No Download Link
Rate this Novel
Episode 53
“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک
Episode#53(2nd last Episode part 2);
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے یک ٹک سامنے دیکھ رہی تھی جہاں وہ ننگے پیر زمین پہ جمائے سیاہ ٹراوزر اور سیاہ ٹی شرٹ میں ملبوس اس کی طرف سے رخ موڑے ایک ہاتھ سے موبائل کان کے ساتھ لگائے محوِ گفتگو تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں سرمئی رنگ کی مگ موجود تھا جسے وہ وقفے وقفے سے ہونٹوں کے ساتھ لگاتا شاید چائے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
اس کی بے یقین نگاہوں کے لمس کا احساس تھا یا اس کی موجودگی کا خیال جو وہ اچانک بات کرتے ہوئے پلٹا تو ششدر کھڑی زحلے کی نگاہیں اس کے چہرے سے ٹکرائیں جہاں کشادہ پیشانی پہ بال گچھے کی مانند بکھرے پڑے تھے۔
جبکہ خوبرو چہرہ اسے اچانک سامنے پا کے پل بھر کو رنگ بدل گیا لیکن فوراً خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے کال بند کر کے موبائل کان سے ہٹا کے ٹراوزر کی پاکٹ میں گھسیڑا۔
اسے اپنی طرف تکتا پا کے زحلے کی نگاہیں اس کے چہرے سے گردش کرتی ہوئیں اس کے کشادہ سینے سے ہوتی ہوئیں واپس اس کی ٹانگوں اور سپید پیروں پہ مرکوز ہو گئیں جو بہت مضبوطی کے ساتھ زمین پہ جمے گویا اپنی مضبوطی بیان کر رہے تھے۔
اس کے پیروں پہ جمی بے یقین نگاہوں میں یکایک ایک ایک کر کے بہت سے رنگ پہرہ سجانے لگے۔
حیرت!
بے یقینی!
ٹوٹا ہوا مان!
دکھ!
تکلیف!
اور سب سے آخر میں بہت شدت کے ساتھ ان میں ایک تاثر بڑی سرعت کے ساتھ پھیلا۔
غصہ۔۔۔۔!!!
اور غصے کی لہر اتنی شدید تھی کہ وہ ایک دم سے آخری سیڑھی پہ پیر رکھتی نیچے اتری، اسی اثناء میں نین اور نگاہ صدر دروازہ کھول کے اندر داخل ہوئے مگر ان دونوں میں سے کوئی بھی ان کی جانب متوجہ نہ ہوا۔
اور وہ خود سامنے نظر آتی اس غیر متوقع سی صورتحال کو دیکھ کے موقع کی سنگینی اور نزاکت کو سمجھ کے چپ چاپ وہیں دروازے سے چند قدم آگے کھڑے انہیں دیکھنے لگے۔
جہاں وہ چہرے پہ ڈھیروں تاثرات سجائے ننگے پیر، ننگے سر تیز قدموں سے چلتی ہوئی اس کی جانب بڑھی اور اس کے نزدیک چند انچ کے فاصلے پہ جا ٹھہری۔
جو لاونج میں پڑے صوفوں سے چند انچ کے فاصلے پہ کھڑا جی جان سے اس کی طرف متوجہ تھا۔
اس کے یوں اس لمحے اس کے سامنے ٹھہرنے پہ نین اور نگاہ سمیت ذوالنورین نے بھی لحظے بھر کے لیے اپنی سانس روکتے ہوئے اسے دیکھا جو آنکھوں میں ٹوٹے مان و بھروسے کی کرچیاں لیے اسے شعلے اگلتی نگاہوں سے تک رہی تھی۔
“می۔۔۔۔۔” ڈھیروں ہمت مجتمع کرتے ہوئے اس نے اپنے ہونٹوں کو جنبش دینی چاہی جب وہ بھوکی شیرنی کی مانند غرائی۔
“جسٹ شٹ اپ، آئی سیڈ جسٹ شٹ اپ۔شکل نہیں دیکھنا چاہتی میں تم جیسے فریبی انسان کی۔نفرت ہے مجھے تمہاری آواز سے۔” بلند دھاڑتی آواز میں بولتے ہوئے وہ مڑی مگر ایک دم سے رکی۔
وہ تینوں جو اس کے یوں بلند آواز میں دھاڑنے پہ دم بخود رہ گئے تھے اس کے جاتے جاتے رکنے پہ چوکنے ہوئے۔
وہ یکلخت واپس پلٹی اور اس کے ہاتھ میں پکڑے مگ کو تیزی سے اس کے ہاتھ سے کھینچا اور پلک جھپکنے کی سی دیری میں ٹھنڈی ہوتی چائے کا تقریباً آدھے سے زیادہ بھرا ہوا مگ اس کے چہرے پر الٹ دیا۔
اس کی ناراضگی، غصہ یا وقتی نفرت سب ایک طرف لیکن اس کا ایسا ردعمل دیکھ کر وہ شاکڈ سا اپنے چہرے کو ہاتھ لگاتا غیریقینی کی سی کیفیت میں اپنی شرٹ پہ بہتی چائے کو دیکھتا تو کبھی اسے جو ایک زہر خند نظر اس پہ ڈالتی واپس پلٹ رہی تھی۔
اس سے ہوتی نظر دبی دبی ہنسی کی آواز پہ دروازے کی طرف گئی جہاں نگاہ اور نین ہنسی ضبط کرنے کی کوشش میں دونوں ہاتھ ہونٹوں پہ سجائے اسے بھنا کے رکھ گئے تبھی
اس کے واپس پلٹنے پہ اس کے شاکڈ وجود میں حرکت آئی اور اس نے لپک کے اس کی کلائی تھام کے اپنی طرف کھینچنا چاہا جب اس کے لمس پہ بپھرتے ہوئے اس نے اسے پیچھے کو دھکیلتے خود قدم پرے کو ہٹانے چاہے جب اس کی پشت وہاں پڑے صوفے سے ٹکرائی تو وہ پشت کے بل الٹتی اسی صوفے پہ جا گری۔
