57.1K
55

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

“دل تیرے سنگ جوڑ لیا”
از
حوریہ ملک

Episode#32;

حال:
کافی ہال میں بیٹھے وہ دونوں خاموش نگاہوں سے آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہے تھے۔

“میں پوچھ سکتا ہوں کہ کس خوشی میں تم نے مجھے یہاں بلایا ہے؟” کچھ ثانیے بعد اس سرگرمی سے اکتا جانے والے ضرغام نے جھنجھلائے سے انداز میں استفسار کرتے گویا بات کا آغاز کیا۔

“آج میری بیوی نے میرے ہاتھ سے میری بنائی گئی چائے کی پیالی تھام لی ہے، اس خوشی میں۔” دانت نکوستے ہوئے وہ جواباً گویا ہوا تو اُس نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔

“اُس نے وہ چائے پی بھی؟” ضر کے اگلے سنجیدہ سوال پہ رہبان کے چہرے کے تاثرات فوراً تبدیل ہوئے اور وہ ڈھیلا سا پڑتا کرسی کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔

“نہیں۔” اس کے یک لفظی یاسیت بھرے جواب پہ ضر کے ہونٹ ہولے سے مسکرا دیے۔

“میری دلی نیک تمنائیں تمہارے ساتھ ہیں، تم مجھے یہ بتاو کہ یہاں کیوں بلوایا ہے؟ملاقات تو آفس میں بھی ہو سکتی تھی۔” اس نے دوبارہ سے پہلو بدلتے ہوئے استفسار کیا کیونکہ وہ ایسے کسی بھی پبلک پلیس پہ کمفرٹیبل نہ ہوتا تھا۔

“اگر دشمن کے کارندے ہماری بغلوں میں چھپے بیٹھے ہوں تو ہمیں محتاط ہی رہنا چاہیے۔ جب تم اپنے گھر میں بہت محتاط ہو کہ تمہیں لگتا ہے کہ کوئی گھر کا بھیدی لنکا ڈھا رہا ہے تو میرے خیال میں آفس میں بھی تو ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔” اب کی بار رہبان نے سنجیدگی سے وضاحت کی تو وہ گہری سانس بھر کے رہ گیا۔

“اب اگر تسلی ہو گئی ہو تو مجھے یہ بتانا پسند کرو گے کہ تم نے ایک بیمار آدمی کو کیونکر ہمیں بتائے بغیر ہاسپٹل سے غائب کروایا ہے؟” اس کی تسلی کروانے کے بعد رہبان نے اپنا کھاتہ کھول لیا۔
“یہ کل رات سے تمہیں اس کی بیماری کا بڑا احساس ہو رہا ہے۔ یہ وہی بیمار شخص ہے جس نے کچھ دن پہلے تمہیں رات کے پہر بچایا تھا۔” ضرغام نے طنزیہ انداز میں جواب دیا تو اس نے فوراً منہ بگاڑا۔

“صرف بچایا ہی تھا لیکن میری مسز کو گھر اور مجھے ہاسپٹل پارٹنر لے کے گیا تھا۔” اس نے یوں کہا جیسے اسے ہاسپٹل نہ لے کے جانا نین کا سنگین جرم تھا۔

“حالانکہ اُس جیسے شخص کے لیے گھر سے نکلنا کتنا مشکل ہے پھر بھی تمہارے شکوے ختم نہیں ہو رہے۔” اس نے اسے شرم دلانی چاہی لیکن جو چیز اس کے پاس تھی ہی نہیں وہ کیسے اسے محسوس کر سکتا تھا۔

“تم مجھے باتوں میں نہ اُلجھاو یہ بتاو کہ میری ٹیم کے ہوتے ہوئے تم نے اسے غائب کیسے کروایا؟” رہبان نے اپنا سوال دوبارہ دہرایا تو ضر خاموشی سے ویٹر کو تکنے لگا جو ان کے ٹیبل پہ کافی سرو کرنے کو آ رہا تھا۔

“غائب نہیں کروایا بلکہ وہ خود اپنی مرضی سے گیا ہے اور میں اسے روک نہیں سکتا تھا۔اُسے منظر پہ آنے سے قبل خود کو سٹیبل کرنا ہے کیونکہ تم اس کی کنڈیشن جانتے ہو۔” اب کی بار ضر نے نپے تلے انداز میں وضاحت پیش کی تو رہبان نے سمجھنے کے سے انداز میں سر ہلایا۔

“نگاہ کو کب تک بتانے کا ارادہ ہے اور کب تک اُس کے متعلق ایکشن لو گے؟” کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے اس نے مزید سوالات اس کے سامنے رکھے۔
“نگاہ کو صبح بتا آیا ہوں لیکن اس کے متعلق فیصلہ کچھ دنوں تک ہو گا کیونکہ نا تو کلثوم آنٹی کی مینٹل کنڈیشن ٹھیک ہے اور نا ہی ولید انکل کے متعلق کوئی ٹھوس خبر مل سکی ہے۔” اس نے کافی کے گھونٹ لیتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا تو رہبان چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔

“اور شہرے؟” اس نے اچانک بہت مختصراً انداز میں استفسار کیا تو وہ اس نام پہ جی جان سے چونکا تھا۔

“شہرے کیا؟” اس نے بھنویں اچکاتے ہوئے اسے دیکھا جو اسی کی سمت دیکھ رہا تھا۔

“شہرے سے نکاح سے قبل اس قدر شدید انداز میں انکاری کیوں تھے؟” یہ ایسا سوال تھا جو ناصرف رہبان بلکہ باقی تینوں کے دماغوں میں کلبلا رہا تھا اسی لیے آج موقع ملتے ہی اس نے پوچھ لیا۔

“کیونکہ میں اُن کے انکار کو سمجھنے والا ہوں۔میں نے زندگی میں اسی ایک عورت کے لیے دل کے دروازے کھولے ہیں لیکن میں نے کبھی زبردستی اسے اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہا۔ سالوں پہلے جب بابا صاحب نے میری خواہش ٹھکرائی نہ ہوتی تو تب بھی میں شہرے کی رضامندی جان کر انہیں اپنی زندگی میں شامل کرتا اور ابھی جب وہ اس رشتے کے لیے رضامند نہیں تھی تو میں کیسے ان کے ساتھ زبردستی کر سکتا تھا۔ میں خودغرض ہوتا تو اُس وقت اُن کی سچویشن سے فائدہ اٹھا کہ اپنی برسوں پرانی خواہش پوری لیتا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔” گھمبیر لہجے میں بولتا ہوا وہ رکا۔

“مگر قسمت کی چک پھیریاں عجیب ہیں، میں جو اُس کے لیے اپنی ہی خواہش سے منہ پھیرے انکاری ہو رہا تھا مجھے اُس کے لیے ہی یہ رشتہ جوڑنا پڑا۔” اس نے اپنی بات مکمل کرتے اضطرابی حالت میں اپنے گھنیرے بالوں میں انگلیاں پھیریں۔

“تو اب پھر کیا ارادہ ہے؟” رہبان نے خالی کپ میز پہ رکھتے ہوئے ایک دفعہ پھر سے اسے دیکھا جو اب کی بار شاید سگریٹ سلگانا چاہ رہا تھا۔

“چونکہ تم نے صحیح کہا تھا کہ بعض دفعہ ضرورت سے زیادہ اچھا ہونا گلے کا پھندہ بن جاتا ہے اس لیے اب جب یہ رشتہ بندھ ہی چکا ہے تو اب اسے میں کسی کی خواہش پہ ختم نہیں کر سکتا اب خواہش چاہے شہرے کی ہی کیوں نہ ہو۔” اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا اور پاکٹ سے سگریٹ کی ڈبی نکالی۔

“انسان ویسے بھی خطاوں کا پُتلا ہے اور میں ہرگز مہان اور سب سے اچھا بن کے نہیں رہنا چاہتا مجھے بھی ایک نارمل انسان کی طرح زندگی گزارنی ہے۔” سگریٹ سلگاتے ہوئے وہ مزید گویا ہوا اور ساتھ ہی ڈبی رہبان کی جانب بڑھائی جس نے اُس میں سے ایک سگریٹ نکالی۔

“ویسے یار تمہاری فیملی ایگری ہو جائے گی تمہاری اور نگاہ کی سیپریشن سے کیونکہ جس طرح سب کی تسلی تشفی کرواتے ہوئے تم نے ڈائیلاگ بازی جھاڑی ہے اس سے وہ یہی سمجھتے ہیں کہ تم اور نگاہ ایک دوسرے سے پیار کرتے ہو۔” بِل میز پہ رکھنے کے بعد وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے تو رہبان نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے کہا۔

“پیار تو ہم واقعی کرتے ہیں اور ویسے بھی میرے اُن ڈائیلاگز کا پسِ منظر نگاہ جانتی ہے اس لیے مجھے باقی کسی سے لینا دینا نہیں۔” سنجیدگی سے بات ختم کر کے اُس نے سگریٹ کا گہرا سا کش لگایا۔

“ویسے یہ دو بیویوں والا تجربہ کیسا ہے؟” گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اُس نے اب کی بار یکسر بدلے ہوئے انداز میں قطعی غیر متعلقہ سوال پوچھا تو ضرغام نے تیکھے چتونوں سے اسے گھورا۔

“مجھ سے پوچھنے کی بجائے بہتر ہے دوسری شادی کر کے عملی طور پہ یہ تجربہ سیکھ لو۔” اُس کے خشک لہجے میں دیے گئے مشورے پہ وہ جھرجھری سی لیتا گاڑی میں گھسا۔

