57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک

ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑی وہ اپنے بال سلجھا رہی تھی جب نامحسوس سی دستک کے بعد وہ دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا۔
ڈریسنگ مرر میں سے اس نے دیکھا کہ وہ جاگنگ سوٹ میں ملبوس اس چہرے کے ساتھ واپس نہیں لوٹا تھا جس چہرے کے ساتھ وہ جاگنگ کے لیے نکلا تھا۔

“آپ ٹھیک ہیں؟” جلدی سے بالوں کو کیچر میں جھکڑ کے اس نے رخ اس کی جانب موڑا جو سپاٹ چہرے کے ساتھ کلوزٹ کی جانب بڑھ رہا تھا۔

“فائن۔” مختصر سا جواب دے کے وہ بہت تیزی سے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوئے ہر شے کا بہت باریک بینی سے جائزہ لے رہا تھا۔
جبکہ وہ اس کے چہرے کے سپاٹ تاثرات اور باڈی لینگویج سے سمجھ چکی تھی کہ حسبِ سابق وہ اس وقت اسی کیفیت کا شکار ہو چکا تھا جس میں کوئی بھی اسے اپنے قریب نہ چاہیے ہوتا تھا۔

کلوزٹ کے ڈراز کھولتے ہی پہلی نظر ہی اسے آگاہ کر گئی کہ اس کی چیزوں کے ساتھ چھیڑ خوانی کی گئی ہے۔
اور یہ سب دیکھتے ہوئے اس کے ماتھے کی رگیں پھولنے لگیں۔

“ڈیم اٹ۔۔” تندہی سے کہتے ہوئے اس نے جھٹکے سے دراز بند کیا اور واپس مڑا۔

“کیا ہوا؟پریشان ہیں؟” وہ اس کی حالت دیکھتی بے چینی سے گویا ہوئی تو اس نے نظر اٹھا کے اس کی جانب دیکھا اور اسی کی طرف متوجہ تھی۔

“شہرے جس دن آپ سے ملنے آئی تھی، ڈائیورس کے علاوہ کوئی بات کی تھی کیا اس نے؟” اس کے لہجے کی سنجیدگی وہ بھی شہرے کے متعلق، اسے تھوڑا خائف کر گئی۔

“نہیں ڈائیورس کا کہنے کے بعد یہ کہا کہ اگر میں بھی اس کے جتنی ہمت کر لیتی تو آج یہ سب نہ دیکھنا پڑتا۔” اس نے اس کے کہے الفاظ جوں کے توں اس کے سامنے دہرائے تو اس کے چہرے کی گھمبیرتا مزید بڑھ گئی جبکہ کنپٹی کی رگ مزید پھڑکنے لگی۔

“اس کی ہمت کی تو داد دینی پڑے گی۔” زیرِ لب بڑبڑاتے ہوئے وہ فریش ہونے کی نیت سے واشروم کی جانب بڑھا تو نگاہ جلدی سے اس کے راستے میں آئی تو اس اچانک تصادم پہ اس نے توجہ سے اس کی جانب دیکھا۔

“ایک باہر دماغ خراب کر چکی ہے، ایک کمرے کے اندر کرنے کے چکروں میں ہے۔آپ دونوں نے معاہدہ کیا ہوا ہے کہ ایک دن میں ایک جیسے انداز کے ساتھ مجھے سبق دینا ہے؟” لہجے میں بے پناہ سنجیدگی لیے وہ لفظ لفظ کو طنز کے شیرے میں ڈبوئے ٹھنڈے سے لہجے میں گویا ہوا تو نگاہ کا دماغ جیسے بھک سے اڑا تھا۔

اس نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھا جو نجانے کیوں اس قدر مرچیں چبا رہا تھا۔
“اس قدر ہائپر کیوں ہو رہے ہیں؟کوئی پریشانی ہے تو شیئر کر سکتے ہیں آپ؟” اس نے تسلی آمیز لہجے میں کہتے ہوئے اس کے بازو پہ اپنا نازک ہاتھ دھرا تو اس نے گہری سانس بھرتے ہوئے ایک نظر اس کے ہاتھ پہ ڈالی۔

