No Download Link
Rate this Novel
Episode 49
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#49;
“کیا مطلب؟اتنی ایمرجنسی میں رخصتی؟” آغا جان سمیت ان کے سبھی بیٹے اتنی ہی بے یقینی اور حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔
جو رات کے ساڑھے گیارہ بجے انہیں اکٹھا کیے اپنی رخصتی کا فیصلہ سنا رہا تھا۔
“ایمرجنسی میں ہوئے نکاح کی رخصتی اتنی ہی ایمرجنسی میں ہوا کرتی ہے۔” اس نے بہت سکون سے کہتے ہوئے سفید شرٹ کے کالر میں اٹکی سیاہ ٹائی مزید ڈھیلی کی۔
اس کے لفظوں کے برعکس اس کی حالت و اطوار خاصے ڈھیلے ڈھالے لگ رہے تھے۔
“جو ردِ عمل تمہارا نکاح کے وقت تھا ایسے میں اس قدر ایمرجنسی سمجھ سے بالاتر ہے اور وہ بھی نگاہ کو طلاق دینے کے اتنے قلیل عرصے کے بعد ہی؟” آغا جان نے ماتھے پر پرسوچ بل کیے پوتے کو دیکھا جو گہرے سمندر کی مانند بظاہر ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا تھا۔
“میں نے شہرے کو جب اپنانا چاہا تھا تب عزت و جان کے لالے پڑے ہوئے تھے کسی کو۔ اس کے بعد جب میرے ساتھ نگاہ منسلک ہو گئی تھی ایسے میں جب شہرے ایک مینٹل ٹراما سے گزر رہی تھی اسے یہ دھچکا دینا کہ اچانک شادی کرنی ہے تمہاری۔اور میں جو اسے ایک اعزاز کی طرح قبول کرنا چاہتا تھا مجھے یہ اذیت مار رہی تھی کہ وہ سیکنڈ چوائس بن کے مجھ تک آ رہی ہے اور ہمیشہ یہی سوچے گی کہ اسے صرف عزت بچانے کو اپنایا گیا ہے اس لیے میں نے انکار کیا تھا کہ بات ہمارے گھر کی حد تک رہے اور شہرے کے ریلیکس ہونے تک دب جائے۔مگر بدقسمتی یہ ہے کہ بات نکلی تو پھیلتی چلی گئی اور میں جو اسے زک نہیں پہنچانا چاہتا تھا میں ہی اس سب کی وجہ بن گیا۔” باتیں چونکہ اب رفتہ رفتہ سب کے سامنے لانا ضروری ہو چکا تھا اس لیے اب کی بار ردو کد کا مظاہر کرنے کی بجائے اس نے صاف بات کی تھی۔
“وہ ٹھیک ہے لیکن پھر نگاہ کا کیا قصہ ہے؟ اس سے نکاح؟پسندیدگی؟رخصتی؟اور اب اچانک ڈائیورس؟” احمد صاحب نے اس کی بات کے جواب میں سنجیدگی سے استفسار کیا۔
تو آغا جان نے بھی تائیداً سر ہلایا اور اس کے جواب کے منتظر ہوئے۔
“نگاہ سے نکاح بہت ضروری تھا لیکن دل کی چاہت نہیں۔نگاہ مجھے پسند ہے میں پیار کرتا ہوں اس سے۔آج بھی بھرے مجمعے میں اسے گلے لگا سکتا ہوں لیکن یہ چاہت شہرے کی چاہت جیسی ہرگز نہیں ہے اور یہ بات نگاہ جانتی ہے۔ باقی جو بھی اس کے متعلق آپ لوگوں کے ذہن میں سوالات ہیں ان کے جوابات ڈیڈ سے لیں کیونکہ ان کے ہی پرسنل ملازم کی اس گھر میں موجودگی کی وجہ سے پہلی دفعہ یہ بلیک میل ہوئے تھے اور اسی وجہ سے نگاہ کی رخصتی بھی ایمرجنسی میں کروانی پڑی کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھا رہا تھا۔” اس کی سنجیدہ آواز میں اس وقت بے حد سرد تاثر چھایا ہوا تھا۔
“یہ سب کیا کہہ رہا ہے اسد؟” آغا جان نے رخِ روشن بیٹے کی سمت کیا جو اپنی وکالت کے دوران کبھی کسی سے بلیک میل نہ ہوا تھا۔
پھر اب یہ کیا تھا۔
“بابا صاحب!ندیم بیگ سفیر سائیں کا آدمی ہے۔” انہوں نے بے حد مختصر انداز میں کہتے ہوئے اپنے پرسنل ملازم کا حوالہ دیا۔
اور یہاں آغا جان کچھ پل کے لیے چپ رہ گئے۔انہیں اندازہ ہوا کہ جو شخص گھر میں برسوں رہا ہو۔وہ گھر کی خواتین اور رازوں کے متعلق کس قدر گھٹیا پن پہ اتر سکتا ہے۔یہ سبھی امیجن کر سکتے تھے۔
“تو اس کا مطلب ہے کہ نگاہ سے تمہاری شادی اور بعد میں محبت چاہت رخصتی یہ سب دکھاوا تھا؟” احمد صاحب نے سیدھے سبھاو سے استفسار کیا تو اب کی بار اس نے فقط سر اثبات میں ہلانے پر اکتفا کیا۔