“اللّٰہ توبہ، میری جو ایک عدد بیوی ہے وہی میرے پولیس آفیسر ہونے کا لحاظ نہیں کرتی دو مل گئیں تو میں کسی کو نہیں مل سکوں گا۔” بڑبڑاتے ہوئے اس نے گویا ایسے کسی بھی خیال سے سو بار توبہ کی تھی۔
جبکہ اُس کی بڑبڑاہٹ پہ سر جھٹکتے ہوئے ضر نے گاڑی اسٹارٹ کر کے کشادہ راستے پہ ڈال دی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ چائے کپوں میں ڈال رہی تھی جب کچن کے دروازے پہ کھٹکا ہوا تو اس نے بے ساختہ گردن گھما کے دیکھا جہاں سامعہ فریش سی دروازے کے بیچ و بیچ کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

“ویسے مجھے حیرت ہو رہی ہے کہ جو شخص تمہاری عزت خراب کرنے کا سبب ہے تم کیسے اُس کی خدمتیں کر رہی ہو؟” اس کے لہجے کی کاٹ پر اس نے ٹرے میں کپ سجاتے ہوئے گہری سانس بھری اور پوری توجہ سے اس کی طرف واپس مڑی۔

“عزت لینا اور دینا اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے۔ جس دن مجھے لگا کہ اوپر کمرے میں بیٹھا شخص میری عزت کا محافظ نہیں ہے اُس دن تمہارے کسی بھی سوال کا جواب دینے کے لیے میں یہاں تمہیں نظر نہیں آوں گی۔” نپے تلے انداز میں اس پہ بہت کچھ واضح کرتی وہ پلٹ کے واپس سلیب کی طرف متوجہ ہوئی جہاں وہ اُس کے لیے سہ پہر کی چائے تیار کر رہی تھی۔

“جو عزتوں کے لٹیروں ہوں وہ کبھی محافظ نہیں بنا کرتے۔” سامعہ نے پھر سے زہریلے لفظوں کا وار کیا کیونکہ ذوالنورین کے حوالے سے اِس لڑکی کا وجود اسے یہاں ہرگز برداشت نہ ہو رہا تھا۔
وہ اسے یہاں سے نکالنا چاہتی تھی اس کے لیے وہ سالوں پہلے کی طرح اس بار بھی ذوالنورین کے کردار کو نشانہ بنا رہی تھی۔
جبکہ اُس کے کہے الفاظ پہ ٹرے تھامتی زحلے کا پورا وجود لحظہ بھر کو تھم سا گیا۔

“جو واقعی عزتوں کے لٹیروں ہوں انہیں گھر میں پناہ گزین نہیں رکھا جاتا۔” ٹرے تھامے اس کے پاس سے گزرتی وہ رسانیت سے گویا ہوتی سامعہ کے وجود پہ گویا کھولتا ہوا پانی انڈیل گئی۔
اور اس پانی کی کھولن سے اس کا وجود سیاہ پڑنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مما کی تم ٹینشن نہیں لو، وہ انشاءاللّٰہ ٹھی۔۔۔۔۔۔” موبائل فون کان سے لگائے وہ فکرمندی سے بول رہا تھا جب دروازے کھلنے کی آواز پہ اس کے حرکت کرتے ہونٹوں کو چپ لگی تھی۔
جس دن اُس نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی ماں کی حالت کا ذمہ دار ہے اس دن کے بعد اُن کے درمیان پہلے والی ہلکی پھلکی گفتگو بالکل بند تھی بلکہ ایک عجیب سی کشیدگی ان کے درمیان در آئی تھی۔

“نین!تم سن رہے ہو؟” اس کی غائب دماغی محسوس کر کے دوسری جانب سے پکارا گیا تو وہ چونکا۔

“ہممم!تم اپنا کام مکمل کر کے جلد واپس آنے کی کوشش کرو اور اپنا خیال رکھنا۔” آہستگی سے کہتے اُس نے بات سمیٹی اور کال منقطع کی تب تک وہ چائے کی ٹرے اس کے سامنے پڑی میز پہ سجا کے اپنا کپ اٹھا چکی تھی۔

“سامعہ کے تمہارے ساتھ کیا اختلافات ہیں؟” چائے کا کپ ہاتھوں میں لیے وہ سرسری سے لہجے میں اچانک ہی گویا ہوئی تو وہ جو ابھی اپنے کپ کو گھور رہا تھا اس سوال پہ چونک کے اس کی جانب متوجہ ہوا جس کے تاثرات بالکل نارمل تھے۔

“آپ کون سے اختلافات جاننا چاہ رہی ہیں؟” سنبھلتے ہوئے اس نے جواباً سوال کیا تو زحلے اس کی جانب متوجہ ہوئی جو بلیک پینٹ پہ سفید ٹی شرٹ پہنے معمول کی مانند اپنی ٹانگوں پہ شال پھیلائے ہوئے وہیل چیئر پہ بیٹھا ہوا تھا۔

