57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک

ہال میں اس کے کہے گئے الفاظ کے جواب میں ایک ہولناک سناٹا چھا گیا جسے داد بخش صاحب کی ہچکچاتی آواز نے توڑا۔

“لیکن وہ آپ کی سگی بھتیجی نہیں ہے۔” ان کے الفاظ پہ اس کے اندر بہت کچھ زور سے ٹوٹا تھا اور ایسا ٹوٹا تھا کہ اس ٹوٹنے کی کرچیاں اس کی خوبصورت آنکھوں میں نمایاں ہونے لگیں تھیں۔
زور سے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچے وہ آنکھوں میں شدید ترین چبھن لیے خود پہ ضبط کے گہرے بندھن باندھنے کی کوشش میں تھا۔
لیکن ان کے ان الفاظ نے گویا برسوں پرانے زخموں کو چھیڑ ڈالا تھا۔

“اس قدر مخالفت کیوں کر رہے ہیں آپ لوگ جبکہ وہ میری سگی بھتیجی بھی نہیں ہیں۔” گزرے لمحوں نے جب سماعتوں پہ دستک دی تو جیسے اک طوفان سا اندر امڈ آیا جس کے زیرِ اثر وہ آگ بگولہ ہوتا ان کی جانب بڑھا تھا۔

“آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ہاتھ اٹھا کے اس نے انہیں کچھ کہنا چاہا لیکن اپنے الفاظ کو فقط اُس کی عزت کی خاطر ضبط کرتا وہ بپھرے طوفان کی مانند مڑا اور اپنے راستے میں آتی ہر چیز کو اپنے پیروں کی ٹھوکر سے اڑاتا ہوا صدر دروازے کی جانب بڑھ گیا۔

“ضرغام!” ثمرین بیگم اس کی مچائی گئی تباہی کو ششدر نگاہوں سے دیکھتیں اس کے باہر نکلنے پہ جیسے ہوش میں آئیں تھیں لیکن تب تک وہ دہلیز پار کر چکا تھا۔

“عیسیٰ، جازم اس کے پیچھے جاو، وہ بہت غصے میں ہے کہیں کوئی نقصان نہ کر بیٹھے۔” انہوں نے روتے ہوئے مڑ کے وہاں متفکر بیٹھے بیٹوں کو بلایا تو وہ تیزی سے اٹھ کے باہر چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فل سپیڈ پہ گاڑی بھگاتے ہوئے وہ اپنے اندر موجود اشتعال کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اشتعال تھا کہ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتا جا رہا تھا۔
ایکسیلیٹر پہ پاوں دباتے ہوئے اس نے گاڑی کی سپیڈ مزید بڑھاتے ہوئے وہ اس گھٹن زدہ ماحول سے بھاگنے کی تگ و دو میں تھا جہاں اس کے لیے اس کی چاہت کو گلے کا پھندہ بنایا جا رہا تھا۔

اس کے بھٹکتے ذہن کو اچانک موبائل کی بلند ہوتی رنگ ٹیون پہ جھٹکا سا لگا تھا۔
اس نے گردن گھما کے بتدریج سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ بلنک کرتی سکرین کو دیکھا، اس پہ دکھائی دیتے نمبر کو دیکھ کے اس نے نگاہ واپس ونڈو سکرین پہ جما دیں لیکن کال کرنے والا ازلی ڈھیٹ تھا اس لیے اس کے ایک بار کال نہ اٹھانے پہ اس نے یکے بعد دیگرے دو تین دفعہ جب کال کی تو چارو ناچار اس نے کال پک کی۔

“کہاں ہو؟” دوسری جانب سے چھوٹتے ہی سوال پوچھا گیا تو وہ جو سلام کرنے لگا تھا اپنے لب بھینچ گیا۔

“گاڑی میں۔” اس نے مختصر سا جواب دیتے ہوئے نگاہیں سامنے جمائیں۔

“میری طرف آ جاو، مجھے ملنا ہے تم سے۔” اس نے سنجیدگی سے کہا تو اس نے بھنویں سکیڑتے ہوئے موبائل کو گھورا۔

“تمہاری کون سی طرف ہے؟ گھر سے تم بھی بیوی سمیت دربدر ہو۔” سرد لہجے میں بولتے ہوئے وہ اسے بلبلانے پہ مجبور کر گیا۔