“واہ کیا جگرا ہے بھتیجے!جو لڑکی بچپن کا عشق ٹھہری اس سے نکاح والے دن اپنی پہلی منکوحہ کی رخصتی ڈنکے کی چوٹ پر کروائی تاکہ دشمنوں کو احساس کروایا جا سکے کہ وہی پہلی و آخری محبت ہے۔لیکن اس سب میں یہ کیوں بھول گئے کہ وہ اس وقت ایک دوسرے کی سوتنیں تھیں۔” انہوں نے اس کی طرف دیکھتے اب کی بار ہلکی سی شگفتگی سے کہا تو حاضرین کے چہروں پہ دبی دبی سی مسکان پھیل گئی تھی۔
“بندہ بشر ہو۔ایسی سنگین غلطی کر بیٹھا تھا کیونکہ مجھے لگا تھا کہ جتنا لگاو ان دونوں کا ہے کام چل جائے گا لیکن کام اتنا اچھے سے چلا ہے کہ نگاہ کو ڈائیورس دینے کے جرم میں ایک عادی مجرم کی مانند تاحال کٹہرے میں کھڑا کر رکھا ہے آپ کی چہیتی نے۔” کچھ جنجھلائے ہوئے انداز میں بولتے ہوئے اس نے بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ماتھے پہ پھسل کر گرتے ہوئے بال پیچھے سیٹ کیے۔
“اتنی جلدی رخصتی کے لیے سب کو ایگری کیسے کرو گے؟” آغا جان نے اس موضوع کو سمیٹتے ہوئے اب کی بار سنجیدگی سے پوتے کی جانب دیکھا جو انہیں بہت پیارا تھا۔
جس نے نہایت فہم اور خوش اسلوبی سے ان کے بزنس کو بلندیوں تک پہنچایا تھا لیکن اپنی ذاتی زندگی میں اس کی ذات ایک الجھاو کا شکار رہی تھی۔
“یہ ایگری کریں گے نا آپ کے بڑے صاحبزادے۔ جیسے برسوں پہلے مجھے شہرے سے شادی نہ کرنے کے لیے زبردستی منایا۔پھر کچھ عرصہ پہلے اُسی کے ساتھ نکاح کے لیے زبردستی منایا۔اب یہی زبردستی رخصتی کے لیے کر دیں۔بہت سوں کا بھلا ہو جائے گا۔” اسد صاحب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اس نے پرسکون لہجے میں کہا تو بیٹے کی اس لافشانی پہ اسد صاحب نے کٹیلی نگاہوں سے اسے گھورا۔
لیکن کچھ کہنے کی بجائے ملک صاحب کی جانب دیکھتے ہوئے ایک مبہم سا اشارہ انہیں کیا۔جسے دیکھ کے وہ قدرے شانت ہو گئے۔
ان دونوں کے اشارے کنائیے سمجھنے کے بعد وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور عادتاً بالوں کو انگلیوں سے سنوارتے ہوئے کمرے کی دہلیز پار کر گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہولناک سی خاموشی چھائے اس کمرے میں فقط ان تینوں نفوس کے سانس لینے کی آواز آ رہی تھی۔
مگر محسوس ہو رہا تھا کہ یہ عمل بھی اس لمحے کس قدر بھاری پڑ رہا تھا۔
ایسے میں ساجدہ بیگم نے اپنے بکھرتے اعصاب سنبھالتے ہوئے وحشت زدہ سے لہجے میں استفسار کیا۔
“یہ ک۔۔کیا کہہ رہے ہو تم؟پیر سائیں کو جانتے ہو نا؟” ان کے لہجے میں اس وقت بیٹے سے زیادہ بیٹی کی جان اور اس کی زندگی کے متعلق خوف جھلک رہا تھا۔
“اماں سائیں!میں پورے ہوش و حواس میں کہہ رہا ہوں یہ سب۔ کیوں ایک بے وجہ و بے مقصد بات کے پیچھے ایک دشمنی کی لڑی کو جنم دے رہے ہیں آپ لوگ۔ آبی کی شادی ہوئی اس کے شوہر نے ہماری رسم کو توڑا ہے ٹھیک ہے لیکن جب رسم ٹوٹ گئی ہے اور وہ اپنے گھر خوش و خرم ہے تو پھر اس سارے تماشے کی کیا ضرورت ہے؟” ساجدہ بیگم اور جعفر سائیں کے ردعمل سے وہ اس لمحے خاصا جھنجھلا چکا تھا۔
“تمہارے چچا سائیں اس کی کسٹڈی میں ہیں۔” جعفر سائیں نے اپنے تئیں دشمنی کے لیے ایک وجہ دی۔
“وہ اپنے جرائم کی وجہ سے ہیں۔کسی لڑکی کو کڈنیپ کر کے ہراس کرنا اور اس کی تصاویر کو پبلک میں آوٹ کرنا کوئی چھوٹا جرم نہیں ہے۔اس کے علاوہ ان کے جرائم کی فہرست آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں بابا سائیں اس لیے اس قصے کو مت چھیڑیں۔ رشتہ داری اور اصول و نوکری یہ دونوں الگ ہی رہیں تو بہتر ہے۔” اس نے بہت مدلل انداز میں ان کی یہ وجہ بھی رد کی۔