“جن اختلافات کی بناء پہ وہ مجھے ناپسند کرتی ہے اور یہاں سے کہیں دور بھیجنا چاہتی ہے۔” اس کی صاف گوئی پہ چھم سے مسکان اس کے خوبصورت ہونٹوں پہ پھیل گئی جسے بہت صفائی سے چھپاتے ہوئے اس نے خوبصورت آنکھیں اُس کی جانب موڑیں جو اسے نظرانداز کیے چائے کی سمت متوجہ تھی۔

“ٹیچر صاحبہ!آپ کا کام مجھے پڑھانا ہے تو آپ بس وہی کام کریں۔اس گھر کے مکینوں کو پڑھنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ان کو پڑھ لیا تو یہاں ٹھہرنا وبالِ جان بن جائے گا۔” اس کے پیازی رنگ کے سوٹ میں ملبوس کھلے کھلے سے سراپے کو گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے وہ گھمبیر لہجے میں گویا ہوا تو زحلے نے پلکیں اٹھا کے اس کی جانب دیکھا۔
اس کے یوں اچانک پلکیں اٹھانے پہ نگاہوں کا بہت دلفریب سا تصادم ہوا جو پل بھر کے لیے دونوں کے دلوں کی لے بدل گیا لیکن زحلے نے فوراً نظریں چراتے کپ ہونٹوں سے لگایا تو فسوں خیز لمحہ چھناکے سے ٹوٹ گیا۔

“تم ہی اپنی ماں کی اس حالت کے ذمہ دار ہو، یہ جاننے کے بعد تمہارے ساتھ اِس کمرے میں رہ رہی ہوں تو سمجھ لو کہ میرے اندر باقی سب کو پڑھنے کے بعد بھی یہاں رکنے کا حوصلہ موجود ہے۔” وہ ہمیشہ سے اپنے سٹوڈینٹس کو ‘آپ’ کہہ کے مخاطب کرنے کی عادی رہی ہے لیکن ذوالنورین میر کے بے باک رویے اور آنکھوں کی گستاخ لپک کو ایک دائرے میں مقید کرنے کے لیے وہ لاشعوری طور پہ ‘تم’ کہتی تھی مگر اس کی یہ کوشش اکثر خاک میں مل جایا کرتی تھی۔

“اِس کمرے میں آپ اس لیے موجود ہیں کیونکہ آپ کا لاشعور کہیں نہ کہیں اس بات پہ ڈٹا ہوا کہ اصل مجرم میں نہیں ہوں۔” اس کی آخری کہی باتوں کو نظر انداز کرتے اُس نے مما سے متعلق کہی بات کا سنجیدگی سے جواب دیا تو وہ اپنی جگہ سُن سی رہ گئی۔
اس شخص کے اتنے درست مفروضے پہ وہ چند پل لاجواب ہو گئی تھی لیکن بمشکل چہرے پہ بنا کوئی تاثر لائے اس نے چائے کا لمبا سا گھونٹ لیا۔

“پانی پینا ہے مجھے۔” اس کے دوپٹے میں لپٹے وجود کو دیکھتے ہوئے اس کے اندر اس کی گردن سے لپٹے نیلے موتی کو چھونے کی طلب پیدا ہوئی تو وہ اچانک بلند آواز میں گویا ہوا۔
اس کی فرمائش سن کے وہ تیزی کے ساتھ اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی سائیڈ ٹیبل پہ رکھے پانی کے جگ کی جانب بڑھی اور پانی کا گلاس بھر کے اس کی سمت بڑھ گئی۔

“یہ لو۔” اس سے چند قدم کے فاصلے پہ ٹھہرتی وہ گلاس اس کی جانب بڑھا گئی۔
اس کے ہاتھ سے گلاس لے کر اس نے پانی پی کے خالی گلاس واپس اس کی جانب بڑھایا تو زحلے نے دایاں ہاتھ اس کی جانب بڑھایا۔
مگر بڑھے ہوئے ہاتھ میں گلاس تھمانے کی بجائے اس نے بائیں ہاتھ سے اس کی کلائی تھامی اور بہت سہولت سے اسے کھینچتے ہوئے اپنی آغوش میں بٹھایا تو اسے جیسے ہوش آئی۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے؟” تڑپ کے اس نے اس کی آغوش سے نکلنا چاہا لیکن اس کے ہاتھ کو یونہی تھامے اس نے اس کی کمر کے گرد گرفت سخت کرتے ہوئے اس کے وجود کو ہولے سے جھٹکا دیا تو وہ بے ساختہ اس کے کشادہ سینے کا حصہ بنی تھی۔
اس کے کشادہ سینے کا حصہ بنتے ہی اس کا دل جیسے پسلیاں توڑ کے باہر آنے کو مچلنے لگا تھا۔