“دربدر نہیں ہیں ہم بلکہ ہنی مون منا رہے ہیں۔” اس نے جِلبلاتے ہوئے اسے جواب دیا لیکن اس نے اثر لیے بنا گاڑی کی سپیڈ مزید تیز کی۔

“نکاح سے انکار کیوں کر رہے ہو؟” اس کی خاموشی پہ دوسری جانب وہ بہت سوچ بچار کے بعد بولا تو اس کے الفاظ پہ ضرغام کی پیشانی کے بل گہرے ہوئے جبکہ سٹیئرنگ پہ جمے ہاتھوں کی رگیں پھولنے لگیں۔

“تو کیا کروں؟جس محبت کو اس کی عزت کی خاطر چھپائے بیٹھا تھا اسے ایک الزام کی صورت میں گلے میں پہن لوں اور ایسا الزام جو ہمیشہ انہیں میرے ساتھ بندھ کے اذیت دیتا رہے۔” اس کے لہجے میں ایک وحشت برپا تھی جو اس کی اندرونی اذیت و بے بسی کا پتہ دے رہی تھی۔

“لیکن ضرغام ت۔۔۔۔۔۔۔” دوسری جانب اس کی کیفیت کو سمجھتے ہوئے اس نے کچھ کہنا چاہا جب وہ سردمہری سے اس کی بات قطع کر گیا۔

“رہبان سٹاپ اٹ!میں اس بارے میں مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔تم آپ لوگ یہ فراموش کر بیٹھے ہو کہ میں اک لڑکی کو اپنے ساتھ باندھ چکا ہوں اگرچہ میرے دل کے کواڑ خانوں میں برسوں پرانی چاہت پنجے گاڑھ کے بیٹھی ہے لیکن اس رشتے کی بدولت وہ مجھے اچھی بھی لگتی ہیں اور میں محبت بھی کرتا ہوں ان سے اور میں ہرگز بھی اپنے اس قدم سے ان دونوں ہستیوں کو تکلیف نہیں دے سکتا جنہیں میں چاہتا ہوں۔” اس نے سلگتے ہوئے مگر قدرے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہتے ہوئے اپنا موقف اس کے سامنے پیش کرنا چاہا۔

“تو کیا اگر تم یہ نکاح نہیں کرو گے تو اس کے لیے تکلیف کا سبب پیدا نہیں ہو گا؟ وہ کالج ٹرپ کے دوران مسنگ ہوئی ہیں یہ بات انہیں باہر نکلنے نہیں دے گی، ان کی اور تمہاری غیرمہذبانہ تصاویریں پورے شہر یا ملک میں وائرل ہو چکی ہیں اور ایک لڑکی ہونے کی وجہ سے یہ بات ان کے لیے کس قدر تکلیف کا باعث بنے گی اس بات کا اندازہ ہے تمہیں؟” رہبان جو اس کی ساری باتوں اور کیفیت کو سمجھتا تھا اس وقت جان بوجھ کے اس کی تائید سے احتراز برتتا اسے اس وقت جلدبازی سے روکنا چاہتا تھا۔

“تمہارے لیے اس میس سے نکلنا آسان ہے لیکن ان کی پوری زندگی میں تمہارا نام ایک دھبے کی صورت میں لگ چکا ہے، آج اگر وہ کسی سے ان کا نکاح کرتے ہیں تو وہ ایک الزام کی صورت میں اس شخص کی زندگی میں داخل ہو گی اور ساری عمر اس کے سامنے سر نہ اٹھا سکے گی۔” وہ مزید بولا تو اس کی سنجیدگی سے کہی باتوں پہ اس کے اندر گھٹن اس قدر بڑھنے لگی تھی کہ وہ گاڑی سڑک کنارے کھڑی کرتا بے بسی سے سر سٹیئرنگ پہ ٹکا گیا۔

“یہ جو کچھ تمہاری زندگی میں اچانک برپا ہوا ہے اس کا سبب میں ہوں مگ۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس کی بوجھل سانسوں کو محسوس کر کے وہ بولا تو اس نے بے چینی سے اس کی کال منقطع کی اور دونوں ہاتھوں میں سر زور سے جھکڑتے ہوئے بے ساختہ خدا سے دعاگو ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھاری پلکوں سے بوجھل آنکھوں کو بمشکل کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لینا چاہا تھا جب دکھتے سر اور رخسار میں ہونے والے عجیب سے درد کے سبب وہ واپس تکیے پہ گرتی دونوں ہاتھوں کو حرکت دیتی سر تھامنے کو تھی جب بائیں کلائی میں درد کی ٹیسیں سی اٹھنے لگیں۔

