینے کے بعد وہاں سے چلی گئیں تو اس نے پوری طرح سے ہمت مجتمع کرتے ہوئے دروازے کو ہولے سے دھکیلا تو خوشبووں کے ریلے نے اس کا بھرپور استقبال کیا۔
قدم آگے بڑھاتے ہوئے اس نے جونہی کمرے کے اندر قدم رکھا تو نگاہیں تھم سی گئیں جبکہ دھڑکنیں پل بھر کے لیے سست پڑنے کے بعد اس قدر بے لگام ہوئیں کہ ان کی آواز اس کے کانوں میں گونجنے لگی تھی۔
سرخ و سفید فریش پھولوں سے مکمل طور پہ سجا ہوا کمرہ اور بیڈ، سائیڈ ٹیبلز اور میز پہ پڑی کینڈلز، اور کمرے کی سامنے والی دیوار لگا ان کی مظفر آباد میں لی گئی ایک تصویر کا انلارجڈ پورٹریٹ اور کمرے میں پھیلی مدہم سی روشنی حواسوں پہ چھا رہی تھی۔
“ویلکم کو مائی لو لینڈ مسز رہبان گردیزی۔” وہ نجانے کب تک کمرے کی خوبصورتی کے سحر میں ہی جھکڑی رہتی کہ عقب سے آنے والی گھمبیر سرگوشی اور اپنے پیٹ کے گرد حائل ہونے والے مضبوط ہاتھوں کی گرفت نے اسے چونکا دیا۔
اس سے پہلے کہ وہ مڑ پاتی اس نے اس کے گرد گرفت مضبوط رکھتے ہوئے اس کے کندھے پہ اپنے لب رکھے تو اس نے اپنا سانس تک روک لیا۔
“سانسیں نارمل کریں مسز کیونکہ اب آپ ساری رات سانس روک کے تھوڑی رکھیں گی۔” اس کی رکی ہوئی سانس محسوس کر کے اس نے اپنی بیئرڈ کو اس کے رخسار سے رب کیا تو وہ اس کی چبھن سی سسکی۔
“سس۔۔” اس کی مدہم سی سسکی پہ اس نے اس کا لہو چھلکاتا چہرہ دیکھا اور پھر ہولے سے سیدھا ہوتے ہوئے اس کے کندھوں کے گرد لپٹی چادر کو اس کے وجود سے علیحدہ کرنے لگا۔
“رہبان۔۔پلیز۔۔وہ میں میرا مطلب ہے کہ وہ۔۔۔۔۔” اس کے چادر ہٹانے پہ اس کے صحیح معنوں میں چھکے چھوٹے تھے تبھی وہ بوکھلائے ہوئے انداز میں بہت کچھ کہنے کی ناکام کوشش کرتی اس کی جانب مڑی۔
“آج آپ سارے مطالب کو کچھ دیر کے لیے فراموش کر دیں۔” برجستگی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے اس نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تو اس کا دل اپنے ہاتھوں میں دھڑکنے لگا۔
“وہ۔۔وہ پیر حویل۔۔۔” اس نے ایک دفعہ پھر سے کچھ بولنے کی کوشش کی جب وہ اس کے رخسار پہ جھکا۔
“پیر حویلی والوں کو گولی مارو، ان کا دل میری بانہوں میں مقید ہے۔مجھے ان سے کیا غرض۔” مخمور لہجے میں کہتے ہوئے اس نے اب کی بار اس کے اوپری لب پہ بنے تل کو نشانہ بنایا تو وہ بے اختیار ہی اس کے سویٹر کو دونوں مٹھیوں میں بھینچ کے رہ گئی۔
اور اس کی یہی بے اختیاری رہبان کے جذبات کو منہ زور کر گئی تبھی وہ اس کے وجود کو بانہوں میں لیے بیڈ کی جانب بڑھا تو وہ جیسے ہوش میں آئی۔
“رہبان، پلیز میری بات سنو۔۔۔” اس نے اسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا لیکن وہ بہت سہولت سے اس کے لپ اسٹک سے سجے ہونٹوں پہ اپنا ہاتھ رکھتا اس کی گہری آنکھوں میں تکنے لگا۔
“آبگینے ڈونٹ سے آ ورڈ، آپ کو لگتا ہے کہ میں اس وقت اپنے ہوش و حواس میں ہوں کہ آپ کی باتوں کو سمجھ یا سن سکوں۔” گھمبیر لہجے میں کہتے ہوئے وہ اس کی گردن پہ جھکا تو اس کے لمس کی حدت و شدت سے گھبراتے ہوئے اس نے زور سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے خود پہ قابو پاتے کی کوشش کی۔