اس اچانک افتاد پہ دم سادھے وہ چند لمحے صورتحال سمجھنے کی کوشش کرتی وہ یوں گری ہوئی تھی کہ اس کی ٹانگیں صوفے کی پشت کی جانب لٹک رہی تھیں جبکہ اوپری دھڑ صوفے کی سٹنگ پوزیشن پہ موجود تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ خود کو سنبھالتی ہوئی اٹھنے کی کوشش کرتی وہ صوفے کی بیک سائیڈ کی جانب سے جھکتا ہوا اس کے سر کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے اسے قدرے اوپر کی جانب کھینچتا اس کی ٹانگوں کو ایزی پوزیشن میں لاتا اس پہ مکمل طور پر جھک چکا تھا۔
“میڈم!آپ کا میری آواز، میری شکل سے غصہ، یہ نفرت سب فی الحال قابلِ قبول ہے لیکن یار یہ چائے مجھے صرف پینے کی حد تک پسند ہے اور۔۔۔۔۔۔” نجانے وہ واقعی اپنے بھائی بھاوج کی وہاں موجودگی کو فراموش کر چکا تھا یا دانستاً ان کو نظرانداز کیے وہ اس پہ جھکا بھاری لہجے میں بولتا اس کے اس قدر نزدیک ہوا کہ اس کی چائے سے بھیگتی شرٹ اس کے حصار میں موجود زحلے کی شرٹ کو بھی چائے سے داغدار کر گئی۔
“دور ہٹو مجھ سے جھوٹے انسان۔نفرت کرتی ہوں میں تم سے۔” اس کے سینے پہ زور سے ہاتھ جماتی وہ غم و غصے میں حائل ہوتی شرم سے مغلوب ہوتی بلند آواز میں چلائی تو اس نے بڑی جرات سے اپنی انگشت شہادت اس کے ہونٹوں پہ جمائی۔
“ریلیکس، اس چیز کا پرچار مت کریں جو آپ کبھی نہیں کر سکتیں۔” اس کی نفرت کے دعوی کے جواب میں گہرے انداز میں بولتا ہوا وہ اس کی دھڑکنوں میں انتشار برپا کر گیا۔اور وہ چند لمحوں کے لیے لاجواب سی ہو گئی۔
مگر فوراً ہی خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے غضب کی مزاحمت کرتے ہوئے اس کے توانا وجود کو خود سے دور کرنا چاہا لیکن بے سود۔
“اس مختلف قسم کے تاثرات سے مستفید چائے سے آپ بھی لطف اندوز ہوں۔” اس کی مزاحمت کو بڑی سہولت سے روکتا ہوا وہ اس کے چہرے پہ جھکا اور اپنے رخساروں اور ہونٹوں پہ لکیر کی صورت بہتی چائے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے معنی خیزی سے اس کے ہونٹوں کی طرف دیکھا تو وہ مچل سی اٹھی۔
“تم نے اب اگر مجھے چھونے کی کوشش کی تو میں خود کو کچھ کر بیٹھوں گی ذوالنورین۔” اس کے لہجے میں واقعی اس لمحے کچھ کر گزرنے کا جنون محسوس کر کے وہ وہیں ٹھہرتا چند لمحے اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھتا رہا اور پھر گہری سانس بھرتے ہوئے اس پر سے اٹھا تو وہ بھی فوراً ہی اٹھتی شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی۔
“یہ چائے کا مگ جو تم پہ گرا۔اسے تم برداشت نہیں کر پا رہے ہو اور مجھ پہ جو تم نے ساتوں آسمان توڑے ہیں ان کا ازالہ کون کرے گا؟” اس کے شکوہ کناں لہجے میں محسوس ہوتی نم کرچیوں پہ اس کا دل تڑپ اٹھا۔
“میڈ۔۔۔زح۔۔۔۔۔” پہلی دفعہ لفظ اس کے حلق میں اٹکنے لگے تھے۔
“میرا نام لینے کی جرات مت کرنا۔ میں تمہارے لیے ہمیشہ ‘میڈم’ تھی اور رہوں گی جس کا تم نے کالجز یونیورسٹیز کے برگر بچوں کی طرح تماشہ بنا کے رکھ دیا۔ تمہارے معذور ہونے کے احساس نے مجھے میری ذات، میری عزتِ نفس سب کچھ بھلا کے یہاں رہنے پہ مجبور کیا۔جب اس عورت نے پیسوں کے عوض مجھے اس گھٹیا کھیل کا حصہ بنایا تو میں اپنا کام مکمل ہونے کے بعد یہاں سے جا سکتی تھی لیکن میں ٹھہری رہی صرف تمہارے لیے۔” غمزدہ لہجے میں بولتے ہوئے بات کے اختتام میں اس نے قدرے بلند آواز میں کہتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔
تو اس کے لہجے کی تکلیف اور اذیت اس سمے وہ تینوں محسوس کر کے تڑپ سے گئے۔
“میں تمہارے لیے یہاں ٹھہری رہی کہ تمہیں تمہاری ماں سے ملوا سکوں کہ تم اپنے پیروں پہ چل کے ان تک نہیں پہنچ سکتے، تمہیں کچھ پڑھا سکوں تاکہ تمہاری معذوری تمہاری کمزوری نہ بنے تمہارے پاس کوئی ہنر کوئی فن آ جائے لیکن تم میرے خلوص کا تماشہ بناتے رہے۔ تم۔۔تمہارے لیے یہ ہمیشہ سے اک کھیل رہا ہے تبھی تم میرے ساتھ دل لگی کرتے رہے کہ جتنے دن بند کمرے میں رہنے کا ناٹک کرنا ہے تب تک اس عقل سے پیدل میڈم سے دل بہلاتے ہیں۔” زہر خند و متنفر لہجے میں بولتی وہ غم و غصے کی انتہا کر گئی۔