“بدتمیزی کا ارادہ تو نہیں ہے لیکن بہک گیا تو معذرت۔” بے نیازی سے کہتے ہوئے اس نے گلاس سامنے میز پہ رکھا تو وہ جو مسلسل خود کو اس کی گرفت سے آزاد کروانے کی تگ و دو میں تھی اس کے الفاظ پہ اس کے رگ و پے میں سنسنی سی دوڑ گئی۔

“ت۔۔تم بدتمیزی نہیں کرو گے، میں تمہاری مما کو بتاوں گی۔” اففف، اس کی دلکش آنکھوں سے چھلکتے جذبات کو دیکھ کر وہ اس قدر بوکھلا گئی تھی کہ اس کے سینے پہ ہاتھ جماتی وہ سٹپٹائے ہوئے انداز میں گویا ہوئی۔

“ٹیچر صاحبہ!پہلے کچھ کر تو لینے دیں پھر تفصیل سے مما کو بتا لیجیے گا۔” سہولت سے اسے بے سکون کرتے ہوئے اس نے اس کے سر سے پھسلے ہوئے دوپٹے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو زحلے کا دل سرپٹ دوڑنے لگا جبکہ ہتھیلیاں پسینے سے تر ہونے لگیں۔

“پلیز!” اس کا ہاتھ اپنے دوپٹے پہ محسوس کر کے اس نے سرعت سے آنکھیں میچتے ہوئے ایک دفعہ پھر سے خود کو اس کی گرفت سے نکالنے کے لیے پورا زور لگایا لیکن بے سود۔
اس کی مزاحمت کو کنٹرول کرتا وہ دائیں ہاتھ سے اس کا دوپٹہ ڈھیلا کرتے ہوئے اس کی گردن سے سرکا گیا جس کے باعث گردن سے لپٹی چین میں پرویا نیلا موتی اس کی نظروں کی زینت بنتا اس کے دل کو عجیب سے احساسات سے دوچار کر گیا۔

“مجھے لگتا ہے کہ مجھ جیسے محبت سے انکاری شخص کا دل اس نیلے موتی میں اٹکنے لگا ہے۔” دل ہی دل میں کہتے ہوئے وہ اس کی گردن پہ جھکا تو سانسوں کی تپش اور اس کے سلگتے ہونٹوں کے بے باک لمس پہ بے حال ہوتی زحلے اپنی سانس تک روک گئی۔

نجانے کب تک وہ یونہی اس کی گردن پہ جھکا اس کی سانسوں کی روانی روکے رکھتا کہ اچانک دستک کی آواز پہ وہ اچھل سی پڑی اور تیزی سے اس کے کندھوں پہ ہاتھ جما کے اسے خود سے دور دھکیلا۔

“د۔۔دروازہ۔۔۔۔” بکھرا تنفس، کپکپاتے لب، سرخ گردن، سرکا ہوا دوپٹہ اور لرزتا وجود لیے وہ اسے دروازے کی جانب متوجہ ہونے کا اشارہ کر رہی تھی جبکہ اس کی مختل حالت دیکھ کے وہ زیرِ لب مسکرایا۔

“اب آپ مما کو جا کے بتا سکتی ہیں اگر ہمت جتا پائیں تو۔” اس کو اپنی بانہوں کے گھیرے سے آزاد کرتا وہ گہرے لہجے میں بولا تو زحلے نے شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھا جو کہ مکمل طور پہ اسی کی جانب متوجہ تھا۔
اس کی گہری نگاہیں خود پہ مرکوز پا کر اس نے جلدی سے اپنا دوپٹہ درست کرتے ہوئے اس کی جانب سے رخ موڑا۔
ذوالنورین کے اجازت دینے پہ ڈاکٹر مرتضی اندر داخل ہوئے, انہیں سلام کر کے وہ کمرے سے باہر نکل گئی کیونکہ یہ اُس کی ایکسرسائز کا وقت تھا اور اس وقت وہ کسی کو بھی کمرے میں برداشت نہ کرتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج بہت دنوں کے بعد ‘ملک ہاوس’ میں محفل جمی تھی اس لیے سب نوجوان پارٹی لاونج میں بیٹھی گپ شپ لگاتے ہوئے سنیکس اور چائے سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔

“شہری!تمہارے سیکنڈ سمسٹر کے ایگزامز کب ہیں؟” ارسم نے باتوں میں مگن شہری کو مخاطب کیا تو اس نے برا سا منہ بنایا۔

“ناٹ فیئر چاچو، یہ اس ٹائم پہ ایگزامز کی یاد کون دلاتا ہے؟” اس کے بیچارگی بھرے انداز پہ سبھی کھل کے ہنس دیا اسی لمحے زوہان کے ساتھ زائشہ جو باہر لان میں کھیل رہی تھی وہ بھاگتی ہوئی اندر آئی۔