اپنے وجود میں ہونے والی تکلیف کو بمشکل برداشت کرتے ہوئے اس نے پھر سے آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کی تو نگاہ ایک نامانوس سے منظر سے ٹکرائی تھی۔

“ہاو آر یو میم؟” وہ ابھی مندی مندی آنکھوں سے اردگرد کا جائزہ لینے کی ہی کوشش میں لگی تھی کہ ایک اجنبی سی نسوانی آواز اس کی سماعتوں میں گونجی۔
اس نے بمشکل گردن گھمائی تو سامنے کھڑی نرس کو دیکھ کے اسے اندازہ ہوا کہ وہ اس وقت ہاسپٹل پہ موجود ہے، یہ احساس ہوتے ہی اس نے درد سے دکھتی آنکھیں خود پہ گھمائیں تو نگاہوں میں چیختے چلاتے ذوالنورین میر کا سراپا لہرایا تو زخموں میں درد کی لہر شدت سے سرائیت کر گئی۔

وہ نرس کے سوال کا جواب دیے بغیر اپنے وجود کو ہی گھور رہی تھی جب خود پہ پرتپش آنکھوں کی لپک کے احساس نے اسے دوبارہ پلکیں اٹھانے اور اردگرد گھمانے پہ مجبور کیا تو اس کی حرکت کرتی پلکیں کھڑکی کے پاس وہیل چیئر پہ بیٹھ کے خود کو تکتے وجود پہ جیسے ٹھہر سی گئی تھیں۔

“آپ کے ہزبینڈ بے حد پریشان تھے آپ کے لیے، جب سے آپ کو لے کے آئے ہیں ایک منٹ کے لیے بھی روم سے باہر نہیں نکلے۔” نرس نے جو اسے اُس کو دیکھتے ہوئے پایا تو اس کے بیڈ کو تکیے کی جانب سے تھوڑا اوپر کرتی ہوئی شگفتگی سے بولی تو اس کا چہرہ اس کے الفاظ پہ مارے خوف کے سپید پڑ گیا۔
اس نے خوفزدہ انداز میں اس کی جانب دیکھا جو اس کے کہے گئے الفاظ سے بے نیاز اسی طرح سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

“آپ لوگوں کی لو میرج ہے؟” نرس جو اس کے ٹانکے چیک کرنے اور اسے میڈیسن دینے آئی تھی وہ ان دونوں کو ایک دوسرے کو گھورتے پا کے مسکراتے ہوئے بولی تو اسے جیسے ہوش سا آیا۔

“ہماری شادی نہیں۔۔۔۔۔۔” وہ ابھی اس کی غلط فہمی دور کرنے ہی والی تھی جب دروازہ ناک کرتے ہوئے ڈاکٹر اندر داخل ہوا۔
اور پھر ڈاکٹر کے چیک اپ کے دوران نیم دراز ذحلے ابراہیم وہیل چیئر پہ بیٹھے ذوالنورین میر کو کن اکھیوں سے دیکھتی بس یہ سوچ رہی تھی کہ اس کے زخمی وجود کو اُس کے کمرے سے اٹھا کے یہاں ہاسپٹل کون لایا تھا؟؟
جبکہ اس کے خیالات سے بے نیاز وہ اب کھڑکی کے پار دیکھنے میں محو ہو چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے جب سے ہوش آئی تھی وہ آمنہ بیگم(دادو) کی گود میں منہ چھپائے سکڑی سمٹی سی لیٹی ہوئی تھی۔

“یہ صفدر سائیں کے بیٹوں کی دشمنی ضرغام سے کیونکر بن گئی؟ان کی بچی کی شادی تو رہبان سے ہوئی ہے نا؟” مہوش ملک جنہیں یہ لگا کہ شاید وہ اس وقت سو چکی ہے انہوں نے اسی کمرے میں موجود خواتین سے الجھے ہوئے لہجے میں استفسار کیا۔