“تمہیں لگتا ہے کہ تم پیر سائیں کو لاعلم رکھ کے اتنا بڑا قدم اٹھا سکتے ہو؟” اماں سائیں تو خاموش بیٹھیں باپ بیٹے کا مکالمہ سن رہی تھیں۔
جو وہ دونوں صوفے پہ مقابل بیٹھے ایک دوسرے کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کر رہے تھے۔
“وہ اس سب سے باخبر ہو کے بھی کچھ نہیں کریں گے کیونکہ انہیں اپنے تئیں اس کھیل کو چلانے کے لیے مہرہ مل رہا ہے لیکن آپ سے میں یہ بات کلیئر کر رہا ہوں کہ دریہ کو کسی نے اپنے کسی گھٹیا کھیل کا حصہ بنایا تو میں بھول جاوں گا کہ میں اس خاندان کا حصہ ہوں۔” مضبوط مگر سپاٹ لہجے میں بولتے ہوئے اس نے بات مکمل کی تو اماں سائیں کے چہرے پہ اطمینان جھلکنے لگا۔
جیسے بیٹے کی ثابت قدمی اور لہجے کی مضبوطی نے دل کو سکون پہنچایا ہو۔
“تمہیں لگتا ہے کہ وہ سر پھرا ایس پی کل کی تاریخ میں تمہاری زندگی کا فیصلہ ہونے دے گا؟” کچھ یاد آنے پہ جعفر سائیں نے روکھے لہجے میں پوچھا تو اس نے گردن گھما کے ان کی جانب دیکھا۔
جن کا چہرہ یہ واضح کر رہا تھا کہ رہبان گردیزی کو یوں داماد کے روپ میں دیکھنا، برداشت کرنا اور اس کے ساتھ ہمکلام ہونا اسے خاصا ناگوار گزرے گا۔
“اس سر پھرے ایس پی سے اجازت کون لے رہا ہے؟آبی کے سسر اور دریہ کے فادر سے میری بات ہو چکی ہے اور میں ساری بات کلیئر کر چکا ہوں۔پیر سائیں یہاں موجود نہیں ہیں مجھے کل یہ نکاح کرنا ہے۔” اس کا اطمینان قابلِ دید تھا۔
کیونکہ اُس دن گردیزی پیلس سے نکلنے کے بعد اسے حماد گردیزی اور دانیال صاحب نے بلایا تھا تب اس نے بہت واشگاف انداز میں اپنی دلی خواہش اور پیر سائیں کے اختلافات کے متعلق آگاہ کیا تھا۔
دوسری جانب وہ لوگ بھی اس دشمنی کو ختم کرنا چاہتے تھے کہ بیٹا اور بہو اپنے آنے والے بچوں کے ساتھ کھل کے بنا کسی انجانے خوف کے زندگی بسر کریں۔یہی سوچ کے انہوں نے طلال کا پرپوزل ایکسیپٹ کر لیا تھا۔
“کیا وہ بچی راضی ہے اس رشتے کے لیے؟” کافی دیر کی خاموشی کے بعد اچانک اماں سائیں کے اس سوال پہ وہ چند ثانیے کے لیے چپ سا کر گیا۔
کیونکہ اس سوال کا جواب وہ نہیں جانتا تھا اور بدقسمتی سے اس سارے دورانیے میں اس نے اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔
تبھی کچھ سوچ کے اس نے ایک گہری سانس بھری اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“بہت شکریہ اماں سائیں لیکن میں اس بچی کی رضامندی معلوم کر کے آپ کو آگاہ کر دوں گا۔مگر آپ کل کے نکاح کی تیاری کریں۔” ماں کا سر چوم کے وہ بڑے ڈھیلے قدموں سے چلتا ہوا ان کے کمرے سے نکلا تو اس وقت صبح کے دس بج رہے تھے۔
رسٹ واچ پہ پرسوچ نگاہیں ٹکائے اس کا دماغ بہت سے تانے بانے بن رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑی وہ اپنے کھلے بالوں میں برش کرتی ہوئی شیشے سے نظر آتے رہبان کے عکس کو بھی وقتاً فوقتاً دیکھ رہی تھی۔
جو بیڈ کراون کے ساتھ پشت ٹکائے ایک ٹانگ گھٹنہ موڑھے بیڈ پہ دھرے جبکہ دوسری ٹانگ نیچے لٹکائے نیم دراز سی کیفیت میں پڑا موبائل کے ساتھ مصروف تھا جبکہ کشادہ پیشانی پہ نمودار ہونے والے بل بتا رہے تھے کہ طبیعت پہ بہت کچھ اس وقت ناگوار گزر رہا ہے۔
“کمینہ، سالا، الو کا پٹھ۔۔۔۔۔” ایک دم سے اس کے گھنی مونچھوں تلے پیوست لب کھلے اور وہ جو اس کی دلکش آواز کی اسیر تھی۔
اس کے منہ سے غیر متوقع طور پر ایسے الفاظ سن کر ششدر رہ گئی۔