“نگاہ اینڈ شہری چچی آپ کو باہر ضرغام چاچو گاڑی میں بلا رہے ہیں، جلدی جائیں۔” زائشہ نے بلند آواز میں پیغام پہنچایا تو شہرے جو ‘شہری چچی’ سُن کے ہِل گئی تھی مزید اس پیغام پہ بھونچکی رہ گئی۔

“مجھے کیوں بلایا ہے انہوں نے؟” اس کی بڑبڑاہٹ اتنی بلند ضرور تھی جو سبھی کے کانوں تک گئی۔

“وہ اپنی دونوں بیویوں کو ایک ساتھ لانگ ڈرائیو پہ لے جانا چاہتے ہوں گے۔” شاہ زیب کی زبان میں اس کی بڑبڑاہٹ سن کے خارش ہوئی تو جہاں ارسم نے اسے فوراً کمر پہ تھپڑ رسید کیا تھا وہیں شہرے نے بھنا کے جبکہ نگاہ نے مدہم سا مسکرا کے اسے دیکھا۔

“مجھے نہیں جانا کہیں بھی اس وقت۔” نگاہ کی جانب ایک نظر دیکھتے اس نے دوٹوک انکار کیا لیکن اس کے انکار کی کم از کم اتنی پلٹون کے سامنے کوئی وقعت نہ تھی وہ بھی اِس صورت میں جب بڑے بھی اُن کے حامی تھے۔

“بڑی ماما!میں سب کے ساتھ گپ شپ لگانے آئی تھی، اب ایویں منہ اٹھا کے اُن کے ساتھ چل پڑوں۔” وہ ہرگز نگاہ اور ضرغام کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی اس لیے ثمرین بیگم کے کہنے پہ روہانسے انداز میں گویا ہوئی۔

“اچھا نیکسٹ ٹائم ایسے بلایا تو مت جائیے گا لیکن ابھی کوئی ضروری کام ہو گا اس لیے ابھی جاو آپ۔” انہوں نے نرمی سے اسے پچکارا تو وہ خفگی سے ہنکارہ بھر کے رہ گئی۔
اور یونہی منہ پھلائے وہ نگاہ کا انتظار کرنے لگی جو چینج کرنے گئی تھی۔

“یہ کیا اول جلول حلیے میں ہی چل پڑی ہو، کپڑے تو چینج کر لو۔” قندیل نے اسے یونہی کھڑے دیکھ کے فوراً اسے ٹوکا اور اس کے نا نا کرنے کے باوجود اسے عائلہ کے کمرے میں لے گئی جہاں اس کے دو چار سوٹ ضرور پڑے ہوتے تھے۔
ان ہی ڈریسز میں سے سیاہ رنگ کا خوبصورت شارٹ شرٹ اور ٹراوزر لے کے زبردستی اسے چینج کروایا اور اس کے بالوں کی پونی ٹیل کر کے اس کے ہونٹوں پہ لپ بام لگانے لگی تو وہ پھٹ پڑی۔

“آپ ایسے بیہیو کر رہی ہیں جیسے میں ڈیٹ پہ جا رہی ہوں۔” اسے اپنی ‘تیاری’ سے شدید اختلاج ہونے لگا تھا مگر سب کے فورس کرنے پہ وہ مجبور ہو رہی تھی کہ رشتے کی زنجیریں ہاتھ پیر باندھ دیا کرتی تھیں۔

“تم یہی سمجھو کہ یہ تمہاری ڈیٹ ہی ہے۔” مسکراتے ہوئے اس نے اس کے کندھے پہ دوپٹہ پھیلایا تو وہ شاکی نگاہوں سے قندیل کو گھور کے باہر نکل گئی جہاں نگاہ آ چکی تھی۔
اس نے دیکھا تھا کہ نگاہ کے چہرے کی چمک آج دیدنی تھی، ایسی چمک اس نے اس کے چہرے پہ کبھی نہ دیکھی تھی لیکن آج اس کی آنکھیں تک خوشی سے جگمگا رہی تھیں۔

“آپ آج بہت پیاری لگ رہی ہیں۔” اپنے محسوسات کو اس نے فوراً لفظوں کا روپ دیا تو اس کے ساتھ چلتی نگاہ اس کے الفاظ سن کے پل بھر کے لیے ٹھٹھکی لیکن پھر فوراً مسکرا دی۔

“تم سے زرا کم۔” کھل کے مسکراتے ہوئے اس نے اس کے نوخیز کھلے کھلے سراپے کو دیکھ کے کہا تو وہ جھینپ سی گئی۔
دونوں ایک ساتھ چلتیں جب ان کے انتظار میں بیٹھے ضرغام کی گاڑی کے پاس پہنچیں تو شہرے فوراً بیک سیٹ کی جانب بڑھنے لگی مگر نگاہ نے سرعت سے اس کی کلائی تھامی۔