جبکہ اس کی آخری بات پہ اس کا ضبط جیسے آخری حدوں کو چھونے لگا تھا۔
“زحلے!” وہ جو کبھی اسے اس کے نام سے بلانے کی ہمت نہ کر سکا تھا۔
اس نے پکارا بھی تو کب؟
کس موقع پر
اور کس بات پر؟
یہ سوالات اور ان سوالات سے جڑے احساسات نے وہاں موجود چاروں نفوس کے دل گہرے ملال سے پُر کر دیے تھے۔
“مجھے میرے نام سے مت پکارو۔” اس کے طرزِ تخاطب سے دل میں اٹھتی تکلیف اس قدر زیادہ تھی کہ صوفے کے پاس پڑی میز پہ رکھے گلدان کو سختی سے ہاتھ مارتی اتنی زور سے چلائی کہ حلق میں دراڑیں سی پڑنے لگیں۔
تو ذوالنورین کی لہو رنگ آنکھیں سلگنے لگیں۔
“پہلے میرے یہاں سے جانے کی بہت ساری دوسری وجوہات تھیں لیکن اب تو تم نے میرے یہاں ٹھہرنے کی ہی وجہ ختم کر ڈالی۔” پرملال لہجے میں کہتے ہوئے وہ ایک جھٹکے سے پلٹی تھی۔
جہاں کچھ فاصلے پہ کھڑی نگاہ اور نین کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی کیونکہ وہ اس کے لیے اجنبی تھے۔تبھی بنا مزید ٹھہرے وہ بھاگنے کے سے انداز میں سیڑھیوں کی جانب بڑھی تو بہتے ہوئے آنسووں کی دبیز تہہ کے باعث دو تین دفعہ پیر لڑکھڑائے تھے۔
جبکہ لاونج میں شل کھڑا ذوالنورین خالی نظروں کے ساتھ سیڑھیوں کو تکے جا رہا تھا۔
نجانے کون سے وہم کے پردے تھے درمیان میں حائل
کیوں تیری ذات میری ذات نہ ہونے پائی۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بی جان کے کمرے میں اس کی دبی دبی سسکیوں کی آواز وقفے وقفے سے بلند ہوتی ان سب کو بے چین کر رہی تھی۔
“بس کرو میری بچی، اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔یہ تو میرے اندھے یقین نے تمہیں اس تکلیف سے دوچار کیا ہے۔” پیر حویلی میں جو کچھ ہوا تھا وہ دیکھ کر اس کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اس لیے وہ ہاسپٹل سے اسے چیک کروا کے گھر لایا تھا۔
اور جب سے لایا تھا وہ یونہی روئے جا رہی تھی۔
“مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ ایسے ہوں گے۔وہ۔۔۔وہ اقتدار کی ہوس میں انسانیت سے کھیل جائیں گے۔” سسکیوں کے درمیان بولتی ہوئی وہ نجانے ان کے رویے پہ رو رہی تھی یا ان کے انجام پہ۔وہ خود نہ سمجھ پا رہی تھی۔
“خود کو ہلکان نہیں کرو بیٹا۔یہ سب یونہی ہونا لکھا تھا اس پہ رونے کا کوئی فائدہ نہیں۔اپنے باپ اپنے بھائی کے لیے دعا کرو کہ وہ ان کے نقشِ قدم پہ نہ چلیں بلکہ ان کے مظالم سے ستائے لوگوں کے لیے نجات دہندہ بنیں۔” گردیزی صاحب نے متانت سے کہتے ہوئے اسے اس فیز سے نکالنا چاہا تو ان کے الفاظ پہ اس کا رواں رواں ‘آمین’ کہنے لگا۔
“اٹھو خود کے فریش ہو، پھر رہبان کے دوست کی مہندی پہ جانا ہے۔” سائرہ بیگم نے دانستاً اس کی توجہ بٹانے کو کہا کہ اس کی مسلسل گریہ و زاری اس کے اندر پنپتی جان کے لیے ہرگز فائدہ مند نہ تھی اس لیے سب ہی اسے اس فیز سے نکالنے کی کوشش میں تھے۔
کہ جو ہونا تھا وہ ہو چکس تھا اب اس پہ ملال کرنے سوائے اذیت کے کچھ نہیں ملنے والا تھا۔اس لیے جو پاس تھا اس پہ خوش ہونے کے لیے اس ملال، اس اذیت کو فراموش کرنا ضروری تھا۔
“دریہ چلو اٹھو بھابھی کو بھی تیار کرو اور خود بھی تیار ہو۔” مائرہ بیگم نے قدرے مرجھائی سی بیٹھی دریہ کو مخاطب کیا تو وہ چونکی۔
اور پھر خود پہ بشاشت طاری کرتے ہوئے بولی۔
“بھئی مجھے کنفرم بتائیں کہ مجھے بھابھی والا رول ادا کرنا ہے یا نند والا۔ایسے مجھے کنفیوژ نہ کریں۔” اس کے شاکی سے انداز پہ روتی ہوئی آبگینے کے ہونٹوں پہ بھی ہلکی سی مسکان پھیل گئی جسے دیکھ کے سب نے سکھ بھرا سانس خارج کیا۔
“بہت آسان سا حل ہے۔یہاں تم نند بن کے رہا کرو اور اپنے سسرال میں بھابھی کا کردار ادا کر لیا کرنا۔” مشعل نے برجستگی سے مشورہ دیا تو سب نے شد و مد سے تائید کی۔