“آپ گالیاں نکال رہے ہیں؟” آدھے بال کمر پہ پھینکے آدھے بال بائیں ہاتھ میں لیے وہ برش ان میں اٹکائے اس کی جانب مڑتے بے یقینی سے بولی۔
تو موبائل کو گھورتے رہبان نے چونک کے اس کی جانب دیکھا جو سیاہ رنگ کے سلک کے ٹراوزر کے ساتھ لوز سی گھٹنوں سے قدرے اونچی سیاہ شرٹ جس میں سفید ڈاٹس بنے ہوئے تھے وہ پہنے اپنے قدرے بھاری سراپے کے ساتھ حیرت سے اسے تک رہی تھی۔
“گالیاں؟میرا دل کر رہا ہے میں اس کمینے کے ابھی جا کے دانت توڑ آوں۔” لہجے میں اگرچہ گویا آگ بھڑک رہی تھی لیکن اس کے دلکش سراپے کو دیکھتی خوبصورت آنکھوں میں خماری کے رنگ چھانے لگے تھے۔
“گالیاں نہیں دیں یوں میرے سامنے۔” اس کی آنکھوں کے بدلتے رنگوں سے آشنا ہوئے بغیر وہ خفگی سے بولی تھی۔
“ڈارلنگ! ایک پولیس والے سے گالیوں کی امید نہ رکھنا تو ایسے ہے جیسے شاہ رخ خان سے رومانس کی امید نہ رکھنا۔” اس نے بڑے شاطرانہ انداز میں بات کا رخ اس طرف موڑنا چاہا جہاں اس وقت اس کا دل مچل رہا تھا۔
جبکہ اس کی ایسی مثال پہ آبگینے کی آنکھوں میں الجھن کے رنگ یوں تیزی سے چھائے کہ رہبان ان اترتے چڑھتے معدوم ہوتے رنگوں کا عاشق ہونے لگا تھا۔
“یہ کیسی مثال ہے بھلا اور یہ شخص کون ہے؟” حویلی کے ماحول میں انہیں کم از کم ایسی آزادی ہرگز نہ تھی کہ وہ کسی ایکٹر یا مرد کے متعلق آگاہ ہوتی۔اس لیے اس کی لاعلمی ہرگز چونکانے کا باعث نہیں تھی۔
“یہ میرے ٹائپ کی مثال ہے۔مثال کو چھوڑیں بس میرے پروفیشن کے ساتھ میرے منہ سے نکلنے والے ان ناگوار الفاظ کو بھی کبھی کبھار برداشت کر لیا کریں اور۔۔۔۔۔” اپنے مخصوص دلکش لب و لہجے میں بولتے ہوئے وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کی طرف بڑھا۔
“اور جہاں تک بات ہے اُس شخص کی تو اسے اور اس کے رومینس کو گولی ماریں۔یہاں میری طرف دیکھیں جس کا رومانس آپ کو ایسے دیکھ کے ٹھاٹھیں مارنے لگا ہے۔” نچلے لب کا کونہ ہونٹوں میں دبائے وہ مچلتی مسکان کو کنٹرول کیے اس کے بالکل سامنے کھڑا ہوتا بھاری لہجے میں بولا تو وہ بِدک اٹھی۔
“ہیں؟؟” ہونقانہ انداز میں اسے تکتی وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی تھی کہ اپنے تئیں وہ اس سے ناراض تھی۔
یہ تو بس اس کی گالیاں سن کے چپ نہ رہ سکی تھی۔
“اپنے رومانس اور گالیوں پہ قابو رکھیں آپ۔” بدقت تمام اسے جھڑکنے کے بعد وہ واپس مرر کی جانب مڑنے لگی تھی جب اس نے لپک کے اس کی وہ کلائی تھامی جس میں وہ اپنے بال تھامے ہوئے تھی۔
بیک وقت بالوں اور ہاتھ کو کھنچاو لگنے کی بدولت وہ رکی تھی تبھی اس نے بہت نرمی سے اس کے دوسرے ہاتھ سے برش لیا۔
“میرے رومانس پہ پابندی نہ لگاو مسز، اس کے بدلے بہت اچھی نیوز دے سکتا ہوں تمہیں۔” ایک ہاتھ میں اس کے بال پکڑے دوسرے ہاتھ سے اس میں برش کرتا وہ اس پہ نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔
جس کے گال اس کی نگاہوں کی حدت سے رنگ بدلنے لگے تھے۔
“کیسی اچھی خبر؟” پلکیں اٹھا کے لحظہ بھر کے لیے اس کی جانب دیکھتے اس نے استفسار کیا تو پلکوں کی اس ادا پہ ضبط کھوتا وہ اس کے چہرے پہ جھکا اور اس کی آنکھوں کو اپنے لبوں سے چھوتا سرعت سے سیدھا ہوا تھا۔
جبکہ دوسری جانب ہمیشہ کی طرح اس کی بے شرمی اسے خجالت میں مبتلا کر گئی تھی۔
“دریہ کا نکاح ہے کل۔” اس کے بالوں کو سنوارتے ہوئے اس نے انکشاف کیا تو وہ پوری طرح سے ہِل کے رہ گئی۔
پہلا خیال یہی ذہن میں آیا تھا کہ شاید اس کے بھائی کی پسندیدگی کی وجہ سے یوں آناً فاناً دریہ کا نکاح طے کیا گیا تھا۔