“شاہ حویلی والوں کا عرصے سے ہم لوگوں کے ساتھ بیر چل رہا ہے کیونکہ اسد نے ان کے خلاف بہت سے کیسز لڑے ہیں اور ضرغام بھی بزنس میں انہیں شکست دیتا آیا ہے اور سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ ضرغام کی شہہ زوری پہ جب رہبان وہاں سے ان کی بچی کو لے کے نکلا تو انہیں حویلی سے باہر لے جانے والا اور ان کے بعد حویلی والوں کو ان کے پیچھے جانے سے روکنے والا ضرغام تھا اس لیے وہ سب اس کے دشمن بن بیٹھے ہیں۔ ان کا یہی ارادہ ہے کہ پہلے ضرغام کو کسی طریقے سے توڑ سکیں اور پھر رہبان پہ حملہ کریں کہ ان کی بچی کو اتنی آسانی سے حویلی سے لے جانا تبھی ممکن ہو سکا تھا جب ضرغام اور اس کے گارڈز کی فوج نے انہیں ڈاج دیے رکھا۔” ثمرین بیگم جو ابھی کچھ دیر قبل ہی اسد صاحب، احمد صاحب اور داد بخش صاحب کی تفصیلی گفتگو سن کے آئی تھیں انہوں نے تفصیل سے آگاہ کیا تو ان کی باتیں سنتی شہرے نے گھٹی گھٹی سی سانس خارج کی۔

وہ شاہ حویلی والوں کی گئی گھٹیا حرکتوں کے متعلق تو جان چکی تھی لیکن وہ ابھی یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے گھر والے کیا سوچے بیٹھے ہیں؟

“نگاہ سے ہوئی بات؟ضرغام پہنچا اس کی طرف؟” ضرغام جسے نکلے چار گھنٹے ہونے والے تھے اس کی طرف سے پریشان ہوتیں آمنہ بیگم نے ثمرین بیگم سے استفسار کیا تو وہ رونے لگیں۔

“نہ وہ نگاہ کی طرف ہے نہ رہبان کی طرف ہے۔میرا دل بہت پریشان ہو رہا ہے خالہ جان۔” انہوں نے سسکتے ہوئے جواب دیا تو آمنہ بیگم کی بھی آنکھیں نم ہونے لگیں۔

“پریشان نہیں ہو بچے، آ جائے گا واپس کچھ دیر میں۔صورتحال ہی ایسی بن گئی ہے کہ ہر کوئی اس وقت اپنی جگہ پریشان حال ہے۔ یہ بات اس کے لیے آسان نہیں ہے کہ پہلے سے نکاح شدہ ہوتے ہوئے وہ بھی اس صورت میں جب دو دن بعد شادی ہو ایسے میں اپنے سے کم عمر لڑکی سے بحالتِ مجبوری نکاح کرنا۔” اپنی ہی پوتی کے متعلق اس طرح سے بات کرتے ہوئے انہیں بے حد تکلیف ہوئی لیکن وہ اس حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتی ہوئی بولیں تو ان کے آخری الفاظ پہ ان کی گود میں لیٹی شہرے کا وجود جھٹکوں کی زد میں آ گیا۔
وہ گم ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ ان کے کہے گئے الفاظ کو اچھے سے سمجھنے کی سعی کر رہی تھی جب مہوش بیگم بولیں۔

“آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں خالہ جان، اگر جو ضرغام کی تصویریں ساتھ وائرل نہ ہوتیں تو شہرے کا نکاح ہم موسیٰ سے بھی کر سکتے تھے لیکن ابھی کے لیے یہ ضروری ہو چکا ہے کہ ان دونوں کا نکاح کیا جائے مگر ضرغام ہے کہ پروں پہ پانی پڑنے ہی نہیں دے رہا اور جب شہرے کو پتہ چلا تو وہ کیا ردعمل دے گی؟” ان کے کہے گئے الفاظ پہ تو جیسے شک و شبہہ کی گنجائش ہی نہ رہی تھی۔

بے یقینی، حرکت، صدمے، افسوس، ناراضگی اور پھر نفرت کے جذبات یکایک اس کے دل و دماغ میں جنم لیتے گئے اور انہی کے زیرِ اثر وہ ایک جھٹکے سے آمنہ بیگم کی گود سے نکلی۔