لڑکیوں کو اپنی باتوں میں مگن دیکھ کر حماد اور رضا صاحب مسکراتے ہوئے باہر چلے گئے۔
“یا پھر اپنے مجازی خدا محترم طلال شاہ سے پوچھ لینا کہ انہیں نند اور بھاوج میں سے مسکین سا رشتہ کون سا لگتا ہے؟پھر اس کے بعد اس کے سامنے وہ روپ دھار لینا۔” مشعل کے مشورے کے جواب میں حمدان نے سنجیدگی سے مشورہ دیا تو وہ خجل سی ہوتی دو ہتھڑ اس کے کندھے پہ رسید کر گئی۔
“میں تمہیں کوئی اور مخلوق لگتی ہوں جو گاہے بگاہے روپ دھارتی ہوں۔ہٹو پرے اس وقت ذرا مجھے اپنی بھابھی کے ساتھ وقت گزارنے دو پھر۔۔۔۔۔۔” انہیں سائیڈ پہ کرتی وہ آبگینے کو اٹھاتی بول رہی تھی جب زمل نے اس کی بات منقطع کی۔
“پھر تھوڑی دیر بعد اسے بھابھی کے بھائی کے ساتھ بھی وقت گزارنا ہے۔سنا ہے وہ بھی انوائیٹڈ ہیں۔” اس کے شرارتی انداز پہ بی جان اور مما اور ممانیوں کی موجودگی کے باعث وہ اچھی خاصی جھینپ سی گئی تھی۔
جبکہ اس کے خوبصورت چہرے پہ چھائے طلال کے نام پر شرم و حیا کے رنگ اس قدر بھلے لگ رہے تھے کہ اس کے ساتھ کھڑی ہوتی آبگینے نے بے ساختہ اسے ساتھ لگاتے ہوئے اس کا رخسار چوما تھا۔
“ہمیشہ خوش و سدا سہاگن رہو۔” اس کے نم مگر محبت بھرے لہجے میں سچی دعائیں مہک رہی تھیں۔
اور یہ سب محسوس کرتیں وہاں موجود سبھی خواتین محبت سے مسکرا دیں۔
کہ آج پہلی دفعہ آبگینے مکمل طور پر اس گھر اور اس کے مکینوں کی ہوتی نظر آئی تھی۔
جبکہ اپنے کمرے کی طرف بڑھتی آبگینے شدت سے اس شخص کی آمد کی منتظر تھی جسے آج وہ اس کی محبت کا جواب اسی محبت کے ساتھ دینے کی متمنی تھی۔
آ میرے ہاتھ پر رکھ دے اپنے توجہ بھرے ہاتھ
اور غلط کر دے بچھڑ جانے کی افواہوں کو۔۔۔۔۔!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہاتھ سے اپنے رخساروں پہ لڑیوں کی مانند بہتے آنسووں کو صاف کرتی وہ دوسرے ہاتھ سے اپنے اسے شولڈر بیگ سے نکلنے والی چیزوں کو واپس ڈال رہی تھی جب نظر کمرے میں پڑی وہیل چیئر پہ پڑی تو ہونٹوں سے ایک تکلیف دہ سی سسکی نکلی۔
جسے فوراً دباتے ہوئے وہ بیڈ کی طرف بڑھی اور تکیے پہ پڑے اپنے دوپٹے کو جھک کے اٹھا رہی تھی جب دروازہ ہولے سے ناک کے ساتھ کھلا تھا۔
یونہی جھکے جھکے اس نے گردن موڑ کے دروازے کی طرف دیکھا تو نیچے موجود اسی لڑکی کو دروازے پہ کھڑے پایا تو لاشعوری طور پر منہ پہ ہاتھ پھیر کے آنسو صاف کرنے کی کوشش کرتی وہ دوپٹہ اوڑھنے لگی۔
“السلام علیکم!” دروازے پہ کھڑی نگاہ نے اسے دیکھتے ہوئے نرمی بھری سنجیدگی سے سلام دیا تو اس نے رونے اور چلانے کے باعث قدرے بیٹھی ہوئی آواز میں جواب دے کے استفہامیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“میں نگاہ ہوں، نگاہ ذوالقرنین! ذوالنورین کی بھابھی اور دوست، تمہاری جٹھانی۔” تفصیلی سا تعارف کرواتے ہوئے نگاہ چند قدم آگے ہوئی تو اس کے چہرے کے تاثرات فوراً تبدیل ہوئے۔
جنہیں محسوس کر کے نگاہ کو یہ مرحلہ سخت مشکل لگا تھا۔
“رشتے میں اگر چہ تم سے بڑی ہوں لیکن میرا نکاح تین چار دن پہلے ہی ہوا تھا۔اس لیے میری اور تمہاری ملاقات کچھ ناگزیر حالات کی وجہ سے ہو نہیں سکی۔” اس نے اسی مصالحتی انداز میں مسکراتے ہوئے مزید کہا لیکن اس کے تاثرات میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔
“آپ سے مل کر خوشی ہوئی نگاہ۔آپ بیٹھیے۔” پرتکلف اور فارمل سے انداز میں مروت نبھاتے ہوئے اس نے صوفے کی جانب اشارہ کیا تو نظر ایک دفعہ پھر سے وہیل چیئر سے جا الجھی۔
نظر کا الجھنا تھا کہ اس کی آنکھوں میں ایک دفعہ پھر سے پانی جھلملانے لگا۔
“اس کرسی کو یوں مت دیکھو کیونکہ اس پہ بیٹھنے والا صرف گیم کھیلنے کے لیے نہیں بیٹھا تھا بلکہ اس چیئر کو اس گھر میں اس شخص کی معذوری ہی لانے کا باعث بنی تھی۔” اس کی آنکھوں کا محور جانتی نگاہ نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا تو زحلے نے ٹھٹھک کر اس کی جانب دیکھا گویا اس کی بات سمجھنے کی کوشش کی تھی۔