اور یہ خیال اس کے دل کو ایک عجیب سی گھٹن میں مبتلا کر گیا۔اس پر پاس کھڑے رہبان کی موجودگی بھی بھاری پڑنے لگی تھی۔
“ک۔۔کس کے ساتھ؟” ہوا میں معلق ہوتے اعصاب کے ساتھ بمشکل اس نے لب کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے بہت ہی نامحسوس انداز میں اس کی گرفت سے اپنے بال چھڑواتے ہوئے چند انچ کا فاصلہ قائم کیا۔
اس کی اس اچانک حرکت پہ رہبان نے اس کے چہرے کو دیکھا جو چند لمحے قبل شادابیاں چھلکا رہا تھا جبکہ اس وقت وہی چہرہ لٹھے کی مانند سفید ہوا پڑا تھا۔
لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ اس تبدیلی کے طے تک جا پہنچا تھا۔
“طلال کے ساتھ۔” اسے ستانے کے ارادے پہ عمل نہ کرتا ہوا وہ سنجیدگی سے بولا تو اس کی سماعتوں کو جیسے جھٹکا لگا تھا۔
“طلال مطلب بھائی؟مطلب میرے بھائی؟” پوری کی پوری اس کی جانب پلٹتی وہ ہنوز بے یقینی کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔
“میری آخری اطلاعات تک تو وہ آپ کے ہی بھائی محترم تھے۔اب اگر آپ کے والد صاحب نے دو بیویاں رکھی ہوں تو کچھ کہا نہیں جا سکتا۔” کندھے اچکا کے کہتے ہوئے اس کی سنجیدگی کا عالم قابلِ دید تھا۔
لیکن اس وقت وہ اس کیفیت میں تھی کہ اسے اس کی ایسی کسی بات سے فرق نہیں پڑ رہا تھا۔
“اتنی جلدی نکاح؟بابا سائیں اور پیر سائیں مان گئے کیا؟” سوالات کا ہجوم اس وقت اس کے دل و دماغ میں اودھم مچائے ہوئے تھا۔
“پیر سائیں تاحال لاعلم ہیں لیکن آپ کے بابا سائیں اور اماں سائیں رضامند ہیں اور کل وہی اس کے ساتھ آ رہے ہیں۔” سر تا پا اسے نگاہوں کی زد میں رکھے وہ بہت سکون سے اس کے سوالوں کے جوابات دے رہا تھا۔
“آپ۔۔آپ مان گئے؟مطلب کہ یہاں کسی کو کوئی ایشو نہیں ہے؟” اس کے لہجے کی الجھن وہ بہت اچھے سے بھانپ چکا تھا۔
“ہے نا ایشو۔مجھے ہے سب سے بڑا ایشو لیکن اس ایڈیٹ نے میرے سے بات کی ہی نہیں سیدھا ہائی کورٹ میں اپیل درج کی تو فیصلہ اس کے حق میں کر دیا گیا۔” ایک دفعہ پھر سے نجانے کیا کچھ یاد آنے پہ ماتھے کے بل نمودار ہوئے تو آبگینے کے دماغ میں ‘ایڈیٹ’ سن کے جیسے ایک گھنٹی سی بجی تھی۔
“آپ چند لمحے پہلے گالیاں بھائی کو دے رہے تھے؟” آنکھیں سکیڑ کے کہتی وہ بغور اسے دیکھتی متجسس لہجے میں گویا ہوئی۔
“شکر کرو مسز کہ گالیوں پہ اکتفا کیا ہے اگر وہ سالا سامنے ہوتا تو اس کا چوکھٹا سجا دیتا میں۔” دانت کچکچا کے کہتا وہ آبگینے کے چہرے کے شاکی پن کو بڑھا گیا۔
“اپنی زبان تو ٹھیک رکھیں آپ۔” اسے اپنے بھائی کے لیے کہے گئے اس کے الفاظ سخت ناگوار گزرے تھے۔
“آپ اتنے خلاف کیوں ہیں اس رشتے کے جبکہ آپ کو یہ یقین بھی ہے کہ بھائی دریہ سے محبت کرتے ہیں؟” اسے ٹوکنے کے بعد اس نے دماغ میں کلبلاتا ہوا سوال فوراً اٹھایا۔
“کیونکہ میں ان دونوں کے رشتے کو دشمنی کی نذر نہیں کرنا چاہتا۔آپ کے چچا سائیں کے کیس کا فیصلہ ہونے والا ہے اور اس فیصلے کو روکنے کے لیے پیر سائیں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔اور ان کے کچھ بھی کرنے کے چکر میں ان دونوں کو بہت کچھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ وہ کسی ایسے مشکل دور سے گزریں جہاں ان کے لیے چناو مشکل ہو جائے۔ میرا ارادہ تھا کہ اس سارے میس کے بعد ان کی شادی کی جاتی تب تک دریہ کی سٹڈی بھی مکمل ہو جاتی مگر جلد بازی میں تو میرا سالا میرا بھی باپ نکلا۔” تفصیلاً کہتے ہوئے بات کے اختتام میں وہ قدرے بھنا کے بولا تو اس کی باتیں سن کے مضطرب ہوتی آبگینے اس کے آخری الفاظ پہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