“شہرے آپ کی انگینجمنٹ کے متعلق جان چکی ہیں۔” اس کے سپاٹ آواز میں کیے گئے انکشاف پر چند پل کے لیے وہ بھی ششدر سی رہ گئی۔

“وہ کیسے اس کے متعلق جانتی ہے؟” چند لمحوں کے توقف کے بعد وہ سنبھلتے ہوئے گویا ہوئی۔

“آئی ڈونٹ نو کیسے لیکن میری لاپرواہی کی وجہ سے میری کلوزٹ سے اس نے شاید کوئی کلیو دیکھا ہے۔” اس کا لہجہ تاحال سنجیدگی سمیٹے ہوئے تھا۔

“اب پھر؟” اس نے پریشان نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔

“اب پھر یہ کہ آپ پریشان نہیں ہوں۔میں جانتا ہوں کہ مجھے ان کی اٹینشن کیسے ڈائیورٹ کرنی ہے اور ان کو چپ کیسے کروانا ہے؟” اسے پریشان دیکھ کے اس نے لہجے کو نسبتاً نرم کرتے ہوئے اسے تسلی دی اور اپنے بازو پہ دھرے اس کے ہاتھ پہ ہولے سے تھپکی دی تو وہ پھیکا سا مسکرا دی۔
جبکہ وہ اس کے سامنے سے ہٹ کے واشروم کی جانب قدم اٹھانے لگا۔

“ضرغام!اس سب میں دیر مت کرنا یہ نا ہو کہ غلط فہمیوں کی فصیلیں ایک خوبصورت رشتے کی جڑیں کاٹ دے۔” واشروم کی جانب بڑھتے اس کے قدم نگاہ کی مدہم دلسوز میں چھپے معنی کو سمجھ کے پل بھر کے لیے تھمے لیکن اگلے ہی پل وہ سر جھٹکتے ہوئے واشروم میں گھس گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہولے سے سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ آج ایک دفعہ پھر سے اس راہداری کی جانب مڑی جہاں اسے امید تھی کہ وہ اسے مل جائیں گی۔
اور اب چونکہ وہ اس گھر کی ‘مالکن’ تھی اس لیے اس دفعہ اس سے کوئی استفسار بھی نہ کر سکا۔

ہولے ہولے قدم اٹھاتی وہ اب کے آگے کو بڑھتے ہوئے اپنی کلائیوں میں ذوالنورین کے میڈیسن لے کے سو جانے کے بعد پہنی ہوئی چوڑیوں کو ہولے سے چھنکانے لگی۔
رات کو کی گئی ذوالنورین کی بے باک اور پرشدت گستاخیوں نے اسے اس قدر خوفزدہ کر دیا تھا کہ وہ بس اب پلک جھپکنے میں اس کی شرائط مکمل کر کے یہاں سے نکلنا چاہتی تھی۔

وہ چوڑیاں کھنکھناتی آگے بڑھ رہی تھی جب اُسی دن والے کمرے سے اسے آج بھی آواز سنائی دی تو اس کا دل زوروں سے دھڑک اٹھا۔

“کیا یہ وہی ہیں؟” دل و دماغ میں اودھم مچاتے اس سوال کو سوچتی وہ اس کمرے کے بند دروازے کی جانب بڑھی تو دل کی دھڑکن اپنی ترتیب فراموش کرنے لگی۔

بند دروازے کو ہولے سے وا کرتے ہوئے اس نے ایک قدم اندر رکھ کے جب پہلی نگاہ کمرے میں دوڑائی تو گویا جامد سی ہو گئی۔

اس قدر مکمل حسن، اس قدر جاذبیت و ملاحت۔
شہد رنگ خوبصورت آنکھیں جو اس وقت خالی خالی انداز میں اسے تک رہی تھیں، اسے بے ساختہ اوپر بند کمرے میں خفا سے بیٹھے مرد کی یاد دلا گئیں۔
اس قدر مماثلت اور اس قدر خوبصورتی۔

وہ جیسے اتنا مکمل حسن دیکھ کے دنگ رہ گئی تھی لیکن۔۔۔۔
اس مکمل حسن کے ساتھ اسے جس چیز نے ساکت کیا تھا۔
وہ تھا اس سراپا ء حسن کے پیروں کا لوہے کی زنجیر میں مقید ہونا اور شاید یہی قید اس خوبصورت چہرے کی شادابی بھی نچوڑ کے لے گئی تھی۔