لیکن پھر یاد آیا کہ جب وہ بات کر رہی تھی تو وہ نیچے ہی تھی تو پھر یقیناً وہ اسی پسِ منظر کے سبب بات کر رہی ہو گی۔
“اور تمہیں یہ بات جان کر یقیناً شاک لگے گا کہ اس کی معذوری کے بارے میں سب سے پہلے واقف ہونے والی بھی تم ہی تھی۔” نگاہ کے مزید کہنے پہ اس کا دل و دماغ صحیح معنوں میں الجھا تھا۔
“آپ کہنا کیا چاہتی ہیں؟” اس نے الجھ کے سپاٹ سے انداز میں نگاہ کی طرف دیکھا جو نجانے کون سی پہیلیاں بھجوانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“میں زیادہ کچھ نہیں بس یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ذونین تمہارا مجرم ضرور ہو گا لیکن اتنا نہیں جتنی سخت تم اس کو سزا دینے جا رہی ہو۔ کیا تم یہ نہیں جاننا چاہتی کہ کیوں وہ یہ کرنے پہ مجبور ہوا؟کیا وجہ تھی جو اس کا باپ، بھائی، ماں، بھابھی سب اس سے دور تھے اور وہ یوں اپنے ہی گھر میں اس حال میں پڑا تھا؟” صوفے پہ بیٹھنے کی بجائے نگاہ اس کے مقابل کھڑی اسی رسانیت بھری سنجیدگی کے ساتھ بول رہی تھی۔
“اپنے دیور کے ساتھ یہ سوال کریں تو بہتر ہو گا جس سے بہیترے مرتبہ میں نے سب جاننے کی کوشش کی ہے لیکن جو رشتہ جڑا ہی ایک کھیل کے لیے گیا ہو اس میں اعتماد نہیں ہوتا۔ اس نے مجھ سے یہ رشتہ اپنی ذات پہ لگے الزام کی سزا دینے کے لیے جوڑا تھا اور پھر اپنی ماں کی ذات کے لیے اسے لے کے آگے بڑھانے لگا۔اس کے علاوہ اس میں کچھ نہیں تھا۔” اس کے لہجے کی کاٹ میں بہت کچھ پنہاں تھا۔
“جس لڑکی نے اس سمیت اس کے دوستوں کے بھری دوپہر میں بنا کسی انجام کی پروا کیے بچایا ہو اس لڑکی کے ساتھ وہ کھیل رچانے کے لیے کاغذی رشتہ کیسے جوڑ سکتا ہے زحلے؟” نگاہ کے نرم لہجے میں کیے گئے سوال پہ اس کے سر پہ جیسے دھڑا دھڑ ساتوں آسمان ٹوٹ پڑے تھے۔
وہ بے یقینی سے نگاہ کی کلائی کو دیکھنے لگی جہاں مہرون رنگ کا قدرے چھوٹے سائز کا موتی ایک چین میں لپٹا ہوا تھا۔
اس موتی کی ہئیت سیم اس موتی جیسی تھی جو اس کی گردن کے ساتھ لپٹا ہوا تھا۔
“یہ ہم پانچوں دوستوں کا لکی چارم ہیں۔ہم سب کے پاس یہ مختلف رنگوں میں موجود تھے۔ہم انہیں پہنیں یا نہ پہنیں لیکن یہ ہمیشہ ہمارے پاس موجود ہوتے تھے لیکن پچھلے کچھ سالوں سے ذوالنورین کے پاس ایسا موتی نہیں تھا کیونکہ وہ اسے اس لڑکی کو دے چکا تھا جس نے انہیں خدا کے بعد ایک نئی زندگی دینے کی کوشش کی تھی۔” اپنی کلائی پہ نظریں جمائے بولتی نگاہ کے الفاظ پہ اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے۔
جبکہ آنکھوں میں سالوں پہلے کا منظر جھلملانے لگا جب اس دوپہر میں ایک خون آلود سڑک پہ وہ ایک زخمی شخص پر جھکی ہوئی تھی۔
وہ یونہی شل کھڑی بے جان ہوتی سماعتوں اور ششدر ہوتی بصارت کے ساتھ نگاہ کے ہلتے ہونٹوں سے نکلنے والے لفظوں کو سن رہی تھی۔
جو بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں ‘فائیو سٹار’ کی زندگی کے پٙنے اس کے سامنے کھولنے لگی تھی۔
اور جب اس کے الفاظ اس دوپہر کے واقعات کو دہرانے لگے تو نگاہ کے چہرے کی رنگت بدل گئی جبکہ لفظ ٹوٹنے لگے کیونکہ وہ دوپہر اس کی زندگانیوں کو بدل کے رکھ گئی تھی۔
میرے لفظوں کو تھوڑا دھیان سے پڑھا کرو
میں نے سچ میں زندگی برباد کی ہے۔۔۔۔۔!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہے کوئی تمہارے اندر عقل نام کی چیز۔بیوی کو ہاسپٹل سے لے کے آئے تھے اور بنا اس کو تسلی تشفی دیے غیروں کی طرح لٹا کے گھر سے نکل گئے۔” بی جان اس وقت صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کے بڑے ڈھیلے سے انداز میں بیٹھے رہبان گردیزی کی کلاس لے رہی تھیں۔
“اب آپ لوگوں کے ساتھ تسلی تشفی کرواتا تو آپ لوگوں نے منہ چھپاتے پھرنا تھا اور اوپر سے زن مریدی کے طعنے الگ سے دینے شروع کر دینے تھے۔اس لیے میں نے سوچا کہ پہلے یہ کوٹہ آپ پورا کر لیں۔” اپنے مخصوص بلنٹ انداز میں بولتا وہ دادی اور ماوں کو گڑبڑانے پہ مجبور کر گیا۔