“تم آگے بیٹھو شہرے کیونکہ میں فرنٹ سیٹ پہ کسی اور کے ساتھ بیٹھنے کی عادی ہوں۔” نرم سے لہجے میں بولتی وہ کھلے بیک ڈور سے گاڑی میں بیٹھ گئی جبکہ اس کے لفظوں کے ہیر پھیر میں الجھی شہرے وہیں جم سی گئی۔

“گاڑی میں بیٹھیں شہرے، باقی کی سوچ بچار آپ بیٹھ کے کر لینا۔” ضرغام کی سنجیدہ پکار پہ وہ جیسے گہرے خواب سے جاگی اور سر جھٹکتی کھلے دروازے کو ایک نظر دیکھتی فرنٹ سیٹ پہ براجمان ہو گئی۔

“کہاں جانے کا ارادہ ہے؟” گاڑی میں چھائی خاموشی کو نگاہ کی آواز نے توڑا تو وہ چونکی۔

“آپ کی منزل آپ کو معلوم ہے, آپ ہمارے ارادے جانے دیں لیڈی۔” بیک ویو مرر سے اسے تکتے ہوئے وہ متبسم لہجے میں گویا ہوا تو ان دونوں کی گفتگو سے عجیب سا محسوس کرتی شہرے پہلو بدل کے رہ گئی۔

“کہاں جا رہے ہیں ہم؟” وہ گھر واپس جانا چاہتی تھی اس لیے کچھ منٹس کے بعد ناچاہتے ہوئے بھی اسے خود سے مخاطب کر لیا۔
لیکن وہ اس کی بات کا جواب دیے بغیر ایک اپارٹمنٹ کے سامنے گاڑی روک رہا تھا۔

“اپنا دھیان رکھنا اور اُس کا بھی۔” گاڑی رکنے پہ نگاہ نے جب لاک پہ ہاتھ رکھا تو وہ نرمی سے گویا ہوا۔ اس کی تاکید پہ مسکراتی ہوئی وہ گاڑی سے نکلتی اپارٹمنٹ میں داخل ہو گئی جبکہ وہ ہونق بنی اس ساری صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

“یہ۔۔یہ سب کیا ہے؟ نگاہ کہاں گئی ہیں اور آپ مجھے اکیلے کہاں لے کے جا رہے ہیں؟” وہ اس کے گاڑی سٹارٹ کرنے پہ ایک دم سے بوکھلا گئی۔
اس نے اس کے ساتھ کالج آتے جاتے اگرچہ سفر کیا تھا لیکن یوں اس طرح ایسے تیار ہو کے اکیلے اس کے ساتھ سفر کرنا اسے بے چین کر گیا۔

“نگاہ اپنی دوست سے ملنا چاہتی تھیں اس لیے اسے وہاں ڈراپ کیا ہے اور جہاں تک آپ کو لے کے جانے کا خیال ہے تو میرا ارادہ آپ کے ساتھ ڈیٹ مارنے کا ہے کیونکہ قندیل نے میسج پہ انفارم کیا ہے کہ وہ میری ‘بیوی’ کو ہماری پہلی آفیشل ڈیٹ کے لیے تیار کر چکی ہے۔” وہ جو گزشتہ ملاقاتوں کے دوران اس کے کہے پہ پرسکون ہو گئی تھی کہ وہ اسے اس کی سٹڈی مکمل ہونے کے بعد اس رشتے سے آزاد کر دے گا اور کچھ دنوں سے وہ اس کے سامنے بھی نہیں آ رہا تھا۔
اس سب کے بعد آج یوں اس کا اسے ساتھ لے کے آنا اور اس پہ اس کے ایسے الفاظ اس کے اعصاب سن کر گئے۔
اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا جو بہت سکون سے ڈرائیونگ کرتا زیرِ لب مسکرا رہا تھا۔
اس کے مسکراتے لب دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھوں کے سامنے مارے شاک کے اندھیرا چھانے لگا اور اگلے ہی لمحے وہ حواس کھوتی ایک جانب لڑھک گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گردیزی ہاوس کے ڈائینگ ہال میں اس وقت چھریوں کانٹوں کے پلیٹوں کے ساتھ ٹکرانے کی آواز یہ واضح کر رہی تھی کہ اس وقت سبھی ناشتے کرنے میں مصروف تھے۔

“بھابھی!آپ نے ہمیں ابھی تک گفٹ نہیں دکھایا ہمیں۔” زمل کو جیسے اچانک کچھ دنوں بعد اپنا پسندیدہ موضوع یاد آیا تو اس نے شکوہ کناں انداز میں اسے دیکھا۔
اس کا شکوہ سن کے ناشتہ کرتی آبگینے مدہم سا مسکرائی اور پھر دانستاً شرٹ کی آستین تلے چھپائی گھڑی آگے کر کے کلائی سب کے سامنے کی تو سب کے ہونٹوں سے ایک ساتھ تعریفی کلمات پھوٹ پڑے۔