“ضرغام چاچو اور میرے ردِعمل کا خیال سب کو آ رہا ہے، کسی کو نگاہ چچی کا احساس ہے کہ ان پہ کیا بیتے گی یہ سب دیکھ یا سن کے اور آپ سب لوگوں نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں ضرغام چاچو کے ساتھ نکا۔۔۔۔۔۔۔۔” آخری لفظ بولتے ہوئے اس کا دل اس قدر خراب ہوا کہ وہ لب بھینچتی ہوئی افسوس سے انہیں دیکھنے لگی جو اس کے اچانک بولنے اور اٹھنے پہ حیران تھے۔

“دیکھو میری بچی یہ اس وقت بہت ضروری ہے تمہاری اور ضرغام کی تصو۔۔۔۔۔۔۔” اس کی جذباتی حالت کو دیکھتے ہوئے زونیہ بیگم(مما) نے نم لہجے میں اسے پچکارنا چاہا جب وہ بدکتی ہوئی بیڈ سے ہی نیچے اتر گئی۔

“چاہے میری تصویریں پوری دنیا میں وائرل ہو جائیں، عزت خدا کے ہاتھ میں ہے وہ اس کی حفاظت کر لے گا لیکن میں کسی قیمت پہ بھی ضرغام چاچو سے نکاح نہیں کروں گی۔” اس نے روتے ہوئے بلند مگر دوٹوک لہجے میں انکار ان تک پہنچایا جب قندیل تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی کمرے میں آئی اور پھولتی سانسوں کے درمیان بمشکل بولی۔

“سفیر سائیں کے جیل میں ہونے کی وجہ سے ان کے کارندے شہری کے متعلق بہت ہی گھٹیا اور غیرمہذبانہ باتیں پھیلا رہے تھے اور اسے ناصرف ضرغام بلکہ موسی عیسی کے ساتھ بھی منسوب کیے جا رہے تھے اس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” سانسوں کے بڑھتے انتشار کے باعث وہ سانس لینے کو رکی تو اس کی باتوں پہ شہرے لڑکھڑائی اور زرد پڑتے چہرے کے ساتھ اسے دیکھا۔

“اس لیے بڑے بابا(داد بخش)اور بابا(اسد ملک) نے ضرغام اور شہرے کا جعلی نکاح سوشل میڈیا پہ اپلوڈ کر دیا ہے۔” اس نے قدرے بلند آواز میں کہتے ہوئے وہاں موجود خواتین کے سروں پہ بلاسٹ پھوڑا تھا۔
جبکہ ششدر کھڑی شہرے کی نگاہوں کے سامنے نگاہ کا خوبصورت چہرہ لہرایا اور پھر سیاہ کوٹ کے ساتھ وہ سرخ رنگ آیا تو وہ حواس کھوتی ہوئی بھربھری ریت کی مانند دبیز قالین پہ بکھرتی چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی جینز کی پاکٹ سے چابی نکالتے ہوئے اس نے صدر دروازے میں چابی گھمائی اور بہت آہستگی کے ساتھ دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوا۔

دو چار مضبوط قدم رکھتے ہوئے وہ آگے بڑھا ہی تھا کہ ایک دم سے ریموٹ اس کے سینے پہ آ کے ‘ٹھاہ’ کر کے لگتا اس کے قدموں میں آ گرا۔
اس اچانک افتاد پہ چونکتے ہوئے اس نے سامنے دیکھنا چاہا لیکن تبھی اگلا حملہ ہوا۔
کشنز، گلاس، ڈیکوریشن پیسز، فروٹس نجانے کیا کیا الم غلم وہ نجانے نجانے کہاں کہاں سے اٹھا کے بنا اس کی جانب دیکھے بنا اس کی سنے اس کی جانب اچھالتی جا رہی تھی۔
جبکہ ایس پی رہبان گردیزی جو ابھی سے ایک گھنٹہ قبل ایک مجرم کو جیل کی سیر کروا کے اور آدھ گھنٹہ قبل ایک عاشق کو عشق کی زنجیر پہنا کے آیا تھا وہ دونوں ہاتھوں کو اوپر اٹھائے بار بار بولنے کی کوشش کرتا ہوا اپنے بچاو کی ناکام کوشش کیے جا رہا تھا۔