کیونکہ وہ اب کمرے کی مدہم روشنی بھی گل کیے اس کی میکسی کے بیک گلے کی ڈوری پہ ہاتھ رکھے اسے کھولنے کی کوشش کرتا اس کے وجود پہ مکمل طور پہ چھائے ہوئے اسے خود میں سمٹنے پہ مجبور کر گیا۔
کیونکہ آج اس کے لمس کی شوریدگی و شدت اس کے جذبات, اس کے پیار، اس کے جنون کا پتہ دے رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ سارے ایڈونچرز میرے ساتھ تب ہی کیوں ہوتے ہیں جب میں اکیلی ہوتی ہوں؟” ٹائر پنکچر ہو جانے کی وجہ سے سڑک کنارے رکی ہوئی گاڑی کی بیک سیٹ پہ بیٹھی دریہ افسردگی سے بولی تو آیت اور زمل نے بیک وقت ایک ساتھ اسے گھور کے دیکھا۔
“کیا کہنے تمہارے اکیلے پن کے جو ایک عدد ڈرائیور اور دو خوبصورت دوشیزاوں کے ساتھ ہونے کے باوجود برقرار ہے۔” زمل نے طنزیہ لہجے میں کہا تو وہ خجل سی ہو گئی۔
“میرا مطلب تھا کہ کوئی لڑکا نہیں ہے نا ہمارے ساتھ۔” اس نے فورا اپنی بات کی وضاحت کی۔
“ہاں ان سے تو جیسے تمہاری بڑی بنتی ہے۔” زمل نے دوبارہ چوٹ کی۔
“بنتی تو تمہارے ساتھ بھی نہیں ہے لیکن کیا کریں مجبوری ہے۔چلو آو تھوڑی دیر باہر نکلتے ہیں تب تک ڈرائیور بھی ٹائر کا ارینج کر لے گا۔” اس نے دونوں کو کہا تو وہ بھی اس کی بات کی تائید کرتے اس کے ساتھ باہر نکلیں۔
انہیں گاڑی کے نزدیک ہی کھڑے ہو کے باتیں کرتے پانچ منٹ ہی گزرے ہوں گے جب ایک گاڑی ایک دم سے ان کے پاس آ کے رکی تو وہ چونکیں۔
لیکن ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھے طلال کو دیکھ کہ دریہ کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق جاگی۔
“ارے یہ وہی ہیں جنہوں نے میری فیس کے پیسے دیے تھے۔” اسے گاڑی سے باہر نکلتا دیکھ کے وہ مارے جوش کے قدرے بلند آواز میں گویا ہوئی تو وہ آیت اس کا ہاتھ دبوچ کے اسے چپ ہونے کا سگنل دے گئی۔
“السلام علیکم دریہ؟کیسی ہیں آپ؟” ان کے نزدیک پہنچتے ہی اس نے شائستگی سے استفسار کیا۔
“وعلیکم السلام!جی الحمداللّٰہ۔” اپنی خیریت بتانے کے بعد بنا اس کی خیریت جانے اس نے جلدی سے ان کا آپس میں تعارف کروایا۔
“اس طرح روڈ پہ کیوں کھڑی ہیں؟” اس نے ان دونوں سے سلام دعا کرنے کے بعد استفسار کیا۔
“ٹائر پنکچر ہو گیا ہے۔” اس نے بیزار سے لہجے میں جواب دیا۔
“آپ چاہیں تو میں آپ لوگوں کو لفٹ دے سکتا ہوں۔” اس نے آفر دی جو شاید دریہ فورا قبول کر لیتی اگر جو آیت بروقت اس کا ہاتھ نہ دبوچتی۔
“بہت شکریہ آپ کا، ڈرائیور لگا ہوا ہے ٹائر چینج کرنے میں۔” اس نے مسکراتے ہوئے سہولت کے ساتھ اس کی آفر کو رد کیا تو وہ ہولے سے سر خم کرتا کندھے اچکا گیا۔
لیکن پھر جب تک ڈرائیور ٹائر چینج نہ کر پایا تب تک وہ یونہی ان کے پاس کھڑا رہا اور پھر ڈرائیور کے فارغ ہو جانے پہ وہ انہیں خدا حافظ کہتا اپنی گاڑی کی جانب جبکہ وہ اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گئی۔
“تصویریں میرے نمبر پہ سینڈ کر دو۔” گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس نے ایک نمبر پہ میسج سینڈ کرنے کے بعد گاڑی سٹارٹ کی اور تیزی سے روڈ پہ بھگانے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھلنے کی آواز پہ اس نے سر اٹھا کہ اس کی جانب دیکھا تو نگاہ اگلے ہی پل ٹھہر سی گئی۔