“لا حولہ ولا قوة الا باللّٰہ! کس قدر بے شرم انسان ہو تم بچے۔ سیدھی سادھی معصوم بچی کو گھما کے رکھ دیتے ہو گے تم۔” بی جان نے آنکھیں نکالتے ہوئے اسے گھرکا تو وہ جیسے کرنٹ کھاتا سیدھا ہوا تھا۔
“خدا کو مانیں بی جان! میں مجرموں کے حوالے سے آپ کی یہ مبالغہ آرائی برداشت کر سکتا ہوں لیکن مسز رہبان گردیزی کو معصوم اور سیدھی سادھی نہ بولیں میرا دل بہت کمزور ہے۔” اس کے برجستہ انداز میں اس قدر بیچارگی تھی کہ فرمائشی قہقہہ ابل پڑا۔
“اور مزے کی بات یہ ہے تمہاری مسز کو ہماری بہنیں دو گھنٹوں سے لیے کمرے میں گھسی تیار کر رہی ہیں اور یہ بات تمہارے کمزور دل پہ زیادہ اثر کرے گی کیونکہ آج بھابھی کے تیور واقعی بھابھیوں والے تھے۔” اس کے پاس صوفے پہ بیٹھے حمدان نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو اس کے دل نے بہت آہستگی سے اپنی لے بدلی تھی۔
“کیا تمہیں نہیں لگتا کہ اس وقت تمہیں یہ بات مجھے نہیں بتانی چاہیے تھی؟” ایک نظر سب کو دیکھتے ہوئے اس نے دانت کچکچاتے ہوئے حمدان کو لتاڑا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“میں تیار ہو لوں۔فنکشن پہ جانے کے لیے دیر ہو رہی ہے۔” پرسکون لہجے میں کہتے اس نے وہاں سے جانے کو پرتولا جب حمدان آنکھوں میں ڈھٹائی لیے بظاہر سنجیدگی سے بولا۔
“ابھی بیٹھ جاو نا تم۔ابھی تو بھابھی تیار ہو رہی ہیں تو تم بعد میں تیار ہو جانا۔” اس کے ٹانگ اڑانے پہ رہبان کا دل چاہا وہ اس کا ایک چکر اپنی جیل کے ٹارچر سیل کا لگوا لائے۔
“میں نے تمہاری بھابھی سے تیار ہونا ہے جو اس کی تیاری ختم ہونے کا انتظار کروں گا۔” بھسم کر دینے والے انداز میں اسے کہتے ہوئے وہ بنا سیکنڈ کی دیر لگائے اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔
کمرے کا ہینڈل زور سے گھماتے ہوئے اس نے دروازہ کھولا تو زمل کی پرجوش آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
“بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ بھابھی۔واللّٰہ آج بھائی کی خیر نہیں ہے۔” سکن رنگ کے لہنگے پر رائل بلیو رنگ کی چولی پہنے وہ بالوں کی چٹیا بنائے، اپنی خوبصورت پیشانی پہ ماتھا پٹی سجائے وہ کانوں میں میچنگ جیولری پہنے، کلائیوں میں کانچ کی چوڑیاں سجائے اورنج کلر کے دوپٹے کو سر پہ پنوں کی مدد سے اٹکائے ملٹی کلر کے کھسوں میں اپنی مومی پیر سجائے کھڑی آبگینے کو محبت سے دیکھتی ہوئی بولی تو جواباً وہ خوش ہونے کی بجائے روہانسی سی ہوئی۔
“میں واقعی اچھی لگ رہی ہوں؟ایسے آکورڈ تو نہیں لگ رہی ایسے اس طرح لہنگا پہنے ہوئے؟” اپنے قدرے بھاری وجود کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ خاصی پزل لگ رہی تھی۔
“ارے ایسا کچھ نہیں ہے بھابھی۔ اب تو لوگ آخر تک ایسی ڈریسنگ کرتے ہیں۔آپ کے تو ابھی تین چار منتھ ہیں ابھی اس لیے کوئی نہیں اتنا محسوس ہوتا۔” اس کے سراپے کو ناقدانہ انداز میں دیکھتی دریہ نے کھلنڈرے سے انداز میں اسے پرسکون کرنا چاہا جب دروازے کے پاس کھڑا رہبان مدہم آواز میں بے ساختہ بولا۔
“دو ماہ۔” اس کی بات اگر چہ کسی کو سمجھ نہ آئی تھی لیکن آواز کی سرسراہٹ پہ وہ بے ساختہ اس کی جانب متوجہ ہوئی تھیں جو دروازے کو چھوڑتا ہوا اب اندر کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“لالہ بھابھی کیسی لگ رہی ہیں؟” دریہ نے بڑے اشتیاق سے دریافت کیا کیونکہ آج اس نے اسے تیار کیا تھا۔
“ایسی کہ گھنٹوں بنا پلک جھپکائے دیکھا جا سکتا ہے۔” اس کی طرف ایک نظر ڈالتا وہ دریہ کو دیکھتے ہوئے مسکرایا جو اس کے خوبصورت الفاظ پہ کھل کے مسکرا دی جبکہ اس کے لفظوں کی حدت سے پگھلتی وہ بے ساختہ رخ موڑ گئی تھی۔
اسے رخ موڑتے دیکھ کر دریہ اور زمل رہبان کو پیار کرتیں باہر نکل گئیں تو وہ پرشوق نگاہیں اس کی پشت پہ جمائے اس کی طرف بڑھا تو اس کی دھڑکنیں بڑھنے لگیں۔