“آبگینے یار، بتائیں تو سہی ہوا کیا ہے؟کیوں بن گولیوں کے یہ قاتلانہ حملے کرنے شروع کیے ہیں؟” وہ بلند آواز میں بولا تو اس کے تجاہل عارفانہ انداز میں اس کے اندر چھایا غیض دوبارہ امڈ آیا۔
وہ مڑی اور پیچھے میز پہ پڑا بہت قیمتی اور قدرے بھاری ڈیکوریشن پیس اٹھانا چاہا مگر اتنی مہلت ایس پی صاحب کے لیے کافی تھی اور وہ نیچے بکھرے ٹکڑوں اور چیزوں سے قدم بچاتا پھرتی سے اس کے نزدیک پہنچا اور اس کے ڈیکوریشن پیس اٹھانے سے قبل ہی اس کے بپھرے وجود کو اپنی گرفت میں سمیٹا۔

“چھوڑو مجھے۔” وہ پوری قوت لگا کے اس کے بازووں کے تنگ ہوتے حصار میں کسمسائی۔

“پہلے بولیں آپ۔” اپنے بازووں کو زور سے جھٹکا دیتے ہوئے اس نے اس کی غصے سے سرخ ہوتی ناک کو چھوا۔

“جان سے مار ڈالوں گی میں، چھوڑو مجھے۔ فالتو سمجھ رکھا ہے کیا مجھے جو پہلے اپنی فضول بہادری و مردانگی دکھانے کے چکر میں مجھے میرے گھر سے اٹھایا اور پھر یہاں لا کے مجھے قید کر رکھا ہے۔ میں کیا تمہارے عشق میں مری بیٹھی ہوں جو یوں بیٹھ کے سارا دن تمہارا انتظار کروں گی؟” وہ جو اس سے پہلے ہی شاکی تھی اس کے پورا دن غائب رہنے پہ اس کے اندر غصے کا جوار پھٹ رہا تھا جس کے باعث وہ ہر انجام سے بے پرواہ بری طرح سے چیخی تھی۔

“مجھے بے وجہ چلانے والی عورتیں سخت ناپسند ہیں مسز رہبان لیکن آپ کو تو سات خون معاف ہیں۔” جانثار کرنے والے انداز میں بولتے ہوئے وہ اس کی کڑوی کسیلی باتوں کو بھی امرت کی مانند پی گیا جبکہ اپنی اس قدر تلخ باتوں کے جواب میں اس کا ایسا دلبرانہ انداز اسے مزید آگ لگا گیا۔
لیکن اس سے پہلے کہ وہ حملے کرتی وہ اس کے چہرے پہ جھکا تو سانسوں کی تپش، آنکھوں کی بے باک لپک اور شوخ جذبات نے اس کی زبان کو گویا لکنت زدہ سا کر دیا۔

“اتنی ظالم نہ بنیں مسز رہبان گردیزی، مانا کہ بہادری و مردانگی کے چکر میں آپ کو آپ کے گھر سے اٹھا کے یہاں ہنی مون منانے کے لیے لانے کے بعد پورا دن اکیلا چھوڑ کے چلا گیا تھا لیکن یار ایسے حملے تو مت کریں اکلوتا شوہر ہوں آپ کا۔ اگر یونہی قاتلانہ نگاہوں سے مجھے دیکھتی رہی تو باخدا بنا ہتھیاروں کے جان لے بیٹھیں گی اور خوامخواہ بیوہ بن جائیں گی۔” اس نے نرم و ملائم نقوش کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے وہ اپنے مخصوص انداز میں لفظوں کے جال پھینکنے لگا تو اس کے آخری جملوں پہ اس کے پورے وجود کو جیسے جھٹکا سا لگا۔
لیکن وہ اب اسے کسی بھی طرح کی مہلت دیے بغیر اس پہ جھکا ہوا اس کے غصے سے تنے اعصاب کو اپنے استحقاق کے رنگوں سے شرم و حجاب میں بدلنے لگا۔
اس کی استحقاق سے سجی ان بے باک گستاخیوں اور شرارتوں سے گھبراتے بوکھلاتے ہوئے اس کا غصہ کہیں دم توڑنے لگا تھا کیونکہ اس شخص کی جنونی اور شدت آمیز قربت ہمیشہ کی طرح اسے کچھ بھی کرنے کے اہل نہ چھوڑ رہی تھی۔

“میرے ہی رنگ میں رنگی مجھے مجھ سے بیگانہ کر رہی ہو۔” اپنی سیاہ شرٹ کو اس کے بدن پہ دیکھتے ہوئے اس نے مخمور انداز میں بولتے شرٹ کے گول گلے پہ اپنے لب رکھے تو وہ بے اختیار لڑکھڑائی اور بے ساختہ دونوں ہاتھ اس کی گردن کے لپیٹتے ہوئے خود کو سہارا دینے کی کوشش کی۔