اور مختلف کیفیات و تاثرات سے سجے دلکش چہرے پہ چٹختی اس ہنسی کی جھنکار نے اس کے اعصاب پہ خاصا خوش کن تاثر چھوڑا تھا۔
تبھی وہ دو قدم آگے ہوتا اس کے نزدیک ہوا تھا۔
“گڈ نیوز دی ہے آپ کو۔اب دستور کے مطابق منہ تو میٹھا کروائیں مسز رہبان گردیزی۔” اس کے گلابی ہونٹوں پہ اپنی معنی خیز نظریں جمائے وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔
تو لہجے کی گھمبیرتا اور بے باک نگاہوں کا مرکز و حدت اس کی دھڑکنوں کو بڑھا گیا۔
“وہ۔۔وہ باہر جا کے منہ میٹھا ک۔۔۔۔” لاشعوری طور پر پیچھے کو کھسکنے کی کوشش کرتی وہ حیا سے کپکپاتے ہوئے لہجے میں بولی تھی۔
جب اس نے بایاں بازو بڑھا کے اس کی کمر کے گرد لپیٹتے اپنے نزدیک کھینچا اور اس کے کھلے بالوں میں انگلیاں پھنساتے اپنی مرضی و منمانی سے منہ میٹھا کرنے لگا۔
جبکہ اس کی اس گستاخی پہ یکلخت بڑھتی دھڑکنوں سے گھبراتی آبگینے نے زور سے اسے تھامتے ہوئے اپنی آنکھیں سختی سے بھینچ لیں اور اس لمحے کے زیرِ اثر بہتی چلی گئی۔
“دنیا کی ساری سویٹ بیکریز کو آگ لگانی پڑے گی۔” اس کی تھمتی دھڑکنوں پہ رحم کھاتے ہوئے وہ لمحے بھر کو اس سے دور ہٹا اور اس کے کپکپاتے نم ہونٹوں کو وارفتگی سے دیکھتا خمار آلود لہجے میں بولا۔
تو لہجے کی خماری اور بے باکی اس کے روئیں روئیں میں سنسنی سی بھر گئی جس سے بوکھلاتی وہ ایک ہاتھ اس کے ہونٹوں پہ جماتی اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی۔
“رہبان پلیز!میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔” اس کے جذبات سے گڑبڑاتے ہوئے اس نے اپنے تئیں ایک کوشش کی تھی لیکن دوسری جانب اس کے خوبصورت سراپے کو اپنی بانہوں میں بھینچتا وہ بھاری لہجے میں گویا ہوا۔
“ایسی کی تیسی تمہاری طبیعت کی۔” اٹل لہجے میں کہتے ہوئے اس نے اس کی کھلی زلفوں میں چہرہ چھپاتے ہوئے لب اس کی گردن سے مس کیے تو کمرے کی فضا اس کی ان شرارتوں پہ کھلکھلاتی ہوئی اس کی بانہوں میں موجود آبگینے کو اسی میں سمٹنے پر مجبور کر گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوائل دسمبر کے دن تھے اور سورج کی روشنی کالج کے بائیں حصے میں بنے لان پر پھیلتی بہت سکون پہنچا رہی تھی۔
اس پرسکون موسم میں بھی وہ اپنے کزنز کے گھیرے میں بیٹھی منہ پھلائے ہوئے تھی۔
“یار اب اس سب میں ہمارا کیا قصور ہے؟” داود نے اس کی شکل دیکھتے ہوئے بیچارگی سے کہا تو سب نے تائیدی انداز میں سر ہلایا۔
“تم لوگ اس روز اگر چھٹی نہ کرتے تو یہ سب شروع ہی نہ ہوتا۔” وہ فوراً چٹخ اٹھی تھی۔
“اب ہمیں کیا پتہ تھا کہ وہ گھبرو جوان تمہاری روتی اور مانگنے جیسی شکل پہ فدا ہو جائے گا اور پیسوں کے ساتھ تمہیں دل بھی دے بیٹھے گا۔” زمل کے بظاہر بڑی لاچاری سے مگر درحقیقت چھیڑنے والے انداز میں کہنے پر وہ جو غصے سے بھری بیٹھی تھی۔
اچانک داود اور حمدان کی موجودگی کے باعث جھینپ سی گئی اور ایک گھوری زمل پہ ڈالی۔
“بکواس نہیں کرو۔ایسا کچھ نہیں ہوا وہ بس بھابھی کے لیے کر رہے ہیں ایسے۔” اس نے فوراً منہ بناتے ہوئے بات بنانے کی کوشش کی۔
“یہ جس طرح سے تم اس کے رہے ہیں، انہوں، آپ اور دوسرے بھاری بھر کم لفظ استعمال کر رہی ہو۔اس سے لگتا تو نہیں ہے کہ تمہیں اس سے شادی پر کوئی اعتراض ہے۔” حمدان نے اس کی بات کے جواب میں جیسے دور کی کوڑی لائی تھی۔