“ادھر آئیں۔” اس کے حکمیہ لہجے پہ اس نے تیوری چڑھا کہ اسے دیکھا۔
“تم میرے ٹیچر نہیں ہو بلکہ میں تمہاری ٹیچر ہوں اس لیے تم مجھے یوں آرڈر نہیں دے سکتے۔” اس کے یوں پٹاخ سے جواب دینے پہ اس کی پیشانی پہ بل پڑا۔
“آپ شاید یہ فراموش کر جاتی ہیں کہ آپ صرف ٹیچر نہیں میری بیوی بھی ہیں۔” اس نے جتانے والے انداز میں انداز میں کہا۔
“میں دن کے وقت صرف اور صرف تمہاری ٹیچر ہوتی ہوں اس لیے مجھ سے اسی طرح سے مخاطب ہوا کرو اور اسی سے متعلق کام بولا کرو۔” اس کے الفاظ پہ وہ نا جانے کیوں کھل کے ہنس دیا جبکہ اسے یوں ہنستے دیکھ کے وہ جزبز سی ہو گئی۔
“تو مطلب رات میں آپ میری بیوی ہوا کرے گی اور تب میں آپ کو اسی طرح سے مخاطب مثلاً ڈارلنگ، جانم، سویٹ ہارٹ ٹائپ نام لے لے مخاطب کیا کروں اور خدمت بھی آپ سے بیویوں والی لیا کروں؟” اس کی بات کو گھما کے وہ آنکھوں میں پرحدت سی لپک لیے اسے دیکھتے ہوئے جس انداز میں بولا زحلے کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا۔
“ت۔۔تم۔۔۔۔” شرم اور غصے نے بیک وقت اس پہ اتنا زور آور حملہ کیا تھا کہ وہ کچھ بول بھی نہ سکی تھی۔
“یہ زخم مما کی وجہ سے آیا ہے؟” اس کے رخسار پہ پھسلتے خون کو دیکھ کہ اس نے اب کے یکسر بدلے ہوئے لہجے میں استفسار کیا تو زحلے کی آنکھوں میں چبھن سی اتری۔
“نہیں، اس زخم کی وجہ تو تم ہو، آنٹی نے تو فقط اس بات کو ماننے سے انکار کیا ہے کہ میں اُن کے نین کی کچھ لگتی ہوں۔” سرد مہری سے کہتی وہ اسے دیکھنے لگی جس کا چہرہ ہمیشہ طرح پھر سے سرد تاثرات کے جمود تلے دب چکا تھا۔
“لیکن مزے کی بات پتہ کیا ہے؟مجھے آج اس زخم کے ادھیڑنے سے بھی تکلیف نہیں ہوئی کیونکہ جو شخص اپنی ماں کو اس حالت میں پہنچا سکتا ہے اس کے لیے کسی انجان کو تکلیف پہنچانا کون سا مشکل کام ہے۔” اس نے اسی انداز میں اس کی جانب دیکھتے ہوئے پرتپش لہجے میں تنفر سے کہا تو اس کے وجود گویا ہوا میں معلق رہ گیا۔
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتا جو آج اس کے دیکھنے پہ نگاہ چرانے کی بجائے انہی چبھتی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی اور یہ شاید ان آنکھوں کی بدگمانی تھی جنہوں نے اسے بولنے پہ مجبور کیا تھا۔
“آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں، میں ہی وجہ ہوں ان کی ہر ایک تکلیف کی، ان کی اس کا حالت کی۔” مدہم لہجے میں بولتے ہوئے وہ اس کی سانسیں تک کھینچ گیا۔
ماضی:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے وہ نیچے اتر رہا تھا جب سامنے سے سیڑھیاں چڑھتی آتی شہرے کو عجلت کے باعث نہ دیکھ سکا اور اس کی یہی بے خبری ان کے اچانک تصادم کا باعث بن گئی۔
“آہہہہ!” وہ جو اپنے دھیان کے دھاگوں میں الجھی اس افتاد پہ اپنا توازن کھوتی یقیناً پیچھے کو الٹ جاتی جو وہ بروقت اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے اسے اپنی جانب کھینچ نہ لیتا۔
ایک ہاتھ ریلنگ پہ رکھتے اس نے بمشکل اپنے قدم جماتے ہوئے دوسرا ہاتھ پیچھے کو الٹتی شہرے کی کمر کے گرد حائل کیا اور ایک جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ سیدھی اس کے کشادہ سینے سے آ لگی۔
جاری ہے۔