خود کو ہمت کے ڈھیروں درس دیتی وہ آگے بڑھی تو اس کے ہاتھوں میں پہنی چوڑیاں اس کے قدموں کے حرکت کے ساتھ کھنک اٹھیں۔
اور اس نے واضح دیکھا تھا کہ اس کھنک کے ساتھ ان شہد رنگ آنکھوں کے خالی پن میں لحظے بھر کے خوشنما رنگ دوڑ جاتا تھا۔

“آ۔۔۔آپ؟” وہ سمجھ نا سکی کہ وہ اس سے کیا پوچھے یا انہیں اپنے متعلق کیا بتائے۔
اس کے بولنے پہ انہوں نے ہولے سے کپکپاتا ہوا ہاتھ اس کی جانب بڑھایا تو وہ ٹھٹھک گئی لیکن جب ان کی توجہ کو محور چوڑیوں کو پایا تو آہستگی سے ہاتھ آگے بڑھایا۔

“میرے۔۔میرے نین کو پسند ہیں یہ۔وہ میرے لیے یہ لینے گیا ہے۔وہ آئے گا تو میں پہنوں گی۔” محبت سے اس کی چوڑیوں پہ انگلی پھیرتے ہوئے وہ خالی خالی سے لہجے میں گویا ہوئیں تو ان کے سامنے کھڑی زحلے کے دماغ میں دھماکے ہونے لگے۔

“ی۔۔یہ۔۔۔۔۔؟؟” اس کا دل دکھ کی شدت سے جیسے پھٹنے والا ہو گیا۔
“اس قدر بے رحمی و ظلم؟” اس نے آنسووں سے تر آنکھوں کے ساتھ اس بے رنگ حسن کی دیوی کو دیکھا جو اپنا ذہنی توازن کھوئے اپنے ہی گھر میں موجود، اپنے معذور بیٹے سے انجان آنکھوں میں ایک الوہی سی چمک لیے چوڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں۔
اس کا دل انہیں دیکھ کے اس قدر بھاری ہوا تھا کہ وہ اپنی کلائیوں سے چوڑیاں اتار کے ان کے پاس رکھتی ایک جھٹکے سے پلٹی اور روتے ہوئے نجانے کتنی ٹھوکروں کی زد میں آتی اپنے کمرے میں پہنچی۔

کمرے کا ادھ کھلا دروازہ کھول کے جب وہ اندر داخل ہوئی تو بیڈ پہ جاگ کے نیم دراز ہوئے ذوالنورین پہ نگاہ پڑی۔
اسے دیکھتے ہی اس کے اندر کا درد اس قدر حاوی ہوا تھا کہ وہ بنا سوچے سمجھے آگے بڑھی اور اس کے نزدیک بیڈ پہ براجمان روتے ہوئے وہ اس کے کشادہ سینے میں چہرہ چھپاتی دونوں بازو اس کی گردن کے گرد حائل کر گئی۔

وہ جو موبائل کی رنگ ٹیون کی وجہ سے چھ سے سات منٹ قبل ہی کچی نیند سے بیدار ہوا بیزاری سے نیم دراز اس کا انتظار کر رہا تھا لیکن اس کی بے دم ہوئی حالت اور اس پہ مستزاد اس کی ایسی بے اختیارانہ حرکت پہ اس کی بیٹ مس ہوئی تھی۔
ایک نظر جھکا کے اس نے سینے سے لگی ہچکیاں بھرتی زحلے کو دیکھا اور پھر بہت آہستگی کے ساتھ اپنا بایاں ہاتھ اٹھا کے اس کی کمر کے گرد لپیٹا اور رب کرنے لگا۔

“م۔۔میں ملی ہوں اُن۔۔ان سے۔” اس کا لمس پاتے ہی وہ ہچکیوں کے درمیان بمشکل گویا ہوئی تو اس کی پشت کو رب کرتا اس کا ہاتھ اسی زاویے پہ ساکت ہوا۔