“تھینک یو میری جان، ہمارا سدا کا خوش فہم دل آپ کے اس قدم کو آپ کی خود سپردگی سمجھتے ہوئے یہ دلکش رات آپ کے نام کر رہا ہے۔” اس کی نازک کمر کے گرد دونوں بازو لپٹے وہ اس کے اقدام پہ خوش ہوتا اسے زور سے خود میں بھینچتے ہوئے گہرے گھمبیر لہجے میں بولتا اس کی پاگل دھڑکنوں کو مزید منتشر کر گیا۔

“نہی۔۔۔۔۔۔” اس کے ارادوں سے خوفزدہ ہوتے ہوئے اس نے پیچھے ہٹنا چاہا جب وہ ایک ہاتھ اس کی کمر سے ہٹا کے اس کے بالوں میں پھنساتا اس کے سانسوں پہ مسلط ہوا تو اس کی اس قدر پرشدت گرفت پہ اس کے قدم لڑکھڑائے۔
اس نے تیز ہوتی سانسوں کے ساتھ اس سے فاصلہ بڑھانا چاہا جب وہ اس پہ گرفت مزید سخت کرتا ہوا وہیں اسے ساتھ لیے لاونج پہ پڑے صوفے پہ گرنے کے سے انداز میں بیٹھا تو اس کی گرفت میں بے حال ہوتی آبگینے کے وجود میں ایک سرد سی لہر دوڑ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بے حد تکلیف اور بے بسی سے اسے دیکھ رہا تھا جو اس کے دونوں ہاتھ تھامے روتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔

“میں جانتی ہوں کہ ضرغام یہ بہت مشکل ہے لیکن ایک لڑکی ہونے کے ناطے میں یہ بھی جانتی ہوں کہ اس کے لیے کتنی مشکلات منہ پھاڑے کھڑی ہیں۔اگر آج آپ کوئی سٹینڈ نہیں لیتے اور میں اس گھر میں جاتی ہوں تو کیا میں وہاں کھل کے زندگی انجوائے کر سکوں گی؟” روتی ہوئی نگاہ جو اسے شہرے سے نکاح کے لیے آمادہ کر رہی تھی وہ اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی تو اس کے اندر کی بے چینی مزید بڑھنے لگی۔

“آپ سب مجھے کیوں نہیں سمجھ رہے ہیں؟” وہ بے بسی کی انتہاوں کو چھوتے ہوئے بولا کیونکہ اس وقت واقعی اسے کوئی نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ وہ کیونکر اس نکاح سے منافی تھا۔

“کیونکہ اس وقت آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کا انکار کتنی بڑی مصیبت کھڑی کر رہا ہے آپ اندازہ نہیں لگا پا رہے۔ آپ میرے لیے پریشان نہ ہوں میرے لیے آپ کا ساتھ اہم ہے۔” اس نے مدہم سا مسکراتے ہوئے اسے یقین دلانا چاہا جو اس کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔

“اگر آپ سب کی یہ ضد ہے تو پہلے آپ رخصت ہو کے گھر آئیں گی پھر ہی یہ نکاح ہو گا۔” اس نے ہتھیار ڈالتے ہوئے سرد لہجے میں اپنا حکم سنایا تو وہ لحظہ بھر کے لیے چپ سی ہو گئی اور پھر کچھ سوچتے ہوئے اس نے ثمرین بیگم کا نمبر ملا کے انہیں اس کا حکم سنایا۔
اگلے بیس منٹوں میں ملک ہاوس سے افراد کا ریلہ واحدی ہاوس پہنچا تھا۔
اور پھر ایک گھنٹے کے اندر اندر نگاہ کو اسی کے پسند کیے گئے برائیڈل ڈریس میں تیار کر کے بہت سی دعاوں تلے رخصت کروا کے بہت خاموشی اور روزدرانہ انداز میں وہ قافلہ ملک ہاوس کی جانب چل پڑا۔
جبکہ اس شادی کے لیے بہت سے پلانز اور بہت کچھ سوچے ہوئے بہت سارے افراد قسمت کے اس انوکھے کھیل پہ چپ چاپ تماشائی بنے سسکتے رہ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چلتی ہوئی گاڑی میر پیلس کے وسیع و عریض پورچ میں آ کے ایک جھٹکے سے رکی تو وہ جیسے چونکی اور پھر دروازہ کھولنا چاہا جب ڈرائیور کے نکلنے پہ اسے بہت غیرمتوقع طور پہ اس نے مخاطب کیا۔