“میرا بھی یہی ماننا ہے لیکن پھر بھی دل کی تسلی کے لیے ایک دفعہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ، درِمکنون گردیزی صاحبہ!کیا آپ طلال شاہ کی سماعتوں کو اپنی ہنسی کی جھنکار اور اس کی بصارتوں کو اپنے وجود کی تابناکی کے لیے ہمیشہ کے لیے ہمکنار کرنا چاہیں گی؟” دریہ جو حمدان کی بات پہ ‘بکواس نہیں کرو’ کہنا چاہتی تھی عقب سے آتی بھاری مگر خوبصورت آواز پہ کرنٹ کھا کے ایک جھٹکے سے مڑی۔
مگر اس کے ہونٹوں سے نکلنے والے ان الفاظ کو سن کے گویا اپنی جگہ جامد رہ گئی اس مستزاد حمدان اور داود کی موجودگی اور ان سب کی معنی خیز نظریں۔
“دریہ خدا کا واسطہ ہے کوئی مثبت جواب دے دے۔کوئی مجھے ایسے عاشقانہ و شاعرانہ انداز میں پرپوز کرے تو میں لمحے کی دیری کیے بغیر ‘قبول ہے’ بول دوں۔” اس کی خاموشی پہ زمل فوراً اس کے کان میں گھسی اور بلا مبالغہ اس کی کی گئی اس سرگوشی نے وہاں موجود سبھی افراد کی سماعتوں کو مستفید ضرور کیا تھا۔
تبھی وہ ایک جھٹکے سے ہوش میں آتی فوراً اپنی پلکیں جھکاتے ہوئے رخ واپس داود کی جانب موڑ چکی تھی۔
مگر مخصوص سی خوشبو کا ریلہ اس کے بے حد قریب پھیلا اور وہ اس کے ساتھ جڑ کے بیٹھتا اس کی دھڑکنوں میں تلاطم برپا کرنے کا باعث بنا تھا۔
“دیکھیے محترم!اگرچہ ہم سرپھرے ایس پی نہیں ہیں لیکن ایسے اپنے سامنے اپنی جنگلی بلی کو پرپوز کرنے والے کو۔۔۔۔۔” اس کے پاس آ کے بیٹھنے پہ حمدان نے خاصے خشک انداز میں کہتے ہوئے بات کے درمیان وقفہ لیا تو دریہ نے بے ساختہ خوفزدہ انداز میں حمدان اور داود کا سنجیدی چہرہ دیکھا۔
“سات توپوں کی سلامی پیش کرتے ہوئے آنے والے وقت کے لیے بے پناہ نیک تمنائیں دیتے ہیں۔” حمدان کی بات کو داود نے اسی انداز میں مکمل کیا تو جہاں طلال اور زمل کے ہونٹوں پہ مسکان پھیلی تھی وہیں پل بھر کے لیے ہونق ہونے کے بعد وہ جیسے ان پر چڑھ دوڑی تھی۔
“بدتمیز، ایڈیٹ، تمہارا تو آج ہی جا کے رہبان لالہ سے علاج کرواتی ہوں۔” سامنے پڑی فائل اٹھا کے ان دونوں کے سروں پہ مارتی وہ خفگی سے چلائی تھی۔
اس وقت وہ ساتھ بیٹھے طلال کی موجودگی سے بھی انجان ہو چکی تھی۔
“اچھا اچھا سوری۔لیکن اس وقت اس بیچارے کے پرپوزل کا جواب دے دو ورنہ اگر کل نکاح کے وقت اس نے ایسا کچھ کہا تو اتنے لوگوں کے سامنے آکورڈ فیل کرو گی۔” اپنا بچاو کرتے حمدان نے شرارت سے کہا تو وہ خجل سی ہوتی فائل واپس رکھتی سیدھی ہوئی تھی۔
مگر ساتھ بیٹھے طلال کے گھٹنے کے اس کے ٹانگ سے ٹکرانے کے باعث وہ خاصی ان کمفرٹیبل تھی۔
“مجھے کوئی جواب نہیں دینا ہے کسی کو۔اس لیے کوئی مجھے تنگ نہ کرے۔” بنا اس کی جانب دیکھے وہ شاکی لہجے میں بولتی دانستاً توجہ زمل کی طرف مبذول کر گئی۔
“میں اتنے لوگوں کی موجودگی میں اب جواب چاہتا بھی نہیں ہوں۔اس پرپوزل کا جواب کل نکاح کے بعد لوں گا تاکہ اگر تنگ کروں تو جواباً تم کوئی قدغن نہ لگا سکو۔” نامحسوس انداز میں اس کی جانب جھکتے ہوئے اس نے سرگوشی نما انداز میں کہا اور جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
جبکہ اس کے الفاظ اس پہ مستزاد لہجے کا استحقاق اسے پل بھر میں بوکھلا گیا تھا۔
اس نے بے ساختہ سر اٹھا کے اس کی جانب دیکھا جو حمدان اور داود سے ہاتھ ملانے کے بعد سیدھا ہوا تو نگاہوں کا بہت بھرپور انداز میں تصادم ہوا۔
تبھی بڑے جاندار انداز میں مسکراتے ہوئے بائیں آنکھ دباتے ہوئے وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
اب پیچھے وہ تھی اور ان تینوں کی شرارتیں جو اسے کل کے حوالے سے مزید حواس باختہ کیے جا رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت خاموشی کے ساتھ وہ اپنی اور کلثوم میر کی تیاری کروا رہی تھی۔