“مجھ سے رخ کیوں موڑ لیا ہے، میں واقعی تمہیں تادیر پلک جھپکائے دیکھنا چاہتا ہوں، تمہاری موجودگی کو محسوس کرنا چاہتا ہوں۔میں خود کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ تم واقعی میرے پاس ہو۔” اس کو عقب سے اپنی بانہوں کے حصار میں جھکڑے وہ اس کے بائیں کندھے پہ اپنی ٹھوڑی ٹکائے گھمبیر لہجے میں بولتا روزِ اول کی مانند اس کی دھڑکنوں کو پاگل کر رہا تھا۔
اور چہرے کی رنگت میں گلال بھر رہا تھا۔
“کچھ کہو گی نہیں؟کوئی ڈانٹ ڈپٹ؟کوئی مزاحمت؟” اس کی گردن میں موجود نیکلس کو اپنے ہونٹوں سے چھوتے ہوئے وہ اس کی سانسوں کی رفتار بڑھاتا مخمور لہجے میں بولا تو آبگینے نے اس کے اپنے پیٹ پہ جمے ہاتھوں پر اپنے کپکپاتے ہاتھ رکھے تو رہبان نے اس کے بالوں کی مہک خود میں اتارتے ان ہاتھوں کے لمس کی زبان کو بڑی شدت سے محسوس کیا۔
تبھی اس کے لمس میں مزید خماری در آئی تھی۔
“مجھے آپ کے ہاتھ کی بنی چائے پینا ہے رہبان۔” اس کے ہاتھوں پہ اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے وہ اپنی پوری ہمت مجتمع کرتی ہوئی بولی تو اس کے بالوں سے کھیلتا ہوا رہبان اپنی جگہ ساکت ہو گیا۔
مگر اگلے ہی پل ہوش میں آتا وہ اس کا رخ اپنی طرف موڑتا بڑے والہانہ انداز میں اس کا چہرہ تکنے لگا جو محبت کی تابناکی سے چمک رہا تھا۔
“آبگینے آپ۔۔۔۔۔” حیرت و خوشی کا غلبہ اس قدر شدید تھا کہ اسے اپنے اظہار کے لیے لفظوں کا سہارا مل ہی نہ پا رہا تھا تبھی وارفتگی سے اسے خود میں بھینچتے ہوئے وہ اس کے چہرے نقوش، بالوں، گردن، کندھوں کو چھوتا ہوا دیوانگی کی حد کرنے لگا تھا۔
“ر۔۔۔رہبان پلیز بس۔میری تیاری خراب ہو جائے گی۔۔۔پلیز۔” اس کے پرشدت انداز سے پاگل ہوتی آبگینے نے بمشکل اپنے بکھرتے اعصاب کو سنبھالتے ہوئے اسے وقت کی مناسبت کا خیال دلانا چاہا تھا۔
“بڑی ظالم ہو یار۔ جوابی اظہارِ محبت کیا بھی تو غلط وقت پر۔جب میں کھل کے اپنے جذبات کا اظہار بھی نہیں کر سکتا۔” بمشکل اپنے منہ زور ہوتے جذبات پہ قابو پاتا وہ سیدھا ہوا اور ایک ذومعنی نظر اس کے بھرے بھرے سراپے پہ ڈالتے ہوئے بولا تو اس کے کانوں سے گویا دھواں نکلنے لگا تھا۔
“اففف!رہبان۔۔۔۔” اس کی بے باک نگاہوں سے بچنے کے لیے اس نے واپس چہرہ اسی کے سینے میں چھپایا تو رہبان کا قہقہہ گونج اٹھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثمرین بیگم کے پسند کیے گئے مہندی کے سوٹ میں ملبوس وہ پھولوں کی طرح مہکتی ہوئی بے چینی سے صوفے پہ بیٹھی اپنے مہندی لگے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخائے جا رہی تھی۔
“باہر کیوں نہیں آ رہی ہو شہرے تم؟مہمان تقریباً سبھی آ چکے ہیں۔صرف تمہارا انتظار ہے۔” زونیہ بیگم تک جب اپنی لاڈلی بیٹی کا انکار پہنچا تو وہ اس کے کمرے میں چلی آئیں جو بہت نروس نظر آ رہی تھی۔
“مما!میں تھوڑی دیر تک آوں گی نا۔ ابھی میں تھوڑی نروس ہوں۔” دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کبھی کھولتی کبھی بند کرتی ہوئی وہ واقعی نروس لگ رہی تھی۔
“میری بیٹا نروس کیوں ہو؟کون سا کہیں دور یا انجان لوگوں میں جا رہی ہو۔ ریلیکس ہو اور خود کو پرسکون کرو۔” اس کی گھبرائی صورت دیکھتے انہوں نے محبت سے اس کی پیشانی چومی جو اس وقت سجی سنوری گڑیا کی مانند مہک رہی تھی۔
اسی لمحے نک سک سی تیار نگاہ کے ساتھ آبگینے کمرے میں داخل ہوئی تو دونوں ماں بیٹی ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔
“بھئی ہمیں اطلاع ملی کہ اس وقت مہندی کی خوبصورت سی دلہن تنہائی چاہ رہی ہے اور باہر آنے سے کترا رہی ہے تو سوچا کہ تنہائی کی وجہ دریافت کر آئیں۔” بے تکلف سے انداز میں بولتی نگاہ اس کے نزدیک ہوتی محبت سے اسے ملتی اس کا چہرہ چومنے لگی۔
“بہت پیاری لگ رہی ہو۔اللّٰہ پاک ان گنت اور دائمی خوشیاں نصیب فرمائے آمین۔” پرخلوص اور محبت بھرے انداز میں دعا دیتی وہ آبگینے کی طرف متوجہ ہوئی۔