“آئم سوری!” یہ الفاظ، یہ انداز، یہ لہجہ اس قدر غیرمتوقع تھا کہ اس کا دروازہ کھولتا ہوا ہاتھ اسی زاویے پہ ساکت ہو گیا۔

“میں ایسا بالکل نہیں چاہتا تھا لیکن میں خود پہ قابو نہیں رکھ سکا اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں مس ابراہیم۔” وہ بہت ٹھہرے ہوئے انداز میں بولتا اسے حیران کر رہا تھا کیونکہ وہ ہر چیز کی توقع کر سکتی تھی لیکن اس پتھر دل شخص سے سوری کی توقع ہرگز نہ کی تھی اس نے۔

“لیکن میری ریکویسٹ ہے آپ سے کہ مجھ سے یا میری مما سے متعلق آپ کوئی سوال نہ کیجیے گا۔” دوٹوک الفاظ میں اسے کہتے ہوئے وہ دروازہ کھولتے کھولتے رکا۔

“آپ کل سے پیلس نہیں آئیں گی مس ابراہیم،آپ کی ہر طرح کی جاب یہاں سے مکمل ہو چکی ہے۔ آپ کے بیگ میں آپ کا چیک رکھ دیا گیا ہے۔” سرد لہجے میں کہتے ہوئے اس نے ڈور ان لاک کیا تو کلک کی آواز پہ وہ بھی جیسے کسی خواب سے جاگی تھی اور پھر خود کو سنبھالتی ہوئی وہ نیچے اتری اور اسے دیکھنے لگی جو ملازم کی مدد کی سے گاڑی سے اتر رہا تھا۔

ملازم جب اس کی وہیل چیئر لیے اندر کی جانب بڑھے تو وہ بھی زخمی ہاتھ اور چہرہ لیے ان کے ساتھ ساتھ اس کے کمرے کی جانب چل دی۔

“آپ کی جاب ختم ہو چ۔۔۔۔۔۔۔” اسے اپنے ساتھ آتے دیکھ کے زوالنورین میر نے سردمہری سے ٹوکنا چاہا جب وہ سنجیدگی سے اس کی بات کاٹ گئی۔

“میں آپ کی اپلائی کبھی نہیں رہی اس لیے آپ کے آرڈرز پہ میں جاب نہیں چھوڑ سکتی۔” سپاٹ انداز میں کہتے ہوئے وہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو اسے بھی کمرے میں پہنچانے کے بعد ملازم نامحسوس انداز میں دروازہ بند کرتے ہوئے خاموشی سے باہر نکل گئے۔

“اب تمہیں کچھ دیر لیٹنا چاہیے۔” اس کی جانب سہارے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے کہا تو وہ جو اس کی ہٹ دھرمی اور اس کے حکم نہ ماننے کے باعث اسے جھٹلانا چاہتا تھا اس کے زخمی چہرے کو دیکھ کے نا چاہتے ہوئے بھی وہ اس کے ہاتھ کا سہارا لے کے بیڈ کی جانب بڑھا۔
چونکہ وہ پہلے ہی زخمی اور نقاہت کا شکار تھی اسے سہارا دینے کے چکر میں وہ اسے لٹاتی ہوئی بازو پہ زور پڑنے کے باعث مارے تکلیف کے اس کے اوپر گر سی گئی۔
اور اسی لمحے جیسے قیامت برپا ہو گئی تھی۔
بند دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور بہت سے افراد ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سجی سنوری نگاہ جب مہوش بیگم اور قندیل کی معیت میں ضرغام کے خوبصورت اور شاہانہ بیڈروم میں پہنچی تو اسی دوران ثمرین بیگم نے ایک خوبصورت و دیدہ زیب زرتاری برائیڈل ڈریس روتی ہوئی شہرے کے سامنے رکھا تو اس ڈریس پہ نظر پڑتے ہی اس کا سسکتا ہوا وجود جیسے جامد ہوا۔

جاری ہے۔