“وہ۔۔وہ ٹھیک نہیں ہیں۔وہ بالکل بھی ٹھیک نہیں ہیں۔” اس کی گردن کے گرد حائل بازووں کو کستے ہوئے وہ انہی جملوں کی گردان کرتے ہوئے قدرے بلند آواز کے ساتھ رو رہی تھی۔
جبکہ وہ بس ششدر سا اپنی جگہ پہ نیم دراز اس کے کیے گئے انکشاف سے زیادہ اس کے رونے اور اس قدر شدید ری ایکشن پہ خائف ہوا تھا۔

“مس ابراہیم؟” اس نے آہستگی سے اسے پکارا لیکن وہ بنا توجہ دیے بس بڑبڑاتی ہوئی سسکیاں بھرتی رہی۔

“مس ابراہیم؟” اب کی بار پکار کے ساتھ ساتھ کمر کو رب کرتے ہاتھ کا دباو اس کے پہلو پہ ڈالا تو اس کا سسکیاں بھرتا وجود جیسے ایک دم سے ساکت ہوا۔

اس کو سینے میں بھینچے نیم دراز ذوالنورین کو اس پل یوں محسوس ہوا جیسے وہ اس کے ہاتھ کی اس بے باک حرکت پہ اپنی سانس تک روک چکی تھی۔

اگلے ہی پل اس نے سرعت سے بازو اس کی گردن سے نکالتے ہوئے پیچھے ہٹنا چاہا لیکن کمر کے گرد حائل بازو کی گرفت نے اسے اس کے ارادوں میں کامیاب ہونے سے بچا لیا۔

شرم و خجالت سے سرخ مگر آنسووں سے تر چہرہ لیے وہ جھکی پلکوں کے ساتھ اس کے حصار میں مقید وہاں سے خود کے غائب ہونے کی دعائیں مانگ رہی تھی۔

“آئم سوری۔” ایک نظر اس کی سینے والی جگہ سے اس کے آنسووں کی بدولت گیلی ہو جانے والی شرٹ کو دیکھ کے شرمندگی سے گویا ہوئی۔

“میں جانتا ہوں کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں لیکن آپ شاید یہ نہیں جانتی کہ جس نین کا انتظار وہ سالوں سے کر رہی ہیں وہ اس نین کو اب پہچانتی نہیں ہیں۔” روزِ اول سے لے کے آج یہ پہلی بات تھی جب سامنے بیٹھے شخص نے اپنے کرخت اور تند لب و لہجے کی بجائے نرمی سے بات مکمل کی تھی۔
لیکن اس کے کیے گئے انکشاف پہ وہ سن سی ہوتی اسے بے ساختہ تکنے لگی جس کی خوبصورت شہد رنگ آنکھوں کے کنارے ہلکے گلابی ہو رہے تھے۔

“تم۔۔۔میرا مطلب ہے کہ وہ اس کمرے میں محصور کیوں ہیں؟” اس کے سوال پہ اس کے چہرے کو تکتے ذوالنورین کے چہرے کے تاثرات پل میں متغیر ہوئے جبکہ کمر کے گرد لپٹے بازو کی گرفت بھی فورا ڈھیلی پڑی۔

“یہ جاننا آپ کا کام نہیں ہے۔آپ کا کام یہ ہے کہ آپ انہیں کیسے اُس کمرے سے نکال کے مجھ تک لے کے آتی ہیں۔” اس کے چہرے کی نرمی واپس سے اسی تندہی میں تبدیل ہوئی تو اسے جیسے ہوش آیا۔
وہ فورا گڑبڑاتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھنے لگی جب اس نے اس کے دوپٹے کے پلو کو حسبِ سابق اپنی گرفت میں لے کے واپس بیٹھنے پہ مجبور کر دیا۔

“اور اگر اس سارے کام کے دوران آپ نے کسی سے بھی کسی بھی صورت میں میری ماں کے حوالے سے کوئی ‘کانٹریکٹ’ طے کرنے کی کوشش کی تو آپ اس دن ‘ذوالنورین میر’ کا دوسرا روپ دیکھیں گی۔” اس کے کیے گئے پچھلے کانٹریکٹ کے پیشِ نظر وہ اس کو سرد نگاہوں سے گھورتے ہوئے سردمہری سے گویا ہوا تو اس کے دل کو گہری چوٹ لگی۔
لیکن وہ بنا کچھ بھی ظاہر کیے اٹھی اور اس سے دور اپنی کرسی پہ بیٹھ گئی۔
جبکہ وہ سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کے میسجز میں مصروف ہو چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سب کے ساتھ لاونج میں بیٹھی بظاہر باتوں میں مصروف تھی لیکن نظر بلا ارادہ بار بار دیوار گیر گھڑی کی طرف جا رہی تھی۔
جب بالآخر اس کے جان لیوا انتظار کے بعد حماد صاحب کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔

“بیگم صاحبہ!چھوٹی بیگم کو باہر صاحب بلا رہے ہیں۔کہہ رہے ہیں کہ چھوٹی بیگم صاحبہ کو کہیں لے کے جانا ہے۔” چند لمحوں کے بعد گردیزی ہاوس کا بہت پرانا ملازم حماد صاحب کا پیغام لیے اندر آیا تو اس کے دل میں کھدبد سی ہونے لگی۔
لیکن جب بی جان سمیت سب نے بنا کوئی سوال جواب کیے جانے کی اجازت دی تو وہ اندر سے اپنی بڑی چادر لیے تیزی سے باہر کی جانب بڑھی۔

سیاہ مرسڈیز جس کی ونڈوز پہ سیاہ شیڈز لگائے ہوئے تھے اس کی ڈرائیونگ سیٹ پہ براجمان حماد صاحب نے اسے بیک سیٹ پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا کہ ایسے کسی نظروں میں آنے کا خدشہ کم ہوتا ہے۔

“آپ ٹھیک ہیں نا؟” حماد صاحب نے استفسار کیا تو اس نے فورا سر اثبات میں ہلاتے ہوئے جواب دیا۔

“جی۔” اس نے مختصر سا جواب دیتے ہوئے دل ہی دل میں جلدی سے ہاسپٹل پہنچنے کی دعا کرنے لگی۔

“کیا گھر میں کسی کو بھی علم نہیں ہے رہبان کی کنڈیشن کے متعلق؟” اچانک خیال آنے پہ اس نے انہیں مخاطب کیا تو وہ چونکے۔

“نہیں کیونکہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے۔اس کی جاب کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ ایسی اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے اس لیے کوشش کی جاتی ہے کہ گھر میں اطلاع دے کے سب کو پریشان نہ کیا جائے۔” احتیاط سے موڑ کاٹتے ہوئے انہوں نے جواب دیا۔

“لیکن آپ آنٹی کو بتا دیا کریں کیونکہ وہ ماں ہیں اور ایسی حالت میں اولاد کے لیے اس کی ماں کی دعا بہت اہم ہوتی ہے۔” اس نے آہستگی سے ان کو کہتے ہوئے اپنی انگلیاں چٹخائیں تو وہ ہولے سے مسکرا دیے۔

“بیٹا!یہ جو مائیں ہوتی ہیں ان کے اندر اللّٰہ پاک نے فطری طور پہ ہی ایسے سینسرز فٹ کر دیے ہیں کہ وہ بنا کسی کے بتائے ہی اپنی اولاد کی تکلیف کو جان لیتی ہیں۔اولاد سرحد پار ہو یا پاس، ایک ماں کا دل اس کی تکلیف کو جان لیتا ہے۔” انہوں نے اپنے مخصوص متانت بھرے نرم انداز میں اسے جواب دیا تو وہ ان کی بات سمجھتی سر ہولے سے ہلا گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کیسے ہو؟” حماد صاحب اور حمدان کے باہر جانے پہ چند لمحے ہمت مجتمع کرنے کے بعد وہ ہاسپٹل آنے کے پندرہ منٹس بعد اس سے اس کا حال پوچھ رہی تھی جس کے لیے وہ اتنے دنوں سے پریشان تھی۔

“ایسے تین فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہو کے پوچھیں گی تو سچ تھوڑی بتاوں گا۔یہاں نزدیک آ کے پوچھیں تو میں آپ کو تفصیل سے بتاوں گا کہ میں ‘کیسا’ ہوں؟” اسے اپنی پرتپش بے باک نگاہوں کی زد میں رکھے وہ اپنی خوبصورت آواز کا جادو بکھیرنا شروع ہو چکا تھا جبکہ وہ ہاسپٹل کے بستر پہ بھی اس کی ایسی فضول گوئیاں سن کے شاکی ہوئی تھی۔