“اوہ مائی گاڈ!اٹس ویری بیوٹیفل اینڈ ایلیگینٹ۔” زمل جوش سے اس کی کلائی جھکڑتی ہوئی بولی تو وہ مسکرا دی۔

“گھڑی کی تعریف سے فرصت مل گئی ہو تو گھڑی دینے والے کی بھی تعریف کر دیں۔” رہبان نے سب کے تبصروں پہ محظوظ ہوتے ان کی توجہ اپنی سمت مبذول کروانی چاہی۔

“تم بھی پہن لو گھڑی کچھ دیر کے لیے، تمہاری تعریفوں کے بھی پل باندھ دیں گے۔” داود نے اس کی بات سن کے جس برجستگی کا مظاہرہ کیا آبگینے سمیت سبھی کھلکھلا دیے۔
داود کو بے دریغ گھوری سے نوازتے ہوئے اس نے قلقل کرتی مسز کی جانب دیکھا جو اس کے دیکھنے پہ فوراً ہنسی کنٹرول کرتی تیزی سے اس کی پلیٹ میں پڑا ٹوسٹ اٹھا کے اسے منہ میں ڈال گئی۔
مکھن لگے ٹوسٹ کی بائیٹ نگلتے ہی آبگینے کے چہرے کے تاثرات بڑی سرعت سے بدلے۔
زور سے مٹھیاں بھینچے وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور بھاگنے کے سے انداز میں ڈائیننگ ہال سے منسلک واشروم کی جانب بڑھ گئی۔
اس کے یوں ایک دم سے اٹھنے اور واشروم کی جانب بھاگنے پہ سبھی پریشان ہو گئے جبکہ رہبان تیزی سے اس کے پیچھے لپکا جو واش بیسن پہ جھکی قے کر رہی تھی۔

“آبگینے!آپ ٹھیک ہیں؟” اس کی پشت رب کرتے ہوئے اس نے فکرمندی سے استفسار کیا تب تک مائرہ و سائرہ بیگم بھی وہاں آ چکی تھیں۔

“کیا ہوا آبگینے؟طبیعت ٹھیک ہے؟” مائرہ بیگم نے اس کے پسینے و پانی سے تر چہرے کو تھپتھپاتے محبت و فکرمندی سے پوچھا تو وہ خجل سی ہو گئی۔

“جی وہ بس میں مکھن نہیں کھاتی تو اس لیے ایسے ہی غلطی سے بائٹ لینے کی وجہ سے طبیعت خراب ہو گئی۔” رہبان کی بانہوں کے سہارے کھڑی وہ اپنی سانسیں بحال کرتی ہوئی آہستگی سے گویا ہوئی تو وہ تھوڑا پرسکون ہوئیں۔

“کوئی بات نہیں، آپ دھیان سے جو شے آپ کو سوٹ کرتی ہو پسند ہو وہ لیا کریں۔” سائرہ بیگم کے محبت سے کہنے پہ وہ ہولے سے مسکراتی رہبان کے سہارے ہی واشروم سے باہر نکلی ہی تھی ایک دم سے سر چکرانے پہ لڑکھڑا گئی۔

“مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔” اسے سہارا دیتے رہبان نے اس کی پیشانی کو ہولے سے چھوا۔
“آپ ایسا کریں کہ دریہ کو کالج بھی چھوڑ آئیں اور آبی کو ڈاکٹر سے چیک بھی کروا لیں۔” سائرہ بیگم نے اس کی قدرے زرد ہوتی رنگت دیکھ کے رہبان کو مشورہ دیا کہ آج فقط دریہ کی کلاس تھی اس لیے اسے رہبان نے ہی ڈراپ کرنا تھا۔

“کسی لیڈی ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا رہبان آبی کا۔” مائرہ بیگم نے دریہ اور آبگینے کو ساتھ لے کے نکلتے رہبان کو اچانک تاکید کی تو سائرہ بیگم اور بی جان چونک کے انہیں دیکھنے لگیں جبکہ رہبان بے توجہی سے سر ہلاتا صدر دروازہ پار کر گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“خدا حافظ لالہ اینڈ بھابھی، اپنا خیال رکھیے گا اور میرے یونی سے آنے تک بالکل فریش ہو کے میرا انتظار کیجیے گا۔” رہبان کو خدا حافظ کہہ کے وہ آبگینے کا ہاتھ محبت سے تھپتھپاتی یونی گیٹ کی جانب بڑھی تو رہبان گاڑی ریورس کرنے لگا۔
ایک نظر آبگینے کو دیکھ کے وہ پوری توجہ سے گاڑی ریورس کر رہا تھا جب اچانک ونڈواسکرین سے باہر دیکھتے اس کی نظریں ٹھٹھک گئیں۔

جاری ہے۔
اپنے لائکس اور کمنٹس کی مقدار کو بوسٹ دیتے رہیں تاکہ میں بوسٹ اپ ہو کے لکھتی رہوں۔شکریہ