وہ بہت خاموشی سے یہاں سے جانے کی تیاری کرتی ہوئی اپنا مختصر سا سامان سمیٹ چکی تھی جسے اس نے ایک بڑے سے شولڈر بیگ میں رکھا تھا۔اس کا ارادہ آج کلثوم میر کا چیک اپ کروانے کے بعد انہیں واپس ڈرائیور کے ساتھ پیلس بھیجنے کے بعد خود اپنے گھر جانے کا تھا۔
وہ جانتی تھی کہ یہ رشتہ محض ایک کھیل تھا جو شازمین میر نے ذوالنورین سے بدلہ لینے کے لیے کھیلا تھا اور ذوالنورین میر نے اپنی ماں کی اس کمرے سے بازیابی اور صحت کے لیے رچایا تھا۔
اب تو گویا سارے کام مکمل ہو چکے تھے اور وہ محمل میں لگے ٹاٹ کے پیوند کی مانند یہاں نہیں رہ سکتی تھی جہاں سے کبھی نہ کبھی تو اسے نکال باہر پھینکا جانا تھا اور وہ ذوالنورین میر کی دل لگی کی بدولت خود کو دل کا روگ لگ جانے سے قبل یہاں سے جانا چاہتی تھی۔تبھی آج مکمل تیاری کے ساتھ گھر سے نکلنا چاہتی تھی۔
“دلہن!نین کی مالش کی تھی آج صبح؟” ناشتے کے بعد کلثوم میر نے اچانک استفسار کیا تو وہ گڑبڑا سی گئی۔
“آں۔۔۔وہ۔۔جی کی تھی۔” جھوٹ بولنے کی عادت نہ تھی تبھی زبان لڑکھڑائی تھی۔جبکہ اس کے جھوٹ پہ وہیل چیئر پہ بیٹھے ذوالنورین نے خاصے پرتپش انداز میں اسے گھورا تھا۔
کیونکہ ایسا ایک دن بھی نہ آیا تھا جب اس نے ایسا کوئی کام کیا ہو۔
“نین!ہم ہاسپٹل جا رہے ہیں۔تم بھی چلے چلو۔ایک دفعہ چیک اپ کروا لو۔” کلثوم میر نے ان دونوں کے درمیان کی کشیدگی کو محسوس کیے بغیر جب ذوالنورین کو آفر کی تو وہ بے تحاشا بوکھلا گئی تھی۔
“نہیں۔۔میرا مطلب ہے کہ اس طرح نہیں بلکہ ذوالنورین ڈاکٹر مرتضیٰ کے ساتھ ہوتے اپنا تفصیلی چیک اپ کروائیں تاکہ وہ پراپر گائیڈ تو کر سکیں۔” بروقت دماغ کے کام کرنے پر اس نے بہانہ بنایا تو کلثوم بیگم نے متفقانہ انداز میں سر ہلایا۔
جبکہ وہ ہنوز اسی انداز میں اسے گھور رہا تھا جو ایک بڑا سا بیگ شولڈر پہ ڈالے اب کالی چادر گرے رنگ کے شلوار سوٹ پر اوڑھ رہی تھی۔
“خدا حافظ!” ایک پرملال اور حسرت بھری نگاہ کمرے کے درو دیوار پہ ڈالنے کے بعد اس نے وہیل چیئر پہ موجود ذوالنورین میر کو دیکھا جو اس وقت وہیں بیٹھا تھا جہاں پہلی دفعہ اس کمرے میں آنے پر ان دونوں کا سامنا ہوا تھا۔
اس سے پہلے کہ دل میں اٹھتا درد یا ذوالنورین میر کی خود پہ جمی نگاہیں اس کے پیروں میں زنجیریں ڈالتیں وہ جانے کو پلٹی تھی۔
“کس سے ڈر کے اتنی عجلت دکھا رہی ہیں میڈم۔بے فکر رہیے وہیل چیئر پہ بیٹھا ایک نامکمل انسان ہوں میں۔” اس کی جلد بازی پہ چوٹ کرتا وہ تلخ لہجے میں بولا تو اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔
مگر پیچھے مڑنے کی غلطی کیے بغیر وہ کمرے کی دہلیز پار کر گئی کہ کلثوم میر نیچے جا چکی تھیں۔
پورٹیکو میں کھڑی کار میں بیٹھتی زحلے اپنے ہی غم میں ڈوبی اس بات سے آگاہ ہی نہ ہو سکی کہ آج ڈرائیونگ سیٹ پر وہ ڈرائیور نہ تھا جسے ذوالنورین میر نے ان کے آنے جانے کے لیے مختص کر رکھا تھا۔
اور اس کی یہی بے خبری انہیں ہاسپٹل لے جانے کی بجائے شازمین میر کے ڈرائیور کو بتائے گئے پتے کی جانب لے جانے لگی۔
اور جس لمحے کلثوم میر اور زحلے ابراہیم بخت خان کے اڈے پر پہنچائی گئی تھیں اسی لمحے ولید میر نے سالوں بعد ذوالقرنین میر کی معیت میں ‘میر پیلس’ میں قدم رکھے تھے۔
اور ٹھیک اسی لمحے دریہ گردیزی نے طلال شاہ کے نام خود کو کیا تھا اور مضطرب سی شہرے ملک اپنی ارجنٹ رخصتی کو رکوانے کی خاطر اسد ملک کے سٹڈی روم کی جانب بڑھی تھی۔
جاری ہے۔