“نہیں، تم مجھے یہیں بتا دو۔” اس نے بنا وہاں سے ہلے اپنی بات پہ زور دیا تو وہ کھِلتی ہوئی مسکان کے ساتھ گویا ہوا۔

“بے فکر رہیں زخمی ہوں میں اس لیے پوری کوشش کروں گا کہ شریفانہ انداز میں ہی بتاوں کہ کیسا ہوں؟”آنکھوں میں شریر لپک لیے وہ ذومعنی انداز میں بولتا اس کے چہرے پہ گلال بکھیر گیا جبکہ دھڑکنیں تو پہلے ہی ردھم منتشر کر بیٹھی تھیں۔

ارادہ تو یہی ہے کہ فقط باتیں کریں گے
لیکن پچھلی ملاقات کی مانند بہک گئے تو معذرت۔۔۔!!

اس کے گلال ہوتے چہرے کو دیکھ کے اس نے خمار آلود لب و لہجے میں کہا تو اس کے رگ و پے میں سنسنی سی دوڑ گئی جبکہ دل گویا کانوں میں دھڑکنے لگا۔

“آبگینے؟” اس کی جذبوں کی شدت سے چور پکار پہ اس نے بے ساختہ مٹھیاں زور سے بھینچتے ہوئے خود پہ قابو پانے کی کوشش کی لیکن اس کی نگاہوں کی حدت سے وہ پگھلنے لگی تھی۔

“رہبان پلیز، مجھے ایسے مت دیکھو۔” وہ اس حدت سے روہانسی ہوتی اسے ٹوک گئی تو آنکھوں کی شوخ چمک اور لبوں کی کھلتی مسکان دوبالا ہو گئی۔

“اوکے، یہاں آئیں ورنہ اگر جو میں اٹھ کے آپ تک آیا تو میں فقط باتوں تک نہیں رہوں گا۔” اس نے اسے دیکھتے ہوئے اب کہ سنجیدگی سے وارن کیا تو وہ بے بسی سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے بیڈ کے نزدیک پہنچی۔

“کیسے ہو؟” بیڈ کے نزدیک کھڑے ہوتے اس نے اپنا سوال پھر سے دہرایا تو اس نے دایاں ہاتھ بڑھا کے اس کی کلائی کو جھکڑتے ہوئے ایک زوردار جھٹکے سے اپنی سمت کھینچا تو وہ ٹوٹی شاخ کی مانند اس کے سینے پہ جا گری۔

“رہبان!” اس کے زخم دُکھ جانے کے خوف سے وہ چلائی لیکن وہ نظرانداز کرتا اسے اپنے دائیں بازو کے حلقے میں لیتا زور سے اپنے سینے میں بھینچ گیا۔

“اب ٹھیک ہوں میں۔” اس کی گردن میں چہرہ چھپاتے ہوئے وہ خمار آلود لہجے میں بولا تو اس کا وجود کانپ اٹھا۔

“رہبان پلیز، بس کرو تمہارے زخم خراب ہو جائیں گے۔” مزاحمت کرتے ہوئے اس نے اسے دور ہٹانے کی کوشش کی لیکن گرفت قابلِ دید تھی۔

“اگر آپ یونہی کُشتی لڑنے کی کوشش کرتی رہیں تو شاید ضرور خراب ہو جائیں اس لیے چپ کر کے مجھے سکون لینے دیں۔” اس کے کسمسانے پہ چوٹ کرتے ہوئے اس نے اس کے دوپٹہ مزید ڈھیلا کرتے ہوئے اب کی بار گردن کو اپنے ہونٹوں کا نشانہ بنایا تو اس کے شدت بھرے لمس پہ اس نے لرز کے بے ساختگی میں اس کے بائیں کندھے کو عین وہیں سے دبوچا جہاں اسے گولی لگی تھی۔

اپنے کندھے میں اٹھنے والے درد کو ضبط کرتے ہوئے وہ اس کے وجود کی نرمیوں سے سکون حاصل کرتا ہوا اس کی گردن، اس کے رخساروں، اس کے بالوں، اس کی آنکھوں کو اپنے ہونٹوں کی حدت سے دہکاتا جا رہا تھا۔