“یہ ضرغام اور ہمارے بہت قریبی اور عزیز دوست ایس پی رہبان گردیزی کی مسز آبگینے گردیزی ہے۔اور آبگینے یہ ضر کا عشق، اس کی مسز شہرے ملک ہے۔” بڑے خوبصورت انداز میں ان دونوں کا تعارف کرواتی نگاہ مسکرائی تو جھینپتی ہوئی شہرے آبگینے سے ملنے لگی جو اس وقت اپنے گرد ایک سٹائلش سی چادر لپیٹے ہوئے بہت پیاری لگ رہی تھی۔
“تم لوگ باتیں کرو۔میں کچھ دیر تک آئلہ اور عمارہ کو بھیجتی ہوں۔وہ آ کے تمہیں لے جاتی ہیں۔” زونیہ بیگم نے نرمی سے کہا تو شہرے ہولے سے سر اثبات میں ہلا گئی تھی۔
“باہر جانے سے منع کیوں کر رہی ہو؟کوئی پریشانی ہے؟” نگاہ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ بوکھلائی۔
“نہیں۔۔ہاں۔میرا مطلب ہے کہ۔۔۔۔وہ ضر۔۔۔۔” عجیب سی شش و پنچ کا شکار ہوتی وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ بولتی چپ سی کر گئی جب اس کے چہرے پہ چھائے شرم و حیا کے تاثرات دیکھتیں وہ دونوں مسکرا دیں۔
“ضر نے ویٹ کرنے کو کہا تھا؟” کسی نتیجے پہ پہنچتی نگاہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو شہرے کو ان دونوں سے ٹوٹ کے حیا آئی تھی۔
“وہ پہنچ چکا ہے۔وہ میرے دیور اور ہمارے دوست ذوالنورین اور اس کی بیوی کو لینے گیا تھا۔” نگاہ نے اسے اطلاع بہم پہنچائی تو اس کا دل زوروں سے دھڑک اٹھا۔
“لیکن آپ کو نہیں لگتا کہ اگر آپ اپنے شوہر سے یوں اس حالت میں ملیں گی تو وہ مہندی کا فنکشن مزید لیٹ کروا سکتے ہیں؟” اس کی طرف دیکھتی دیکھتی آبگینے نے ذومعنی سا اشارہ کرتے ہوئے کہا تو اس کی بات کا مطلب سمجھتی ہوئی شہرے کے کانوں میں گویا دل دھڑکنے لگا تھا۔
وہ ایک دم سے بوکھلاتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“مم۔۔مجھے ویٹ نہیں کرنا ہے۔آئیں باہر چلیں۔” اسے اس کا بے خود انداز یاد آیا تو وجود میں سرسراہٹ سی ہونے لگی تھی۔
“پاگل ہو گئی ہو۔بیٹھو یہیں ورنہ وہ ناراض ہو گا۔” نگاہ نے فوراً اسے ڈپٹا تھا۔
“نہیں ہوتے وہ ناراض لیکن ابھی چلیں نگاہ پلیز۔میں پہلے ہی اتنی ڈھیر لگا کے تیار ہوئی ہوں۔میری بالوں کی چٹیا ہی نہیں سیٹ ہو رہی تھی۔” روہانسے انداز میں بولتی وہ گویا انہیں باور کروا گئی کہ وہ شخص اگر اسے ابھی ملنے آیا تو وہ اس کی تیاری درہم برہم کر دے گا اور اس کا وہ رسک نہیں لے سکتی۔
اس لیے اگلے پانچ منٹوں میں وہ نگاہ، آبگینے، عمارہ اور آئلہ کے ساتھ دوپٹے کی چھاوں میں چلتی ہوئی اسٹیج تک آئی تھی جہاں اس کے ساتھ انیلہ اور عمارہ کے بچے براجمان ہو چکے تھے۔
اس کے بیٹھتے ہی آغا جان کے بعد سب بڑے کپلز نے رسم کا آغاز کیا۔ اس سارے دورانیے میں ضرغام کی غیر موجودگی کے باعث وہ ریلیکس ہوتی ان لمحوں کو انجوائے کر رہی تھی جب مزید آدھ گھنٹہ گزرنے کے بعد لان ایک دم سے اندھیرے میں ڈوب گیا۔
اندھیرا ایک دم سے چھا جانے ہر ہڑبونگ سی مچ گئی تبھی سٹیج پہ بیٹھی شہرے کو اپنے دائیں پہلو کی جانب سرسراہٹ سی محسوس ہوئی۔
اس تل پہ ہو رہے تھے چار دن سے تبصرے
تل کو چھوڑیے، تل کی سواری ملاحظہ کیجیے۔۔۔!!!
بھاری گھمبیر لہجے میں بولتے ہوئے اس کے نرم گرم سے لب بیوٹی بون اور دائیں کندھے کے درمیان جگمگماتے اس سیاہ تل پہ پیوست ہوئے تو اس کے وجود میں خون کی گردش یکلخت تیز ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت سے حقائق سے پردہ اٹھانے کے بعد نگاہ اسے یونہی چپ چاپ چھوڑ کے کمرے سے جا چکی تھی۔
مگر وہ تاحال اس کے کیے گئے انکشافات کی زد میں دم بخود بیڈ کے کنارے بیٹھی ہوئی تھی۔
دل و دماغ میں چلتی اس جنگ کا سلسلہ دروازہ کھلنے کی آواز سے منقطع ہوا تو اس نے بنا حرکت کیے یونہی ساکت بیٹھے نظریں اٹھا کر دروازے کی سمت دیکھا جہاں وہ ننگے پیر دبیز قالین پہ جماتا ہوا اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔
اس کے اٹھتے قدموں پہ نظریں جمائے اس کے بے حس و حرکت وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔
جب وہ اس کے بے حد نزدیک پہنچتا گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
جاری ہے۔