“ر۔۔رہبان!یہ سب میرے گھر والوں نے ک۔۔۔۔۔” اس کی شوریدگی کو روکنے کے لیے اس نے اسے روکنے کی سعی کی لیکن وہ بہت سہولت سے اس کے ہونٹوں پہ اپنی انگشت شہادت رکھے مخمور نگاہوں سے اِن ادھ کھلے ہونٹوں کے اوپر موجود تل کو تکتے ہوئے اسے نشانہ بنانے کو اس کے چہرے پہ جھک رہا تھا جب دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا تھا۔

اس اچانک افتاد پہ اسے اس سے فاصلہ بڑھانے کا موقع ہی نہ ملا اور نووارد کمرے کی دہلیز پار کرتا اندر آن رکا تھا۔
اس نے ہڑبڑاتے ہوئے گردن گھما کے نووارد کو دیکھنا چاہا جب اس پہ نظر پڑتے ہی آبگینے کا چہرہ حیرت کی زیادتی سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔
جبکہ رہبان کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ پڑنے لگا تھا۔

اور نووارد ان دونوں کو یوں اس طرح ایک دوسرے میں گم بے انتہا پاس بیٹھے دیکھ ششدر تھا۔
اور ان تینوں افراد کے مختلف تاثرات سے سجا ہاسپٹل کا روم اس وقت گہرے سناٹے کا شکار آنے والے ساعتوں کا منتظر تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا داد بخش صاحب کے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب اندر سے آتی مانوس سی نسوانی آواز پہ وہ چونک اٹھا۔

“آغا جان!مجھے آپ سے ضرغام چاچو اور نگاہ چچی کے متعلق بہت ضروری بات کرنی ہے۔” جہاں اسے اس کی بات نے ٹھٹھکایا تھا وہیں اس کے واپس ‘چاچو اور چاچی’ کے ٹریک پہ آنے پہ زور سے مٹھیاں بھینچیں۔

“کیسی بات کرنی ہے؟” داد بخش صاحب کی آواز آئی۔
“ضرغام چاچو نے نگاہ چچی سے نکاح ز۔۔۔۔۔۔” بنا اس کی بات مکمل سنے اس نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا اور بنا کچھ بولے لمبے لمبے ڈگ بھرتا چہرے پہ گھمبیرتا لیے اس کی جانب بڑھا جو کمرے میں موجود سنگل صوفے پہ بہت اطمینان سے براجمان تھی۔

بہت ہی غیرمتوقع طور پہ اسے سامنے دیکھ کے اس کے اوسان خطا ہو گئے کیونکہ اس کے چہرے کے ایسے تاثرات اس نے تب دیکھے تھے جب وہ کڈنیپ ہوئی تھی اور تب اس نے جو تباہی مچائی تھی وہ اکثر یاد آنے پہ وہ تھراہ جاتی تھی۔
لیکن اس سے پہلے وہ اپنے بچاو کا کوئی سدِباب کرتی وہ اس تک پہنچتا مضبوطی سے اس کی کلائی اپنے ہاتھ میں جھکڑتے رکا۔

“نگاہ اور مجھ پر غورو فکر کرنے کی بجائے مجھ پہ اور اپنے آپ پہ فوکس کریں گی تو آسانی ہو گی آپ کے لیے۔” سرد لہجے میں بات مکمل کر کے وہ اس کو ساتھ لیے مڑا تو اسے جیسے ہوش آیا۔
“چھوڑیں میرا ہاتھ۔آغا جان۔۔۔” اس نے گڑبڑاتے ہوئے داد بخش صاحب کو پکارا۔

“یہ آپ کے متعلق مجھے اب کوئی حکم نہیں دے سکتے کیونکہ جو حکم انہوں نے دینے تھے وہ دے چکے ہیں۔اب میری باری ہے۔” ایک کاٹ دار نگاہ ان پہ ڈالتے ہوئے اس نے چبھتے ہوئے لہجے میں ان پہ وار کیا تو ان کے چہرے کا رنگ فوراً تبدیل ہوا۔

جاری ہے۔